🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-01-1445 ᴴ | 16-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-01-1445 ᴴ | 16-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-01-1445 ᴴ | 16-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-01-1445 ᴴ | 16-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میرے عیب میری اصلاح کی نیت سے مجھے ہی بتائیے ـ میری کوئی دوسری برانچ نہیں ـ
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
میرے عیب میری اصلاح کی نیت سے مجھے ہی بتائیے ـ میری کوئی دوسری برانچ نہیں ـ
@Muhammad_Jamaluddin_Khan
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی رحمۃ اللہ علیہ
تیزئ شریف (افغانستان) ۱۲۱۳ھ/۱۷۹۸ء ۔۔۔ ۱۳۱۵ھ/۱۸۹۷ء چُورہ شریف ضِلع اٹک (پنجاب)
قطعۂ تاریخِ وفات
جہاں بھر میں پھیلے ہیں اُن کے مریدیں
منوّر منوّر ہیں عالم میں صؔابر
تھے وہ اعلیٰ رتبہ فقیر مُحَمّد
’’چراغِ مُصَفّا فقیرِ مُحَمّد‘‘
۱۸۹۷ء
(صابر براری، کراچی)
حضرت خواجہ فقیر محمد المعروف بابا جی تیراہی رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ نُور محمد تیراہی چوراہی قدس سرّہ کے دوسرے صاحبزادے تھے۔ آپ کی ولادت ۱۲۱۳ ھ میں جَدِّ امجد حضرت خوجہ فیض اللہ تیراہی (ف۸؍ ربیع الاوّل ۱۲۴۵ھ) کی زندگی میں تیزئی شریف نزد تیراہ(افغانستان) میں ہُوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے ملتا ہے۔ جس کی تفصیل آپ کے جدّ امجد میں حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی قدس سرّہ کے حالات میں دی جا چکی ہے۔
آپ پیدائش ولی اللہ تھے۔ جس دن آپ کی ولادت ہوئی، اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نہ پیتے تھے۔ یہ معاملہ سُن کر جدّ امجد خواجہ محمد فیض اللہ تشریف لائے تو آپ کے روئے انور کو دیکھ کر فرمایا کہ: ’’یہ تو ابھی سے اپنا حصّہ طلب کرتے ہیں‘‘۔ چنانچہ انہوں نے اپنی زبان مبارک آپ کے منہ میں ڈال دی جِسے آپ دیر تک چوستے رہے اور پھر والدہ ماجدہ کا دودھ پینا بھی شروع کردیا۔ اس طرح سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ کی مبارک و اعظم نسبت رو زاوّل سے ہی آپکو عنائیت فرمادی گئی۔ جدّامجد نے ارشاد فرمایا کہ یہ لڑکا بڑا نیک بخت ہوگا اور اس کے وجود سے خلق خدا کو بہت فیض پہنچے گا۔ آپ کا چہرہ مبارک اُسی روز سے انوارِ الٰہی کی تابانیوں سے آفتاب و ماہتاب کی طرح چمکتا تھا۔
آپ نے علومِ ظاہری و باطنی کی تحصیل اپنے والد ماجد حضرت خواجہ نور محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ہی کی تھی۔ آیامِ صغر سنّی سے ہی ذکر و فکر و مراقبہ و اتباعِ شریعت میں مصروف و مشغول رہتے تھے اور تمام اُمور میں والد ماجد کے نقش قدم پر چلتے تھے۔
بالائے سرش زہو شمندی
می تافت ستارۂ بلندی
’’بچپن سے ہی آپ کے سر اقدس پر بلندی کا ستارہ چمکتا تھا‘‘۔
قطع ماسویٰ اللہ کا طریق آپ کو پہلے ہی مرغوب تھا۔ والد ماجد کے ساتھ ابتدا ہی سے صحبت و رابطہ حاصل تھا جس کی وجہ سے آپ کھانے پینے اُٹھنے بیٹھنے، طریق کلام اور اخلاق اعمال وغیرہ میں بالکل متحد الاوصاف ہوگئے تھے۔ غریبوں، مسکینوں اور مفلسوں کی مجلس و صحبت میں زیادہ خوش رہتے تھے۔ پابندئی شریعت میں بے مثال تھے۔ آپ کی علمیّت کا یہ حال تھا کہ قرآن مجید کے ایک ایک حرف کے جدا جدا اسرار ور موز بیان فرماتے تھے جسے سُن کر بڑے بڑے علماء انگشت بد نداں رہ جاتے تھے۔ اپنے وقت کے ابدال شمار کیے جاتے تھے۔ آپ کو وہ کمالات حاصل تھے جو دوسروں کو عشیر بھی نصیب نہ ہوئے تھے۔
