Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 2🔸*
🔆 اب ایک طرف تو فطری عادتوں کی یہ صورت حال ہے، دوسری طرف مسلمان چونکہ عام انسان نہیں ہوتا بلکہ بنسبت کافروں کے حقیقی سچی انسانیت کا تاج اس کے سر پر ہوتا ہے اس لئے ﷲ تعالٰی کے فضل و کرم سے دولت ایمان اسے نصیب ہوتی ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے اس کا دین و ایمان اسے جدت پسندی کے ساتھ ضروری حد تک قدامت پسند، جلد بازی کی فطری عادت کے باوجود تحمل پسند اور عقل سے کام لیتے ہوئے حدود شریعت میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے والا اور لوگوں سے مل جل کر رہنے کی ناگزیریت کے ساتھ برائیوں سے مجتنب رہنےاور متأثر نہ ہونے کا درس دیتا ہے.
♦ ضروری حد تک قدامت پسند اس طور پر ہوتا ہے کہ ﷲ تعالٰی کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ *وہ قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا* اور ہمارے *نبی مکرم، شاہ بنی آدم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دنیا سے ظاہری پردہ فرمائے ہوئے بھی چودہ سو سال سے زيادہ ہو چکے ان پر رب کا کلام بھی اسی محبوب زمانے میں نازل ہوا تھا اور آپ نے اپنی اسی ظاہری حیات طیبہ میں اس کی تفہیم و تشریح اپنی احادیث کی صورت میں امت کو عطا فرمائی تھی* تو جب یہ سب کچھ بھی پرانا ہے تو مسلمان کا اس معنی میں قدامت پسند ہونا ضروری ہوا، ورنہ مسلمان کب رہے گا پھر قرآن و حدیث کی واضح نصوص اور ائمہ مجتہدین کے اجماع سے ثابت شدہ ضروری احکامات بغیر کسی حیل و حجت کے ماننا اور اس پر عمل پیرا رہنا یونہی ائمہ اربعہ میں سے جو کسی امام کا مقلد ہے اس کا اپنے امام کے قول کو حق تسلیم کرتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا سچا مسلمان ہونے کیلئے ضروری ہے اور یہ سب باتیں آج کی نہیں صدیوں پہلے ثابت و مقرر ہوچکی ان میں سے کسی بات پر عمل میں کوتاہی اور رد و انکار کرنے سے نوبت فسق و فجور سے لیکر کفر و گمراہی تک پہنچتی ہے اس لئے جدید دنیا میں رہنے والا مسلمان بھی اپنے ایمان اور دینی ضروری احکام کے لحاظ سے قدامت پسند ہوتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے یہ اس کی مذہبی زندگی کیلئے روح کی حیثیت رکھتا ہے.
🔆 الغرض خدائے ذوالجلال اور اس کے بھیجے ہوئے نبی بے مثال صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جن کا اس نے کلمہ پڑھا ہے ان کے فرامین میں اسے دینی محتاط زندگی گزارنے کا طریقہ کار اور اس کی حدیں چونکہ بیان کردی گئی ہیں اسے شتر بے مہار کی طرح من مانیوں کیلئے آزاد نہیں چھوڑا گیا لہٰذا مسلمان اور کافر کے درمیان یہی بنیادی فرق ہوتا ہے کہ *مسلمان صاحب ایمان اور احکام شریعت کا پابند ہوتا ہے، کافر ان دونوں باتوں سے محروم اور مادر پدر آزاد رہتا ہے.*
♦ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے بہت سے کلمہ پڑھنے والے دین کے دائرہ میں رہنا قبول کرنے کے باوجود ماحول کے بگاڑ اور کافروں کی آزادیوں سے متأثر ہوکر بے عملی کا شکار ہوجاتے ہیں، تہواروں کے معاملے میں خوشی منانے اور اس کےاظہار کے طریقوں کو اختیار کرنے میں بھی ایسے ہی مسلمان غلطی کا شکار ہوکر شریعت کی حد پھلانگتے ہوئے گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہيں، بنیادی وجہ وہی فطری کمزوریوں کو اسلامی رخ سے نہ سمجھنا اور ان کمزوریوں سے بچنے کیلئے اسلامی اخلاق و آداب عقائد و اعمال سے دوری اختیار کئے رہنا ہوتی ہے.
🌴 اس لئے جدت پسندی، جلدبازی، ناسمجھی، غیر ضروری میل جول اور بری صحبت کے اثرات سے وہ بچ نہیں پاتے یا اسی طرح خوش رہنا پسند کرتے ہیں اور بچنا نہیں چاہتے.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 3 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 2🔸*
🔆 اب ایک طرف تو فطری عادتوں کی یہ صورت حال ہے، دوسری طرف مسلمان چونکہ عام انسان نہیں ہوتا بلکہ بنسبت کافروں کے حقیقی سچی انسانیت کا تاج اس کے سر پر ہوتا ہے اس لئے ﷲ تعالٰی کے فضل و کرم سے دولت ایمان اسے نصیب ہوتی ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے اس کا دین و ایمان اسے جدت پسندی کے ساتھ ضروری حد تک قدامت پسند، جلد بازی کی فطری عادت کے باوجود تحمل پسند اور عقل سے کام لیتے ہوئے حدود شریعت میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے والا اور لوگوں سے مل جل کر رہنے کی ناگزیریت کے ساتھ برائیوں سے مجتنب رہنےاور متأثر نہ ہونے کا درس دیتا ہے.
♦ ضروری حد تک قدامت پسند اس طور پر ہوتا ہے کہ ﷲ تعالٰی کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ *وہ قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا* اور ہمارے *نبی مکرم، شاہ بنی آدم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دنیا سے ظاہری پردہ فرمائے ہوئے بھی چودہ سو سال سے زيادہ ہو چکے ان پر رب کا کلام بھی اسی محبوب زمانے میں نازل ہوا تھا اور آپ نے اپنی اسی ظاہری حیات طیبہ میں اس کی تفہیم و تشریح اپنی احادیث کی صورت میں امت کو عطا فرمائی تھی* تو جب یہ سب کچھ بھی پرانا ہے تو مسلمان کا اس معنی میں قدامت پسند ہونا ضروری ہوا، ورنہ مسلمان کب رہے گا پھر قرآن و حدیث کی واضح نصوص اور ائمہ مجتہدین کے اجماع سے ثابت شدہ ضروری احکامات بغیر کسی حیل و حجت کے ماننا اور اس پر عمل پیرا رہنا یونہی ائمہ اربعہ میں سے جو کسی امام کا مقلد ہے اس کا اپنے امام کے قول کو حق تسلیم کرتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا سچا مسلمان ہونے کیلئے ضروری ہے اور یہ سب باتیں آج کی نہیں صدیوں پہلے ثابت و مقرر ہوچکی ان میں سے کسی بات پر عمل میں کوتاہی اور رد و انکار کرنے سے نوبت فسق و فجور سے لیکر کفر و گمراہی تک پہنچتی ہے اس لئے جدید دنیا میں رہنے والا مسلمان بھی اپنے ایمان اور دینی ضروری احکام کے لحاظ سے قدامت پسند ہوتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے یہ اس کی مذہبی زندگی کیلئے روح کی حیثیت رکھتا ہے.
🔆 الغرض خدائے ذوالجلال اور اس کے بھیجے ہوئے نبی بے مثال صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جن کا اس نے کلمہ پڑھا ہے ان کے فرامین میں اسے دینی محتاط زندگی گزارنے کا طریقہ کار اور اس کی حدیں چونکہ بیان کردی گئی ہیں اسے شتر بے مہار کی طرح من مانیوں کیلئے آزاد نہیں چھوڑا گیا لہٰذا مسلمان اور کافر کے درمیان یہی بنیادی فرق ہوتا ہے کہ *مسلمان صاحب ایمان اور احکام شریعت کا پابند ہوتا ہے، کافر ان دونوں باتوں سے محروم اور مادر پدر آزاد رہتا ہے.*
♦ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے بہت سے کلمہ پڑھنے والے دین کے دائرہ میں رہنا قبول کرنے کے باوجود ماحول کے بگاڑ اور کافروں کی آزادیوں سے متأثر ہوکر بے عملی کا شکار ہوجاتے ہیں، تہواروں کے معاملے میں خوشی منانے اور اس کےاظہار کے طریقوں کو اختیار کرنے میں بھی ایسے ہی مسلمان غلطی کا شکار ہوکر شریعت کی حد پھلانگتے ہوئے گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہيں، بنیادی وجہ وہی فطری کمزوریوں کو اسلامی رخ سے نہ سمجھنا اور ان کمزوریوں سے بچنے کیلئے اسلامی اخلاق و آداب عقائد و اعمال سے دوری اختیار کئے رہنا ہوتی ہے.
🌴 اس لئے جدت پسندی، جلدبازی، ناسمجھی، غیر ضروری میل جول اور بری صحبت کے اثرات سے وہ بچ نہیں پاتے یا اسی طرح خوش رہنا پسند کرتے ہیں اور بچنا نہیں چاہتے.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 3 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
Ğulshaň-E-Ąttąr...2⃣
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 3🔸*
🔆 الغرض غیر مسلموں کی طرف سے جو بھی چیز آئے ان کی دنیاوی مادی ترقیاں دیکھ دیکھ کر ایسے مرعوب ہوجاتے ہیں کہ ان کی ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے، غیر مسلم ممالک کی اسٹیمپ دیکھ کر چيزیں خریدتے ہیں، انہیں کلچر کے ہوٹلوں میں کھانا کھانا، تقریبات میں جانا پسند کرتے ہیں، اپنے گھر اور پورا گھرانہ، اپنا مکمل لباس و کردار و گفتار تک سے وہ اپنے آپ کو اسی کلچر کا ایک فرد قرار دینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کسی حد تک کامیاب ہوجائیں تو ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی، یہی وجہ ہے کہ *جب کوئی نئی چيز وہاں سے آتی ہے اگرچہ کیسی ہی ناپاک و ناجائز کیوں نہ ہو کلچر میں شامل ہونے کی وجہ سے اس سے دور ہوجانا ان کیلئے دشوار ہوتا ہے اور دور رہنے کا خیال بھی آئے تو فورا یہ اندیشہ ان کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ ہمارے اسٹیٹس کے لوگ پھر کیا کہیں گے؟* کیا تمہیں کلچر کے فیشن کے نئے تہواروں کا نہیں پتا چلتا؟ ساتھ ساتھ چلو ورنہ ہمارے ساتھ نہ چل سکو گے، پیچھے رہ جاؤگے. اس طرح کی باتیں سن کر ان کا ناسمجھ دل اور ضدی ہوجاتا ہے اور انہیں دین کے راستہ سے نافرمانی کی راہ کی طرف کھینچتا ہوا لے جاتا ہے.
♦ اسی بناء پر اسلام دشمن قوتیں، کفر و شرک میں مبتلا قومیں، مسلمانوں کی اکثریت کے مزاج و نفسیات کو بھانپ کر وقتاً فوقتاً تجربات کرتی رہتی ہیں کہ *انہیں پتا چلتا رہے کتنے فیصد مذہبی لحاظ سے پابند رہتے ہیں اور پابند رہنا پسند کرتے ہیں اور کتنے فیصد ایسے ہيں جنہوں نے اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ دیا اور ان کی ہر ایک بات پر ”لبیک“ کہنے کیلئے بے قرار بیٹھے ہیں، ذہنی اعتبار سے ان شکنجے میں مکمل طور پر جکڑے ہوئے ہيں.*
🔘 جب اپنے مطیع و فرمانبردار مسلمانوں کے ٹولے میں اضافہ دیکھتے ہیں تو انہیں میں سے اسلام دشمنی کیلئے میر جعفر و میر صادق جیسے افراد کو چن چن کر افتراق و انتشار اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کیلئے اور مُسَلَّمَہ احکامات شرعیہ کو بے جا تاویلوں کے ذریعہ رد کرنے کا ہدف دے کر کام میں لگا دیا جاتا ہے.
