🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
جاتے جس سے آپ گھبراتے نہیں تھے کیوں کہ حدیث پڑھانا اور کتابیں تصنیف کرنا آپ کی غذا تھی۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص ۲۷۶)

حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
’’ورحلہ الحافظ الی بابہ العلمہ وحفظہ وعلو اسنادہ‘‘ دنیا کے کونے کونے سے حفاظ حدیث آپ کے حفظ، علمی شہرت اور علو اسناد کی وجہ سے آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ (ایضاّص ۲۷۵)

تلامذہ / شاگرد
آپ سے فیضیاب ہونے والوں کی تعداد شمار سے باہر ہے چند اہم تلامذہ کے نام یہ ہیں: ابو بکر خطیب، ابو بکر بن علی ذکوانی، ابو سعید مالینی، ابو صالح مؤذن، ابو علی ذحشنی، ابو الفضل احمد الحداد، ابو علی حسن بن احمد حداد، سلیمان ابراہیم، قاضی عبدالسلام بن احمد کوشیار بن لیالیروز جیلی، ابو بکر محمد بن ابراہیم عطار، ابو منصور محمد بن عبداللہ شروطی، ابو سعید محمد بن محمد مطرز، ہبۃ اللہ بن محمد شیرازی، یوسف بن تفکری۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص ۲۷۵)

دیگر علوم وفنون:
حدیث کے علاوہ فقہ اور تصوف میں بھی کافی ورک تھا مسلکاّ وہ شافعی تھے تصوف و سلوک سے ان کی دلچسپی موروثی تھی ان کے نانا محمد بن یوسف بلند پایہ صوفی بزرگ تھے تصوف میں امام ابو نعیم کے کمال کی سند ان کی کتاب حلیلۃ الاولیاء ہے۔

تصانیف:
امام ابو نعیم باکمال مصنف تھے انہوں نے بہت سی گراں مایہ کتابیں لکھی ہیں جن میں چند کے نام یہ ہیں۔ کتاب معرفۃ الصحابہ، کتاب دلائل النبوۃ دو جلد، کتاب المستخرج علی البخاری، کتاب المستخرج علی مسلم، کتاب تاریخ اصفہان ، صفۃ الجنۃ، کتاب الطب، کتاب المعتقد۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۲۷۶)

اس کے علاوہ مزید کتابیں ہیں کتاب الاربعین، تثبیت الرویا، کتاب حرمۃ المساجد، رسائل مختصرۃ، ریاختہ المتعلمین، طرق حدیث، عمل الیوم واہللیلۃ، کتاب الفتن، کتاب فضائل الخلفاء، کتاب فضائل الصحابہ، فضلا لسواک، کتاب فضل عالم العفیف، کتابا لفوائد، مختصر الاستیعاب، کتاب معجم الشیوخ ۳ جلد، کتاب معجم الصحابہ، کتاب علوم الحدیث، کتاب المستخرج علی التوحید، کتاب المہدی۔

دلائل النبوۃ:
امام ابو نعیم کی مطبعہ کتابوں میں اس کتاب کو بڑی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اس کتاب میں وہ تمام واقعات و مرویات سنداً بیان کیے گئے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خصائص و کامالت اور فضائل و مکارم نیز دلائل نبوت اور معجزات وغیرہ سے متعلق ہیں پہلے قرآن مجید کی روشنی میں رسول اکرم ﷺ کے اوصاف و خصوصیات بیان کیے گئے ہیں اور تائید میں روایات بھی پیش کی گئی ہیں پھر آپ کے حسب و نسب کی فضیلت اور قدیم کتابوں اور انبیاء سابقین کے صحیفوں میں آپ کے بارے میں جو پشین گوئیاں ہے ان کو ذکر کیا گیا ہے اس کے بعد آپ کی ولادت سے وفات تک کے تمام حیرت انگیز واقعات اور معجزات اور آپ کی پیشین گوئیوں اور امور نوعیت وغیرہ بھی بیان کر دی ہے اور بعض شبہات و اشکالات کو بھی رفع کیا ہے آخر میں بعض مشہور بعض جلیل القدر انبیاء کے خاص اور اہم معجزات کا تذکرہ کرنے کے بعد دیکھایا گیا کہ حضور ﷺ کو بھی اسی نویت کے معجزات عطا کیے گئےتھے۔ حلیۃ الاولیاء:

یہ کتاب امام ابو نعیم کی سب سے بے نظیر کتاب ہے صاحب کشف الظنون نے عمدہ اور معتبر کتاب بتایا ہے۔

حافظ سبقی نے اسے عدیم النظیر کتاب بتایا ہے وہ کہتے ہیں ’’ولم یصنف مثل کتابہ حلیۃ الاولیاء‘‘ آج تک ایسی کتاب نہیں لکھی گئی۔ (تذکرہ ج ۳ ۲۷۵) مصنف کی زندگی میں اس کو شہرت اور غیر معمولی حسن قبول و اعتبار حاصل وہگیا تھا اسی زمانہ میں جب نیشاپور پہونچی تو لوگوں نے چار سو دینار میں خریدا۔ (ایضاّ)

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں ان کی ناور و عجیب کتابوں میں سے حلیۃ الاولیاء ایسی نادر کتاب ہے جس کی نظیر اسلام میں نصیب نہیں ہوئی۔ (بستان المحدثین ص ۷۴)

حافظ ابن کثیر کا بیان ہے:
اس سے مصنف کی وسعت نظر ان کے شیوخ کی کثرت اور مخارج و طرق حدیث سے پوری واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

طبقات صوفیہ میں یہ نہایت اہم اور عمدہ کتاب ہے اس موضوع پر اس سے قبل کوئی کتاب ایسی بہتر و جامع نہیں لکھی گئی تھی۔ علامہ ابن جوزی نے اپنی مشہور کتاب صفوۃ الصفوۃ کی بنیاد اسی پر رکھی۔

حلیۃ الاولیاء میں ان صحابۂ کرام، تابعین عظام، تبع تابعین اور مابعد کے ائمہ اعلام کا تذکرہ ہے جو زہد تقویٰ اور معرفت و سلوک میں ممتاز تھے ان بزرگوں کے فضائل و مناقب اور ان کے واقعات و حکایات جمع کر کے تصوف میں ان کا مرتبہ واضح کیا گیا ہے۔ اور ان سے مروی حدیثیں اور ان کے عارفانہ اقوال و ملفوظات بھی درج کیے گئے ہیں۔

وفات:
۲۰ محرم الحرام ۴۳۰ھ میں ۹۴ سال کی عمر پاکر داعئ اجل کو لبیک کہا ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hafiz-abu-nuaim-ahmad-bin-abdullah-al-asbahani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ

مکّہ و یمن کے درمیان موضع سراۃ میں پیدا ہوئے، سابق الاسلام اور صادق الاسلام اور طاہر القلب تھے، حضرت ابو بکر صدّیق رضی اللہ عنہ نے امیہ بن خلف جمحی سے خرید کر آزاد کر دئیے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کے حق میں فرمایا کرتے ابو بکر سیّدنا اعتق سیّدنا بلا لًا (بخاری) عاشقِ ذات نبوی تھے، تمام عمر مؤذّن رہے، حضور علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے اِن کے شان میں فرمایا ہے انا سابق العرب و بلال سابق الحبشۃ۔ ۲۰ھ میں دمشق میں فوت ہوکر بابِ صغیر کے پاس دفن ہوئے۔ [۱] [۱۔ مدارج النبوۃ جلد دوم ص ۵۸۲ شرافت ۱۲]

( شریف التواریخ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedna-bilal-habshi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-01-1445 ᴴ | 07-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-01-1445 ᴴ | 08-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-01-1445 ᴴ | 08-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
20-01-1445 ᴴ | 08-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1