🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1445 ᴴ | 12-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1445 ᴴ | 12-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-01-1445 ᴴ | 12-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-01-1445 ᴴ | 12-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حـضـرت سـیـدنا شیخ مخدوم اشرف
جہانگیر سمنانی رضی الله تعالیٰ عنه
https://www.facebook.com/groups/456490489254996/permalink/680229540214422/?mibextid=Nif5oz
مجموعہ مناقب: 41 منقبتوں کا ایلبم
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#مسلم_اسکول_اور_لڑکیاں قسط دوم------) مسلمان دولت مند اسکول بنا رہے ہیں یہ اچھی پیش رفت ہے لیکن اس اسکولی تعلیم کے نام پر مسلم بچے اور بچیوں کو نچوایا جا رہا ہے، والدین کو اس کا علم ہے معاشرہ اسے لذت و حسرت بھری نگاہوں سے جوان لڑکیوں کا ڈانس دیکھنے جمع ہوتا…
*اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ*
قسط سوم..
ایک طرف اغیار اسلام اور اہل اسلام کو مٹا دینا چاہتے ہیں، مدارس و مساجد و مقابر ان کی نگاہوں میں کھٹک رہی ہیں، مسلم مردوں کو ذبح کر رہے ہیں تو عورتوں سے ہمدردی کا اظہار، باقاعدہ منظم سازش کے تحت مسلم بچیوں کو اسلام مخالف بنایا جا رہا ہے، ان کے ذہنوں میں اسلام دشمنی کا زہر گھولا جا رہا ہے آزادی کے نام پر ان کی آبرو ریزی کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف اپنوں سے حفاظت کی کچھ امید جگی تھی لیکن چند سالوں میں کچھ مسلم اسکولوں کا حال طلبا و طالبات نے خود بیان کیا جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہوگیے،  اسکول مسلمانوں کا، پڑھانے والے مسلمان پڑھنے والے بچے اور بچیاں مسلم لیکن ایسے اسکولوں میں اسلام کہیں نظر نہیں آتا، لڑکیوں کو اسٹیج سجا کر نچوایا جاتا ہے، نوجوان لڑکے ڈانس دیکھنے کے لیے امنڈتے ہوئے سیلاب کی طرح جمع ہوتے ہیں والدین کرسی لگا کر اپنی جوان بیٹی کا ڈانس دیکھ کر بجائے شرمندہ ہونے کے تالیاں بجا رہے ہیں،

آخر مسلم معاشرے میں، مسلم اسکول میں اگر مسلم بچے محفوظ نہیں تو کہاں محفوظ ہوں گے؟
جس کسی اسکول میں ایسا گھناؤنا کام ہو محلے کے غیرت مند افراد اس کے خلاف قدم اٹھائیں،
یہ تعلیم کس کام کی جس میں عیاشی و فحاشی ہو؟ جس میں دین و شریعت کو پاش پاش کیا جاے
تعجب تو یہ ہے کہ
ناچنے والیان مسلمان
نچوانے والے مسلمان
تماشائی بھی مسلمان
ایک دو زخم نہیں سارا بدن ہے چھلنی
درد بیچارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے
📝حسن نوری گونڈوی