🔴 یہ کچھ واقعی صورت حال عرض کی ہے ابھی حال ہی میں کچھ ایسا تازہ تازہ نہیں ہوا بلکہ سلطنت اسلامیہ کے زوال سے بلکہ اس سے بھی پہلے سے اس قسم کی سازشوں اور حماقتوں کا مِنْ حَیْثُ الْقوم مسلمان شکار رہے ہیں.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 4 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 3🔸*
🔆 الغرض غیر مسلموں کی طرف سے جو بھی چیز آئے ان کی دنیاوی مادی ترقیاں دیکھ دیکھ کر ایسے مرعوب ہوجاتے ہیں کہ ان کی ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے، غیر مسلم ممالک کی اسٹیمپ دیکھ کر چيزیں خریدتے ہیں، انہیں کلچر کے ہوٹلوں میں کھانا کھانا، تقریبات میں جانا پسند کرتے ہیں، اپنے گھر اور پورا گھرانہ، اپنا مکمل لباس و کردار و گفتار تک سے وہ اپنے آپ کو اسی کلچر کا ایک فرد قرار دینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کسی حد تک کامیاب ہوجائیں تو ان کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی، یہی وجہ ہے کہ *جب کوئی نئی چيز وہاں سے آتی ہے اگرچہ کیسی ہی ناپاک و ناجائز کیوں نہ ہو کلچر میں شامل ہونے کی وجہ سے اس سے دور ہوجانا ان کیلئے دشوار ہوتا ہے اور دور رہنے کا خیال بھی آئے تو فورا یہ اندیشہ ان کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ ہمارے اسٹیٹس کے لوگ پھر کیا کہیں گے؟* کیا تمہیں کلچر کے فیشن کے نئے تہواروں کا نہیں پتا چلتا؟ ساتھ ساتھ چلو ورنہ ہمارے ساتھ نہ چل سکو گے، پیچھے رہ جاؤگے. اس طرح کی باتیں سن کر ان کا ناسمجھ دل اور ضدی ہوجاتا ہے اور انہیں دین کے راستہ سے نافرمانی کی راہ کی طرف کھینچتا ہوا لے جاتا ہے.
♦ اسی بناء پر اسلام دشمن قوتیں، کفر و شرک میں مبتلا قومیں، مسلمانوں کی اکثریت کے مزاج و نفسیات کو بھانپ کر وقتاً فوقتاً تجربات کرتی رہتی ہیں کہ *انہیں پتا چلتا رہے کتنے فیصد مذہبی لحاظ سے پابند رہتے ہیں اور پابند رہنا پسند کرتے ہیں اور کتنے فیصد ایسے ہيں جنہوں نے اپنے ضمیر کا گلہ گھونٹ دیا اور ان کی ہر ایک بات پر ”لبیک“ کہنے کیلئے بے قرار بیٹھے ہیں، ذہنی اعتبار سے ان شکنجے میں مکمل طور پر جکڑے ہوئے ہيں.*
🔘 جب اپنے مطیع و فرمانبردار مسلمانوں کے ٹولے میں اضافہ دیکھتے ہیں تو انہیں میں سے اسلام دشمنی کیلئے میر جعفر و میر صادق جیسے افراد کو چن چن کر افتراق و انتشار اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کیلئے اور مُسَلَّمَہ احکامات شرعیہ کو بے جا تاویلوں کے ذریعہ رد کرنے کا ہدف دے کر کام میں لگا دیا جاتا ہے.
🔴 یہ کچھ واقعی صورت حال عرض کی ہے ابھی حال ہی میں کچھ ایسا تازہ تازہ نہیں ہوا بلکہ سلطنت اسلامیہ کے زوال سے بلکہ اس سے بھی پہلے سے اس قسم کی سازشوں اور حماقتوں کا مِنْ حَیْثُ الْقوم مسلمان شکار رہے ہیں.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 4 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
🇫ᴀɪᴢᴀɴ ᵉ 🇦ᴛᴛᴀʀ
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 4🔸*
🔆 صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف *”بہار شریعت“* میں ایک مقام پر مسلمانوں کی اسی ابتر حالت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
*”مسلمانوں کی جو ابتر حالت ہے اس کا کہاں تک رونا رویا جائے یہ حالت نہ ہوتی تو یہ دن کیوں دیکھنے پڑتے اور جب ان کی قوت منفعلہ (اثر قبول کرنے کی قوت) اتنی قوی ہے اور قوت فاعلہ (دوسروں پر اثر انداز ہونے کی قوت) زائل ہوچکی تو اب کیا امید ہو سکتی ہے کہ یہ مسلمان کبھی ترقی کا زینہ طے کریں گے غلام بن کر اب بھی ہيں اور جب بھی رہیں گے.*
والعیاذ باللہ تعالٰی
(بہار شریعت، حصہ نہم، جزیہ کا بیان، 451/2)
🔴 چند ضروری باتیں تمہیداً بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ *”ویلنٹائن ڈے“* جیسا بے ہودہ گناہوں سے بھرا دن، مادر پدر آزادی کے ساتھ رنگ رلیوں کے ساتھ منانا، جو نوجوان لڑکے لڑکیوں میں مقبول ہوتا جا رہا ہے اس کے پس پردہ بھی اسی قسم کے اسباب موجود ہیں جو پہلے ذکر کئے گئے یعنی فطری کمزوریاں، جدت پسندی، جلد بازی، نفسانی و شیطانی لذات کی اسیری، دین سے دوری، نہ خود پابند رہنا نہ اپنی اولاد کی تربیت کرکے اسلامی اخلاق و آداب کا انہيں پابند بنانا، نہ ملی قومی سطح پر مسلمانوں کے حکمرانوں کا معاشرے میں خلاف اسلام رسم و رواج و تہواروں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں میں اس بے ہودہ دن کا منایا جانا بھی شروع ہوچکا ہے بلکہ حکمران طبقہ اس طرح کے خلاف اسلام نظریات اور کھلم کھلا گناہوں کی روک تھام کے اقدامات کرنے کی بجائے اسے فروغ دینے اور اس قسم کے برائی پھیلانے والوں کو تحفظ اور کھل کر کام کرنے کا موقع دینے میں آگے آگے دکھائی دیتا ہے، ان میں سے ہر سبب اس قسم کی برائی کا خنجر مسلمانوں کے سینے میں پیوست کرنے میں اپنا زور لگا رہا ہے.
🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫
*ویلنٹــائــن ڈے کا پس منظر*
*اور اس دن کو منانے کا انداز:*
❣ آمد برسر مطلب کے تحت اب سوال چونکہ ویلنٹائن ڈے کے بارے میں ہے اس لئے خصوصاً سب سے پہلے ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر اور اس دن ہونے والی خرافات کو بیان کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں پر واضح ہوکہ اس گناہوں سے بھرپور دن کی حقیقت کیا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام *ویلنٹائن* تھا تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ *کلاڈيس ثانی* کے زیر حکومت رہتا تھا، کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہوگیا، حتی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کر لیا، اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لیکر پادری سے ملنے آتی تھی، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کر پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا، جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ *بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دے دیا ہے* تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزارنے کا ارادہ کیا اور اس کیلئے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا *”مخلص ویلنٹائن کی طرف سے“* بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی اس کے بعد سے ہر 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام *ویلنٹائن ڈے* کے طور پر منایا جاتا ہے.
💞 جبکہ اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہے ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ میل میلاپ، تحفے تحائف کے لین دین سے لیکر فحاشی و عریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپے جس کا جتنا بس چلتا ہے عام دیکھا سنا جا تا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیملی پلاننگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے میں *ویلنٹائن ڈے میں کئی گنا زیادہ بکتی ہیں* اور خریدنے والوں میں اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان پر رش میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان اشیاء کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں.
🔴... مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے. اسی مقصد کے لیے اس دن ہوٹلز کی بکنگ عام دنوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے اور بکنگ کرانے والے رنگ رلیاں منانے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں. شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے، ساحل سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دھائی دیتا ہے.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 5 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 4🔸*
🔆 صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف *”بہار شریعت“* میں ایک مقام پر مسلمانوں کی اسی ابتر حالت کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
*”مسلمانوں کی جو ابتر حالت ہے اس کا کہاں تک رونا رویا جائے یہ حالت نہ ہوتی تو یہ دن کیوں دیکھنے پڑتے اور جب ان کی قوت منفعلہ (اثر قبول کرنے کی قوت) اتنی قوی ہے اور قوت فاعلہ (دوسروں پر اثر انداز ہونے کی قوت) زائل ہوچکی تو اب کیا امید ہو سکتی ہے کہ یہ مسلمان کبھی ترقی کا زینہ طے کریں گے غلام بن کر اب بھی ہيں اور جب بھی رہیں گے.*
والعیاذ باللہ تعالٰی
(بہار شریعت، حصہ نہم، جزیہ کا بیان، 451/2)
🔴 چند ضروری باتیں تمہیداً بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ *”ویلنٹائن ڈے“* جیسا بے ہودہ گناہوں سے بھرا دن، مادر پدر آزادی کے ساتھ رنگ رلیوں کے ساتھ منانا، جو نوجوان لڑکے لڑکیوں میں مقبول ہوتا جا رہا ہے اس کے پس پردہ بھی اسی قسم کے اسباب موجود ہیں جو پہلے ذکر کئے گئے یعنی فطری کمزوریاں، جدت پسندی، جلد بازی، نفسانی و شیطانی لذات کی اسیری، دین سے دوری، نہ خود پابند رہنا نہ اپنی اولاد کی تربیت کرکے اسلامی اخلاق و آداب کا انہيں پابند بنانا، نہ ملی قومی سطح پر مسلمانوں کے حکمرانوں کا معاشرے میں خلاف اسلام رسم و رواج و تہواروں کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں میں اس بے ہودہ دن کا منایا جانا بھی شروع ہوچکا ہے بلکہ حکمران طبقہ اس طرح کے خلاف اسلام نظریات اور کھلم کھلا گناہوں کی روک تھام کے اقدامات کرنے کی بجائے اسے فروغ دینے اور اس قسم کے برائی پھیلانے والوں کو تحفظ اور کھل کر کام کرنے کا موقع دینے میں آگے آگے دکھائی دیتا ہے، ان میں سے ہر سبب اس قسم کی برائی کا خنجر مسلمانوں کے سینے میں پیوست کرنے میں اپنا زور لگا رہا ہے.
🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫🚫
*ویلنٹــائــن ڈے کا پس منظر*
*اور اس دن کو منانے کا انداز:*
❣ آمد برسر مطلب کے تحت اب سوال چونکہ ویلنٹائن ڈے کے بارے میں ہے اس لئے خصوصاً سب سے پہلے ویلنٹائن ڈے کا تاریخی پس منظر اور اس دن ہونے والی خرافات کو بیان کیا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں پر واضح ہوکہ اس گناہوں سے بھرپور دن کی حقیقت کیا ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک پادری جس کا نام *ویلنٹائن* تھا تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ *کلاڈيس ثانی* کے زیر حکومت رہتا تھا، کسی نافرمانی کی بناء پر بادشاہ نے پادری کو جیل میں ڈال دیا، پادری اور جیلر کی لڑکی کے مابین عشق ہوگیا، حتی کہ لڑکی نے اس عشق میں اپنا مذہب چھوڑ کر پادری کا مذہب نصرانیت قبول کر لیا، اب لڑکی روزانہ ایک سرخ گلاب لیکر پادری سے ملنے آتی تھی، بادشاہ کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو اس نے پادری کر پھانسی دینے کا حکم صادر کر دیا، جب پادری کو اس بات کا علم ہوا کہ *بادشاہ نے اس کی پھانسی کا حکم دے دیا ہے* تو اس نے اپنے آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزارنے کا ارادہ کیا اور اس کیلئے ایک کارڈ اس نے اپنی معشوقہ کے نام بھیجا جس پر یہ تحریر تھا *”مخلص ویلنٹائن کی طرف سے“* بالآخر 14 فروری کو اس پادری کو پھانسی دیدی گئی اس کے بعد سے ہر 14 فروری کو یہ محبت کا دن اس پادری کے نام *ویلنٹائن ڈے* کے طور پر منایا جاتا ہے.
💞 جبکہ اس تہوار کو منانے کا انداز یہ ہے ہوتا ہے کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ میل میلاپ، تحفے تحائف کے لین دین سے لیکر فحاشی و عریانی کی ہر قسم کا مظاہرہ کھلے عام یا چوری چھپے جس کا جتنا بس چلتا ہے عام دیکھا سنا جا تا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فیملی پلاننگ کی ادویات عام دنوں کے مقابلے میں *ویلنٹائن ڈے میں کئی گنا زیادہ بکتی ہیں* اور خریدنے والوں میں اکثریت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ہوتی ہے، گفٹ شاپس اور پھولوں کی دکان پر رش میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان اشیاء کو خریدنے والے بھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں.
🔴... مشرقی اقدار کے حامل ممالک میں کھلی چھوٹ نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جوڑوں کو محفوظ مقام کی تلاش ہوتی ہے. اسی مقصد کے لیے اس دن ہوٹلز کی بکنگ عام دنوں کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے اور بکنگ کرانے والے رنگ رلیاں منانے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں. شراب کا بے تحاشہ کاروبار ہوتا ہے، ساحل سمندر پر بے پردگی اور بے حیائی کا ایک نیا سمندر دھائی دیتا ہے.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 5 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
Ğulshaň-E-Ąttąr...2⃣
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 5🔸*
🔘 مغربی ممالک میں جہاں غیر مسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کی قانونی چھوٹ حاصل ہے اس دن کی دھما چوکڑی سے بعض اوقات وہ بھی پریشان ہوجاتے ہيں اور اس کے خلاف بعض اوقات کہیں کہیں سے دبی دبی صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے جیسا کہ انگلینڈ میں اس کی مخالفت میں احتجاج کیا گيا اور احتجاج کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ *اس دن کی بدولت انگلینڈ کے ایک پرائمری اسکول میں 10 سال کی 39 بچیاں حاملہ ہوئیں.* غور کیجئے یہ تو پرائمری اسکول کی دس سالہ بچیوں کے ساتھ سفاکیت کی خبر ہے وہاں کے نوجوانوں لڑکے لڑکیوں کے ناجائز تعلقات اور اس کے نتیجے میں حمل ٹھہرنے اور اسقاط حمل کے واقعات کی تعداد پھر کتنی ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے.
🚫 انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن کو کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی ﷲ عزوجل اور اس کے رسول کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عطا کئے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگيوں سے ناپاک و آلودہ کرتے ہیں.
🚫 بدنگاہی، بے پردگی، فحاشی عریانی، اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ، ہنسی مذاق، اس ناجائز تعلق کو مضبوط رکھنے کیلئے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا اور دواعئ زنا تک کی نوبتیں یہ سب وہ باتیں ہیں جو اس روزِ عصیاں زور و شور سے جاری رہتی ہیں یہ وہ باتیں ہیں جن کے ناجائز و حرام ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہوسکتا، قرآن کریم کی آیات بینات اور نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے واضح ارشادات سے ان امور کی حرمت و مذمت ثابت ہے.
🔘 مگر چونکہ اس قسم کے سوال سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دینی نقطۂ نظر سے سمجھایا جائے اور اس دن کی خرافات کے ساتھ اس کو منانے کی شناعت و برائی سے انہیں آگاہ کرکے *ان کے دلوں میں خوف خدا اور شرم مصطفٰی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پیدا کی جائے تاکہ وہ ان ناپاکیوں سے تائب ہو کر اپنے افکار و کردار کی اصلاح میں مشغول ہوکر بروزِ قیامت سرخرو ہوں،* لہٰذا ترغیب و ترہیب کیلئے چند باتیں دین سے محبت کرنے والے اپنے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں، خود بھی پڑھیں اور اس اہم فتوے کو جو مضمون کی شکل میں ہے عام کریں تاکہ عامۃ المسلمین کے دین و دنیا کا بھلا ہو.
🔘 اب ذرا اپنی پاکیزہ شریعت کے احکامات ملاحظہ کیجئے:
کس طرح بدنگاہی بے حیائی، بے پردگی اور ہر قسم کی فحاشی و عریانی کی مذمت قرآن کریم کی آیات اور نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات میں بیان ہوئی ہے توجہ کے ساتھ پڑھنا اور سمجھنا چونکہ مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے اس لئے اتنی ہمت ضرور کیجئے آیات و احادیث کو اپنے دل میں داخل ہونے کا موقع دیجئے ﷲ عزوجل نے چاہا تو توبہ کی توفیق کے ساتھ ساتھ پرہیز گاری کی دولت اور اتباعِ سنت کی توفیق بھی مل جائے گی....
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 6 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 5🔸*
🔘 مغربی ممالک میں جہاں غیر مسلم مادر پدر آزادی کے ساتھ رہتے ہیں اور فحاشی و عریانی اور جنسی بے راہ روی کو وہاں ہر طرح کی قانونی چھوٹ حاصل ہے اس دن کی دھما چوکڑی سے بعض اوقات وہ بھی پریشان ہوجاتے ہيں اور اس کے خلاف بعض اوقات کہیں کہیں سے دبی دبی صدائے احتجاج بلند ہوتی رہتی ہے جیسا کہ انگلینڈ میں اس کی مخالفت میں احتجاج کیا گيا اور احتجاج کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ *اس دن کی بدولت انگلینڈ کے ایک پرائمری اسکول میں 10 سال کی 39 بچیاں حاملہ ہوئیں.* غور کیجئے یہ تو پرائمری اسکول کی دس سالہ بچیوں کے ساتھ سفاکیت کی خبر ہے وہاں کے نوجوانوں لڑکے لڑکیوں کے ناجائز تعلقات اور اس کے نتیجے میں حمل ٹھہرنے اور اسقاط حمل کے واقعات کی تعداد پھر کتنی ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے.
🚫 انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دن کو کافروں کی طرح بے حیائی کے ساتھ منانے والے بہت سے مسلمان بھی ﷲ عزوجل اور اس کے رسول کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عطا کئے ہوئے پاکیزہ احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرکے نہ صرف یہ کہ اپنے نامۂ اعمال کی سیاہی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مسلم معاشرے کی پاکیزگی کو بھی ان بے ہودگيوں سے ناپاک و آلودہ کرتے ہیں.
🚫 بدنگاہی، بے پردگی، فحاشی عریانی، اجنبی لڑکے لڑکیوں کا میل ملاپ، ہنسی مذاق، اس ناجائز تعلق کو مضبوط رکھنے کیلئے تحائف کا تبادلہ اور آگے زنا اور دواعئ زنا تک کی نوبتیں یہ سب وہ باتیں ہیں جو اس روزِ عصیاں زور و شور سے جاری رہتی ہیں یہ وہ باتیں ہیں جن کے ناجائز و حرام ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہوسکتا، قرآن کریم کی آیات بینات اور نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے واضح ارشادات سے ان امور کی حرمت و مذمت ثابت ہے.
🔘 مگر چونکہ اس قسم کے سوال سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دینی نقطۂ نظر سے سمجھایا جائے اور اس دن کی خرافات کے ساتھ اس کو منانے کی شناعت و برائی سے انہیں آگاہ کرکے *ان کے دلوں میں خوف خدا اور شرم مصطفٰی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پیدا کی جائے تاکہ وہ ان ناپاکیوں سے تائب ہو کر اپنے افکار و کردار کی اصلاح میں مشغول ہوکر بروزِ قیامت سرخرو ہوں،* لہٰذا ترغیب و ترہیب کیلئے چند باتیں دین سے محبت کرنے والے اپنے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں، خود بھی پڑھیں اور اس اہم فتوے کو جو مضمون کی شکل میں ہے عام کریں تاکہ عامۃ المسلمین کے دین و دنیا کا بھلا ہو.
🔘 اب ذرا اپنی پاکیزہ شریعت کے احکامات ملاحظہ کیجئے:
کس طرح بدنگاہی بے حیائی، بے پردگی اور ہر قسم کی فحاشی و عریانی کی مذمت قرآن کریم کی آیات اور نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات میں بیان ہوئی ہے توجہ کے ساتھ پڑھنا اور سمجھنا چونکہ مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے اس لئے اتنی ہمت ضرور کیجئے آیات و احادیث کو اپنے دل میں داخل ہونے کا موقع دیجئے ﷲ عزوجل نے چاہا تو توبہ کی توفیق کے ساتھ ساتھ پرہیز گاری کی دولت اور اتباعِ سنت کی توفیق بھی مل جائے گی....
