کی تلاوت کرتے اور تفسیر بیان فرماتے۔ نمازِ عصر کے بعد فقہ، حدیث اور مکتوباتِ امام ربّانی کا درس دیا کرتے۔ نماز مغرب کے بعد چھ رکعت نفل اوابین ادا فرماتے۔ پھر وظائف و اوراد کے بعد دوستوں کو توجّہ دیتے۔ بعد نمازِ عشاء گھر میں تشریف لے جاتے، اور تھوڑا سا کھانا کھا کر آرام فرماتے۔ قصّہ کوتاہ آپ کا تمام وقت ذکر و فکر اور یادِ الٰہی میں بسر ہوتا تھا۔ آپ نہایت متواضع اور خلیق اور مرتاض تھے۔بیماروں کی عیادت اور بیمار پُرسی کے لیے ضرور جاتے غرباء اور مساکین کی دلجوئی کرتے اور اعلیٰ و ادانیٰ میں کوئی تفریق نہ کرتے۔
آپ پر مدت سے عوارضات کا غلبہ تھا۔ خاص کر پاؤں مبارک کا درد شدید ہوگیا تھا۔ ایک روز بعد نماز جمعہ ارشاد فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ تمہاری عمر اَسّی سال ہو رہی ہے اور یہ اُمّت کی اوسط عمر ہے۔ اگر اور عمر چاہتے ہو تو دنیا میں رہو ورنہ ہمارے پاس آجاؤ۔ میں نے لقائے پر وردگار اختیار کیا ہے۔ تم سنّتِ نبوی کی پیروی کرتے رہنا اور حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے طریقہ پر پُوری طرح سے پابند رہنا۔
۲۸؍محرم الحرام بروز جمعرات کو آپ پر مرض کا غلبہ شدید تر ہوگیا۔ سانس میں تیزی آگئی مگر بڑے وقار سے وظائف و اوراد پڑھتے رہے۔ رات کو تہجّد کی نماز ادا کر کے دیر تک فاتحہ پڑھتے رہے۔ پھر لیٹ گئے اور شب جمعۃ المبارک ۲۹؍محرام الحرام ۱۱۱۴ھ/۱۷۰۲ء کو پنتیس سال مسندِ قیومیّت و ارشاد پر فائز رہ کر سرہند شریف میں رحلت فرمائی۔ اِنا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کو اُس مکان میں جو قدیم سے آپ کی ملکیت تھا، حضرت قیوم ثانی خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کے روضۂ مبارک سے شمال کی طرف فتح باغ کے قریب دفن کیا گیا۔ مرقد اقدس پر نہایت عالیشان خوبصورت قُبّہ بنوایا گیا۔ آپ کے مقبرہ میں چار قبریں ہیں۔ ایک آپ کی، دوسری آپ کے فرزند محمد عمر کی، تیسری آپ کی بیٹی کی اور چوتھی آپ کی زوجہ کی۔
آپ نے اپنی قیومیّت کے آخری سال حضرۃ عروہ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کے روضہ شریف سے شمال کی طرف ایک عالی شان اور خوبصورت مسجد تعمیر کرائی۔ اس کے تین گنبد اور دو بُرج تھے۔ صحن میں وضو کے لیے ایک حوض بنوایاتھا اور مسجد کے مقابل ایک محل اور چند حجرے سالکوں کو توجّہ دینے اور مراقبہ کے لیے بنوائے تھے جو اعتدادِ زمانہ کی وجہ سے بے نام و نشان ہوگئے ہیں۔
آپ کی اولادِ امجاد چھ لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔ آپ کے فرزند اکبر حضرت ابوالعلی رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۶۴ھ میں پیدا ہوئے۔ صاحبِ کشف و کرامات تھے۔ ۱۱۰۷ھ میں وفات پائی اور حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ کے قُبّہ میں دفن ہوئے۔ حضرت ابوالعلی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے قیوم رابع خواجہ محمد زبیر قدس سرہ تھے جن کے حالات آگے آرہے ہیں۔
