🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مفتی عبد المقتدر بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت:
حضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بدایونی قدس سرہٗ کے بڑے لڑکے، گیارہ جمادی الاولیٰ دو شنبہ کے دن، صبح صادق کے وقت ۱۲۸۳ میں ولادت با سعادت ہوئی ـ

تاریخی نام غلام پیر رکھا گیا، حضرت سیف اللہ المسلول نے ” مطیع الرسول محمد عبد المقتدر “ نام تجویز فرمایا ـ

تعلیم:
مولانا حکیم سراج الحق ابن مولانا فیض احمد بدایونی نے رسم تسمیہ ادا کرائی، حضرت تاج الفحول نے حکیم صاحب کو بسلسلۂ تعلیم کیا دن روپیہ نذر کیا، ۔۔۔۔ تکمیل علوم حضرت مولانا شاہ نور احمد اور والد ماجد سے کی ـ

درس و تدریس:
درس پوری قوت سے دیتے تھے، والد ماجد کی حیات میں درس کی طرف کامل انہماک تھا، والد صاحب کی وفات کے بعد تمام علائق سے بے تعلق ہوکر یاد الٰہی میں مصروف ہو گئے ـ

بیعت:
بیعت واجازت والد ماجد سے تھی، آپ کے سب سے پہلے مرید مولانا شاہ عبد الماجد بدایونی تھے ـ

زیارات:
دوبار حرمین معظمین اور ایک بار عتبات عالیہ بغداد مقدس، کاظمین و نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ کی زیارت سے آنکھوں اور دل کو روشن فرمایا ۔

۱۳۱۹ھ میں حضرت تاج الفحول کے وصال کے بعد سجادہ مجیدی پر رونق افروز ہوئے، حضرت مولانا شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہٗ سجادہ نشین خانقاہ پیر برکات مارہرہ شریف نے خرقہ پہنایا اور پہلی نذر پیش کی ـ

وصال:
آپ کی موت ہر مومن کے لیے قابل رشک موت ہے، شنبہ کے دن ۲۷ محرم ۱۳۳۴ھ میں نماز فجر میں بحالت سجدہ محبوب حقیقی کا قرب خاص حاصل کیا ـ

الٰہی راقم سطور کو بھی ایسی ہی موت عطا فرمایا حضرت مولانا سید شاہ محمد محدث کچھوچھوی نے بھی آپ سے خصوصی درس لیا ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-abdul-muqtadir-badayuni
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
MuftiAkhtarRazaKhan.com

غوث العالم محبوب یزدانی تارک السلطنت سلطان مخدوم میر اوحد الدین سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

ولادت اور تعلیم و تربیت :
آٹھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف بزرگ سلسلۂِ اشرفیہ کے بانی غوث العالم محبوب یزدانی تارک السلطنت سلطان مخدوم میر اوحد الدین سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سمنان کے صوبہ خراسان کے دار السلطنت سمنان میں سن 707 ھ بقول دیگر 712 ھ میں شہنشاہِ وقت ولیِ کامل حضرت ابراہیم علیہ الرحمہ کے گھر پیدا ہوئے.ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی سات برس کی عمر میں قرأت سبعہ کے ساتھ قرآن کریم حفظ کیا چودہ برس کی عمرمیں تمام علوم متداولہ سے فارغ التحصیل ہوکر سند فراغت حاصل کرلیا

 تخت نشینی اور ترک سلطنت:
جب آپ عمر کی پندرہویں بہار میں داخل ہوۓ تو تو والد گرامی کا وصال ہوگیا سمنان کے بادشاہ بن گئے۔آپ علیہ الرحمہ کے دور حکومت میں سمنان عدل و انصاف اور علم و فن کا مرکز بن گیا۔ 
لیکن اللہ تعالیٰ کو حضرت مخدوم سمنانی کے ذریعہ مخلوق کے رشدوہدایت کا کام لینا تھا اسی لیے آپ کا دل امور سلطنت سے اچاٹ ہونے لگا اور راہ سلوک و معرفت کی طرف طبیعت مائل رہنے لگی۔ حضرت شیخ رکن الدین علاء الدین سمنانی متوفی ۷۳۶ھ شیخ عبدالرزاق کاشی، امام عبداللہ یافعی، سید علی ہمدانی ، شیخ عمادالدین تبریزی اور دیگر اکابر صوفیاء و مشائخ سے علوم شریعت اور عرفان طریقت سے بہرہ مند ہوئے۔(لطائف اشرفی ۱ص۲۰) ۔

