🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ہ پانی لا رہے ہیں اور کنویں میں گراتے جاتے ہیں۔ سچ ہے کہ

گفتۂِ اُو گفتہِ اللہ بود



گرچہ ز حلقومِ عبداللہ بُود

’’اُس کا کہا ہُوا، اللہ ہی کا کہا ہُوا ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کے بندے کے حلق سے ادا ہوتا ہے‘‘ (رُومی)

۵۔ ایک دفعہ حضرت بابا جی رحمۃ اللہ علیہ موضع نازنگ ضِلع سیالکوٹ (غالباً نازنگ منڈی حال ضلع شیخو پورہ) کی مسجد میں قیام فرماتے تھے۔ وہاں بڑ کا ایک بہت بڑا درخت تھا جو نمازِ مغرب کے بعد ہلنے لگا۔ آپ نے لوگوں سے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ یہ ہر روز اسی وقت اور اسی طرح ہلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ یہاں نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے، آپ اُسی وقت مراقب ہوگئے اور تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھا کر فرمایا: ’’وَت نہ ہلسی‘‘ یعنی اب یہ کبھی نہیں ہلے گا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ حضور! اس میں کیا راز ہے؟ فرمایا کہ اس درخت کے دامن میں ایک جن کا ڈیرہ تھا۔ وہ شام کو پرندوں کو اڑانے کے لیے درخت کو ہلاتا تھا۔ اب میں نے اُس کو کہہ دیا ہے کہ اس حرکت سے باز آجاؤ اور پرندوں، جانوروں اور نمازیوں کو پریشان نہ کرو۔ وہ چلا گیا ہے۔ اس لیے آئندہ یہ درخت نہ ہلے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہُوا۔

تو ہم گردن ازجکم داور نہ پیچ



کہ گردن نہ پیچد ز حکم تو ہیچ

’’تُو اللہ تعالیٰ کے حکم سے گردن نہ پھیرتا کہ کوئی بھی تیرے حکم سے گردن نہ پھیرے‘‘۔

۶۔ ایک مرتبہ آپ موضع بن علاقہ پنڈی گھیپ کی ایک مسجد میں تشریف فرما تھے۔ وہاں عقیدت مندوں کے جم غفیر کی وجہ سے بہت اژو حام تھا جو گرد و نواح سے زیارت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ بڑی پُر لطف اور پُر کیف مجلس ہو رہی تھی کہ آپ اچانک اُٹھ کھڑے ہُوئے اور فرمایا کہ سب دوست فوراً باہر نکل جاؤ۔ لوگ پریشان و حیران ہوگئے اور فوراً باہر نکل گئے۔ جب تک سارا سامان اور دوست باہر نہ نکل آئے آپ مسجد کے اندر ہی ٹھہرے رہے۔ جو نہی آپ نے اپنا قدم باہر رکھا مسجد کی چھت گر گئی۔

۷۔ ایک دفعہ حسن دین نامی ایک صوبیدار نے عرض کیا کہ میری عمر حدِّ شباب سے تجاوز کر گئی ہے اور اب تک میرے گھر میں اولاد نہیں ہوئی۔ آپ دُعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس آخری وقت میں ہی اولادِ نرینہ عطا فرمادے۔ آپ نے ایک تعویذ عنایت فرمایا اور ارشاد کیا کہ ہمارا مالک و خالق تم کو لڑکا عطا کرے گا، اُس کا نام عبداللطیف رکھنا۔ چنانچہ دوسرے سال جب آپ دوبارہ تشریف لائے تو اُس صوبیدار نے بچّے کو آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضور! یہی وہ بچّہ ہے جو آپ کی دعا سے خدا تعالیٰ نے عنایت فرمایا ہے۔

۸۔ ایک دفعہ آپ موضع ڈیریا نوالہ ضلعِ سیال کوٹ کی مسجد پٹھاناں میں جلوہ افروز تھے کہ ایک یار ولی داد خاں نے حاضر ہوکر عرض کی، حضور! میرے ہاں چھ بیٹیاں ہیں مگر لڑکا ایک بھی نہیں ہے۔ آپ نے قند سیاہ (گڑ) پڑھ کر دیا اور فرمایا کہ اپنی بیوی کو کھلا دو اور دعا فرما کر کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں لڑکا عطا فرمائے گا، اُس کا نام محمد شریف رکھنا۔ چنانچہ جب آپ اگلے سال تشریف لائے تو ولی داد خاں نے بچّہ حاضر کر کے عرض کی کہ یہ وہی بچّہ ہے جس کا نام آپ نے محمد شریف رکھا تھا۔