(تاریخِ مشائخ نقشبند)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hujjatullah-khawaja-muhammad-naqshband
آپ پر مدت سے عوارضات کا غلبہ تھا۔ خاص کر پاؤں مبارک کا درد شدید ہوگیا تھا۔ ایک روز بعد نماز جمعہ ارشاد فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ تمہاری عمر اَسّی سال ہو رہی ہے اور یہ اُمّت کی اوسط عمر ہے۔ اگر اور عمر چاہتے ہو تو دنیا میں رہو ورنہ ہمارے پاس آجاؤ۔ میں نے لقائے پر وردگار اختیار کیا ہے۔ تم سنّتِ نبوی کی پیروی کرتے رہنا اور حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے طریقہ پر پُوری طرح سے پابند رہنا۔
۲۸؍محرم الحرام بروز جمعرات کو آپ پر مرض کا غلبہ شدید تر ہوگیا۔ سانس میں تیزی آگئی مگر بڑے وقار سے وظائف و اوراد پڑھتے رہے۔ رات کو تہجّد کی نماز ادا کر کے دیر تک فاتحہ پڑھتے رہے۔ پھر لیٹ گئے اور شب جمعۃ المبارک ۲۹؍محرام الحرام ۱۱۱۴ھ/۱۷۰۲ء کو پنتیس سال مسندِ قیومیّت و ارشاد پر فائز رہ کر سرہند شریف میں رحلت فرمائی۔ اِنا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کو اُس مکان میں جو قدیم سے آپ کی ملکیت تھا، حضرت قیوم ثانی خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کے روضۂ مبارک سے شمال کی طرف فتح باغ کے قریب دفن کیا گیا۔ مرقد اقدس پر نہایت عالیشان خوبصورت قُبّہ بنوایا گیا۔ آپ کے مقبرہ میں چار قبریں ہیں۔ ایک آپ کی، دوسری آپ کے فرزند محمد عمر کی، تیسری آپ کی بیٹی کی اور چوتھی آپ کی زوجہ کی۔
آپ نے اپنی قیومیّت کے آخری سال حضرۃ عروہ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کے روضہ شریف سے شمال کی طرف ایک عالی شان اور خوبصورت مسجد تعمیر کرائی۔ اس کے تین گنبد اور دو بُرج تھے۔ صحن میں وضو کے لیے ایک حوض بنوایاتھا اور مسجد کے مقابل ایک محل اور چند حجرے سالکوں کو توجّہ دینے اور مراقبہ کے لیے بنوائے تھے جو اعتدادِ زمانہ کی وجہ سے بے نام و نشان ہوگئے ہیں۔
آپ کی اولادِ امجاد چھ لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔ آپ کے فرزند اکبر حضرت ابوالعلی رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۶۴ھ میں پیدا ہوئے۔ صاحبِ کشف و کرامات تھے۔ ۱۱۰۷ھ میں وفات پائی اور حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ کے قُبّہ میں دفن ہوئے۔ حضرت ابوالعلی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے قیوم رابع خواجہ محمد زبیر قدس سرہ تھے جن کے حالات آگے آرہے ہیں۔
(تاریخِ مشائخ نقشبند)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hujjatullah-khawaja-muhammad-naqshband
scholars.pk
Hazrat Hujjatullah Khawaja Muhammad Naqshband
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت شیخ محمد صدیق لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
