🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-01-1445 ᴴ | 18-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-01-1445 ᴴ | 18-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا مفتی عبد العزیز مزنگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
مولانا مفتی ابو رشید محمد عبد العزیز ابن میاں محمد فضل الدین (م یکم صفر ، ۶ نومبر ۱۳۳۷ھ/۱۹۱۸ء) ابن محمد عطاء اللہ ابن میر عبد الحکیم ابن میر قائم ابن میر شرف اللہ ابن میر زمان اللہ (یکے از خلفائے بابا نصیب الدین غازی) موضع چانگا نوالی (مضافات جلال پور جٹاں ضلع گجرات ) میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
مدرسہ رحیمیہ نیلا گنبد لاہور میں مولانا محمد عالم سے استفادہ کیا ، کچھ عرصہ مدرسہ حمید یہ انجمن حمایت اسلام لاہور میں بھی تعلمی حاصل کی ۔

مولانا کریم بخش ( والد ماجد مولانا فضل میراں متوفی ۶ ربیع الاول، اپریل ۱۳۲۵ھ /۱۹۰۷ء ) سے فیضیاب ہوئے پھر ان کے صاحبزادے ادب عربی کے مایہ ناز فاضل مولانا فضل میراں کے قابل فخر شاگرد اور داما د تھے ، مزنگ میں مرزا محمد بیگ سے جلد سازی کا کام سیکھا ، تکمیل کے بعد مسجد چاہ جھنڈی والی میں امام مقر ر ہوئے ۔ یہاں آپ نے ایک مدرسہ قائم کیا جہاں سے مزنگ کے کئی علماء فیضیاب ہوئے ، اس کے بعد عرصۂ دارز تک مسجد قلعہ مادھو مزنگ اور جامع مسجد جناز گاہ میں ملا مشاہرہ خطیب رہے ۔

انجمن اسلامیہ مزنگ کی بنیاد رکھی اور مختلف مقامات پر تبلیغ کے لئے تشریف لیجاتے رہے ۔ حکومت بربانیہ کے عہد میں آپ سنٹرل جیل میں جاکر تبلیغ کیا کرتے تھے جس سے متاثر ہو کر کئی ہند واور سکھ مشرف بہ اسلام ہو گئے ، آپ حضرت پیر قربان علی شاہ (آدم پور دو ٓابہ ضلع جالندھر)کے مرید تھے ۔

آپ مرنجاں مرنج انسان تھے، والدئہ ماجدہ ی بیحد خدمت کی اور دعائیں لیں ۔آپ کا ذریعۂ معاش تصحیح کتب تھا ، ملک دین محمد اینڈ شنز لاہور اور متعد ناشرین کی اکثر و بیشتر مطبوعات کی تصحیح کتابت آپ ہی کرتے تھے چنانچہ بہار شریعت (۱۷حصے)، تجرید الا حادیث ، اور تجرید البخاری عغیرہ کتب پر بحیثیت مصحح آپ ہی کا نام ملتا ہے ۔

آپ ہر وقت مطالعۂ کتب ، تصحیح، فتویٰ نولیسی اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے ، اس دوران اگر کوئی مسئلہ دریافت کرتا تو کتب معتبرہ کے حوالہ سے جوا ب دیتے اور کسی کو ما یوس نہ کرتے ، بچے سلام کرنے حاضر ہوتے تو انہیں شیر ینی عنایت فرماکر خوش کرد یتے آپ کثیر التصانیف عالم دین تھے ، چند کتابوں کے نام یہ ہیں :۔

