حضرت قاضی عبد المقتدر دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
قاضی عبد المقتدر بن قاضی رکن الدین الشریحی الکندی: عالم، فاضل، فقیہ ادیب، فصیح، بلیغ، جامع علوم نقلیہ و عقلیہ، صاحبِ ظاہر و باطن تھے، قاضی شہاب الدین دولت آبادی نے آپ سے علم حاصل کیا ۔ بہت سے قصائد و غزلیات عربی آپ کی تصنیفات سے ہیں، خصوصاً آپ کا وہ قصیدہ جو معارضۂ لامیۃ العجم میں آپ نے کہا ہے، آپ کی کمال فصاحت و بلاغت پر دال ہے ۔ آپ ہمیشہ تدریس و تنشیر علوم میں مصروف رہے اور اکثر طالب علموں کو تحصیل علم اور حفظ شریعت کی وصیت کیا کرتے اور فرماتے تھے کہ ایک مسئلہ شرعیہ میں فکر کرنا اس ہزار رکعت پر فضیلت رکھتا ہے جو عجب و رویا سے پڑھی جائے ۔
کہتے ہیں کہ آپ طالب علمی کے وقت اکثر شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے پاس جاتے اور ان سے بحث کرتے اور وہ آپ کی بحث کو پسند کرتے اور آپ کو تحصیل علوم کی ترغیب دیتے تھے، یہاں تک کہ آپ بعد تحصیل علوم کے شیخ موصوف کے مرید ہوئے اور صفائے باطنی حاصل کر کے خرقۂ خلافت حاصل کیا اور مناقبِ چشت میں ایک کتاب مناقب الصدیقین تصنیف کی جس میں شیخ موصوف کے بڑے مناقب درج کیے ـ
وصال:
اور اٹھاسی سال کی عمر میں ۲۶ محرم ۷۹۱ھ میں وفات پائی اور درگاہ خواجۂ قطب الدین بختیار وشی کاکی میں شمسی کے حوض پر اپنے والد کے متصل مدفون ہوئے۔’’نور سعادت‘‘ تاریخ وفات ہے ۔ (حدائق الحنفیہ) ـ
کرامات:
ایک دن قاضی شہاب الدین کو کہیں سے کچھ سونا مِلا، تو انہوں نے اپنی والدہ سے خلوت اور تنہائی میں کہا کہ اس کو کہیں چھپا دینا چاہیے، اس کے بعد قاضی شہاب الدین اپنے استاد قاضی عبد المقتدر کے پاس پڑھنے کے لیے گئے تو قاضی عبد المقتدر نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ قاضی شہاب الدین! تم تو سونا چھپانے کے چکر میں پڑے ہوئے ہو! اپنی تعلیم میں کب مشغول ہوگے؟
قصیدہ لامیہ:
یا سائق الظعن فی الاسحارو الاصل
سلم علی دار سلمیٰ فابک ثم سلٖ
عن الظباء من دابھا ابداً
صید الاسود بحسن الدل و البخلٖ
وعن ملوک کرام قد مضو اقدداً
حتے یحبیک عنہ شاہد الطللٖ
اضحت اذابعدت عنھا کواعبھا
اطلالھا مثل اجفان بلامقلٖ
فدیٰ فوادی اعرابیۃ سکنت
بیتاً من القلب معموراً بلا حولٖ
من نورھا و جنتھا وحسن غرتھا
من طیب طرتھا من طرفھا الثملٖ
الشمس فی اسف والبدفی کلف
والمسک فی شغف والریم فی الحجلٖ
اور آخِر میں نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کی مدح کـرتے ہیں:
محمد خیر خلق اللہ قاطبۃ
ھوالذی جل عن مثل و عن مثلٖ
لہ المزایا بلا نقص ولاشبہ
ولہ العطایابلا من ولا بدلٖ
لہ المکارم ابھیٰ من نجوم دجیٰ
لہ الغرائم! مضیٰ من قنا البطلٖ
لہ الجمال اذا ما الشمس قدنظرت
الیہ قالت یا لیت ذلک لی
لہ الفضائل اجدی من عصا کسرت
لہ الشمائل احلیٰ من جنا العسلٖ
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abdul-muqtadir-dehlvi
قاضی عبد المقتدر بن قاضی رکن الدین الشریحی الکندی: عالم، فاضل، فقیہ ادیب، فصیح، بلیغ، جامع علوم نقلیہ و عقلیہ، صاحبِ ظاہر و باطن تھے، قاضی شہاب الدین دولت آبادی نے آپ سے علم حاصل کیا ۔ بہت سے قصائد و غزلیات عربی آپ کی تصنیفات سے ہیں، خصوصاً آپ کا وہ قصیدہ جو معارضۂ لامیۃ العجم میں آپ نے کہا ہے، آپ کی کمال فصاحت و بلاغت پر دال ہے ۔ آپ ہمیشہ تدریس و تنشیر علوم میں مصروف رہے اور اکثر طالب علموں کو تحصیل علم اور حفظ شریعت کی وصیت کیا کرتے اور فرماتے تھے کہ ایک مسئلہ شرعیہ میں فکر کرنا اس ہزار رکعت پر فضیلت رکھتا ہے جو عجب و رویا سے پڑھی جائے ۔
کہتے ہیں کہ آپ طالب علمی کے وقت اکثر شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے پاس جاتے اور ان سے بحث کرتے اور وہ آپ کی بحث کو پسند کرتے اور آپ کو تحصیل علوم کی ترغیب دیتے تھے، یہاں تک کہ آپ بعد تحصیل علوم کے شیخ موصوف کے مرید ہوئے اور صفائے باطنی حاصل کر کے خرقۂ خلافت حاصل کیا اور مناقبِ چشت میں ایک کتاب مناقب الصدیقین تصنیف کی جس میں شیخ موصوف کے بڑے مناقب درج کیے ـ
