🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-02-1445 ᴴ | 20-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-02-1445 ᴴ | 20-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت سید جلال الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کا لقب مخدوم جہانیاں تھا۔ بڑے عالم، ولی اور شیخ تھے، شیخ الاسلام شیخ رکن الدین ابوالفتح قریشی کے مرید اور شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے ـ
مکہ معظمہ میں امام عبداللہ یافعی سے آپ کو مصاحبت نصیب ہوئی، آپ نے اپنے ملفوظات ’’خزانہ جلالی‘‘ میں امام یافعی کا بکثرت ذکر کیا ہے۔ آپ نے بے انتہا سیر و تفریح کی اور بہت سے اولیائے کرام سے نعمتیں اور برکتیں حاصل کیں۔ آپ کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ آپ جس سے معانقہ کرتے اور گلے ملتے، اس سے اس کی کرامتیں چھین لیتے یعنی اس پر اتنی توجہ ڈالتے اور خدمت کرتے کہ اس کے پاس جتنی نعمتیں اور برکتیں ہوتیں وہ بے اختیار آپ کو دے دیتے۔
تاریخ محمدی میں ہے کہ آپ نے ابتداً اپنے چچا شیخ صدرالدین بخاری سے خرقہ پہنا، پھر حرم شریف کے شیخ الاسلام امام المحدثین شیخ عفیف الدین عبداللہ المطری سے کلاہ ارادت اور خرقہ تبرک حاصل کیا اور متواتر دو سال تک شب و روز ان کی خدمت میں رہے اور معرفت و سلوک کی کچھ کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اسی طرح علم طریقت اور ذکر اللہ کا طریقہ بھی انہیں سے حاصل کیا، اس کے بعد شیخ عفیف الدین نے آپ سے فرمایا کہ تمہارے لیے علم کا حاصل کرنا موقوف ہے۔ گازرون میں۔ جب آپ گازرون پہنچے تو انہیں شیخ امین الدین مرحوم کے بھائی شیخ امام الدین نے کہا کہ مجھے شیخ امین الدین مرحوم نے بوقت انتقال یہ فرمایا تھا کہ میری ملاقات کے لیے سید جلال الدین اوچی ملتان کے راستہ سے آ رہے تھے کہ شیطان نے ان سے راستہ میں جھوٹ بولا اور کہا کہ شیخ امین الدین اس دار فانی سے منتقل ہوکر دارالقرار میں چلے گئے ہیں۔ اور وہ میری جائے نماز اور قینچی دے کر میرا خلیفہ مجاز بنا دینا، چنانچہ شیخ امام الدین نے اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق کیا۔
سید السادات سید جلال الدین نے اس بزرگ سے بہت فائدہ حاصل کیا اور پھر وہاں سے واپس آکر سید رکن الدین سے خرقہ تبرک حاصل کیا اور پھر سلطان محمد تغلق کے زمانہ میں شیخ الاسلام کے عہدہ پر فائز ہوئے۔
سیوسیان اور اس کے اردگرد کا علاقہ آپ کی جاگیر قرار دیا گیا، وہاں آپ نے ایک خانقاہ تعمیر کرائی جس کا نام ’’خانقاہِ محمدی‘‘ رکھا پھر چند دنوں کے بعد سب کچھ چھوڑ کر حجاز چلے گئے، آپ چودہ خانوادوں کے خلیفہ تھے (پھر حجاز سے واپس آئے) تو سلطان فیروز کے دور حکومت میں کئی مرتبہ اوچ سے دہلی تشریف لائے، سلطان فیروز بڑی عقیدت اور خلوص کے ساتھ آپ سے ملا کرتا تھا، مخدوم جہانیاں کو سلسلہ قادریہ کے ساتھ والہانہ محبت تھی، آپ اپنے ملفوظات’’خزانہ جلالی‘‘ میں حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ مقولہ نقل کرتے ہیں کہ جنابِ غوث پاک نے فرمایا کہ خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا، اسی طرح خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا، اس کے بعد فرماتے ہیں کہ چونکہ شیخ عبدالقادر جیلانی اپنے وقت کے قطب اور بات کے سچے تھے اس لیے مجھے امید ہے کہ ان کی اس بات کے وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم و کرم کرے گا۔
اس کے بعد اس سلسلہ میں ایک ہی واسطہ سے شیخ شہاب الدین سہروردی کے حوالہ سے جس میں شیخ بہاؤ الدین زکریا کے واسطہ کا بھی ذکر نہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے جس نے شیخ سہروردی کو دیکھا تھا اور ان کو شیخ محی الدین عبدالقادر کی صحبت نصیب ہوئی ہے۔
ایک روز آپ جس جگہ تشریف فرما تھے وہاں آگ لگ گئی آپ نے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اس پر بلند آواز سے پیران پیر رضی اللہ علیہ کا نام لے کر آگ پر پھینک دیا، چنانچہ آگ اسی وقت ختم ہوگئی۔
قسم ہے کہ مشکل کو مشکل نہ پایا
کہا میں نے جس وقت یا غوثِ اعظم
ہمارے دیار میں ایک کتاب جو ’’تکملہ فارسی‘‘ کے نام سے مشہور ہے یہ آپ کے ایک مرید کی لکھی ہوئی ہے جو اصل میں امام عبداللہ یافعی کی کتاب روض الریاحین کے تکملہ کا ترجمہ ہے۔ مخدوم جہانیاں شبِ برأت 707ھ پیدا ہوئے اور 78 برس کی عمر میں عیداضحیٰ کے دن 785ھ میں انتقال فرمایا، نیز ایک بات اس طرح بھی سننے میں آئی ہے کہ ایک مرتبہ میر سید علی ہمدانی بغرض ملاقات آپ کے پاس گئے اور ان کے کمرے کے باہر بیٹھ گئے، خادم نے مخدوم جہانیاں کو اطلاع دی کہ میر سید علی ہمدانی آپ کی ملاقات کی غرض سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ غیب کو جاننے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں (مطلب یہ تھا کہ وہ جو باہر بیٹھ گئے ہیں اور مجھے اطلاع تک نہیں دی تو یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں غیب داں ہوں اور مجھے بغیر اطلاع کے معلوم ہوجاتا ہے کہ باہر کون آیا ہے۔ اس وجہ سے انہیں اندر نہیں بلایا، اس بات سے میر سید علی ہمدانی کو سخت کوفت اور صدمہ ہوا۔ پھر سید علی ہمدانی نے اس تقریب پر ایک رسالہ ہمدان کی حقیقت پر لکھا ہے جس میں ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو سید جلال الدین مخدوم جہانیاں کی عظمت اور جلال کے لائق نہیں۔ واللہ اعلم۔
اخبار الاخیار
Website Link Click
آپ کا لقب مخدوم جہانیاں تھا۔ بڑے عالم، ولی اور شیخ تھے، شیخ الاسلام شیخ رکن الدین ابوالفتح قریشی کے مرید اور شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے ـ
مکہ معظمہ میں امام عبداللہ یافعی سے آپ کو مصاحبت نصیب ہوئی، آپ نے اپنے ملفوظات ’’خزانہ جلالی‘‘ میں امام یافعی کا بکثرت ذکر کیا ہے۔ آپ نے بے انتہا سیر و تفریح کی اور بہت سے اولیائے کرام سے نعمتیں اور برکتیں حاصل کیں۔ آپ کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ آپ جس سے معانقہ کرتے اور گلے ملتے، اس سے اس کی کرامتیں چھین لیتے یعنی اس پر اتنی توجہ ڈالتے اور خدمت کرتے کہ اس کے پاس جتنی نعمتیں اور برکتیں ہوتیں وہ بے اختیار آپ کو دے دیتے۔
