مفتئ دعوتِ اسلامی الحافظ القاری محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی
ولادت اور اِبتِدائی تعلیم:
مفتئ دعوتِ اسلامی الحافظ القاری محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی وِلادت 26 اگست 1976ء ماہِ رمضان المبارک میں لاڑکانہ (جس کا نام امیرِ اہل سنت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی نے آپ کی وفات کے بعد " فاروق نگر " رکھ دیا ہے) میں ہوئی۔ اسکول سے واپَسی پر والدہ کو قرآنِ پاک سنایا کرتے تھے۔ ابتدائی تعلیم وحفظ دار العلوم احسن البرکات ( حیدر آباد سندھ) سے کیا ۔ فاروق نگر (لاڑکانہ) سے حیدر آباد اور پھر 1989ء میں بابُ المدینہ (کراچی) منتقل ہو گئے۔
دعوتِ اسلامی سے کس طرح مُتأثِّر ہوئے:
مفتئ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی کے بارے میں خود کچھ اس طرح سے بتایا تھا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ سنّتوں بھرے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی تو وہاں کی جانے والی اِختِتامی رقّت انگیز دُعاء سن کربَہُت مُتَأ ثِّر ہوا بس اس دعا کا انداز پسند آگیا ۔ اس کے بعد دعوتِ اسلامی کی منزلیں طے ہوتی چلی گئیں، الحمدللہ عزوجل۔
عہدِ طالب علمی کا کردار:
باب المدینہ کراچی میں دعوتِ اسلا می کے جامعۃ المدینہ میں 1995ء میں داخلہ لیا ۔ آپ اپنی عادات واطوار میں دیگر طَلَبَہ سے ممتاز حیثیت کے حامِل تھے ۔ آپ کے ساتھ پڑھنے والے مدنی علماء کا بیان ہے کہ " دورانِ طالب العلمی جب پڑھائی کے درميانی وقفہ ميں ہم لوگ چائے وغيرہ پينے کے لئے ہوٹل ميں چلے جاتے تو يہ اس وقفہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن مجيد کی تلاوت شروع کر ديتے ۔ايک دفعہ اِسْتِفْسَار پر فرمايا: الحمدللہ عزوجل! میں روزانہ ایک منزِل کی تلاوت کرتا ہوں (قراٰنِ پاک کی سات منزِلیں ہیں اس طرح آپ سات دن ميں قرآنِ مجيد ختم کر لیا کرتے تھے) زبان کا قُفْلِ مدینہ بَہُت مضبوط تھا، خود گفتگو شروع کرنے کے بجائے اکثر سامنے والے کے آغازِ کلام کے مُنْتَظِرْ رہتے تھے۔ کبھی قَہْقَہَہ لگاتے نہیں دیکھا گیا، البتہ ان کے لبوں پر مسکراہٹ ضَرور دیکھی جاتی۔ الحمدُللہ عزوجل !یہ حافظِ قرآن بھی تھے اور ان کاحفظ اتنا مضبوط تھاکہ تمام اساتذہ دورانِ سبق آیت آجانے پر انہی سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے ،ہماری نظر سے ایسا مضبوط حافظے والا حافظ کبھی نہیں گزرا ۔کبھی اساتِذہ سے غیرضَروری سوالات نہیں کئے ،جب کبھی سوال کیا تو ہر ایک اس سوال میں دلچسپی لیتا تھا اور اس سوال کو اہم ترین قرار دیتا تھا۔ ہم درجہ اسلامی بھائیوں سے کسی مسئلے پر اختلاف ِ رائے ہونے کی صورت میں اپنے مؤقف کو پُر اعتماد طریقے سے بیان ضرور کرتے تھے لیکن کسی کی تَحْقِیْر یا تَجْہِیْل ہرگز نہیں فرماتے تھے۔ دورانِ طالبُ العلمی جب پِیریڈ خالی ہوتا قرآن مجید کی تلاوت شروع فرمادیتے ان کے ہم درجہ اسلامی بھائیوں نے ان سے متأثرہوکر ان سے تجوید وقراء ت کے اصولوں کے مطابق قرآن پاک پڑھنا شروع کردیا کیونکہ یہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھّے قاری بھی تھے۔انہی میں سے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ شام کے وقت تدریس بھی کرتا تھا۔ جب کبھی بھی میں نے ان سے کسی سبق کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے کبھی بیزاری کا اظہار نہیں کیا بلکہ بہت شوق اور لگن سے میرے سُوالات کے جوابات دئيے ۔ان کے کردار کی بلندی کی بناء پر ہمارا ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے ولی تھے۔"
تقریباً چار ہزار فتاویٰ لکھے:
مفتئ دعوتِ اسلامی حافظ محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فتویٰ نویسی کی تربیت جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر(بابُ الاسلام سندھ) سے لی اور ۱۵ شعبان، ۱۴۲۱ھ بمطابق13 نومبر 2001ء کو پہلا فتویٰ لکھا۔ پہلے پہل تقریباً ایک سال دارُ الافتاء اہلسنت "جامع مسجد کنزُ الایمان" بابری چوک (گرومندر) باب المدینہ (کراچی) میں رہے، اور تقریباً 500 فتاویٰ لکھے۔ اس کے بعد تقریباً تین سال دار الافتاء نور العرفان "جامع مسجد سید معصوم شاہ بخاری علیہ رحمۃ اللہ الباری" نزد پولیس چوکی، کھارادر،باب المدینہ (کراچی) میں رہے اور تقریباً 2000 فتاویٰ لکھے۔ پھر تقریباً ۱۱ماہ ، مکتب مجلسِ افتاء (عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ بابُ المدینہ) میں رہے، یہاں آپ کے فتاوٰی کی تعداد 1500 ہے۔ اس طرح آپ کے فتاوٰی کی تعداد تقریباً 4000 ہے ۔اس کے علاوہ تفسیرِ جلالین کاتقریباً 1200صفحات پر مشتمل عربی حاشیہ بھی لکھا اور تفسیرِ قرآن""صِراطُ الجنان "" کے چھ پاروں پر بھی کام مکمل کرچکے تھے۔