۱۔ الافتاء فی جواب الاستفتاء اہل سنت کے عقائد اور معمولات کو دلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہے ۔
۲۔ عزیز المعظم فی اکرام المکرم اس بارے میں کہ سیدہ کا نکاح غیر سید سے نہیں کرنا چاہئے۔
۳۔ آفتاب ہدایت رد وافض میں ، حج کی دعائیں۔
۴۔ عزیز البیان فری تفسیر القرآن یہ تفسیر مستند تفاسیر کا خلاصہ مولوی اشرد علی تھانوی کے ترجمہ کے ساتھ حاشہ پر چھپی ہ ، اس تفسری میں مفتی صاحب کے ساتھ مولانا ابو المظفر فضل الرحمن شریک تھے۔
۵۔ عہد نامہ مترجم (مطبوعہ ملک سراج دین لاہور)
۶۔ اربعین عزیزی المعروف بہ احسن الاقوال فی احوال الابدال اس میں بڑی عر قریزی سے کام لیا گیا ہے ، اس میں ستر کتب معتبر ہ سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
۷۔ سیرۃ النبی الخلیل سلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (سوانح عمری سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم)
۸۔ عزیز المجلّی ( ترجمہ و تشریح منیتہ المصلی المعروف بہ مکمل صلوٰۃ الرحمن)
۹۔ قربانی کے احکام،
۱۰۔ مسائل زکوٰۃ،
۱۱ـ نسب نامۂ نبی کریم سلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔
۱۲۔ زاد الآ خرہ فی مسائل الجنازہ ۔
۱۳ ۔ تصحیح و تحشیہ عزیز المرقاۃ الیٰ مطالب مشکوٰۃ ۔

آپ کی تصانیف دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ دینی اور فقہی معلومات کے دارئرۃ المعارف ( انسائکلو پیڈیا) تھے ۔ ذوالحجہ ، فروری (۱۳۵۶ھ/۱۹۳۸ئ) میں حج و زیارت سے مشرف ہوئے ۔ الحاج مولانا میاں محمد حسین نقشبندی مجددی (ف ۱۳۷۸ھ/۱۹۵۸ئ) ساکن جگیاں ناگرہ کلاں (مضافات لاہور) حضرت مفتی صاحب کے شاگرد اور صاحب دل بزرگ تھے۔

وصال:
مفتی صاحب نے ۳۰ رجب المرجب / ۱۶ دسمبر ( ۱۳۵۶ھ/۱۹۶۳ء) کو دار فانی سے انتقال فرمایا ۔ مکرمی حکیم محمد موسیٰ امر تسری مدظلہ نے یہ تاریخ وسال نکالی ہے :۔

آہ خوش سیر عبد العزیز[1]

[1] محمد موسیٰ امر تسری ، حکیم اہل سنت : قلمی یادداشت

( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-mufti-abdul-aziz-mazang
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت حافظ سیّد مُحمّد جمال اللہ رامپوری رحمۃ اللہ علیہ


گجرات (پاکستان) ۱۱۳۷ھ / ۱۷۲۴ء ۔۔۔ ۱۲۰۹ھ / ۱۷۹۴ء رامپور (انڈیا) ـ



قطعۂ تاریخِ وفات:
غوثِ اعظم سے اُن کو نسبت تھی
کہیے صابر یہ اُن کا سالِ وصال

اُن کی تصویر تھے جمال اللہ
’’ والا تدبیر تھے جمال اللہ ‘‘
۱۲۰۹ھ

( صابر براری، کراچی )

نام و نسب:
آپ کا اسمِ مبارک سیّد محمد جمال اللہ اور والد گرامی کا نامِ نامی سیّد محمد درویش رحمۃ اللہ علیہ تھا۔ آپ کی ولادت با سعادت گجرات (پنجاب) میں ہوئی ۔

سلسلۂ نسب:
سلسلۂ نسب حضرت غوث الاعظم قدس سرہ کے واسطہ سے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے ۔

ولادت:
آپ کی ولادت ۱۱ ربیع الاوّل ۱۱۳۷ھ
بمطابق ۲۸ نومبر ۱۷۲۴ء کو ہوئی ۔

آپ ابھی بچّے ہی تھے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں اپنا لعابِ دہن آپ کے منہ میں ڈالا اور حضرت غوث الاعظم قدس سرہ آپ کی رُوحانی تربیّت فرماتے رہے ۔ یہی وجہ کہ آپ پر شروع سے ہی بے خودی کی حالت طاری تھی۔

آپ نے بچپن ہی میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا۔ اس لیے مکمّل سپاہیانہ تربیت حاصل کر کے اپنے شوق کو درجۂ کمال تک پہنچایا۔ اور سیر و سیاحت کرتے ہوئے دہلی تشریف لے آئے اور یہاں ایک درویش صفت عالمِ دین جو سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ سے وابستہ تھے اور بہت بڑے فقہیہ کامل تھے، سے حدیث و فقہ کی کتابیں پڑھیں اور جلد ہی علوم متداولہ میں کامل و اکمل ہو گئے ۔