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0syJPorgRuwZA97GmfxU8csiQFGiGPRSZZbDHQQDJF7VqybCsR6nTYZEWHetJTahsl&id=100005157704773&mibextid=ZbWKwL
👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌2
Forwarded from چینل صدائے حق
ہمارے یہاں شادی کو ایک سزا بنا دیا گیا ہے یا پھر کاروبار۔ وہ کیسے ؟
آئیں سمجھتے ہیں۔
بیٹی نے پیپرز دئیے نمبر بہت کم آئے یا فیل ہو گئی تو چلو اس کی شادی کر دو ۔۔۔
کسی کے ساتھ محبت کے تعلقات میں پکڑی گئی تو چلو شادی کر دو۔۔۔
لڑکا نشئی ہے، شادی کر دو بیوی بچے ہوں گے تو عقل ٹھکانے آئے گی۔۔۔۔
بیٹا زندگی میں سنجیدہ نہیں ہے تو چلو شادی کر دو زمہ داری پڑے گی تو صحیح ہو جائے گا ۔۔۔
کیا شادی کرنا اس لیے تھا کہ سزا کے طور پر زندگی کے سب سے حسین رشتے کی بنیاد ڈالی جائے ؟
جب کوئی عمل ہمیں سزا کے طور پر کرنے کے لیے کروایا جاتا ہے تو کیا دل میں اس کی عزت، محبت اور قبولیت ہوتی ہے ؟
ہر گز نہیں بلکہ بوجھ لگتا ہے وہ عمل۔
تو جب شادی، کسی عمل میں ناکام ہونے کہ نتیجے میں کروائی جائے تو کیا ایسا لڑکا یا لڑکی شادی کے اصل مقاصد اور اہداف کو حاصل کر سکیں گے ؟
کیا وہ زوجین ایک دوسرے کے لیے لباس اور سکون بن سکیں گے ؟
ہز گز نہیں۔۔۔ بلکہ وہ شادی ان کے لیے کسی عذاب سے کم نہ ہوگی۔
یہ طریقہ ہمارے معاشرے میں زہنی ٹارچر کا ایک انداز بن گیا یے۔
پھر یہ جو شادی کی عمر نکال کر ڈگری پیسہ اور کیریئر کے پیچھے بھگانے کا رواج ہے اور بڑھاپے سے چند مہینے پہلے شادی کرنے کا رواج ہے، یہ آپ کو کاروبار نہیں لگتا کیا ؟
کیوں کہ دونوں جانب سے ڈگری اور پیشے کے حساب سے بول لگوائے جاتے ہیں پھر شادی میں پیسے کی نمائش ثواب سمجھ کر کی جاتی ہے۔
اسلام میں نکاح کی اہمیت کیا ہے، اس کے مقاصد کیا ہیں ان باتوں کو نظر انداز کر کے ہمارے بزرگ نکاح کی اپنی تعریف بنا بیٹھے ہیں۔ نتیجے میں آج نکاح کو لے کر عجیب انتشار برپا ہے کوئی نکاح کو بچپن کی شادی سے ملا رہا تو کوئی نکاح کرنے پر اس لیے راضی نہیں کہ اسے ڈگری لینی ہے۔
جب کہ دین نے تو نکاح کو سکون کا باعث بنایا ہے۔ نکاح، نکمے ہونے کی صورت میں نہیں رکھا بلکہ نکاح ہر عاقل بالغ کی ضرورت بنایا گیا۔ کہا گیا کہ جلد سے جلد کرو تاکہ فتنہ سے بچو۔ جس معاشرے میں نکاح جیسے عظیم، پاکیزہ اور محبت میں باندھ دینے والے شرعی حکم کے ساتھ ایسا کھلواڑ کیا جائے تو اس معاشرے میں خاندانی نظام کیسے چل سکتا ہے ؟ وہ خاندانی نظام جو دین اسلام نے ہمیں دیا تھا جہاں بچوں کی پرورش اور تربیت دینی اصولوں کے مطابق کی جاتی تھی۔
یہ صرف اس نسل کا قصور نہیں زرا پیچھے پلیٹیں تو اس سے پہلے والی نسل کی غلطیاں ان سے بڑھ کر نظر آئیں گی۔