آپ کے انہی ظاہری و باطنی کمالات کے پیشِ نظر آپ کے والد گرامی قدر نے بیس سال کی عمر میں خرقۂ خلافت سے سرفرار فرمایا اور آپ اپنے برادرِ اصغر حضرت خواجہ دین محمد چوراہی(ف ۱۳۲۵ھ) کے ہمراہ پنجاب کے تبلیغی سفر پر روانہ ہوئے تو باؤلی شریف ضِلع گجرات تشریف لے گئے۔ خلیفہ حضرت محمد خان عالم رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند گرامی قدر حضرت خواجہ غلام محی الدین رحمۃ اللہ علیہ و دیگر بہت سے لوگ آپ سے بیعت کی۔ غرض دو ماہ تک پنجاب کے طول و عرض میں دورہ کیا تو ہزاروں لوگ آپ کے دامنِ عقیدت سے وابستہ ہوگئے۔ کشف و کرامات کا ظہور بھی ہوا۔
آپ کا قد مبارک دراز، چہرہ گندم گوں، بینی سُرخ و دراز، ریش مبارک سفید، چشم مبارک موزوں، گیسو مُبارک شانوں تک معلق رہتے، پیشانی کشادہ، انگشت مبارک نرم اور لمبی، سینہ فراخ اور باوجود ضعیف العمری کے بینائی اور سماعت میں فرق نہ تھا۔ رات کو سُرمہ طاق سلائیاں لگاتے۔ بالوں پر حنا(مہندی) لگاتے۔ جب باہر تشریف لے جاتے تو سَر پر لُنگی رکھ لیتے۔ پیرانہ سالی کے باوجود رفتار کافی تیز ہوا کرتی تھی بلکہ بہت سے آدمیوں سے آگے بڑھ جاتے تھے۔
نمازِ تہجّد کے بعد ذکر میں مشغول رہتے۔ پھر بعد از نمازِ فجر طلوعِ آفتاب تک مراقبہ میں رہتے، پھر تلاوتِ قرآن پاک دو تین سیپارہ کے بعد ختم شریف پڑھتے۔ طعام قبل از دوپہر تناول فرما کر قیلولہ فرماتے۔ اکثر و بیشتر نمازِ ظہر سے عشاء تک کی نمازیں ادا کرتے۔ ظہر کے بعد تلاوتِ قرآن فرماتے۔ اس کے بعد احباب کی حاجات کی طرف متوجہ ہوتے۔ حاضرین کو حسبِ ضرورت دُعااور تعویذ دیتے۔ نمازِ عصر کے بعد ختم شریف حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ پڑھا کرتے نماز باجماعت ادا کرنے کے عادی تھے۔ بعد از نماز مغرب طعام تناول فرماتے۔ نمازِ عشاء اوّل وقت میں ادا فرماتے، جہاں کہیں بھی تشریف لے جاتے آپ کا قیام مسجد میں ہی ہوتا تعویز نویسی زیادہ پسند نہ تھی لہٰذا اکثر دعا فرماتے اور اسی سے لوگوں کے اکثر مسائل حل ہوجاتے بفضلِ ایزوی آپ چاروں سلاسل طریقت کے صاحبِ مجاز وارث و ارشاد تھے لیکن صرف نقشبندیہ طریقت میں بیعت فرماتے۔ آپ کو اشعار سے بھی کسی قدر دلچسپی تھی۔ بعض اوقات صرف بیعت ف
تیزئ شریف (افغانستان) ۱۲۱۳ھ/۱۷۹۸ء ۔۔۔ ۱۳۱۵ھ/۱۸۹۷ء چُورہ شریف ضِلع اٹک (پنجاب)
قطعۂ تاریخِ وفات
جہاں بھر میں پھیلے ہیں اُن کے مریدیں
منوّر منوّر ہیں عالم میں صؔابر
تھے وہ اعلیٰ رتبہ فقیر مُحَمّد
’’چراغِ مُصَفّا فقیرِ مُحَمّد‘‘
۱۸۹۷ء
(صابر براری، کراچی)
حضرت خواجہ فقیر محمد المعروف بابا جی تیراہی رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ نُور محمد تیراہی چوراہی قدس سرّہ کے دوسرے صاحبزادے تھے۔ آپ کی ولادت ۱۲۱۳ ھ میں جَدِّ امجد حضرت خوجہ فیض اللہ تیراہی (ف۸؍ ربیع الاوّل ۱۲۴۵ھ) کی زندگی میں تیزئی شریف نزد تیراہ(افغانستان) میں ہُوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے ملتا ہے۔ جس کی تفصیل آپ کے جدّ امجد میں حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی قدس سرّہ کے حالات میں دی جا چکی ہے۔
آپ پیدائش ولی اللہ تھے۔ جس دن آپ کی ولادت ہوئی، اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نہ پیتے تھے۔ یہ معاملہ سُن کر جدّ امجد خواجہ محمد فیض اللہ تشریف لائے تو آپ کے روئے انور کو دیکھ کر فرمایا کہ: ’’یہ تو ابھی سے اپنا حصّہ طلب کرتے ہیں‘‘۔ چنانچہ انہوں نے اپنی زبان مبارک آپ کے منہ میں ڈال دی جِسے آپ دیر تک چوستے رہے اور پھر والدہ ماجدہ کا دودھ پینا بھی شروع کردیا۔ اس طرح سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ کی مبارک و اعظم نسبت رو زاوّل سے ہی آپکو عنائیت فرمادی گئی۔ جدّامجد نے ارشاد فرمایا کہ یہ لڑکا بڑا نیک بخت ہوگا اور اس کے وجود سے خلق خدا کو بہت فیض پہنچے گا۔ آپ کا چہرہ مبارک اُسی روز سے انوارِ الٰہی کی تابانیوں سے آفتاب و ماہتاب کی طرح چمکتا تھا۔
آپ نے علومِ ظاہری و باطنی کی تحصیل اپنے والد ماجد حضرت خواجہ نور محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ہی کی تھی۔ آیامِ صغر سنّی سے ہی ذکر و فکر و مراقبہ و اتباعِ شریعت میں مصروف و مشغول رہتے تھے اور تمام اُمور میں والد ماجد کے نقش قدم پر چلتے تھے۔