مُفْتِئ دعوتِ اسلامی علیہ رحمۃ اللّہ الغنی کی رحلت:
۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ مغرب تقریباً 8:00 بجے بابُ المدینہ کراچی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی
ولادت اور اِبتِدائی تعلیم:
مفتئ دعوتِ اسلامی الحافظ القاری محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی وِلادت 26 اگست 1976ء ماہِ رمضان المبارک میں لاڑکانہ (جس کا نام امیرِ اہل سنت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی نے آپ کی وفات کے بعد " فاروق نگر " رکھ دیا ہے) میں ہوئی۔ اسکول سے واپَسی پر والدہ کو قرآنِ پاک سنایا کرتے تھے۔ ابتدائی تعلیم وحفظ دار العلوم احسن البرکات ( حیدر آباد سندھ) سے کیا ۔ فاروق نگر (لاڑکانہ) سے حیدر آباد اور پھر 1989ء میں بابُ المدینہ (کراچی) منتقل ہو گئے۔
دعوتِ اسلامی سے کس طرح مُتأثِّر ہوئے:
مفتئ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی کے بارے میں خود کچھ اس طرح سے بتایا تھا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ سنّتوں بھرے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی تو وہاں کی جانے والی اِختِتامی رقّت انگیز دُعاء سن کربَہُت مُتَأ ثِّر ہوا بس اس دعا کا انداز پسند آگیا ۔ اس کے بعد دعوتِ اسلامی کی منزلیں طے ہوتی چلی گئیں، الحمدللہ عزوجل۔
عہدِ طالب علمی کا کردار:
باب المدینہ کراچی میں دعوتِ اسلا می کے جامعۃ المدینہ میں 1995ء میں داخلہ لیا ۔ آپ اپنی عادات واطوار میں دیگر طَلَبَہ سے ممتاز حیثیت کے حامِل تھے ۔ آپ کے ساتھ پڑھنے والے مدنی علماء کا بیان ہے کہ " دورانِ طالب العلمی جب پڑھائی کے درميانی وقفہ ميں ہم لوگ چائے وغيرہ پينے کے لئے ہوٹل ميں چلے جاتے تو يہ اس وقفہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن مجيد کی تلاوت شروع کر ديتے ۔ايک دفعہ اِسْتِفْسَار پر فرمايا: الحمدللہ عزوجل! میں روزانہ ایک منزِل کی تلاوت کرتا ہوں (قراٰنِ پاک کی سات منزِلیں ہیں اس طرح آپ سات دن ميں قرآنِ مجيد ختم کر لیا کرتے تھے) زبان کا قُفْلِ مدینہ بَہُت مضبوط تھا، خود گفتگو شروع کرنے کے بجائے اکثر سامنے والے کے آغازِ کلام کے مُنْتَظِرْ رہتے تھے۔ کبھی قَہْقَہَہ لگاتے نہیں دیکھا گیا، البتہ ان کے لبوں پر مسکراہٹ ضَرور دیکھی جاتی۔ الحمدُللہ عزوجل !یہ حافظِ قرآن بھی تھے اور ان کاحفظ اتنا مضبوط تھاکہ تمام اساتذہ دورانِ سبق آیت آجانے پر انہی سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے ،ہماری نظر سے ایسا مضبوط حافظے والا حافظ کبھی نہیں گزرا ۔کبھی اساتِذہ سے غیرضَروری سوالات نہیں کئے ،جب کبھی سوال کیا تو ہر ایک اس سوال میں دلچسپی لیتا تھا اور اس سوال کو اہم ترین قرار دیتا تھا۔ ہم درجہ اسلامی بھائیوں سے کسی مسئلے پر اختلاف ِ رائے ہونے کی صورت میں اپنے مؤقف کو پُر اعتماد طریقے سے بیان ضرور کرتے تھے لیکن کسی کی تَحْقِیْر یا تَجْہِیْل ہرگز نہیں فرماتے تھے۔ دورانِ طالبُ العلمی جب پِیریڈ خالی ہوتا قرآن مجید کی تلاوت شروع فرمادیتے ان کے ہم درجہ اسلامی بھائیوں نے ان سے متأثرہوکر ان سے تجوید وقراء ت کے اصولوں کے مطابق قرآن پاک پڑھنا شروع کردیا کیونکہ یہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھّے قاری بھی تھے۔انہی میں سے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ شام کے وقت تدریس بھی کرتا تھا۔ جب کبھی بھی میں نے ان سے کسی سبق کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے کبھی بیزاری کا اظہار نہیں کیا بلکہ بہت شوق اور لگن سے میرے سُوالات کے جوابات دئيے ۔ان کے کردار کی بلندی کی بناء پر ہمارا ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے ولی تھے۔"
تقریباً چار ہزار فتاویٰ لکھے:
مفتئ دعوتِ اسلامی حافظ محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فتویٰ نویسی کی تربیت جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر(بابُ الاسلام سندھ) سے لی اور ۱۵ شعبان، ۱۴۲۱ھ بمطابق13 نومبر 2001ء کو پہلا فتویٰ لکھا۔ پہلے پہل تقریباً ایک سال دارُ الافتاء اہلسنت "جامع مسجد کنزُ الایمان" بابری چوک (گرومندر) باب المدینہ (کراچی) میں رہے، اور تقریباً 500 فتاویٰ لکھے۔ اس کے بعد تقریباً تین سال دار الافتاء نور العرفان "جامع مسجد سید معصوم شاہ بخاری علیہ رحمۃ اللہ الباری" نزد پولیس چوکی، کھارادر،باب المدینہ (کراچی) میں رہے اور تقریباً 2000 فتاویٰ لکھے۔ پھر تقریباً ۱۱ماہ ، مکتب مجلسِ افتاء (عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ بابُ المدینہ) میں رہے، یہاں آپ کے فتاوٰی کی تعداد 1500 ہے۔ اس طرح آپ کے فتاوٰی کی تعداد تقریباً 4000 ہے ۔اس کے علاوہ تفسیرِ جلالین کاتقریباً 1200صفحات پر مشتمل عربی حاشیہ بھی لکھا اور تفسیرِ قرآن""صِراطُ الجنان "" کے چھ پاروں پر بھی کام مکمل کرچکے تھے۔