جن کو نکاح کا مقصد ہی سمجھ نہ آیا وہ کہاں سے اپنی اولاد کا نکاح صحیح وقت پر اسی مقصد کے لیے کریں گے کہ جس کے لیے دین اسلام نے نکاح کو اہم ترین عمل بنایا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بیٹا یا بیٹی کی دینی تعلیم و تربیت کی جاتی اور بلوغت کے بعد انہیں نکاح کی اہمیت کا احساس دلایا جاتا تاکہ وہ نکاح کو اسلامی نقطئہ نظر سے دیکھتے اور سب سے بڑھ کر بلوغت کے بعد ان کے لیے مناسب رشتے کا انتظام کیا جاتا۔۔۔۔
جس میں ان کی پسند کو بھی شامل کیا جاتا۔ تاکہ نکاح کا بندھن نوجوانوں کو بوجھ یا سزا معلوم نہ ہوتا بلکہ وہ اپنی نوجوانی میں ہی اس پاکیزہ رشتے سے سکون حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی خاندانی نظام کی بنیاد رکھتے۔ پڑھتے جاتے، کماتے جاتے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر انداز میں اپنا اپنا رول جو دین نے ڈیفائن کیا تھا ادا کرتے جاتے۔ پھر نکاح خالصتاً اسی مقصد کے لیے ہوتا کہ جس کے لیے دین نے مخصوص کیا۔
نکاح تو ایک ریوارڈ کی صورت ہونا چاہیے تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے تمھارا چھپا ہوا خزانہ ہے جاؤ اب اس خزانے سے نا صرف نفع اٹھاؤ بلکہ اس کی حفاظت کے ساتھ ساتھ، اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے اسے استعمال میں لاؤ۔ یعنی نفع میں خوشی مل جاتی، حفاظت میں زمہ داریاں اور فرائض آجاتے اور اللہ کی رضا میں وہ احکام کے جن پر عمل کر کے زوجین جنت تک ساتھ جا سکتے۔
نکاح کو تو خوشی کا باعث ہونا چاہیے، یہ کسی کے لیے سزا نہ ہو یا کہیں کاروبار نہ لگے۔جب نکاح سزا یا کاروبار بن جائے تو اس سے وہ نتائج نہیں مل سکتے جو دین چاہتا ہے۔ ایسے نکاح بے حسی، خود غرضی اور صرف دنیاوی کامیابی کے اغراض و مقاصد کو حاصل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس لیے اپنی اولاد کا نکاح ان کی رضا مندی کو شامل کرتے ہوئے مناسب وقت پر کر دیں، مناسب وقت وہ ہی جس کی تعلیم دین اسلام نے ہمیں دی ہے، نکاح کا اصل مقصد وہ ہی ہے جو دین نے طے کیا یعنی سکون، نصف دین کی تکمیل، پاکیزگی، نئی نسل کی آمد کا سلسلہ اور پھر اس نسل کی تربیت دین کے اصول کے مطابق کرنا اور اسلامی خاندانی نظام کو مظبوط کرنا۔
نکاح کو آسان اور بامقصد ہی رہنے دیں۔ اسلامی معاشرے کی بنیاد کو کھوکھلا نہ کریں۔ دینی احکامات کا اصل مقصد سمجھیں تاکہ باخوشی اور فخر سے دینی احکامات کو بجا لا سکیں۔
وما علینا الاالبلاغ ۔
فیض عالم ✍️
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👌1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مولانا مفتی غلام جان ہزاروی ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: عبد المصطفیٰ ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا مفتی غلام جان ہزاروی بن مولانا احمد جی بن مولانا محمد عالم ۔ (علیہم الرحمہ) ـ