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 6 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
🇫ᴀɪᴢᴀɴ ᵉ 🇦ᴛᴛᴀʀ
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 6🔸*
*📔شرم و حیا کا درس اور بے حیائی کی مذمت آیات قرآنیہ سے📔*
1⃣ ﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
💐 ترجمہ کنزالایمان:
*”مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بیشک ﷲ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں.“*
(پارہ 18، سورة النور، آیت: 30، 31)
📔 سورہ نور کی اسی اکتسویں آیت میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار.“*
(پارہ 18، سورة النور، آیت 31)
2⃣ سورة الاحزاب میں ارشاد ہوا:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر ﷲ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل میں کا روگی کچھ لالچ کرے. ہاں اچھی بات کہو اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی. اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور ﷲ اور اس کے رسول کا حکم مانو.“*
(پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت: 32، 33)
3⃣ ﷲ تعالٰی کا یہ فرمان بھی ملاحظہ کیجئے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں. اور ﷲ بخشنے والا مہربان ہے.“*
(پارہ 22، سورة الاحزاب، آیت:59)
4⃣ اس فرمان کو بھی توجہ سے پڑھ لیجئے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب ﷲ و رسول کچھ حکم فرما دیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے ﷲ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی بہکا.“*
(پارہ 22، سورة الاحزاب، آیت: 36)
🔴 مذکورہ آیات قرآنیہ میں ﷲ رب العزت نے مؤمنین مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا اور پردہ کی اہمیت کس قدر ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ عورتوں کو جاہلیت اولٰی کی بے پردگی سے منع کیا گیا یہاں تک کہ زیور کی آواز بھی غیر مرد نہ سنے، اس کا لحاظ رکھنے کا فرمایا گيا اور آخری آیت جو ذکر کی گئی اس میں ﷲ عزوجل اور اس کے رسول صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے بعد کسی مسلمان مرد و عورت کیلئے اختیار باقی نہیں رہ جاتا اس کا واضح اعلان فرما دیا گيا، تو کیا مسلمانوں کو ان احکامات کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہئے؟ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان مرد و عورتیں ویلنٹائن ڈے میں ان احکامات کی اعلانیہ کھلم کھلا کافروں کی تقلید میں خلاف ورزیاں کرتے ہیں ﷲ تعالٰی عقل دے، سمجھ دے، احکام شریعت کی اتباع میں زندگی بسر کرنے کی توفیق دے.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 7 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 6🔸*
*📔شرم و حیا کا درس اور بے حیائی کی مذمت آیات قرآنیہ سے📔*
1⃣ ﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
💐 ترجمہ کنزالایمان:
*”مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بیشک ﷲ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں.“*
(پارہ 18، سورة النور، آیت: 30، 31)
📔 سورہ نور کی اسی اکتسویں آیت میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار.“*
(پارہ 18، سورة النور، آیت 31)
2⃣ سورة الاحزاب میں ارشاد ہوا:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اے نبی کی بیبیو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر ﷲ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل میں کا روگی کچھ لالچ کرے. ہاں اچھی بات کہو اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی. اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور ﷲ اور اس کے رسول کا حکم مانو.“*
(پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت: 32، 33)
3⃣ ﷲ تعالٰی کا یہ فرمان بھی ملاحظہ کیجئے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں. اور ﷲ بخشنے والا مہربان ہے.“*
(پارہ 22، سورة الاحزاب، آیت:59)
4⃣ اس فرمان کو بھی توجہ سے پڑھ لیجئے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب ﷲ و رسول کچھ حکم فرما دیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے ﷲ اور اس کے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی بہکا.“*
(پارہ 22، سورة الاحزاب، آیت: 36)
🔴 مذکورہ آیات قرآنیہ میں ﷲ رب العزت نے مؤمنین مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا اور پردہ کی اہمیت کس قدر ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ عورتوں کو جاہلیت اولٰی کی بے پردگی سے منع کیا گیا یہاں تک کہ زیور کی آواز بھی غیر مرد نہ سنے، اس کا لحاظ رکھنے کا فرمایا گيا اور آخری آیت جو ذکر کی گئی اس میں ﷲ عزوجل اور اس کے رسول صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کے بعد کسی مسلمان مرد و عورت کیلئے اختیار باقی نہیں رہ جاتا اس کا واضح اعلان فرما دیا گيا، تو کیا مسلمانوں کو ان احکامات کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہئے؟ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان مرد و عورتیں ویلنٹائن ڈے میں ان احکامات کی اعلانیہ کھلم کھلا کافروں کی تقلید میں خلاف ورزیاں کرتے ہیں ﷲ تعالٰی عقل دے، سمجھ دے، احکام شریعت کی اتباع میں زندگی بسر کرنے کی توفیق دے.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 7 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
🇫ᴀɪᴢᴀɴ ᵉ 🇦ᴛᴛᴀʀ
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 7🔸*
*📗شرم و حیا کا درس اور بے حیائی کی مذمت احادیث مبارکہ سے📗*
1⃣ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
*”حسن بصری رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ سے مرسلاً مروی ہے، کہتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:
*”دیکھنے والے پر اور اس پر جس کی طرف نظر کی گئی ﷲ عزوجل لعنت فرماتا ہے (یعنی دیکھنے والا جب بلا عذر قصداً دیکھے اور دوسرا اپنے کو بلا عذر قصداً دکھائے).“*
(مشکاة المصابیح، کتاب النکاح، باب النظر الی المخطویة....الخ، الفصل الثالث، 574/1، الحدیث: 3125)
2⃣ سنن ابو داؤد میں ہے:
*”اور ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا (حرام کو) پکڑنا ہے اور پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا (حرام کی طرف) چلنا ہے اور منہ (بھی) زنا کرتا ہےاور اس کا زنا بوسہ دینا ہے.“*
(ابو داؤد، کتاب النکاح، باب ما یؤمر به من غض البصر، 2/359، الحدیث: 2153)
3⃣ صحیح مسلم میں ہے:
*”حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*”دوزخیوں کی دو جماعتیں ایسی ہوں گی جنہیں میں نے (اپنے اس عہد مبارک ميں) نہیں دیکھا (یعنی آئندہ پیدا ہونے والی ہیں، ان میں) ایک وہ قوم جن کے ساتھ گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے جن لوگوں کو ماریں گے اور (دوسری قسم) ان عورتوں کی ہے جو پہن کر ننگی ہوں گی دوسروں کو (اپنی طرف) مائل کرنے والی اور مائل ہونے والی ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی ایک طرف جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہوں گے وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی دور سے پائی جائے گی.“*
(مسلم، کتاب اللباس والزینة، باب النساء الکاسیات العاریات....الخ، صفحہ 1177، الحدیث: 125(2128))
4⃣ نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
*”تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی گھونپ دی جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کیلئے حلال نہیں.“*
(معجم کبیر، ابو العلاء یزید بن عبداللہ....الخ، 20/211، الحدیث: 486)
5⃣ نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
*”عورتوں کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے سے بچو! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہیں کرتا مگر ان کے درمیان شیطان داخل ہوجاتا ہے اور مٹی یا سیاہ بدبودار کیچڑ میں لتھڑا ہوا خنزیر کسی شخص سے ٹکرا جائے تو یہ اس کیلئے اس سے بہتر ہے کہ اس کے کندھے ایسی عورت سے ٹکرائیں جو اس کیلئے حلال نہیں.“*
(الزاجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرة، کتاب النکاح، 2/6)
♦ شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی شافعی رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ اپنی کتاب *”الزواجر عن اقتراف الکبائر“* میں ارشاد فرماتے ہیں، اس کا ترجمہ ہے: *بعضوں نے اپنے ہاتھ کو کسی عورت کے ہاتھ پر رکھا تو ان دونوں کے ہاتھ چمٹ گئے اور لوگ انہیں جدا کرنے میں ناکام ہوگئے یہاں تک کہ بعض علماء کرام رحمہم ﷲ تعالٰی نے ان کی رہنمائی فرمائی کہ وہ عہد کریں کہ ایسی نافرمانی کا ارتکاب کبھی نہیں کریں گے اور ﷲ عزوجل کی بارگاہ ميں گڑگڑا کر صدقِ دل سے توبہ کریں پس انہوں نے ایسا کیا تو ﷲ عزوجل نے انہیں چھٹکارا عطا فرمایا.* اور اساف اور نائلہ کا قصہ مشہور ہے کہ انہوں نے زنا کیا تو ﷲ عزوجل نے ان دونوں کو چہرہ مسخ کرکے پتھر بنا دیا.
🔆 تم یہ دیکھ کر دھوکا نہ کھاؤ کہ کوئی شخص نافرمانی کا مرتکب ہونے کے باوجود ابھی تک صحیح و سالم ہے اور اسے جلدی سزا نہیں ملتی عقلمند کیلئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے نفس پر غرور کرے، اپنے نفس پر غرور کرنے والا اچھا نہیں اگرچہ وہ سلامت رہے کیونکہ عین ممکن ہے ﷲ عزوجل تمہارے لئے سزا کو جلدی مقرر کردے جبکہ دوسروں کیلئے نہ کرے، کیونکہ اسے اس سے روکنے والا کوئی نہیں کہ کبھی بہت شنیع و قبیح چیز کے ساتھ جلدی سزا ہوجاتی ہے *جیسے دل کا سخت ہونا، بارگاہ حق میں حاضری سے دوری، ہدایت کے بعد گمراہی اور بارگاہ خداوندی کی طرف متوجہ ہونے کے بعد اعراض کرنا.*
(الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرة، الکبیرة الثالثة و الخمسون بعد المائة، 1/445)
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 8 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 7🔸*
*📗شرم و حیا کا درس اور بے حیائی کی مذمت احادیث مبارکہ سے📗*
1⃣ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
*”حسن بصری رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ سے مرسلاً مروی ہے، کہتے ہیں مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:
*”دیکھنے والے پر اور اس پر جس کی طرف نظر کی گئی ﷲ عزوجل لعنت فرماتا ہے (یعنی دیکھنے والا جب بلا عذر قصداً دیکھے اور دوسرا اپنے کو بلا عذر قصداً دکھائے).“*
(مشکاة المصابیح، کتاب النکاح، باب النظر الی المخطویة....الخ، الفصل الثالث، 574/1، الحدیث: 3125)
2⃣ سنن ابو داؤد میں ہے:
*”اور ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا (حرام کو) پکڑنا ہے اور پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا (حرام کی طرف) چلنا ہے اور منہ (بھی) زنا کرتا ہےاور اس کا زنا بوسہ دینا ہے.“*
(ابو داؤد، کتاب النکاح، باب ما یؤمر به من غض البصر، 2/359، الحدیث: 2153)
3⃣ صحیح مسلم میں ہے:
*”حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*”دوزخیوں کی دو جماعتیں ایسی ہوں گی جنہیں میں نے (اپنے اس عہد مبارک ميں) نہیں دیکھا (یعنی آئندہ پیدا ہونے والی ہیں، ان میں) ایک وہ قوم جن کے ساتھ گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے جن لوگوں کو ماریں گے اور (دوسری قسم) ان عورتوں کی ہے جو پہن کر ننگی ہوں گی دوسروں کو (اپنی طرف) مائل کرنے والی اور مائل ہونے والی ہوں گی، ان کے سر بختی اونٹوں کی ایک طرف جھکی ہوئی کوہانوں کی طرح ہوں گے وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی دور سے پائی جائے گی.“*
(مسلم، کتاب اللباس والزینة، باب النساء الکاسیات العاریات....الخ، صفحہ 1177، الحدیث: 125(2128))
4⃣ نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
*”تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی گھونپ دی جائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کیلئے حلال نہیں.“*
(معجم کبیر، ابو العلاء یزید بن عبداللہ....الخ، 20/211، الحدیث: 486)
5⃣ نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
*”عورتوں کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے سے بچو! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہیں کرتا مگر ان کے درمیان شیطان داخل ہوجاتا ہے اور مٹی یا سیاہ بدبودار کیچڑ میں لتھڑا ہوا خنزیر کسی شخص سے ٹکرا جائے تو یہ اس کیلئے اس سے بہتر ہے کہ اس کے کندھے ایسی عورت سے ٹکرائیں جو اس کیلئے حلال نہیں.“*
(الزاجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرة، کتاب النکاح، 2/6)
♦ شیخ الاسلام شہاب الدین امام احمد بن حجر مکی شافعی رحمۃ ﷲ تعالٰی علیہ اپنی کتاب *”الزواجر عن اقتراف الکبائر“* میں ارشاد فرماتے ہیں، اس کا ترجمہ ہے: *بعضوں نے اپنے ہاتھ کو کسی عورت کے ہاتھ پر رکھا تو ان دونوں کے ہاتھ چمٹ گئے اور لوگ انہیں جدا کرنے میں ناکام ہوگئے یہاں تک کہ بعض علماء کرام رحمہم ﷲ تعالٰی نے ان کی رہنمائی فرمائی کہ وہ عہد کریں کہ ایسی نافرمانی کا ارتکاب کبھی نہیں کریں گے اور ﷲ عزوجل کی بارگاہ ميں گڑگڑا کر صدقِ دل سے توبہ کریں پس انہوں نے ایسا کیا تو ﷲ عزوجل نے انہیں چھٹکارا عطا فرمایا.* اور اساف اور نائلہ کا قصہ مشہور ہے کہ انہوں نے زنا کیا تو ﷲ عزوجل نے ان دونوں کو چہرہ مسخ کرکے پتھر بنا دیا.