اُس زمانے میں آپ نے مجاہدۂ نفس شروع کر دیا تھا اور روزانہ دو قرآن شریف ختم کیا کرتے تھے ۔ آپ کے اُستادِ محترم چونکہ حضرت خواجہ سیّد قطب الدین حیدر قدس سرہ کے مرید خاص تھے لہٰذا آپ غائبانہ طور پر اُن سے مانوس ہو چکے تھے ۔ ایک رات حسبِ معمول تلاوتِ قرآن مجید کر رہے تھے کہ غیب سے آواز آئی:

’’اے جمال اللہ! اگرچہ تلاوتِ قرآن مجید فُرقانِ حمید بہت بڑی عبادت ہے، لیکن عبادت میں لذّت و سرور اُسی وقت ہی حاصل ہو سکتی ہے جبکہ کسی شیخ سے بیعت کر لی جائے‘‘۔

یہ سُنتے ہی آپ کی حالت دگر گوں ہو گئی اور آپ اُفتاں و خیزاں اپنے اُستاد محترم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ خدا را مجھے جلد اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں لے چلیں اُستاد صاحب نے کہا کہ اب رات کا وقت ہے، انشاء اللہ تعالیٰ صبح چلیں گے۔ یہ سُن کر آپ کی طبیعت میں بے قراری غالب ہوگئی اور رات گزارنا مشکل ہو گئی ۔

صبح ہوتے ہی اُستاد محترم کے ہمراہ حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ کے مزار مقدس پر حاضر ہوئے کیونکہ حضرت سیّد قطب الدین حیدر رحمۃ اللہ علیہ اُس وقت وہاں گوشہ نشین تھے۔ شرفِ بیعت حاصل کرنے کے بعد سب کچھ چھوڑ کر پیر و مرشد کی خدمتِ با برکت میں ہی رہنا شروع کردیا اور بارہ سال تک شیخ کی صحبت کیمیا اثر میں رہے۔ حضرت سیّد قطب الدین حیدر رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی جدائی برداشت نہ کرسکتے تھے۔

چنانچہ جب شیخ حج مبارک کے لیے تشریف لے گئے تو آپ بھی ہمراہ تھے۔مدینہ شریف پہنچے تو حضرت خواجہ قطب الدین حیدر رحمۃ اللہ علیہ کو حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور حکم ملا کہ حافظ سیّد محمد جمال اللہ کو خرقۂ خلافت پہنا کر واپس ہندوستان بھیج دو وہاں ہزار ہا لوگ اُن سے مستفید و مستفیض ہوں گے ۔

مدینہ طیّبہ سے واپس تشریف لا کر آپ سر ہند شریف میں مقیم ہوگئے اور مجدّدی فیوض و برکات کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ بعد از ویرانیٔ سرہند آپ رام پور المعروف بہ مُصطفےٰ آباد تشریف لے گئے اور مستقل سکونت اختیار فر ماکر خلقِ خدا کی روحانی رہنمائی فرمانے لگے۔ ابتدائی دور میں رام پور میں عرصہ تک نواب رام پور فیض اللہ خاں کی فوج میں سپاہی رہ کر اپنی درویش کو چھپائے رکھا۔ حضرت شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی رامپور تشریف لا کر آپ سے ملے تھے۔ گرمی کا موسم تھا۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ ’’میں گرمیٔ محبّت اور حرارتِ مؤدتِ کی طلب میں آپ کے پاس آیا ہوں‘‘۔ آپ نے شاہ صاحب کو تربور عطا فرمایا تھا۔

اتباعِ سُنّت کا نہایت التزام و اہتمام فرماتے تھے۔ اعمالِ ظاہری و باطنی میں درجۂ کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔ دل عشقِ الٰہی سے محمور اور حُبّ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے چُور تھا۔ ایک کثیر خلقت نے آپ سے استفادہ کیا۔ کثرتِ اذکار آپ کا معمول تھا۔ نگاہ میں اس قدر تاثیر تھی کہ جو ایک دفعہ دیکھ لیتا، گرویدہ ہوکر غلام بے دام بن جاتا۔ بڑے بڑے امراء و رؤساء آپ کے مرید و معتقد تھے۔