بالآخر آپ نے 25 سال کی عمر میں رمضان المبارک کی ۲۷ویں شب میں سلطنت کو ٹھوکر ماردیا حضرت خضر علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور فرمایا اشرف اب وقت آگیا ہے سمنان چھوڑ کر ہندوستان جاؤ تمہارے مرشد شیخ علاء الحق گنج نبات پنڈوی علیہ الرحمہ تمہارا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔آپ نے اپنی والدہ سے سفر کی اجازت طلب کی اور سلطنت اپنے چھوٹے بھائی سید محمد اعرف کے سپرد کرکے ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔
ہندوستان کے مشہور ہندی وفارسی ادیب پدماوت کے مصنف ملک محمد جائسی (1542-1477) جائس شریف حال ضلع امیٹھی اتر پردیش کاقول ہے : امت محمدیہ کے صدقین میں دو شخص ترک سلطنت کے لحاظ سے تمام اولیا پر فضیلت رکھتے ہیں ایک سلطان التارکین خواجہ ابراہیم بن ادہم،دوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہما ۔ (صحائف اشرفی ۱۱۳) حضرت مخدوم پاک،شہر سمنان سے نکل کر سمرقند کے راستے ملتان میں اوچھ شریف پہنچے۔

یہ مقام اس وقت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ متوفی ۷۸۰ ھ کے روحانی تصرفات و رشد و ہدایت کا مرکز بنا ہوا تھا حضرت مخدوم سمنانی حضرت مخدوم جہاں کی خانقاہ میں تین روز تک مہمان رہے۔ خود حضرت مخدوم سمنانی کا بیان ہے کہ حضرت مخدوم جہاں نے آپ کو اکابر مشائخ سے حاصل ہونے والے تمام روحانی فیوض وبرکات اور سلسلہ قادریہ کی اجازت و خلافت سے نوازا۔(خزینۃ الاصفیان ج۲ص۵۷تا۶۳) حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی دہلی ہوتے ہوئے بہار شریف پہنچے وہاں حضرت شیخ شرف الدین احمد یحیٰ مَنِیرِی علیہ الرحمۃ (661ھ–783 ھ) کی نماز جنازہ تیار تھا آپ نے نماز جنازہ پڑھائی ـ

 بنگال آمد اور اشرف جہانگیر کا خطاب:
بہار شریف سے بنگال پہنچے۔ صوبہ بنگال میں ضلع مالدہ میں مقام پنڈوہ شریف کا مرکز حضرت شیخ علاء الحق والدین لاہور رشد و ہدایت بنا ہوا تھا۔ حضرت مخدوم سمنانی کی آمد کی خبر پہلے ہی متعدد بار حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت شیخ علاء الحق کو دے دی تھی۔ حضرت شیخ علاء الحق پنڈوی نے شاہانہ انداز میں حضرت مخدوم سمنانی کا استقبال کیا اور بکمالِ اعزاز،انہیں اپنی خانقاہ میں لائے۔

حضرت شیخ نے سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں مرید فرمایا اور دیگر سلاسل کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ مخدوم سمنانی حضرت شیخ کی خدمت میں رہ کر کثیر مجاہدات و ریاضیات کے ذریعہ منازل سلوک و معرفت کی تکمیل فرمائی۔ ایک روز شیخ کی خانقاہ میں مجاہدہ میں مشغول تھے۔ اسی وقت درودیوار سے یہ غیبی آواز آنے لگی ’’اشرف جہانگیر ، اشرف جہانگیر‘‘ حضرت شیخ نے مسرت کا اظہار فرمایا اور اشارہ غیبی سے یہ معزز خطاب حضرت مخدوم سمنانی کو عطا فرمایا ۔ (مرأۃ الاسرار ،ص۱۰۴۶) ۔

