🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
تمام سُنِّیُوں کو جمعہ مُبارَک ہُو🌹
➻═══════════➻
🆔 @Kutube_Fataawaa
🆔 @islaamic_Knowledge
🆔 @Aalaa_Hazrat_Library
🆔 @Maslake_Aalaa_Hazrat
🆔 @AhleSunnat_HindiBooks
━═─────────═━
@Al_Ashhar_Academy_Urdu
@Al_Ashhar_Academy_Hindi
@Al_Ashhar_Academy_English
@Al_Ashhar_Academy_Gujarati
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
سونے چاندی کا نصاب _ مسائل شرعیہ.mhtml
456.8 KB
سونے چاندی کا نصاب 🌹
https://masaileshariya.blogspot.com/2019/05/blog-post_90.html
پُرانے اوزان کے جدید اوزان 🌹
🆔 @islaamic_Knowledge
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جنتی حور کے بارے میں بھی سوچیے

حضرت ذوالنون مصری رحمہ اللہ تعالی ایک جوان لڑکے کو کچھ لکھوا رہے تھے کہ ایک حسن و جمال کی ملکہ سامنے سے گزری؛ وہ جوان لڑکا نظریں چرا چرا کر اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا۔
حضرت ذوالنون مصری نے دیکھ لیا اور اس لڑکے کی گردن پھیر کر یہ شعر کہا:

دع المصوغات من ماء وطین
واشغل ھواک بحور خرد عین

"پانی اور مٹی سے بنی عورتوں کو چھوڑ اور اپنے عشق اور خواہش کو اس حور کا متوالا بنا جو کنواری ہے اور موٹی آنکھوں والی ہے۔"

(ذم الھوی لابن جوزی)

پیار پیار کا جاپ جپنے والوں کو کبھی جنتی حوروں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے جو اس دنیا کی عورتوں کی طرح نہیں کہ آپ کو دھوکا دے، آپ کو پریشان کرے یا آپ سے آپ کے مال کی وجہ سے محبت کرے۔
اس چار دن کی زندگی میں پیار محبت کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ہیں جنھیں کر کے آپ اپنی دائمی دنیا یعنی آخرت کو سنوار سکتے ہیں ورنہ یہ "دو دن والا پیار" آپ کو دائمی مصیبت میں ڈال ڈے گا۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ قیامت میں ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے

علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ ایک عبادت گزار شخص کو ایک لڑکی سے عشق ہو گیا۔ ان کے عشق کا پورے شہر میں چرچا ہو گیا۔ ایک دن لڑکی نے کہا کہ اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ لڑکے نے کہا کہ اللہ کی قسم میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔ لڑکی نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ اپنا منھ تمھارے منھ پر رکھوں۔ اس نے بھی کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔ لڑکی نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ اپنا سینہ تمھارے سینے سے لگاؤں اور اپنا پیٹ تمھارے پیٹ سے لگاؤں۔ اس نے کہا کہ میں بھی یہی چاہتا ہوں۔

لڑکی نے کہا کہ پھر تمھیں کس نے روکا ہے؟ اللہ کی قسم یہی تو محبت کا موقع ہے تو اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠ (67:43)
اس (قیامت کے) دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔

پھر وہ کہنے لگا کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ تمھاری اور میری دوستی قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائے۔ لڑکی نے کہا کہ ہمارا رب ہماری توبہ قبول کر لے گا لہذا ہم توبہ کر لیں گے۔ اس نے کہا کہ کیوں نہیں لیکن مجھے اس کا اطمینان نہیں ہے کہ مجھے اچانک موت نہ آ جائے۔
پھر وہ اٹھا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور پھر دوبارہ کبھی اس لڑکی کے پاس نہ گیا اور اپنی عبادت میں مصروف ہو گیا۔

(ذم الھوی لابن جوزی ملخصاً)

نوجوانو! اگر تمھیں کسی سے پیار ہوا ہے اور تمھارا پیار سچا ہے تو کیا تم یہ پسند کرو گے کہ چند دنوں کی دنیا کے بعد قیامت میں تمھارا محبوب تمھارا دشمن ہو جائے؟ کیا یہ اچھا ہوگا کہ آج تم اسے حاصل کر لو لیکن ہمیشہ کے لیے کھو دو؟ نہیں ہرگز نہیں!

ایک سچا عاشق تو یہ چاہے گا کہ میں اپنے محبوب کو ہمیشہ کے لیے حاصل کر لوں اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تقوی کو نہ چھوڑا جائے اور گناہوں سے بچا جائے۔ آپ کو جس سے محبت ہوئی ہے اس سے نکاح کر لیجیے، یہی سب سے بہترین حل ہے۔ اس سے آپ کو یہاں بھی فائدہ ہوگا کہ آپ کا محبوب آپ کی نظروں کے سامنے ہوگا اور آپ کا تقوی بھی سلامت رہے گا اور وہاں بھی آپ اپنے محبوب کو محبوب ہی پائیں گے نہ کہ دشمن!