وصال:
اور اٹھاسی سال کی عمر میں ۲۶ محرم ۷۹۱ھ میں وفات پائی اور درگاہ خواجۂ قطب الدین بختیار وشی کاکی میں شمسی کے حوض پر اپنے والد کے متصل مدفون ہوئے۔’’نور سعادت‘‘ تاریخ وفات ہے ۔ (حدائق الحنفیہ) ـ
کرامات:
ایک دن قاضی شہاب الدین کو کہیں سے کچھ سونا مِلا، تو انہوں نے اپنی والدہ سے خلوت اور تنہائی میں کہا کہ اس کو کہیں چھپا دینا چاہیے، اس کے بعد قاضی شہاب الدین اپنے استاد قاضی عبد المقتدر کے پاس پڑھنے کے لیے گئے تو قاضی عبد المقتدر نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ قاضی شہاب الدین! تم تو سونا چھپانے کے چکر میں پڑے ہوئے ہو! اپنی تعلیم میں کب مشغول ہوگے؟
قصیدہ لامیہ:
یا سائق الظعن فی الاسحارو الاصل
سلم علی دار سلمیٰ فابک ثم سلٖ
عن الظباء من دابھا ابداً
صید الاسود بحسن الدل و البخلٖ
وعن ملوک کرام قد مضو اقدداً
حتے یحبیک عنہ شاہد الطللٖ
اضحت اذابعدت عنھا کواعبھا
اطلالھا مثل اجفان بلامقلٖ
فدیٰ فوادی اعرابیۃ سکنت
بیتاً من القلب معموراً بلا حولٖ
من نورھا و جنتھا وحسن غرتھا
من طیب طرتھا من طرفھا الثملٖ
الشمس فی اسف والبدفی کلف
والمسک فی شغف والریم فی الحجلٖ
اور آخِر میں نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کی مدح کـرتے ہیں:
محمد خیر خلق اللہ قاطبۃ
ھوالذی جل عن مثل و عن مثلٖ
لہ المزایا بلا نقص ولاشبہ
ولہ العطایابلا من ولا بدلٖ
لہ المکارم ابھیٰ من نجوم دجیٰ
لہ الغرائم! مضیٰ من قنا البطلٖ
لہ الجمال اذا ما الشمس قدنظرت
الیہ قالت یا لیت ذلک لی
لہ الفضائل اجدی من عصا کسرت
لہ الشمائل احلیٰ من جنا العسلٖ
( اخبار الاخیار )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abdul-muqtadir-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Qazi Abdul Muqtadir Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
❤1
حضرت مولانا حامد علی فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ضلع پر تاب گڈھ وطن، وہیں پیدا ہوئے، مدرسہ منظر اسلام بریلی کے اساتذہ مولانا نور الحسین رام پوری، مولانا رحم الٰہی منگلوری سے درسیات پڑھ کر ۱۳۴۰ھ میں سند تکمیل حاصل کی، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے دورِ طالب علمی ہی میں مرید ہوگئے تھے، فراغت کے بعد تجارت کو شغلہ بنایا، کمبل کے کاروبار کے سلسلہ میں ۱۹۲۲ھ میں رائے پور گئے، گاؤں گاؤں پھر تجارت کے ساتھ تبلیغی فریضہ انجام دینے لگے، اسی سنہ میں بغاوت کے جرم میں گرفتار کرلئے گئے، دوسال بعد رہائی پائی، رائے پور میں تعلیم کے فروغ اور اشاعت مذہب اہل سنت کے لیے کرایہ کے مکان میں مسلم یتیم خانہ قائم کیا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ورکنگ کمیتی کے ممبر تھے، نہر وشاستری کے ساتھ جیل کی رفاقت رہی،سیاسی بصیرت بہت بہتر تھی، بیعت بھی لیتے تھے،
یوم وفات:
۲۶؍محرم ۱۳۸۸ھ کی صبح کو چار بجے وفات ہوئی،مرقد رائےپور میں ہے۔ ۔۔۔۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-ali-farooqi
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/56414
یوم وفات:
۲۶؍محرم ۱۳۸۸ھ کی صبح کو چار بجے وفات ہوئی،مرقد رائےپور میں ہے۔ ۔۔۔۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-ali-farooqi
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/56414
❤1
مخدوم اہلسنت حضرت مولانا سبطین رضا قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
مخدوم ملت منبع العلم حضرت علامہ مولانا سبطین رضا قادری رضوی بریلوی بن حکیم الاسلام مولانا حسنین رضا بن اُستاد زمن مولانا حسن رضا (برادر اصغر امام احمد رضا بریلوی) بن امام المتکلمین مفتی نقی علی خاں برکاتی ـ
ولادت:
اوائل نومبر ۱۹۲۷ء کو محلہ سودا گران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
