اولاد و امجاد:
سات بچے تولد ہوئے جن میں سے دو لڑکے فوت ہوگئے۔ اور دو لڑکے تین لڑکیاں بفضلہٖ تعالیٰ موجود ہیں۔ ۱۔ مولانا جنید رضا خاں عرف ۲۔ مولانا عبید الرضا عرف نعمان رضوی مذکورہ صاحبزادگان اس وقت جامعہ نوریہ رضویہ میں درس نظامیہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ صاحبزادگان کر آپ کا صحیح جانشین بنائے۔ آمین۔
بیعت وخلافت:
والد ماجد مولانا حسنین رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو نو عمری ہی میں حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت کرادیا تھا۔ مولانا سبطین رضا کو مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت وخلافت اور نقوش وتعویذات کی اجازت عطا فرمائی۔ نیز والد ماجد علیہ الرحمہ نے بھی اجازت عطا فرمائی۔
حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ کے متعلق حضرت مولانا سبطین رضا بریلوی نے راقم کے نام ایک مکتوب میں حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے متعلق یہ چند الفاظ تحریر فرمائے۔ ‘‘سینکڑوں خوابیاں آپ کی ذات مقدسہ میں پائی جاتی تھیں۔ اور ان کی فطرت وعادت میں داخل تھیں۔ جو خوبیاں سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں بلکہ آئے دن جن کا مشاہدہ ہوتا رہتا تھا۔ وہ تھی ان کی تواضع اور انکساری، مخلوق خدا کی خدمت گزاری اور دنیا سے بے تعلق و بے نیازی کہ جس کا آج کے علماء ومشائخ میں فقدان نظر آتاہے۔ (اِلَّا ماشاء اللہ) اور یہی وہ پسنددیدہ عادتیں تھیں کہ جن کی وجہ سے انہوں نے سیکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کو موہ لیا تھا۔
ذرا غور فرمایئے کہ علم کا وہ گراں جس کے سامنے وقت کا بڑے سے بڑا عالم بھی لب کشائی سے گھبراتا اور ان کے سامنے زانوئے ادب طے کرنے کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہو لیکن کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت کے کسی بھی قول و فعل، تعلی، تفوق بر تری کا کبھی بھی اظہار ہوا ہو۔ کبرہ نخوت تو دور کی بات ہے۔
جبکہ آج حال یہ ہے کہ جس کو تھوڑا سا بھی علم حاصل ہوجاتا ہے وہ غرور علم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور ہم چوں من دیگرے نیست۔
حضرت کی ساری زندگی خدمت خلق میں گزری۔ انہوں نے اپنی صحت و آرام کا خیال کیے بغیر آخر عمر تک مخلوق خدا کی خدمت کرتےرہے [2]۔
یوم وفات:
۲۶ محرم الحرام ۱۴۳۷ ھ
حاشیہ:
[1] ۔ جو اس وقت جامعہ رضویہ واقعہ مرزائی مسجد محلہ گھیر جعفر پرانا شہر بریلی میں مدرس تھے۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ [2] ۔ مکتوب گرامی حضرت مولانا سبطین رضا قادری بریلوی بنام راقم محررہ ۹؍شوال المکرم ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء۔ ۱۲،رضوی غفرلہٗ ـ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sibtain-raza-khan-qadri-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
سات بچے تولد ہوئے جن میں سے دو لڑکے فوت ہوگئے۔ اور دو لڑکے تین لڑکیاں بفضلہٖ تعالیٰ موجود ہیں۔ ۱۔ مولانا جنید رضا خاں عرف ۲۔ مولانا عبید الرضا عرف نعمان رضوی مذکورہ صاحبزادگان اس وقت جامعہ نوریہ رضویہ میں درس نظامیہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ صاحبزادگان کر آپ کا صحیح جانشین بنائے۔ آمین۔
بیعت وخلافت:
والد ماجد مولانا حسنین رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو نو عمری ہی میں حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت کرادیا تھا۔ مولانا سبطین رضا کو مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت وخلافت اور نقوش وتعویذات کی اجازت عطا فرمائی۔ نیز والد ماجد علیہ الرحمہ نے بھی اجازت عطا فرمائی۔
حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ کے متعلق حضرت مولانا سبطین رضا بریلوی نے راقم کے نام ایک مکتوب میں حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے متعلق یہ چند الفاظ تحریر فرمائے۔ ‘‘سینکڑوں خوابیاں آپ کی ذات مقدسہ میں پائی جاتی تھیں۔ اور ان کی فطرت وعادت میں داخل تھیں۔ جو خوبیاں سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں بلکہ آئے دن جن کا مشاہدہ ہوتا رہتا تھا۔ وہ تھی ان کی تواضع اور انکساری، مخلوق خدا کی خدمت گزاری اور دنیا سے بے تعلق و بے نیازی کہ جس کا آج کے علماء ومشائخ میں فقدان نظر آتاہے۔ (اِلَّا ماشاء اللہ) اور یہی وہ پسنددیدہ عادتیں تھیں کہ جن کی وجہ سے انہوں نے سیکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کو موہ لیا تھا۔