اگر نکاح نہ ہو پائے تو کوئی ایسا کام نہ کریں جو آپ کے محبوب کو آپ سے ہمیشہ کے لیے دور کر دے۔ اگر آپ نے اپنا دامن گناہوں سے خالی رکھا تو یقین جانیے کہ اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے، وہ آپ کے دامن کو آپ کی مرادوں سے بھر دے گا۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
چلیے جہاد کرتے ہیں

جہاد کے بارے میں دس لوگوں سے بات کیجیے تو بیس قسم کے نظریے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کوئی کچھ کہتا ہے تو کوئی کچھ، جسے جو پسند آتا ہے بول دیتا ہے۔
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ہندستان میں جہاد ہو ہی نہیں سکتا اور وہ اس انداز سے بتاتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے وہ مسلمانوں سے یہ کَہ رہے ہیں کہ ہمیں تو جہاد کرنا ہی نہیں ہے لہذا غفلت کی نیند کا مزا لیجیے اور جہاں تک ہو سکے امن امن کا ورد کرتے رہیں۔ اس کے بر عکس ایک گروہ اتنا جذباتی ہے کہ وہ بات بات پر جہاد کرنے کے لیے تیار رہتا ہے اور اس چکر میں خود بھی نقصان اٹھاتا ہے اور ان کے چکر میں بھولے بھالے مسلمانوں کی زندگی بھی برباد ہو جاتی ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ جہاد کے باب کو بالکل الگ کر دینا بھی صحیح نہیں ہے اور اسے بالکل کھانا پینا بنا لینا بھی صحیح نہیں ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک بیچ کا راستہ ہے جس میں اعتدال ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جذبات کو کہیں الگ رکھ کر فیصلہ کریں کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔

جو کہتے ہیں کہ ہندستان میں ہم اپنی طرف سے پہل نہیں کر سکتے، وہ بھی یہ مانتے ہیں کہ جب ہم پر حملہ ہوگا تو اپنے دفاع کے لیے لڑنا فرض ہوگا اور جو بات بات پر جہاد کو بیچ میں لاتے ہیں وہ تو مانتے ہی ہیں کہ ہمیں لڑنا ہوگا اور ان دونوں صورتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ جنگ کا ہونا یقینی ہے، اب چاہے پہلے حملہ کیا جائے یا دفاع کے لیے لڑا جائے۔ اب جب اس بات پر سب متفق ہیں کہ "ہمیں لڑنا ہے" تو اب جنگ کی تیاری ضروری ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جسے دونوں نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ جو دو گروہوں کی بات ہم نے کی تو دونوں ہی مسلمانوں کا بھلا چاہتے ہیں۔ ایک یہ چاہتا ہے کہ مسلمان خود کو ایسی جنگ کی آگ میں نہ جھونکیں جن کی انھیں سکت نہیں اور ایک یہ چاہتا ہے کہ ہم ظالموں اور کافروں کا نام ہی مٹا دیں تاکہ مظلوموں اور مسلمانوں کو چین کی سانس میسر ہو سکے۔ ان دونوں میں اگر پہلے والے کی بات پر اس طرح عمل کیا جائے کہ ہمارے ساتھ جو بھی ہو، ہم خاموشی اختیار کریں اور امن امن کے علاوہ کچھ نہ کریں تو بھی غلط ہوگا اور اگر دوسرے گروہ کا کہنا مان کر جہاد کے لیے فوری طور پر اتر آئیں تو بھی بہت برے نتائج سامنے آئیں گے کہ کروڑوں مسلمانوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچایا جائے گا۔ اب سوال آتا ہے کہ ہم کیا کریں؟ تو جواب یہی ہے کہ جنگ کی تیاری کریں۔

آج ہم جنگ میں پہل نہیں کر سکتے کیوں کہ ہمارے پاس طاقت نہیں ہے تو جب ہم پر حملہ ہوگا تب ہم طاقت کہاں سے لائیں گے، اس وقت بھی تو ہمیں جنگ ہی کرنی ہوگی۔ آج بھی حملے ہو رہے ہیں جس کا جواب دینا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ ہمارے بھائیوں کا خون بَہ رہا ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے، عورتوں کی عزت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے لیکن ہم لاچار بنے بیٹھے ہیں، مسلمانوں کی جانیں جا رہی ہیں لیکن ہم اپنے شہیدوں کا انتقام نہیں لے سکتے۔

اب ضرورت ہے کہ بنا کسی کے بتائے معاملات کو سمجھ جائیں اور مستقبل میں پیش آنے والے حالات کو بھانپ لیں اور غفلت کی نیند نہ سوئیں اور نہ جذبات میں آ کر کوئی قدم اٹھائیں، بس وہ کریں جو اچھا ہو، جس سے فائدہ ہو؛ یقین جانیے کہ اگر ہر مسلمان اپنا بہتر دکھائے اور دنیا کی رنگینیوں سے نکل کر کفر کی تاریکیوں میں شمع روشن کرے تو آنے والی نسلیں ضرور ایک نیا سورج دیکھیں گی۔

عبد مصطفی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سوال نمبر 165 :*
حضور نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ و سلم کے سگے چچا کتنے تھے ؟
سائل : نصیر الدین نصیر
*جواب :*
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچاؤں کی تعداد کے بارے میں مؤرخین کے چار مختلف اقوال ملتے ہیں :
بعض نے ان کی تعداد نو (9) بتائی، بعض نے دس (10) بتائی، بعض نے گیارہ (11) بتائی اور بعض نے بارہ (12) بتائی ہے۔
چنانچہ علامہ مولانا عبد المصطفی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچاؤں کی تعداد میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک ان کی تعداد نو، بعض نے کہا کہ دس اور بعض کا قول ہے کہ گیارہ، مگر *"صاحبِ مواہبِ لدنیہ"* نے *"ذخائر العقبيٰ في مناقب ذوي القربيٰ"* سے نقل کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ :
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے والد ماجد حضرت عبداﷲ رضی اللہ عنہ کے علاوہ عبدالمطلب کے بارہ بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں :
1- حارث
2- ابوطالب
3- زبیر
4- حمزہ
5- عباس
6- ابولہب
7- غیداق
8- مقوم
9- ضرار
10- قثم
11- عبدالکعبہ
12- جحل
ان میں سے صرف حضرت حمزہ (اور) حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسلام قبول کیا۔ 
*(سیرت مصطفےٰ صفحہ 562 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
26/12/2019
03068209672
*تصدیق و تصحیح :*
الجواب صحيح والمجيب نجيح
*فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*