محمد صدیق بن محمد حنیف بن محمد لطیف لاہوری: عالم فاضل،فقیہ محدث، ادیبِ اریب منشی تھے۔لاہور میں یوم دو شنبہ ۲۹محرم الحرام ۱۱۳۸ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد کابل سےآکر مسجد وزیر خاں کے امام ہوئے اور آپ کی والدہ ماجدہ اہل تاشنکد سے تھیں۔جب آپ کی عمر پانچ سال کی ہوئی توآپ کو مولانا محمد عابد صاحب تعلیقات تفسیر بیضاوی کی خدمت میں واسطے بسم اللہ شروع کرانے کے لے گئے،بعد ازاں آپ نے ملّا اسلام سے کلام اللہ پڑھا اور پھر حفظ کیا،بعدہ مختلف اساتذہ مثل مولانا محمد عابد و مرزا مہر اللہ و ملا حفیظ اللہ ومولوی عبداللہ وملا ظہور اللہ ومولانا شہریار وغیرہ سے فقہ وحدیث وغیرہ علوم منقول و معقول کی تکمیل کی اور حدیث کی سند شیخ یحییٰ بن صالح مکی مدرس مسجد الحرام اور شیخ ابو الحسن سندی مدنی مدرس مدینہ منورہ سے ۱۱۷۰ھ میں حاصل کی اور بہت سی کتابیں تصنیف کیں جن میں سے مسلک الدرر لاکمل رسل اطہر فی الیسر للرسول الانور(یہ بے نقط حروف میں موارد الکلم فیضی کے مقابلہ میں ہے) اور ۱۸پہر میں آپ نے اس کو تصنیف کیا ہے اور اس کی تصنیف کے وقت بجز رشیدی اور روضہ اور مواہب اسعدی کے اور کوئی کتاب نہ تھی حالانکہ بقول فیضی موارد الکلم کی تصنیف کے وقت سینتیس کتابیں مثل قاموس،کشاف،شرح مواقف،حیوۃ الحیوان وغیرہ کے تھیں،مدار الاسلام فی علم الکلام،شروط الایمان،القول الحق فی بیان ترک الشعر والحلق،درء التعسف عن ساحۃ عصمۃ یوسف،ھدم الطاغوت فی قصۃ ہاروت و ماروت،نور صدقۃ الثقلین فی تمثال النعلین،شرح النفحات البارہ فی جواز القول بالخمسۃ الظاہرہ المسمی بتوضیح السنۃ فی تفضیح البدعہ،ازالۃ الفسادات فی شرح مناقب السادات للشہاب دولت آبادی تبییض الرق فی تبیین الحق فی ردما تساہل فیہ شیخ عبد الحق،جامع الوظائف، لقطۃ الخطب،دیوان مزیل الاحزان،زبدۃ الفرح فی معالجات ضعف الباہ، جامع طب احمدی،ترجمہ فقیر محمدی،ہدیۃ امام للخطباء وغیرہ مشہور ہیں۔وفات آپ کی ۱۱۹۳ھ میں ہوئی اور’’فاضل فرد زماں‘‘ تاریخ وفات ہے۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-siddiq-lahori
محمد صدیق بن محمد حنیف بن محمد لطیف لاہوری: عالم فاضل،فقیہ محدث، ادیبِ اریب منشی تھے۔لاہور میں یوم دو شنبہ ۲۹محرم الحرام ۱۱۳۸ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد کابل سےآکر مسجد وزیر خاں کے امام ہوئے اور آپ کی والدہ ماجدہ اہل تاشنکد سے تھیں۔جب آپ کی عمر پانچ سال کی ہوئی توآپ کو مولانا محمد عابد صاحب تعلیقات تفسیر بیضاوی کی خدمت میں واسطے بسم اللہ شروع کرانے کے لے گئے،بعد ازاں آپ نے ملّا اسلام سے کلام اللہ پڑھا اور پھر حفظ کیا،بعدہ مختلف اساتذہ مثل مولانا محمد عابد و مرزا مہر اللہ و ملا حفیظ اللہ ومولوی عبداللہ وملا ظہور اللہ ومولانا شہریار وغیرہ سے فقہ وحدیث وغیرہ علوم منقول و معقول کی تکمیل کی اور حدیث کی سند شیخ یحییٰ بن صالح مکی مدرس مسجد الحرام اور شیخ ابو الحسن سندی مدنی مدرس مدینہ منورہ سے ۱۱۷۰ھ میں حاصل کی اور بہت سی کتابیں تصنیف کیں جن میں سے مسلک الدرر لاکمل رسل اطہر فی الیسر للرسول الانور(یہ بے نقط حروف میں موارد الکلم فیضی کے مقابلہ میں ہے) اور ۱۸پہر میں آپ نے اس کو تصنیف کیا ہے اور اس کی تصنیف کے وقت بجز رشیدی اور روضہ اور مواہب اسعدی کے اور کوئی کتاب نہ تھی حالانکہ بقول فیضی موارد الکلم کی تصنیف کے وقت سینتیس کتابیں مثل قاموس،کشاف،شرح مواقف،حیوۃ الحیوان وغیرہ کے تھیں،مدار الاسلام فی علم الکلام،شروط الایمان،القول الحق فی بیان ترک الشعر والحلق،درء التعسف عن ساحۃ عصمۃ یوسف،ھدم الطاغوت فی قصۃ ہاروت و ماروت،نور صدقۃ الثقلین فی تمثال النعلین،شرح النفحات البارہ فی جواز القول بالخمسۃ الظاہرہ المسمی بتوضیح السنۃ فی تفضیح البدعہ،ازالۃ الفسادات فی شرح مناقب السادات للشہاب دولت آبادی تبییض الرق فی تبیین الحق فی ردما تساہل فیہ شیخ عبد الحق،جامع الوظائف، لقطۃ الخطب،دیوان مزیل الاحزان،زبدۃ الفرح فی معالجات ضعف الباہ، جامع طب احمدی،ترجمہ فقیر محمدی،ہدیۃ امام للخطباء وغیرہ مشہور ہیں۔وفات آپ کی ۱۱۹۳ھ میں ہوئی اور’’فاضل فرد زماں‘‘ تاریخ وفات ہے۔
( حدائق الحنفیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-siddiq-lahori
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Siddiq Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلوی ـ لقب: قطبُ الدین ـ آپ کا نسب تیس واسطوں سے امیر المؤمنین، خلیفۂ ثانی، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔
آپ افضل علمائے متأخرین اور سید المفسرین سند المحدثین تھے۔
ولادت:
آپ کی ولادت چہار شنبہ کے روز بوقت طلوع آفتاب ۴؍ ماہِ شوال ۱۱۱۴ھ میں ہوئی۔
تعلیم:
پانچویں سال میں مکتب میں بیٹھے اور ساتویں سال میں آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو نماز میں کھڑا کیا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اس سال کے آخر میں قرآن شریف ختم ہوگیا اور کتب فارسیہ پڑھنی شروع کیں، دسویں سال میں شرح ملّا شروع کیا،
نکاح:
چودھویں سال نِکاح ہوا ـ
بیعت:
پندروھیں سال اپنے والد ماجد سے بیعت کی اور طریقت صوفیہ کرام خصوصاً نقشبندیہ میں مشغول ہوئے۔
آپ کے والدِ ماجد نے بہت سامان طعام کا مہیا کیا اور خاص و عام کی دعوت کر کے فاتحہ اجازت درس کی پڑھی پس بحسب رسم اس ولایت کے پندرہویں سال میں جملہ علوم متداولہ اور فنون متعارفہ سے فراغت حاصل ہوئی یعنی علم حدیث سے تمام مشکوٰۃ اور صحیح بخاری کتاب الطہارۃ تک، شمائل نبوی تمام اور علم تفسیر سے کچھ بیضاوی اور مدارک پڑھی اور چند دفعہ تدریس قرآن شریف مع معانی و شان نزول میں مطابق تفاسیر کے والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہی سبب فتح عظیم کا ہوا۔
علم فقہ سے شرح وقایہ و ہدایہ تمام، علم اصول سے حسامی اور کچھ توضیح و تلویح اور علم منطق سے شرح شمسیہ اور کچھ شرح مطالع، علم کلام سے تمام شرح عقائد مع کسی قدر خیالی اور شرح مواقف کے، علم سلوک سے کچھ عوارف اور رسائل نقشبندیہ وغیرہ، علم حقائق سے شرح رباعیات مولوی جامی اور مقدمہ شرح لمعات اور مقدمہ نقد المنصوص، علم خواص اسماء و آیات سے مجموعہ خاصہ اور مأتہ فوائد، علم طب سے موجز، علم حکمت سے شرح ہدایۃ الحکمہ، علم نحو سے کافیہ و شرح ملّا علم معانی سے مطول و مختصر المعانی، علم ہئیت و حساب سے بعض مختصر رسالے پڑھے ـ