ذرا غور فرمایئے کہ علم کا وہ گراں جس کے سامنے وقت کا بڑے سے بڑا عالم بھی لب کشائی سے گھبراتا اور ان کے سامنے زانوئے ادب طے کرنے کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہو لیکن کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت کے کسی بھی قول و فعل، تعلی، تفوق بر تری کا کبھی بھی اظہار ہوا ہو۔ کبرہ نخوت تو دور کی بات ہے۔
جبکہ آج حال یہ ہے کہ جس کو تھوڑا سا بھی علم حاصل ہوجاتا ہے وہ غرور علم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور ہم چوں من دیگرے نیست۔
حضرت کی ساری زندگی خدمت خلق میں گزری۔ انہوں نے اپنی صحت و آرام کا خیال کیے بغیر آخر عمر تک مخلوق خدا کی خدمت کرتےرہے [2]۔
یوم وفات:
۲۶ محرم الحرام ۱۴۳۷ ھ
حاشیہ:
[1] ۔ جو اس وقت جامعہ رضویہ واقعہ مرزائی مسجد محلہ گھیر جعفر پرانا شہر بریلی میں مدرس تھے۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ [2] ۔ مکتوب گرامی حضرت مولانا سبطین رضا قادری بریلوی بنام راقم محررہ ۹؍شوال المکرم ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء۔ ۱۲،رضوی غفرلہٗ ـ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sibtain-raza-khan-qadri-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
عرس حضور امین شریعت، شبیہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ الشاہ مفتی محمد سبطین رضا خان بریلوی نور اللہ مرقدہ
گلِ باغِ حکمت امینِ شریعت
مہِ چرخِ عظمت امینِ شریعت
بڑے خوب صورت، بڑے نیک سیرت
سراپا کرامت امینِ شریعت
فقیہ و محدث، مفکر، محقق
امامِ طریقت امینِ شریعت
خلوص و فا ان کی فطرت میں شامل
سفیرِ محبت امینِ شریعت
زمانہ ہوا فیضیاب ان کے در سے
ہر اِک کی ضرورت امینِ شریعت
سدا بہرِ تبلیغ کوشاں رہے وہ
مسیحائے ملت امینِ شریعت
بریلی و چھتیس گڑھ میں جلایا
چراغِ ہدایت امینِ شریعت
"علومِ رضا " کے امین اور وارث
شہِ تختِ حکمت امینِ شریعت
ہیں "حسنین" والد تو دادا حسن ہیں
رضا کی شباہت امینِ شریعت
اے اشرف رضا برملا تم یہ کہہ دو
ہیں ساکنِ جنت امینِ شریعت
اشرف رضا سبطینی
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/pfbid02ZVXpNcf9ZLBzjaM5FmGqTTP4iF2xhXTzmcZnLqDA6kxm2THGbz71YhN5WLWm6nbHl/
گلِ باغِ حکمت امینِ شریعت
مہِ چرخِ عظمت امینِ شریعت
بڑے خوب صورت، بڑے نیک سیرت
سراپا کرامت امینِ شریعت
فقیہ و محدث، مفکر، محقق
امامِ طریقت امینِ شریعت
خلوص و فا ان کی فطرت میں شامل
سفیرِ محبت امینِ شریعت
زمانہ ہوا فیضیاب ان کے در سے
ہر اِک کی ضرورت امینِ شریعت
سدا بہرِ تبلیغ کوشاں رہے وہ
مسیحائے ملت امینِ شریعت
بریلی و چھتیس گڑھ میں جلایا
چراغِ ہدایت امینِ شریعت
"علومِ رضا " کے امین اور وارث
شہِ تختِ حکمت امینِ شریعت
ہیں "حسنین" والد تو دادا حسن ہیں
رضا کی شباہت امینِ شریعت
اے اشرف رضا برملا تم یہ کہہ دو
ہیں ساکنِ جنت امینِ شریعت
اشرف رضا سبطینی
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/pfbid02ZVXpNcf9ZLBzjaM5FmGqTTP4iF2xhXTzmcZnLqDA6kxm2THGbz71YhN5WLWm6nbHl/
❤1
عرس حضور امین شریعت علیہ الرحمہ
نبیرۂ استاذ زمن، ہم شبیہ مفتی اعظم، امین شریعت، مخدوم اہلسنت، منبع العلم، حضرت علامہ مولانا سبطین رضا خان قادری رضوی بریلوی رضی اللہ عنہ 1346ھ میں محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ نبیرۂ استاذ زمن، مرید و خلیفۂ و ہم شبیہ مفتیٔ اعظم، حضور تاج الشریعہ کے برادر نسبتی، حکیم شریعت کے والد بزرگوار، قائد ملت کے ماموں و سسر گرامی قدر، عالم دین، مفتی اسلام، استاذ العلماء اور شیخ طریقت تھے۔ درس نظامی کی جملہ کتب میں مہارت تامہ حاصل تھی اور بہترین حکیم بھی تھے۔ زندگی کا اکثر حصہ درس و تدریس اور مدارس اہسلنت کی سرپرستی میں گزرا۔ 26 محرم الحرام 1437ھ مطابق 9 نومبر 2015ء بروز پیر وصال فرمایا، حضور تاج الشریعہ نے نماز جنازہ کی امام فرمائی، مزار مبارک کانکر ٹولہ، بریلی شریف، یو پی، ہندستان میں ہے۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء)