تاریخ محمدی میں ہے کہ آپ نے ابتداً اپنے چچا شیخ صدرالدین بخاری سے خرقہ پہنا، پھر حرم شریف کے شیخ الاسلام امام المحدثین شیخ عفیف الدین عبداللہ المطری سے کلاہ ارادت اور خرقہ تبرک حاصل کیا اور متواتر دو سال تک شب و روز ان کی خدمت میں رہے اور معرفت و سلوک کی کچھ کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اسی طرح علم طریقت اور ذکر اللہ کا طریقہ بھی انہیں سے حاصل کیا، اس کے بعد شیخ عفیف الدین نے آپ سے فرمایا کہ تمہارے لیے علم کا حاصل کرنا موقوف ہے۔ گازرون میں۔ جب آپ گازرون پہنچے تو انہیں شیخ امین الدین مرحوم کے بھائی شیخ امام الدین نے کہا کہ مجھے شیخ امین الدین مرحوم نے بوقت انتقال یہ فرمایا تھا کہ میری ملاقات کے لیے سید جلال الدین اوچی ملتان کے راستہ سے آ رہے تھے کہ شیطان نے ان سے راستہ میں جھوٹ بولا اور کہا کہ شیخ امین الدین اس دار فانی سے منتقل ہوکر دارالقرار میں چلے گئے ہیں۔ اور وہ میری جائے نماز اور قینچی دے کر میرا خلیفہ مجاز بنا دینا، چنانچہ شیخ امام الدین نے اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق کیا۔
سید السادات سید جلال الدین نے اس بزرگ سے بہت فائدہ حاصل کیا اور پھر وہاں سے واپس آکر سید رکن الدین سے خرقہ تبرک حاصل کیا اور پھر سلطان محمد تغلق کے زمانہ میں شیخ الاسلام کے عہدہ پر فائز ہوئے۔
سیوسیان اور اس کے اردگرد کا علاقہ آپ کی جاگیر قرار دیا گیا، وہاں آپ نے ایک خانقاہ تعمیر کرائی جس کا نام ’’خانقاہِ محمدی‘‘ رکھا پھر چند دنوں کے بعد سب کچھ چھوڑ کر حجاز چلے گئے، آپ چودہ خانوادوں کے خلیفہ تھے (پھر حجاز سے واپس آئے) تو سلطان فیروز کے دور حکومت میں کئی مرتبہ اوچ سے دہلی تشریف لائے، سلطان فیروز بڑی عقیدت اور خلوص کے ساتھ آپ سے ملا کرتا تھا، مخدوم جہانیاں کو سلسلہ قادریہ کے ساتھ والہانہ محبت تھی، آپ اپنے ملفوظات’’خزانہ جلالی‘‘ میں حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ مقولہ نقل کرتے ہیں کہ جنابِ غوث پاک نے فرمایا کہ خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا، اسی طرح خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا، اس کے بعد فرماتے ہیں کہ چونکہ شیخ عبدالقادر جیلانی اپنے وقت کے قطب اور بات کے سچے تھے اس لیے مجھے امید ہے کہ ان کی اس بات کے وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم و کرم کرے گا۔
اس کے بعد اس سلسلہ میں ایک ہی واسطہ سے شیخ شہاب الدین سہروردی کے حوالہ سے جس میں شیخ بہاؤ الدین زکریا کے واسطہ کا بھی ذکر نہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے جس نے شیخ سہروردی کو دیکھا تھا اور ان کو شیخ محی الدین عبدالقادر کی صحبت نصیب ہوئی ہے۔
ایک روز آپ جس جگہ تشریف فرما تھے وہاں آگ لگ گئی آپ نے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اس پر بلند آواز سے پیران پیر رضی اللہ علیہ کا نام لے کر آگ پر پھینک دیا، چنانچہ آگ اسی وقت ختم ہوگئی۔
قسم ہے کہ مشکل کو مشکل نہ پایا
کہا میں نے جس وقت یا غوثِ اعظم
ہمارے دیار میں ایک کتاب جو ’’تکملہ فارسی‘‘ کے نام سے مشہور ہے یہ آپ کے ایک مرید کی لکھی ہوئی ہے جو اصل میں امام عبداللہ یافعی کی کتاب روض الریاحین کے تکملہ کا ترجمہ ہے۔ مخدوم جہانیاں شبِ برأت 707ھ پیدا ہوئے اور 78 برس کی عمر میں عیداضحیٰ کے دن 785ھ میں انتقال فرمایا، نیز ایک بات اس طرح بھی سننے میں آئی ہے کہ ایک مرتبہ میر سید علی ہمدانی بغرض ملاقات آپ کے پاس گئے اور ان کے کمرے کے باہر بیٹھ گئے، خادم نے مخدوم جہانیاں کو اطلاع دی کہ میر سید علی ہمدانی آپ کی ملاقات کی غرض سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ غیب کو جاننے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں (مطلب یہ تھا کہ وہ جو باہر بیٹھ گئے ہیں اور مجھے اطلاع تک نہیں دی تو یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں غیب داں ہوں اور مجھے بغیر اطلاع کے معلوم ہوجاتا ہے کہ باہر کون آیا ہے۔ اس وجہ سے انہیں اندر نہیں بلایا، اس بات سے میر سید علی ہمدانی کو سخت کوفت اور صدمہ ہوا۔ پھر سید علی ہمدانی نے اس تقریب پر ایک رسالہ ہمدان کی حقیقت پر لکھا ہے جس میں ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو سید جلال الدین مخدوم جہانیاں کی عظمت اور جلال کے لائق نہیں۔ واللہ اعلم۔
اخبار الاخیار
Website Link Click
scholars.pk
Hazrat Syed Jalaluddin
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت سید جلال الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا لقب مخدوم جہانیاں تھا۔ بڑے عالم، ولی اور شیخ تھے، شیخ الاسلام شیخ رکن الدین ابوالفتح قریشی کے مرید اور شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے ـ مکہ معظمہ میں امام عبداللہ یافعی سے آپ کو مصاحبت نصیب ہوئی،…
#یوم_وصال_ماہ_صفر_المظفر
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-jalaluddin
https://t.me/islaamic_Knowledge/56907
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-jalaluddin
https://t.me/islaamic_Knowledge/56907
❤1
حضرت خواجہ فقیر اللہ علوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: فقیر اللہ ۔ لقب: حاجی، علوی نسب کی وجہ سے "علوی" کہلاتے ہیں ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف باللہ حضرت علامہ حاجی فقیر اللہ علوی بن عبدالرحمن بن شمس الدین۔علیہم الرحمہ ۔
آپ سلسلہ نسب میں علوی ہیں یعنی امیر المومنین خلیفۃ المسلمین حضرت سید نا علی المرتضیٰ کے فرزندار جمند حضرت امام محمد بن حنفیہ کی اولاد میں سے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
گیارہویں صدی ہجری کے بالکل اوائل میں گاؤں "روتاس " ضلع جلال آباد (افغانستان )میں تولد ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