🔆 تم یہ دیکھ کر دھوکا نہ کھاؤ کہ کوئی شخص نافرمانی کا مرتکب ہونے کے باوجود ابھی تک صحیح و سالم ہے اور اسے جلدی سزا نہیں ملتی عقلمند کیلئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے نفس پر غرور کرے، اپنے نفس پر غرور کرنے والا اچھا نہیں اگرچہ وہ سلامت رہے کیونکہ عین ممکن ہے ﷲ عزوجل تمہارے لئے سزا کو جلدی مقرر کردے جبکہ دوسروں کیلئے نہ کرے، کیونکہ اسے اس سے روکنے والا کوئی نہیں کہ کبھی بہت شنیع و قبیح چیز کے ساتھ جلدی سزا ہوجاتی ہے *جیسے دل کا سخت ہونا، بارگاہ حق میں حاضری سے دوری، ہدایت کے بعد گمراہی اور بارگاہ خداوندی کی طرف متوجہ ہونے کے بعد اعراض کرنا.*
(الزواجر عن اقتراف الکبائر، الباب الثانی فی الکبائر الظاہرة، الکبیرة الثالثة و الخمسون بعد المائة، 1/445)
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 8 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
🇫ᴀɪᴢᴀɴ ᵉ 🇦ᴛᴛᴀʀ
WhatsApp Group Invite
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 8🔸*
*🎻 گانے باجے اور موسیقی کی مذمت قرآن و حدیث کی روشنی میں📯*
♦️ ﷲ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ ﷲ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے.“*
(پارہ 21، سورة لقمان، آیت:6)
🔸 اس آیت میں *”لھوالحدیث“* سے متعلق مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے.
🔴 بخاری شریف میں نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا واضح فرمان موجود ہے:
*”ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے.“*
(بخاری، کتاب الاشربة، باب ماجاء فیمن یستحل الخمر.....الخ، 3/583، الحدیث: 559)
🔴 مشہور صحابی حضرت عبدﷲ ابن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
*”گانے باجے کی آواز دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جیسے پانی نباتات کو اگاتا ہے.“*
*📌 الـحــــــاصــــــــل:* مذکورہ آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ کو بغور ملاحظہ کریں کہ حرام کو دیکھنے والا اور جو اپنا جسم غیر کو دکھائے دونوں پر ہی ﷲ عزوجل کی لعنت ہے اور دونوں ہی رحمت الٰہی سے دور ہیں پھر زنا صرف شرمگاہ کا نہیں بلکہ *ہاتھ کا زنا حرام کو پکڑنا،*
*آنکھ کا زنا حرام کو دیکھنا،*
*پاؤں کا زنا حرام کی طرف چلنا،*
*منہ کا زنا حرام بوسہ دینا*
اور ویلنٹائن ڈے میں عموماً یہ سارے کام اور زنا کی یہ تمام اقسام پائی جاتی ہیں، حدیث مبارک میں غیر عورت کے ساتھ تنہا خلوت اختیار کرنے کی کس قدر سختی سے ممانعت کی گئی اور مثال سے اس کی برائی بیان فرمائی کہ *بدبودار کیچڑ سے لتھڑا خنزیر کسی شخص سے ٹکرائے یہ غیر عورت سے کندھا ملانے سے بہتر ہے* جبکہ اس دن کو منانے والے ان امور کا ارتکاب بڑی بے باکی کے ساتھ کرتے ہیں آپس میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بے حیائی و فحاشی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں اس ویلنٹائن ڈے میں ناجائز خوشی کے ذرائع اپنا کر رنگ رلیاں منانے والوں کیلئے اساف و نائلہ کے عذاب میں بڑی عبرت کا سامان ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ *اس دن بے حیائی و فحاشی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے کسی عذاب کا شکار ہوجائیں* انہیں ڈرنا چاہئے اور اگر دنیا میں عذاب نازل نہ بھی ہو تب بھی اس گناہ عظيم کی آخرت میں جو سزا ہوگی اس سے تو ہر مسلمان کو ڈرنا ہی چاہئے اور دنیا میں پکڑ و گرفت نہ ہونے کی وجہ سے ہرگز بے خوف نہیں ہونا چاہئے.
🔶 مسلمان کی تو قرآن کریم میں یہ شان بیان ہوئی ہے کہ *وہ رحمان عزوجل سے بن دیکھے ڈرتے ہيں* لہٰذا ﷲ کے خوف سے لرز کر اس کی رحمت کے دامن سے لپٹ کر سچی توبہ کر لیجئے وہ غفور و رحیم ہے توبہ کرنے والوں کی نہ صرف توبہ قبول فرماتا ہے بلکہ انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے. اس دن فلمیں ڈرامے، گانے باجے اور مختلف بے حيائی سے لبریز شو دیکھنے والے بھی توبہ کرلیں کہ یہ سب سخت ناجائز و حرام افعال ہیں.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 9 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 8🔸*
*🎻 گانے باجے اور موسیقی کی مذمت قرآن و حدیث کی روشنی میں📯*
♦️ ﷲ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ ﷲ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے.“*
(پارہ 21، سورة لقمان، آیت:6)
🔸 اس آیت میں *”لھوالحدیث“* سے متعلق مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد گانا بجانا ہے.
🔴 بخاری شریف میں نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا واضح فرمان موجود ہے:
*”ضرور میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں کو حلال ٹھہرائیں گے.“*
(بخاری، کتاب الاشربة، باب ماجاء فیمن یستحل الخمر.....الخ، 3/583، الحدیث: 559)
🔴 مشہور صحابی حضرت عبدﷲ ابن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
*”گانے باجے کی آواز دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتی ہے جیسے پانی نباتات کو اگاتا ہے.“*
*📌 الـحــــــاصــــــــل:* مذکورہ آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ کو بغور ملاحظہ کریں کہ حرام کو دیکھنے والا اور جو اپنا جسم غیر کو دکھائے دونوں پر ہی ﷲ عزوجل کی لعنت ہے اور دونوں ہی رحمت الٰہی سے دور ہیں پھر زنا صرف شرمگاہ کا نہیں بلکہ *ہاتھ کا زنا حرام کو پکڑنا،*
*آنکھ کا زنا حرام کو دیکھنا،*
*پاؤں کا زنا حرام کی طرف چلنا،*
*منہ کا زنا حرام بوسہ دینا*
اور ویلنٹائن ڈے میں عموماً یہ سارے کام اور زنا کی یہ تمام اقسام پائی جاتی ہیں، حدیث مبارک میں غیر عورت کے ساتھ تنہا خلوت اختیار کرنے کی کس قدر سختی سے ممانعت کی گئی اور مثال سے اس کی برائی بیان فرمائی کہ *بدبودار کیچڑ سے لتھڑا خنزیر کسی شخص سے ٹکرائے یہ غیر عورت سے کندھا ملانے سے بہتر ہے* جبکہ اس دن کو منانے والے ان امور کا ارتکاب بڑی بے باکی کے ساتھ کرتے ہیں آپس میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بے حیائی و فحاشی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں اس ویلنٹائن ڈے میں ناجائز خوشی کے ذرائع اپنا کر رنگ رلیاں منانے والوں کیلئے اساف و نائلہ کے عذاب میں بڑی عبرت کا سامان ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ *اس دن بے حیائی و فحاشی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے کسی عذاب کا شکار ہوجائیں* انہیں ڈرنا چاہئے اور اگر دنیا میں عذاب نازل نہ بھی ہو تب بھی اس گناہ عظيم کی آخرت میں جو سزا ہوگی اس سے تو ہر مسلمان کو ڈرنا ہی چاہئے اور دنیا میں پکڑ و گرفت نہ ہونے کی وجہ سے ہرگز بے خوف نہیں ہونا چاہئے.
🔶 مسلمان کی تو قرآن کریم میں یہ شان بیان ہوئی ہے کہ *وہ رحمان عزوجل سے بن دیکھے ڈرتے ہيں* لہٰذا ﷲ کے خوف سے لرز کر اس کی رحمت کے دامن سے لپٹ کر سچی توبہ کر لیجئے وہ غفور و رحیم ہے توبہ کرنے والوں کی نہ صرف توبہ قبول فرماتا ہے بلکہ انہیں اپنا محبوب بنا لیتا ہے. اس دن فلمیں ڈرامے، گانے باجے اور مختلف بے حيائی سے لبریز شو دیکھنے والے بھی توبہ کرلیں کہ یہ سب سخت ناجائز و حرام افعال ہیں.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 9 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
🇫ᴀɪᴢᴀɴ ᵉ 🇦ᴛᴛᴀʀ
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 9🔸*
*♦️ ناجائز محبت مـيں دیئے جانے والے تحائف کا حکم🎁*
💌 ویلنٹائن والے دن اجنبی مرد و عورت کے مابین جو ناجائز محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے اور آپس میں جو تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ *یہ سب رشوت کے حکم میں داخل ہے اس لئے ناجائز و حرام ہے ایسے گفٹ لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز و حرام ہیں* اگر کسی نے یہ تحائف لئے ہیں تو اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ یہ تحائف واپس کرنا بھی لازم ہے.
🔸 چنانچہ بحرالرائق میں ہے:
*”عاشق و معشوق (ناجائز محبت میں گرفتار) آپس میں ایک دوسرے کو جو (تحائف) دیتے ہیں وہ رشوت ہے ان کا واپس کرنا واجب ہے اور وہ ملکیت میں داخل نہیں ہوتے.“*
(بحرالرائق، کتاب القضاء، 6/441)
⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕
*🥃 شراب نوشی کی مذمت سے متعلق آیات قرآنیہ و احادیث مبارکہ:*
📗 قرآن پاک میں ﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ.“*
(پارہ 7، سورة المائدة، آیت:9)
📔 احادیث ث مبارکہ میں بھی شراب پینے پر متعدد عذابوں کی وعیدیں وارد ہوئیں ہیں چند کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
*📌 حدیث نمبر 1:*
صحیح مسلم میں جابر رضی ﷲتعالٰی عنہ سے مروی کہ حضور صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
*”ہر نشہ والی چیز حرام ہے بیشک ﷲ تعالٰی نے عہد کیا ہے کہ جو شخص نشہ پئے گا اسے ”طــیــنــة الــخـــبـــال“ سے پلائے گا.*
لوگوں نے عرض کی *”طــیــنــة الــخـــبـــال“* کیا چيز ہے؟
فرمایا کہ *جہنمیوں کا پسینہ یا ان کا عصارہ (نچوڑ).“*
(مسلم، کتاب الاسربة، باب بیان ان کل مسکر خمرا.....الخ، صفحه 1109، الحدیث:72 (2002))
*📌 حدیث نمبر 2:*
ترمذی نے عبدﷲ بن عمر اور نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے عبدﷲ بن عمرو رضی ﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*”جو شخص شراب پئے گا اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی پھر اگر توبہ کرے تو ﷲ عزوجل اس کی توبہ قبول فرمائے گا پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو قبول ہے پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو ﷲ عزوجل قبول فرمائے گا پھر اگر چوتھی مرتبہ پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اب اگر توبہ کرے تو ﷲ عزوجل اس کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا اور نہر خبال سے اسے پلائے گا.“*
(ترمذی، کتاب الاشربة، باب ماجاء فی شارب الخمر، 3/342، الحدیث:1869)
*📌 حدیث نمبر 3:*
دارمی نے عبدﷲ بن عمرو رضی ﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ حضور صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*”والدین کی نافرمانی کرنے والا اور جوا کھیلنے والا اور احسان جتلانے والا اور شراب کی مداومت کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا.“*
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الحدود، باب بیان الخمر....الخ، 2/330، الحدیث: 3653)
*📌 حدیث نمبر 4:*
امام احمد نے ابو امامہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
*”قسم ہے میری عزت کی! میرا جو بندہ شراب کی ایک گھونٹ بھی پئے گا میں اس کو اتنی ہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اس کو حوض قدس سے پلاؤں گا.“*
(بحوالہ بہار شریعت، 2/385،386)
(مسند امام احمد، حدیث ابی امامة الباھلی، 8/286، الحدیث:22281)
*🚫 یــــاد رہے!* شراب پینے کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس کی سزا بطورِ حد 80 کـــوڑے ہیں جو کہ شرائط پائی جانے کی صورت میں مجرم کو مارے جاتے ہیں جس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے.
