جلیل القدر صحابی، رازدان مصطفی، ﷺ، حضرت سیدنا ابو عبد اللہ حذیفہ بن یمان عبسی انصاری رضی اللہ عنہ وارضاہ مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ علامات نفاق و قیامت سے خوب واقف، تکلفات سے پاک سادہ طبیعت کے مالک، زہد و تقوی کے پیکر، بدر کے علاوہ تمام غزوات اور کئی مہمات میں شرکت کرنے والے، ہمدان، رے اور دینور کے فاتح، اور مدائن کے گورنر تھے۔ سیدنا عثمان غنی ذو النورین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس روز بعد غالباً 28 محرم الحرام 36ھ کو وصال فرمایا۔ مزار شریف مدائن، سلمان پاک، عراق میں ہے۔ (تاریخ بغداد، الاصابہ، شرح الزرقانی علی المواھب، مرآۃ المناجیح)
نوٹ: 20 ذو الحجہ 1350ھ مطابق 27 اپریل 1932ء میں آپ اور سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے اجساد مبارکہ کو دریائے دجلہ کے کنارے سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے قرب میں منتقل کیا گیا تو آپ کے اجسام مبارکہ بالکل صحیح سلامت، تر و تازہ، معطر و معنبر پائے گئے۔ وللہ الحمد!
"The Noble Companion and trusted confidant of the Prophet ﷺ, Sayyiduna Abu Abdullah Hudhayfah ibn al-Yaman Abasi Ansari (RadiyAllahu Anhu) was born in Madinah Munawwarah. He was well-versed with the signs of hypocrisy and Qiyamah; extremely simple; the epitome of asceticism and piety; participant in all battles and campaigns except Badr; conqueror of Hamdan, Rey, and Dinavar; and the governor of Mada’in. He passed away 40 days after the martyrdom of Sayyidna Usman Dhu al-Noorayn (RadiyAllahu Anhu) probably on the 28th of Muharram 36 AH. His blessed resting place is in Mada’in, Salman Pak, Iraq. [Tarikh Baghdad, Al-Isabah, Zurqani ala al-Mawahib, Mirat al-Manajih]
Note: On the 20th Dhu al-Hijjah 1350 AH i.e. 27 April 1932 CE, the blessed bodies of his excellency and Sayyiduna Jabir bin Abdullah were transferred from the banks of the river Tigris to the mausoleum of Sayyiduna Salman al-Farsi (RadiyAllahu Anhu), and they were seen completely preserved, intact, fresh, illuminated, and heavenly fragrant. And All praise and glory is to Allah Almighty!"
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0Zs3nZUADQ3nRteYDxp1zo6vXmDnCCj6WxEdL6soL8fn728GeBxbYAaAEFuoWC1Rnl&id=100050689590519
نوٹ: 20 ذو الحجہ 1350ھ مطابق 27 اپریل 1932ء میں آپ اور سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے اجساد مبارکہ کو دریائے دجلہ کے کنارے سے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے قرب میں منتقل کیا گیا تو آپ کے اجسام مبارکہ بالکل صحیح سلامت، تر و تازہ، معطر و معنبر پائے گئے۔ وللہ الحمد!
"The Noble Companion and trusted confidant of the Prophet ﷺ, Sayyiduna Abu Abdullah Hudhayfah ibn al-Yaman Abasi Ansari (RadiyAllahu Anhu) was born in Madinah Munawwarah. He was well-versed with the signs of hypocrisy and Qiyamah; extremely simple; the epitome of asceticism and piety; participant in all battles and campaigns except Badr; conqueror of Hamdan, Rey, and Dinavar; and the governor of Mada’in. He passed away 40 days after the martyrdom of Sayyidna Usman Dhu al-Noorayn (RadiyAllahu Anhu) probably on the 28th of Muharram 36 AH. His blessed resting place is in Mada’in, Salman Pak, Iraq. [Tarikh Baghdad, Al-Isabah, Zurqani ala al-Mawahib, Mirat al-Manajih]
Note: On the 20th Dhu al-Hijjah 1350 AH i.e. 27 April 1932 CE, the blessed bodies of his excellency and Sayyiduna Jabir bin Abdullah were transferred from the banks of the river Tigris to the mausoleum of Sayyiduna Salman al-Farsi (RadiyAllahu Anhu), and they were seen completely preserved, intact, fresh, illuminated, and heavenly fragrant. And All praise and glory is to Allah Almighty!"