مُفْتِئ دعوتِ اسلامی علیہ رحمۃ اللّہ الغنی کی رحلت:
۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ مغرب تقریباً 8:00 بجے بابُ المدینہ کراچی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی
❤1
مُفْتِئ دعوتِ اسلامی علیہ رحمۃ اللّہ الغنی کی رحلت:
۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ مغرب تقریباً 8:00بجے بابُ المدینہ کراچی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مُفْتِئ دعوتِ اِسلامی اَلحافِظ اَلقاری اَلحاج حضرتِ علامہ مولانا محمد فاروق العطاری المدنی اِنْتِقَال فرما گئے ہیں ۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) ـ
وفات کی کیفیات:
یہ خبر ملنے کی دیر تھی کہ کثیر تعداد میں اسلامی بھائی آپ کے گھر (واقع گلشن ِ اِقبال بابُ المدینہ کراچی) کے باہر جمع ہو گئے۔ ہر اسلامی بھائی تصویرِغم بنا اپنی آنکھوں میں اَشکوں کے موتی لئے نظر آرہا تھا ۔ کثیر اسلامی بھائیوں نے قطار میں لگ کر آپ کے چہرۂ مبارک کی زِیارت کی۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے ایک رُکْن نے آپ کے اِنْتِقَال کی تفصیلات کچھ اس طرح سے بتائیں کہ" نمازِ جُمُعَہ کی ادائیگی کے بعد مفتئ دعوتِ اسلامی الحاج محمد فاروق العطّاری المَدَنی (علیہ رحمۃ اللہ الغنی) نے کھانا تناول فرمایا ۔ اس کے بعد کچھ دیر گھر والوں سے مَحْوِ گفتگو رہے پھر دینی کُتُب کے مُطَالَعَہ میں مصروف ہوگئے ۔ ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ وہ آرام کرنے کے لئے اپنے گھر کی نچلی منزل میں آگئے اور گھر والوں کو تاکید کردی کہ انہیں نمازِ عصرکے لئے جگا دیا جائے ۔ نماز کا وَقْتْ ہونے پر ان کی والدہ مُحتَرمَہ نے انہیں پُکارا مگران کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ خود نیچے تشریف لائیں اور دیکھا کہ مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ بے حِس و حرکت پڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے فوراً ان کے بڑے بھائی کو فون کیا ۔ وہ فوراً گھر پہنچے اور مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ کو لے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے آپ علیہ الرحمۃ کا طِبّی معائنہ کیا اور بتایا کہ یہ توحرکتِ قَلْب بند ہونے کی وجہ سے تقریباً دوگھنٹے پہلے ہی داعئ اجل کو لَبَّیْک کہہ چکے ہیں ۔"
تختۂ غُسل پر مُسکراہٹ:
رات تقریباً 10:00 بجے مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو غُسل دیا گیا ۔ آپ کو غُسل دینے والے اسلامی بھائیوں کا بیان ہے کہ ہم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا کہ مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دورانِ غسل مسکرا رہے تھے ۔ اس کی گواہی وہاں پر موجود دیگر اسلامی بھائیوں نے بھی دی ہے ۔
گویا کہ آپ سَیِّدُنَا شیخ سعدی رحمۃ اللہ
تعالیٰ علیہ کے اس شعر کے مصداق تھے:
یادداری کہ وقتِ زادن تو
ہمہ خَنداں بدند توگِریاں
آنچناں زی کہ وقت مُردن تو
ہَمہ گِریاں شَوند توخَنداں
یعنی یاد رکھ! جب دنیا میں آیا تھا تو تُو رو رہا تھا اور لوگ مسکرا رہے تھے ،
اس طرح کی زندگی بسر کر کہ تیری موت کے وقت لوگ رو رہے ہوں اور تُو مسکرا رہا ہو۔
(شجرۂ عطاریہ، ص۳۰مکتبۃ المدینہ)
نعت خوانی کے دوران ہونٹوں کی جُنبِش
غسل دئيے جانے کے بعد اسلامی بھائیوں نے مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گرد جمع ہو کر نعت خوانی شروع کر دی ۔ تخَصُّصْ فِی الْفِقْہ (مفتی کورس) کے سالِ دُوُم کے ایک طالبُ العِلْم کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ نعت خوانی کے دوران استاذِ محترم مفتئ دعوتِ اسلامی الحاج مولانا محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے لب ہائے مبارَکہ بھی جُنبِش کررہے تھے ۔
رات تقریباً 1:00 بجے آپ کے جَسَدِ مبارک کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی لایا گیا ۔ جہاں اسلامی بھائیوں نے آپ کے اردگرد جمع ہوکر نعت خوانی کی ، تلاوتِ قرآن اور ذکرودُرود کا بھی سِلْسِلَہ رہا ۔
ہونٹ ہلنے لگے:
جَامِعَۃُ المدینہ فیضان مدینہ بابُ المدینہ کے ایک طالب علم کا بیان ہے کہ " الحمداللہ عزوجل! جب رات کے وقت مفتئ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا جسدِمبارک اسلامی بھائیوں کو زِیارت کروانےکے لئے ان کے گھر سے فیضان مدینہ لایا گیا تو اس دوران نعت خوانی جاری تھی اور زائرین زِیارت سے مُسْتَفِیْض ہو رہے تھے ، جب نعت خواں اسلامی بھائی نے " کعبے کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروڑوں دُرُود " پڑھنا شروع کیا تو اس دوران میں مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بہت قریب تھا اوربغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل ان کے چہرۂ مبارَک کی زِیارت کئے جارہا تھا۔ اچانک ایک شعر پر مجھے مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کے ہونٹوں کی جُنْبِش محسوس ہوئی لیکن میں نے اسے محض اپنا گمان سمجھا کہ ہوسکتا ہے یہ میری نظر کی خطاہو لیکن بعد میں اسی طرح ہونٹوں کے ہلنے کے بارے میں ایک اور اسلامی بھائی نے بھی بتایا ، اس کے علاوہ بھی کم از کم دو اسلامی بھائیوں نے اس کی تصدیق کی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-farooq-attari
۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ مغرب تقریباً 8:00بجے بابُ المدینہ کراچی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مُفْتِئ دعوتِ اِسلامی اَلحافِظ اَلقاری اَلحاج حضرتِ علامہ مولانا محمد فاروق العطاری المدنی اِنْتِقَال فرما گئے ہیں ۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) ـ
وفات کی کیفیات:
یہ خبر ملنے کی دیر تھی کہ کثیر تعداد میں اسلامی بھائی آپ کے گھر (واقع گلشن ِ اِقبال بابُ المدینہ کراچی) کے باہر جمع ہو گئے۔ ہر اسلامی بھائی تصویرِغم بنا اپنی آنکھوں میں اَشکوں کے موتی لئے نظر آرہا تھا ۔ کثیر اسلامی بھائیوں نے قطار میں لگ کر آپ کے چہرۂ مبارک کی زِیارت کی۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے ایک رُکْن نے آپ کے اِنْتِقَال کی تفصیلات کچھ اس طرح سے بتائیں کہ" نمازِ جُمُعَہ کی ادائیگی کے بعد مفتئ دعوتِ اسلامی الحاج محمد فاروق العطّاری المَدَنی (علیہ رحمۃ اللہ الغنی) نے کھانا تناول فرمایا ۔ اس کے بعد کچھ دیر گھر والوں سے مَحْوِ گفتگو رہے پھر دینی کُتُب کے مُطَالَعَہ میں مصروف ہوگئے ۔ ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ وہ آرام کرنے کے لئے اپنے گھر کی نچلی منزل میں آگئے اور گھر والوں کو تاکید کردی کہ انہیں نمازِ عصرکے لئے جگا دیا جائے ۔ نماز کا وَقْتْ ہونے پر ان کی والدہ مُحتَرمَہ نے انہیں پُکارا مگران کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ خود نیچے تشریف لائیں اور دیکھا کہ مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ بے حِس و حرکت پڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے فوراً ان کے بڑے بھائی کو فون کیا ۔ وہ فوراً گھر پہنچے اور مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ کو لے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے آپ علیہ الرحمۃ کا طِبّی معائنہ کیا اور بتایا کہ یہ توحرکتِ قَلْب بند ہونے کی وجہ سے تقریباً دوگھنٹے پہلے ہی داعئ اجل کو لَبَّیْک کہہ چکے ہیں ۔"
تختۂ غُسل پر مُسکراہٹ:
رات تقریباً 10:00 بجے مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو غُسل دیا گیا ۔ آپ کو غُسل دینے والے اسلامی بھائیوں کا بیان ہے کہ ہم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا کہ مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دورانِ غسل مسکرا رہے تھے ۔ اس کی گواہی وہاں پر موجود دیگر اسلامی بھائیوں نے بھی دی ہے ۔
گویا کہ آپ سَیِّدُنَا شیخ سعدی رحمۃ اللہ
تعالیٰ علیہ کے اس شعر کے مصداق تھے:
یادداری کہ وقتِ زادن تو
ہمہ خَنداں بدند توگِریاں
آنچناں زی کہ وقت مُردن تو
ہَمہ گِریاں شَوند توخَنداں
یعنی یاد رکھ! جب دنیا میں آیا تھا تو تُو رو رہا تھا اور لوگ مسکرا رہے تھے ،
اس طرح کی زندگی بسر کر کہ تیری موت کے وقت لوگ رو رہے ہوں اور تُو مسکرا رہا ہو۔
(شجرۂ عطاریہ، ص۳۰مکتبۃ المدینہ)
نعت خوانی کے دوران ہونٹوں کی جُنبِش
غسل دئيے جانے کے بعد اسلامی بھائیوں نے مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گرد جمع ہو کر نعت خوانی شروع کر دی ۔ تخَصُّصْ فِی الْفِقْہ (مفتی کورس) کے سالِ دُوُم کے ایک طالبُ العِلْم کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ نعت خوانی کے دوران استاذِ محترم مفتئ دعوتِ اسلامی الحاج مولانا محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے لب ہائے مبارَکہ بھی جُنبِش کررہے تھے ۔
رات تقریباً 1:00 بجے آپ کے جَسَدِ مبارک کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی لایا گیا ۔ جہاں اسلامی بھائیوں نے آپ کے اردگرد جمع ہوکر نعت خوانی کی ، تلاوتِ قرآن اور ذکرودُرود کا بھی سِلْسِلَہ رہا ۔
ہونٹ ہلنے لگے:
جَامِعَۃُ المدینہ فیضان مدینہ بابُ المدینہ کے ایک طالب علم کا بیان ہے کہ " الحمداللہ عزوجل! جب رات کے وقت مفتئ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا جسدِمبارک اسلامی بھائیوں کو زِیارت کروانےکے لئے ان کے گھر سے فیضان مدینہ لایا گیا تو اس دوران نعت خوانی جاری تھی اور زائرین زِیارت سے مُسْتَفِیْض ہو رہے تھے ، جب نعت خواں اسلامی بھائی نے " کعبے کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروڑوں دُرُود " پڑھنا شروع کیا تو اس دوران میں مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بہت قریب تھا اوربغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل ان کے چہرۂ مبارَک کی زِیارت کئے جارہا تھا۔ اچانک ایک شعر پر مجھے مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کے ہونٹوں کی جُنْبِش محسوس ہوئی لیکن میں نے اسے محض اپنا گمان سمجھا کہ ہوسکتا ہے یہ میری نظر کی خطاہو لیکن بعد میں اسی طرح ہونٹوں کے ہلنے کے بارے میں ایک اور اسلامی بھائی نے بھی بتایا ، اس کے علاوہ بھی کم از کم دو اسلامی بھائیوں نے اس کی تصدیق کی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-farooq-attari
scholars.pk
Mufti Farooq Attari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
scholars.pk
Hazrat Abdur Rehman Jami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ خدا در انتظار حمد مانیست محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست محمد ﷺ حامد حمد خدا بس خدا مداح شان مصطفی بس نام و نسب: اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔ تاریخِ…
عاشق رسول حضرت نور الدین عبد الرحمٰن جامی - علامہ عبد الرحمٰن جامی ـ علامہ جامی ـ رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37024
یوم وصال: 18 محرم الحرام 898ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55894
https://t.me/islaamic_Knowledge/37024
یوم وصال: 18 محرم الحرام 898ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55894
❤1
شہزادۂ امام حسین، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔
آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی:
شہر بانو بنت یزگرد ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ بروز جمعرات 5 شعبان المعظم 38ھ، بمطابق جنوری / 659ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ اپنے جد امجد حضرت امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کے آغوش میں تربیت پائی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے تو فرماتے" مرحبا یا حبیب ابن الحبیب" ۔
سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہیں پایا ۔ (طبقات الحفاظ) ـ
امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کہ یہ اہل فضل میں سے تھے، ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحیح اور افضل ترین وہ تمام اسانید ہیں جوزہری رضی اللہ عنہ نے اِن سے، اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے، اور اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں ۔ ( طبقات الحفّاظ ) ـ
اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ تابعین سے تھے، ثِقہ، مامون ،کثیر الحدیث، عالی قدر، رفیع منزلت، پرہیز گار، عابِد اور خائف من اللہ تھے ۔ ( طبقات ابن سعد ) ـ
ابو الائمہ اور سید التابعین تھے، واقعہ کر بلا میں موجود تھے، لیکن بوجہ علالت شریکِ قتال نہ ہو سکے، دنیا کی لذتوں کو ترک کیا ہوا تھا ۔ واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے آنسؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی ۔ جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہو جاتا، اور جسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھتے ۔ (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کا ایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے ۔
وصال:
آپ کا وصال 18 محرم الحرام 94ھ، بمطابق اکتوبر 712ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوا ۔
مزار شریف:
جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی الہ عنہ کے پہلومیں دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
الصواعق المحرقہ ۔ شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-zain-ul-abideen
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔
آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی:
شہر بانو بنت یزگرد ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ بروز جمعرات 5 شعبان المعظم 38ھ، بمطابق جنوری / 659ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ اپنے جد امجد حضرت امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کے آغوش میں تربیت پائی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے تو فرماتے" مرحبا یا حبیب ابن الحبیب" ۔
سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہیں پایا ۔ (طبقات الحفاظ) ـ
امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کہ یہ اہل فضل میں سے تھے، ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحیح اور افضل ترین وہ تمام اسانید ہیں جوزہری رضی اللہ عنہ نے اِن سے، اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے، اور اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں ۔ ( طبقات الحفّاظ ) ـ
اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ تابعین سے تھے، ثِقہ، مامون ،کثیر الحدیث، عالی قدر، رفیع منزلت، پرہیز گار، عابِد اور خائف من اللہ تھے ۔ ( طبقات ابن سعد ) ـ
ابو الائمہ اور سید التابعین تھے، واقعہ کر بلا میں موجود تھے، لیکن بوجہ علالت شریکِ قتال نہ ہو سکے، دنیا کی لذتوں کو ترک کیا ہوا تھا ۔ واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے آنسؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی ۔ جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہو جاتا، اور جسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھتے ۔ (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کا ایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے ۔
وصال:
آپ کا وصال 18 محرم الحرام 94ھ، بمطابق اکتوبر 712ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوا ۔
مزار شریف:
جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی الہ عنہ کے پہلومیں دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
الصواعق المحرقہ ۔ شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-zain-ul-abideen
scholars.pk
Muslim Scholar Hazrat Imam Zain-ul-Abideen,The Fourth Imam, Books , Qoutes, Sayi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
Ziaetaiba please to share the true history of Muslim Scholar Hazrat Imam Zain-ul-Abideen History, Books, Hadees, Family Tree, Photoes, Date of Birth
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شہزادۂ امام حسین، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نام و نسب: اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔ سلسلۂ نسب: حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر…
شہزادۂ امام حسین رضی اللہ عنہ ، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37027
یوم وصال: 18 محرم الحرام 94ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ارشادات امام زین العابدین
پیشکش: المدینۃ العلمیہ دَ اِ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15770
حضرت سیدنا امام زین العابدین
رضی اللہ عنہ کی سیرت اور تعلیمات
✍ حضرت مفتی وسیم ضیائی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15768
امام زین العابدین کی شان میں فرزدق تمیمی کا قصیدۂ میمیہ ایک تحقیقی مطالعہ
✍ اسید الحق قادری بدایونی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15766
حضرت امام زین العابدین کی
سیرت کی کچھ مبارک جھلکیاں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15763
سیرت حضرت امام زین العابدین
تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ
✍ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15760
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55897
https://t.me/islaamic_Knowledge/37027
یوم وصال: 18 محرم الحرام 94ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ارشادات امام زین العابدین
پیشکش: المدینۃ العلمیہ دَ اِ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15770
حضرت سیدنا امام زین العابدین
رضی اللہ عنہ کی سیرت اور تعلیمات
✍ حضرت مفتی وسیم ضیائی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15768
امام زین العابدین کی شان میں فرزدق تمیمی کا قصیدۂ میمیہ ایک تحقیقی مطالعہ
✍ اسید الحق قادری بدایونی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15766
حضرت امام زین العابدین کی
سیرت کی کچھ مبارک جھلکیاں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15763
سیرت حضرت امام زین العابدین
تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ
✍ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15760
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55897
❤1
