🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
01-02-1445 ᴴ | 19-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-02-1445 ᴴ | 19-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-02-1445 ᴴ | 19-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
شیخ احمد زروق برانسی فاسی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
شیخ احمد لقب: شہاب الدین ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے ۔ احمد بن احمد بن محمد بن عیسیٰ البرانسی، الشہیر ، بزرّوق ـ

تاریخ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 846ھ میں خاندان برانس قبیلۂ بربر میں جو کہ "فاس" اور" تازہ" کے درمیان رہائش پذیر تھا میں پیدا ہوئے ۔ اس لیے آپ کو برانسی اور فاسی کہتے ہیں ۔

نوٹ:
بہت سے تقویمی کیلنڈرز، کتب، اور ویب سایٔٹس میں آپ کا لقب زرّوق کی بجاۓ"ذوق"اور"برانسی" کی بجاۓ "بنارسی" اور "فاسی" کی جگہ" فارسی" لکھا ہے جو کہ ایک صریح غلطی ہے ۔ (تونسوی غفرلہ) ـ

سیرت و خصائص:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے فقیہ اعظم اور شیخ کامل اور زہد وتقویٰ میں یکتائے زمانہ تھے ۔( معجم المعاجم والمشیخات، ص،۵۴۸) ـ

آپ کے بارے میں شیخ محقق علیہ الرحمہ اپنی کتاب " مرج البحرین " میں ارشاد فرماتے ہیں!

الشیخ الامام الہمام قدوۃ المتأخرین و حجۃ المتقدمین صاحب الطریق القویم والداعی لخللق اللہ الی الصراط المستقیم الامام العالم العامل القیم المعدل الفاروق شہاب الحق والحقیقۃ والشرع والدین سید احمد المغربی البرنسی عرف زروق کہ از اکابر علماۓ وقت واعاظم مشایٔخ عرب دیار بود رحمۃ اللہ رحمۃ واسعۃ کاملۃ ۔ (تعارف چند مفسرین محدثین مؤرخین کا ۔ص ، ۱۸۔بحوالہ مرج البحرین ص:۴۶) ـ

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے متعلق فرماتے ہیں!

الغرض وہ جلیل القدر شخص تھے، ان کے مرتبہ وکمال کو لکھنا تحریر وبیان سے باہر ہے ۔ وہ متأ خرین صوفیہ کرام کے ان محققین میں سے ہیں جنہوں نے حقیقت و شریعت کو جمع کیا ہے ۔ شیخ شہاب الدین قسطلانی علیہ الرحمہ اور ان کے جیسے بڑے بڑے علماء و مشایٔخ نے ان کی شاگردی پر فخر و ناز کیا ہے ۔ (بستان المحدثین، ص۳۰۶) ـ

وصال:
آپ کا وصال 2 صفر المظفر 899ھ میں ہوا ۔

مأخذ و مراجع:
۱۔معجم المعاجم والمشیخات۔۲۔مرج البحرین ۔۳۔بستان المحدثین ۔۴۔ تعارف چند مفسرین محدثین مؤرخین کا۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shaykh-ahmad-zarruq-baransi-fasi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا الحاج محمد یوسف نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
محمد یوسف ۔ لقب: بابو، نوشاہی ۔ پورا نام اسطرح ہے: مولانا بابو محمد یوسف نوشاہی علیہ الرحمہ ۔والدکااسمِ گرامی:حافظ کرم الٰہی علیہ الرحمہ۔آپ کے اجداد میں سے جگجیت سنگھ کھو کھر راجپوت، بجواڑہ کے حاکم تھے ۔ حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ تعالیٰ کے زمانے میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے توان کا نام نواب محمد رحمت اللہ رکھاگیا۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1304ھ، مطابق 1886ء کو"موضع مردانہ" ضلع شیخو پورہ میں پیدا ہوئے۔ مولانا محمد یوسف سن شعور کو پہنچنے کے بعد جب علوم دینیہ سے بہرہ ور ہوئے توا زراہ انکسار آیۂ مبارکہ "وکلبہم باسط ذراعیہ بالوصید"(1304ھ)سےاپنی تاریخ ِولادت اخذ فرمائی۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ قادریہ نوشاہیہ میں حضرت مولانا محمد اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ سے بیعت ہوئے اور مجاز ہوئے ۔اپنے سلسلے کے اور ادو وظائف پابندی سے ادا کرتے اور ہر ماہ ختم گیارہویں شریف کا اہتمام کرتے،حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے والہانہ عقیدت و محبت رکھتے تھے،چونکہ ابجد کے حساب سے "بابو"کے عدد گیا رہ ہیں اس لئے انہوں نے یہ لفظ اپنے نام کا جزو بنا لیا تھا۔

تحصیلِ علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی ۔ پھر اس وقت کے جید علماء کرام سے تحصیلِ علم کیا ۔ آپ کاشماراپنے وقت کےممتازعلماءکرام سے ہوتاتھا۔

سیرت و خصائص:
عالم وعارف، عاشقِ غوثِ صمدانی حضرت علامہ مولانا الحاج محمدیوسف نوشاہی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ صاحبِ کشف وکرامت بزرگ تھے۔حصول معاش کے لئے پوسٹل کلرک کے فرائض انجام دیتے رہے۔ایک مرتبہ انہوں نے ذہنی طور پر حضرت حافظ شیرازی کو مخاطب کرتے ہوئے دیوان حافظ سے فال نکالی کہ آپ کا زمانہ حضرت سید نا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مؤخر ہے،پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نے ان کی توصیف میں کچھ نہیں کہا؟ چنانچہ یہ شعر نکلا ؎ حافظؔ از معتقد انست،گرامی دارش۔۔۔زانکہ بخشائش بس روح مکرم با اوست۔یعنی حافظ معتقدین میں سے ہے اس کی عزت کرو کیونکہ بہت ہی مکرم روح کی عنایت اس کے شامل حال ہے۔

مولانا محمد یوسف نوشاہی دو مرتبہ حج و زیارت سے مشرف ہوئے،اسی دوران بغداد شریف،کربلا معلّٰی اور نجف اشرف گئے اور بزرگان دین کے مزارات پر حاضر ہو کر استفاضہ کیا تھا۔آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔آپ نےتقریباً ایک درجن مفیدکتب تصنیف فرمائیں تھیں۔

وصال:
آپ کا وصال 2 صفرالمظفر 1360ھ، مطابق یکم مارچ 1941ءکوہوا۔آپ کامزار شریف موضع مردانہ تحصیل فیروز والا ضلع شیخو پورہ میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-yousuf-noshahi
1