🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ عبد اللہ طاقی علیہ الرحمہ

آپ کا نام محمد بن الفضل بن محمد طاقی سجستانی ہروی ہے۔آپ موسٰی بن عمران جیرفتی کے مرید ہیں ۔ علوم ظاہر و باطن کے عالم تھے ۔ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ وہ ہمارے پیر ہیں اور استاد بھی۔حنبلی مذہب کے تھے ۔ اگر میں ان کونہ دیکھتا توحنبلیوں کا اعتقاد مجھے نہ معلوم نہ ہوتااور میں نے کسی کو طاقی سے بڑھ کرباہیبت اور بارعب نہیں دیکھا۔میں نے ان کو نابینا دیکھاہے۔

مشائخ ان کی تعظیم کرتے تھے۔آپ صاحب کرامات و ولایت و فراست بھی تھے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ وہ کسی کے کام میں دلچسپی رکھتے ہو۔جس قدر کہ میرے ساتھ رکھتے تھے۔میری عزت کرتے تھے اور مجھے اچھا جانتے تھے۔مجھ سے کہا تھا کہ عبداللہ منصور سے کہا۔سبحان اللہ وہ کیا نور ہے کہ خدائے تعالی نے تیرے دل مین رکھا ہے۔شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ چالیس سال گزرگئے تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ نور کیا ہے جو وہ کہتے تھے۔

شیخ عبداللہ طاقی علیہ الرحمۃغروماہ صفر۴۱۶ھ میں فوت ہوئے۔شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد قصاب ے آنکھ اور دل سے بزرگ بتایا ہےلیکن خرقانی نے مجھے پہچانا نہیں اور محمد قصاب میری بہت تعظیم کرتے تھےمیرے ساتھ بازار میں آئےاور کہا کہ میرے یاراپنے باپ کے لیے دستار کیا خرید تے ہومیرے ساتھ موافقت کی اور کہا تیس سال ہوگئے ہیں کہ یہاں تک میں بازار میں نہیں آیا۔شیخ الا سلام کہتے ہیں شیخ ابو عبداللہ باکو شیرازی نے اچھے صفر کیے تھے اور دنیا کے مشائخ کو دیکھا تھااور بہت سے بزرگوں کی حکایتیں ان کو یاد تھیں۔میں نے خود ان سے تیس ہزار حکایات انتخاب کر کے لکھی ہیں اور تین ہزار حدیثیں۔شیخ الا سلام کہتے ہیں کہ وہ بادشاہ تھے تصوف کے بہانہ میں تمام علوم سے بانصیب تھےوہ میری اس قدر تعظیم کرتے تھے کہ اور کسی کی نہیں کرتے تھے۔جب میں ان کی خدمت میں آتا وہ کھڑے ہو جاتے اور مشائخ نشاپور کے لیے جیسے ابن ابی خیر وغیرہ کے لیے کھڑے نہ ہوتے تھے۔بڑے دانا تھے۔

شیخ الا سلام کہتے ہیں کہ جب میں رے سے واپس آیا تو شیخ ابو عبداللہ باکو کی خانقاہ میں آیا۔ اس خانقاہ میں میرے تین دوست تھے۔ ایک تو مکی شیرازی،دوم ابوالفرج،سوم ابو نصر تر شیرازی۔شیخ نے آواز دی ابوالفرج وہ خانقاہ سے باہر دوڑا اور کہا لبیک۔شیخ نے کہا جب دانشمند اس خانقاہ میں باہر گیا تھا تو میں نے تم سے کہا تھا۔ کہا آپ نے یہ کیا کہا تھا کہ وہ صفر کو جاتا ہے وہ صفر کے لیے نہیں اور نہ صفر اس کے لیے ہے۔وہ تو اس لیے ہے کہ حلقہ میں بیٹھے اور لوگ اس کے گرد بیٹھے۔وہ خدا کی باتیں کہے۔میں نے کہا کاش بارے یہ بات اس وقت کہتے تاکہ تمام رنج و صفر سفید پڑھتا لیکن خرقانی کو دیکھنا چاہیے تھا۔یعنی میراصفر اس لیے تھا۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdullah-muhammad-taaqi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم خیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ خدا بخش ۔ لقب: ملتان شریف کی نسبت سے "ملتانی" مرشد کے حکم سے خیر پور تشریف لائے تو "خیرپوری" کہلائے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خدا بخش بن مولانا جان محمد بن مولانا عنایت اللہ بن مولانا حسن علی بن مولانا محمود جیو بن مولانا محمد اسحاق بن مولانا علاؤ الدین ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔

آپ کے بزرگوں میں سے مولانا محمود جیو علیہ الرحمہ کو بخاری زبانی یاد تھی، اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔آپ کے والد ماجد مولانا قاضی جان محمد علیہ الرحمہ عالم باعمل اور صاحب زہد و تقویٰ بزرگ تھے ۔ قصبہ "تلمبہ" میں رہتے تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1150ھ، مطابق 1737ء کو "قصبہ تلمبہ" (ضلع خانیوال کا ایک تاریخی قصبہ،ملتان سے سو کلو میٹر دور ہے) میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی پھر ذرا بڑا ہونے پر مزید تعلیم کے لیے والد ماجد کے کہنے پر دہلی میں تشریف لے گئے اور " مدرسہ رحیمیہ دہلی " میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شاگردی اختیار کی ۔ ا ور ان سے دینی علوم کی تکمیل کی دہلی میں قیام کے دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ آپ نے چند دیگر مشائخ سے روحانی استفادہ بھی کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، سراج الواصلین، فخر العاشقین، سند العارفین، حجۃ الکاملین، امام العلماء الراسخین، محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ اپنے وقت کے جید عالم اور ولیِ کامل تھے ۔ علم حاصل کرنے کے بعد واپس تلمبہ تشریف لائے اور والد گرامی کے زیر سایہ وہیں زندگی کے شب و روز گزارنے لگے کچھ عرصہ کے بعد یہاں سے نقل مکانی کر کے ملتان میں سکونت پذیر ہو گئے ملتان کےمحلہ " کمہار پورہ " (حسین آگاہی اور دولت گیٹ کے درمیان میں واقع ہے) میں آپ کی رہائش تھی ۔

یہیں آپ نے درس و تدریس کا آغاز کیا تھوڑے عرصہ میں آپ کے درس کی شہرت گردو نواح میں پھیل گئی اور طالب علم دور دور سے آپ کے پاس آنے لگے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے چالیس سال تک ملتان میں قرآن و حدیث کا درس دیا اور ہزاروں لوگ آپ کے علمی فیض سے مستفید ہوئے۔ کمہاروں کی اس مسجد کا نام ہی "درس والی مسجد" مشہور ہو گیا ۔ جوابھی تک اسی نام سے مشہور ہے۔ (اس وقت اس مسجد میں میرے استادِ محترم غزالی زمان علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم ملتان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیع چشتی گولڑی مدظلہ العالی، کافی عرصے سے دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اور قرآن و حدیث کے نور سے عوام کے دلوں کو منور کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ درازیِ عمر عطاء فرمائے ۔ آمین (تونسوی غفرلہ) ـ

ایک مرتبہ حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں اس طرح تذکرہ ہواکہ شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ کاتصرف بعدازوصال اسی طرح عیاں ہے ،آپ کی مرضی کے بغیر کوئی بھی اہل اللہ ملتان میں نہیں رہ سکتا ہے۔