علوم ظاہر یہ کی تکمیل آپ نے افغانستان اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کی اور اپنے تبحر علمی کی بدولت آپ کا شمار اس دور کے ممتاز ترین علماء اور فضلاء میں ہوتاہے۔ شیخ الاسلام فقیہ الاعظم مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی قدس سرہ الاقدس سے خوب استفادہ کیا۔ علامہ محمد صادق حصار کی افغانی ، شیخ عبدالقادر مکی ، شیخ سید محمد عمر مکی ، شیخ طیب خطیب بن عمر الناشری یمنی ، شیخ محمد حیات سندھی مدنی حنفی وغیرہ اساتذہ علم وفن سے فیضیاب ہوئے۔ (سندھ جا اسلامی درسگاہ ص 263) ـ
بیعت و خلافت:
علوم ظاہر یہ کی تکمیل کے بعد علامہ فقیر اللہ علوی ایک طویل عرصہ تک مختلف ممالک کا سفر کرتے رہے اور زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔ اسی زمانے میں آپ نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت محمد مسعود دائم پشاوری کے دست حق پرست پر بیعت کی جو اپنے زمانے کے اکابر اولیاء میں سے تھے۔سلاسل طریقت کے متعلق "قطب الارشاد "(عربی) حضرت علامہ حاجی فقیر اللہ علوی پر نظر کرتے ہیں تو آپ نہ صرف چاروں سلاسل نقشبندیہ قادریہ چشتیہ سہروردیہ میں صاحب اجازت تھے بلکہ شطاریہ ، قشیر یہ ، شاذلیہ اور اس دور کے کئی مروجہ سلاسل طریقت میں بھی صاحب اجازت تھے۔ حضرت فقیر اللہ علوی شکار پوری نے "قطب الارشاد" میں کئی سلاسل گنواتے ہوئے تقریبا ہر سلسلے میں اپنے مشائخ عظام میں حضرت مخدوم ہاشم ٹھٹھوی نور اللہ مر قدہ کا ذکر کیا ہے۔ ( تحفۃ الزائرین ص ۳۳۴) ـ
سیرت و خصائص:
عارف باللہ، ولیِ کامل، عالمِ باعمل، امام المتکلمین، شیخ المتوکلین، حجۃ الخلف ، حضرت علامہ مولانا حاجی خواجہ فقیر اللہ علوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ کاشمار اس وقت کے کاملین میں سے ہوتا ہے۔آپ نے ساری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزاری۔بالخصوص سندھ میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کےفروغ میں آپ کابہت بڑاکردارہے۔آپ ایک طویل عرصہ تک قندھار میں مقیم رہے۔ قندھار میں اب تک ایک مسجد شریف آپ کے نام سے موسوم ہے۔
شکار پور میں قیام:
مختلف ممالک کی سیاحت کے بعد آپ 1150ھ کو" شکار پور "سندھ میں تشریف لائے۔ اور یہاں ایک خانقاہ کی بنیاد رکھی ۔ جہاں پر امامت ، خطابت ، درس و تدریس ، رشد و ہدایت اور تصنیف و تالیف کے اہم کام میں سرگرم رہے۔ آپ سے کثیر مخلوق نے استفادہ کیا جن میں سے ایک قابل قدر اور عظیم الشان شخصیت امام العارفین حضرت پیر سائیں روزے دھنی قدس اللہ تعالیٰ سرہ العزیز ہیں ۔
عادات و خصائل:
آپ کی ذات گرامی علم و فضل ، زہد و ورع ، عرفان وتصوف کا وہ سر چشمہ تھی کہ سندھ ، پنجاب ، سرحد ، افغانستان اور ہر ات سے لوگ آپ کی خدمت میں کھینچ کھینچ کرچلے آتے ، ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم حاصل کرتے اور عرفان کے نور سے منور ہو کر جاتے تھے۔ آپ پیکر اخلاق واخلاص تھے، سادگی پسند تھے، اور سادات کرام کا نہایت احترام کرتے تھے۔ آپ کی سعی مشکور سے شکار پور میں کئی ہندو خاندان مسلمان ہوئے۔آپ نے سات بار حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضر ی کی سعادت حاصل کی۔
کتب خانہ:
شکار پور کے دوران قیام میں آپ نے ایک عظیم الشان کتب خانہ کی بنیاد رکھی جس میں متعدد نادر اور نایاب کتابیں تھیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کے بعدپچاس سال ہی میں اخلاف نے اسلاف کی اس گنج گراں مایہ کو تلف کر دیا جو خدا ہی جانتا ہے کہ کس محنت سے جمع کیا گیا تھا ۔ آج بھی آپ کی خانقاہ شریف پر مدرسہ ، کتب خانہ ریسرچ سینٹر وغیرہ کے احیاء کی ضرورت ہے اور آپ کے تبر کات (تصنیفات) کی حفاظت و اشاعت کی بہت اہمیت ہے۔ اللہ کرے کوئی مجاہد اس طرف متوجہ ہو۔
تاریخِ وصال:
حضرت علامہ الحاج فقیر اللہ علوی 3 صفر المظفر 1195ھ، مطابق جنوری 1781ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار شریف شکار پور (سندھ ) میں ہاتھی گیٹ کے اندر مرجع خلائق ہے۔ مزار شریف پر عالیشان گنبد بنا ہوا ہے اس کے متصل مسجد شریف ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-faqeerullah-alvi-afghani
نام و نسب:
اسمِ گرامی: فقیر اللہ ۔ لقب: حاجی، علوی نسب کی وجہ سے "علوی" کہلاتے ہیں ـ
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
عارف باللہ حضرت علامہ حاجی فقیر اللہ علوی بن عبدالرحمن بن شمس الدین۔علیہم الرحمہ ۔
آپ سلسلہ نسب میں علوی ہیں یعنی امیر المومنین خلیفۃ المسلمین حضرت سید نا علی المرتضیٰ کے فرزندار جمند حضرت امام محمد بن حنفیہ کی اولاد میں سے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
گیارہویں صدی ہجری کے بالکل اوائل میں گاؤں "روتاس " ضلع جلال آباد (افغانستان )میں تولد ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
علوم ظاہر یہ کی تکمیل آپ نے افغانستان اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کی اور اپنے تبحر علمی کی بدولت آپ کا شمار اس دور کے ممتاز ترین علماء اور فضلاء میں ہوتاہے۔ شیخ الاسلام فقیہ الاعظم مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی قدس سرہ الاقدس سے خوب استفادہ کیا۔ علامہ محمد صادق حصار کی افغانی ، شیخ عبدالقادر مکی ، شیخ سید محمد عمر مکی ، شیخ طیب خطیب بن عمر الناشری یمنی ، شیخ محمد حیات سندھی مدنی حنفی وغیرہ اساتذہ علم وفن سے فیضیاب ہوئے۔ (سندھ جا اسلامی درسگاہ ص 263) ـ
بیعت و خلافت:
علوم ظاہر یہ کی تکمیل کے بعد علامہ فقیر اللہ علوی ایک طویل عرصہ تک مختلف ممالک کا سفر کرتے رہے اور زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے۔ اسی زمانے میں آپ نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت محمد مسعود دائم پشاوری کے دست حق پرست پر بیعت کی جو اپنے زمانے کے اکابر اولیاء میں سے تھے۔سلاسل طریقت کے متعلق "قطب الارشاد "(عربی) حضرت علامہ حاجی فقیر اللہ علوی پر نظر کرتے ہیں تو آپ نہ صرف چاروں سلاسل نقشبندیہ قادریہ چشتیہ سہروردیہ میں صاحب اجازت تھے بلکہ شطاریہ ، قشیر یہ ، شاذلیہ اور اس دور کے کئی مروجہ سلاسل طریقت میں بھی صاحب اجازت تھے۔ حضرت فقیر اللہ علوی شکار پوری نے "قطب الارشاد" میں کئی سلاسل گنواتے ہوئے تقریبا ہر سلسلے میں اپنے مشائخ عظام میں حضرت مخدوم ہاشم ٹھٹھوی نور اللہ مر قدہ کا ذکر کیا ہے۔ ( تحفۃ الزائرین ص ۳۳۴) ـ