آپ کا لنگر شاہی تھا۔ جہاں سینکڑوں لوگ روزانہ کھانا کھاتے تھے۔ جو دو سخا اور خوش اخلاقی آپ کا طرّۂ امتیاز تھا۔ کوئی سائل آپ کے در سے خالی نہ جاتا تھا بلکہ آپ سائلوں کے منتظر رہتے تھے۔ مستجاب الدعوات تھے جس کے اثر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو بڑی بڑی مشکلیں آسان فرما دیتے تھے۔ حافظ رحمت خاں رحمۃ اللہ علیہ والیِٔ روہیلکھنڈ آپ کے بڑے معتقد تھے اور اُن کی بیٹی خدیجہ آپ کی مرید تھیں ۔
آپ میں جذب و مستی کی فراوانی تھی۔ ایک دن رامپور کے بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک پُر اثر آواز سُن کر  جوش میں آگئے اور اللہ، اللہ کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنے دولت خانہ کی طرف تشریف لے گئے۔ اس حال میں جو انسان یا حیوان آپ کے سامنے آتا تھا وہ مست و مدہوش ہوجاتا تھا اور بعض تو مرغِ بسمل کی طرح خاک پر لوٹتے تھے۔ یہ واقعہ آناً فاناً پورے شہر میں پھیل گیا اور خلق کثیر حاضر ہوکر آپ سے مستفید و مستفیض ہونے لگی۔

آپ کو سیر و سیاحت اور شکار کا بہت شَوق تھا۔ آپ نے اپنی زندگی میں کئی شیروں کا شکار کیا۔ ایک دفعہ بسلسلہ شکار دہلی سے واپس رامپور بمعہ دوستاں تشریف لے جارہے تھے۔کہ اثنائے راہ شکار کرنے کی خواہش ہوئی۔ اپنے ایک خادم شاہ درگاہی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک جگہ کھڑا کر کے فرمایا کہ تم اس جگہ ٹھہرو ہم واپسی پر تمہیں ساتھ لے کر رام پور چلیں گئے۔ اور خود ایک جنگل کی طرف تشریف لے گئے۔

شکار کرتے کرتے شام ہوگئی اور آپ ایک نواحی گاؤں میں شب بسری کے لیے تشریف لے گئے اور پھر وہاں سے عازم رامپور ہو گئے کہ شاہ درگاہی رحمۃ اللہ علیہ خود بخود رامپور پہنچ جائیں گے۔ لیکن شاہ درگاہی رحمۃ اللہ علیہ رامپور نہ پہنچے۔

تقریباً ایک سال بعد آپ پھر دہلی تشریف لے جاتے ہوئے اُسی راستہ سے گزرے تو شاہ درگاہی رحمۃ اللہ علیہ کو اُسی مقام (جس جگہ کھڑا ہونے کا حکم دیا تھا) پر غمگین، پریشان حال اور گرد آلود دیکھا۔ بکمال شفقت پُوچھا ’’کہ اس جگہ کب سے کھڑے ہو؟‘‘ اس پر شاہ درگا ہی رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کیا کہ ’’جب سے آپ نے حکم دیا ہوا ہے ۔ اسی جگہ پر ہی کھڑا ہوں‘‘۔

مِٹا دیا میرے ساقی نے عالمِ من و تُو
پلا کے مجھ کو مَے لَا اِلَہٰ اِلّا ہُو

یہ حال دیکھ کر حضرت سیّد جمال اللہ قدس سرہ جوش میں آگئے اور شاہ درگاہی رحمۃ اللہ علیہ کو سینے سے لگا کر نُورٌ علیٰ نُور کردیا ۔ آنِ واحد میں سلوک و تصوّف کی اعلیٰ منازل طے کرادیں اور فرمایا کہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا، اُس کو معرفتِ خدا وندی حاصل ہوگئی‘‘۔

کرامات:
۱۔ ایک قوی ہیکل، سنگدل اور زاہد خشک، مولوی اذکر نامی شخص درویشوں کا منکر تھا اور حلقۂ درویشاں میں بطور تماشائی جا کر تمسخر اڑایا کرتا تھا۔ ایک روز وہ آپ کی مسجد میں آیا، جہاں آپ حلقۂ ذکر منعقد فرمایا کرتے تھے۔ آپ نے نُورِ فہراست سے معلوم کرلیا کہ یہ ایک بے ادب، گستاخ اور بدبخت آدمی ہے۔ آپ نے اُس سے نام پوچھا تو بڑی بلند، کرخت اور مکروہ آواز سے کہنے لگا، ’’مُلّا اذکر‘‘ آپ نے فرمایا کہ تیرا جسم اور اسم دونوں سخت ہیں۔ اس کے بعد آپ نے اس زور سے ’’اللہ‘‘ کا نعرہ مارا اور وہ سُنتے ہی صاعقہ زدہ کی طرح گر کر بیہوش ہوگیا اور اس طرح تڑپنے پھڑکنے لگا کہ ابھی مرجائے گا۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر آپ کو رحم آگیا اور اپنا دستِ مبارک اُس کے دل پر پھیرا۔ اس پر اُس کی ساری سختی اور غرور زائل ہوگیا اور معافی مانگ کر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ میں داخل ہو گیا ۔