ستر ھویں سال آپ کے والد ماجد فوت ہو گئے اور آپ کو اجازت بیعت وارشاد کی دے کر آپ کے حق میں کلمہ یدہ کیدی کا مکرر فرمایا پس آپ بعد وفات والد ماجد کے تقریباً بارہ سال تک کچھ کم و بیش تدریس کتب دینیہ و عقلیہ میں مشغول رہے اور بعد ملاحظہ کتب مذاہب اربعہ اور ان کے اصول فقہ اور ان احادیث کے جوان کے متمسک ہیں آپ کی طرز تصنیف و تدریس فقہائے محدثین کی روش پر قرار پائی، بعد ازاں آپ آخر ۱۱۴۳ھ میں حرمین شریفین کی زیارت کو تشریف لے گئے اور وہاں ایک سال قیام فرما کر شیخ ابو طاہر مدنی وغیرہ مشائخ سے حدیث کی روایت کی اور وہاں کے علماء و فضلاء کی صحبت سے مستفیض ہوئے اور شیخ ابو طاہر مدنی سے جو حاوی جمعی فرق صوفیہ تھے خرقہ جامع پہن کر اور دورا حج ادا کر کے ۱۴ رجب ۱۱۴۵ھ میں وارد دہلی ہوئے۔
تصنیفات:
تصانیف کثرت سے کی جو تمام نافع و مفید اور اپنی جگہ بے نظیر ہے جسن میں حجۃ اللہ الباللغہ، ازالۃ الخفاء عن خلاقۃ الخلفاء، مصفّٰے شرح فارسی مؤطا، مستویٰ شرح عربی مؤطا، فیوض الحرمین، دار الثمین، انتباہ، انسان العین فی مشائخ الحرمین، فوز الکبیر نے اصول التفسیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید، قول الجمیل، خیر الکثیر ہمعات، الطاف القدس، مقالہ وضیہ فی النصیحہ والوصیہ، انصاف فی بیان سبب الاختلاف، سرور المحزون، لمعات، سطعات، المقدمۃ السنیہ فی انتصار الفرقۃ السنیہ، فتح الرحمٰن ترجمہ فارسی قرآن، انفاس العارفین، شفاء الغلوب، فتح الجیر بما لابد من حفظ فی علم التفسیر، قرۃ العینین فی تفصیل الشیخین، بدور البازغۃ، زہراوین، رسائل تفہمات وغیرہ مشہور و معروف ہیں۔
وصال:
وفات آپ کی ۱۱۷۶ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-waliullah-muhaddith-dehlvi
Copyright © Zia-e-Taiba
نام و نسب:
شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلوی ـ لقب: قطبُ الدین ـ آپ کا نسب تیس واسطوں سے امیر المؤمنین، خلیفۂ ثانی، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔
آپ افضل علمائے متأخرین اور سید المفسرین سند المحدثین تھے۔
ولادت:
آپ کی ولادت چہار شنبہ کے روز بوقت طلوع آفتاب ۴؍ ماہِ شوال ۱۱۱۴ھ میں ہوئی۔
تعلیم:
پانچویں سال میں مکتب میں بیٹھے اور ساتویں سال میں آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو نماز میں کھڑا کیا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اس سال کے آخر میں قرآن شریف ختم ہوگیا اور کتب فارسیہ پڑھنی شروع کیں، دسویں سال میں شرح ملّا شروع کیا،
نکاح:
چودھویں سال نِکاح ہوا ـ
بیعت:
پندروھیں سال اپنے والد ماجد سے بیعت کی اور طریقت صوفیہ کرام خصوصاً نقشبندیہ میں مشغول ہوئے۔
آپ کے والدِ ماجد نے بہت سامان طعام کا مہیا کیا اور خاص و عام کی دعوت کر کے فاتحہ اجازت درس کی پڑھی پس بحسب رسم اس ولایت کے پندرہویں سال میں جملہ علوم متداولہ اور فنون متعارفہ سے فراغت حاصل ہوئی یعنی علم حدیث سے تمام مشکوٰۃ اور صحیح بخاری کتاب الطہارۃ تک، شمائل نبوی تمام اور علم تفسیر سے کچھ بیضاوی اور مدارک پڑھی اور چند دفعہ تدریس قرآن شریف مع معانی و شان نزول میں مطابق تفاسیر کے والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہی سبب فتح عظیم کا ہوا۔