بالائے سرش زہو شمندی
می تافت ستارۂ بلندی
’’بچپن سے ہی آپ کے سر اقدس پر بلندی کا ستارہ چمکتا تھا‘‘۔
قطع ماسویٰ اللہ کا طریق آپ کو پہلے ہی مرغوب تھا۔ والد ماجد کے ساتھ ابتدا ہی سے صحبت و رابطہ حاصل تھا جس کی وجہ سے آپ کھانے پینے اُٹھنے بیٹھنے، طریق کلام اور اخلاق اعمال وغیرہ میں بالکل متحد الاوصاف ہوگئے تھے۔ غریبوں، مسکینوں اور مفلسوں کی مجلس و صحبت میں زیادہ خوش رہتے تھے۔ پابندئی شریعت میں بے مثال تھے۔ آپ کی علمیّت کا یہ حال تھا کہ قرآن مجید کے ایک ایک حرف کے جدا جدا اسرار ور موز بیان فرماتے تھے جسے سُن کر بڑے بڑے علماء انگشت بد نداں رہ جاتے تھے۔ اپنے وقت کے ابدال شمار کیے جاتے تھے۔ آپ کو وہ کمالات حاصل تھے جو دوسروں کو عشیر بھی نصیب نہ ہوئے تھے۔
آپ کے انہی ظاہری و باطنی کمالات کے پیشِ نظر آپ کے والد گرامی قدر نے بیس سال کی عمر میں خرقۂ خلافت سے سرفرار فرمایا اور آپ اپنے برادرِ اصغر حضرت خواجہ دین محمد چوراہی(ف ۱۳۲۵ھ) کے ہمراہ پنجاب کے تبلیغی سفر پر روانہ ہوئے تو باؤلی شریف ضِلع گجرات تشریف لے گئے۔ خلیفہ حضرت محمد خان عالم رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند گرامی قدر حضرت خواجہ غلام محی الدین رحمۃ اللہ علیہ و دیگر بہت سے لوگ آپ سے بیعت کی۔ غرض دو ماہ تک پنجاب کے طول و عرض میں دورہ کیا تو ہزاروں لوگ آپ کے دامنِ عقیدت سے وابستہ ہوگئے۔ کشف و کرامات کا ظہور بھی ہوا۔
آپ کا قد مبارک دراز، چہرہ گندم گوں، بینی سُرخ و دراز، ریش مبارک سفید، چشم مبارک موزوں، گیسو مُبارک شانوں تک معلق رہتے، پیشانی کشادہ، انگشت مبارک نرم اور لمبی، سینہ فراخ اور باوجود ضعیف العمری کے بینائی اور سماعت میں فرق نہ تھا۔ رات کو سُرمہ طاق سلائیاں لگاتے۔ بالوں پر حنا(مہندی) لگاتے۔ جب باہر تشریف لے جاتے تو سَر پر لُنگی رکھ لیتے۔ پیرانہ سالی کے باوجود رفتار کافی تیز ہوا کرتی تھی بلکہ بہت سے آدمیوں سے آگے بڑھ جاتے تھے۔
نمازِ تہجّد کے بعد ذکر میں مشغول رہتے۔ پھر بعد از نمازِ فجر طلوعِ آفتاب تک مراقبہ میں رہتے، پھر تلاوتِ قرآن پاک دو تین سیپارہ کے بعد ختم شریف پڑھتے۔ طعام قبل از دوپہر تناول فرما کر قیلولہ فرماتے۔ اکثر و بیشتر نمازِ ظہر سے عشاء تک کی نمازیں ادا کرتے۔ ظہر کے بعد تلاوتِ قرآن فرماتے۔ اس کے بعد احباب کی حاجات کی طرف متوجہ ہوتے۔ حاضرین کو حسبِ ضرورت دُعااور تعویذ دیتے۔ نمازِ عصر کے بعد ختم شریف حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ پڑھا کرتے نماز باجماعت ادا کرنے کے عادی تھے۔ بعد از نماز مغرب طعام تناول فرماتے۔ نمازِ عشاء اوّل وقت میں ادا فرماتے، جہاں کہیں بھی تشریف لے جاتے آپ کا قیام مسجد میں ہی ہوتا تعویز نویسی زیادہ پسند نہ تھی لہٰذا اکثر دعا فرماتے اور اسی سے لوگوں کے اکثر مسائل حل ہوجاتے بفضلِ ایزوی آپ چاروں سلاسل طریقت کے صاحبِ مجاز وارث و ارشاد تھے لیکن صرف نقشبندیہ طریقت میں بیعت فرماتے۔ آپ کو اشعار سے بھی کسی قدر دلچسپی تھی۔ بعض اوقات صرف بیعت ف
رماکر خلفاء سے حلقہ کراتے کبھی کبھی خود بھی توجہ فرماتے۔ اور یہ اشعار پڑھتے۔
یَا رَسُولَ اللہ اُنْظُر حَالَنَا
اِنَّنِیْ فِی بَحْرِ ھَمِ مّغرقٌ
یَا حَبِیْبَ اللہِ اِسْمَعْ قَا لَنَا
خُذْیَدی سَھْلِ النَّا اَشْکَا لَنَا
’’اے اللہ کے رسول! میرے حال پر نظر فرمایئے اے اللہ کے حبیب! میری عرض سنیے۔ میں غموں کے مسندر میں غوطہ زن ہوں میری دستگیری فرمایئے اور مشکلیں آسان کردیجیے‘‘۔
ہر دم خدا را یاد کن دلہائے غمگیں شاد کن
بُلبل صفت فریاد کن مشغول شودر ذکر ہُو
’’ہر وقت خدا کو یاد کر، افسردہ دلوں کو خوش کر بُلبل کی طرح فریاد کر اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ‘‘۔
غافلی کفر است پہناں در وجودِ آدمی
ایں چنیں کا فرشدن راحاجتِ زنّار نیست
