🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-01-1445 ᴴ | 06-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-01-1445 ᴴ | 06-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-01-1445 ᴴ | 06-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-01-1445 ᴴ | 06-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت مولانا درویش محمد اسفراری
(۸۴۶ھ/ ۱۴۴۴ء/ ۹۷۰ھ/ ۱۵۶۲ء) اسفزار (ماوراء النہر) ترکی
قطعۂ تاریخ وصال:
مصروف رہا کرتے تھے وہ ذکر خدا میں
صاؔبر سنِ وصال ہے اُس فخرِ ملک کا
مست کمال تھے شہرِ درویش محمد
’’یوسف جمال تھے شہِ درویش محمد‘‘
۱۵۶۲ء
(صاؔبر براری، کراچی)
آپ کی ولادت ۱۶؍شوال ۸۴۶ھ مطابق ۶؍فروری ۱۴۴۴ء کو ہوئی۔ آپ کو اپنے ماموں محمد زاہد قدس سرہ سے اجازت و خلافت ہے۔ بیعت سے پندرہ سال پہلے زہد و ریاضت میں مشغول رہا کرتے تھے اور تجرید وتفرید (خلوت، تنہائی، گوشہ نشینی) کی حالت میں بے خور و خواب (بغیر کھانے پینے کے) ویرانوں میں بسر اوقات کرتے تھے۔ ایک روز بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف منہ اٹھایا تو اُسی وقت حضرت خضر علیہ السلام حاضر ہوئے اور فرمایا کہ اگر صبر و قناعت مطلوب ہے تو خواجہ محمد زاہد کی خدمت میں قدمبوسی کرو، وہ تم کو صبر و قناعت سکھادیں گے۔ یہ سن کر آپ حضرت خواجہ محمد زاہد کی خدمتِ بابرکت میں حاضرہوئے اور درجۂ تکمیل کو پہنچے پھر اُن کے انتقال پر اُن کے مستقل نائب ہوگئے۔
آپ ورع و تقویٰ، عمل بعزیمت اور حفظ نسبت میں شانِ عظیم رکھتے تھے، طریق گمنامی اور حالات کے چھپانے کا بڑا التزام تھا۔ اسی واسطے آپ بچوں کو قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے تاکہ کسی کو آپ کے حال و کمال سے آگاہی نہ ہونے پائے۔ ایک روز کسی ترک درویش کا آپ کے شہر میں گزر ہوا۔ اُس نے کہا کہ یہاں ایک مرد خدا کی بو آتی ہے اور آپ کی طرف اشارہ کیا۔
آپ کے صاحبزادے حضرت خواجگی امنگی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرے والد گرامی قدر کی شہرت کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک روز ایک درویش نے شیخ نورالدین خوافی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات کا تذکرہ کیا۔ والد ماجد نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا، بیٹا! یہ شیخ بہت بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ جب کبھی اُن کے ادھر تشریف لانے کا اتفاق ہوا تو میں اُن سے ضرور ملوں گا، اس ارشاد کے چند روز بعد شیخ ممدوح کا نواِ امکنہ میں گزر ہوا۔ میرے والد نے جب اُن کے آنے کی خبر سنی تو آپ اُن ہی کپڑوں میں جو آپ پہنے ہوئے تھے، کچھ ہدیہ لے کر شیخ کی ملاقات کے لیے روانہ ہوگئے، میں بھی آپ کے قدموں کے ساتھ تھا (یعنی ہمراہ تھا) جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے میرے والد گرامی قدر سے خوب معانقہ کیا اور کافی دیر تک بغل گیر رہے۔ پھر شیخ دو زانو ہوکر مراقبہ میں بیٹھ گئے اور میرے والد گرامی بھی بیٹھے رہے۔ پھر والد ماجد نے رخصت کی اجازت طلب کی تو حضرت شیخ نے چند قدم مشایعت کرکے رخصت کیا۔ بعد ازاں شیخ نے حاضرینِ مجلس سے پوچھا کہ یہاں کے طالبانِ خدا اس بزرگ کے پاس کافی آمد و رفت رکھتے ہوں گے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو کوئی شیخ نہیں ہیں بلکہ ایک ملا ہیں جو بچوں کو قرآن شریف پڑھانے میں مشغول رہتے ہیں ۔ یہ سن کر شیخ نور الدین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہاں کے لوگ کیسے اندھے اور مردہ دل ہیں جو ایسے درویش کامل سے فائدہ و فیض حاصل نہیں کرتے جب شیخ کی یہ بات مشہو ر اور زبان زد عام ہوئی تو ہر طرف سے طالبانِ طریقت آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے مگر آپ ہمیشہ گمنامی و گوشہ نشین کی لذّت کو یاد کیا کرتے اور خلقِ خدا کی آمد و رفت کی کثرت سے پریشان ہوا کرتے تھے۔
کرامت:
حضرت شیخ حسین خورازمی کردی قدس سرہ اپنے وقت کے متقدر تھے جہاں کہیں تشریف لے جاتے وہاں کے مشائخ کی اُن کے تصرفات کے سامنے کوئی حیثیت نہ رہتی، جو درویش آپ کی ملاقات کو آتا، آپ اُس کی نسبت سلب کرلیتے۔ رفتہ رفتہ حضرت خواجہ مولانا درویش محمد کے شہر میں بھی اُن کا گزر ہوا۔ شہر کے مشائخ اُن کی ملاقات کے لیے گئے۔ حضرت مولانا خواجہ درویش محمد نے فرمایا کہ ہم کو بھی شیخ حسین کی ملاقات کے لیے جانا چاہیے، یہ فرماکر مولانا نے شیخ موصوف کی نسبت اپنے باطن میں اندر ہی اندر سلب کرلی۔ اُدھر شیخ حسین رحمۃ اللہ علیہ اپنے آپ کو نسبت سے خالی پاکر حیران و پریشان ہوئے۔ جب حضرت مولانا خواجہ درویش محمد ملاقات کے لیے سوار ہوئے تو اس وقت شیخ نے اپنے باطن میں نسبت کی بوپائی، جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضڑت یوسف علیہ السلام کی قمیض کی بو پائی تھی جبکہ وہ مصر سے روانہ ہوئے تھے، شیخ اونٹ پر سوار ہوکر نسبت کی بو کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔ جس قدر شیخ حضرت مولانا خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے قریب ہوتے جاتے تھے، اپنی گم شدہ نسبت کی بو زیادہ محسوس کرتے تھے۔جب اثنائے راہ میں شیخ و مولانا میں باہم ملاقات ہوئی تو وہ بو بھی منقطع ہوگئی۔ اُسی وقت شیخ نے جان لیا کہ میری نسبت، حضرت مولانا خواجہ درویش محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تصرف سے سلب کرلی ہے۔ شیخ نے نہایت انکسار اور بے حد تواضع کی اور بصد عاجزی کہا کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ اقلیم آپ کے زیرِ حکومت ہے اب میں یہاں سے چلا جاتا ہوں، حضرت خواجہ کو شیخ پر رحم آیا اور سلب شدہ نسبت واپس دے دی۔ چنانچہ شیخ نے اسی وقت اپنے آپ کو نسبت سے معمور پایا اور اُسے غنیمت سمجھ کر اُسی سواری
(۸۴۶ھ/ ۱۴۴۴ء/ ۹۷۰ھ/ ۱۵۶۲ء) اسفزار (ماوراء النہر) ترکی
قطعۂ تاریخ وصال:
مصروف رہا کرتے تھے وہ ذکر خدا میں
صاؔبر سنِ وصال ہے اُس فخرِ ملک کا
مست کمال تھے شہرِ درویش محمد
’’یوسف جمال تھے شہِ درویش محمد‘‘
۱۵۶۲ء
(صاؔبر براری، کراچی)
آپ کی ولادت ۱۶؍شوال ۸۴۶ھ مطابق ۶؍فروری ۱۴۴۴ء کو ہوئی۔ آپ کو اپنے ماموں محمد زاہد قدس سرہ سے اجازت و خلافت ہے۔ بیعت سے پندرہ سال پہلے زہد و ریاضت میں مشغول رہا کرتے تھے اور تجرید وتفرید (خلوت، تنہائی، گوشہ نشینی) کی حالت میں بے خور و خواب (بغیر کھانے پینے کے) ویرانوں میں بسر اوقات کرتے تھے۔ ایک روز بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف منہ اٹھایا تو اُسی وقت حضرت خضر علیہ السلام حاضر ہوئے اور فرمایا کہ اگر صبر و قناعت مطلوب ہے تو خواجہ محمد زاہد کی خدمت میں قدمبوسی کرو، وہ تم کو صبر و قناعت سکھادیں گے۔ یہ سن کر آپ حضرت خواجہ محمد زاہد کی خدمتِ بابرکت میں حاضرہوئے اور درجۂ تکمیل کو پہنچے پھر اُن کے انتقال پر اُن کے مستقل نائب ہوگئے۔
آپ ورع و تقویٰ، عمل بعزیمت اور حفظ نسبت میں شانِ عظیم رکھتے تھے، طریق گمنامی اور حالات کے چھپانے کا بڑا التزام تھا۔ اسی واسطے آپ بچوں کو قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے تاکہ کسی کو آپ کے حال و کمال سے آگاہی نہ ہونے پائے۔ ایک روز کسی ترک درویش کا آپ کے شہر میں گزر ہوا۔ اُس نے کہا کہ یہاں ایک مرد خدا کی بو آتی ہے اور آپ کی طرف اشارہ کیا۔
آپ کے صاحبزادے حضرت خواجگی امنگی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرے والد گرامی قدر کی شہرت کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک روز ایک درویش نے شیخ نورالدین خوافی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات کا تذکرہ کیا۔ والد ماجد نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا، بیٹا! یہ شیخ بہت بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ جب کبھی اُن کے ادھر تشریف لانے کا اتفاق ہوا تو میں اُن سے ضرور ملوں گا، اس ارشاد کے چند روز بعد شیخ ممدوح کا نواِ امکنہ میں گزر ہوا۔ میرے والد نے جب اُن کے آنے کی خبر سنی تو آپ اُن ہی کپڑوں میں جو آپ پہنے ہوئے تھے، کچھ ہدیہ لے کر شیخ کی ملاقات کے لیے روانہ ہوگئے، میں بھی آپ کے قدموں کے ساتھ تھا (یعنی ہمراہ تھا) جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے میرے والد گرامی قدر سے خوب معانقہ کیا اور کافی دیر تک بغل گیر رہے۔ پھر شیخ دو زانو ہوکر مراقبہ میں بیٹھ گئے اور میرے والد گرامی بھی بیٹھے رہے۔ پھر والد ماجد نے رخصت کی اجازت طلب کی تو حضرت شیخ نے چند قدم مشایعت کرکے رخصت کیا۔ بعد ازاں شیخ نے حاضرینِ مجلس سے پوچھا کہ یہاں کے طالبانِ خدا اس بزرگ کے پاس کافی آمد و رفت رکھتے ہوں گے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو کوئی شیخ نہیں ہیں بلکہ ایک ملا ہیں جو بچوں کو قرآن شریف پڑھانے میں مشغول رہتے ہیں ۔ یہ سن کر شیخ نور الدین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہاں کے لوگ کیسے اندھے اور مردہ دل ہیں جو ایسے درویش کامل سے فائدہ و فیض حاصل نہیں کرتے جب شیخ کی یہ بات مشہو ر اور زبان زد عام ہوئی تو ہر طرف سے طالبانِ طریقت آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے مگر آپ ہمیشہ گمنامی و گوشہ نشین کی لذّت کو یاد کیا کرتے اور خلقِ خدا کی آمد و رفت کی کثرت سے پریشان ہوا کرتے تھے۔
کرامت:
حضرت شیخ حسین خورازمی کردی قدس سرہ اپنے وقت کے متقدر تھے جہاں کہیں تشریف لے جاتے وہاں کے مشائخ کی اُن کے تصرفات کے سامنے کوئی حیثیت نہ رہتی، جو درویش آپ کی ملاقات کو آتا، آپ اُس کی نسبت سلب کرلیتے۔ رفتہ رفتہ حضرت خواجہ مولانا درویش محمد کے شہر میں بھی اُن کا گزر ہوا۔ شہر کے مشائخ اُن کی ملاقات کے لیے گئے۔ حضرت مولانا خواجہ درویش محمد نے فرمایا کہ ہم کو بھی شیخ حسین کی ملاقات کے لیے جانا چاہیے، یہ فرماکر مولانا نے شیخ موصوف کی نسبت اپنے باطن میں اندر ہی اندر سلب کرلی۔ اُدھر شیخ حسین رحمۃ اللہ علیہ اپنے آپ کو نسبت سے خالی پاکر حیران و پریشان ہوئے۔ جب حضرت مولانا خواجہ درویش محمد ملاقات کے لیے سوار ہوئے تو اس وقت شیخ نے اپنے باطن میں نسبت کی بوپائی، جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضڑت یوسف علیہ السلام کی قمیض کی بو پائی تھی جبکہ وہ مصر سے روانہ ہوئے تھے، شیخ اونٹ پر سوار ہوکر نسبت کی بو کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔ جس قدر شیخ حضرت مولانا خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے قریب ہوتے جاتے تھے، اپنی گم شدہ نسبت کی بو زیادہ محسوس کرتے تھے۔جب اثنائے راہ میں شیخ و مولانا میں باہم ملاقات ہوئی تو وہ بو بھی منقطع ہوگئی۔ اُسی وقت شیخ نے جان لیا کہ میری نسبت، حضرت مولانا خواجہ درویش محمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تصرف سے سلب کرلی ہے۔ شیخ نے نہایت انکسار اور بے حد تواضع کی اور بصد عاجزی کہا کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ اقلیم آپ کے زیرِ حکومت ہے اب میں یہاں سے چلا جاتا ہوں، حضرت خواجہ کو شیخ پر رحم آیا اور سلب شدہ نسبت واپس دے دی۔ چنانچہ شیخ نے اسی وقت اپنے آپ کو نسبت سے معمور پایا اور اُسے غنیمت سمجھ کر اُسی سواری
❤1
پر واپس ہوئے اور اپنی قیامگاہ پر پہنچ کر وطن کو لوٹ گئے۔
وفات:
آپ کی وفاتِ حسرت آیات بروز جمعرات ۱۹محرم الحرام ۹۷۰ھ مطابق ۱۵۶۲ء کو ہوئی۔ مزار مقدس موضع اسقرار(ماوراء النہر) میں واقع ہے۔ (تاریخِ مشائخ نقشبند)
مولانا درویش محمد قدس سرہ:
مولانا درویش محمد کو اپنے ماموں مولانا زاہد سے خلافت ہے۔ صاحبِ تذکرۃ الاصفیاء لکھتے ہیں کہ خواجہ درویش محمد بیعت سے پندرہ سال پہلے زہد و ریاضت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اور تجرید و تفرید کی حالت میں بے خورد و خواب ویرانوں میں اوقات بسر کرتے تھے۔
صبر و قناعت کی طلب:
ایک روز بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف منہ اُٹھایا۔ اُسی وقت حضرت خضر علیہ السلام حاضر ہوئے۔ فرمایا کہ اگر صبر و قناعت مطلوب ہے تو خواجہ محمد زاہد کی خدمت میں جاؤ۔ وہ تم کو صبر و قناعت سکھادیں گے۔ یہ سن کر حضرت مولانا خواجہ ممدوح کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درجہ تکمیل کو پہنچے۔ اور ان کے انتقال کے بعد ان کے مستقل نائب ہوگئے ورع و تقویٰ۔ عمل بعزیمت اور حفظ نسبت میں آپ شان عظیم رکھتے تھے۔ طریق گمنامی اور حالات کے چھپانے کا بڑا التزام تھا۔ اسی واسطے آپ بچوں کو قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے۔ تاکہ کسی کو آپ کے حال و کمال سے آگاہی نہ ہونے پائے۔ ایک روز کسی ترک درویش کا آپ کے شہر میں گذر ہوا۔ اُس نے کہا کہ یہاں ایک مردِ خدا کی بو آتی ہے۔ اور مولانا درویش محمد کی طرف اشارہ کیا۔
شہرت کی وجہ:
آپ کے صاحبزادے مولانا خواجگی امکنگی سے روایت ہے کہ میرے والد کی شہرت کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک روز ایک درویش نے شیخ نور الدین خوافی کے حالات کا تذکرہ کیا۔ والد ماجد نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا۔ بیٹا! یہ شیخ بہت بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ جب اس طرف ان کے آنے کا اتفاق ہوگا۔ میں بھی ان سے ملوں گا۔ اس ارشاد کے چند روز بعد شیخ ممدوح کا نواح امکنہ میں گزر ہوا۔ میرے والد نے جب ان کے آنے کی خبر سنی تو آپ ان ہی کپڑوں میں جو آپ کے بدن مبارک پر تھے کچھ ہدیہ لے کر شیخ کی ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔ میں بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے میرے والد سے خوب معانقہ کیا اور دیر تک بغلگیر رہے۔ پھر شیخ دوزا نو مراقب ہوکر بیٹھ گئے اور میرے والد بھی بیٹھے رہے۔ بعد ازاں والد ماجد نے رخصت کی اجازت چاہی۔ شیخ نے چند قدم مشایعت کرکے رخصت کیا۔ والد کے چلا آنے کے بعد شیخ نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ یہاں کے طالبان خدا اس بزرگ کے پاس بہت آمد و رفت رکھتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو کوئی شیخ نہیں۔ بلکہ ایک ملا ہیں جو بچوں کو قرآن پڑھانے میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ سن کر شیخ نور الدین نے فرمایا کہ یہاں کے لوگ کیسے اندھے اور مردہ دل ہیں جو ایسے درویش کامل سے فائدہ و فیض حاصل نہیں کرتے۔ جب شیخ کا یہ کلمہ مشہور ہوا۔ تو ہر طرف سے طالبان طریقت آپ کی خدمت میں آنے لگے۔ مگر آپ ہمیشہ گوشہ نشینی اور گمنامی کی لذت کو یاد کیا کرتے اور خلق خدا کی آمد و رفت کی کثرت سے دل تنگ ہوا کرتے تھے۔
کرامت:
شیخ حسین خوارزمی کردی قدس سرہ اپنے وقت کے مقتدا تھے۔ جہاں کہیں تشریف لے جاتے وہاں کے مشائخ کی ان کے تصرفات کے سامنے کوئی ہستی نہ رہتی۔ جو درویش آپ کی ملاقات کو آتا آپ اس کی نسبت سلب کرلیتے۔ رفتہ رفتہ مولانا درویش محمد کے شہر میں بھی ان کا گزر ہوا۔ شہر کے مشائخ ان کی ملاقات کے لیے گئے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم کو بھی شیخ حسین کی ملاقات کے لیے جانا چاہیے۔ یہ فرما کر مولانا نے شیخ موصوف کی نسبت اپنے باطن میں اندر ہی اندر سلب کرلی۔ ادھر شیخ حسین اپنے آپ کو نسبت سے خالی پاکر حیران و پریشان ہوئے۔ جب حضرت مولانا ملاقات کے لیے سوار ہوئے تو اس وقت شیخ نے اپنے باطن میں نسبت کی بو پائی۔ جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کی بو پائی تھی جب وہ مصر سے روانہ ہوئے تھے۔ شیخ اونٹ پر سوار ہوکر نسبت کی بو کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔ جس قدر شیخ حضرت مولانا سے قریب ہوتے جاتے تھے۔ اپنی گم شدہ نسبت کی بو زیادہ محسوس کرتے تھے۔ جب اثنائے راہ میں شیخ و مولانا میں باہم ملاقات ہوئی توہ بو بھی وہیں منقطع ہوگئی۔ اسی وقت شیخ نے جان لیا کہ میری نسبت حضرت مولانا نے اپنے تصرف سے سلب کرلی ہے۔ شیخ نے نہایت انکسار اور بے حد تو اضع کی۔ اور نہایت عاجزی سے کہا کہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ یہ اقلیم آپ کے زیر حکومت ہے۔ اب میں یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ حضرت مولانا کو شیخ پر رحم آیا اور سلب شدہ نسبت واپس دے دی۔ چنانچہ شیخ نے اُسی وقت اپنے آپ کو نسبت سے معمور پایا۔ اور اسے غنیمت سمجھ کر اُسی سواری پر واپس ہوئے۔ اور اپنے قیام گاہ پر پہنچ کر وطن واپس ہوگئے۔