خاندانی حالات:
آبائی مکان مولانا سبطین رضا کی پرورش و تربیت والدین کریمین نے فرمائی۔ جائے پیدائش آپ کا آبائی مکان جو خانقاہ عالیہ قادریہ رضویہ کے عقب میں واقع ہے اور جس میں ایک عرصہ تک مولانا سبطین رضا کے جد امجد مولانا حسن رضا بریلوی سکونت پذیر رہے، بعد ازاں والد ماجد مولانا حسنین رضا بریلوی رہتے رہے۔ مولانا حسنین رضا بریلوی کسی وجہ سے پرانا شہر محلہ کانکر ٹولہ بریلی میں منتقل ہوگئے تھے۔ آج مولانا سبطین رضا کا یہی مسکن ہے۔ جد امجد مولانا حسن رضا بریلوی کے مکان عقب خانقاہ رضویہ میں آپ کے تایا حکیم حسنین رضا خاں ۱۹۴۷ء تک سکونت پذیر رہے۔ اور اس وقت کے ہنگامی حالات میں اُن کی عدم موجودگی میں ایک پنجابی زبردستی اس پر قابض ہوگیا تھا۔ جو کم و بیش بیس سال تک رہتا رہا۔ جس کو آج سے آٹھ سال قبل مولانا منان رضا قادری بریلوی نے کوشش کر کے خالی کرایا اور اس کی مرمت نیز کچھ حصہ تعمیر کرایا اور اب مولانا منان رضا خاں قادری اس کے مالک اور قابض ہیں۔
تسمیہ خوانی:
جب مولانا سبطین رضا بریلوی سن شعور کو پہنچے تو والدین کریمین نے اس کا خصوصی انتظام فرمایا۔ اچھے اچھے کپڑے سلوائے گئے۔ دولہا بنایا گیا اور آپ کے چھوٹے دادا حضرت مولانا محمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ نے بسم اللہ پڑھائی۔ اور اس تقریب میں بہت سے اعزاء اور والد ماجد کے بہت سے احباب جن کا حلقہ بہت وسیع تھا شریک ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مولانا سبطین رضا کا بچپن بفضلہٖ تعالیٰ والدین کی بے پناہ شفقت و محبت کے سایہ میں نہایت خیر و خوبی سے گزرا۔ مولانا حسنین رضا بریلوی نے تعلیم و تربیت اور نشو ونما کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔ محلے کے شریر اور کھاڑی بچوں سے ملنے کی سخت ممانعت تھی۔ اس کی نگرانی رکھی جاتی تھی ایک طرف والد ماجد کا یہی مکان جو اس وقت ان کی مردانہ نشست گاہ تھی۔ اگر والد ماجد نہ ہوتے تو ان کا خادم جسے انہوں نے بچپن سے پالا تھا۔ اس کو حکم تھا کہ میری عدم موجودگی میں ان کی نگرانی رکھو اور یہ گھر سے باہر نہ جانے پائیں۔ اس کے علاوہ ایک جانب نانا جان کی بیٹھک تو دوسری جانب ماموں صاحب کی نشست گاہ اور یہ سب بزرگ بطور خاص نگراتی کرتے۔
مولانا سبطین رضا رضوی بریلوی کی تعلیم کا آغاز گھر ہی سے ہوا۔ ابتدائی استاد والدین ہیں۔ نیز قرآن پاک حافظ سید شبیر علی رضوی بریلوی سے پڑھا۔ ابتدائی فارسی اردو اور خوش نویسی کی مشق خود والد ماجد نے کرائی۔ خطوط نویسی اور کچھ فارسی ماموں مرحوم سے بھی پڑھی۔ شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد رضوی جونپوری [1] سے میزان، منشعب وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ مولانا سبطین رضا مولانا قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری کے ہمراہ روزانہ مدرسہ جایا کرتے تھے۔ ان کی صحبت کیمیا اثر نے علم کا کندن بنادیا، بچپن ہی سے فقہ وغیرہ میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ مولانا سبطین رضا نے کچھ دنوں بعد دارالعلوم مظہر اسلام میں داخلہ لیا اور ابتداء سے انتہا علی جملہ کتب متداولہ کی یہیں پر تعلیم حاصل کی۔ دو سال کے لیے آپ اپنے رفیق درس مولانا فیضان تشریف لے گئے اور جدیدی علوم میں ماہرین علوم سے اکتساب فیض کیا۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ مولانا محمد امجد علی رضوی اعظمی ۲۔ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی فیصل آباد ۳۔ حکیم الاسلام مولانا حسنین رضا قادری بریلوی ۴۔ شیخ الادب مولانا غلام جیلانی رجوی اعظمی ۵۔ حضرت مولانا حافظ عبدالرؤف رضوی بلیاوی ۶۔ شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد رضوی جونپوری ۷۔ حضرت مولانا مفتی وقار الدین رضوی دارالعلوم امجدیہ کراچی ۸۔ پروفیسر مولانا سید ظہیر الدین ضوی زیدی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ۹۔ حضرت مولانا غلام یٰسین رضوی پور نوری