۲۔ آپ کی رحلت شریف کے بعد جب آپ کی قبر مبارک تیار ہو رہی تھی تو معماروں کا انچارج آپ کا مرید صادق تھا۔ وہ گنبد مبارک پر گلکاری کا کام کر رہا تھا کہ اچانک اُس کا پاؤں پھسلا اور نیچے گر گیا ابھی زمین پر نہیں پہنچا تھا کہ اُس نے آپ کو یاد کیا۔ آپ فوراً تشریف لائے اور اسے فضا سے پکڑ کر زمین پر بالکل صحیح سالم کھڑا کردیا۔ اُسے کسی قسم کی چوٹ نہ آئی۔ لوگ یہ منظر دیکھ کر بہت متحیّر ہوئے۔

آپ نے تمام زندگی مجرّدانہ بسر کی لٰہذا کوئی اولاد نسبی باقی نہ چھوڑی البتہ رُوحانی اولاد میں سے تین خلفاء حضرت شاہ درگاہی رامپوری رحمۃ اللہ علیہ شیخ صحرائی رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ محمد عیسیٰ گنڈا پُوری رحمۃ اللہ علیہ بہت مشہور ہوئے۔ ان کے علاوہ مُلّا فدا لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ اور میاں سیف اللہ، قصبہ سر سی تحصیل سنبھل ضِلع مراد آباد بھی آپ کے خلفاء میں سے تھے۔

آپ کی وفات حسرت آیات۳ صفر المظفر / ۳۰ اگست ۱۲۰۹ھ / ۱۷۹۴ء کو ہوئی اور رام پور شہر متصل دروازہ عید گاہ مزار مقدس بنا جو آج مرجعٔ خلائق ہے ۔ قطعۂ وصال مبارک جو مزار مبارک کے جنوبی دروزہ پر کندہ ہے ۔

آں شاہِ جمال قُطبِ عالم
تاریخِ فنائے با بقائش

خوش رفت بجلوہ گاہِ وحدت
’’ سیرِ علم مقامِ حیرت ‘‘
۱۲۰۹ھ

( تاریخِ مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-jamalullah-rampuri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوبکر احمد اسماعیل جرجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
ابو بکر احمد بن ابراہیم بن اسمٰعیل بن عباس بن مرداس الاسماعیلی جرجانی۔

آپ وقت کے امام اجل، حافظ الحدیث، شیخ الاسلام، فقیہ، محدث، مذہبِ شافعی کے مجتہد مانے جاتے تھے ۔

مشائخ:
ابی یعلیٰ، ابن خزیمہ، امام بغوی، علیہم الرحمہ

شاگرد:
امام حاکم، ابو بکر البرقانی، حمزہ السہمی، ابو سعید النقاش، علیہم الرحمہ اور ان کے علاوہ بہت مخلوقِ خدا نے آپ سے استفادہ کیا ہے ۔

امام حاکم فرماتے ہیں! ابو بکر اسماعیلی جرجانی علیہ الرحمہ اپنے زمانے کے وحید العصر فقہاء اور محدثین کے شیخ تھے ۔حسن اخلاق اور جودو سخا میں اپنی مثال آپ تھے ۔

تصانیف:
کم سنی میں ہی علم الحدیث پر ایک بہترین کتاب تصنیف فرمائی ۔اس کے علاوہ (۱) مسند عمر رضی اللہ عنہ (۱) اعتقاد ائمۃ الحدیث (۳) معجم اساسی وغیرہ ۔

وصال:
یکم صفر المظفر ۳۷۱ ھ ۔

(تاریخ جرجانی،من اسمہ احمد،ج،۱)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-bakr-ahmad-ismail-jurjani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ عبد اللہ طاقی علیہ الرحمہ