۹۔ امیرِ ملّت حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ محدّث علی پوری قدس سرہ نے اپنے گاؤں علی پور سیّداں شریف میں ایک کنواں کھدوایا تو اس سے پانی نہ نکلا، لوگوں کو بڑی پریشانی ہوئی۔ انہی ایّام میں حضرت بابا جی تشریف لائے تو لوگوں نے پانی کی شکایت کی۔آپ نے ارشاد کیا کہ اب کنواں کھداؤ، اللہ تعالیٰ پانی عطا فرمائے گا۔ چنانچہ جب کنواں کھدوایا گیا تو بفضلِ خدا اس قدر پانی آیا کہ کبھی خشک نہ ہوا۔ حالانکہ اس کے اردگرد کے کنویں خشک پڑے تھے۔

آپ کے پانچ صاحبزادے تھے۔ حضرت خواجہ گل نبی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ محمد نبی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ احمد نبی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ سعید شاہ اور حضرت خواجہ قادر شاہ رحمۃ اللہ علیہ۔ سب صاحبزادگان کامل و اکمل تھے۔

آپ کے خلفاء کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے، بطور اختصار صرف پنجاب کے چند خلفاء کرام کے اسمائے گرامی درج ہیں۔ جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اِس آفتابِ معرفت سے کیسے کیسے با کمال لوگوں نے روشنی حاصل کر کے ایک عالم کو منوّر کیا۔

۱۔ سنوسئیِ ہند امیر ملّت حضرت حضرت پیر سیّد حافظ جماعت علی شاہ محدّث علی پوری قدس سرہ

یہ آپ کے بڑے محبوب مرید اور خلیفہ تھے۔ ایک دفعہ آپ کے دیگر خدّام میں سے ایک نے شکایت کی کہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں اور حتی الامکان ریاضت و مجاہدہ بھی کرتے ہیں مگر جس قدر آپ کی نظرِ کرم حضرت حافظ جماعت علی شاہ صاحب پر ہے ویسی اوروں پر نہیں۔ آپ نے صرف ایک ہفتہ میں ہی اُنہیں صاحب ارشاد بنا دیا ہے۔ اس پر حضرت بابا جی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ فقیر کے پاس خدا کا دیا ہُوا سب کچھ ہے مگر ہر ایک کی قسمت اور مقدّر جُدا جُدا ہے۔

اک باپ کے دوبیٹے قسمت جُدا جُدا ہے
اک تھان کے دو ٹکڑے قسمت جُدا جُدا ہے
اک سیپ کے دو موتی قسمت جُدا جُدا ہے



اک تخت کا ہے وارث اک خاک چھانتا ہے
اک نازنین کے سر پر اک لاش پر پڑا ہے
اک پس گیا کَھرل میں ایک تاج میں جڑا ہے





سنو! حافظ جماعت علی شاہ صاحب کے پاس چراغ بھی تھا، تیل بھی تھا، بتی بھی تھی اور دیا سلائی بھی تھی۔ میں نے تو صرف سلگانے کی محنت کی ہے۔ خدا تعالیٰ نے روشن چراغ کردیا۔

یہ مرتبہ بلند مِلا جس کو مل گیا



ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں

۲۔ حضرت حافظ عبدالکریم رحمۃ اللہ علیہ صاحب راولپنڈی (عید گاہ شریف)۔

۳۔ حضرت خلیفہ محمد خان عالم رحمۃ اللہ علیہ باؤلی شریف ضلع گجرات۔

۴۔ حضرت خلیفہ صاحبزادہ غلام محی الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ باؤلی شریف ضِلع گجرات۔

۵۔ حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ ثانی علی پوری رحمۃ اللہ علیہ۔

۶۔ حضرت مولوی غلام نبی قریشی رحمۃ اللہ علیہ چک قریشاں ضِلع سیال کوٹ۔

۷۔ حضرت مولوی محمد حسن گجراتی رحمۃ اللہ علیہ۔

۸۔ حضرت مولانا غلام محمد بگوی رحمۃ اللہ علیہ امام شاہی مسجد لاہور۔

۹۔ حضرت صاحبزادہ نواب الدّین علی رحمۃ اللہ علیہ ساکن بشندور۔

۱۰۔ حضرت حافظ فتح دین رحمۃ اللہ علیہ، رنگپورہ سیال کوٹ۔

۱۱۔ راجہ شیر باز خاں رحمۃ اللہ علیہ موضع بڑکی تحصیل گوجر خاں ضِلع راولپنڈی۔

۱۲۔ حضرت مولانا مست علی رحمۃ اللہ علیہ موضع متر انوالی ضِلع سیال کوٹ۔

۱۳۔ حضرت غلام قادر شاہ رحمۃ اللہ علیہ کوٹلی سیّداں۔

۱۴۔ حضرت حافظ جی رحمۃ اللہ علیہ، جوڑی والا۔

۱۵۔ حضرت سیّد چنن شاہ رحمۃ اللہ علیہ آلو مہار شریف ضِلع سیال کوٹ۔

آپ کی وفات حسرت آیات ۲۹؍ محرم الحرام ۱۳۱۵ھ/۳۰؍جون ۱۸۹۷ء کو بعمر شریف ایک سو دو سال چودہ شریف ضِلع اٹک میں ہوئی۔ مزار مقدس آج بھی مرجعِ خاص و عام ہے۔ مادۂ تاریخ وفات ’’غفرلہ‘‘ ۱۳۱۵ھ ہے۔