’’عفلت کُفر ہے جو آدمی کے وجود میں چھپا ہوا ہے۔ اس طرح کافر ہونے کے لیے زنّار کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
آپ عمومنا سادہ نیلگوں لباس پہنتے۔ شرعی سفید پاجامہ، سر پر کلاہ اور اُس پر لُنگی۔ خط دار یا سنبر دستار پہنتے۔ بدن پر کبھی نیلگوں لنگی یا چادر اوڑھتے۔ پوٹھوہاری جوتا استعمال فرماتے۔ ہمیشہ اپنے دستِ مبارک میں عصا رکھتے۔ آپ کی طبیعت میں تصنّع و ریا و تکلیف بالکل نہ تھا۔ غرور و تکبّر، فخر و خود پسندی آپ کے نزدیک نہ پھٹکا تھا۔ مسکنت و تملکنت و وقار آپ کے اندر کُورٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ صدیقی انور و برکات آپ کے چہرۂ اقدس سے عیاں تھے۔ آپ کی طبیعت میں جمالیّت اس قدر تھی کہ سالہا سال تک کسی پر غصّہ نہ فرماتے اور نہ کبھی آپ سے کسی کو ضرر و نقصان پہنچا کیونکہ جلالی فقراء سے ضرر زیادہ اور نفع بہت کم ہوتا ہے اور جمالی فقراء سے نفع زیادہ اور نقصان کم ہوتا ہے۔ آپ کسی دوست کے متعلق شکایت سننا گوارا نہ کرتے تھے۔ تحمّل و بُردباری میں اپنی مثال تھے۔ کبھی کسی سے کوئی غلطی ہوجاتی تو فوراً معاف فرما دیتے۔ امراء سے زیادہ خوش نہ ہوتے تھے بلکہ مخلص دوست کو (خواہ وہ انتہائی غریب ہی کیوں نہ ہو) پسند فرماتے۔ سکون و خاموش کو بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ کی مجلس میں بڑے بڑے علماء و امراء حاضر رہتے تھے مگر آپ کی ذی وقار اور با رعب شخصیت کے سامنے کسی کو لب کشائی کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ یہ آپ کی صحبت کی برکت و کشش تھی جو بیٹھ جاتا پھر اُٹھنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ہمیشہ صاف ستھرے رہتے اور پاکیزہ اشیاء کو پسند فرماتے تھے۔ کیونکہ:
اَللہُ جَمِیْلٌ وَّ یُحِبُ الْجَمَال
اللہ تعالیٰ خود خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی جو خمیری روٹی اور کھچڑی پر مشتمل تھی۔ کسی خاص چیز کے عادی نہ تھے جو کچھ حاضر ہوتا برضاء رغبت تناول فر مالیتے تھے۔ آپ کی اصل غذا ذکرِ حق تھی۔ آپ حتی الامکان کسی کا احسان نہ اٹھاتے تھے لیکن اگر کوئی احسان کرتا تو آپ اُسے یاد رکھتے حتّٰی کہ اُس کا دس گنا بدلہ عنایت فرماتے جس کسی کی ایک دفعہ دعوت قبول کر لیتے دوبارہ مشکل سے ہی قبول کرتے۔ آپ شہروں میں کم از کم تین روز اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن قیام فرماتے اور جیسی جگہ ہوتی ویسا ہی مقیم ہوتے ہوتے۔ آپ کے ساتھ ہمیشہ چند خلفاء اور درویش سفر میں رہتے۔ آپ زاہد خشک یا محض ظاہر پرست نہ تھے۔ بلکہ لوگوں کی درستگی باطن کا خیال زیادہ رکھتے اور کبھی بھی اتباعِ سنّت سے قدم باہر نہ رکھتے۔ آخیر عمر میں احبابِ راولپنڈی کے اصرار پر چائے پینا شروع کردی تھی۔ ایّامِ سرما میں تین تین ماہ تک پانی نہ پیتے تھے۔ اکثر شب بیدار رہتے تھے جب لیٹتے تو سر سے پاؤں تک سیاہ لُنگی اوڑھ لیتے۔ جن لوگوں کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے آپ انہی میں سے ہی مجذوبِ سالک تھے۔
آپ جب عام لوگوں کو نصیحت فرماتے تو ارشاد کرتے کہ اپنے باطن درست کرو کیونکہ مرنے کے بعد اعمالِ باطنی ہی سے نجات مل سکتی ہے مگر ظاہری احکامِ شرعیہ کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اعمال باطنی کی صحت و درستگی کی علامت بھی ظاہری اعمال و افعال ہیں۔الظاھرعنوان الباطن (ظاہر باطن کا عنوان ہے) اور وہ ظاہر بھی سُنّت و آثارِ صحابہ کے موافق ہو۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کو خدا کے لیے پیار کرو اور یاد کرو کیونکہ مقصد کے لیے یاد کرنا صرف مقصد کی یاد ہے خدا کی یاد بغیر کسی نفسانی خواہشات کے کرنی چاہیے اور جب کبھی خاص احباب اور خلفاء کو مخاطب کرتے تو یہ حدیث قدسی بیان فرمایا کرتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتے ہیں کہ:
مَنْ لَمْ یَرْضِ بِقَضَائِی وَلَمْ یَصْبِرْ عَلٰی بَلَا ئِی وَلَمْ یَشْکُرْ عَلٰی نُعمْاَئِیْ وَلَمْ یَقْنَعْ بِعَطَائِیْ فَلْیَطْلُبْ رَبًّا سِوائِیْ
’’جو شخص میرے حکم پر راضی نہیں اور میری بلا پر راضی نہیں اور میری نعمتوں پر شاکر نہیں اور میرے عطیہ پر قانع نہیں تو وہ بے شک میرے سوا کسی اور کو اپنا رب بنالے‘‘۔
اس کے علاوہ یہ حدیث شریف بھی بیان فرماتے:
خَیْرُ النَّاسِ مَنْ یَنْفَعُ النَّاسَ
’’بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے‘‘۔
آپ کے پاس اگر کوئی زاہد خشک یا باتونی شخص بیٹھتا تو آپ فرماتے
یَا رَسُولَ اللہ اُنْظُر حَالَنَا
اِنَّنِیْ فِی بَحْرِ ھَمِ مّغرقٌ
یَا حَبِیْبَ اللہِ اِسْمَعْ قَا لَنَا
خُذْیَدی سَھْلِ النَّا اَشْکَا لَنَا
’’اے اللہ کے رسول! میرے حال پر نظر فرمایئے اے اللہ کے حبیب! میری عرض سنیے۔ میں غموں کے مسندر میں غوطہ زن ہوں میری دستگیری فرمایئے اور مشکلیں آسان کردیجیے‘‘۔
ہر دم خدا را یاد کن دلہائے غمگیں شاد کن
بُلبل صفت فریاد کن مشغول شودر ذکر ہُو
’’ہر وقت خدا کو یاد کر، افسردہ دلوں کو خوش کر بُلبل کی طرح فریاد کر اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ‘‘۔
غافلی کفر است پہناں در وجودِ آدمی
ایں چنیں کا فرشدن راحاجتِ زنّار نیست
’’عفلت کُفر ہے جو آدمی کے وجود میں چھپا ہوا ہے۔ اس طرح کافر ہونے کے لیے زنّار کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
آپ عمومنا سادہ نیلگوں لباس پہنتے۔ شرعی سفید پاجامہ، سر پر کلاہ اور اُس پر لُنگی۔ خط دار یا سنبر دستار پہنتے۔ بدن پر کبھی نیلگوں لنگی یا چادر اوڑھتے۔ پوٹھوہاری جوتا استعمال فرماتے۔ ہمیشہ اپنے دستِ مبارک میں عصا رکھتے۔ آپ کی طبیعت میں تصنّع و ریا و تکلیف بالکل نہ تھا۔ غرور و تکبّر، فخر و خود پسندی آپ کے نزدیک نہ پھٹکا تھا۔ مسکنت و تملکنت و وقار آپ کے اندر کُورٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ صدیقی انور و برکات آپ کے چہرۂ اقدس سے عیاں تھے۔ آپ کی طبیعت میں جمالیّت اس قدر تھی کہ سالہا سال تک کسی پر غصّہ نہ فرماتے اور نہ کبھی آپ سے کسی کو ضرر و نقصان پہنچا کیونکہ جلالی فقراء سے ضرر زیادہ اور نفع بہت کم ہوتا ہے اور جمالی فقراء سے نفع زیادہ اور نقصان کم ہوتا ہے۔ آپ کسی دوست کے متعلق شکایت سننا گوارا نہ کرتے تھے۔ تحمّل و بُردباری میں اپنی مثال تھے۔ کبھی کسی سے کوئی غلطی ہوجاتی تو فوراً معاف فرما دیتے۔ امراء سے زیادہ خوش نہ ہوتے تھے بلکہ مخلص دوست کو (خواہ وہ انتہائی غریب ہی کیوں نہ ہو) پسند فرماتے۔ سکون و خاموش کو بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ کی مجلس میں بڑے بڑے علماء و امراء حاضر رہتے تھے مگر آپ کی ذی وقار اور با رعب شخصیت کے سامنے کسی کو لب کشائی کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ یہ آپ کی صحبت کی برکت و کشش تھی جو بیٹھ جاتا پھر اُٹھنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ہمیشہ صاف ستھرے رہتے اور پاکیزہ اشیاء کو پسند فرماتے تھے۔ کیونکہ:
اَللہُ جَمِیْلٌ وَّ یُحِبُ الْجَمَال
اللہ تعالیٰ خود خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی جو خمیری روٹی اور کھچڑی پر مشتمل تھی۔ کسی خاص چیز کے عادی نہ تھے جو کچھ حاضر ہوتا برضاء رغبت تناول فر مالیتے تھے۔ آپ کی اصل غذا ذکرِ حق تھی۔ آپ حتی الامکان کسی کا احسان نہ اٹھاتے تھے لیکن اگر کوئی احسان کرتا تو آپ اُسے یاد رکھتے حتّٰی کہ اُس کا دس گنا بدلہ عنایت فرماتے جس کسی کی ایک دفعہ دعوت قبول کر لیتے دوبارہ مشکل سے ہی قبول کرتے۔ آپ شہروں میں کم از کم تین روز اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن قیام فرماتے اور جیسی جگہ ہوتی ویسا ہی مقیم ہوتے ہوتے۔ آپ کے ساتھ ہمیشہ چند خلفاء اور درویش سفر میں رہتے۔ آپ زاہد خشک یا محض ظاہر پرست نہ تھے۔ بلکہ لوگوں کی درستگی باطن کا خیال زیادہ رکھتے اور کبھی بھی اتباعِ سنّت سے قدم باہر نہ رکھتے۔ آخیر عمر میں احبابِ راولپنڈی کے اصرار پر چائے پینا شروع کردی تھی۔ ایّامِ سرما میں تین تین ماہ تک پانی نہ پیتے تھے۔ اکثر شب بیدار رہتے تھے جب لیٹتے تو سر سے پاؤں تک سیاہ لُنگی اوڑھ لیتے۔ جن لوگوں کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے آپ انہی میں سے ہی مجذوبِ سالک تھے۔