آپ کا نام محمد بن الفضل بن محمد طاقی سجستانی ہروی ہے۔آپ موسٰی بن عمران جیرفتی کے مرید ہیں ۔ علوم ظاہر و باطن کے عالم تھے ۔ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ وہ ہمارے پیر ہیں اور استاد بھی۔حنبلی مذہب کے تھے ۔ اگر میں ان کونہ دیکھتا توحنبلیوں کا اعتقاد مجھے نہ معلوم نہ ہوتااور میں نے کسی کو طاقی سے بڑھ کرباہیبت اور بارعب نہیں دیکھا۔میں نے ان کو نابینا دیکھاہے۔

مشائخ ان کی تعظیم کرتے تھے۔آپ صاحب کرامات و ولایت و فراست بھی تھے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ وہ کسی کے کام میں دلچسپی رکھتے ہو۔جس قدر کہ میرے ساتھ رکھتے تھے۔میری عزت کرتے تھے اور مجھے اچھا جانتے تھے۔مجھ سے کہا تھا کہ عبداللہ منصور سے کہا۔سبحان اللہ وہ کیا نور ہے کہ خدائے تعالی نے تیرے دل مین رکھا ہے۔شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ چالیس سال گزرگئے تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ نور کیا ہے جو وہ کہتے تھے۔

شیخ عبداللہ طاقی علیہ الرحمۃغروماہ صفر۴۱۶ھ میں فوت ہوئے۔شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد قصاب ے آنکھ اور دل سے بزرگ بتایا ہےلیکن خرقانی نے مجھے پہچانا نہیں اور محمد قصاب میری بہت تعظیم کرتے تھےمیرے ساتھ بازار میں آئےاور کہا کہ میرے یاراپنے باپ کے لیے دستار کیا خرید تے ہومیرے ساتھ موافقت کی اور کہا تیس سال ہوگئے ہیں کہ یہاں تک میں بازار میں نہیں آیا۔شیخ الا سلام کہتے ہیں شیخ ابو عبداللہ باکو شیرازی نے اچھے صفر کیے تھے اور دنیا کے مشائخ کو دیکھا تھااور بہت سے بزرگوں کی حکایتیں ان کو یاد تھیں۔میں نے خود ان سے تیس ہزار حکایات انتخاب کر کے لکھی ہیں اور تین ہزار حدیثیں۔شیخ الا سلام کہتے ہیں کہ وہ بادشاہ تھے تصوف کے بہانہ میں تمام علوم سے بانصیب تھےوہ میری اس قدر تعظیم کرتے تھے کہ اور کسی کی نہیں کرتے تھے۔جب میں ان کی خدمت میں آتا وہ کھڑے ہو جاتے اور مشائخ نشاپور کے لیے جیسے ابن ابی خیر وغیرہ کے لیے کھڑے نہ ہوتے تھے۔بڑے دانا تھے۔

شیخ الا سلام کہتے ہیں کہ جب میں رے سے واپس آیا تو شیخ ابو عبداللہ باکو کی خانقاہ میں آیا۔ اس خانقاہ میں میرے تین دوست تھے۔ ایک تو مکی شیرازی،دوم ابوالفرج،سوم ابو نصر تر شیرازی۔شیخ نے آواز دی ابوالفرج وہ خانقاہ سے باہر دوڑا اور کہا لبیک۔شیخ نے کہا جب دانشمند اس خانقاہ میں باہر گیا تھا تو میں نے تم سے کہا تھا۔ کہا آپ نے یہ کیا کہا تھا کہ وہ صفر کو جاتا ہے وہ صفر کے لیے نہیں اور نہ صفر اس کے لیے ہے۔وہ تو اس لیے ہے کہ حلقہ میں بیٹھے اور لوگ اس کے گرد بیٹھے۔وہ خدا کی باتیں کہے۔میں نے کہا کاش بارے یہ بات اس وقت کہتے تاکہ تمام رنج و صفر سفید پڑھتا لیکن خرقانی کو دیکھنا چاہیے تھا۔یعنی میراصفر اس لیے تھا۔