وصال فرمانے سے قبل احباب کو جو وصیّت فرمائی، وہ یہ تھی۔

۱۔ جس جگہ جاؤ تو یاروں میں حمد و شکر نہ چھوڑ جاؤ، یعنی یاروں کو بوجہ تکلیف یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ خدا کا شکر ہے کہ پیر صاحب چلے گئے۔

۲۔ یاروں کو آپس میں حسد و کینہ نہیں ہونا چاہیے جس کو خدا خیر و برکت دے، اُس سے مستفید و مستفیض ہونا چاہیے۔

۳۔ سفر میں ذکر کو ہر حال میں مقدّم رکھنا چاہیے۔ اگر کسی جگہ ذکر میں کچھ قصور واقع ہو تو اُس جگہ نہ رہیں کیونکہ وہاں کے لوگ فیض سے محروم رہیں گے۔

۴۔ یاروں کے ساتھ سیر کو نہ جانا چاہیے، جب تک وہ خود خواہشمند نہ ہوں۔

۵۔ پیر کو چاہیے کہ انتظار کے بغیر ہی چلا جائے تاکہ لوگوں کو کسی طرح کی بدگمانی یا بدخیالی پیدا نہ ہو۔

ارشاداتِ قُدسیہ:

۱۔ اپنا باطن درست کرو کیونکہ بعد ازمرگ اعمالِ باطن ہی سے نجات مل سکے گی۔ مگر ظاہری احکامِ شرعیہ کا لحاظ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ ظاہری درستگی کے بغیر باطنی اعمال کی درستگی نا ممکن ہے۔

۲۔ خدا سے خدا کے لیے پیار کرو اور یاد کرو۔ کیونکہ مقصد کے لیے یاد کرنا صرف مقصد کی یاد ہے خدا کی یاد بلا اغراضِ نفسانی ہونی چاہیے۔

۳۔ خصوصی احباب سے اکثر یہ حدیث قدسی بیان فرمایا کرتے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو فرماتا ہے کہ جو شخص میرے حکم پر راضی نہیں اور میری بلا پر صابر نہیں اور میری نعمتوں پر شاکر نہیں اور میرے عطیہ پر قانع نہیں تو وہ شخص میرے سوا کسی اور کورب بنالے‘‘۔

۴۔ اور یہ حدیث شریف بھی بیان فرماتے کہ ’’بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے‘‘۔

( تاریخِ مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-faqeer-muhammad-chorah-sharif
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قیومِ ثالث حجۃ اللہ حضرت خواجہ محمد نقشبند قدس سرہ

سرہند شریف ۱۰۳۴ھ/۱۶۲۵ء۔۔۔۱۱۱۴ھ/۱۷۰۲ء سرہند شریف

قطعۂ تاریخِ وفات:

جن کو بخشا ہے خدا نے حجۃ اللہ کا خطاب
کہیے صابر حضرتِ خواجہ کا تاریخِ وصال

تھے وہی قُطبِ زماں خواجہ محمد نقشبند
’’رہبر پاکِ جہاں خواجہ محمد نقشبند‘‘
۱۷۰۲ء

( صابر براری، کراچی )

حضرت حجۃ اللہ خواجہ محمد نقشبند قدس سرہ

آپ عروۃ الوثقیٰ قیومِ ثانی حضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی ولادت با سعادت ۷؍ رمضان المبارک ۱۰۳۴ھ/۱۶۲۵ء بروز جمعۃ المبارک ہوئی۔ امام ربّانی حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ نے مرض الموت میں حضرت قیوم الثانی رحمۃ اللہ علیہ سے ارشاد فرمایا تھا کہ اس سال میرےوصال کے بعد تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو قُرب الٰہی کے کمالات میں میرے برابر ہوگا۔

آپ نے علم ظاہری و باطنی اپنے والد ماجد قدس سرہ سے حاصل کیا۔ بوجہ علو استعداد تھوڑے عرصہ میں آپ پر وُہ اسرار منکشف ہُوئے جن کی نسبت حضرت عروہ الوثقیٰ قدس سرہ فرماتے تھے کہ یہ حیطہ درکِ عقل و تصویرِ خیال سے باہر ہیں۔ حضرت عروۃ الوثقیٰ نے اپنی قیومیّت کے اکتالیسویں سال ۱۰۷۴ھ میں آپ کے قُطب الاقطابی اور قیومیّت کی بشارت دی۔ چنانچہ آپ خود بیان فرماتے ہیں کہ میں نے جب بعض علوم و معارف اور اسرار حضرت قیّوم ثانی قدس سرہ کی خدمت میں عرض کیے تو فرمایا کہ یہ علوم و معارف جو تم بیان کرتے ہو مقطعاتِ قرآنی کے اسرار ہیں جو حضرت مجدّد الف قدس سرہ نے مجھ سے خلوت میں فرمائے تھے۔ بعد ازاں دوسرے روز مجھے خلوت میں بلا کر منصبِ قیومیّت کی بشارت دی اور فرمایا کہ جو تاج مدینہ منوّرہ سے رُخصت ہوتے وقت جنابِ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عنایت فرمایا تھا اب وہی تاج تمہیں عنایت ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ وہ تاجِ طینت، اصالت، قیومیّت اور محبوبیّتِ ذاتی پر مشتمل تھا۔ فرمایا بعینہٖ وُہی تاج ہے جو مجھے عنایت ہوا تھا۔ اب وہی تمہیں دیا گیا ہے۔