خدمات دینیہ:
مولانا سبطین رضا بریلوی درس نظامیہ کی کتب میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ تدریسی زندگی کا آغاز دارالعلوم مظہر اسلام بریلی سے ہوا۔ بعدہٗ قاری غلام محیی الدین رضوی شیری کے مدرسہ اشاعت الحق ہلدوانی ضلع نینی تعال میں تین سال تک درس وتدریس میں مشغول رہے۔ اسی دوران مدارس اسلامیہ کے سالانہ امتحانات میں ممتحن کی حیثیت سے شرکت کی۔ مولانا سبطین رضا جامعہ عربیہ ناگپور میں درسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت مدرسہ فیض الاسلام کشیکل ضلع بستر میں تقریباً پندرہ سال سے خدمت دینی میں مصروف ہیں اور رائے پور میں ادارہ اہلسنت کی سر پرستی بھی آپ کے ذمہ ہے۔
عقد مسنون:
حضرت مولانا سبطین رضا کا عقد مسنون مفتی عبدالرشید فتح پوری کی دختر سے ۷ مارچ ۱۹۵۷ء میں ہوا۔ یہ رشتہ حضور مفتی قدس سرہٗ کے حسب الانتخاب سے ہوا۔
نام و نسب:
مخدوم ملت منبع العلم حضرت علامہ مولانا سبطین رضا قادری رضوی بریلوی بن حکیم الاسلام مولانا حسنین رضا بن اُستاد زمن مولانا حسن رضا (برادر اصغر امام احمد رضا بریلوی) بن امام المتکلمین مفتی نقی علی خاں برکاتی ـ
ولادت:
اوائل نومبر ۱۹۲۷ء کو محلہ سودا گران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
خاندانی حالات:
آبائی مکان مولانا سبطین رضا کی پرورش و تربیت والدین کریمین نے فرمائی۔ جائے پیدائش آپ کا آبائی مکان جو خانقاہ عالیہ قادریہ رضویہ کے عقب میں واقع ہے اور جس میں ایک عرصہ تک مولانا سبطین رضا کے جد امجد مولانا حسن رضا بریلوی سکونت پذیر رہے، بعد ازاں والد ماجد مولانا حسنین رضا بریلوی رہتے رہے۔ مولانا حسنین رضا بریلوی کسی وجہ سے پرانا شہر محلہ کانکر ٹولہ بریلی میں منتقل ہوگئے تھے۔ آج مولانا سبطین رضا کا یہی مسکن ہے۔ جد امجد مولانا حسن رضا بریلوی کے مکان عقب خانقاہ رضویہ میں آپ کے تایا حکیم حسنین رضا خاں ۱۹۴۷ء تک سکونت پذیر رہے۔ اور اس وقت کے ہنگامی حالات میں اُن کی عدم موجودگی میں ایک پنجابی زبردستی اس پر قابض ہوگیا تھا۔ جو کم و بیش بیس سال تک رہتا رہا۔ جس کو آج سے آٹھ سال قبل مولانا منان رضا قادری بریلوی نے کوشش کر کے خالی کرایا اور اس کی مرمت نیز کچھ حصہ تعمیر کرایا اور اب مولانا منان رضا خاں قادری اس کے مالک اور قابض ہیں۔
تسمیہ خوانی:
جب مولانا سبطین رضا بریلوی سن شعور کو پہنچے تو والدین کریمین نے اس کا خصوصی انتظام فرمایا۔ اچھے اچھے کپڑے سلوائے گئے۔ دولہا بنایا گیا اور آپ کے چھوٹے دادا حضرت مولانا محمد رضا قادری بریلوی علیہ الرحمہ نے بسم اللہ پڑھائی۔ اور اس تقریب میں بہت سے اعزاء اور والد ماجد کے بہت سے احباب جن کا حلقہ بہت وسیع تھا شریک ہوئے۔
تعلیم و تربیت:
حضرت مولانا سبطین رضا کا بچپن بفضلہٖ تعالیٰ والدین کی بے پناہ شفقت و محبت کے سایہ میں نہایت خیر و خوبی سے گزرا۔ مولانا حسنین رضا بریلوی نے تعلیم و تربیت اور نشو ونما کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔ محلے کے شریر اور کھاڑی بچوں سے ملنے کی سخت ممانعت تھی۔ اس کی نگرانی رکھی جاتی تھی ایک طرف والد ماجد کا یہی مکان جو اس وقت ان کی مردانہ نشست گاہ تھی۔ اگر والد ماجد نہ ہوتے تو ان کا خادم جسے انہوں نے بچپن سے پالا تھا۔ اس کو حکم تھا کہ میری عدم موجودگی میں ان کی نگرانی رکھو اور یہ گھر سے باہر نہ جانے پائیں۔ اس کے علاوہ ایک جانب نانا جان کی بیٹھک تو دوسری جانب ماموں صاحب کی نشست گاہ اور یہ سب بزرگ بطور خاص نگراتی کرتے۔