( نفحاتُ الاُنس )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abdullah-muhammad-taaqi
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم خیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ خدا بخش ۔ لقب: ملتان شریف کی نسبت سے "ملتانی" مرشد کے حکم سے خیر پور تشریف لائے تو "خیرپوری" کہلائے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خدا بخش بن مولانا جان محمد بن مولانا عنایت اللہ بن مولانا حسن علی بن مولانا محمود جیو بن مولانا محمد اسحاق بن مولانا علاؤ الدین ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔

آپ کے بزرگوں میں سے مولانا محمود جیو علیہ الرحمہ کو بخاری زبانی یاد تھی، اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔آپ کے والد ماجد مولانا قاضی جان محمد علیہ الرحمہ عالم باعمل اور صاحب زہد و تقویٰ بزرگ تھے ۔ قصبہ "تلمبہ" میں رہتے تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1150ھ، مطابق 1737ء کو "قصبہ تلمبہ" (ضلع خانیوال کا ایک تاریخی قصبہ،ملتان سے سو کلو میٹر دور ہے) میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی پھر ذرا بڑا ہونے پر مزید تعلیم کے لیے والد ماجد کے کہنے پر دہلی میں تشریف لے گئے اور " مدرسہ رحیمیہ دہلی " میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شاگردی اختیار کی ۔ ا ور ان سے دینی علوم کی تکمیل کی دہلی میں قیام کے دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ آپ نے چند دیگر مشائخ سے روحانی استفادہ بھی کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، سراج الواصلین، فخر العاشقین، سند العارفین، حجۃ الکاملین، امام العلماء الراسخین، محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ اپنے وقت کے جید عالم اور ولیِ کامل تھے ۔ علم حاصل کرنے کے بعد واپس تلمبہ تشریف لائے اور والد گرامی کے زیر سایہ وہیں زندگی کے شب و روز گزارنے لگے کچھ عرصہ کے بعد یہاں سے نقل مکانی کر کے ملتان میں سکونت پذیر ہو گئے ملتان کےمحلہ " کمہار پورہ " (حسین آگاہی اور دولت گیٹ کے درمیان میں واقع ہے) میں آپ کی رہائش تھی ۔

یہیں آپ نے درس و تدریس کا آغاز کیا تھوڑے عرصہ میں آپ کے درس کی شہرت گردو نواح میں پھیل گئی اور طالب علم دور دور سے آپ کے پاس آنے لگے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے چالیس سال تک ملتان میں قرآن و حدیث کا درس دیا اور ہزاروں لوگ آپ کے علمی فیض سے مستفید ہوئے۔ کمہاروں کی اس مسجد کا نام ہی "درس والی مسجد" مشہور ہو گیا ۔ جوابھی تک اسی نام سے مشہور ہے۔ (اس وقت اس مسجد میں میرے استادِ محترم غزالی زمان علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم ملتان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیع چشتی گولڑی مدظلہ العالی، کافی عرصے سے دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اور قرآن و حدیث کے نور سے عوام کے دلوں کو منور کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ درازیِ عمر عطاء فرمائے ۔ آمین (تونسوی غفرلہ) ـ

ایک مرتبہ حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں اس طرح تذکرہ ہواکہ شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ کاتصرف بعدازوصال اسی طرح عیاں ہے ،آپ کی مرضی کے بغیر کوئی بھی اہل اللہ ملتان میں نہیں رہ سکتا ہے۔