(شراب نوشی کی مذمت سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے مکتبۃ المدینۃ کی مطبوعہ کتاب *”بہـــار شـریعت، جلد 2، حصہ 9“* کا مطالعہ فرمائیں.)
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 10 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 9🔸*
*♦️ ناجائز محبت مـيں دیئے جانے والے تحائف کا حکم🎁*
💌 ویلنٹائن والے دن اجنبی مرد و عورت کے مابین جو ناجائز محبت کا تعلق قائم ہوتا ہے اور آپس میں جو تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ *یہ سب رشوت کے حکم میں داخل ہے اس لئے ناجائز و حرام ہے ایسے گفٹ لینا اور دینا دونوں ہی ناجائز و حرام ہیں* اگر کسی نے یہ تحائف لئے ہیں تو اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ یہ تحائف واپس کرنا بھی لازم ہے.
🔸 چنانچہ بحرالرائق میں ہے:
*”عاشق و معشوق (ناجائز محبت میں گرفتار) آپس میں ایک دوسرے کو جو (تحائف) دیتے ہیں وہ رشوت ہے ان کا واپس کرنا واجب ہے اور وہ ملکیت میں داخل نہیں ہوتے.“*
(بحرالرائق، کتاب القضاء، 6/441)
⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕
*🥃 شراب نوشی کی مذمت سے متعلق آیات قرآنیہ و احادیث مبارکہ:*
📗 قرآن پاک میں ﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ.“*
(پارہ 7، سورة المائدة، آیت:9)
📔 احادیث ث مبارکہ میں بھی شراب پینے پر متعدد عذابوں کی وعیدیں وارد ہوئیں ہیں چند کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
*📌 حدیث نمبر 1:*
صحیح مسلم میں جابر رضی ﷲتعالٰی عنہ سے مروی کہ حضور صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
*”ہر نشہ والی چیز حرام ہے بیشک ﷲ تعالٰی نے عہد کیا ہے کہ جو شخص نشہ پئے گا اسے ”طــیــنــة الــخـــبـــال“ سے پلائے گا.*
لوگوں نے عرض کی *”طــیــنــة الــخـــبـــال“* کیا چيز ہے؟
فرمایا کہ *جہنمیوں کا پسینہ یا ان کا عصارہ (نچوڑ).“*
(مسلم، کتاب الاسربة، باب بیان ان کل مسکر خمرا.....الخ، صفحه 1109، الحدیث:72 (2002))
*📌 حدیث نمبر 2:*
ترمذی نے عبدﷲ بن عمر اور نسائی و ابن ماجہ و دارمی نے عبدﷲ بن عمرو رضی ﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*”جو شخص شراب پئے گا اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی پھر اگر توبہ کرے تو ﷲ عزوجل اس کی توبہ قبول فرمائے گا پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو قبول ہے پھر اگر پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اس کے بعد توبہ کرے تو ﷲ عزوجل قبول فرمائے گا پھر اگر چوتھی مرتبہ پئے تو چالیس روز کی نماز قبول نہ ہوگی اب اگر توبہ کرے تو ﷲ عزوجل اس کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا اور نہر خبال سے اسے پلائے گا.“*
(ترمذی، کتاب الاشربة، باب ماجاء فی شارب الخمر، 3/342، الحدیث:1869)
*📌 حدیث نمبر 3:*
دارمی نے عبدﷲ بن عمرو رضی ﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ حضور صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*”والدین کی نافرمانی کرنے والا اور جوا کھیلنے والا اور احسان جتلانے والا اور شراب کی مداومت کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا.“*
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الحدود، باب بیان الخمر....الخ، 2/330، الحدیث: 3653)
*📌 حدیث نمبر 4:*
امام احمد نے ابو امامہ رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
*”قسم ہے میری عزت کی! میرا جو بندہ شراب کی ایک گھونٹ بھی پئے گا میں اس کو اتنی ہی پیپ پلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے اسے چھوڑے گا میں اس کو حوض قدس سے پلاؤں گا.“*
(بحوالہ بہار شریعت، 2/385،386)
(مسند امام احمد، حدیث ابی امامة الباھلی، 8/286، الحدیث:22281)
*🚫 یــــاد رہے!* شراب پینے کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس کی سزا بطورِ حد 80 کـــوڑے ہیں جو کہ شرائط پائی جانے کی صورت میں مجرم کو مارے جاتے ہیں جس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے.
(شراب نوشی کی مذمت سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے مکتبۃ المدینۃ کی مطبوعہ کتاب *”بہـــار شـریعت، جلد 2، حصہ 9“* کا مطالعہ فرمائیں.)
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 10 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
🇫ᴀɪᴢᴀɴ ᵉ 🇦ᴛᴛᴀʀ
WhatsApp Group Invite
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 10🔸*
*♦️ دواعئ زنا کی مذمت میں آیات قرآنیہ و احادیث طیبہ:*
🔶 ﷲ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ.“*
(پارہ 15، سورة البنی اسرائیل، آیت:32)
🔷 ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور وہ جو ﷲ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی ﷲ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا بڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا.“*
(پارہ 18، سورة النور، آیت: 2)
🚫 غیرشادی شدہ افراد کیلئے زنا کی سزا کے بارے میں ﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو (100) کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے ﷲ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو ﷲ اور پچھلے دن پر اور چاہیئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو.“*
(پارہ 19، سورة الفرقان، آیت: 68، 69)
*♦️ یـــــــاد رہے!* جبکہ شادی شدہ افراد سے اس جرم قبیح کے تحقق کی صورت میں جبکہ ہر طرح سے یقین و ثبوت ہو اور ضروری شرائط پائی جائیں تو *اس کی سزا بطورِ حد رَجَــــــم (سنــــگســـــار کــــرنا) ہے* جس کی تفصیل کتب احادیث و فقہ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے.
🔴 ابو داؤد کی حدیث مبارکہ میں ہے:
*”جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے اور اس پر بادل کی طرح رہتا ہے پھر جب وہ اس حرکت کو چھوڑتا ہے تو ایمان لوٹ آتا ہے.“*
(ابو داؤد، کتاب السنة، باب الدلیل علی زیادة الایمان و نقصانه، 4/299، الحدیث:4690)
🔷 مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:
*”تین قسم کے لوگ وہ ہیں جن سے قیامت کے دن ﷲ تعالٰی کلام نہیں فرمائے گا، نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے.*
*بــــوڑھــــا زانـــی،*
*جھـــوٹــا بــادشـــاہ*
اور *عیــــال دار تـکبـــــر کـــرنے والا.“*
(مسند امام احمد، مسند ابی ھریرة رضی ﷲ عنه، 3/525، الحدیث: 10231)
🔶 امام محمد احمد ذہبی رحمتہ ﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:
*”زناکار لوگوں کو شرمگاہوں کے ساتھ جہنم میں لٹکایا جائے گا اور لوہے کے گرزوں کے ساتھ مارا جائے گا. جب وہ اس سزا سے بچنے کے لیے مدد طلب کرے گا تو فرشتے آواز دیں گے کہ یہ آواز اس وقت کہاں تھی جب تو ہنستا تھا، خوش ہوتا اور اکڑتا تھا. نہ ﷲ تعالٰی کو دیکھتا اور نہ اس کی حیا کرتا تھا.“*
(کتاب الکبائر، الکبیرة العاشرة، صفحہ 55، 56)
📌... *شراب و کباب، زنا و دواعئ زنا کی مذمت کا بیان پڑھ کر ذہن نشین کریں اور خود اس طرح کی برائیوں میں سے کسی برائی میں مبتلا ہیں تو فوراً توبہ کر لیجئے اور دوسروں کو بھی اس کی روشنی میں توبہ کی تلقین کرکے سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ کیجئے.*
*♦️ مادر پدر آزادی کی نحوست اور بگڑتی صورت حال:*
*‼️ پیارے اسلامی بھائیو!* اپنے پاکیزہ مذہب اسلام کی نکھری ستھری تعلیمات آپ نے ملاحظہ کیں کہ اسلام ایک مسلمان کو اور پورے مسلم معاشرے کو کس قدر پاک و صاف اور شرم و حیاء سے بھرپور دیکھنا چاہتا ہے اس کے برعکس مغربی معاشرے کا مادر پدر آزاد ذہنیت کی بناء پر جو ماحول ہو رہا ہے اور مادی ترقیوں اور آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت سے حیوانیت کی سمت بڑھنے کا جو سفر جاری و ساری ہے اور اپنے نقطۂ عروج کو پہنچ چکا ہے، وہ بھی ملاحظہ ہو بد قسمتی سے گلوبلائزيشن کے اس دور میں ہماری نوجوان نسل بھی اپنی شرم و حیاء کا خود گلا گھونٹ رہی ہے، نہ کوئی سمجھنے کیلئے تیار ہوتا ہے نہ کوئی سمجھانے کیلئے اور رہی سہی کسر مغربی نظریات کی لوریوں میں پروان چڑھنے والے وہاں کے بے ہودہ کلچر کو میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ کے توسط سے مزید فروغ دے کر پوری کررہے ہیں، دین سے دوری کے باعث نظریاتی اور اخلاقی طور پر کمزور و نحیف مسلمانوں کی نگاہوں میں اسلامی تہذيب و تمدن، قرآنی نظریات اور نبوی تعلیمات کو فرسودہ قرار دے کر ان کے ذہنوں میں گمراہی کے بیج تسلسل کے ساتھ بو رہے ہیں، بے حیائی پر مشتمل دنوں اور تہواروں کا رواج بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی اور ان میں سے ایک مشہور دن جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں مست ہو کر کھلم کھلا احکام شریعت کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں *”ویـلـنـٹـائـن ڈے“* ہے.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 11 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
*🔸 قسط نمبر 10🔸*
*♦️ دواعئ زنا کی مذمت میں آیات قرآنیہ و احادیث طیبہ:*
🔶 ﷲ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ.“*
(پارہ 15، سورة البنی اسرائیل، آیت:32)
🔷 ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”اور وہ جو ﷲ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی ﷲ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا بڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا.“*
(پارہ 18، سورة النور، آیت: 2)
🚫 غیرشادی شدہ افراد کیلئے زنا کی سزا کے بارے میں ﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ کنزالایمان:
*”جو عورت بدکار ہو اور جو مرد تو ان میں ہر ایک کو سو (100) کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پر ترس نہ آئے ﷲ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو ﷲ اور پچھلے دن پر اور چاہیئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو.“*
(پارہ 19، سورة الفرقان، آیت: 68، 69)
*♦️ یـــــــاد رہے!* جبکہ شادی شدہ افراد سے اس جرم قبیح کے تحقق کی صورت میں جبکہ ہر طرح سے یقین و ثبوت ہو اور ضروری شرائط پائی جائیں تو *اس کی سزا بطورِ حد رَجَــــــم (سنــــگســـــار کــــرنا) ہے* جس کی تفصیل کتب احادیث و فقہ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے.