صاحبِ لطائف اشرفی،خلیفہ مخدوم سمنانی ،حضرت نظام الدین یمنی نے لکھا ہے کہ حضرت مخدوم سمنانی نے راہ سلوک میں ۳۰؍ سال سیر و سیاحت کی اور ۵۰۰؍ سو اولیاء ومشائخ وقت سے علوم معرفت و فیوض و برکات حاصل کئے. تکمیل سلوک کے بعد اپنے شیخ کے حکم سے مخدوم سمنانی رشد وہدایت کے لئے بنگال سے مختلف بلاد وامصار کا گشت کرتے ہوئے شیراز ہند جونپوراور بنارس کے راستے سے کچھوچھہ پہونچے جواس وقت یوپی کے ضلع جونپور میں تھا اور اب ضلع امبیڈکرنگر میں ہے۔ جونپور میں ان دنوں سلطان ابراہیم شرقی کی حکومت تھی اور سلطان کی علماء نوازی و مشائخ دوستی کی بنیاد پر جونپورعلماء و مشائخ کا مرکز بنا ہوا تھا۔
1
حضرت مخدوم جون پور پہنچے تو وہاں پر سلطان ابراہیم شرقی اور علامہ قاضی شہاب الدین دولت آبادی اور دیگر علما و مشائخ نے آپ کا پرتپاک استقبال کیا اور کثیر تعداد میں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ خود سلطان آپ کا معتقد ہوا اور اپنے اہل خانہ کو آپ سے مرید کروادیا۔ قاضی شہاب الدین دولت آبادی مخدوم سمنانی کے علم و معرفت سے حد درجہ متاثر ہوئے اور آپ کے معتقد ہوگئے قاضی صاحب کا بعض مسائل میں حضرت مخدوم سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ (صحائف اشرفی ج۱،ص۶۰تا۷۵) کثیر تعداد میں غیر مسلموں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور گمراہوں و فاسقوں نے اپنی گمراہی و فسق و فجور سے توبہ کی۔

 ایک زندۂِ جاوید کرامت:
 ایک مرتبہ بنارس میں ہندوپنڈتوں سے آپ کا مباحثہ ہوا انہوں نے آپ سے دین اسلام کی حقانیت پر دلیل طلب کی، سامنے بت خانہ تھا اور لوگ پوجا میں مصروف تھے۔ آپ نے فرمایا : جس دین کا کلمہ میں پڑھتا ہوں اس کی حقانیت کی گواہی اگر تمہارے بت خود دے دیں تو؟ انہوں نے کہا:اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے ؟ حضرت مخدوم سمنانی نے ایک بت کو مخاطب کرکے کلمہ اسلام پڑھنے کو کہا تو وہ بت زندہ ہوگیا اور آپ کے ساتھ کلمہ پڑھنے لگا۔ آپ کی اس کرامت کو دیکھ کر اور اس کی شہرت سن کر اسی دن ایک لاکھ ہندو مسلمان ہوئے ۔

مقام کچھوچھہ جہاں پر آپ کا مزار پر انور ہے۔پہلے وہاں ایک بہت بڑا جوگی(جادوگر) اپنے پانچ سو تربیت یافتہ چیلوں کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ آپ کی بزرگی و کرامات سے متاثر ہو کر ان تمام کے تمام جادوگرآپ کے دست حق پرست پر اسلام قبول کئے۔ اس جیسے بے شمار کرامتوں کے ذریعہ آپ نے لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل فرمایا اور لاکھوں مسلمانوں کو داخل سلسلہ کر کے ان کی اصلاح و تزکیہ نفس کا سامان مہیا فرمایا۔حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ  علاؤ الدین گنج نبات رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر تبلیغ دین کی غرض سے پوری دنیا کی سیاحت کی اور اس دوران لاکھوں انسانوں کو راہ ہدایت دکھائی آپ نے اس سلسلے میں صرف تقریر پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ تحریری کام بھی جاری رککھا ۔