آپ جب عام لوگوں کو نصیحت فرماتے تو ارشاد کرتے کہ اپنے باطن درست کرو کیونکہ مرنے کے بعد اعمالِ باطنی ہی سے نجات مل سکتی ہے مگر ظاہری احکامِ شرعیہ کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اعمال باطنی کی صحت و درستگی کی علامت بھی ظاہری اعمال و افعال ہیں۔الظاھرعنوان الباطن (ظاہر باطن کا عنوان ہے) اور وہ ظاہر بھی سُنّت و آثارِ صحابہ کے موافق ہو۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کو خدا کے لیے پیار کرو اور یاد کرو کیونکہ مقصد کے لیے یاد کرنا صرف مقصد کی یاد ہے خدا کی یاد بغیر کسی نفسانی خواہشات کے کرنی چاہیے اور جب کبھی خاص احباب اور خلفاء کو مخاطب کرتے تو یہ حدیث قدسی بیان فرمایا کرتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتے ہیں کہ:
مَنْ لَمْ یَرْضِ بِقَضَائِی وَلَمْ یَصْبِرْ عَلٰی بَلَا ئِی وَلَمْ یَشْکُرْ عَلٰی نُعمْاَئِیْ وَلَمْ یَقْنَعْ بِعَطَائِیْ فَلْیَطْلُبْ رَبًّا سِوائِیْ
’’جو شخص میرے حکم پر راضی نہیں اور میری بلا پر راضی نہیں اور میری نعمتوں پر شاکر نہیں اور میرے عطیہ پر قانع نہیں تو وہ بے شک میرے سوا کسی اور کو اپنا رب بنالے‘‘۔
اس کے علاوہ یہ حدیث شریف بھی بیان فرماتے:
خَیْرُ النَّاسِ مَنْ یَنْفَعُ النَّاسَ
’’بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے‘‘۔
آپ کے پاس اگر کوئی زاہد خشک یا باتونی شخص بیٹھتا تو آپ فرماتے
کہ مجھے باتیں نہیں آتیں۔ آپ اپنے خلفاء اور اجازت یا فتوں کی بھی توقیر کرتے اور اُن کی قدر و منزلت زیادہ ہی کرتے تاکہ وہ اپنے عقیدت مندوں کی نظر میں دقیع اور ذی اقتدار ہی رہیں۔ جس خلیفہ کے حلقہ میں تشریف لے جاتے وہاں پر اُسی کے مشورہ و صلاح سے ہر اک کام کرتے یہاں تک کہ اکثر تعویذات اور وظائف وغیرہ بھی انہی کی تحویل میں رکھتے۔ آپ کے دل میں دنیاوی شان و شوکت اور وقعت و عزّت مچھر کے برابر بھی نہ تھی۔ آپ کبھی کبھی خاص احباب سے معانقہ فرماتے ورنہ اکثر مصافحہ پر ہی اکتفا فرماتے آپ کو جس طریقہ پر سلف صالحین نے مقرر کیا تھا، آخر تک اُسی پر ثابت قدم رہے۔
آپ اپنے غلاموں کو لفظ مرید سے نہ پکارتے تھے بلکہ لفظ ’’یار‘‘ یا ’’دوست‘‘ سے یاد فرماتے تھے۔ ایک دن آپ کے بنیرہ نے کہہ دیا کہ فلاں شخص تو ہمارا مرید ہے، اس پر آپ اُن پر سخت ناراض ہوئے یہاں تک کہ کلام بھی نہ کیا۔ صاحبزادہ بنیرہ نے نماز وغیرہ ترک کردی۔ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ نے سب کچھ ترک کردیا ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے جواب دیا کہ جب حضرت بابا جی قبلہ و کعبہ ناراض ہیں تو ان چیزوں کا کیا فائدہ؟ کیونکہ عبادات کی قبولیّت تو آپ کی رضا کے ساتھ ہے۔ جب آپ ناراض ہیں تو پھر ضرورت نہیں۔ جب بابا جی کو یہ خبر پہنچی تو صاحبزادہ کو بلوا کر ارشاد فرمایا کہ نہ میرے باپ دادا نے کسی کو لفظ مرید سے پکارا اور نہ میں نے کسی کو مرید کے نام سے بلایا، پھر تم اس قابل کہاں کہ مرید کے لفظ سے پکارو۔ جاؤ! آئندہ توبہ کرو اور پھر کسی کو لفظ مرید سے نہ پکارنا۔
آپ کی کرامات بے شمار و قطار ہیں۔ چند ایک درجہ ذیل ہیں۔
۱۔ آپ سیّدوں کے ایک گاؤں میں تشریف لے گئے جس میں ایک دو گھروں کے سوائے سب لوگ شیعہ تھے۔ آپ کی تشریف آوری سے خدا نے سب کو ایسی ہدایت دی کہ وہ سب لوگ سُنّی العقیدہ ہوگئے اور عاشق صادق بن گئے۔ آپ کی برکت سے وہ ایسے صوفی بن گئے کہ وہ نماز، روزہ کے علاوہ صاحبِ ذکر اور تہجّد گزار بن گئے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کرامت ہوسکتی ہے۔