حضرت خواجہ دہلوی نے یہ سن کرسکوت فرمایا۔ دوسرے دن آپ نے حضرت قبلۂ عالم کو حکم فرمایا کہ آج کی رات حضرت غوث العالمین تشریف لائےاور ملتان شریف ہمارے حوالے کردیا۔آپ حافظ جمال صاحب کو حکم فرمائیں کہ ملتان جا کر حضرت شیخ الاسلام کے مزار شریف کے سامنے بیٹھ کر بیعت کیاکریں۔حافظ جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے مولانا خدابخش ملتانی علیہ الرحمہ کو بیعت فرمایا، اورروحانی نعمتوں سے مالامال فرمایا۔حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی کی مرید اختیاری کرنے کے بعد سلوک کے مدارج طے کرنے شروع کیے۔بے حد ریاضت و عبادت کی رات دن اللہ کی یاد میں بسر کرنے لگے۔ مرشد سے صحبت کا غلبہ دن بدن بڑھتا چلا گیا آہستہ آہستہ آپ روحانیت کے مرتبہ کمال کو پہنچ گئے اور علم کی شہرت تو پہلے ہی تھی اور شیخِ کامل کی صحبت سے آپ کو شہرتِ دوام مل گئی۔ قبلۂ عالم کی خدمت اقدس میں: ایک مرتبہ حافظ جمال اللہ علیہ الرحمہ نےمہار شریف کا قصدکیا ، اور آپ کو بھی ساتھ لے لیا۔ ابھی مہار شریف نہ پہنچے تھے کہ قبلہ عالم دوستوں سے کہنے لگے کہ اس مرتبہ حافظ صاحب عجیب تحفہ لیے آرہے ہیں۔ سب نے سمجھا کہ ملتان کی کوئی بنی ہوئی چیز ہوگی۔ لیکن حضور نے فرمایا کہ نہیں یہ تحفہ مولانا صاحب کی ذات خاص ہے ۔ جسے حافظ صاحب میرے لیے لارہے ہیں۔ الغرض جب مولانا پہنچے اور زیارت سے مشرف ہوئے تو پہلی ہی صحبت میں منظور ہوگئے اور بارہا حضرت قبلہ عالم صاحب اپنی زبان فیض ترجمان سے مولانا صاحب کے اوصاف بیان فرماتے اور ان کی فطری قابلیت اور استعداد اظہار فرماتے تھے۔ علمی کمالات: جذب اور سکر آپ کے حال پر تنا غالب ہوا کہ چلتے چلتے راستہ بھول جاتے تھے۔ ایک دن جناب حافظ صاحب نے ان کی یہ کیفیت حضرت قبلہ ٔعالم کےگوش گزار کی ۔
2
فرمایا ان کےتمام اورادووظائف معطل کرا دو،صرف تدریس کے کام پر مامور کرو۔ جو ہر خاص و عام کے لیے بہرہ مندہے۔ اس لیے مولانا صاحب اپنے بزرگوں کی ہدایت کے مطابق علوم ظاہری کی تدریس میں مشغول ہوئے ۔ تفسیر ،حدیث،فقہ،عقائد ،علم ہیت، صرف و نحو، منطق و معانی ، بدیع و بیان وغیرہ جملہ علوم متعارفہ کی تعلیم دیتے تھے اور لوگوں کی فیض رسانی میں مشغول رہے اور آپ کے علمی کمالات کے چرچے خاص و عام میں پھیل گئے۔ عفوان شباب سے لےکر اخیر بڑھاپے تک لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور لوگوں کے فیض دینے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ان لوگوں کی تعداد بے شمار ہےجنہوں نے آپ کے مدرسہ سے فارغ ہوکر دستار فضیلت باندھی ، عام طالبعلموں کا تو شمار نہیں ۔آپ جو دو کرم اور فیض اتم کے ایک سمندر بے کنار تھے جن کے علوم کے سیلاب سے ہزاروں پیاسوں نے اپنی طلب اور شوق کی پیاس بجھائی۔ ان کے دل کا ایک ایک قطرہ درِ نایاب تھا۔ضعف بدنی کے باعث جب آپ میں درس و تدیس کی طاقت نہ رہی تواوراد و ظائف سے وقت بچاکر اپنی مشہور تصنیف "تو فیقیہ" کے لکھنے میں مصروف رہتے۔ یہ وہ کتا ب ہے جس میں شریعت کے احکام طریقت کے آدابِ حقیقت اور معرفت کے اسرا بیان کیے ہیں۔ کمال زہد:جب حضرت قبلہ عالم کا وصال ہوا ،اور جنازہ تیار ہوگیا تو صلحائے زمانہ نے یہ رائے پیش کی کہ امامت وہی شخص کرے کہ جس سے ساری عمر کوئی "مستحب "ترک نہ ہواہو۔ کسی کو اپنے تئیں بھروسہ نہ تھا۔آپ ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شرف کے حامل تھے،اور حضرت قبلۂ عالم کی نمازِ جنازہ کی امامت کاشرف آپ کو حاصل ہوا۔