🔴 ابو داؤد کی حدیث مبارکہ میں ہے:
*”جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے اور اس پر بادل کی طرح رہتا ہے پھر جب وہ اس حرکت کو چھوڑتا ہے تو ایمان لوٹ آتا ہے.“*
(ابو داؤد، کتاب السنة، باب الدلیل علی زیادة الایمان و نقصانه، 4/299، الحدیث:4690)
🔷 مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:
*”تین قسم کے لوگ وہ ہیں جن سے قیامت کے دن ﷲ تعالٰی کلام نہیں فرمائے گا، نہ ان کی طرف نظر فرمائے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے.*
*بــــوڑھــــا زانـــی،*
*جھـــوٹــا بــادشـــاہ*
اور *عیــــال دار تـکبـــــر کـــرنے والا.“*
(مسند امام احمد، مسند ابی ھریرة رضی ﷲ عنه، 3/525، الحدیث: 10231)
🔶 امام محمد احمد ذہبی رحمتہ ﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:
*”زناکار لوگوں کو شرمگاہوں کے ساتھ جہنم میں لٹکایا جائے گا اور لوہے کے گرزوں کے ساتھ مارا جائے گا. جب وہ اس سزا سے بچنے کے لیے مدد طلب کرے گا تو فرشتے آواز دیں گے کہ یہ آواز اس وقت کہاں تھی جب تو ہنستا تھا، خوش ہوتا اور اکڑتا تھا. نہ ﷲ تعالٰی کو دیکھتا اور نہ اس کی حیا کرتا تھا.“*
(کتاب الکبائر، الکبیرة العاشرة، صفحہ 55، 56)
📌... *شراب و کباب، زنا و دواعئ زنا کی مذمت کا بیان پڑھ کر ذہن نشین کریں اور خود اس طرح کی برائیوں میں سے کسی برائی میں مبتلا ہیں تو فوراً توبہ کر لیجئے اور دوسروں کو بھی اس کی روشنی میں توبہ کی تلقین کرکے سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ کیجئے.*
*♦️ مادر پدر آزادی کی نحوست اور بگڑتی صورت حال:*
*‼️ پیارے اسلامی بھائیو!* اپنے پاکیزہ مذہب اسلام کی نکھری ستھری تعلیمات آپ نے ملاحظہ کیں کہ اسلام ایک مسلمان کو اور پورے مسلم معاشرے کو کس قدر پاک و صاف اور شرم و حیاء سے بھرپور دیکھنا چاہتا ہے اس کے برعکس مغربی معاشرے کا مادر پدر آزاد ذہنیت کی بناء پر جو ماحول ہو رہا ہے اور مادی ترقیوں اور آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت سے حیوانیت کی سمت بڑھنے کا جو سفر جاری و ساری ہے اور اپنے نقطۂ عروج کو پہنچ چکا ہے، وہ بھی ملاحظہ ہو بد قسمتی سے گلوبلائزيشن کے اس دور میں ہماری نوجوان نسل بھی اپنی شرم و حیاء کا خود گلا گھونٹ رہی ہے، نہ کوئی سمجھنے کیلئے تیار ہوتا ہے نہ کوئی سمجھانے کیلئے اور رہی سہی کسر مغربی نظریات کی لوریوں میں پروان چڑھنے والے وہاں کے بے ہودہ کلچر کو میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ کے توسط سے مزید فروغ دے کر پوری کررہے ہیں، دین سے دوری کے باعث نظریاتی اور اخلاقی طور پر کمزور و نحیف مسلمانوں کی نگاہوں میں اسلامی تہذيب و تمدن، قرآنی نظریات اور نبوی تعلیمات کو فرسودہ قرار دے کر ان کے ذہنوں میں گمراہی کے بیج تسلسل کے ساتھ بو رہے ہیں، بے حیائی پر مشتمل دنوں اور تہواروں کا رواج بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی اور ان میں سے ایک مشہور دن جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں مست ہو کر کھلم کھلا احکام شریعت کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں *”ویـلـنـٹـائـن ڈے“* ہے.
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*جاری ہے... بقیہ قسط نمبر 11 میں پڑھیں...*
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/I707x5cdxe58XO5NMZPb0r
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
🇫ᴀɪᴢᴀɴ ᵉ 🇦ᴛᴛᴀʀ
WhatsApp Group Invite
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*14 فروری حیاء ڈے*
*🔸 قسط نمبر 11🔸*
آخری قسط
*📌 مغربی آزادی جس کی تقلید میں عقل سے پیدل ہوکر بعض مسلمان بھاگ رہے ہیں* اس کا نقشہ اور بھیانک نتائج ذکر کر دینا ضروری ہے تاکہ حقیقت نگاہوں کے سامنے آئے اور اپنے کئے پر اور جن کے پیچھے لگ کر یہ حال ہورہا ہے اس پر افسوس و ندامت شاید کسی کے دل میں پیدا ہوجائے.
🔷 *علامہ بدرالقادری مصباحی مدظلہ العالی* جو طویل عرصے سے یورپ کے ایک ملک میں دین کی خدمت کیلئے مصروف کار ہیں اور وہاں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں اپنی کتاب *”آداب زندگی“* میں لکھتے ہیں:
⁉ *آپ جانتے ہیں ترقی یافتہ دنیا کسے کہتے ہیں؟*
❌ *جہاں شراب پینا فیشن اور ام الخبائث کو بقائے صحت کی ضمانت سمجھا جائے.*
❌ *قمار بازی (جوا کھیلنا) اعلٰی سوسائٹی کا فرد ہونے کی سند ہو.*
❌ *ناچ، رقص، اچھل کود، دھماچوکڑی شوروشر میں ہر نوجوان لڑکا اور لڑکی از مذہب، دھرم اور رلیجن جہاں طاق نسیاں میں رکھی ہوئی فرسودہ کتاب سمجھی جائے.*
❌ *تعلیم کے نام پر جہاں اسکولوں اور کالجوں میں بے حیائی اور بدتمیزی کا کوئی عمل دیکھنے سے رہ نہ جائے.*
❌ *رات گئے دیر کو لوٹتے ہوئے ہر نوجوان لڑکا اس شب کی من پسند لڑکی کو بھی بغل کرکے لانے میں آزاد ہو.*
❌ *یا لڑکی کلب سے لوٹتے ہوئے ساتھ آئے اپنے نوجوان دوست کا چہک چہک کر گھر والوں سے تعارف کرانے میں کوئی باک نہ محسوس کرے.*
❌ *جہاں سن شعور کو پہنچنے سے پیشتر ہی لڑکے اور لڑکیاں جنسی اختلاط کے فطری اور غیر فطری طریقہ آزما چکیں.*
❌ *جہاں شادی بیاہ، خاندان، حمل اور ولادت کو فرسودہ طریقہ اور بلا وجہ کی زحمت سمجھا جائے.*
❌ *جہاں مرد ہر رات عورتیں بدلتے اور عورت ہر شب نیا بوائے فرینڈ منتخب کرنے ميں آزاد ہو.*
❌ *اسقاط حمل اور اولاد زنا کی پرورش کے جملہ انتظامات حکومت اپنا ذمہ سمجھے.*
❌ *جہاں مردوں کو مردوں کے ساتھ اور عورتوں کو عورتوں کے ساتھ ہم جنسی کی آزادی ہی نہیں بلکہ قانونی تحفظ بھی حاصل ہو.*
🚫 *جہاں انسانی اخلاق کا معیار اتنا گر جائے کہ بوڑھے بوڑھیاں اولاد سے زيادہ کتے بلیوں کو فرمانبردار سمجھنے لگیں.*
🚫 *جہاں ایسے واقعات عام ہوں کہ متعدد اولاد رکھنے کے باوجود ماں یا باپ تنہا ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے، جب لاش سے تعفن اٹھے پڑوسیوں کے ذریعہ اولاد کو اس کی موت کا علم ہو.*
⬅ یہ ہے ترقی یافتہ دنیا کی آزادی اور ترقی کا مختصر خاکہ.
⭕ *غـــــور کیجئے!* اس قسم کے آزاد معاشرے اور اس میں جنم لینے والی برائیوں سے مسلم معاشرہ کیوں محروم ہے اس فکر میں مغربی مفکرین اور اسلام دشمن قوتیں ہر لمحہ مصروف رہتی ہیں اور *”ویـلـنـٹـائـن ڈے“* جیسے دنوں کے نام پر اپنی خرافات سے مسلم دنیا کو بھی روشناس کرانا چاہتی ہیں اور جانتی ہیں کہ موجودہ حالات میں اکثر مسلمان دین سے اور دینی تعلیمات سے دور ہیں اور نفس و شیطان کے مکروفریب میں بآسانی مبتلا ہوجاتے ہیں اس لئے ایک ایک دن کی حد تک ہی سہی جب ہماری طرح جدت و لذت کے نشہ میں مدہوش ہوکر بے حیائی و بے پردگی اور وہ بھی سرعام کریں گے ہو پھر اس لت سے پیچھا چھڑانا ان کیلئے مشکل ہوجائے گا اور آہستہ آہستہ یہ برائیاں ان کے معاشرے میں بھی جڑ پکڑ لیں گی اور دیمک کی طرح اسے چاٹتی رہیں گی چونکہ دینی و روحانی پاکیزگی سے روشناس کرانے والے علمائے حق جو ان کے معالج بھی ہیں اور رہبر بھی ان سے تو پہلے ہی قوم دور ہے اس لئے ان کا سمجھانے کا ان پر اثر تو کم ہی ہوتا ہے ان بے حیائیوں کے باعث ان سے مزید دور ہو کر ان کی برکات سے مزید محروم ہوجائے گی پھر اس لاعلاج مرض کا علاج ان کے بس میں نہ رہے گا، بدقسمتی سے کافی حد تک وہ اپنے اس ناپاک منصوبے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں.
