🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-01-1445 ᴴ | 05-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-01-1445 ᴴ | 05-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت شیخ محمد صادق بن حضرت شیخ بن فتح اللہ گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے برادر زادہ بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے وجد و سماع ذوق شوق میں کمال رکھتے تھے مریدوں کی تکمیل و تربیت میں بڑا کام کیا تھا آپ کی کرامات اور خوارق زمانہ میں مشہور ہوئیں تھیں۔
ایک بار آپ سہارنپور شہر کے بازار میں جارہے تھے آپ کی نگاہ ایک مالدار اور دولت مند ہندو دکاندار پر پڑی اس ہندو کے دل میں عشق الٰہی کی آگ بھڑک اٹھی دکان سے اٹھا شیخ کا دامن پکڑ لیا مسلمان ہوگیا مرید ہوگیا آپ نے اس کا نام عبد السلام رکھا ذکر حق کی تلقین کی اور کاملانِ وقت سے بنادیا۔
صاحب سواطع الانوار (اقتباس الانوار) نے لکھا ہے کہ ایک بار حضرت سفر کے دَوران جگناتھ کے مقام پر پہنچے بازار میں ایک پتھر کے بت کو نصب دیکھا جسے ہندو پوجا کر رہے تھے آپ بھی کھڑے ہوکر دیکھنے لگے بت نے کہا انا الْمعبود کَ تَعبد سَوَائی میں تمہارا معبود ہوں میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو حضرت شیخ اگرچہ اس وقت مغلوب الحال تھے مگر آپ نے قبلہ رو ہوکر سجدہ کیا اور بت کو نظر انداز کردیا ہندو اس بت کو سجدہ کرتے رہے پھر آواز آئی فاَین ماتو لو فثم وجہ اللہ جس طرف بھی سجدہ کرو گے ہر طرف اللہ کو پاؤ گے؟ حضرت شیخ نے جواب دیا تم تم سچ کہتے ہو لیکن ہمارے محبوب مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایمان کے باجود کہ اللہ ہر طرف موجود ہے کعبۃ اللہ کو سجدہ کا قرار دیا ہے میں آپ کے احکام کی نافرمانی کیسے کرسکتا ہوں بت نے یہ بات سنی تو خواجہ محمد صادق کی تعریف کی اور کہا تم سچے ہو بت کے منہ سے آپ کی سچائی سن کر بہت سے ہندو مسلمان ہوگئے۔
آپ کا ایک مرید عبدالحق نامی تھا اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی آپ اس کے باغ میں سیر کرنے گئے ان دنوں باغ میں آموں کے درختوں پر پھل موجود تھا آپ نے عبدالحق کو فرمایا ہمارے آم لاؤ ان دنوں آموں کا آخری موسم تھا عبدالحق کئی درختوں پر چڑھ کر آپ کے لیے بڑی مشکل سے سات آم لایا اور پیش کیے چھ تو ان میں سالم تھے مگر ایک ناقص تھا آپ نے کھا کر فرمایا تمہیں اللہ تعالیٰ سات لڑکے دے گا ان میں سے ایک ناقص اور بیمار ہوگا چنانچہ اس کے چھ لڑکے تندرست و توانا ہوئے اور ایک معذور تھا وہ گیارہ سال کا ہوگیا تو گونگا تھا حضرت شیخ کو ایک بار شیخ عبدالحق کے گھر جانے کا اتفاق ہوا وہاں کے علاقہ کے لوگوں نے آپ کی خدمت میں بہت ساری مٹھائی پیش کی حضرت نے مٹھائی تمام حاضرین میں تقسیم کردی عبدالحق کے بیٹے بھی لینے آئے مگر انہوں نے اپنے گونگے بھائی سے اس کا حصہ زبردستی چھین لیا اس نے فریاد کی آپ نے فرمایا اس بچے کو میرے پاس لاؤ وہ خود واقعہ بیان کرے وہ آیا حضرت نے آبِ دہن اس کے منہ میں ڈالا وہ اسی وقت باتیں کرنے لگا۔
آپ کی وفات ۱۸؍ محرم ۱۰۵۷ھ میں ہوئی تھی آپ کا مزار گنگوہ میں ہے آپ کے بہت سے خلفاء تھے مگر ہم چند ایک کے اسمائے گرامی یہاں لکھے جاتے ہیں۔
۱۔ شیخ دادو رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے بیٹے بھی تھے)
۲۔ شیخ محمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے دوسرے بیٹے)
۳۔ شیخ ابراہیم مراد آباد رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ شیخ عبدالسبحان سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ
۵۔ شیخ عبدالجلیل الہہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ
۶۔ شیخ جمال کاچھو رحمۃ اللہ علیہ
۷۔ شیخ مبارک رحمۃ اللہ علیہ
۸۔ شیخ یوسف کابلی قدس سرہ رحمۃ اللہ علیہ م
رفت صادق چوں زدارے حیات
سال ترحیلش بصد صدق و یقین
وارث دین محمد صادق است
بار دیگر صادق جنت نشین[۱]
[۱۔ صاحب اقتباس الانوار نے آپ کے حالات و مقامات کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے آپ کے احوال اور کرامات کی تفصیل دی ہے پھر آپ کی روحانی تربیت اور اسلام خلق کے معاملات کو قلمبند کیا ہے آپ کے خلفاء کا تفصیلی تذکرہ اسی کتاب میں ملتا ہے آپ کے انتقال اور خصوصی مجاہدات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔]