وصال:
آپ کاوصال بروزجمعررات،یکم صفرالمظفر 1250ھ،مطابق جون/1834ءکو ہوا۔آپ کامزار"خیرپورٹامیوالی"ضلع بہاولپورمیں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
سردلبراں۔ گلشنِ ابرار

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-khuda-bakhsh-multani-summa-khairpuri
Copyright © Zia-e-Taiba
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
ابو القاسم، سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت شاہ اسماعیل حسن ۔ کنیت: ابو القاسم ۔ لقب: مارہرہ مطہرہ کی نسبت سے "مارہروی" کہلاتے ہیں ۔ سید ابو القاسم، اور شاہ جی کے نام سے شہرت حاصل تھی ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت ابو القاسم مولانا سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی بن حضرت سید محمد صادق بن حضرت سید اولاد رسول بن حضرت شاہ سید آل برکات ستھرے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمد بن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید شاہ عبد الجلیل بن سند المحققین سید شاہ عبد الواحد بلگرامی ۔ الیٰ آخرہ ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ

آپ کا سلسلۂ نسب چند واسطوں سے سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے توسط سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 3 محرم الحرام 1272ھ، مطابق ماہِ ستمبر 1855ء کو "مارہرہ مطہرہ" (اتر پردیش، ہند ) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اپنے شوق سے کیا ۔ آپ کے حفظ کے اساتذہ میں حافظ ولی داد خان مارہروی، حافظ قادر علی لکھنوی، حافظ عبد الکریم ملک پوری ہیں ۔ مولانا شاہ عبد الشکور مہامی ، مولانا محمد حسن سنبھلی، مولانا فضل اللہ فرنگی محلی، اور مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے درسیات کی تکمیل کی ۔

ان کے علاوہ تصوف و اخلاق کی تعلیم اپنے والدِ ماجد کے علاوہ حضرت شاہ آلِ رسول، حضرت شاہ ابو الحسین نوری میاں، حضرت تاج الفحول بدایونی علیہم الرحمہ سے حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
اپنے نانا حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ سے مرید ہوئے، اور خلافت کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔ ان کے علاوہ والدِ ماجد قدس سرہ، حضرت شاہ نوری میاں، حضرت شاہ ظہور حسین، اور حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی علیہم الرحمہ سے بھی اوراد و وظائف کی اجازت عطا ہوئی تھی ۔

سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، عمدۃ العارفین، شیخ الکاملین عارف باللہ، فنا فی الرسول حضرت مولانا سید ابو القاسم شاہ اسماعیل حسن مارہروی میاں رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ خاندانِ برکات کے ایسے نورانی چراغ ہیں، جس کے انوار سے ایک عالم منور ہوا ۔ جس وقت حضرت سیدنا شاہ ابو القاسم شاہ جی میاں مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے اس وقت آپ کو تیرہ سلاسل کی اجازت حاصل تھی لیکن سلسلۂ قادریہ سے آپ کو خاندانی روایت کے مطابق بڑا گہرا لگاؤ تھا، اس لئے آپ نے اسی سلسلے کو فروغ بخشا، اسی کے فیوض و برکات سے مریدین و متوسلین کو مالا مال کیا اور رات دن اسی سلسلے کی اشاعت کی جد و جہد فرائی ۔ بے شمار علما و مشائخ کو اسی سلسلے میں مرید کیا اور خلافت کی دولت سے بے بہا سر فراز فرمایا ۔ چونکہ آپ کے قول و فعل اور کردار و عمل میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار برکتیں و دیعت فرمائی تھیں ـ اس لیے خلقت آپ کی طرف و الہانہ طور پر متوجہ ہوتی تھی ۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آپ کی نظر کرم پڑتے ہی نہ جانے کتنے لوگوں کی دنیا بدل گئی، نہ جانے کتنے ویران دل آباد ہو گئے اور نہ جانے کتنے کفر و شرک سے آلود دِلوں میں ایمان کا اُجالا پھیل گیا ۔ کتنے گمراہوں کو آپ کی ذات سے راہِ ہدایت نصیب ہوئی ۔ الغرض آپ کی ذات بڑی با فیض تھی لیکن سب سے بڑی خوبی آپ میں یہ تھی "کہ آپ احیائے سنیت اور تصلب فی الدین کے معاملے میں آپ اپنے اسلاف کے سچے جانشین تھے ۔