مشہور عاشق رسول ﷺ، عماد الدین و نور الدین، حضرت سیدنا ملا عبد الرحمن جامی نقشبندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 23 شعبان 817ھ کو موضع خرجرد، علاقہ جام، صوبہ غور، افغانستان میں ہوئی۔ آپ امام اعظم کے شاگرد رشید امام محمد بن حسن شیبانی کی اولاد سے ہیں۔ آپ محب صحابۂ کرام و اہلبیت عظام، حافظ قرآن، عالم دین، خاتم الشعراء، مؤرخ، مصنف کتب اور سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ بہارستان و رسائل جامی، نفحات الانس، شرح ملا جامی اور شواہد النبوۃ وغیرہ آپ کی بہترین کتب ہیں۔ 18 محرم الحرام 898ھ بوقت آذان جمعہ وصال فرمایا۔ مزار مبارک ہرات، افغانستان میں دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (نفحات الانس)
Ardent devotee of the Beloved Prophet ﷺ, Imad al-Deen, Noor al-Deen, Mulla Abdur Rahman Jaami Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born on 23 Sha’ban 817 AH in Kharjerd, the area of Jaam, Ghor province, Afghanistan. He is the offspring of Imam Muhammad bin Hasan al-Shaybani, the famous disciple of Imam al-Azam Abu Hanifah. He was a Hafiz of Qur’an, Islamic scholar, leader of poets, historian, author of books, and spiritual guide of the Naqshbandiyah Sufi order. Baharestan wa Rasa’il Jami, Nafhaat al-Uns, Sharh Mulla Jaami, Shawahid an-Nubuwwah, etc., are among his remarkable books. He passed away on Friday, 18th Muharram-ul-Haraam 898 AH at the time of the Adhan of Jumu’ah. His blessed resting place situated in Herat, Afghanistan, is a place of the acceptance of prayers. [Nafhaat al-Uns]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0fk76xnPCjr5cikJkGgPHviANVSQ34LDwZFn1LFBNwJEW7VTcTogEVc8k6vAriWpgl&id=100050689590519
Ardent devotee of the Beloved Prophet ﷺ, Imad al-Deen, Noor al-Deen, Mulla Abdur Rahman Jaami Naqshbandi (Alayhir Rahmah) was born on 23 Sha’ban 817 AH in Kharjerd, the area of Jaam, Ghor province, Afghanistan. He is the offspring of Imam Muhammad bin Hasan al-Shaybani, the famous disciple of Imam al-Azam Abu Hanifah. He was a Hafiz of Qur’an, Islamic scholar, leader of poets, historian, author of books, and spiritual guide of the Naqshbandiyah Sufi order. Baharestan wa Rasa’il Jami, Nafhaat al-Uns, Sharh Mulla Jaami, Shawahid an-Nubuwwah, etc., are among his remarkable books. He passed away on Friday, 18th Muharram-ul-Haraam 898 AH at the time of the Adhan of Jumu’ah. His blessed resting place situated in Herat, Afghanistan, is a place of the acceptance of prayers. [Nafhaat al-Uns]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0fk76xnPCjr5cikJkGgPHviANVSQ34LDwZFn1LFBNwJEW7VTcTogEVc8k6vAriWpgl&id=100050689590519
❤1
جلیل القدر تابعی، سجاد امت، اسیر کربلا، حضرت سیدنا امام زین العابدین ابو الحسن علی الاوسط بن حسین بن علی ہاشمی قرشی مدنی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین شعبان 38ھ میں مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ عظیم المناقب محدث، فقیہ، عابد، سخی، صاحب زہد و تقوی، اور سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے چوتھے امام و شیخ طریقت ہیں۔ آپ خلفائے راشدین رضی الله تعالی عنهم کے عقیدت مند، علم دین کے بے حد شائق، اور شبہ والی چیزوں سے دامن بچانے والے تھے۔ آپ کی عادات میں صلۂ رحمی، سخاوت اور پوشیدہ صدقہ کرنا شامل تھا۔ ہر شب ایک ہزار رکعت نفل پڑھتے تھے۔ حسینی سادات کی نسل آپ رضی الله تعالی عنه سے ہی آگے بڑھی۔ 18 محرم الحرام یا 14 ربیع الاول 94ھ کو جام شہادت نوش فرمایا۔ مزار مبارک جنت البقیع شریف میں حضرت سیدنا امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالی عنہ و ارضاہ کے پہلو میں ہے۔ (سیر اعلام النبلاء، تاریخ الخمیس، خزینۃ الاصفیاء، تذکرہ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ)
Illustrious Taabi’i, Sajjad of Ummah, Captive of Karbala, Sayyiduna Imam Zayn al-Aabideen Abul Hasan Ali al-Awsat bin al-Husayn bin Ali Hashimi Qurashi Madani (RadiyAllahu Anhum Ajma’een) was born in Madinah Munawwarah in Sha’ban 38 AH. He is a highly acclaimed hadith master, jurist, devout worshipper, extremely generous person, an embodiment of piety and asceticism, and the fourth Imam and Shaykh of the Qadiriyah Barakatiyah Ridawiyah Sufi Order. He would highly venerate the rightly guided caliphs, had a deep passion for religious knowledge, and would refrain from doubtful things. Among his habits were treating relatives kindly, generosity, and giving hidden charity. He used to offer 1000 rak’at nafl prayers every night. The lineage of Husayni descendants continued from him. He embraced martyrdom on 18 Muharram OR 14 Rabi’ al-Awwal 94 AH, and was laid to rest in al-Baqi’ cemetery next to Imam Hasan al-Mujtaba RadiyAllahu Anhu wa Ardah. [Siyar Aa’laam al-Nubala, Tarikh al-Khamees, Khazinat al-Asfiya, Tazkirah Mashaikh Qadiriyah Baraktiyah Razawiyah]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid021fL8GbyD32V3FAPNwfRhcuCDLgXvr9ntQRZvVXh6qqUPrsUoFmCvq1XM9ZgXPnUTl&id=100050689590519