حضرت شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آں مراۃ جمال بے مثال، فارغ از مستقبل وحال، سیاح باویہ وجود، آوں بہ نورِ حق باقی وجود، بر قلب ہمہ اولیاء متصرف و مالک ، و در نظر بصیر تش اسم غیرو غیریت ناٹک، مجروجان تیغ فراق کیلئے حکیم حاذق، قطب وحدت شیخ المشائخ حضرت محمد صادق بن شیخ فتح اللہ گنگوہی الحنفی قدس سرہٗ کا شمار مستان جمال احدیت اور محبوبان بارگاہ صمدیت میں ہوتاہے۔ حق تعالیٰ نے آپکو وہ ولایت و تصرف عطا کیا تھا کہ اولیاء متاخرین میں سے بہت کم کو نصیب ہوا ہے بلکہ متقدمین میں سے بھی بہت کم حضرات اس قسم کی ولایت و تصرف کو پہنچے ہونگے۔ آپ کے نور ہدایت سے تمام اطراف واکناف منور تھے۔ آپ قطب الاقطاب حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی حنفی قدس سرہٗ کے برادر زادہ اور خلیفۂ جانشین تھے آپ ذوق وسماع، درد اور سواز گداز میں بے نظیر تھے۔ حالت سماع میں آپ جس شخص کی طرف توجہ فرماتے تھے اُسے بھی زوت حاصل ہوجا
آپ حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے برادر زادہ بھی تھے اور خلیفہ بھی تھے وجد و سماع ذوق شوق میں کمال رکھتے تھے مریدوں کی تکمیل و تربیت میں بڑا کام کیا تھا آپ کی کرامات اور خوارق زمانہ میں مشہور ہوئیں تھیں۔
ایک بار آپ سہارنپور شہر کے بازار میں جارہے تھے آپ کی نگاہ ایک مالدار اور دولت مند ہندو دکاندار پر پڑی اس ہندو کے دل میں عشق الٰہی کی آگ بھڑک اٹھی دکان سے اٹھا شیخ کا دامن پکڑ لیا مسلمان ہوگیا مرید ہوگیا آپ نے اس کا نام عبد السلام رکھا ذکر حق کی تلقین کی اور کاملانِ وقت سے بنادیا۔
صاحب سواطع الانوار (اقتباس الانوار) نے لکھا ہے کہ ایک بار حضرت سفر کے دَوران جگناتھ کے مقام پر پہنچے بازار میں ایک پتھر کے بت کو نصب دیکھا جسے ہندو پوجا کر رہے تھے آپ بھی کھڑے ہوکر دیکھنے لگے بت نے کہا انا الْمعبود کَ تَعبد سَوَائی میں تمہارا معبود ہوں میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو حضرت شیخ اگرچہ اس وقت مغلوب الحال تھے مگر آپ نے قبلہ رو ہوکر سجدہ کیا اور بت کو نظر انداز کردیا ہندو اس بت کو سجدہ کرتے رہے پھر آواز آئی فاَین ماتو لو فثم وجہ اللہ جس طرف بھی سجدہ کرو گے ہر طرف اللہ کو پاؤ گے؟ حضرت شیخ نے جواب دیا تم تم سچ کہتے ہو لیکن ہمارے محبوب مکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایمان کے باجود کہ اللہ ہر طرف موجود ہے کعبۃ اللہ کو سجدہ کا قرار دیا ہے میں آپ کے احکام کی نافرمانی کیسے کرسکتا ہوں بت نے یہ بات سنی تو خواجہ محمد صادق کی تعریف کی اور کہا تم سچے ہو بت کے منہ سے آپ کی سچائی سن کر بہت سے ہندو مسلمان ہوگئے۔
آپ کا ایک مرید عبدالحق نامی تھا اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی آپ اس کے باغ میں سیر کرنے گئے ان دنوں باغ میں آموں کے درختوں پر پھل موجود تھا آپ نے عبدالحق کو فرمایا ہمارے آم لاؤ ان دنوں آموں کا آخری موسم تھا عبدالحق کئی درختوں پر چڑھ کر آپ کے لیے بڑی مشکل سے سات آم لایا اور پیش کیے چھ تو ان میں سالم تھے مگر ایک ناقص تھا آپ نے کھا کر فرمایا تمہیں اللہ تعالیٰ سات لڑکے دے گا ان میں سے ایک ناقص اور بیمار ہوگا چنانچہ اس کے چھ لڑکے تندرست و توانا ہوئے اور ایک معذور تھا وہ گیارہ سال کا ہوگیا تو گونگا تھا حضرت شیخ کو ایک بار شیخ عبدالحق کے گھر جانے کا اتفاق ہوا وہاں کے علاقہ کے لوگوں نے آپ کی خدمت میں بہت ساری مٹھائی پیش کی حضرت نے مٹھائی تمام حاضرین میں تقسیم کردی عبدالحق کے بیٹے بھی لینے آئے مگر انہوں نے اپنے گونگے بھائی سے اس کا حصہ زبردستی چھین لیا اس نے فریاد کی آپ نے فرمایا اس بچے کو میرے پاس لاؤ وہ خود واقعہ بیان کرے وہ آیا حضرت نے آبِ دہن اس کے منہ میں ڈالا وہ اسی وقت باتیں کرنے لگا۔
آپ کی وفات ۱۸؍ محرم ۱۰۵۷ھ میں ہوئی تھی آپ کا مزار گنگوہ میں ہے آپ کے بہت سے خلفاء تھے مگر ہم چند ایک کے اسمائے گرامی یہاں لکھے جاتے ہیں۔
۱۔ شیخ دادو رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے بیٹے بھی تھے)
۲۔ شیخ محمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ (آپ کے دوسرے بیٹے)
۳۔ شیخ ابراہیم مراد آباد رحمۃ اللہ علیہ
۴۔ شیخ عبدالسبحان سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ
۵۔ شیخ عبدالجلیل الہہ آبادی رحمۃ اللہ علیہ
۶۔ شیخ جمال کاچھو رحمۃ اللہ علیہ
۷۔ شیخ مبارک رحمۃ اللہ علیہ
۸۔ شیخ یوسف کابلی قدس سرہ رحمۃ اللہ علیہ م
رفت صادق چوں زدارے حیات
سال ترحیلش بصد صدق و یقین
وارث دین محمد صادق است
بار دیگر صادق جنت نشین[۱]
[۱۔ صاحب اقتباس الانوار نے آپ کے حالات و مقامات کو بڑی تفصیل سے لکھا ہے آپ کے احوال اور کرامات کی تفصیل دی ہے پھر آپ کی روحانی تربیت اور اسلام خلق کے معاملات کو قلمبند کیا ہے آپ کے خلفاء کا تفصیلی تذکرہ اسی کتاب میں ملتا ہے آپ کے انتقال اور خصوصی مجاہدات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔]