وصال مُبارک:
حضرت مولانا درویش محمد کی تاریخ وصال روز پنجشنبہ ۱۹ محرم الحرام ۹۷۰ھ ہے۔ مزار شریف موضع اسقرار میں ہے جو شہر سبز واقع ماوراء النہر کا مشہور موضع ہے۔(حضرت القدس۔ خزینۃ الاصفیاء)
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-darvesh-muhammad-asfarari
وفات:
آپ کی وفاتِ حسرت آیات بروز جمعرات ۱۹محرم الحرام ۹۷۰ھ مطابق ۱۵۶۲ء کو ہوئی۔ مزار مقدس موضع اسقرار(ماوراء النہر) میں واقع ہے۔ (تاریخِ مشائخ نقشبند)
مولانا درویش محمد قدس سرہ:
مولانا درویش محمد کو اپنے ماموں مولانا زاہد سے خلافت ہے۔ صاحبِ تذکرۃ الاصفیاء لکھتے ہیں کہ خواجہ درویش محمد بیعت سے پندرہ سال پہلے زہد و ریاضت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اور تجرید و تفرید کی حالت میں بے خورد و خواب ویرانوں میں اوقات بسر کرتے تھے۔
صبر و قناعت کی طلب:
ایک روز بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف منہ اُٹھایا۔ اُسی وقت حضرت خضر علیہ السلام حاضر ہوئے۔ فرمایا کہ اگر صبر و قناعت مطلوب ہے تو خواجہ محمد زاہد کی خدمت میں جاؤ۔ وہ تم کو صبر و قناعت سکھادیں گے۔ یہ سن کر حضرت مولانا خواجہ ممدوح کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درجہ تکمیل کو پہنچے۔ اور ان کے انتقال کے بعد ان کے مستقل نائب ہوگئے ورع و تقویٰ۔ عمل بعزیمت اور حفظ نسبت میں آپ شان عظیم رکھتے تھے۔ طریق گمنامی اور حالات کے چھپانے کا بڑا التزام تھا۔ اسی واسطے آپ بچوں کو قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے۔ تاکہ کسی کو آپ کے حال و کمال سے آگاہی نہ ہونے پائے۔ ایک روز کسی ترک درویش کا آپ کے شہر میں گذر ہوا۔ اُس نے کہا کہ یہاں ایک مردِ خدا کی بو آتی ہے۔ اور مولانا درویش محمد کی طرف اشارہ کیا۔
شہرت کی وجہ:
آپ کے صاحبزادے مولانا خواجگی امکنگی سے روایت ہے کہ میرے والد کی شہرت کی وجہ یہ ہوئی کہ ایک روز ایک درویش نے شیخ نور الدین خوافی کے حالات کا تذکرہ کیا۔ والد ماجد نے میری طرف مخاطب ہوکر فرمایا۔ بیٹا! یہ شیخ بہت بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ جب اس طرف ان کے آنے کا اتفاق ہوگا۔ میں بھی ان سے ملوں گا۔ اس ارشاد کے چند روز بعد شیخ ممدوح کا نواح امکنہ میں گزر ہوا۔ میرے والد نے جب ان کے آنے کی خبر سنی تو آپ ان ہی کپڑوں میں جو آپ کے بدن مبارک پر تھے کچھ ہدیہ لے کر شیخ کی ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔ میں بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے میرے والد سے خوب معانقہ کیا اور دیر تک بغلگیر رہے۔ پھر شیخ دوزا نو مراقب ہوکر بیٹھ گئے اور میرے والد بھی بیٹھے رہے۔ بعد ازاں والد ماجد نے رخصت کی اجازت چاہی۔ شیخ نے چند قدم مشایعت کرکے رخصت کیا۔ والد کے چلا آنے کے بعد شیخ نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ یہاں کے طالبان خدا اس بزرگ کے پاس بہت آمد و رفت رکھتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو کوئی شیخ نہیں۔ بلکہ ایک ملا ہیں جو بچوں کو قرآن پڑھانے میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ سن کر شیخ نور الدین نے فرمایا کہ یہاں کے لوگ کیسے اندھے اور مردہ دل ہیں جو ایسے درویش کامل سے فائدہ و فیض حاصل نہیں کرتے۔ جب شیخ کا یہ کلمہ مشہور ہوا۔ تو ہر طرف سے طالبان طریقت آپ کی خدمت میں آنے لگے۔ مگر آپ ہمیشہ گوشہ نشینی اور گمنامی کی لذت کو یاد کیا کرتے اور خلق خدا کی آمد و رفت کی کثرت سے دل تنگ ہوا کرتے تھے۔
کرامت:
شیخ حسین خوارزمی کردی قدس سرہ اپنے وقت کے مقتدا تھے۔ جہاں کہیں تشریف لے جاتے وہاں کے مشائخ کی ان کے تصرفات کے سامنے کوئی ہستی نہ رہتی۔ جو درویش آپ کی ملاقات کو آتا آپ اس کی نسبت سلب کرلیتے۔ رفتہ رفتہ مولانا درویش محمد کے شہر میں بھی ان کا گزر ہوا۔ شہر کے مشائخ ان کی ملاقات کے لیے گئے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم کو بھی شیخ حسین کی ملاقات کے لیے جانا چاہیے۔ یہ فرما کر مولانا نے شیخ موصوف کی نسبت اپنے باطن میں اندر ہی اندر سلب کرلی۔ ادھر شیخ حسین اپنے آپ کو نسبت سے خالی پاکر حیران و پریشان ہوئے۔ جب حضرت مولانا ملاقات کے لیے سوار ہوئے تو اس وقت شیخ نے اپنے باطن میں نسبت کی بو پائی۔ جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کی بو پائی تھی جب وہ مصر سے روانہ ہوئے تھے۔ شیخ اونٹ پر سوار ہوکر نسبت کی بو کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔ جس قدر شیخ حضرت مولانا سے قریب ہوتے جاتے تھے۔ اپنی گم شدہ نسبت کی بو زیادہ محسوس کرتے تھے۔ جب اثنائے راہ میں شیخ و مولانا میں باہم ملاقات ہوئی توہ بو بھی وہیں منقطع ہوگئی۔ اسی وقت شیخ نے جان لیا کہ میری نسبت حضرت مولانا نے اپنے تصرف سے سلب کرلی ہے۔ شیخ نے نہایت انکسار اور بے حد تو اضع کی۔ اور نہایت عاجزی سے کہا کہ مجھے یہ علم نہ تھا کہ یہ اقلیم آپ کے زیر حکومت ہے۔ اب میں یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ حضرت مولانا کو شیخ پر رحم آیا اور سلب شدہ نسبت واپس دے دی۔ چنانچہ شیخ نے اُسی وقت اپنے آپ کو نسبت سے معمور پایا۔ اور اسے غنیمت سمجھ کر اُسی سواری پر واپس ہوئے۔ اور اپنے قیام گاہ پر پہنچ کر وطن واپس ہوگئے۔
وصال مُبارک:
حضرت مولانا درویش محمد کی تاریخ وصال روز پنجشنبہ ۱۹ محرم الحرام ۹۷۰ھ ہے۔ مزار شریف موضع اسقرار میں ہے جو شہر سبز واقع ماوراء النہر کا مشہور موضع ہے۔(حضرت القدس۔ خزینۃ الاصفیاء)
( مشائخِ نقشبندیہ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-darvesh-muhammad-asfarari
scholars.pk
Hazrat Molana Darvesh Muhammad Asfarari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت مولانا درویش محمد اسفراری (۸۴۶ھ/ ۱۴۴۴ء/ ۹۷۰ھ/ ۱۵۶۲ء) اسفزار (ماوراء النہر) ترکی قطعۂ تاریخ وصال: مصروف رہا کرتے تھے وہ ذکر خدا میں صاؔبر سنِ وصال ہے اُس فخرِ ملک کا مست کمال تھے شہرِ درویش محمد ’’یوسف جمال تھے شہِ درویش محمد‘‘ ۱۵۶۲ء (صاؔبر براری،…
حضرت مولانا درویش محمد اسفراری
https://t.me/islaamic_Knowledge/55961
https://t.me/islaamic_Knowledge/55961
❤1
قاری محمد امانت رسول رضوی
یوم پیدائش 19 محرم الحرام 1377
حسّان الہند الحاج قاری محمد امانت رسول رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادت بلبل باغ رضا حضرت الحاج قاری محمد امانت رسول نوری رضوی بن شمس الفیوض الحاج محمد ہدایت رسول بن الحاج نور فیض رسول انصاری
ولادت:
آپ ۱۹؍محرم الحرام ۱۳۷۷ھ کو اپنے آبائی مکان محلہ بھورے خان پیلی بھییت میں پیدا ہوئے۔ نبیرۂ محدث سورتی الحاج فضل احمد شاہ مانا میاں رضوی علیہ الرحمۃ نے امانت رسول نام رکھا، اور مرشدِ اعظم حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے فرمایا: محمد امانت رسول رکھتا ہوں۔ محمد فرد رضا سے (۱۳۷۷ھ) سن ولادت نکلتا ہے۔ ساڑھے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی ادا کی گئی۔
خاندانی حالات:
نبیرۂ محدث سورتی الحاج فضل احمد شاہ مانا میاں رضوی پیلی بھیتی ایک مرتبہ قاری امانت رسول کے دولت کدے پر تشریف لائے اور فرمایا امانت رسول تمہارے والد الحاج ہدایت رسول بھائی کی اور میری ۱۳۲۷ھ میں ایک ہی دن کی پیدائش ہے، اور شمس الفیوض، سے ۱۳۲۷ھ سنِ ولادت نکلتا ہے۔
تمہارے دادا محترم نور محمد ہمارے دادا مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی قدس سرہٗ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئےاور عرض کیا حضرت بچے کا نام رکھ دیں اتفاق ِ وقت کہ ابو الوقت مولانا ہدایت رسول نوری رضوی رام پوری بھی اس وقت تشریف فرما تھے۔ حضرت محدث سورتی قدس سرہٗ نے ان سے فرمایا کہ حضرت ان کے بچے کا نام تجویز فرمادیں۔یہ ہمارے یہاں کے حاضر باش ہیں اور بہت ہی کرم فرما ہیں۔
مولانا ہدایت رسول رضوی رامپوری نے دادا میاں محدث سورتی قدس سرہٗ سے عرض کی آپ ہی نام رکھ دیں۔ دادا میاں ان سے فرمائیں وہ دادا میاں سے کہیں۔ آخر میں مولانا ہدایت رسول نوری نے فرمایا اچھا حضرت محدث سورتی کا حکم ہے تو نام رکھ دیتا ہوں، فقیر کا نام ہدایت رسول ہے اس بچے کا نام بھی ہدایت رسول ر کھ دیجیے [1] ۔