آپ نے ۱۱؍ ربیع الاوّل ۱۰۷۹ھ/۱۶۶۸ء کو مسندِ ارشاد پر جلوس فرمایا۔ آپ کی کثرتِ ارشاد کا یہ عالم تھا کہ آپ کی قیومیّت کے پچیسویں سال ہر روز چار پانچ سو آدمی بلکہ اس سے بھی زیادہ حاضر خدمت ہوکر مرید ہوتے۔ بڑے بڑے مشائخ اور علماء اپنی مشیخیت اور درس و تدریس کو چھوڑ کر آپ کے مرید ہوئے۔ رُوئے زمین کے مختلف حصّوں سے لوگ ٹڈی دل کی طرح آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ توران، ترکستان، بدخشاں کے بادشاہ اپنی اپنی حدود تک استقبال کے لیے آئے اور اپنے اپنے ایلچی مع ہدایا آپ کی خدمت میں بھیجے۔ غرض اس قدر لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ کابل میں گنجائش نہ رہی۔ مجلسِ اقدس میں آپ کا اس قدر دبدبہ تھا کہ بادشاہ اور اُمراء کو بھی بات کرنے کی جرأت نہ تھی۔

شیخ عبدالواہاب مکّی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آدھی رات کو مسجدالحرام میں گیا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ جمع تھے جن میں شیخ فخرالدین عراقی خطیب رحمۃ اللہ علیہ اور ملک العلماء عرب مولانا شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ بھی موجود تھے اور کسی کے انتظار میں آسمان کی طرف اور بامِ کعبہ پر ٹکٹکی لگائے بیٹھے تھے۔ میں بھی وہاں بیٹھ گیا۔ درین اثنا تمام آسمان آفتاب کی طرح روشن ہوگیا اور نُورانی لوگ آسمان سے کعبہ کی چھت پر اُتر رہے ہیں۔ اسی اثنا میں ایک مرد بزرگ تخت پر بیٹھے ہوئے نمودار ہوئے اور اُن سے ایک ایسا نُور چمک رہا تھا کہ مشرق سے مغرب تک تمام روئے زمین جگمگ جگمگ کر رہی تھی۔ اسی دوران کسی نے مُنادی کردی کہ اس تخت مبارک پر امام ربّانی مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے پوتے اور جانشین حضرت خواجہ محمد نقشبند تشریف فرما ہیں۔ خدا تعالیٰ نے انہیں اپنی ذاتی محبوبیّت عطا فرمائی ہے۔ آسمانی فرشتو! زمین کے باسیو! تم سب اِن کی اطاعت کرو تاکہ تمہاری بھلائی اور بہتری ہو۔ جو شخص ان کا مرید ہوگا وہ نجات پائے گا اور جو ان کے خلاف ہوگا سخت عذابِ الٰہی میں گرفتار ہوگا۔ اس کے بعد اُس بزرگ نے ہر ایک پر مہربانی فرمائی اور رخصت کیا۔ اور خود معہ ایک جماعت کے مشرق کی طرف روانہ ہوگئے۔ چنانچہ اس بشارت کے بعد یہ تینوں علماء و مشائخ، ہرار ہا آدمیوں کو ساتھ لے کر جن تین سو عالم حافظ اور قاری بھی تھے، آپ کی زیارت کے لیے سرہند شریف حاضر ہوئے اور سعادتِ بیعت سے مشرف ہوئے۔

آپ کو حجۃ اللہ کا خطاب بذریعہ الہام عطا ہوا۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نمازِ تہجد کے بعد بیٹھا ہُوا تھا کہ مجھے الہام ہوا، ’’انت محبوب رب العالمین ورحمۃ اللہ فی العالمین‘‘ دریں اثناء کسی نے ندا کی کہ پروردگار نے خواجہ محمد نقشبند کو جہاں میں اپنی حجّت بنایا ہے۔ اور انہیں اُن کے باپ دادا کی طرح اولیائے اُمّت سے افضل بنایا ہے۔ اے فرشتو! جنّو! انسانو! تم سب اُن کی فرمانبرداری کرو تاکہ قیامت کے دن نجات پا جاؤ۔ بعد ازاں میں نے دیکھا کہ فرشتے اور تمام اولیائے اُمّت کے رُوحیں میرے اردگرد تشریف فرما ہیں اور کہتے ہیں ’’السّلام علیکم یا حُجّت اللہ‘‘ اور می
1
رے سر اور منہ کو چُومتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہےجسے چاہے عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ صاحب فضل عظیم ہے۔