حضرت شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آں مراۃ جمال بے مثال، فارغ از مستقبل وحال، سیاح باویہ وجود، آوں بہ نورِ حق باقی وجود، بر قلب ہمہ اولیاء متصرف و مالک ، و در نظر بصیر تش اسم غیرو غیریت ناٹک، مجروجان تیغ فراق کیلئے حکیم حاذق، قطب وحدت شیخ المشائخ حضرت محمد صادق بن شیخ فتح اللہ گنگوہی الحنفی قدس سرہٗ کا شمار مستان جمال احدیت اور محبوبان بارگاہ صمدیت میں ہوتاہے۔ حق تعالیٰ نے آپکو وہ ولایت و تصرف عطا کیا تھا کہ اولیاء متاخرین میں سے بہت کم کو نصیب ہوا ہے بلکہ متقدمین میں سے بھی بہت کم حضرات اس قسم کی ولایت و تصرف کو پہنچے ہونگے۔ آپ کے نور ہدایت سے تمام اطراف واکناف منور تھے۔ آپ قطب الاقطاب حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی حنفی قدس سرہٗ کے برادر زادہ اور خلیفۂ جانشین تھے آپ ذوق وسماع، درد اور سواز گداز میں بے نظیر تھے۔ حالت سماع میں آپ جس شخص کی طرف توجہ فرماتے تھے اُسے بھی زوت حاصل ہوجا
❤1👍1
تا تھا۔ بلکہ بکہ تجلی ذاتی اس پر جلوہ گر ہوجاتی تھی۔ تربیت مریدین میں آپ بلند ہمت تھے آپکی نسبت نہایت قوی تھ ی اور تھوڑی سی توجہ سے ساکنان عالم سفلی کو عالم علوی میں پہنچادیتے تھے۔ آپ نفس قانع کے مالک تھے۔ آپکی زبان مبارک سے جو کچھ نکلتا تھا خواہ لطف ہو یا قہر فوراً وقوع پذیر ہوجاتا تھا۔ آپ بیحد خوبصورت اور خوب سیرت تھے۔ یہاں تک کہ تمام اولیاء علما ومشائخ وقت آپکے کمال با جمال ولایت پر فریفتہ تھے اور حسن خلق کے شیفتہ تھے اور کسی شخص کو آپ کے کمال باجمال پر اعتراض کرنے کی مجال نہ تھی۔ آپکے کشف وکرامات کی نہ کوئی حد تھی نہ آپکے سیر مقامات کی کوئی انتہا۔ آپ کو حضرت رسالت پناہﷺ کی روحانیت کے ساتھ عجیب نسبت تھی، بلکہ آنحضرتﷺ کی ذات بابرکات میں آپکو فنائے خاص حاصل تھی۔ یہاں تک کہ حضرت شیخ محمد صادق قدس سرہٗ حضرت خواجۂ کونینﷺ کے جمال باکمال کے آئینہ بن چکے تھے اور اُسی طرح آپکا خوان ہدایت ہر کافر ومسلمان کیلئے عام تھا۔ جو مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا علائق دنیا سے اسکا دل سرد ہوجاتا تھا اور جو کافر آپکا رخ انور دیکھ لیتا زنگ کفر اسکے دل سے مٹ جاتا تھا۔ اور فوراً مسلمان ہوجاتا تھا۔ آپ اکثر اوقات سیر وتفریح کی خاطر قصبۂ سہارنپور میں تشریف لے جاتے تھے۔ ایک دفعہ آپ بازار میں جارہے تھے کہ آپکی نظر مبارک ایک امیر کبیر ہندو تاجر پر جا پڑی جو اپنی دکان کے اندر بیٹھا تھا۔ جونہی اس کافر نے آپکے جمال کو دیکھا صدق دل سے کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلما ن ہوگیا اور جاکر آپکے قدموں میں گر گیا۔ اسکے بعد آپ سے شرف بیعت حاصل کیا۔ آپ نے اسکا نام شیخ عبدالسلام رکھا اور ذکر تلقین فرمایا۔ تھوڑے عرصے میں وہ آپکی توجہ سے واصلان حق میں سے ہوگیا۔ شیخ عبدالسلام بڑے صاحب وجد و سماع تھے۔ اور اپنے ہندی گانوں سے لوگوں کے دل موم کردیتے تھے۔ سماع میں آپ رقص بھی کرتے تھے۔ رحمۃ اللہ علیہ۔
حضرت شیخ محمد صادق قدس سرہٗ کے حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ سے بیعت ہونے کا واقعہ جو مشائخ عظام سے تواتر کے ساتھ پہنچا ہے یوں ہے کہ جب حضرت شیخ ابو سعید اپنے مرشد حضرت شیخ نظام الدین تھانیسری قدس سرہٗ سے خلافت ونعمت دو جہان حاصل کر کے شہر بلخ سے قصبۂ گنگوہ پہنچے اور مسندِ ارشاد پر متمکن ہوئے تو طالبان صادق آپکی طرف آنے لگے لیکن آپ اپنے آپ کو چھپاتے بہت تھے۔ اور اپنے جمال ولایت کو نظر اغیار سے پوشیدہ رکھتے تھے اُن ایام میں حضرت شیخ محمد صادق نو جوان اور بڑے حسین وجمیل تھے اور آپکو ورزش اور شکار کا بہت شوق تھا۔ لیکن آپکے دل میں ہمیشہ حق تعالیٰ کیلئے تڑب موجود تھ ی ایک دفعہ عید کے دن آپ لباس فاخرہ زیب تن کر کے اپنے چچا جان حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کی خدمت میں سلام کیلئے حاضر ہوئے۔ جب حضرت اقدس کی نظر انکے حسن و جمال پر پڑی تو آپ نے اپنے خاص اصحاب سے فرمایا کہ مجھے اپنی ولایت کا نور اس بچے کی پیشانی میں نظر آرہا ہے۔ چنانچہ آپ نے اسی وقت انکا دل اپنی باطن توجہ کے دام میں پکڑ لیا۔ جسکی وجہ سے انکے دل میں بیعت کا شوق پیدا ہوا اور مرید ہوگئے۔ حضرت اقدس نے آپکو شغل نفی اثبات واسم ذت تلقین فرمایا اور آپ رات دن اسی کام میں منہمک ہوگئے۔ جب آپکے والدین کو اس بات کا علم ہوا تو کہنے لگے کہ شیخ ابو سعید نے ہمارے بیٹے کو خراب کردیا ہے۔ ہم جاکر ان سے کہیں گےکہ وہ ہمارے بیٹے کو اپنے پاس نہ آنے دے اور اپنی طرح بکار نہ بنائے۔ جب حضرت شیخ ابو سعید کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے شیخ محمد صادق سے فرمایا کہ تمہارے والدین کیا کہتے ہیں تمہارا کی ارادہ ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ بندہ کیلئے اختیار اور ارادہ کیا معنی رکھتا ہے۔ میرا ارادہ وہی ہے جو حضرت اقدس کا ہے اور مجھے حضرت اقدس کی ذات بابرکات کے سوا دنیا وآخرت کی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ کا دیدار بھی اگر حضرت پیر دستگیر کی صورت میں ہوا تو زیارت کرونگا ورنہ نہیں۔ سبحان اللہ! حضرت شیخ کی ذات میں کس قدر فنا آپ کو حاصل تھی۔ اسکا تصور ہی نہیں ہوسکتا ۔ آپکی اپنے شیخ کی ذات میں فنا بعینہٖ حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کی فنا کی طرح تھی جو آپ کو اپنے شیخ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ کی ذات میں تھی۔ اور جو فنا حضرت نظام الدین اولیا قدس سرہٗ کو اپنے شیخ حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کی ذات میں تھی حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ اگرمجھے قیامت کے دن حضرت حق تعالیٰ نے میرے شیخ حضرت قطب الاقطاب کی صورت میں دیدار کرایا تو کرونگا ورنہ اس طرف سے نگاہ پھیر لونگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہےکہمریدین صادق کو حق تعالیٰ انکے شیخ کی صورت میں دیدار کرائیں گے۔ بلکہ اب بھی مریدین صادق کو آنحضرتﷺ کا جمال اپنے شیخ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وہ لوگ جنکو شیخ کامل سے نسبت نہیں ہے یا نسبت پیدا کرنے کے بعد ثابت قدم نہیں رہے تو وہ دونوں جہانوں میں محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں فرمادیا ہےمَنْ کان فی ھذہٖ اعمیٰ فَھُوَہ فی الآخرۃ اعمیٰ (جو شخص اس دنیا میں مشاہدۂ حق سے
حضرت شیخ محمد صادق قدس سرہٗ کے حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ سے بیعت ہونے کا واقعہ جو مشائخ عظام سے تواتر کے ساتھ پہنچا ہے یوں ہے کہ جب حضرت شیخ ابو سعید اپنے مرشد حضرت شیخ نظام الدین تھانیسری قدس سرہٗ سے خلافت ونعمت دو جہان حاصل کر کے شہر بلخ سے قصبۂ گنگوہ پہنچے اور مسندِ ارشاد پر متمکن ہوئے تو طالبان صادق آپکی طرف آنے لگے لیکن آپ اپنے آپ کو چھپاتے بہت تھے۔ اور اپنے جمال ولایت کو نظر اغیار سے پوشیدہ رکھتے تھے اُن ایام میں حضرت شیخ محمد صادق نو جوان اور بڑے حسین وجمیل تھے اور آپکو ورزش اور شکار کا بہت شوق تھا۔ لیکن آپکے دل میں ہمیشہ حق تعالیٰ کیلئے تڑب موجود تھ ی ایک دفعہ عید کے دن آپ لباس فاخرہ زیب تن کر کے اپنے چچا جان حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کی خدمت میں سلام کیلئے حاضر ہوئے۔ جب حضرت اقدس کی نظر انکے حسن و جمال پر پڑی تو آپ نے اپنے خاص اصحاب سے فرمایا کہ مجھے اپنی ولایت کا نور اس بچے کی پیشانی میں نظر آرہا ہے۔ چنانچہ آپ نے اسی وقت انکا دل اپنی باطن توجہ کے دام میں پکڑ لیا۔ جسکی وجہ سے انکے دل میں بیعت کا شوق پیدا ہوا اور مرید ہوگئے۔ حضرت اقدس نے آپکو شغل نفی اثبات واسم ذت تلقین فرمایا اور آپ رات دن اسی کام میں منہمک ہوگئے۔ جب آپکے والدین کو اس بات کا علم ہوا تو کہنے لگے کہ شیخ ابو سعید نے ہمارے بیٹے کو خراب کردیا ہے۔ ہم جاکر ان سے کہیں گےکہ وہ ہمارے بیٹے کو اپنے پاس نہ آنے دے اور اپنی طرح بکار نہ بنائے۔ جب حضرت شیخ ابو سعید کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے شیخ محمد صادق سے فرمایا کہ تمہارے والدین کیا کہتے ہیں تمہارا کی ارادہ ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ بندہ کیلئے اختیار اور ارادہ کیا معنی رکھتا ہے۔ میرا ارادہ وہی ہے جو حضرت اقدس کا ہے اور مجھے حضرت اقدس کی ذات بابرکات کے سوا دنیا وآخرت کی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ حق تعالیٰ کا دیدار بھی اگر حضرت پیر دستگیر کی صورت میں ہوا تو زیارت کرونگا ورنہ نہیں۔ سبحان اللہ! حضرت شیخ کی ذات میں کس قدر فنا آپ کو حاصل تھی۔ اسکا تصور ہی نہیں ہوسکتا ۔ آپکی اپنے شیخ کی ذات میں فنا بعینہٖ حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کی فنا کی طرح تھی جو آپ کو اپنے شیخ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ کی ذات میں تھی۔ اور جو فنا حضرت نظام الدین اولیا قدس سرہٗ کو اپنے شیخ حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کی ذات میں تھی حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ اگرمجھے قیامت کے دن حضرت حق تعالیٰ نے میرے شیخ حضرت قطب الاقطاب کی صورت میں دیدار کرایا تو کرونگا ورنہ اس طرف سے نگاہ پھیر لونگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہےکہمریدین صادق کو حق تعالیٰ انکے شیخ کی صورت میں دیدار کرائیں گے۔ بلکہ اب بھی مریدین صادق کو آنحضرتﷺ کا جمال اپنے شیخ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وہ لوگ جنکو شیخ کامل سے نسبت نہیں ہے یا نسبت پیدا کرنے کے بعد ثابت قدم نہیں رہے تو وہ دونوں جہانوں میں محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں فرمادیا ہےمَنْ کان فی ھذہٖ اعمیٰ فَھُوَہ فی الآخرۃ اعمیٰ (جو شخص اس دنیا میں مشاہدۂ حق سے