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0Zs3nZUADQ3nRteYDxp1zo6vXmDnCCj6WxEdL6soL8fn728GeBxbYAaAEFuoWC1Rnl&id=100050689590519
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: مولانا ضیاء الدین ۔ کنیت: ابو المساکین ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا حسین علی علیہ الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1290ھ میں تلہر ضلع شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والدِ ماجد سے حاصل کی ۔ بعد میں حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اور دورۂ حدیث کی تکمیل پر دستارِ فضیلت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
ضیائے شریعت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، شیخ الحدیث، حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کے ہونہار شاگردوں میں سے تھے۔ آپ کے پیر و مرشد اور استادِ گرامی دونوں ہی آپ کی ذہانت و فطانت، اور تبحر علمی کی قدر فرماتے تھے۔
آپ عملی زندگی درس و تدریس کے علاوہ ہمیشہ تصنف وتالیف میں مصروف رہے۔ اہلِ سنت کو مفید کتب عطا کی ہیں۔ آپ نے " تحفہ حنفیہ " پٹنہ کے ماہانہ رسالے میں کئی سال تک ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی علہ الرحمہ دین داری ، پابندیِ شرع، اور مذہبی رکھ رکھاؤ میں منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ کے وجود سے قرب و جوار میں آپ کا رعب قائم رہا۔ مسلمانوں میں بری بدعات اور برے رسم و رواج سے سختی سے منع فرماتے اور رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر عمل کی تلقین کرتے تھے۔ اسی میں دارین کی سعاتیں پنہاں ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 محرم الحرام 1364ھ، بوقتِ فجر بحالتِ نماز روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی ۔ مولانا حشمت علی لکھنوی علیہ الرحمہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی ۔
ماخذ و مراجع:
خلفائے اعلیٰ حضرت ـ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-masakeen-hazrat-allama-ziauddin-qadri-pilibhiti
Copyright © Zia-e-Taiba
نام ونسب:
اسمِ گرامی: مولانا ضیاء الدین ۔ کنیت: ابو المساکین ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا حسین علی علیہ الرحمہ ۔
تاریخِ ولادت:
آپ 1290ھ میں تلہر ضلع شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم والدِ ماجد سے حاصل کی ۔ بعد میں حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اور دورۂ حدیث کی تکمیل پر دستارِ فضیلت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ امام اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ تھے ۔
سیرت و خصائص:
ضیائے شریعت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، شیخ الحدیث، حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کے ہونہار شاگردوں میں سے تھے۔ آپ کے پیر و مرشد اور استادِ گرامی دونوں ہی آپ کی ذہانت و فطانت، اور تبحر علمی کی قدر فرماتے تھے۔
آپ عملی زندگی درس و تدریس کے علاوہ ہمیشہ تصنف وتالیف میں مصروف رہے۔ اہلِ سنت کو مفید کتب عطا کی ہیں۔ آپ نے " تحفہ حنفیہ " پٹنہ کے ماہانہ رسالے میں کئی سال تک ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی علہ الرحمہ دین داری ، پابندیِ شرع، اور مذہبی رکھ رکھاؤ میں منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ کے وجود سے قرب و جوار میں آپ کا رعب قائم رہا۔ مسلمانوں میں بری بدعات اور برے رسم و رواج سے سختی سے منع فرماتے اور رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر عمل کی تلقین کرتے تھے۔ اسی میں دارین کی سعاتیں پنہاں ہیں۔
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 28 محرم الحرام 1364ھ، بوقتِ فجر بحالتِ نماز روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی ۔ مولانا حشمت علی لکھنوی علیہ الرحمہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی ۔
ماخذ و مراجع:
خلفائے اعلیٰ حضرت ـ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-masakeen-hazrat-allama-ziauddin-qadri-pilibhiti
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی: مولانا ضیاء الدین ۔ کنیت: ابو المساکین ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا حسین علی علیہ الرحمہ ۔ تاریخِ ولادت: آپ 1290ھ میں تلہر ضلع شاہ جہاں پور میں پیدا ہوئے ۔ تحصیلِ…