حضرت قاری محمد امانت رسول کے والد ماجد الحاج ہدایت رسول شیری رضوی بڑے بزرگ صفت، مشائخ کرام کے حاضر باش، متبع سنت، فدائے امام احمد رضا فاضل بریلوی بلکہ فنافی الاولیاء واعلماء اگر کہا جائے تو درست ہوگا۔ نماز کے ایسے پابند کہ ٹرین میں بھی نماز قضا نہیں ہونے دی، اور اپنے فن میں ایسے ماہر کہ یکتائے زمانہ۔ گنّے کا مرتبہ،کریلےکا مرتبہ تو ان کے گھر کی ایجاد ہے۔
حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ گنّے کا مربّہ بہت پسند فرماتے تھے، اور جب کبھی الحاج ہدایت رسول رضوی خدمت بابرکت میں حاضر ہوتے تو حضور مفتی اعظم فرماتے: گنّے والے حاجی صاحب تشریف لائے تعلیم وتربیت الحاج قاری محمد مانت رسول نے والد ماجد کی آغوش میں رہ کر نشو ونما پائی۔ ابتدائی تعلیم پیلی بھیت ہی میں حاصل کی، پھر ہلدوانی ضلع نینی تال تشریف لے گئے اور وہاں سے ۱۳۹۷ھ میں مدرسہ اشاعت الحق ہلدوانی سے سندِ تجوید و قراءت اور دیگر علوم کی تکمیل کی۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ ۲۔ فقیہ الملت مولانا مفتی وجیہ الدین رضوی پیلی بھیتی ۳۔ تلمیذ حجۃ الاسلام قاری غلام محی الدین خطیب رضوی شیری ہلدوانی ۴۔ مناظر اعظم مولانا مشاہدرضا رضوی حشمتی سجادہ نشین آستانۂ رضویہ حشمتیہ پیلی بھیت ۵۔ استاذ الاساتذہ مفتی جہانگیر خاں رضوی فتحپوری ۶۔ حضرت حافظ قاری محمد عمران رضوی نوری پیلی بھیتی
بیعت وخلافت:
۱۳۹۲ھ میں قاری امانت رسول حضور کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ۱۳۹۶ھ انیس سال کی عمر میں مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی نےسلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ چشتیہ نقشبندیہ سہروردیہ کی خلافت کے ساتھ ساتھ اور ادو وظائف، اعمال و اشغال اور جملہ تعویذات کی اجازت عطا فرمائی۔
۱۳۹۵ھ میں قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد المدنی رضوی نے اجازت عطا فرمائی اس کے ساتھ بہت سے انعام اکرام اور عمامہ، کلاہ عربی، جبہ اور رومال بھی عنایت فرمایا۔
۶؍شعبان المعظم ۱۴۰۳ کو سرزمین گو لاضلع پیلی بھیت پر احسن العلماء مولاناسید مصطفیٰ حیدر حسن برکاتی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف نےتمام سلاسل وغیرہ کی اجازتیں عطا فرمائیں۔
عرس قاسمی (مارہرہ) کے موقع پر خانقاہ برکاتیہ میں مولانا سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی نے اپنا عمامہ شریف قاری امانت رسول کے سر پر باندھا اور فرمایا: خلافت تو گولا میں دے چکا، دستار رہ گئی تھی وہ یہاں باندھی گئی بعدہٗ مولانا سید حسنین میاں برکاتی نے اپنے نانا جان تاج العلماء مولانا سید اسمٰعیل حسن برکاتی کی کلاہِ مبارک اور حضت سیدی اچھے میاں برکاتی کی تسبیح شریف قاری امانت رسول کو عطا فرمائی۔
مفتی اعظم کی نواز شات مولانا قاری امانت رسول حضور مفتی اعظم کے بہت ہی محبوب نظر ان کی بارگاہ کے مقرب ومقبول، سفر و حضر میں جب ساتھ ہوتے تو اکثر مفتیٔ اعظم قدس سرہٗ فرماتے قاری امانت رسول نعت شریف پڑھو، قصیدہ بردہ سُناؤ۔
یوم پیدائش 19 محرم الحرام 1377
حسّان الہند الحاج قاری محمد امانت رسول رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادت بلبل باغ رضا حضرت الحاج قاری محمد امانت رسول نوری رضوی بن شمس الفیوض الحاج محمد ہدایت رسول بن الحاج نور فیض رسول انصاری
ولادت:
آپ ۱۹؍محرم الحرام ۱۳۷۷ھ کو اپنے آبائی مکان محلہ بھورے خان پیلی بھییت میں پیدا ہوئے۔ نبیرۂ محدث سورتی الحاج فضل احمد شاہ مانا میاں رضوی علیہ الرحمۃ نے امانت رسول نام رکھا، اور مرشدِ اعظم حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ نے فرمایا: محمد امانت رسول رکھتا ہوں۔ محمد فرد رضا سے (۱۳۷۷ھ) سن ولادت نکلتا ہے۔ ساڑھے چار سال کی عمر میں بسم اللہ خوانی ادا کی گئی۔
خاندانی حالات:
نبیرۂ محدث سورتی الحاج فضل احمد شاہ مانا میاں رضوی پیلی بھیتی ایک مرتبہ قاری امانت رسول کے دولت کدے پر تشریف لائے اور فرمایا امانت رسول تمہارے والد الحاج ہدایت رسول بھائی کی اور میری ۱۳۲۷ھ میں ایک ہی دن کی پیدائش ہے، اور شمس الفیوض، سے ۱۳۲۷ھ سنِ ولادت نکلتا ہے۔