❤1
محروم ہے آخرت میں بھی محروم ہوگا۔)
غرضیکہ جب حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کو یقین ہوگیا کہ حضرت شیخ محمد صادق اپنے اعتقاد میں پکے اور طلب مولا میں ماں باپ کی محبت سے زیادہ مستحکم ہیں تو آپ نے بلا کر فرمایا کہ بابا محمد صادق انے والدین سے آزادی طلب کروتاکہ وہ تجھے اپنا حق بخش دیں۔ اور راہِ حق پر چلنے کے لیے آزاد کردیں۔ چنانچہ آپ نے اپنے والدین کے پاس جاکر معروضہ پیش کیا اور اُنکے حقوق سے فارغ البال ہوکر مجاہدہ وریاضت میں پوری طرح منہمک ہوگئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب آپکے والدین نے آپکو حضرت شیخ ابو سعید کی محبت اور ذکر واذکار سے منع کرنے کی کوشش کی تو آپ نے جذبۂ عشق میں گھر بار چھوڑ د یا اور سفر پر روانہ ہوگئے تاکہ آزادی سےکام کریں۔
آپ سے ایک بُت کا ہمکلام ہونا
اتفاقاً آپ دوران سفر میں ایک ایسی جگہ پر پہنچے جہاں ایک بُت تھا جس کا نام جگنا تھ تھا۔ اس پر ہمیشہ پردہ پڑا رہتا تھا۔ اور کافر اسکی پوجا کرتے تھے صبح کے وقت اسکے منہ سے پردہ ہٹایا جاتا تھا اور تمام کفار اسکے سامنے سجدہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کیمشیت اس طرح تھی کہ ایک صبح جب اس بت کے منہ سے پردہ اٹھایا گیا تو حضرت شیخ محمد صادق وہاں پہنچ گئے۔ جونہی بت کے منہ سے پردہ اٹھا اس بت کی صورت ذاتی نے ظاہر ہوکر حضرت حضرت اقدس سے کہا انا المعبود لا تعبد سوائی(میں معبود ہوں میرے سوا کسی کی پرستش نہ کرو) یہ سنکر حضرت اقدس غلبہ حال میں آکر سجدہ میں گر پڑے لیکن بت کی طرف نہیں بلکہ قبلہ کی طرف۔ لیکن کفار نے بُت کی طرف سجدہ کیا۔ اسکے بعد اس بت نے دوبارہ حضرت اقدس کو مخاطب کر کے کہا کہ اَیْنَمَا تُوَلُّوْ فَثَم وَجْہُ اللہُ (جدھر منہ کرو ادھر ذات حق ہے) کو تم بھول گئے ہو۔ یہاں تم نے کسی غیر کو دیکھا ہے کہ سج دہ قبلہ کی جانب کر رہے ہو۔ حالانکہ شہود ذاتی تجھے میرے اندر حاصل ہوا ہے لہذا میری جانب سجدہ کرو۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ حق وہی ہے جو تم کہہ رہے ہو لیکن حضرت رسالت پناہﷺ باوجود کمالمشاہدہ حق تعالیٰ کوہر وقت اور ہر جگہ سمت قبلہ میں سجدہ کرتے تھے۔ میں نے بھی آنحضرتﷺ کی متابعت میں قبلہ ک ی جانب سجدہ کیا ہے۔ یہ سنکر اُس بت نے آپ کی تعریف کی اور خاموش ہوگیا۔ یہ مشاہدہ دیکھ کر بیشمار کفار مسلمان ہوگئے اسکے بعد آپ دوسری طرف تشریف لے گئے۔
غرضیکہ جب کافی عرصہ آپ نے ریاضت و مجاہد زندگی گذاری تو عالمِ ملکوت اور عالم جبروت کے واقعات منکشف ہونے لگے۔ لیکن آپ کی ہمت اس قدر بلند تھ ی کہ آپ نے ان تجلیات کی جانب توجہ نہ فرمائی اور حضرت ابراہیم حلیل اللہ کی طرح لااحب الافلین (میں گم ہوجانے والوں سے محبت نہیں کرتا یعنی عارضی مکشوفات سے) کہتے ہوئے حضرت بے کیف اور بے مثال کے شہود کے طالب رہے۔ ایک دن آپ نے اپنے شیخ حضرت مخدوم ابو سعید قدس سرہٗ کے سامنے مطلوب حقیقی تک نارسائی اور ہجرو فراق کا شکوہ کیا اور عرض کیا کہ مجھے شغل بہونکم وسہ پایہ تلقین فرمایں شاید کہ اس سے میری عقدہ کشائی ہوجائے۔ اور جمال محبوب کی رونمائی ہو حضرت شیخ نے فرمایا کہ بابا صادق میں نے راہِ خدا میں جس قدر مجاہدات کیے ہیں میں نے انکا ثواب تجھے منتقل کردیا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ جلد مطلوب حقیقی تک رسائی ہوجائیگی۔ لیکن چونکہ تم اشغال کو پسند کرتے ہومیں تجھے یہ دونوں شغل اور دوسرے تمام شغل کرنے کی اجازت دیتا ہوں تاکہ تمہارے مریدین و متعلقین کے کام آئیں۔ اگر تجھے راہِ حق میں جدو جہد کا شوق ہے اور اپنی زندگی ان اذکار میں بسر کرنا چاہتے ہو تو شغل سہ پایہ کی پابندی کرو اس وجہ سے کہ یہ بہت سریع الاثر (جلدی اثر کرنے والا) اور تمام کمالات انفسی وآفاقی کی طرف لے جانے والا ہے۔ چنانچہ آپ نے حضرت شیخ محمد صادق کو شغل بہونکم وشغل سہ پایہ اور اس قسم کے دیگر مشاغل تلقین فرمائے اورل یہ بھی فرمایا کہ کچھ عرصہ شغل سہ پایہ ہمت اور حوصلہ سے کرو جس سے تجھے کما حقہ استعداد ذاتی حاصل ہوگی۔ حضرت لاکیف کے جمال کا جلوہ حاصل ہوگا۔ اسکے بعد جو چاہو کرو کیونکہ میں نے جو کچھ تمہارے لیے کرنا تھا کردیا ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ محمد صادق حضرت شیخ کے فرمان کے مطابق رات دن شغل سہ پایہ میں مشغول ہوگئے اور اس شغل کو نہایت تک پہنچادیا۔ اور مطلوب حقیقی کی طلب کے بغیر ایک لمحہ آرام سے نہیں رہتے تھے۔ حتیٰ کہ ناگاہ محبوب حقیقی کا شہود حاصل ہوا جس سے آپ پر کمال محویت وبے خودی طاری ہوگئی اور رسوم بشری اور صفات انانیت میں سے آپکے اندر کچھ باقی نہ رہا۔ اس استغراق میں آپ پر ذاتِ بے کیف کے ایسے اسرار منکشف ہوئے کہ بیان سے باہر ہیں۔ ایک دن اسی بے خودی میں ورأ الورا کی حقیقت منکشف ہوئی اور اس کشف کے دوران میں آپ نے دیکھا کہ آپکا سینہ شک ہوا ہے اور ایک سوراخ پیدا ہوگیا ہے۔ جب آپ نے اس سوراخ کے اندر دیکھا تو نورِ سرخ کا ایک صحرا نظر آیا جسکی سرخی بہت تیز تھی۔ اس صحرا میں آپکو بیشمار صورتیں نظر آئیں۔ اور آپکو یہ معلوم کرایا گیا کہ یہ تمام صورتیں فاینما تولوا فثم وجھہ اللہ کا جمال ہے جو آپ کی نظرو
غرضیکہ جب حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کو یقین ہوگیا کہ حضرت شیخ محمد صادق اپنے اعتقاد میں پکے اور طلب مولا میں ماں باپ کی محبت سے زیادہ مستحکم ہیں تو آپ نے بلا کر فرمایا کہ بابا محمد صادق انے والدین سے آزادی طلب کروتاکہ وہ تجھے اپنا حق بخش دیں۔ اور راہِ حق پر چلنے کے لیے آزاد کردیں۔ چنانچہ آپ نے اپنے والدین کے پاس جاکر معروضہ پیش کیا اور اُنکے حقوق سے فارغ البال ہوکر مجاہدہ وریاضت میں پوری طرح منہمک ہوگئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب آپکے والدین نے آپکو حضرت شیخ ابو سعید کی محبت اور ذکر واذکار سے منع کرنے کی کوشش کی تو آپ نے جذبۂ عشق میں گھر بار چھوڑ د یا اور سفر پر روانہ ہوگئے تاکہ آزادی سےکام کریں۔
آپ سے ایک بُت کا ہمکلام ہونا
اتفاقاً آپ دوران سفر میں ایک ایسی جگہ پر پہنچے جہاں ایک بُت تھا جس کا نام جگنا تھ تھا۔ اس پر ہمیشہ پردہ پڑا رہتا تھا۔ اور کافر اسکی پوجا کرتے تھے صبح کے وقت اسکے منہ سے پردہ ہٹایا جاتا تھا اور تمام کفار اسکے سامنے سجدہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کیمشیت اس طرح تھی کہ ایک صبح جب اس بت کے منہ سے پردہ اٹھایا گیا تو حضرت شیخ محمد صادق وہاں پہنچ گئے۔ جونہی بت کے منہ سے پردہ اٹھا اس بت کی صورت ذاتی نے ظاہر ہوکر حضرت حضرت اقدس سے کہا انا المعبود لا تعبد سوائی(میں معبود ہوں میرے سوا کسی کی پرستش نہ کرو) یہ سنکر حضرت اقدس غلبہ حال میں آکر سجدہ میں گر پڑے لیکن بت کی طرف نہیں بلکہ قبلہ کی طرف۔ لیکن کفار نے بُت کی طرف سجدہ کیا۔ اسکے بعد اس بت نے دوبارہ حضرت اقدس کو مخاطب کر کے کہا کہ اَیْنَمَا تُوَلُّوْ فَثَم وَجْہُ اللہُ (جدھر منہ کرو ادھر ذات حق ہے) کو تم بھول گئے ہو۔ یہاں تم نے کسی غیر کو دیکھا ہے کہ سج دہ قبلہ کی جانب کر رہے ہو۔ حالانکہ شہود ذاتی تجھے میرے اندر حاصل ہوا ہے لہذا میری جانب سجدہ کرو۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ حق وہی ہے جو تم کہہ رہے ہو لیکن حضرت رسالت پناہﷺ باوجود کمالمشاہدہ حق تعالیٰ کوہر وقت اور ہر جگہ سمت قبلہ میں سجدہ کرتے تھے۔ میں نے بھی آنحضرتﷺ کی متابعت میں قبلہ ک ی جانب سجدہ کیا ہے۔ یہ سنکر اُس بت نے آپ کی تعریف کی اور خاموش ہوگیا۔ یہ مشاہدہ دیکھ کر بیشمار کفار مسلمان ہوگئے اسکے بعد آپ دوسری طرف تشریف لے گئے۔
غرضیکہ جب کافی عرصہ آپ نے ریاضت و مجاہد زندگی گذاری تو عالمِ ملکوت اور عالم جبروت کے واقعات منکشف ہونے لگے۔ لیکن آپ کی ہمت اس قدر بلند تھ ی کہ آپ نے ان تجلیات کی جانب توجہ نہ فرمائی اور حضرت ابراہیم حلیل اللہ کی طرح لااحب الافلین (میں گم ہوجانے والوں سے محبت نہیں کرتا یعنی عارضی مکشوفات سے) کہتے ہوئے حضرت بے کیف اور بے مثال کے شہود کے طالب رہے۔ ایک دن آپ نے اپنے شیخ حضرت مخدوم ابو سعید قدس سرہٗ کے سامنے مطلوب حقیقی تک نارسائی اور ہجرو فراق کا شکوہ کیا اور عرض کیا کہ مجھے شغل بہونکم وسہ پایہ تلقین فرمایں شاید کہ اس سے میری عقدہ کشائی ہوجائے۔ اور جمال محبوب کی رونمائی ہو حضرت شیخ نے فرمایا کہ بابا صادق میں نے راہِ خدا میں جس قدر مجاہدات کیے ہیں میں نے انکا ثواب تجھے منتقل کردیا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ جلد مطلوب حقیقی تک رسائی ہوجائیگی۔ لیکن چونکہ تم اشغال کو پسند کرتے ہومیں تجھے یہ دونوں شغل اور دوسرے تمام شغل کرنے کی اجازت دیتا ہوں تاکہ تمہارے مریدین و متعلقین کے کام آئیں۔ اگر تجھے راہِ حق میں جدو جہد کا شوق ہے اور اپنی زندگی ان اذکار میں بسر کرنا چاہتے ہو تو شغل سہ پایہ کی پابندی کرو اس وجہ سے کہ یہ بہت سریع الاثر (جلدی اثر کرنے والا) اور تمام کمالات انفسی وآفاقی کی طرف لے جانے والا ہے۔ چنانچہ آپ نے حضرت شیخ محمد صادق کو شغل بہونکم وشغل سہ پایہ اور اس قسم کے دیگر مشاغل تلقین فرمائے اورل یہ بھی فرمایا کہ کچھ عرصہ شغل سہ پایہ ہمت اور حوصلہ سے کرو جس سے تجھے کما حقہ استعداد ذاتی حاصل ہوگی۔ حضرت لاکیف کے جمال کا جلوہ حاصل ہوگا۔ اسکے بعد جو چاہو کرو کیونکہ میں نے جو کچھ تمہارے لیے کرنا تھا کردیا ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ محمد صادق حضرت شیخ کے فرمان کے مطابق رات دن شغل سہ پایہ میں مشغول ہوگئے اور اس شغل کو نہایت تک پہنچادیا۔ اور مطلوب حقیقی کی طلب کے بغیر ایک لمحہ آرام سے نہیں رہتے تھے۔ حتیٰ کہ ناگاہ محبوب حقیقی کا شہود حاصل ہوا جس سے آپ پر کمال محویت وبے خودی طاری ہوگئی اور رسوم بشری اور صفات انانیت میں سے آپکے اندر کچھ باقی نہ رہا۔ اس استغراق میں آپ پر ذاتِ بے کیف کے ایسے اسرار منکشف ہوئے کہ بیان سے باہر ہیں۔ ایک دن اسی بے خودی میں ورأ الورا کی حقیقت منکشف ہوئی اور اس کشف کے دوران میں آپ نے دیکھا کہ آپکا سینہ شک ہوا ہے اور ایک سوراخ پیدا ہوگیا ہے۔ جب آپ نے اس سوراخ کے اندر دیکھا تو نورِ سرخ کا ایک صحرا نظر آیا جسکی سرخی بہت تیز تھی۔ اس صحرا میں آپکو بیشمار صورتیں نظر آئیں۔ اور آپکو یہ معلوم کرایا گیا کہ یہ تمام صورتیں فاینما تولوا فثم وجھہ اللہ کا جمال ہے جو آپ کی نظرو
❤1
ں میں جلوہ گر تھا۔ اسکے بعد آپکو نور سرخ کے تین شیر دکھائی دیئے جنکی آنکھیں سورج کی طرح رعب و جلال سے چمک رہی تھیں۔ اس وقت آپکو یہ معلوم ہوا کہ یہ تین شعر حضرت رسالت پناہﷺ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ ہیں۔ اسکے بعد وہ شیر انسانی شکل میں ظاہر ہوئےاور وہاں ایک تخت نمودار ہوا جس پر انہوں نے اتفاق رائے سے آپ کو بٹھایا اور فرمایا کہ حق تعالیٰ نے تجھے مقام محبوبت عطا فرمایا ہے اور تجلیات ذات وصفات حق تمام آپکی طالب ہیں اور آپ ان کے مطلوب ہیں۔ اب جس مشاہدہ میں آپ چاہیں رہ سکتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میری خواہش سوائے مشاہدۂ ذاتی کے اور کوئی نہیں ہے۔ اسکے بعد حضرت رسالت پناہﷺ کی روحانیت نے مجھے ایک نوری چادر عطا فرمائی اور فرمایا کہ یہ چادر محبوبیت و کبریائی اور خلافت کبریٰ اور میری نیابت کی چادر ہے اس کا اچھی طرح حق ادا کرنا کیونکہ شہود ذاتی کے دوام اور مقام مشیخیت وارشاد جو لوازم کمالات نبوت ہیں کے حصول کا ذریعہ یہی چادر ہے۔ اسکے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روحانیت نے مجھے نور خالص کی ایک تلوار عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ تلوار ولایت مطلقہ کے تصرفات کی صورت ہے یہ میں نے تجھے عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا حضرت شیخ ابو سعید قدس سرہٗ کی روحانیت نے مجھے ایک ایسا آئینہ عطا فرمایا جو نورِ سرخ کا تھا اور نہایت صاف و چمکدار تھا اور فرمایا کہ یہ آئینہ صورت علمی کا الٰہی ہے جو میں نے تجھے عطا کیا ہے۔ اسکے بعد فرمایا کہ خبردار ہو کہ ت جلیات ذات وصفات جو تمہاری مشتاق ہیں تمہاری ملاقات کیلئے آئینگی۔ اسکے بعد بیشمار تجلیات کا جوق در جوق ظہور شروع ہوگیا اور میری دیدۂ شہود میں اس قدر تجلیات جلوہ گر ہوئیں کہ بیان سے باہر ہیں۔ آخر میں نور ذات ایک ایسی حسینہ وجمیلہ عورت کی شکل میں ظاہر ہوا کہ جسکا بیان زبان کی طاقت سے باہر ہے۔ اس نے آتے ہی کہا کہ حدیث حبب الی من دیناکم ثلث الطیب والنساء وقرۃ عینی فی الصلویۃ (مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزیں پسند ہیں خوشبو عورت اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے) میرا شان نزول ہے۔ یہ بات کہہ کر میری طرف معشوقانہ انداز میں دیکھا۔ اس وقت اسکی آنکھوں سے نور بے کیف اور بے مثال کی وہ تجلیات چمکیں کہ میرے شہود مثالیہ کی تجلیات کو تاخت و تاراج کردیا اور آیہ کریمہ اِنَّ الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلہ (جب کسی بستی پر بادشاہوں کاگذر ہوتا تو اُسے پامال کردیتے ہیں اور لوگوں کی عزت کو ذلت میں مبدل کردیتے ہیں) کی سی حالت مجھ پر طاری ہوگئی اور تجلیات معنوی کی بیخ و بن کو میرے دل کی زمین سے اکھاڑ کر پھینک دیا اور اسکے آثار کو نیست ونابود کردیا۔ کسی ن ے خوب کہا ہے؎
آنجا کہ سلطان خیمہ زد غوغا نماند عام را
(جس جگہ بادشاہ خیمہ لگاتا عوام کا گذر اور شور و شغ بند ہوجاتا)