📌 *شرم و حیاء کے پیکر، نبیوں کے سرور* صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے میرے پیارے اسلامی بھائیو! *یــاد رکھو! حقیقی ترقی ان یورپین خرافات میں نہیں بلکہ اسلامی برکات میں ہے.*
📌 *مغربی معاشرے کی مادر پدر آزادی کی یہ جھلکیاں* اس لئے نقل کی ہیں تاکہ جو لوگ یہ کہہ کر سمجھانے والوں سے جان چھڑا لیتے ہیں کہ *”تھوڑا بہت چلتا ہے، تہوار ہی تو ہے، ایک ہی دن کی تو بات ہے، ہم کونسے پاک و صاف ہیں“* اس طرح کے بیباکی اور نا انصافی کے ساتھ جملے ادا کرنے والوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ دین سے محبت اور اس کے احکام اور مصطفٰی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیئے ہوئے نظام کے مطابق زندگی گزارنے سے محبت کرنے والا طبقہ ان کے بھلے کی بات کر رہا ہے اگر وہ آج ہنس ہنس کر گناہ کریں گے تو کل ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد ان مصائب اور گناہوں کی نحوست کی بناء پر دنیا میں بھی آفات کا شکار ہوگی اور آخرت کی تباہی اس پر مزید ہوگی.
‼ *پیارے اسلامی بھائیو!* آپ سے اتنی گزارش آخر میں ضرور کروں گا کہ *غیر مسلم تو ہمارے نبی مکرم و محتشم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو توہین کے درپے ہوں اور آئے دن مسلمانوں کے دلوں کو توہین آمیز
*🔸 قسط نمبر 11🔸*
آخری قسط
*📌 مغربی آزادی جس کی تقلید میں عقل سے پیدل ہوکر بعض مسلمان بھاگ رہے ہیں* اس کا نقشہ اور بھیانک نتائج ذکر کر دینا ضروری ہے تاکہ حقیقت نگاہوں کے سامنے آئے اور اپنے کئے پر اور جن کے پیچھے لگ کر یہ حال ہورہا ہے اس پر افسوس و ندامت شاید کسی کے دل میں پیدا ہوجائے.
🔷 *علامہ بدرالقادری مصباحی مدظلہ العالی* جو طویل عرصے سے یورپ کے ایک ملک میں دین کی خدمت کیلئے مصروف کار ہیں اور وہاں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہیں اپنی کتاب *”آداب زندگی“* میں لکھتے ہیں:
⁉ *آپ جانتے ہیں ترقی یافتہ دنیا کسے کہتے ہیں؟*
❌ *جہاں شراب پینا فیشن اور ام الخبائث کو بقائے صحت کی ضمانت سمجھا جائے.*
❌ *قمار بازی (جوا کھیلنا) اعلٰی سوسائٹی کا فرد ہونے کی سند ہو.*
❌ *ناچ، رقص، اچھل کود، دھماچوکڑی شوروشر میں ہر نوجوان لڑکا اور لڑکی از مذہب، دھرم اور رلیجن جہاں طاق نسیاں میں رکھی ہوئی فرسودہ کتاب سمجھی جائے.*
❌ *تعلیم کے نام پر جہاں اسکولوں اور کالجوں میں بے حیائی اور بدتمیزی کا کوئی عمل دیکھنے سے رہ نہ جائے.*
❌ *رات گئے دیر کو لوٹتے ہوئے ہر نوجوان لڑکا اس شب کی من پسند لڑکی کو بھی بغل کرکے لانے میں آزاد ہو.*
❌ *یا لڑکی کلب سے لوٹتے ہوئے ساتھ آئے اپنے نوجوان دوست کا چہک چہک کر گھر والوں سے تعارف کرانے میں کوئی باک نہ محسوس کرے.*
❌ *جہاں سن شعور کو پہنچنے سے پیشتر ہی لڑکے اور لڑکیاں جنسی اختلاط کے فطری اور غیر فطری طریقہ آزما چکیں.*
❌ *جہاں شادی بیاہ، خاندان، حمل اور ولادت کو فرسودہ طریقہ اور بلا وجہ کی زحمت سمجھا جائے.*
❌ *جہاں مرد ہر رات عورتیں بدلتے اور عورت ہر شب نیا بوائے فرینڈ منتخب کرنے ميں آزاد ہو.*
❌ *اسقاط حمل اور اولاد زنا کی پرورش کے جملہ انتظامات حکومت اپنا ذمہ سمجھے.*
❌ *جہاں مردوں کو مردوں کے ساتھ اور عورتوں کو عورتوں کے ساتھ ہم جنسی کی آزادی ہی نہیں بلکہ قانونی تحفظ بھی حاصل ہو.*
🚫 *جہاں انسانی اخلاق کا معیار اتنا گر جائے کہ بوڑھے بوڑھیاں اولاد سے زيادہ کتے بلیوں کو فرمانبردار سمجھنے لگیں.*
🚫 *جہاں ایسے واقعات عام ہوں کہ متعدد اولاد رکھنے کے باوجود ماں یا باپ تنہا ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے، جب لاش سے تعفن اٹھے پڑوسیوں کے ذریعہ اولاد کو اس کی موت کا علم ہو.*
⬅ یہ ہے ترقی یافتہ دنیا کی آزادی اور ترقی کا مختصر خاکہ.
⭕ *غـــــور کیجئے!* اس قسم کے آزاد معاشرے اور اس میں جنم لینے والی برائیوں سے مسلم معاشرہ کیوں محروم ہے اس فکر میں مغربی مفکرین اور اسلام دشمن قوتیں ہر لمحہ مصروف رہتی ہیں اور *”ویـلـنـٹـائـن ڈے“* جیسے دنوں کے نام پر اپنی خرافات سے مسلم دنیا کو بھی روشناس کرانا چاہتی ہیں اور جانتی ہیں کہ موجودہ حالات میں اکثر مسلمان دین سے اور دینی تعلیمات سے دور ہیں اور نفس و شیطان کے مکروفریب میں بآسانی مبتلا ہوجاتے ہیں اس لئے ایک ایک دن کی حد تک ہی سہی جب ہماری طرح جدت و لذت کے نشہ میں مدہوش ہوکر بے حیائی و بے پردگی اور وہ بھی سرعام کریں گے ہو پھر اس لت سے پیچھا چھڑانا ان کیلئے مشکل ہوجائے گا اور آہستہ آہستہ یہ برائیاں ان کے معاشرے میں بھی جڑ پکڑ لیں گی اور دیمک کی طرح اسے چاٹتی رہیں گی چونکہ دینی و روحانی پاکیزگی سے روشناس کرانے والے علمائے حق جو ان کے معالج بھی ہیں اور رہبر بھی ان سے تو پہلے ہی قوم دور ہے اس لئے ان کا سمجھانے کا ان پر اثر تو کم ہی ہوتا ہے ان بے حیائیوں کے باعث ان سے مزید دور ہو کر ان کی برکات سے مزید محروم ہوجائے گی پھر اس لاعلاج مرض کا علاج ان کے بس میں نہ رہے گا، بدقسمتی سے کافی حد تک وہ اپنے اس ناپاک منصوبے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں.
📌 *شرم و حیاء کے پیکر، نبیوں کے سرور* صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے میرے پیارے اسلامی بھائیو! *یــاد رکھو! حقیقی ترقی ان یورپین خرافات میں نہیں بلکہ اسلامی برکات میں ہے.*
📌 *مغربی معاشرے کی مادر پدر آزادی کی یہ جھلکیاں* اس لئے نقل کی ہیں تاکہ جو لوگ یہ کہہ کر سمجھانے والوں سے جان چھڑا لیتے ہیں کہ *”تھوڑا بہت چلتا ہے، تہوار ہی تو ہے، ایک ہی دن کی تو بات ہے، ہم کونسے پاک و صاف ہیں“* اس طرح کے بیباکی اور نا انصافی کے ساتھ جملے ادا کرنے والوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ دین سے محبت اور اس کے احکام اور مصطفٰی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے دیئے ہوئے نظام کے مطابق زندگی گزارنے سے محبت کرنے والا طبقہ ان کے بھلے کی بات کر رہا ہے اگر وہ آج ہنس ہنس کر گناہ کریں گے تو کل ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد ان مصائب اور گناہوں کی نحوست کی بناء پر دنیا میں بھی آفات کا شکار ہوگی اور آخرت کی تباہی اس پر مزید ہوگی.
‼ *پیارے اسلامی بھائیو!* آپ سے اتنی گزارش آخر میں ضرور کروں گا کہ *غیر مسلم تو ہمارے نبی مکرم و محتشم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو توہین کے درپے ہوں اور آئے دن مسلمانوں کے دلوں کو توہین آمیز
👍1
خاکوں سے چھلنی کریں اور مسلمان جو یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ سرکار کے نام پر جان بھی قربان ہے اور ہر بے ادب کی بے ادبی اور شرارت پر سراپا احتجاج ہوتے ہیں اور حقیقتاً اور ایماناً ہماری عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز نبی کریم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے ان کی مبارک پرنور ہستی سے مسلمانوں کو جذباتی وابستگی ہے اور ان سے وہ اپنے ماں باپ اولاد بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں اور اس کا حکم حدیث شریف میں مسلمانوں کو دیا بھی گیا ہے تو جان سے بڑھ کر عزيز ہستی ﷲ عزوجل کے محبوب صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ادنٰی توہین برداشت نہ کرسکنا بلاشبہ ان کے ایمان کا تقاضا ہے مگر اس پہلو پر تو غور کیجئے کہ آج کے مسلمان بالخصوص ہمارے نوجوان انہیں غیر مسلموں کے ایجاد کردہ گناہوں سے بھرپور رسم و رواج اور دنوں، تہواروں کے ناپاک واروں کا شکار ہوجائیں جیسا کہ”ویـلـنـٹـائـن ڈے“ اور اس دن ہونے والے گناہوں کی مذمت پر قرآن و حدیث اور عقل صحیح کی روشنی میں اوپر کافی تفصیل بیان کی گئی کہ اس روز بدنگاہی، بے پردگی، ناجائز تحائف کا لین دین اور شراب و کباب، زنا و لواطت اور اس کے دواعی ہر قسم کی برائیاں عام ہوتی ہیں اور مسلمان بھی اس میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں.* اس لئے خدارا ہوش کریں کہ شیطان کے آلہ کاروں کے نقش قدم پر چلنا جہنم کی راہ ہے، *لہذا ﷲ تعالٰی سے ڈرتے ہوئے اس کے محبوب سے شرم کرتے ہوئے اس دن اور اس کے علاوہ زندگی بھر بے حیائی بے پردگی فسق و فجور سے توبہ کر لیجئے اور آئندہ شریعت کے احکامات کی پابندی ستھری اسلامی زندگی گزارنے کا پختہ عزم کر لیجئے.*
ﷲ کرے دل میں اتر جائے مری بات
وﷲ تعالٰی اعلم و رسولہ اعلم عزوجل و صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
*کــــتـــبـــــه:*
*ابو الحسن فضیل رضا القادری العطاری عفا عنه الباری*
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
ﷲ کرے دل میں اتر جائے مری بات
وﷲ تعالٰی اعلم و رسولہ اعلم عزوجل و صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
*کــــتـــبـــــه:*
*ابو الحسن فضیل رضا القادری العطاری عفا عنه الباری*
♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️♦️
*نوٹ:* یہ تحریر رسالہ *ویلنٹائن ڈے (قرآن و حدیث کی روشنی میں)*
از قلم: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مدظلہ العالی (مجلس افتاء دعوت اسلامی) سے لکھی گئی ہے.
*●_┈•••✦● مـــــدینـــــه ●✦•••┈_●*
*_👇Join & Share👇_*
*_Ğulshaň-E-Ąttąr_*
https://chat.whatsapp.com/FHp3QnXP295DteusHknCx7
WhatsApp.com
Ğulshaň-E-Ąttąr...2⃣
WhatsApp Group Invite