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، ابو المساکین ، حضرت علامہ ، مولانا ضیاء الدین پیلی بھیتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37417
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/56531
https://t.me/islaamic_Knowledge/37417
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/56531
❤1
صحابئ رسول ﷺ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ـ
یومِ وصال 28 محرم الحرام 54 ھ
خادِمِ رسول:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی اور محدث تھے۔ ہجرت کے کچھ عرصے بعد ان کی والدہ نے انہیں بطورِ خادم حضور ﷺ کے سپرد کر دیا۔ اس وقت ان کی عمر دس برس کی تھی۔ حضور کے زندگی بھر خادم رہے۔
عبداللہ بن زبیر کی طرف سے بصرہ کے امام مقرر ہوئے۔ حجاج بن یوسف نے عبد اللہ بن اشعث کی بغاوت میں ان کی شرکت کو نا پسند کیا۔ لیکن بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اس کی تلافی کر دی۔ اوراُن سے نہ صرف معذرت کی بلکہ اظہار عقیدت بھی کیا۔
آخر میں بصرہ میں قیام فرمایا ۔ اور کافی لمبی عمر پا کر انتقال فرمایا۔ حضور ﷺ کی خدمت میں رہنے کی وجہ سے آپ سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔
امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں زیادہ تر انہیں سے احادیث روایت کی ہیں۔ لیکن امام ابو حنیفہ ان کی بعض حدیثوں کو مستند قرار نہیں دیتے۔
آپ انس بن مالک ابن نضر انصاری خزرجی ہیں، حضور کے خادِمِ خاص کے طور پر دس سال صحبتِ پاک میں رہے،
آپ کی عمر اور وصال:
آپ نے سو برس سے زیادہ عمر پائی، عہد فاروقی میں بصرہ چلے گئے تھے، وہاں سے قریب ہی ایک مقام پر ۹۳ھ میں آپ کا انتقال ہوا، بصرہ میں آخری صحابی کی وفات آپ کی ہوئی، آپ کی قبر انور زیارت گاہ خاص و عام ہے ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-anas-bin-malik
Copyright © Zia-e-Taiba
یومِ وصال 28 محرم الحرام 54 ھ
خادِمِ رسول:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی اور محدث تھے۔ ہجرت کے کچھ عرصے بعد ان کی والدہ نے انہیں بطورِ خادم حضور ﷺ کے سپرد کر دیا۔ اس وقت ان کی عمر دس برس کی تھی۔ حضور کے زندگی بھر خادم رہے۔
عبداللہ بن زبیر کی طرف سے بصرہ کے امام مقرر ہوئے۔ حجاج بن یوسف نے عبد اللہ بن اشعث کی بغاوت میں ان کی شرکت کو نا پسند کیا۔ لیکن بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اس کی تلافی کر دی۔ اوراُن سے نہ صرف معذرت کی بلکہ اظہار عقیدت بھی کیا۔
آخر میں بصرہ میں قیام فرمایا ۔ اور کافی لمبی عمر پا کر انتقال فرمایا۔ حضور ﷺ کی خدمت میں رہنے کی وجہ سے آپ سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔
امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں زیادہ تر انہیں سے احادیث روایت کی ہیں۔ لیکن امام ابو حنیفہ ان کی بعض حدیثوں کو مستند قرار نہیں دیتے۔
آپ انس بن مالک ابن نضر انصاری خزرجی ہیں، حضور کے خادِمِ خاص کے طور پر دس سال صحبتِ پاک میں رہے،
آپ کی عمر اور وصال:
آپ نے سو برس سے زیادہ عمر پائی، عہد فاروقی میں بصرہ چلے گئے تھے، وہاں سے قریب ہی ایک مقام پر ۹۳ھ میں آپ کا انتقال ہوا، بصرہ میں آخری صحابی کی وفات آپ کی ہوئی، آپ کی قبر انور زیارت گاہ خاص و عام ہے ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-anas-bin-malik
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
صحابئ رسول ﷺ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ـ یومِ وصال 28 محرم الحرام 54 ھ خادِمِ رسول: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی اور محدث تھے۔ ہجرت کے کچھ عرصے بعد ان کی والدہ نے انہیں بطورِ خادم حضور ﷺ کے سپرد کر دیا۔ اس وقت ان کی عمر دس برس کی…
صحابئ رسول ﷺ و خادم رسول ﷺ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ـ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37420
یومِ وصال 28 محرم الحرام 54ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/56534
https://t.me/islaamic_Knowledge/37420
یومِ وصال 28 محرم الحرام 54ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/56534
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-01-1445 ᴴ | 15-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
28-01-1445 ᴴ | 16-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1