قیومیّت کے نویں سال آپ نے حج بیت اللہ کا ارادہ کیا تو اعلان فرمایا کہ جو شخص چاہے ہمارے ساتھ حج پر چلے اور زادِ راہ کی کچھ فکر نہ کرے چنانچہ آپ کے ساتھ پچیس ہزار آدمی جن میں چار سو بڑے بڑے علماء و مشائخ بھی تھے، سعادتِ حج حاصل کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ جب اورنگ زیب عالمگیر نے آپ کی حج کی روانگی کی خبر سُنی تو دہلی سے تیرہ میل باہر آکر آپ کا شاہانہ استقبال کیا اور تجدید بیعت کی۔ پھر آپ دہلی سے ہوتے ہوئے حجاز مقدس کو روانہ ہوئے۔ دہلی میں آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ اس قدر زر و جواہر، نقد اور جنس اکٹھا ہوا، کہ اٹھانا مشکل تھا کہتے ہیں کہ ساحلِ سمندر پر پہنچنے تک آپ کے ہمرایوں کی تعداد ستائیس ہزار ہوچکی تھی۔ دورانِ سفر آپ کو الہام ہوا کہ تمہارے مریدوں کے علاوہ سات ہزار آدمی جن پر دوزخ کی آگ واجب ہوگی، تمہاری سفارش سے بہشت میں داخل ہوں گے۔

آپ کے اس قافلہ میں چند رافضی بھی مبطور تقیہ شامل ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام آپ کو مطلع کردیا۔ اس پر آپ نے ارشاد کیا کہ کئی لوگ ہمارے قافلہ میں ایسے ہیں کہ اُن کا ظاہر صاف مگر باطن نا پاک ہے۔ دریں اثناء باد مخالف کے جہاز کو دھکیل کر یمن کی طرف ایک کنارے پر لاکھڑا کیا۔ اس جگہ خوارج کا بہت زور تھا۔ روافض نے خوارج کے ساتھ ملکر حسد و عداوت کی آگ کو بھڑکایا حتّٰی کہ قتال وجدال تک نوبت پہنچ گئی۔ جب صورتِ حال نہایت تکلیف دہ ہوگئی تو آپ نے دعا فرمائی جو فی الفور قبول ہوگئی۔ چنانچہ بارہ علماء کو خواب میں دکھایا گیا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلوہ افروز ہیں اور سب اقوامِ خوارج و روافض کو طلب کر کے فرما رہے ہیں کہ ’’نہایت افسوس کی بات ہے کہ تم لوگ اہل بیت کے ساتھ اُلفت و محبّت اور خلیفۂ پیغمبر سے عداوت رکھتے ہو۔ چند لوگوں کو حکم دیا کہ ان کو مارو‘‘۔چنانچہ جب خواب سے بیدار ہوئے تو زدوکوب کا اثر جسموں پر موجود تھا۔ پس بعد از قدرے گفتگو وہ رافضی علماء وغیرہ تائب ہوکر مرید ہوگئے۔

ایک روز آپ مسجدالحرام میں بیٹھے تھے۔ جب مراقبہ کیا تو دیکھا کہ شیطان ملعون، ذلیل و خوار ننگے سر اور بے رونق ہوکر بیت اللہ شریف چوروں کی طرح چھُپ چھُپ کر پھرتا ہے جب آپ کی نگاہ اُس پر پڑی تو وہ دیکھتے ہی مارے خوف کے راہِ فرار اختیار کر گیا۔

حدیث شریف میں آیا ہے:

اَلشَّیطَانُ یُفِرُّمْنِ ظِلّ عُمرَہ

’’شیطان عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سایہ سے بھاگتا ہے‘‘۔

چونکہ آپ بھی اولادِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، اس لیے شیطان آپ سے بھاگا۔

جب آپ مدینہ منوّرہ گئے تو روضۂ مطہرہ کے سامنے کھڑے ہوئے اور دیر تک دیوانہ وار روتے رہے۔ بعد ازاں حجرہ شریف کے قریب بیٹھ کر مراقبہ کیا اور دیر تک یہ کلمہ فرماتے رہے۔

اَفْدَیْتَ نَفْسِیْ وَرُوْحِیْ وَاَوْلَادِیْ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ۔

’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرا نفس، میری روح اور میری اولاد آپ پر قربان ہو‘‘۔

حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال لُطف و کرم سے آپ کو عنایتِ خاصہ سے ممتاز فرماکر اپنا نائبِ اتم بنایا اور فرمایا:

اَنْتَ فَخْرُ اُمَّتِیْ

’’تم میری اُمّت کے لیے فخر ہو‘‘۔

کرامات

۱۔ مولانا محمد عابد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شروع شروع میں میرے دل میں خیال آیا کہ مُرشد کو اس قدر کشف ضرور ہونا چاہیے کہ سالک کے بعض خطرات سے واقف ہوکر اُن کا دفعیہ کر سکے۔ آپ نے اُسی وقت مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ محمد عابد سُنو! ’’اولیاء اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔ انہیں علمِ غیب کا ہونا اور اُن سے کرامات کا صدور واجب نہیں اور اِن باتوں کے نہ ہونے سے اُن کے کمال میں نقص لازم نہیں آتا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو افضل البشر بعد از انبیاء ہیں، میں اس قدر کرامات نہ تھیں جتنی کہ ایک ولی اللہ میں ہوتی ہیں‘‘۔

۲۔ ایک دفعہ سرہند شریف میں بارش نہ ہوئی۔ والیٔ شہر بہت سے لوگوں کو لےکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بارش کے لیے دُعا کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا کہ پچیس روز تک بارش نہ ہوگی چنانچہ آپ کا فرمان درست ثابت ہوا اور چھبیسویں روز مُوسلا دھار بارش ہوئی۔

عبادات و عادات

آپ کا ہر عمل، ہر فعل اور ہر قدم سُنتِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مطابق تھا۔ رخصت کو اعمال میں بالکل دخل نہ دیتے تھے۔ رات تیسرے حصّے میں بیدار ہوتے اور بارہ رکعت نماز تہجّد ادا فرماتے۔ اس نماز میں سورۃ یٰسین تلاوت فرماتے۔ بعد ازاں مراقبہ کر کے اونگھ لیتے اور نمازِ فجر با جماعت ادا کر کے پھر حلقۂ ذکر و مراقبہ کرتے۔ اس سے فارغ ہوکر چار رکعت نماز اشراق ادا کرتے پھر دوستوں کو توجہ باطنی سے نوازتے۔ دن کا تیسرا حصّہ گزرنے کے بعد نماز الضحیٰ پڑھ کر درونِ خانہ تشریف لے جاتے اور دوپہر کا کھانا بمعہ اہل و عیال تناول فرماتے۔ پھر قیلولہ فرما کر چار رکعت فی الزوال پڑھتے۔ نمازِ ظہر کے بعد قرآن پاک
1
کی تلاوت کرتے اور تفسیر بیان فرماتے۔ نمازِ عصر کے بعد فقہ، حدیث اور مکتوباتِ امام ربّانی کا درس دیا کرتے۔ نماز مغرب کے بعد چھ رکعت نفل اوابین ادا فرماتے۔ پھر وظائف و اوراد کے بعد دوستوں کو توجّہ دیتے۔ بعد نمازِ عشاء گھر میں تشریف لے جاتے، اور تھوڑا سا کھانا کھا کر آرام فرماتے۔ قصّہ کوتاہ آپ کا تمام وقت ذکر و فکر اور یادِ الٰہی میں بسر ہوتا تھا۔ آپ نہایت متواضع اور خلیق اور مرتاض تھے۔بیماروں کی عیادت اور بیمار پُرسی کے لیے ضرور جاتے غرباء اور مساکین کی دلجوئی کرتے اور اعلیٰ و ادانیٰ میں کوئی تفریق نہ کرتے۔

آپ پر مدت سے عوارضات کا غلبہ تھا۔ خاص کر پاؤں مبارک کا درد شدید ہوگیا تھا۔ ایک روز بعد نماز جمعہ ارشاد فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ تمہاری عمر اَسّی سال ہو رہی ہے اور یہ اُمّت کی اوسط عمر ہے۔ اگر اور عمر چاہتے ہو تو دنیا میں رہو ورنہ ہمارے پاس آجاؤ۔ میں نے لقائے پر وردگار اختیار کیا ہے۔ تم سنّتِ نبوی کی پیروی کرتے رہنا اور حضرت مجدّد الف ثانی قدس سرہ کے طریقہ پر پُوری طرح سے پابند رہنا۔

۲۸؍محرم الحرام بروز جمعرات کو آپ پر مرض کا غلبہ شدید تر ہوگیا۔ سانس میں تیزی آگئی مگر بڑے وقار سے وظائف و اوراد پڑھتے رہے۔ رات کو تہجّد کی نماز ادا کر کے دیر تک فاتحہ پڑھتے رہے۔ پھر لیٹ گئے اور شب جمعۃ المبارک ۲۹؍محرام الحرام ۱۱۱۴ھ/۱۷۰۲ء کو پنتیس سال مسندِ قیومیّت و ارشاد پر فائز رہ کر سرہند شریف میں رحلت فرمائی۔ اِنا للہ وانا الیہ راجعون۔

آپ کو اُس مکان میں جو قدیم سے آپ کی ملکیت تھا، حضرت قیوم ثانی خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کے روضۂ مبارک سے شمال کی طرف فتح باغ کے قریب دفن کیا گیا۔ مرقد اقدس پر نہایت عالیشان خوبصورت قُبّہ بنوایا گیا۔ آپ کے مقبرہ میں چار قبریں ہیں۔ ایک آپ کی، دوسری آپ کے فرزند محمد عمر کی، تیسری آپ کی بیٹی کی اور چوتھی آپ کی زوجہ کی۔