Illustrious Taabi’i, Sajjad of Ummah, Captive of Karbala, Sayyiduna Imam Zayn al-Aabideen Abul Hasan Ali al-Awsat bin al-Husayn bin Ali Hashimi Qurashi Madani (RadiyAllahu Anhum Ajma’een) was born in Madinah Munawwarah in Sha’ban 38 AH. He is a highly acclaimed hadith master, jurist, devout worshipper, extremely generous person, an embodiment of piety and asceticism, and the fourth Imam and Shaykh of the Qadiriyah Barakatiyah Ridawiyah Sufi Order. He would highly venerate the rightly guided caliphs, had a deep passion for religious knowledge, and would refrain from doubtful things. Among his habits were treating relatives kindly, generosity, and giving hidden charity. He used to offer 1000 rak’at nafl prayers every night. The lineage of Husayni descendants continued from him. He embraced martyrdom on 18 Muharram OR 14 Rabi’ al-Awwal 94 AH, and was laid to rest in al-Baqi’ cemetery next to Imam Hasan al-Mujtaba RadiyAllahu Anhu wa Ardah. [Siyar Aa’laam al-Nubala, Tarikh al-Khamees, Khazinat al-Asfiya, Tazkirah Mashaikh Qadiriyah Baraktiyah Razawiyah]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid021fL8GbyD32V3FAPNwfRhcuCDLgXvr9ntQRZvVXh6qqUPrsUoFmCvq1XM9ZgXPnUTl&id=100050689590519
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
جلیل القدر تابعی، سجاد امت، اسیر کربلا، حضرت سیدنا امام زین العابدین ابو الحسن علی الاوسط بن حسین بن علی ہاشمی قرشی مدنی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین شعبان 38ھ میں مدینۂ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ عظیم المناقب محدث، فقیہ، عابد، سخی، صاحب زہد و تقوی، اور سلسلہ…
شہزادۂ امام حسین رضی اللہ عنہ ، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37033
یوم وصال: 18 محرم الحرام 94ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ارشادات امام زین العابدین
پیشکش: المدینۃ العلمیہ دَ اِ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15770
حضرت سیدنا امام زین العابدین
رضی اللہ عنہ کی سیرت اور تعلیمات
✍ حضرت مفتی وسیم ضیائی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15768
امام زین العابدین کی شان میں فرزدق تمیمی کا قصیدۂ میمیہ ایک تحقیقی مطالعہ
✍ اسید الحق قادری بدایونی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15766
حضرت امام زین العابدین کی
سیرت کی کچھ مبارک جھلکیاں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15763
سیرت حضرت امام زین العابدین
تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ
✍ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15760
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/37033
یوم وصال: 18 محرم الحرام 94ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ارشادات امام زین العابدین
پیشکش: المدینۃ العلمیہ دَ اِ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15770
حضرت سیدنا امام زین العابدین
رضی اللہ عنہ کی سیرت اور تعلیمات
✍ حضرت مفتی وسیم ضیائی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15768
امام زین العابدین کی شان میں فرزدق تمیمی کا قصیدۂ میمیہ ایک تحقیقی مطالعہ
✍ اسید الحق قادری بدایونی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15766
حضرت امام زین العابدین کی
سیرت کی کچھ مبارک جھلکیاں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15763
سیرت حضرت امام زین العابدین
تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ
✍ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15760
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-01-1445 ᴴ | 05-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-01-1445 ᴴ | 06-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1