تذکرۂ علمائے اہل سنت میں ہے:
" (آپ) تصلب فی الدین میں بزرگان مارہرہ کے قدم بہ قدم تھے " ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت، ص:29) ۔ مشائخ مارہرہ کا تصلب فی الدین کس طرح تھا، اس کی تائید درج ذیل عبارت سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔

حضور تاج العلماء فرماتے ہیں:
"ہمارے اسلاف کرام اور ان کے اخلاف سب بحمدہ تعالیٰ ہمیشہ سے دین اسلام و مذہب مہذب اہل سنت و جماعت سے آراستہ و پیراستہ چلے آتے تھے اور خوب اپنے اس دین متین اور مذہب مہذب میں تعصب و تصلب کو مقبول و محمود جانتے اور مانتے اور بتاتے رہتے تھے" ۔

تصلب فی الدین جو اس خانقاہ کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ ان حضرات نے بلا خوف لومۃ لائم ہر دور میں احقاق حق اور ابطال باطل کا اہم فریضہ انجام دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خانقاہ ہر دور میں مسلمانانِ اہل سنت کے لیے مرکز توجہ رہی یہ مشائخ خود بھی متصلب فی الدین تھے اور اپنے متعلقین و متوسلین کو بھی اسی پر عمل پیرا رہنے کی ان لفظوں میں تلقین فرماتے:
2
"مذہب اہل سنت و جماعت پر ایسے جمے ہوئے رہیں کہ دوسرے متعصب جانیں اور شریعت مطہرہ کو اپنا دستور العمل بنائیں، مذہب اہل سنت کے پھیلانے اور بدعت کو مٹانے اور بَد دینوں، بے دینوں کے رد کو اپنا مقصود ٹھہرائیں ـ

خصوصاً وہابیہ، دیوبندیہ، نجدیہ کا رد سب شریروں سے زائد گندے اور اسلام کو نقصان پہنچانے اور جڑ کو کھودنے میں بَد ترین کفار ہیں ۔ اہل سنت کے جتنے مخالف مثلاً وہابی، راضی، ندوی، نیچری، چکڑالوی، غیر مقلد، قادیانی اور گاندھوی وغیرہ ہیں، ان سب کو اپنا دشمن جانیں ان کی بات نہ سنیں، ان کے پاس نہ بیٹھیں، ان کی کوئی تحریر نہ دیکھیں، دین و ایمان سب سے زیادہ عزیز چیز ہیں، ان کی محافظت میں حد سے زیادہ کوشِش فرض ہے" ۔

حضرت شاہ جی میاں اصولوں کے بہت پکے تھے ۔ غلط باتوں پر ہر ایک کی سر زنش کرتے، اس میں دوست دشمن، اپنا بیگانہ کی کوئی تمیز روا نہ تھی ۔ آپ صرف گوشہ نشین صوفی نہ تھے، بلکہ ملکی و بین الاقوامی حالات و معاملات پر خوب نظر تھی ۔ تحریکِ خلافت، تحریکِ پاکستان، تحریک ترکِ مولات، وغیرہ کے بارے میں وہی موقف تھا جو اکابرِ اہلسنت کا رَہا ہے ۔ اُس وقت جب بھی سنیت کے خلاف کوئی مضمون وغیرہ اخبارات و رسائل میں شائع ہوتا تو فوراً نوٹس لیتے ۔ مصروفیات سے وقت بچا کر دینی کتب کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے ۔ آپ کی تصنیفات و خطوط علم کا گنجینہ ہیں ۔

وصال:
آپ کا وصال یکم صفر المظفر 1347ھ، مطابق جولائی 1928ء کو ہوا ۔ مرقدِ انور " مارہرہ مطہرہ " انڈیا میں ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماء اہلسنت ۔ اہلسنت کی آواز 1431ھ ۔ خاندانِ برکات ۔ ضیائے صفر المظفر ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-qasim-muhammad-ismail-hasan-shah-qdri
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-01-1445 ᴴ | 18-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
01-02-1445 ᴴ | 19-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2