مولانا سبطین رضا رضوی بریلوی کی تعلیم کا آغاز گھر ہی سے ہوا۔ ابتدائی استاد والدین ہیں۔ نیز قرآن پاک حافظ سید شبیر علی رضوی بریلوی سے پڑھا۔ ابتدائی فارسی اردو اور خوش نویسی کی مشق خود والد ماجد نے کرائی۔ خطوط نویسی اور کچھ فارسی ماموں مرحوم سے بھی پڑھی۔ شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد رضوی جونپوری [1] سے میزان، منشعب وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ مولانا سبطین رضا مولانا قاضی شمس الدین احمد رضوی جعفری کے ہمراہ روزانہ مدرسہ جایا کرتے تھے۔ ان کی صحبت کیمیا اثر نے علم کا کندن بنادیا، بچپن ہی سے فقہ وغیرہ میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ مولانا سبطین رضا نے کچھ دنوں بعد دارالعلوم مظہر اسلام میں داخلہ لیا اور ابتداء سے انتہا علی جملہ کتب متداولہ کی یہیں پر تعلیم حاصل کی۔ دو سال کے لیے آپ اپنے رفیق درس مولانا فیضان تشریف لے گئے اور جدیدی علوم میں ماہرین علوم سے اکتساب فیض کیا۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ صدر الشریعہ مولانا محمد امجد علی رضوی اعظمی ۲۔ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد رضوی فیصل آباد ۳۔ حکیم الاسلام مولانا حسنین رضا قادری بریلوی ۴۔ شیخ الادب مولانا غلام جیلانی رجوی اعظمی ۵۔ حضرت مولانا حافظ عبدالرؤف رضوی بلیاوی ۶۔ شمس العلماء قاضی شمس الدین احمد رضوی جونپوری ۷۔ حضرت مولانا مفتی وقار الدین رضوی دارالعلوم امجدیہ کراچی ۸۔ پروفیسر مولانا سید ظہیر الدین ضوی زیدی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ۹۔ حضرت مولانا غلام یٰسین رضوی پور نوری
خدمات دینیہ:
مولانا سبطین رضا بریلوی درس نظامیہ کی کتب میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ تدریسی زندگی کا آغاز دارالعلوم مظہر اسلام بریلی سے ہوا۔ بعدہٗ قاری غلام محیی الدین رضوی شیری کے مدرسہ اشاعت الحق ہلدوانی ضلع نینی تعال میں تین سال تک درس وتدریس میں مشغول رہے۔ اسی دوران مدارس اسلامیہ کے سالانہ امتحانات میں ممتحن کی حیثیت سے شرکت کی۔ مولانا سبطین رضا جامعہ عربیہ ناگپور میں درسی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت مدرسہ فیض الاسلام کشیکل ضلع بستر میں تقریباً پندرہ سال سے خدمت دینی میں مصروف ہیں اور رائے پور میں ادارہ اہلسنت کی سر پرستی بھی آپ کے ذمہ ہے۔
عقد مسنون:
حضرت مولانا سبطین رضا کا عقد مسنون مفتی عبدالرشید فتح پوری کی دختر سے ۷ مارچ ۱۹۵۷ء میں ہوا۔ یہ رشتہ حضور مفتی قدس سرہٗ کے حسب الانتخاب سے ہوا۔
❤1
اولاد و امجاد:
سات بچے تولد ہوئے جن میں سے دو لڑکے فوت ہوگئے۔ اور دو لڑکے تین لڑکیاں بفضلہٖ تعالیٰ موجود ہیں۔ ۱۔ مولانا جنید رضا خاں عرف ۲۔ مولانا عبید الرضا عرف نعمان رضوی مذکورہ صاحبزادگان اس وقت جامعہ نوریہ رضویہ میں درس نظامیہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ صاحبزادگان کر آپ کا صحیح جانشین بنائے۔ آمین۔
بیعت وخلافت:
والد ماجد مولانا حسنین رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو نو عمری ہی میں حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت کرادیا تھا۔ مولانا سبطین رضا کو مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت وخلافت اور نقوش وتعویذات کی اجازت عطا فرمائی۔ نیز والد ماجد علیہ الرحمہ نے بھی اجازت عطا فرمائی۔
حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ کے متعلق حضرت مولانا سبطین رضا بریلوی نے راقم کے نام ایک مکتوب میں حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے متعلق یہ چند الفاظ تحریر فرمائے۔ ‘‘سینکڑوں خوابیاں آپ کی ذات مقدسہ میں پائی جاتی تھیں۔ اور ان کی فطرت وعادت میں داخل تھیں۔ جو خوبیاں سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں بلکہ آئے دن جن کا مشاہدہ ہوتا رہتا تھا۔ وہ تھی ان کی تواضع اور انکساری، مخلوق خدا کی خدمت گزاری اور دنیا سے بے تعلق و بے نیازی کہ جس کا آج کے علماء ومشائخ میں فقدان نظر آتاہے۔ (اِلَّا ماشاء اللہ) اور یہی وہ پسنددیدہ عادتیں تھیں کہ جن کی وجہ سے انہوں نے سیکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کو موہ لیا تھا۔