سیرت و خصائص:
عارف باللہ، ولیِ کامل، عالمِ باعمل، امام المتکلمین، شیخ المتوکلین، حجۃ الخلف ، حضرت علامہ مولانا حاجی خواجہ فقیر اللہ علوی رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ کاشمار اس وقت کے کاملین میں سے ہوتا ہے۔آپ نے ساری زندگی دینِ متین کی خدمت میں گزاری۔بالخصوص سندھ میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کےفروغ میں آپ کابہت بڑاکردارہے۔آپ ایک طویل عرصہ تک قندھار میں مقیم رہے۔ قندھار میں اب تک ایک مسجد شریف آپ کے نام سے موسوم ہے۔
شکار پور میں قیام:
مختلف ممالک کی سیاحت کے بعد آپ 1150ھ کو" شکار پور "سندھ میں تشریف لائے۔ اور یہاں ایک خانقاہ کی بنیاد رکھی ۔ جہاں پر امامت ، خطابت ، درس و تدریس ، رشد و ہدایت اور تصنیف و تالیف کے اہم کام میں سرگرم رہے۔ آپ سے کثیر مخلوق نے استفادہ کیا جن میں سے ایک قابل قدر اور عظیم الشان شخصیت امام العارفین حضرت پیر سائیں روزے دھنی قدس اللہ تعالیٰ سرہ العزیز ہیں ۔
عادات و خصائل:
آپ کی ذات گرامی علم و فضل ، زہد و ورع ، عرفان وتصوف کا وہ سر چشمہ تھی کہ سندھ ، پنجاب ، سرحد ، افغانستان اور ہر ات سے لوگ آپ کی خدمت میں کھینچ کھینچ کرچلے آتے ، ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم حاصل کرتے اور عرفان کے نور سے منور ہو کر جاتے تھے۔ آپ پیکر اخلاق واخلاص تھے، سادگی پسند تھے، اور سادات کرام کا نہایت احترام کرتے تھے۔ آپ کی سعی مشکور سے شکار پور میں کئی ہندو خاندان مسلمان ہوئے۔آپ نے سات بار حج بیت اللہ اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کی حاضر ی کی سعادت حاصل کی۔
کتب خانہ:
شکار پور کے دوران قیام میں آپ نے ایک عظیم الشان کتب خانہ کی بنیاد رکھی جس میں متعدد نادر اور نایاب کتابیں تھیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کے بعدپچاس سال ہی میں اخلاف نے اسلاف کی اس گنج گراں مایہ کو تلف کر دیا جو خدا ہی جانتا ہے کہ کس محنت سے جمع کیا گیا تھا ۔ آج بھی آپ کی خانقاہ شریف پر مدرسہ ، کتب خانہ ریسرچ سینٹر وغیرہ کے احیاء کی ضرورت ہے اور آپ کے تبر کات (تصنیفات) کی حفاظت و اشاعت کی بہت اہمیت ہے۔ اللہ کرے کوئی مجاہد اس طرف متوجہ ہو۔
تاریخِ وصال:
حضرت علامہ الحاج فقیر اللہ علوی 3 صفر المظفر 1195ھ، مطابق جنوری 1781ء کو واصل باللہ ہوئے ۔ آپ کا مزار شریف شکار پور (سندھ ) میں ہاتھی گیٹ کے اندر مرجع خلائق ہے۔ مزار شریف پر عالیشان گنبد بنا ہوا ہے اس کے متصل مسجد شریف ہے۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-faqeerullah-alvi-afghani
scholars.pk
Hazrat Shah Faqeerullah Alvi Afghani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا شاہ احمد حسن فاضل کانپوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا شاہ احمد حسن رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ صدیقی النسل تھے ۔ دین دار گھرانے سے تعلق تھا ۔
موطن:
آپ "موضع بڈلانہ" (ضلع حصار انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
استاذ العلماء حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے کانپور اور علی گڑھ میں اخذ ِ علوم کیا،اور یہیں سے فراغت حاصل ہوئی۔ اولاً مدرسہ مظاہر علوم سہارن پوری میں مدرس مقرر ہوئے،اس کے بعد کانپور کے مشہور زمانہ مدرسہ "فیضِ عام" میں مسندِ صدارت کو زینت دی، متعدد علوم و فنون کی 15کتابوں کا روزانہ پوری قوت و توجہ سے درس دیتے تھے ۔ کا شغر، شام ، موصل، حلب، بخارا، افغانستان سرحد وغیرہ کے بکثرت علماء نے آپ سے درس لیا ۔ درس و تدریس میں آپ اپنے زمانہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ کےاستاذ حضرت مولانامفتی لطف اللہ علی گڑھی نے آپ کی تالیف "تنزیہ الرحمٰن عن شائبۃ الکذب والنقصان" کی تقریظ وتصدیق میں آپ کو "مالک ازمۃ التحقیقات الشرعیہ ، والتدقیقات الفلسفیہ ،التحریر الکامل البحر الفاضل الذی یفتخر بوجودہ الزمن المولوی احمد حسن" کے گراں قدر خطابات سے یاد کیا آپ نہایت قوی الحفظ،اور رساذہن کے مالک تھے۔ ساٹھ متون آپ کو ازبریاد تھے،اسی بنا پر آپ کو"ملا متون" کہا جاتا تھا۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ الکبیر حضرت شیخ حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ان کے پاس رہ کر اور ان کے حکم پر "مثنوی مولائے روم" کی شرح لکھی۔
سیرت و خصائص:
بحرالکامل،جامع العلوم نقلیہ وعقلیہ، مصدر الکمالات البھیہ، الادیب الاریب، الفطین اللبیب، افضل المحققین، اشرف المدققین، اکمل المنانظرین، استاذ الاساتذہ، حضرت مولانا شاہ احمدحسن فاضل کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بہت بڑے عالم اور امام تھے ۔ دینداری میں بہت پسندیدہ اور مقبول تھے۔ پرہیزگار اور متواضع تھے، بہت زیادہ عقل مند، بہترین اخلاق والے، تمام اچھی صفات سے متصف ، اچھی معاشرت والے، لوگوں کو بہت زیادہ نصیحتیں کرنے والے، اور اپنے شاگردوں اور دوستوں سے بہت محبت کرنے والے، کم سخن، لوگوں سے کنارہ کش، دنیاداروں کے پاس آمدورفت کرنے سے بھاگنے والے، تھوڑے پر قناعت کرلینے والے،تکلف برطرف کرنے والے، بہت زیادہ انصاف کرنے والے، ان سے کچھ چاہنے والے کو خوش آمدید کہنے والے، اپنی مصروفیت پر مداومت کرنے والے، پڑھانے کے لئے پیش قدمی کرنے والے، بہت ہی صابر، کسی تنگدلی اور رنجش کے بغیر اپنے درس کو جاری رکھنے والے۔ فنون منطق، حکمت و اصول اور کلام کی اہم کتابوں کا درس دیتے۔ مختلف علوم میں باریک تر مسائل میں بھی بحث کرسکتے تھے اور اہم کتابوں کے اسباق ہر روز پندرہ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ ایسی حالت میں ان کو بواسیر کا مرض لاحق ہوگیا جس سے بدن سے بہت زیادہ خون نکل جاتا۔ پھر بھی درس دینے میں رخصت نہیں لیتے تھے۔بالآخرآپ کو بہت زیادہ کمزوری ہوگئی، حکماءنے ان کو کلی طور پر پڑھانے سے سختی سے منع کردیا۔ پھر بھی اپنی عادت سےنہیں رکے اور اپنا درس کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ روح جسم سے پرواز کرگئی۔آپ ہی کی صدارت مدرسۂ فیض عام کے زمانے میں اصلاح ِ نصاب کے لیے "مجلس ندوۃ العلماء "قائم ہوئی۔اگلے سال کےجلسہ میں تاج الفحول حضرت مولانا شاہ عبد القادر فاضل بد ایونی اور اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضافاضل بریلوی نے بھی شرکت فرمائی،بلکہ اعلیٰ حضرت نے اپنے مقالہ میں آپ کی بے حد تعریف کی آپ حق پسند تھے ،اظہار حق کے بعد اپنے خیال سے فوراً رجوع کرلیتے تھے ۔1313ھ کے اجلاس ندوۃ العلماء بریلی میں شرکت کے لیے آپ بریلی پہنچے تو امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے آپ کی دعوت کی اور مفاسِد ِندوہ پر مختصر سی گفتگو کی،جس سے آپ پر حق واضح ہوگیا۔اس کے بعد آپ نے ناظم ندوۃ العلماء محمد علی کان پوری مونگیری کو اُن کی غلط روی اور فریب دہی پر غیظ آمیز خط لکھ کر بھیجدیا،اوراجلاس میں شرکت کیے بغیر کانپورواپس چلے آئے۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا شاہ احمد حسن رحمۃ اللہ علیہ ۔ آپ علیہ الرحمہ صدیقی النسل تھے ۔ دین دار گھرانے سے تعلق تھا ۔
موطن:
آپ "موضع بڈلانہ" (ضلع حصار انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
استاذ العلماء حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے کانپور اور علی گڑھ میں اخذ ِ علوم کیا،اور یہیں سے فراغت حاصل ہوئی۔ اولاً مدرسہ مظاہر علوم سہارن پوری میں مدرس مقرر ہوئے،اس کے بعد کانپور کے مشہور زمانہ مدرسہ "فیضِ عام" میں مسندِ صدارت کو زینت دی، متعدد علوم و فنون کی 15کتابوں کا روزانہ پوری قوت و توجہ سے درس دیتے تھے ۔ کا شغر، شام ، موصل، حلب، بخارا، افغانستان سرحد وغیرہ کے بکثرت علماء نے آپ سے درس لیا ۔ درس و تدریس میں آپ اپنے زمانہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ کےاستاذ حضرت مولانامفتی لطف اللہ علی گڑھی نے آپ کی تالیف "تنزیہ الرحمٰن عن شائبۃ الکذب والنقصان" کی تقریظ وتصدیق میں آپ کو "مالک ازمۃ التحقیقات الشرعیہ ، والتدقیقات الفلسفیہ ،التحریر الکامل البحر الفاضل الذی یفتخر بوجودہ الزمن المولوی احمد حسن" کے گراں قدر خطابات سے یاد کیا آپ نہایت قوی الحفظ،اور رساذہن کے مالک تھے۔ ساٹھ متون آپ کو ازبریاد تھے،اسی بنا پر آپ کو"ملا متون" کہا جاتا تھا۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ الکبیر حضرت شیخ حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ان کے پاس رہ کر اور ان کے حکم پر "مثنوی مولائے روم" کی شرح لکھی۔
سیرت و خصائص:
بحرالکامل،جامع العلوم نقلیہ وعقلیہ، مصدر الکمالات البھیہ، الادیب الاریب، الفطین اللبیب، افضل المحققین، اشرف المدققین، اکمل المنانظرین، استاذ الاساتذہ، حضرت مولانا شاہ احمدحسن فاضل کانپوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ بہت بڑے عالم اور امام تھے ۔ دینداری میں بہت پسندیدہ اور مقبول تھے۔ پرہیزگار اور متواضع تھے، بہت زیادہ عقل مند، بہترین اخلاق والے، تمام اچھی صفات سے متصف ، اچھی معاشرت والے، لوگوں کو بہت زیادہ نصیحتیں کرنے والے، اور اپنے شاگردوں اور دوستوں سے بہت محبت کرنے والے، کم سخن، لوگوں سے کنارہ کش، دنیاداروں کے پاس آمدورفت کرنے سے بھاگنے والے، تھوڑے پر قناعت کرلینے والے،تکلف برطرف کرنے والے، بہت زیادہ انصاف کرنے والے، ان سے کچھ چاہنے والے کو خوش آمدید کہنے والے، اپنی مصروفیت پر مداومت کرنے والے، پڑھانے کے لئے پیش قدمی کرنے والے، بہت ہی صابر، کسی تنگدلی اور رنجش کے بغیر اپنے درس کو جاری رکھنے والے۔ فنون منطق، حکمت و اصول اور کلام کی اہم کتابوں کا درس دیتے۔ مختلف علوم میں باریک تر مسائل میں بھی بحث کرسکتے تھے اور اہم کتابوں کے اسباق ہر روز پندرہ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ ایسی حالت میں ان کو بواسیر کا مرض لاحق ہوگیا جس سے بدن سے بہت زیادہ خون نکل جاتا۔ پھر بھی درس دینے میں رخصت نہیں لیتے تھے۔بالآخرآپ کو بہت زیادہ کمزوری ہوگئی، حکماءنے ان کو کلی طور پر پڑھانے سے سختی سے منع کردیا۔ پھر بھی اپنی عادت سےنہیں رکے اور اپنا درس کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ روح جسم سے پرواز کرگئی۔آپ ہی کی صدارت مدرسۂ فیض عام کے زمانے میں اصلاح ِ نصاب کے لیے "مجلس ندوۃ العلماء "قائم ہوئی۔اگلے سال کےجلسہ میں تاج الفحول حضرت مولانا شاہ عبد القادر فاضل بد ایونی اور اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضافاضل بریلوی نے بھی شرکت فرمائی،بلکہ اعلیٰ حضرت نے اپنے مقالہ میں آپ کی بے حد تعریف کی آپ حق پسند تھے ،اظہار حق کے بعد اپنے خیال سے فوراً رجوع کرلیتے تھے ۔1313ھ کے اجلاس ندوۃ العلماء بریلی میں شرکت کے لیے آپ بریلی پہنچے تو امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے آپ کی دعوت کی اور مفاسِد ِندوہ پر مختصر سی گفتگو کی،جس سے آپ پر حق واضح ہوگیا۔اس کے بعد آپ نے ناظم ندوۃ العلماء محمد علی کان پوری مونگیری کو اُن کی غلط روی اور فریب دہی پر غیظ آمیز خط لکھ کر بھیجدیا،اوراجلاس میں شرکت کیے بغیر کانپورواپس چلے آئے۔
❤1
آپ نےتین بار حج وزیارت کا سفر کیا،اور ہر مرتبہ سال دو سال حرمین شریفین میں قیام کیا۔حج 1292ھ میں مولوی قاسم نانوتوی بھی شریک سفر تھے، جن سے بعد میں اعتقادی اختلاف کی بنا پر آپ نے علیحدگی اختیار کرلی،وہیں شیخ المشائخ محبوب الٰہ شاہ امداد اللہ قدس سرہٗ سے سلسلہ چشتیہ صابریہ میں بیعت کی، اور انہیں کے پاس رہ کر اُن کے حکم کے مطابق مثنوی مولانائے روم کی شرح لکھی،مشہور غیر مقلد عالم میاں نذیر حسین دہلوی کی گرفتاری کے موقع پر آپ وہاں حاضر تھے،یہ 1300ھ کا واقعہ ہے۔تصانیف میں ایک مبسوط رسالہ " تنزیہ الرحمٰن عن شائبۃ الکذب والنقصان " قرآنِ مجید کی تفسیر"حمد اللہ" کی شرح سلم پر مفصل حاشیہ، "مثنوی مولائے روم" افاداتِ احمدیہ، شرح ترمذی۔مشہور ہیں۔