آپ نے اپنی قیومیّت کے آخری سال حضرۃ عروہ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم قدس سرہ کے روضہ شریف سے شمال کی طرف ایک عالی شان اور خوبصورت مسجد تعمیر کرائی۔ اس کے تین گنبد اور دو بُرج تھے۔ صحن میں وضو کے لیے ایک حوض بنوایاتھا اور مسجد کے مقابل ایک محل اور چند حجرے سالکوں کو توجّہ دینے اور مراقبہ کے لیے بنوائے تھے جو اعتدادِ زمانہ کی وجہ سے بے نام و نشان ہوگئے ہیں۔

آپ کی اولادِ امجاد چھ لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔ آپ کے فرزند اکبر حضرت ابوالعلی رحمۃ اللہ علیہ ۱۰۶۴ھ میں پیدا ہوئے۔ صاحبِ کشف و کرامات تھے۔ ۱۱۰۷ھ میں وفات پائی اور حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ کے قُبّہ میں دفن ہوئے۔ حضرت ابوالعلی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے قیوم رابع خواجہ محمد زبیر قدس سرہ تھے جن کے حالات آگے آرہے ہیں۔

(تاریخِ مشائخ نقشبند)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hujjatullah-khawaja-muhammad-naqshband
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ محمد صدیق لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

محمد صدیق بن محمد حنیف بن محمد لطیف لاہوری: عالم فاضل،فقیہ محدث، ادیبِ اریب منشی تھے۔لاہور میں یوم دو شنبہ ۲۹محرم الحرام ۱۱۳۸ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد کابل سےآکر مسجد وزیر خاں کے امام ہوئے اور آپ کی والدہ ماجدہ اہل تاشنکد سے تھیں۔جب آپ کی عمر پانچ سال کی ہوئی توآپ کو مولانا محمد عابد صاحب تعلیقات تفسیر بیضاوی کی خدمت میں واسطے بسم اللہ شروع کرانے کے لے گئے،بعد ازاں آپ نے ملّا اسلام سے کلام اللہ پڑھا اور پھر حفظ کیا،بعدہ مختلف اساتذہ مثل مولانا محمد عابد و مرزا مہر اللہ و ملا حفیظ اللہ ومولوی عبداللہ وملا ظہور اللہ ومولانا شہریار وغیرہ سے فقہ وحدیث وغیرہ علوم منقول و معقول کی تکمیل کی اور حدیث کی سند شیخ یحییٰ بن صالح مکی مدرس مسجد الحرام اور شیخ ابو الحسن سندی مدنی مدرس مدینہ منورہ سے ۱۱۷۰ھ میں حاصل کی اور بہت سی کتابیں تصنیف کیں جن میں سے مسلک الدرر لاکمل رسل اطہر فی الیسر للرسول الانور(یہ بے نقط حروف میں موارد الکلم فیضی کے مقابلہ میں ہے) اور ۱۸پہر میں آپ نے اس کو تصنیف کیا ہے اور اس کی تصنیف کے وقت بجز رشیدی اور روضہ اور مواہب اسعدی کے اور کوئی کتاب نہ تھی حالانکہ بقول فیضی موارد الکلم کی تصنیف کے وقت سینتیس کتابیں مثل قاموس،کشاف،شرح مواقف،حیوۃ الحیوان وغیرہ کے تھیں،مدار الاسلام فی علم الکلام،شروط الایمان،القول الحق فی بیان ترک الشعر والحلق،درء التعسف عن ساحۃ عصمۃ یوسف،ھدم الطاغوت فی قصۃ ہاروت و ماروت،نور صدقۃ الثقلین فی تمثال النعلین،شرح النفحات البارہ فی جواز القول بالخمسۃ الظاہرہ المسمی بتوضیح السنۃ فی تفضیح البدعہ،ازالۃ الفسادات فی شرح مناقب السادات للشہاب دولت آبادی تبییض الرق فی تبیین الحق فی ردما تساہل فیہ شیخ عبد الحق،جامع الوظائف، لقطۃ الخطب،دیوان مزیل الاحزان،زبدۃ الفرح فی معالجات ضعف الباہ، جامع طب احمدی،ترجمہ فقیر محمدی،ہدیۃ امام للخطباء وغیرہ مشہور ہیں۔وفات آپ کی ۱۱۹۳ھ میں ہوئی اور’’فاضل فرد زماں‘‘ تاریخ وفات ہے۔

( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-siddiq-lahori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلوی ـ لقب: قطبُ الدین ـ آپ کا نسب تیس واسطوں سے امیر المؤمنین، خلیفۂ ثانی، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔

آپ افضل علمائے متأخرین اور سید المفسرین سند المحدثین تھے۔

ولادت:
آپ کی ولادت چہار شنبہ کے روز بوقت طلوع آفتاب ۴؍ ماہِ شوال ۱۱۱۴ھ میں ہوئی۔

تعلیم:
پانچویں سال میں مکتب میں بیٹھے اور ساتویں سال میں آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو نماز میں کھڑا کیا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اس سال کے آخر میں قرآن شریف ختم ہوگیا اور کتب فارسیہ پڑھنی شروع کیں، دسویں سال میں شرح ملّا شروع کیا،

نکاح:
چودھویں سال نِکاح ہوا ـ

بیعت:
پندروھیں سال اپنے والد ماجد سے بیعت کی اور طریقت صوفیہ کرام خصوصاً نقشبندیہ میں مشغول ہوئے۔

آپ کے والدِ ماجد نے بہت سامان طعام کا مہیا کیا اور خاص و عام کی دعوت کر کے فاتحہ اجازت درس کی پڑھی پس بحسب رسم اس ولایت کے پندرہویں سال میں جملہ علوم متداولہ اور فنون متعارفہ سے فراغت حاصل ہوئی یعنی علم حدیث سے تمام مشکوٰۃ اور صحیح بخاری کتاب الطہارۃ تک، شمائل نبوی تمام اور علم تفسیر سے کچھ بیضاوی اور مدارک پڑھی اور چند دفعہ تدریس قرآن شریف مع معانی و شان نزول میں مطابق تفاسیر کے والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہی سبب فتح عظیم کا ہوا۔

علم فقہ سے شرح وقایہ و ہدایہ تمام، علم اصول سے حسامی اور کچھ توضیح و تلویح اور علم منطق سے شرح شمسیہ اور کچھ شرح مطالع، علم کلام سے تمام شرح عقائد مع کسی قدر خیالی اور شرح مواقف کے، علم سلوک سے کچھ عوارف اور رسائل نقشبندیہ وغیرہ، علم حقائق سے شرح رباعیات مولوی جامی اور مقدمہ شرح لمعات اور مقدمہ نقد المنصوص، علم خواص اسماء و آیات سے مجموعہ خاصہ اور مأتہ فوائد، علم طب سے موجز، علم حکمت سے شرح ہدایۃ الحکمہ، علم نحو سے کافیہ و شرح ملّا علم معانی سے مطول و مختصر المعانی، علم ہئیت و حساب سے بعض مختصر رسالے پڑھے ـ

ستر ھویں سال آپ کے والد ماجد فوت ہو گئے اور آپ کو اجازت بیعت وارشاد کی دے کر آپ کے حق میں کلمہ یدہ کیدی کا مکرر فرمایا پس آپ بعد وفات والد ماجد کے تقریباً بارہ سال تک کچھ کم و بیش تدریس کتب دینیہ و عقلیہ میں مشغول رہے اور بعد ملاحظہ کتب مذاہب اربعہ اور ان کے اصول فقہ اور ان احادیث کے جوان کے متمسک ہیں آپ کی طرز تصنیف و تدریس فقہائے محدثین کی روش پر قرار پائی، بعد ازاں آپ آخر ۱۱۴۳؁ھ میں حرمین شریفین کی زیارت کو تشریف لے گئے اور وہاں ایک سال قیام فرما کر شیخ ابو طاہر مدنی وغیرہ مشائخ سے حدیث کی روایت کی اور وہاں کے علماء و فضلاء کی صحبت سے مستفیض ہوئے اور شیخ ابو طاہر مدنی سے جو حاوی جمعی فرق صوفیہ تھے خرقہ جامع پہن کر اور دورا حج ادا کر کے ۱۴ رجب ۱۱۴۵ھ میں وارد دہلی ہوئے۔

تصنیفات:
تصانیف کثرت سے کی جو تمام نافع و مفید اور اپنی جگہ بے نظیر ہے جسن میں حجۃ اللہ الباللغہ، ازالۃ الخفاء عن خلاقۃ الخلفاء، مصفّٰے شرح فارسی مؤطا، مستویٰ شرح عربی مؤطا، فیوض الحرمین، دار الثمین، انتباہ، انسان العین فی مشائخ الحرمین، فوز الکبیر نے اصول التفسیر، عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید، قول الجمیل، خیر الکثیر ہمعات، الطاف القدس، مقالہ وضیہ فی النصیحہ والوصیہ، انصاف فی بیان سبب الاختلاف، سرور المحزون، لمعات، سطعات، المقدمۃ السنیہ فی انتصار الفرقۃ السنیہ، فتح الرحمٰن ترجمہ فارسی قرآن، انفاس العارفین، شفاء الغلوب، فتح الجیر بما لابد من حفظ فی علم التفسیر، قرۃ العینین فی تفصیل الشیخین، بدور البازغۃ، زہراوین، رسائل تفہمات وغیرہ مشہور و معروف ہیں۔

وصال:
وفات آپ کی ۱۱۷۶ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-waliullah-muhaddith-dehlvi
Copyright © Zia-e-Taiba
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-01-1445 ᴴ | 16-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-01-1445 ᴴ | 17-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1