Grandson of Ustaz-e-Zaman, Manifestation of Mufti-e-Azam, Ameen-e-Shari’at, Allamah Mawlana Sibtain Raza Khan Qadiri Ridawi Baraylawi (RadiyAllahu Anhu) was born in 1346 AH in Muhallah Sodagran Bareilly Sharif. He was the grandson of Ustaz-e-Zaman; disciple, caliph, and the manifestation of Mufti-e-Azam; brother-in-law of Taajush Shari’ah, father of Hakeem-e-Shari’at, father-in-law of Qa’id-e-Millat, religious scholar; Mufti of Islam; teacher of scholars; and spiritual guide. He was well versed in the books of Dars-e-Nizami and was also an excellent physician. Most of his life was spent teaching and supervising the seminaries of Ahl as-Sunnah. He passed away on Monday, 26 Muharram 1437 AH (9 November 2015 CE). Taajush Shari’ah led the funeral prayers. His blessed mausoleum is in Kankar Tola, Bareilly Sharif, U.P., India. [Mufti-e-Azam Aur Unke Khulafa]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0p5anzfrFEH7KonFmtQH67jXApt1x5rUbnrSZD9zbE9sVmRyGy6Xb7pNtrzf8HfTVl&id=100050689590519
نبیرۂ استاذ زمن، ہم شبیہ مفتی اعظم، امین شریعت، مخدوم اہلسنت، منبع العلم، حضرت علامہ مولانا سبطین رضا خان قادری رضوی بریلوی رضی اللہ عنہ 1346ھ میں محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ نبیرۂ استاذ زمن، مرید و خلیفۂ و ہم شبیہ مفتیٔ اعظم، حضور تاج الشریعہ کے برادر نسبتی، حکیم شریعت کے والد بزرگوار، قائد ملت کے ماموں و سسر گرامی قدر، عالم دین، مفتی اسلام، استاذ العلماء اور شیخ طریقت تھے۔ درس نظامی کی جملہ کتب میں مہارت تامہ حاصل تھی اور بہترین حکیم بھی تھے۔ زندگی کا اکثر حصہ درس و تدریس اور مدارس اہسلنت کی سرپرستی میں گزرا۔ 26 محرم الحرام 1437ھ مطابق 9 نومبر 2015ء بروز پیر وصال فرمایا، حضور تاج الشریعہ نے نماز جنازہ کی امام فرمائی، مزار مبارک کانکر ٹولہ، بریلی شریف، یو پی، ہندستان میں ہے۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء)
Grandson of Ustaz-e-Zaman, Manifestation of Mufti-e-Azam, Ameen-e-Shari’at, Allamah Mawlana Sibtain Raza Khan Qadiri Ridawi Baraylawi (RadiyAllahu Anhu) was born in 1346 AH in Muhallah Sodagran Bareilly Sharif. He was the grandson of Ustaz-e-Zaman; disciple, caliph, and the manifestation of Mufti-e-Azam; brother-in-law of Taajush Shari’ah, father of Hakeem-e-Shari’at, father-in-law of Qa’id-e-Millat, religious scholar; Mufti of Islam; teacher of scholars; and spiritual guide. He was well versed in the books of Dars-e-Nizami and was also an excellent physician. Most of his life was spent teaching and supervising the seminaries of Ahl as-Sunnah. He passed away on Monday, 26 Muharram 1437 AH (9 November 2015 CE). Taajush Shari’ah led the funeral prayers. His blessed mausoleum is in Kankar Tola, Bareilly Sharif, U.P., India. [Mufti-e-Azam Aur Unke Khulafa]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0p5anzfrFEH7KonFmtQH67jXApt1x5rUbnrSZD9zbE9sVmRyGy6Xb7pNtrzf8HfTVl&id=100050689590519
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
عرس حضور امین شریعت علیہ الرحمہ نبیرۂ استاذ زمن، ہم شبیہ مفتی اعظم، امین شریعت، مخدوم اہلسنت، منبع العلم، حضرت علامہ مولانا سبطین رضا خان قادری رضوی بریلوی رضی اللہ عنہ 1346ھ میں محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ نبیرۂ استاذ زمن، مرید و خلیفۂ…
نبیرۂ استاذ زمن، ہم شبیہ مفتی اعظم، امین شریعت، مخدوم اہلسنت، منبع العلم، حضرت علامہ مولانا سبطین رضا خان قادری رضوی بریلوی رضی اللہ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37333
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/37333
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
❤1
ْ حضرت بابا تاج الدین ناگوری 🌹
تاج الاولیاء ناگوری رحمۃ اللہ علیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-tajuddin-aulia-nagpur
وصال: 26 محرم الحرام 1244ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
تاج الاولیاء ناگوری رحمۃ اللہ علیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-tajuddin-aulia-nagpur
وصال: 26 محرم الحرام 1244ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-01-1445 ᴴ | 13-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-01-1445 ᴴ | 14-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1