سید اشرف جہانگیر سمنانی اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور برگزیدہ صوفی کے علاوہ صاحب تصانیف کثیرہ  بزرگ بھی تھے آپ بیک وقت مصنف ، مؤلف، مترجم،مفسر، مجدد، مصلح، محدث، فقیہ، محشی، مؤرخ، مفکر،نعت گوشاعر، منجم اور شارح تھے۔ تمام مروجہ علوم و فنون میں کامل مہارت اور ید طولیٰ رکھتے تھے. محبوب ربانی ہم شبیہ غوث صمدانی حضرت سید شاہ ابواحمد محمد علی حسین اشرف اشرؔفی میاں الحسنی الحسینی قدس سرہ النورانی اپنی مشہور ومعروف کتاب صحائف اشرفی میں لطائف اشرفی کے حوالے سے رقمطراز ہیں:

حضرت محبوب یزدانی کا علم عجیب خداداد علم تھا کہ روئے زمین میں جہاں تشریف لے گئے وہیں کی زبان میں وعظ فرماتے اور اسی زبان میں کتاب تصنیف کرکے وہاں کے لوگوں کے لئے چھوڑ آتے بہت سی کتابیں آپ نے عربی ، فارسی ، سوری، زنگی، اور ترکی مختلف ملک کی زبانوں میں تصنیف فرمائیں جن کی فہرست اگر لکھی جائے تو ایک طومار ہو جائے گی۔ علماء جلیل القدر کا یہ قول ہے کہ جس قدر حضرت محبوب یزدانی نے تصانيف فرمائیں بہت کم علما اس قدر تصانیف کثیرہ کے مالک ہوئے ہوں گے ۔
حضرت سلطا ن سید اشرف جہانگیر سمنانی قد س سرہ النورانی خود فرماتے تھے کہ میری سلطنت میں میرے خاندان سادات نوربخشیہ سے ستر حافظ قرآن اور قاری فرقان ایک زمانے میں  موجود تھے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے حضرت محبوب یزدانی کی کہ پانچ پشتوں میں سلطان ابن سلطان، سید ابن سید، ولی ابن ولی، حافظ ابن حافظ، قاری ابن قاری اور عالم ابن عالم برابر نسلاً بعد نسلاٍ حضرت تک ہوتے چلے آئے۔

علمی آثار:
آپ کی چند معروف کتب کے اسماء درج ذیل ہیں: (1) ترجمہ قرآن کریم ( بزبان  فارسی)(2)رسالہ مناقب: اصحاب کاملین و مراتب خلفائے راشدین (3) رسالہ غوثیہ (4) بشارۃ الاخوان (5) ارشاد الاخوان(6) فوایدالاشرف (7) اشرف الفوائد (8) رسالہ بحث وحدۃ الوجود (9) تحقیقات عشق (10) مکتوبات اشرفی (11) شرف الانساب (12) مناقب السادات(13) فتاوائے اشرفی (14) دیوان اشرف (14) رسالہ تصوف و اخلاق (بزبان اردو)(15) رسالہ حجۃ الذاکرین (16) بشارۃ المریدین (17) کنزالاسرار (18) لطائف اشرفی(ملفوظات) (19) شرح سکندرنامہ(20) سرالاسرار(21)شرح عوارف المعارف (22) شرح فصول الحکم (23) قواعد العقائد (24) تنبیہ الاخوان(25) رسالہ مصطلحات تصوف(26) تفسیر نور بخشیہ (27) رسالہ در تجویز طعنہ یزید(28) بحرالحقائق (29) نحو اشرفیہ (30) کنزالدقائق(31) ذکراسمائے الہی (32) مرقومات اشرفی(33) بحرالاذکار(34)  بشارۃ الذاکرین (35) ربح سامانی (36) رسالہ قبریہ (37) رقعات اشرفی(38) تسخیرکواکب (39) فصول اشرفی (40) شرح ہدایہ (فقہ)(41) حاشیہ بر حواشی مبارک(حوالاجات:معارف سلسلہ اشرفیہ ص11،حیات غوث العالم  ص74 تا 77، صحائف اشرفی حصہ اول 115 تا 118، سید اشرف جہانگیر سمنانی علمی
1
دینی اور روحانی خدمات  صفحہ 173 تا 206) ۔

مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی صرف عربی و فارسی پر ہی عبور نہیں رکھتے تھے بلکہ اردو زبان کے تشکیلی عہد کے میر کارواں تھے جنہیں کچھ ماہرین لسانیات نے دبستانِ اردو کا سب سے پہلا مصنف و ادیب بھی تسلیم کیا ہے چنانچہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سابق سربراہ ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے اپنی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ آپ کا ایک رسالہ (جسے ہم نے فہرست کتب میں چودھویں نمبر پر شمار کرایا ہے) اردو نثر میں ’’ اخلاق و تصوف‘‘ بھی ہے جو اردو نثر کی پہلی تصنیف ہے۔ پروفیسر حامد حسن قادری کی تحقیق بھی یہی ہے کہ اردو میں سب سے پہلی نثری تصنیف سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ کا رسالہ ’’اخلاق و تصوف‘‘ ہے جو 758 ھ مطابق 1308 ء میں تصنیف کیا گیا۔

در اصل یہ قلمی نسخہ جو ایک بزرگ مولانا سید وجہہ الدین کے ارشادات پر مشتمل ہے اور اس کے 28 صفحات ہیں۔ پروفیسر سید حامد حسن قادری صاحب نے اپنی تحقیق انیق سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مذکورہ رسالہ اردو نثر ہی نہیں بلکہ اردو زبان کی پہلی کتاب ہے اردو نثر میں اس سے پہلے کوئی کتاب ثابت نہیں پس محققین کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی اردو نثر نگاری کے پہلے ادیب و مصنف ہیں قادری صاحب اپنی کتاب داستان تاریخ اردو میں یہاں تک تحریر فرمایا ہے کہ :۔
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی کتب میں ایک کتاب “اخلاق و تصوف بزبان اردو بھی ہے محققین کے مطابق یہی اردو نثر کا پہلا رسالہ ہے اب تک کی تحقیق متفق الراۓ تھی کہ شمالی ہند میں اٹھاریوں صدری عیسوی /بارہویں صدی ہجری سے پہلے تصنیف و تالیف و نثر کا کوئی وجود نہ تھا یہ فخر دکن کو حاصل ہے کہ وہاں شمالی ہند سے چارسو برس پہلے اردو کی تصانیف کا آغاز ہوا لیکن اب سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کے رسالہ تصوف کی دریافت سے وہ نظریہ باطل ہوگیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ دکن میں اردو زبان کی بنیاد پڑنے سے پہلے شمالی ہند دکن میں امیرخسرؔو اور سید اشرف جہانگیر سمنانی نے نظم ونثر کی بنیاد ڈالی۔( داستان تاریخ اردو ص 24)۔