ذرا غور فرمایئے کہ علم کا وہ گراں جس کے سامنے وقت کا بڑے سے بڑا عالم بھی لب کشائی سے گھبراتا اور ان کے سامنے زانوئے ادب طے کرنے کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہو لیکن کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت کے کسی بھی قول و فعل، تعلی، تفوق بر تری کا کبھی بھی اظہار ہوا ہو۔ کبرہ نخوت تو دور کی بات ہے۔
جبکہ آج حال یہ ہے کہ جس کو تھوڑا سا بھی علم حاصل ہوجاتا ہے وہ غرور علم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور ہم چوں من دیگرے نیست۔
حضرت کی ساری زندگی خدمت خلق میں گزری۔ انہوں نے اپنی صحت و آرام کا خیال کیے بغیر آخر عمر تک مخلوق خدا کی خدمت کرتےرہے [2]۔
یوم وفات:
۲۶ محرم الحرام ۱۴۳۷ ھ
حاشیہ:
[1] ۔ جو اس وقت جامعہ رضویہ واقعہ مرزائی مسجد محلہ گھیر جعفر پرانا شہر بریلی میں مدرس تھے۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ [2] ۔ مکتوب گرامی حضرت مولانا سبطین رضا قادری بریلوی بنام راقم محررہ ۹؍شوال المکرم ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء۔ ۱۲،رضوی غفرلہٗ ـ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sibtain-raza-khan-qadri-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
سات بچے تولد ہوئے جن میں سے دو لڑکے فوت ہوگئے۔ اور دو لڑکے تین لڑکیاں بفضلہٖ تعالیٰ موجود ہیں۔ ۱۔ مولانا جنید رضا خاں عرف ۲۔ مولانا عبید الرضا عرف نعمان رضوی مذکورہ صاحبزادگان اس وقت جامعہ نوریہ رضویہ میں درس نظامیہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ صاحبزادگان کر آپ کا صحیح جانشین بنائے۔ آمین۔
بیعت وخلافت:
والد ماجد مولانا حسنین رضا علیہ الرحمہ نے آپ کو نو عمری ہی میں حضور مفتی اعظم کے دستِ حق پرست پر بیعت کرادیا تھا۔ مولانا سبطین رضا کو مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے اجازت وخلافت اور نقوش وتعویذات کی اجازت عطا فرمائی۔ نیز والد ماجد علیہ الرحمہ نے بھی اجازت عطا فرمائی۔
حضور مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ کے متعلق حضرت مولانا سبطین رضا بریلوی نے راقم کے نام ایک مکتوب میں حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کے متعلق یہ چند الفاظ تحریر فرمائے۔ ‘‘سینکڑوں خوابیاں آپ کی ذات مقدسہ میں پائی جاتی تھیں۔ اور ان کی فطرت وعادت میں داخل تھیں۔ جو خوبیاں سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں بلکہ آئے دن جن کا مشاہدہ ہوتا رہتا تھا۔ وہ تھی ان کی تواضع اور انکساری، مخلوق خدا کی خدمت گزاری اور دنیا سے بے تعلق و بے نیازی کہ جس کا آج کے علماء ومشائخ میں فقدان نظر آتاہے۔ (اِلَّا ماشاء اللہ) اور یہی وہ پسنددیدہ عادتیں تھیں کہ جن کی وجہ سے انہوں نے سیکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کو موہ لیا تھا۔
ذرا غور فرمایئے کہ علم کا وہ گراں جس کے سامنے وقت کا بڑے سے بڑا عالم بھی لب کشائی سے گھبراتا اور ان کے سامنے زانوئے ادب طے کرنے کو اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہو لیکن کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ حضرت کے کسی بھی قول و فعل، تعلی، تفوق بر تری کا کبھی بھی اظہار ہوا ہو۔ کبرہ نخوت تو دور کی بات ہے۔
جبکہ آج حال یہ ہے کہ جس کو تھوڑا سا بھی علم حاصل ہوجاتا ہے وہ غرور علم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور ہم چوں من دیگرے نیست۔
حضرت کی ساری زندگی خدمت خلق میں گزری۔ انہوں نے اپنی صحت و آرام کا خیال کیے بغیر آخر عمر تک مخلوق خدا کی خدمت کرتےرہے [2]۔
یوم وفات:
۲۶ محرم الحرام ۱۴۳۷ ھ
حاشیہ:
[1] ۔ جو اس وقت جامعہ رضویہ واقعہ مرزائی مسجد محلہ گھیر جعفر پرانا شہر بریلی میں مدرس تھے۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ [2] ۔ مکتوب گرامی حضرت مولانا سبطین رضا قادری بریلوی بنام راقم محررہ ۹؍شوال المکرم ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء۔ ۱۲،رضوی غفرلہٗ ـ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sibtain-raza-khan-qadri-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
عرس حضور امین شریعت، شبیہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ الشاہ مفتی محمد سبطین رضا خان بریلوی نور اللہ مرقدہ
گلِ باغِ حکمت امینِ شریعت
مہِ چرخِ عظمت امینِ شریعت
بڑے خوب صورت، بڑے نیک سیرت
سراپا کرامت امینِ شریعت
فقیہ و محدث، مفکر، محقق
امامِ طریقت امینِ شریعت
خلوص و فا ان کی فطرت میں شامل
سفیرِ محبت امینِ شریعت
زمانہ ہوا فیضیاب ان کے در سے
ہر اِک کی ضرورت امینِ شریعت
سدا بہرِ تبلیغ کوشاں رہے وہ
مسیحائے ملت امینِ شریعت
بریلی و چھتیس گڑھ میں جلایا
چراغِ ہدایت امینِ شریعت
"علومِ رضا " کے امین اور وارث
شہِ تختِ حکمت امینِ شریعت
ہیں "حسنین" والد تو دادا حسن ہیں
رضا کی شباہت امینِ شریعت
اے اشرف رضا برملا تم یہ کہہ دو
ہیں ساکنِ جنت امینِ شریعت
اشرف رضا سبطینی
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/pfbid02ZVXpNcf9ZLBzjaM5FmGqTTP4iF2xhXTzmcZnLqDA6kxm2THGbz71YhN5WLWm6nbHl/
گلِ باغِ حکمت امینِ شریعت
مہِ چرخِ عظمت امینِ شریعت
بڑے خوب صورت، بڑے نیک سیرت
سراپا کرامت امینِ شریعت
فقیہ و محدث، مفکر، محقق
امامِ طریقت امینِ شریعت
خلوص و فا ان کی فطرت میں شامل
سفیرِ محبت امینِ شریعت
زمانہ ہوا فیضیاب ان کے در سے
ہر اِک کی ضرورت امینِ شریعت
سدا بہرِ تبلیغ کوشاں رہے وہ
مسیحائے ملت امینِ شریعت
بریلی و چھتیس گڑھ میں جلایا
چراغِ ہدایت امینِ شریعت
"علومِ رضا " کے امین اور وارث
شہِ تختِ حکمت امینِ شریعت
ہیں "حسنین" والد تو دادا حسن ہیں
رضا کی شباہت امینِ شریعت
اے اشرف رضا برملا تم یہ کہہ دو
ہیں ساکنِ جنت امینِ شریعت
اشرف رضا سبطینی
https://www.facebook.com/1493359047596563/posts/pfbid02ZVXpNcf9ZLBzjaM5FmGqTTP4iF2xhXTzmcZnLqDA6kxm2THGbz71YhN5WLWm6nbHl/
❤1
عرس حضور امین شریعت علیہ الرحمہ
نبیرۂ استاذ زمن، ہم شبیہ مفتی اعظم، امین شریعت، مخدوم اہلسنت، منبع العلم، حضرت علامہ مولانا سبطین رضا خان قادری رضوی بریلوی رضی اللہ عنہ 1346ھ میں محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ نبیرۂ استاذ زمن، مرید و خلیفۂ و ہم شبیہ مفتیٔ اعظم، حضور تاج الشریعہ کے برادر نسبتی، حکیم شریعت کے والد بزرگوار، قائد ملت کے ماموں و سسر گرامی قدر، عالم دین، مفتی اسلام، استاذ العلماء اور شیخ طریقت تھے۔ درس نظامی کی جملہ کتب میں مہارت تامہ حاصل تھی اور بہترین حکیم بھی تھے۔ زندگی کا اکثر حصہ درس و تدریس اور مدارس اہسلنت کی سرپرستی میں گزرا۔ 26 محرم الحرام 1437ھ مطابق 9 نومبر 2015ء بروز پیر وصال فرمایا، حضور تاج الشریعہ نے نماز جنازہ کی امام فرمائی، مزار مبارک کانکر ٹولہ، بریلی شریف، یو پی، ہندستان میں ہے۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء)
Grandson of Ustaz-e-Zaman, Manifestation of Mufti-e-Azam, Ameen-e-Shari’at, Allamah Mawlana Sibtain Raza Khan Qadiri Ridawi Baraylawi (RadiyAllahu Anhu) was born in 1346 AH in Muhallah Sodagran Bareilly Sharif. He was the grandson of Ustaz-e-Zaman; disciple, caliph, and the manifestation of Mufti-e-Azam; brother-in-law of Taajush Shari’ah, father of Hakeem-e-Shari’at, father-in-law of Qa’id-e-Millat, religious scholar; Mufti of Islam; teacher of scholars; and spiritual guide. He was well versed in the books of Dars-e-Nizami and was also an excellent physician. Most of his life was spent teaching and supervising the seminaries of Ahl as-Sunnah. He passed away on Monday, 26 Muharram 1437 AH (9 November 2015 CE). Taajush Shari’ah led the funeral prayers. His blessed mausoleum is in Kankar Tola, Bareilly Sharif, U.P., India. [Mufti-e-Azam Aur Unke Khulafa]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0p5anzfrFEH7KonFmtQH67jXApt1x5rUbnrSZD9zbE9sVmRyGy6Xb7pNtrzf8HfTVl&id=100050689590519