۲۔ آپ جب بھی راولپنڈی تشریف لے جاتے تو محلہ ملیار مسجد میاں دارث میں قیام فرماتے تھے۔ ایک دن اتفاقاً مسجد کو آگ لگ گئی۔ مسجد کا دروازہ بند تھا۔ مسجد کا سارا فرش جل گیا مگر وہ جگہ جہاں آپ تشریف فرما ہوتے تھے، محفوظ و مامون رہی۔
۳۔ ایک دفعہ آپ امر تسر میں مسجد خیر دین میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک بیوہ حاضرِ خدمت ہوئی اور عرض کیا کہ میرا لڑکا علی محمد بی۔ اے میں پڑھتا تھا کہ اس کا والد فوت ہوگیا۔ میں نے گھر کا سازو سامان فروخت کر کے، مصائب و آلام برداشت کر کے اُسے امتحان دلوایا مگر بدقسمتی سے وہ فیل ہوگیا ہے۔ اب میرے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ رونے لگی۔ آپ نے اسے تسلّی دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’جا وہ تو پاس ہے‘‘ جب وہ عورت گھر واپس آئی تو اسے ایک تار ملا کہ علی محمد پاس ہے اور اس کے بجائے ایک سکھ کا لڑکا فیل ہوا ہے۔ پہلے اطلاع غلط دی گئی ہے۔ یہ دیکھ کر وہ عورت خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی اور سب کو بتاتی تھی کہ میرا لڑکا حضرت خواجہ فقیر محمد کی دعا و توجہ سے پاس ہُوا ہے۔
وہ لڑکا وہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرفِ بیعت سے مشرف ہوا اور کافی مدّت تک راولپنڈی میں سینئر جج کے عہدے پر فائز رہا اور سیشن جج کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔
۴۔ راولپنڈی صدر میں گرجا سے متصل آپ کا ایک مخلصِ صادق میاں پیر بخش رہتا تھا۔ اس کا بیان ہے کہ ہمارے آبائی گاؤں میں پانی نہیں تھا کیونکہ زمین بہت سنگلاخ تھی لوگ بہت دُور دراز سے پانی لاتے تھے۔ آپ کی خدمت میں اس وقّت اور تکلیف کے ازالہ کے لیے عرض کیا گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس جگہ کنواں کھودو۔ پیر بخش نے چار سو روپیہ خرچ کر کے کنواں کھد وایا مگر پانی نہ نکلا۔ پھر اُس نے حکومت سے امداد لے کر مزید کھدوائی کرائی مگر پانی نہ نکلا۔ لوگ پیر بخش کو لعن طعن کرنے لگے کہ تیرے پیر نے تجھے برباد کردیا۔ جب آپ دوسرے سال تشریف لائے تو یہ تمام باتیں آپ کی خدمت میں عرض کی گئیں، آپ نے نہایت خاص حالت میں اٹھ کر فرمایا کہ ’’پیر بخش کے حق میں دعا کرو‘‘ پھر فرمایا! میاں پیر بخش جاؤ، خدا تعالیٰ پانی دے دے گا۔ گھبرانے اور غم و فکر کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
میاں پیر بخش اتفاقاً باہر نکلے تو دیکھا کہ بچے کنویں پر جمع ہیں اور ایک شور و غوغا ہو رہا ہے۔ ایک بچّے نے کہا کہ بابا! پانی آگیا ہے۔ پیر بخش نے دیکھا تو نیچے سے بڑے زور سے پانی اوپر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا غیب سے ایک نہر آرہی ہے۔ پیر بخش کا بیان ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پانی کنویں کے کنارے تک آگیا۔ پانی بھی ایسا میٹھا اور سرد تھا کہ شاید ہی ایسا پانی کسی نے دیکھا اور پیا ہو۔ لوگ پانی استعمال کرتے تھے اور خوشی کے شادیانے بجاتے تھے۔
انہی دنوں محمد بخشی نامی ایک شخص نے خواب دیکھا کہ حضرت بابا جی رحمۃ اللہ علیہ تیراہ شریف (افغانستان) سے و
آپ اپنے غلاموں کو لفظ مرید سے نہ پکارتے تھے بلکہ لفظ ’’یار‘‘ یا ’’دوست‘‘ سے یاد فرماتے تھے۔ ایک دن آپ کے بنیرہ نے کہہ دیا کہ فلاں شخص تو ہمارا مرید ہے، اس پر آپ اُن پر سخت ناراض ہوئے یہاں تک کہ کلام بھی نہ کیا۔ صاحبزادہ بنیرہ نے نماز وغیرہ ترک کردی۔ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ نے سب کچھ ترک کردیا ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے جواب دیا کہ جب حضرت بابا جی قبلہ و کعبہ ناراض ہیں تو ان چیزوں کا کیا فائدہ؟ کیونکہ عبادات کی قبولیّت تو آپ کی رضا کے ساتھ ہے۔ جب آپ ناراض ہیں تو پھر ضرورت نہیں۔ جب بابا جی کو یہ خبر پہنچی تو صاحبزادہ کو بلوا کر ارشاد فرمایا کہ نہ میرے باپ دادا نے کسی کو لفظ مرید سے پکارا اور نہ میں نے کسی کو مرید کے نام سے بلایا، پھر تم اس قابل کہاں کہ مرید کے لفظ سے پکارو۔ جاؤ! آئندہ توبہ کرو اور پھر کسی کو لفظ مرید سے نہ پکارنا۔