مذکورہ بالا شواہد سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی قدس سرہٗ النورانی صرف ایک روحانی شخصیت ہی کے مالک نہیں تھے بلکہ علمی وادبی میدان میں بھی منفرد مقام رکھتے تھے۔ آپ نے جہاں تبلیغ اسلام کے سلسلے میں اہم کردار اداکیا ہے وہیں علمی وادبی لحاظ سے بھی عظیم خدمات انجام دیں اور تاریخ کا ایک حصہ بن گئے لیکن افسو س کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس عظیم شخصیت پر وہ تحقیقی کام نہ ہوسکا جو ہونا چاہئے تھا اگرچہ مختلف حضرات نے آ پ کی سیرت پر لکھا لیکن صرف کشف و کرامات ہی پر اکتفا کیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ آپ کو صرف ایک ولی کامل کی حیثیت  سے ہی جانتے ہیں جس کا نقصان یہ ہوا کہ آپ کی شخصیت کا ادبی پہلو پردۂ خفا میں رہ گیا ضرورت اس بات کی ہے کہ کشف وکرامات کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت کے ادبی و علمی پہلو کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں آپ کی جامع الکمالات شخصیت سے کماحقہ آشنا ہوسکیں
 
وصال:
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃاللہ علیہ نے۲۸محرم الحرام ۸۰۸ھ کو داعئ اجل کو لبیک کہا ۔ آپ کا مزار پر انوار کچھوچھہ مقدسہ ضلع امبیڈکرنگر یوپی میں ہے آپ کی ذات اقدس سے آج تک خلق خدا مستفیض و مستنیر ہورہی ہے ہرسال ماہ محرم کے آخری عشرہ میں 27 1ور 28 تاریخ کو تقریبات عرس نہایت ہی احترام و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں لاکھوں مریدین و زائرین شرکت فرماتے ہیں۔ مولیٰ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو مخدومی فیضان سے مالا مال فرمائے۔

حیات و خدمات
www.muftiakhtarrazakhan.com – A project of  Taaj-al-Shari’ah Foundation, Karachi, Pakistan. Cell: 92 303 2886671 Mail: markweb1011@gmail.com

https://muftiakhtarrazakhan.com/makhdoomsimnani/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ شہاب الدین احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کے والد نے آپ کا نام احمد کویا رکھا شہاب الدین آپ کا پیارا لقب ہے اور کنیت ابوسعادات ہے آپ بسا اوقات اشعار بھی کہتے تھےاس مناسبت سے، ازہر یہ سے معروف و مقبولِ عام و خاص تھے۔

ولادتِ بابرکت:
آپ کی ولادت قریہ چالیم میں ۲۳؍جمادی الاخریٰ ۱۳۰۲ھ/ ۱۸۸۴ ء کو ہوئی۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والد صاحب سے حاصل کی مگر درسِ فخری کی بڑی کتابیں آپ نے فقیہِ عصر علامہ چالل اگت کنجی احمد حاجی مسلیار اور یگانہ روزگار صوفیِ باصفا مردِ مجاہد علی مسلیار سے پڑھیں۔بعد میں آپ نے اعلیٰ تعلیم کی غرض سے جامعہ لطیفیہ ویلور شریف میں داخلہ لیا۔

آپ تحصیلِ علمِ فقہِ حنفی کے لیے یوپی بریلی شریف روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے سرکار اعلیٰ حضرت بریلوی سے تمام علوم و فنون کی اجازت حاصل کی،

آپ کو بہ یک وقت سات فقہوں پر مکمل دسترس حاصل تھی۔

بیعت و خلافت:
مکۂ مکرمہ میں حضرت علامہ مفتیِ مکہ محمد حزب الدین سلیمان اعسکی کے ہاتھ سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوتے ہیں،

جیسا کہ پہلے مذکور ہوا کہ آپ نے فاضل بریلوی سے سلسلۂ رضویہ برکاتیہ میں بھی بیعت حاصل کی تھی۔

وصال:
یعنی ۱۳۷۴ھ ۲۷؍محرم بروز یک شنبہ آپ نے اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ کر عالمِ بقا کا سفر اختیار کیا اور اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shahabuddin-ahmad
Copyright © Zia-e-Taiba
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید اشرف ۔ لقب: جہانگیر ، شاہِ سمنان ۔ آپ کے والد سلطان ابراہیم سمنان کے بادشاہ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام خدیجہ بیگم تھا ۔ آپ سمنان کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔

ولادت باسعادت:
آپ نے 688ھ، میں اس عالم کو روشنی بخشی۔

ولادت کی پیشن گوئی:
آپ کی ولادت سے قبل حضرت خواجہ احمد یسوی کی روح پاک نے آپ کی والدہ ماجدہ کو مطلع کیا تھا کہ آپ  کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا، جو اپنے نورِ ولایت سے دنیا کو روشن کرےگا۔

تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں ہوئی۔آپ نےسات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کیا اور ساتھ ہی ساتھ قرأت بھی سیکھی۔

پھر علوم ظاہری کی طرف توجہ فرمائی۔ چودہ سال کی عمر میں تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی۔

والد کا وصال:
ابھی آپ علوم ظاہری سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

تخت نشینی:
والد کے انتقال کے بعد آپ تخت پر بیٹھے اور حکومت سنبھالی۔

بشارت:
آپ حضرت اویس قرنی کی زیارت سے خواب میں مشرف ہوئے۔ انہوں نےآپ کو ذکرِ اویسیہ تعلیم فرمایا

ایک دن حضرت خضر علیہ السلام نے تشریف لا کر آپ سے فرمایا کہ "اگر خدا کی طلب ہے تو دنیا کو چھوڑو، ہندوستان جاؤ اور شیخ علاؤالدین بنگالی سے اپنا حصہ لیں"۔

تخت سے دست برداری:
حضرت خضر علیہ السلام کی نصیحت آپ کی زندگی میں کایا پلٹ کا باعث ہوئی۔ آپ تاج وتخت سے دست بردار ہوئے۔ حکومت سلطان محمود کے سپرد فرمائی اور اپنی والدہ ماجدہ سے اجازت لے کر ہندوستان روانہ ہوئے۔

ہندوستان میں آمد:
اوچ پہنچ کر حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے روحانی فیوض و برکات سے مستفید و مستفیض ہوئے، پھر دہلی سے بنگال روانہ ہوئے۔

بیعت و خلافت:
حضرت شیخ علاؤالدین بنگالی نے آپ کا شان دار استقبال کیا۔ آپ کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ اپنے حلقۂ ارادت میں آپ کو داخل کیا۔

جہاں گیر کا لقب:
"جہاں گیر" کے لقب سے آپ کو ممتاز کیا اور خرقہ خلافت سے سر فراز کیا۔

سیرت مبارک:
آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ نے چار خانوادوں سے فیض حاصل کیا۔ آپ علم، عبادت، مجاہدہ، زہد و تقویٰ، حلم، جود و سخا، تحمل اور برد باری میں بے نظیر تھے۔

آپ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔
آپ فرماتے ہیں: "جب سالک عقائد و اصطلاح صوفیہ سے واقف ہو گیا تو اس کے لئےضروری ہے کہ زیادہ وقت محفل توحید میں صرف کرے اور مثل بگلے کے بیٹھا رہے ـ

"آپ سے پوچھا گیا کہ بگلے کی طرح بیٹھنے سے کیا مطلب ہے؟ آپ نےجواب دیا۔ "بغیر تلاش کے پانا، بغیر دیکھے ہوئے دیدار ہو جانا" ۔

ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں:
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نوافل پڑھنا خدمت خلق سے بہتر ہے ان کا یہ خیال غلط ہے ۔ کیوں کہ خدمت کا جو اثر قلب پر پڑتا ہے، وہ ظاہر ہے ۔ دونوں کے نتیجے پر نظر کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے، کہ خدمت خلق نوافل پڑھنے سے بہتر ہے"ـ

وصال:
آپ نے 27 محرم 808ھ کو اس جہان فانی سے سفر دار آخرت فرمایا۔

مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انوار کچھوچھ میں مرجع خاص و عام ہے۔

مآخذ:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند : 125

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-ashraf-jahangir-simnani
Copyright © Zia-e-Taiba
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-01-1445 ᴴ | 14-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-01-1445 ᴴ | 15-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1