نبیرۂ استاذ زمن، ہم شبیہ مفتی اعظم، امین شریعت، مخدوم اہلسنت، منبع العلم، حضرت علامہ مولانا سبطین رضا خان قادری رضوی بریلوی رضی اللہ عنہ 1346ھ میں محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ نبیرۂ استاذ زمن، مرید و خلیفۂ و ہم شبیہ مفتیٔ اعظم، حضور تاج الشریعہ کے برادر نسبتی، حکیم شریعت کے والد بزرگوار، قائد ملت کے ماموں و سسر گرامی قدر، عالم دین، مفتی اسلام، استاذ العلماء اور شیخ طریقت تھے۔ درس نظامی کی جملہ کتب میں مہارت تامہ حاصل تھی اور بہترین حکیم بھی تھے۔ زندگی کا اکثر حصہ درس و تدریس اور مدارس اہسلنت کی سرپرستی میں گزرا۔ 26 محرم الحرام 1437ھ مطابق 9 نومبر 2015ء بروز پیر وصال فرمایا، حضور تاج الشریعہ نے نماز جنازہ کی امام فرمائی، مزار مبارک کانکر ٹولہ، بریلی شریف، یو پی، ہندستان میں ہے۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء)
Grandson of Ustaz-e-Zaman, Manifestation of Mufti-e-Azam, Ameen-e-Shari’at, Allamah Mawlana Sibtain Raza Khan Qadiri Ridawi Baraylawi (RadiyAllahu Anhu) was born in 1346 AH in Muhallah Sodagran Bareilly Sharif. He was the grandson of Ustaz-e-Zaman; disciple, caliph, and the manifestation of Mufti-e-Azam; brother-in-law of Taajush Shari’ah, father of Hakeem-e-Shari’at, father-in-law of Qa’id-e-Millat, religious scholar; Mufti of Islam; teacher of scholars; and spiritual guide. He was well versed in the books of Dars-e-Nizami and was also an excellent physician. Most of his life was spent teaching and supervising the seminaries of Ahl as-Sunnah. He passed away on Monday, 26 Muharram 1437 AH (9 November 2015 CE). Taajush Shari’ah led the funeral prayers. His blessed mausoleum is in Kankar Tola, Bareilly Sharif, U.P., India. [Mufti-e-Azam Aur Unke Khulafa]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0p5anzfrFEH7KonFmtQH67jXApt1x5rUbnrSZD9zbE9sVmRyGy6Xb7pNtrzf8HfTVl&id=100050689590519
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
عرس حضور امین شریعت علیہ الرحمہ نبیرۂ استاذ زمن، ہم شبیہ مفتی اعظم، امین شریعت، مخدوم اہلسنت، منبع العلم، حضرت علامہ مولانا سبطین رضا خان قادری رضوی بریلوی رضی اللہ عنہ 1346ھ میں محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ نبیرۂ استاذ زمن، مرید و خلیفۂ…
نبیرۂ استاذ زمن، ہم شبیہ مفتی اعظم، امین شریعت، مخدوم اہلسنت، منبع العلم، حضرت علامہ مولانا سبطین رضا خان قادری رضوی بریلوی رضی اللہ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37333
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/37333
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
❤1
ْ حضرت بابا تاج الدین ناگوری 🌹
تاج الاولیاء ناگوری رحمۃ اللہ علیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-tajuddin-aulia-nagpur
وصال: 26 محرم الحرام 1244ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
تاج الاولیاء ناگوری رحمۃ اللہ علیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-tajuddin-aulia-nagpur
وصال: 26 محرم الحرام 1244ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-01-1445 ᴴ | 13-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-01-1445 ᴴ | 14-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1