تمہارے دادا محترم نور محمد ہمارے دادا مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی قدس سرہٗ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئےاور عرض کیا حضرت بچے کا نام رکھ دیں اتفاق ِ وقت کہ ابو الوقت مولانا ہدایت رسول نوری رضوی رام پوری بھی اس وقت تشریف فرما تھے۔ حضرت محدث سورتی قدس سرہٗ نے ان سے فرمایا کہ حضرت ان کے بچے کا نام تجویز فرمادیں۔یہ ہمارے یہاں کے حاضر باش ہیں اور بہت ہی کرم فرما ہیں۔
مولانا ہدایت رسول رضوی رامپوری نے دادا میاں محدث سورتی قدس سرہٗ سے عرض کی آپ ہی نام رکھ دیں۔ دادا میاں ان سے فرمائیں وہ دادا میاں سے کہیں۔ آخر میں مولانا ہدایت رسول نوری نے فرمایا اچھا حضرت محدث سورتی کا حکم ہے تو نام رکھ دیتا ہوں، فقیر کا نام ہدایت رسول ہے اس بچے کا نام بھی ہدایت رسول ر کھ دیجیے [1] ۔
حضرت قاری محمد امانت رسول کے والد ماجد الحاج ہدایت رسول شیری رضوی بڑے بزرگ صفت، مشائخ کرام کے حاضر باش، متبع سنت، فدائے امام احمد رضا فاضل بریلوی بلکہ فنافی الاولیاء واعلماء اگر کہا جائے تو درست ہوگا۔ نماز کے ایسے پابند کہ ٹرین میں بھی نماز قضا نہیں ہونے دی، اور اپنے فن میں ایسے ماہر کہ یکتائے زمانہ۔ گنّے کا مرتبہ،کریلےکا مرتبہ تو ان کے گھر کی ایجاد ہے۔
حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ گنّے کا مربّہ بہت پسند فرماتے تھے، اور جب کبھی الحاج ہدایت رسول رضوی خدمت بابرکت میں حاضر ہوتے تو حضور مفتی اعظم فرماتے: گنّے والے حاجی صاحب تشریف لائے تعلیم وتربیت الحاج قاری محمد مانت رسول نے والد ماجد کی آغوش میں رہ کر نشو ونما پائی۔ ابتدائی تعلیم پیلی بھیت ہی میں حاصل کی، پھر ہلدوانی ضلع نینی تال تشریف لے گئے اور وہاں سے ۱۳۹۷ھ میں مدرسہ اشاعت الحق ہلدوانی سے سندِ تجوید و قراءت اور دیگر علوم کی تکمیل کی۔
اساتذۂ کرام:
۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ ۲۔ فقیہ الملت مولانا مفتی وجیہ الدین رضوی پیلی بھیتی ۳۔ تلمیذ حجۃ الاسلام قاری غلام محی الدین خطیب رضوی شیری ہلدوانی ۴۔ مناظر اعظم مولانا مشاہدرضا رضوی حشمتی سجادہ نشین آستانۂ رضویہ حشمتیہ پیلی بھیت ۵۔ استاذ الاساتذہ مفتی جہانگیر خاں رضوی فتحپوری ۶۔ حضرت حافظ قاری محمد عمران رضوی نوری پیلی بھیتی
بیعت وخلافت:
۱۳۹۲ھ میں قاری امانت رسول حضور کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے، اور ۱۳۹۶ھ انیس سال کی عمر میں مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی نےسلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ چشتیہ نقشبندیہ سہروردیہ کی خلافت کے ساتھ ساتھ اور ادو وظائف، اعمال و اشغال اور جملہ تعویذات کی اجازت عطا فرمائی۔
۱۳۹۵ھ میں قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاء الدین احمد المدنی رضوی نے اجازت عطا فرمائی اس کے ساتھ بہت سے انعام اکرام اور عمامہ، کلاہ عربی، جبہ اور رومال بھی عنایت فرمایا۔
۶؍شعبان المعظم ۱۴۰۳ کو سرزمین گو لاضلع پیلی بھیت پر احسن العلماء مولاناسید مصطفیٰ حیدر حسن برکاتی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف نےتمام سلاسل وغیرہ کی اجازتیں عطا فرمائیں۔
عرس قاسمی (مارہرہ) کے موقع پر خانقاہ برکاتیہ میں مولانا سید مصطفیٰ حیدر حسن میاں برکاتی نے اپنا عمامہ شریف قاری امانت رسول کے سر پر باندھا اور فرمایا: خلافت تو گولا میں دے چکا، دستار رہ گئی تھی وہ یہاں باندھی گئی بعدہٗ مولانا سید حسنین میاں برکاتی نے اپنے نانا جان تاج العلماء مولانا سید اسمٰعیل حسن برکاتی کی کلاہِ مبارک اور حضت سیدی اچھے میاں برکاتی کی تسبیح شریف قاری امانت رسول کو عطا فرمائی۔
مفتی اعظم کی نواز شات مولانا قاری امانت رسول حضور مفتی اعظم کے بہت ہی محبوب نظر ان کی بارگاہ کے مقرب ومقبول، سفر و حضر میں جب ساتھ ہوتے تو اکثر مفتیٔ اعظم قدس سرہٗ فرماتے قاری امانت رسول نعت شریف پڑھو، قصیدہ بردہ سُناؤ۔
❤1