وصال:
3 صفر المظفر 1323ھ میں آپ کا وصال ہوا،وصیت کے مطابق رئیس الاتقیاء حضرت مولانا شاہ محمد عادل کانپوری قدس سرہ نے نماز جنازہ کی امامت کی، بساطی قبرستان کانپور میں آپ کی قبرِ انور ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزھۃ الخواطر ۔
مظہرِ لطفِ الٰہ ومصدارِ امدادِ حق
روضہ اقدس جناب حضرت احمد حسن
فضل رحمانی بگو، یا لطف امدادِ الٰہ
مرقد انفس جناب حضرت احمد حسن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmad-hassan-fazil-kanpuri
وصال:
3 صفر المظفر 1323ھ میں آپ کا وصال ہوا،وصیت کے مطابق رئیس الاتقیاء حضرت مولانا شاہ محمد عادل کانپوری قدس سرہ نے نماز جنازہ کی امامت کی، بساطی قبرستان کانپور میں آپ کی قبرِ انور ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہلسنت ۔ نزھۃ الخواطر ۔
مظہرِ لطفِ الٰہ ومصدارِ امدادِ حق
روضہ اقدس جناب حضرت احمد حسن
فضل رحمانی بگو، یا لطف امدادِ الٰہ
مرقد انفس جناب حضرت احمد حسن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmad-hassan-fazil-kanpuri
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Ahmad Hassan Fazil Kanpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
عارف کامل حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ بن سید جمعہ شاہ بن سید کاظم شاہ بن سید سخی شاہ (علیہم الرحمہ)
تاریخ ولادت:
۳ صفر / ۲۶ اپریل (۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء) کو جلال پور میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
جب آپ نے ہوش سنبھالا تو قرآن پاک کی تعلیم کے لئے آپ کو میاں خان محمد اعظم پوری کے سپرد کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھانا شروع کیا جس کی تکمیل آپ کے چچا سید امام شاہ نے فرمائی ۔ اس کے بعد میاں عبد اللہ چکروی سے فارسی اور اردو کی درسی کتب پڑھیں پھر جلال پور سے پانچ کوس کے فاصلہ پر قاضی محمد کامل کی خدمت میں نین وال تشریف لے گئے اور ان سے کتب فقہ کا درس لیا، اپنے علاقے کے مشہور عالم مفتی غلام محی الدین سے استفادہ کیا اور کنز الدقائق پڑھی، اس سے زیادہ آپ نے ظاہری علم با قاعدگی سے نہیں پڑھا اور حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ سے مرقع اور کشکول کا درس لیا ۔
بیعت و خلافت:
تلاش مرشد میں سید غلام شاہ کی خدمت میں ہرن پور پہنچے اور بیعت کی درخواست کی، انہوں نے سیال شریف جانے کا مشورہ دیا بلکہ خود ساتھ لے گئے ۔
حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو گئے، مزاج پوچھا اور بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ آپ ۷ رجب ۱۲۷۱ھ کو ان کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے ۔
بیعت کے بعد ہر ماہ دو تین مرتبہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور شیخ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی، جب چھٹی مرتبہ حاضر ہوئے تو حضرت شیخ نے خرقۂ خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ بڑی عبادت گزار اور صالحہ خاتون تھیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی سے اپنے لخت جگر کو نماز روزہ کا پابند بنا دیا تھا ۔ آپ منکسر المزاج اور بلند اخلاق کے مالک تھے، آپ کو خود پسندی چھو کر بھی نہیں گزری تھی ۔ نہایت نرم دل اور سراپا شفقت و عنایت تھے ۔ غرباء کی دلجوئی آپ کا خاص وصف تھا ۔ اعمال میں نہایت محتاط اور پابند شریعت تھے ۔ آپ حد درجہ خوبصورت تھے، دراز قامت، دلکش آنکھیں، شانوں پر زلفیں، کلاہ چہار ترکی سر پر ، آپ حسن مجسم معلوم ہوتے تھے ۔
وصال:
6 جمادی الاخریٰ ، 7 جولائی (۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء) کو آپ کا وصال ہوا اور جلال پور شریف میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-hyder-ali-shah
نام و نسب:
حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ بن سید جمعہ شاہ بن سید کاظم شاہ بن سید سخی شاہ (علیہم الرحمہ)
تاریخ ولادت:
۳ صفر / ۲۶ اپریل (۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء) کو جلال پور میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
جب آپ نے ہوش سنبھالا تو قرآن پاک کی تعلیم کے لئے آپ کو میاں خان محمد اعظم پوری کے سپرد کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھانا شروع کیا جس کی تکمیل آپ کے چچا سید امام شاہ نے فرمائی ۔ اس کے بعد میاں عبد اللہ چکروی سے فارسی اور اردو کی درسی کتب پڑھیں پھر جلال پور سے پانچ کوس کے فاصلہ پر قاضی محمد کامل کی خدمت میں نین وال تشریف لے گئے اور ان سے کتب فقہ کا درس لیا، اپنے علاقے کے مشہور عالم مفتی غلام محی الدین سے استفادہ کیا اور کنز الدقائق پڑھی، اس سے زیادہ آپ نے ظاہری علم با قاعدگی سے نہیں پڑھا اور حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ سے مرقع اور کشکول کا درس لیا ۔
بیعت و خلافت:
تلاش مرشد میں سید غلام شاہ کی خدمت میں ہرن پور پہنچے اور بیعت کی درخواست کی، انہوں نے سیال شریف جانے کا مشورہ دیا بلکہ خود ساتھ لے گئے ۔
حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو گئے، مزاج پوچھا اور بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ آپ ۷ رجب ۱۲۷۱ھ کو ان کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے ۔