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1316ھ، مطابق 1896ء کو مقام "اوگرہ" تحصیل مانسہرہ ،ضلع ہری پور ہزارہ، پاکستان میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
قرآنِ مجید اور فارسی نظم و نثر اور صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں اپنے والد سے پڑھیں ۔ اس کے بعد شوق علم میں "دہلی اور سہار ن پور " کی درس گاہوں میں بھی گئے ۔ مدرسہ عالیہ جامع مسجد آگرہ کے اساتذہ سے بھی کسبِ علم کیا ۔ مولانا غلام رسول (انّہی ضلع گجرات) سے "حمد اللہ اور زواہد ثلاثہ" کا درس لیا۔ "مینڈ ھو" ضلع اعظم گڑھ اور " گلاوٹی " ضلع بلند شہر میں معقول کی کتابیں پڑھیں ۔ ٹونک میں حضرت علامہ حکیم سید برکات احمد سے ریاضی اور معقولات میں استفادہ کیا ۔

1335ھ میں "مدرسہ عالیہ رامپور" سے درجۂ تکمیل  پاس کیا مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری آپ پر بے حد شفقت فرماتے تھے ۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کا شہرہ سن کر مرکز علم و عرفان " بریلی شریف " پہنچے اور شمس العلماء مولانا ظہور الحسن فاروقی رام پوری اور صدر الشریعہ مولانا حکیم محمد امجد علی  اعظمی سے درس نظامی کی آخری کتابیں پڑھ کر صحاح ستہ کا دور ہ کیا ۔

1337ھ کے جلسۂ دستار بندی میں امام اہل سنت امام احمد رضا بر یلوی نے دستار بندی فرمائی اور سند فضیلت عطا فرمائی۔

بیعت و خلافت:
آپ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت کے دست اقدس پر مرید ہوئے اور پھر خلافت سے نوازے گئے ۔

سیرت و خصائص:
مفتیِ  اعظم پاکستان، نائبِ اعلیٰ حضرت، ناشرِ دینِ متین ،امام المدرسین، استاذ العلماء والفضلاء، شیخِ کامل حضرت علامہ مولانا مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ بھی ان خوش نصیب شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے میخانۂ رضا سے جامِ  علم و معرفت نوش کی ہیں، اور پھر ساری زندگی فیضِ رضا تقسیمِ کرتے رہے، اور تعلیماتِ رضا عام کرتے رہے ۔ اعلیٰ حضرت کا ہر ہر شاگرد و خلیفہ آسمانِ علم و فن کا چمکتا ہوا ستارہ تھا ۔

جو ان سے وابستہ ہوا اس کو بھی چمکا دیا۔ آپ فراغت کے بعد "مدرسہ منظر الا سلام بریلی "میں مدرس اور مسجد بی بی جی (بریلی) میں امام و خطیب مقرر ہوئے ۔حضرت مولانا خواجہ محمود تونسوی(نبیرہ پیرپٹھان حضرت شاہ سلیمان تونسوی ) کی دعوت پر وہاں سے مدرسہ " سلیمانیہ تونسہ شریف" جاکر کچھ عرصہ  تدریس فرمائی ۔

ایک سال "مکھڈشریف "رہے۔ اس کے بعد خان محمد امیر کاں رئیس " شہیلیہ ضلع ہزارہ " نے آپ کو بلا کر عہدۂ  قضاء پر مامور کیا لیکن کچھ دن بعد ہی آپ لاہور چلے گئے، اور جامعہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس اور مفتی مقرر ہوئے ۔

1345ھ میں بریلی شریف اور اجمیر شریف حاضری دیتے ہوئے حج و زیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے ۔ شب بیداری، یتیموں، بیواؤں کی دستگیری، اور اپنا کام خود کرنا آپ کے اوصافِ حسنہ تھے ۔ دینِ متین کی تبلیغ و ترویج کا جذبہ بدرجۂ اتم موجود تھا ۔

تاریخِ وِصال:
25 محرم الحرام  1379ھ، مطابق یکم اگست 1959ء کو کلمہ شریف اور صلوٰۃ و سلام کا ذکر کرتے ہوئے عین اس وقت جب مؤذن نے اذانِ ظہر کی آواز بلند کی، آپ نے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کر دی ۔

نمازِ جنازہ:
نماز جنازہ حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا البرکات سید احمد رحمہ اللہ نے پڑھائی ۔

مزار شریف:
دوسرے دن غازی علم دین شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزار کے جنوبی جانب دفن کئے گئے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-ghulam-jan-hazarvi
Copyright © Zia-e-Taiba
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: مولانا مفتی غلام جان ہزاروی ۔ کنیت: ابو المظفر ۔ لقب: عبد المصطفیٰ ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: مولانا مفتی غلام جان ہزاروی بن مولانا احمد جی بن مولانا محمد عالم ۔ (علیہم…
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ
مفتی غلام جان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اعلیٰ حضرت رضی الله تعالیٰ عنه
کا ہر ہر شاگرد و خلیفہ آسمانِ علم
و فن کا چمکتا ہوا ستارہ تھا ۔ ✔️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/56363
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1