علم فقہ سے شرح وقایہ و ہدایہ تمام، علم اصول سے حسامی اور کچھ توضیح و تلویح اور علم منطق سے شرح شمسیہ اور کچھ شرح مطالع، علم کلام سے تمام شرح عقائد مع کسی قدر خیالی اور شرح مواقف کے، علم سلوک سے کچھ عوارف اور رسائل نقشبندیہ وغیرہ، علم حقائق سے شرح رباعیات مولوی جامی اور مقدمہ شرح لمعات اور مقدمہ نقد المنصوص، علم خواص اسماء و آیات سے مجموعہ خاصہ اور مأتہ فوائد، علم طب سے موجز، علم حکمت سے شرح ہدایۃ الحکمہ، علم نحو سے کافیہ و شرح ملّا علم معانی سے مطول و مختصر المعانی، علم ہئیت و حساب سے بعض مختصر رسالے پڑھے ـ
ستر ھویں سال آپ کے والد ماجد فوت ہو گئے اور آپ کو اجازت بیعت وارشاد کی دے کر آپ کے حق میں کلمہ یدہ کیدی کا مکرر فرمایا پس آپ بعد وفات والد ماجد کے تقریباً بارہ سال تک کچھ کم و بیش تدریس کتب دینیہ و عقلیہ میں مشغول رہے اور بعد ملاحظہ کتب مذاہب اربعہ اور ان کے اصول فقہ اور ان احادیث کے جوان کے متمسک ہیں آپ کی طرز تصنیف و تدریس فقہائے محدثین کی روش پر قرار پائی، بعد ازاں آپ آخر ۱۱۴۳ھ میں حرمین شریفین کی زیارت کو تشریف لے گئے اور وہاں ایک سال قیام فرما کر شیخ ابو طاہر مدنی وغیرہ مشائخ سے حدیث کی روایت کی اور وہاں کے علماء و فضلاء کی صحبت سے مستفیض ہوئے اور شیخ ابو طاہر مدنی سے جو حاوی جمعی فرق صوفیہ تھے خرقہ جامع پہن کر اور دورا حج ادا کر کے ۱۴ رجب ۱۱۴۵ھ میں وارد دہلی ہوئے۔
تصنیفات:
تصانیف کثرت سے کی جو تمام نافع و مفید اور اپنی جگہ بے نظیر ہے جسن میں حجۃ اللہ الباللغہ، ازالۃ الخفاء عن خلاقۃ الخلفاء، مصفّٰے شرح فارسی مؤطا، مستویٰ شرح عربی مؤطا، فیوض الحرمین، دار الثمین، انتباہ، انسان العین فی مشائخ الحرمین، فوز الکبیر نے اصول التفسیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید، قول الجمیل، خیر الکثیر ہمعات، الطاف القدس، مقالہ وضیہ فی النصیحہ والوصیہ، انصاف فی بیان سبب الاختلاف، سرور المحزون، لمعات، سطعات، المقدمۃ السنیہ فی انتصار الفرقۃ السنیہ، فتح الرحمٰن ترجمہ فارسی قرآن، انفاس العارفین، شفاء الغلوب، فتح الجیر بما لابد من حفظ فی علم التفسیر، قرۃ العینین فی تفصیل الشیخین، بدور البازغۃ، زہراوین، رسائل تفہمات وغیرہ مشہور و معروف ہیں۔
وصال:
وفات آپ کی ۱۱۷۶ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-waliullah-muhaddith-dehlvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-01-1445 ᴴ | 16-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-01-1445 ᴴ | 17-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-01-1445 ᴴ | 17-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-01-1445 ᴴ | 17-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1