آپ کی کرامات بے شمار و قطار ہیں۔ چند ایک درجہ ذیل ہیں۔
۱۔ آپ سیّدوں کے ایک گاؤں میں تشریف لے گئے جس میں ایک دو گھروں کے سوائے سب لوگ شیعہ تھے۔ آپ کی تشریف آوری سے خدا نے سب کو ایسی ہدایت دی کہ وہ سب لوگ سُنّی العقیدہ ہوگئے اور عاشق صادق بن گئے۔ آپ کی برکت سے وہ ایسے صوفی بن گئے کہ وہ نماز، روزہ کے علاوہ صاحبِ ذکر اور تہجّد گزار بن گئے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کرامت ہوسکتی ہے۔
۲۔ آپ جب بھی راولپنڈی تشریف لے جاتے تو محلہ ملیار مسجد میاں دارث میں قیام فرماتے تھے۔ ایک دن اتفاقاً مسجد کو آگ لگ گئی۔ مسجد کا دروازہ بند تھا۔ مسجد کا سارا فرش جل گیا مگر وہ جگہ جہاں آپ تشریف فرما ہوتے تھے، محفوظ و مامون رہی۔
۳۔ ایک دفعہ آپ امر تسر میں مسجد خیر دین میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک بیوہ حاضرِ خدمت ہوئی اور عرض کیا کہ میرا لڑکا علی محمد بی۔ اے میں پڑھتا تھا کہ اس کا والد فوت ہوگیا۔ میں نے گھر کا سازو سامان فروخت کر کے، مصائب و آلام برداشت کر کے اُسے امتحان دلوایا مگر بدقسمتی سے وہ فیل ہوگیا ہے۔ اب میرے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ رونے لگی۔ آپ نے اسے تسلّی دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’جا وہ تو پاس ہے‘‘ جب وہ عورت گھر واپس آئی تو اسے ایک تار ملا کہ علی محمد پاس ہے اور اس کے بجائے ایک سکھ کا لڑکا فیل ہوا ہے۔ پہلے اطلاع غلط دی گئی ہے۔ یہ دیکھ کر وہ عورت خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی اور سب کو بتاتی تھی کہ میرا لڑکا حضرت خواجہ فقیر محمد کی دعا و توجہ سے پاس ہُوا ہے۔
وہ لڑکا وہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرفِ بیعت سے مشرف ہوا اور کافی مدّت تک راولپنڈی میں سینئر جج کے عہدے پر فائز رہا اور سیشن جج کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔
۴۔ راولپنڈی صدر میں گرجا سے متصل آپ کا ایک مخلصِ صادق میاں پیر بخش رہتا تھا۔ اس کا بیان ہے کہ ہمارے آبائی گاؤں میں پانی نہیں تھا کیونکہ زمین بہت سنگلاخ تھی لوگ بہت دُور دراز سے پانی لاتے تھے۔ آپ کی خدمت میں اس وقّت اور تکلیف کے ازالہ کے لیے عرض کیا گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس جگہ کنواں کھودو۔ پیر بخش نے چار سو روپیہ خرچ کر کے کنواں کھد وایا مگر پانی نہ نکلا۔ پھر اُس نے حکومت سے امداد لے کر مزید کھدوائی کرائی مگر پانی نہ نکلا۔ لوگ پیر بخش کو لعن طعن کرنے لگے کہ تیرے پیر نے تجھے برباد کردیا۔ جب آپ دوسرے سال تشریف لائے تو یہ تمام باتیں آپ کی خدمت میں عرض کی گئیں، آپ نے نہایت خاص حالت میں اٹھ کر فرمایا کہ ’’پیر بخش کے حق میں دعا کرو‘‘ پھر فرمایا! میاں پیر بخش جاؤ، خدا تعالیٰ پانی دے دے گا۔ گھبرانے اور غم و فکر کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔
میاں پیر بخش اتفاقاً باہر نکلے تو دیکھا کہ بچے کنویں پر جمع ہیں اور ایک شور و غوغا ہو رہا ہے۔ ایک بچّے نے کہا کہ بابا! پانی آگیا ہے۔ پیر بخش نے دیکھا تو نیچے سے بڑے زور سے پانی اوپر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا غیب سے ایک نہر آرہی ہے۔ پیر بخش کا بیان ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پانی کنویں کے کنارے تک آگیا۔ پانی بھی ایسا میٹھا اور سرد تھا کہ شاید ہی ایسا پانی کسی نے دیکھا اور پیا ہو۔ لوگ پانی استعمال کرتے تھے اور خوشی کے شادیانے بجاتے تھے۔
انہی دنوں محمد بخشی نامی ایک شخص نے خواب دیکھا کہ حضرت بابا جی رحمۃ اللہ علیہ تیراہ شریف (افغانستان) سے و