بیعت کے بعد ہر ماہ دو تین مرتبہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور شیخ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی، جب چھٹی مرتبہ حاضر ہوئے تو حضرت شیخ نے خرقۂ خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ بڑی عبادت گزار اور صالحہ خاتون تھیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی سے اپنے لخت جگر کو نماز روزہ کا پابند بنا دیا تھا ۔ آپ منکسر المزاج اور بلند اخلاق کے مالک تھے، آپ کو خود پسندی چھو کر بھی نہیں گزری تھی ۔ نہایت نرم دل اور سراپا شفقت و عنایت تھے ۔ غرباء کی دلجوئی آپ کا خاص وصف تھا ۔ اعمال میں نہایت محتاط اور پابند شریعت تھے ۔ آپ حد درجہ خوبصورت تھے، دراز قامت، دلکش آنکھیں، شانوں پر زلفیں، کلاہ چہار ترکی سر پر ، آپ حسن مجسم معلوم ہوتے تھے ۔
وصال:
6 جمادی الاخریٰ ، 7 جولائی (۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء) کو آپ کا وصال ہوا اور جلال پور شریف میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-hyder-ali-shah
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
عارف کامل حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ بن سید جمعہ شاہ بن سید کاظم شاہ بن سید سخی شاہ (علیہم الرحمہ) تاریخ ولادت: ۳ صفر / ۲۶ اپریل (۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء) کو جلال پور میں پیدا ہوئے ۔ تعلیم و تربیت:…
#یوم_ولادت_ماہ_صفر_المظفر
#یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاخری
https://t.me/islaamic_Knowledge/37624
https://t.me/islaamic_Knowledge/56918
#یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاخری
https://t.me/islaamic_Knowledge/37624
https://t.me/islaamic_Knowledge/56918
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ
وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ
مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمودجان ۔ لقب: قادری، رضوی۔علاقہ، جام جودھپور کی نسبت سے"جام جودھپوری" کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب: مفتی محمود جان بن مولانا حافظ غلام رسول بن محمد صدیق بن عمر بن رمضان بن صبوربن حاجی محمد اکبر بن مولانا حمیدالدین بن مولانا شہباز بن خوش حال بن گوہر بن رحمت اللہ بن خواجہ عبیداللہ۔(علیہم الرحمہ)۔
آپ کے والدِ گرامی حضرت علامہ مولانا حافظ غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں طالب علم دوردراز کاسفر کرکےعلمی پیاس بجھانے کےلئے حاضر ہوتےتھے۔ان کا سب سےبڑاکارنامہ یہ ہےکہ انہوں نےاس وقت"افغانستان"میں "فتنۂ وہابیہ اسماعیلیہ"کاخاتمہ کیا تھا۔جب لوگ ان کےعقائد پرمطلع ہوئے، تو وہ وہابیوں کےخلاف ہوگئے ۔ بہت سے وہابی جہنم رسید ہوئے اور جو بچ گئے وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کاسن 1835ء بتایا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق "مردان" کے افغانی قبیلے"میرملک زئی" سے ہے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بنیادی تعلیم اپنے والد ماجد کی زیر سر پرستی میں حاصل کی ۔ پھر "دارالعلوم امینیہ دہلی" میں تکمیل ہوئی۔اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدآپ نے" کا ٹھیاواڑ" جام جودہ پور (ضلع گجرات) کی طرف ہجرت فرمائی۔آپ ابتداء سے ہی اپنی مناظرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھے،اور کئی عیسائی رہنماؤں کو مناظرہ میں شکست فاش دے چکے تھے۔پھر اعلیٰ حضرت امام ِ اہلسنت کی خدمت میں پہنچ کر مزید اپنی علمی وروحانی پیاس بجھاکر کامل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ خود اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں: "طویل عرصہ سے میرے دل میں یہ خیال تھا کہ جب تک میں ایک کامل اور بلندپایہ پیر کو نہ پالو میں مرید نہیں بنوں گا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نے حضرت مولانا محمود و ضیاء الدین صاحب پیلی بھیتی (رحمۃ اللہ) کا مرتب دیا ہوا اور اسلامی رسالہ پڑھنا شروع کیا تھا جو کہ علم و دانش کےجواہر سے پر تھا۔
اسی میں میں نے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بارے میں پڑھا۔ فوری طور پر میرے دل نے کہا کہ اس دور میں اتنی عظیم ہستی کا پانا کوئی عام بات نہیں۔ خدائی رہنمائی کے ذریعہ میں نے بریلی شریف کا سفر اختیار کیا۔ جہاں میں نے اپنے آپ کو اعلیٰ حضرت کی رحمت بھری عدالت میں پیش کیا، جس وقت میں نے ان کے نورانی چہرے کو دیکھا، میرا دل پگھل گیا، میرا ایمان تازہ ہوگیا اور میرا دل کھل اُٹھا کہ ایسا اس سے پہلے کبھی نہ ہواتھا۔میں ایک ایسا عظیم پیر پاچکا تھا کہ جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا،
میں نے داخل سلسلہ ہونے کی درخواست کی اور میرے مرشد نے مجھے اپنے مرید کی حیثیت سے قبول کیا، فوری طور پر مجھے اجازت و خلافت سے نوازا، پھر اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ اس وقت انہوں نے جو لباس زیب تن کیا ہوا تھاوہ مجھے عطا کیا۔اس میں کرتا، پاجامہ، عمامہ،اور صدری (واسکوٹ) تھی۔ بحر سخاوت کی طرف سے یہ بڑی عطا تھی انہوں نے اپنے اس عاجز خادم کو سلسلہ عالیہ قادریہ ، برکاتیہ، رضویہ ، چشتیہ سہروردیہ ،نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں تاج خلافت سے نوازا۔انہوں نے میرے لیے انتہائی محبت اور عزت کا اظہار فرمایا، اور اس دوران انہوں نے مجھے کئی القابات سے نوازا، اور مجھ سے اتنی محبت کا اظہار فرمایا کہ میں زندگی بھر اس کو نہیں بھلا سکتا "۔
سیرت و خصائص:
عالم و عارف، عابد و زاہد، صاحبِ صفاتِ محمودہ، ذی الفضل والجاہ، حامی السنن، ماحی الفتن، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، محب و محبوبِ امامِ اہلسنت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ کا تعلق ایک بہت ہی دیندار علمی گھرانے سے تھا۔امت مسلمہ کی خدمت وراہنمائی ان کے آباؤ اجداد کی خوبیوں میں سے ایک تھی۔ان کے والد گرامی کے بارے میں مختصر پہلے تحریر کرچکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ پرخصوصی شفقت فرماتے تھے۔
مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال سے نو یا دس ماہ قبل ، آپ نے مجھے ایک "رحمت بھرا خط" لکھا جس میں آپ نے فرمایا: "کہ میں نے اپنی کتاب " الاستمداد " میں اپنے تمام خلفاء کے نام درج کئے ہیں اور تمھارا نامِ نامی غیر ارادی طور پر چھپ نے سے رہ گیا ہے ۔ میری انتہائی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھ سے آپ کا نام غیر ارادی طور پر رہ گیا جو کہ " قصیدہ الاستمداد " کے آخر میں میرے خیر خواہوں اور مددگاروں کی فہرست میں سنہری حروف سے کندہ ہونا چاہئے تھا ۔ مجھے اس کا احساس اس وقت ہوا جب وہ چھپ چکی تھی ، اور مجھے ابھی تک اس کا افسوس ہے"۔
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیر پَر کامل یقین رکھتے تھے، اور اپنے پیر کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ ذاتی طور پر ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پیر کتنا کامل یقین رکھتے تھے ۔
وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ
مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمودجان ۔ لقب: قادری، رضوی۔علاقہ، جام جودھپور کی نسبت سے"جام جودھپوری" کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب: مفتی محمود جان بن مولانا حافظ غلام رسول بن محمد صدیق بن عمر بن رمضان بن صبوربن حاجی محمد اکبر بن مولانا حمیدالدین بن مولانا شہباز بن خوش حال بن گوہر بن رحمت اللہ بن خواجہ عبیداللہ۔(علیہم الرحمہ)۔
آپ کے والدِ گرامی حضرت علامہ مولانا حافظ غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں طالب علم دوردراز کاسفر کرکےعلمی پیاس بجھانے کےلئے حاضر ہوتےتھے۔ان کا سب سےبڑاکارنامہ یہ ہےکہ انہوں نےاس وقت"افغانستان"میں "فتنۂ وہابیہ اسماعیلیہ"کاخاتمہ کیا تھا۔جب لوگ ان کےعقائد پرمطلع ہوئے، تو وہ وہابیوں کےخلاف ہوگئے ۔ بہت سے وہابی جہنم رسید ہوئے اور جو بچ گئے وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کاسن 1835ء بتایا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق "مردان" کے افغانی قبیلے"میرملک زئی" سے ہے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بنیادی تعلیم اپنے والد ماجد کی زیر سر پرستی میں حاصل کی ۔ پھر "دارالعلوم امینیہ دہلی" میں تکمیل ہوئی۔اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدآپ نے" کا ٹھیاواڑ" جام جودہ پور (ضلع گجرات) کی طرف ہجرت فرمائی۔آپ ابتداء سے ہی اپنی مناظرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھے،اور کئی عیسائی رہنماؤں کو مناظرہ میں شکست فاش دے چکے تھے۔پھر اعلیٰ حضرت امام ِ اہلسنت کی خدمت میں پہنچ کر مزید اپنی علمی وروحانی پیاس بجھاکر کامل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ خود اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں: "طویل عرصہ سے میرے دل میں یہ خیال تھا کہ جب تک میں ایک کامل اور بلندپایہ پیر کو نہ پالو میں مرید نہیں بنوں گا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نے حضرت مولانا محمود و ضیاء الدین صاحب پیلی بھیتی (رحمۃ اللہ) کا مرتب دیا ہوا اور اسلامی رسالہ پڑھنا شروع کیا تھا جو کہ علم و دانش کےجواہر سے پر تھا۔
اسی میں میں نے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بارے میں پڑھا۔ فوری طور پر میرے دل نے کہا کہ اس دور میں اتنی عظیم ہستی کا پانا کوئی عام بات نہیں۔ خدائی رہنمائی کے ذریعہ میں نے بریلی شریف کا سفر اختیار کیا۔ جہاں میں نے اپنے آپ کو اعلیٰ حضرت کی رحمت بھری عدالت میں پیش کیا، جس وقت میں نے ان کے نورانی چہرے کو دیکھا، میرا دل پگھل گیا، میرا ایمان تازہ ہوگیا اور میرا دل کھل اُٹھا کہ ایسا اس سے پہلے کبھی نہ ہواتھا۔میں ایک ایسا عظیم پیر پاچکا تھا کہ جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا،
میں نے داخل سلسلہ ہونے کی درخواست کی اور میرے مرشد نے مجھے اپنے مرید کی حیثیت سے قبول کیا، فوری طور پر مجھے اجازت و خلافت سے نوازا، پھر اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ اس وقت انہوں نے جو لباس زیب تن کیا ہوا تھاوہ مجھے عطا کیا۔اس میں کرتا، پاجامہ، عمامہ،اور صدری (واسکوٹ) تھی۔ بحر سخاوت کی طرف سے یہ بڑی عطا تھی انہوں نے اپنے اس عاجز خادم کو سلسلہ عالیہ قادریہ ، برکاتیہ، رضویہ ، چشتیہ سہروردیہ ،نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں تاج خلافت سے نوازا۔انہوں نے میرے لیے انتہائی محبت اور عزت کا اظہار فرمایا، اور اس دوران انہوں نے مجھے کئی القابات سے نوازا، اور مجھ سے اتنی محبت کا اظہار فرمایا کہ میں زندگی بھر اس کو نہیں بھلا سکتا "۔
سیرت و خصائص:
عالم و عارف، عابد و زاہد، صاحبِ صفاتِ محمودہ، ذی الفضل والجاہ، حامی السنن، ماحی الفتن، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، محب و محبوبِ امامِ اہلسنت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ کا تعلق ایک بہت ہی دیندار علمی گھرانے سے تھا۔امت مسلمہ کی خدمت وراہنمائی ان کے آباؤ اجداد کی خوبیوں میں سے ایک تھی۔ان کے والد گرامی کے بارے میں مختصر پہلے تحریر کرچکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ پرخصوصی شفقت فرماتے تھے۔
مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال سے نو یا دس ماہ قبل ، آپ نے مجھے ایک "رحمت بھرا خط" لکھا جس میں آپ نے فرمایا: "کہ میں نے اپنی کتاب " الاستمداد " میں اپنے تمام خلفاء کے نام درج کئے ہیں اور تمھارا نامِ نامی غیر ارادی طور پر چھپ نے سے رہ گیا ہے ۔ میری انتہائی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھ سے آپ کا نام غیر ارادی طور پر رہ گیا جو کہ " قصیدہ الاستمداد " کے آخر میں میرے خیر خواہوں اور مددگاروں کی فہرست میں سنہری حروف سے کندہ ہونا چاہئے تھا ۔ مجھے اس کا احساس اس وقت ہوا جب وہ چھپ چکی تھی ، اور مجھے ابھی تک اس کا افسوس ہے"۔
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیر پَر کامل یقین رکھتے تھے، اور اپنے پیر کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ ذاتی طور پر ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پیر کتنا کامل یقین رکھتے تھے ۔
❤1👍1