حضرت خواجہ دہلوی نے یہ سن کرسکوت فرمایا۔ دوسرے دن آپ نے حضرت قبلۂ عالم کو حکم فرمایا کہ آج کی رات حضرت غوث العالمین تشریف لائےاور ملتان شریف ہمارے حوالے کردیا۔آپ حافظ جمال صاحب کو حکم فرمائیں کہ ملتان جا کر حضرت شیخ الاسلام کے مزار شریف کے سامنے بیٹھ کر بیعت کیاکریں۔حافظ جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے مولانا خدابخش ملتانی علیہ الرحمہ کو بیعت فرمایا، اورروحانی نعمتوں سے مالامال فرمایا۔حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی کی مرید اختیاری کرنے کے بعد سلوک کے مدارج طے کرنے شروع کیے۔بے حد ریاضت و عبادت کی رات دن اللہ کی یاد میں بسر کرنے لگے۔ مرشد سے صحبت کا غلبہ دن بدن بڑھتا چلا گیا آہستہ آہستہ آپ روحانیت کے مرتبہ کمال کو پہنچ گئے اور علم کی شہرت تو پہلے ہی تھی اور شیخِ کامل کی صحبت سے آپ کو شہرتِ دوام مل گئی۔ قبلۂ عالم کی خدمت اقدس میں: ایک مرتبہ حافظ جمال اللہ علیہ الرحمہ نےمہار شریف کا قصدکیا ، اور آپ کو بھی ساتھ لے لیا۔ ابھی مہار شریف نہ پہنچے تھے کہ قبلہ عالم دوستوں سے کہنے لگے کہ اس مرتبہ حافظ صاحب عجیب تحفہ لیے آرہے ہیں۔ سب نے سمجھا کہ ملتان کی کوئی بنی ہوئی چیز ہوگی۔ لیکن حضور نے فرمایا کہ نہیں یہ تحفہ مولانا صاحب کی ذات خاص ہے ۔ جسے حافظ صاحب میرے لیے لارہے ہیں۔ الغرض جب مولانا پہنچے اور زیارت سے مشرف ہوئے تو پہلی ہی صحبت میں منظور ہوگئے اور بارہا حضرت قبلہ عالم صاحب اپنی زبان فیض ترجمان سے مولانا صاحب کے اوصاف بیان فرماتے اور ان کی فطری قابلیت اور استعداد اظہار فرماتے تھے۔ علمی کمالات: جذب اور سکر آپ کے حال پر تنا غالب ہوا کہ چلتے چلتے راستہ بھول جاتے تھے۔ ایک دن جناب حافظ صاحب نے ان کی یہ کیفیت حضرت قبلہ ٔعالم کےگوش گزار کی ۔
2
فرمایا ان کےتمام اورادووظائف معطل کرا دو،صرف تدریس کے کام پر مامور کرو۔ جو ہر خاص و عام کے لیے بہرہ مندہے۔ اس لیے مولانا صاحب اپنے بزرگوں کی ہدایت کے مطابق علوم ظاہری کی تدریس میں مشغول ہوئے ۔ تفسیر ،حدیث،فقہ،عقائد ،علم ہیت، صرف و نحو، منطق و معانی ، بدیع و بیان وغیرہ جملہ علوم متعارفہ کی تعلیم دیتے تھے اور لوگوں کی فیض رسانی میں مشغول رہے اور آپ کے علمی کمالات کے چرچے خاص و عام میں پھیل گئے۔ عفوان شباب سے لےکر اخیر بڑھاپے تک لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور لوگوں کے فیض دینے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ان لوگوں کی تعداد بے شمار ہےجنہوں نے آپ کے مدرسہ سے فارغ ہوکر دستار فضیلت باندھی ، عام طالبعلموں کا تو شمار نہیں ۔آپ جو دو کرم اور فیض اتم کے ایک سمندر بے کنار تھے جن کے علوم کے سیلاب سے ہزاروں پیاسوں نے اپنی طلب اور شوق کی پیاس بجھائی۔ ان کے دل کا ایک ایک قطرہ درِ نایاب تھا۔ضعف بدنی کے باعث جب آپ میں درس و تدیس کی طاقت نہ رہی تواوراد و ظائف سے وقت بچاکر اپنی مشہور تصنیف "تو فیقیہ" کے لکھنے میں مصروف رہتے۔ یہ وہ کتا ب ہے جس میں شریعت کے احکام طریقت کے آدابِ حقیقت اور معرفت کے اسرا بیان کیے ہیں۔ کمال زہد:جب حضرت قبلہ عالم کا وصال ہوا ،اور جنازہ تیار ہوگیا تو صلحائے زمانہ نے یہ رائے پیش کی کہ امامت وہی شخص کرے کہ جس سے ساری عمر کوئی "مستحب "ترک نہ ہواہو۔ کسی کو اپنے تئیں بھروسہ نہ تھا۔آپ ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شرف کے حامل تھے،اور حضرت قبلۂ عالم کی نمازِ جنازہ کی امامت کاشرف آپ کو حاصل ہوا۔

وصال:
آپ کاوصال بروزجمعررات،یکم صفرالمظفر 1250ھ،مطابق جون/1834ءکو ہوا۔آپ کامزار"خیرپورٹامیوالی"ضلع بہاولپورمیں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
سردلبراں۔ گلشنِ ابرار

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-khuda-bakhsh-multani-summa-khairpuri
Copyright © Zia-e-Taiba
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2