ایک ماہ تک یہی حالت رہی اور مجھے عالم کون و مکاں کی کچھ خبر نہ رہی۔ اسکے بعد جب افاقہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرا سارا جسم نفحات ربانیہ سے معطر ہے اور میرا حجرہ عطریات حقانیہ سے پُر ہے۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ فنا احدیت میں تمہاری اتنی نمازیں قضا ہوگئی ہیں۔ جب حساب لگایا تو ایک ماہ کا عرصہ ہوا۔ چنانچہ میں نے تمام نمازیں ادا کیں اور پھر حضرت شیخ کی خدمت میں جاکر ماجرا بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا کام بن چکا ہے اور تمہارے واقعات سے اس بات کی بو آتی ہے کہ تم جہانگیر بنو گے اور تمہارا ارشاد حضرت سلطان المشائخ کی طرح سارے جہان میں پھیل جائیگا۔ اسکے بعد آپ نے اپنے مشائخ کی امانت معہ اسم اعطم وخرقۂ خلافت وسجادگی مجھے عطا فرمایا اور طالبان حقِ کی ہدایت کیلئے مامور فرمایا۔ اور تمام اصحاب اعلیٰ کی تربیت کا کام بھی میرے سپرد فرمایا۔ نیز مشائخیّت کلے تمام امور بھی میرے سپرد کیے۔ اور خود بالکل فارغ ہوکر بیٹھ گے۔ اسکے بعد جو شخص بیعت و تربیت کیلئے حاضر ہوتا تھا آپ میرے پاس بھیج دیتے تھے ثقہ راویوں کا بیان ہے کہ جب حضرت شیخ محمد صادق اپنے شیخ حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی قد سرہٗ کے حکم سے مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ کی ولایت کا شہرہ اس قدر بلند ہوا کہ ہر طرف سے خلق خدا کا ہجوم ہونے لگا۔ ایک جہان آپ کے فیض سے بہرہ ور ہوا اور بہت سے سالکین مرتبۂ تکمیل وارشاد کو پہنچے بیشتر لوگ آنحضرتﷺ کے اشارے سے حضرت اقدس کی خدمت میں ھاضر ہوئے اور شرف بیعت حاصل کر کے مرتبۂ تکمیل رشد و ہدایت تک پہنچے۔
(اقتباس الانوار)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-sadiq-bin-fatahillah-gangohi
آنجا کہ سلطان خیمہ زد غوغا نماند عام را
(جس جگہ بادشاہ خیمہ لگاتا عوام کا گذر اور شور و شغ بند ہوجاتا)
ایک ماہ تک یہی حالت رہی اور مجھے عالم کون و مکاں کی کچھ خبر نہ رہی۔ اسکے بعد جب افاقہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرا سارا جسم نفحات ربانیہ سے معطر ہے اور میرا حجرہ عطریات حقانیہ سے پُر ہے۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ فنا احدیت میں تمہاری اتنی نمازیں قضا ہوگئی ہیں۔ جب حساب لگایا تو ایک ماہ کا عرصہ ہوا۔ چنانچہ میں نے تمام نمازیں ادا کیں اور پھر حضرت شیخ کی خدمت میں جاکر ماجرا بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا کام بن چکا ہے اور تمہارے واقعات سے اس بات کی بو آتی ہے کہ تم جہانگیر بنو گے اور تمہارا ارشاد حضرت سلطان المشائخ کی طرح سارے جہان میں پھیل جائیگا۔ اسکے بعد آپ نے اپنے مشائخ کی امانت معہ اسم اعطم وخرقۂ خلافت وسجادگی مجھے عطا فرمایا اور طالبان حقِ کی ہدایت کیلئے مامور فرمایا۔ اور تمام اصحاب اعلیٰ کی تربیت کا کام بھی میرے سپرد فرمایا۔ نیز مشائخیّت کلے تمام امور بھی میرے سپرد کیے۔ اور خود بالکل فارغ ہوکر بیٹھ گے۔ اسکے بعد جو شخص بیعت و تربیت کیلئے حاضر ہوتا تھا آپ میرے پاس بھیج دیتے تھے ثقہ راویوں کا بیان ہے کہ جب حضرت شیخ محمد صادق اپنے شیخ حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی قد سرہٗ کے حکم سے مسندِ خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ کی ولایت کا شہرہ اس قدر بلند ہوا کہ ہر طرف سے خلق خدا کا ہجوم ہونے لگا۔ ایک جہان آپ کے فیض سے بہرہ ور ہوا اور بہت سے سالکین مرتبۂ تکمیل وارشاد کو پہنچے بیشتر لوگ آنحضرتﷺ کے اشارے سے حضرت اقدس کی خدمت میں ھاضر ہوئے اور شرف بیعت حاصل کر کے مرتبۂ تکمیل رشد و ہدایت تک پہنچے۔
(اقتباس الانوار)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-muhammad-sadiq-bin-fatahillah-gangohi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Muhammad Sadiq Bin Fatahillah Gangohi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا ابو عبدالغفار نور احمد قاسمی ملاح ۱۹۳۷ء رحیم کے گوٹھ (خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو) میں تولد ہوئے
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم مولانا محمد انور لغاری سے حاصل کی۔ اس کے بعد استاد العلماء حضرت مولانا مفتی غلام محمد قاسمی لغاری (خیر پورناتھن شاہ) سے تعلیم حاصل کی۔ مفتی صاحب نے حج بیت اللہ کیلئے سفر اختیار کیا تو آپ نے مولانا محمد اسحاق کھونھارو کیجانب رجوع فرمایا، علم کی تڑپ نے آپ کو فارغ بیٹھنے نہ دیا، ان کی خدمت میں رہ کر فیضیاب ہوئے۔ اس کیب عد اعلیٰ تعلیم کیلئے سندھ کی نامور دینی درسگاہ ’’جامعہ عربیہ قاسم العلوم‘‘ درگاہ عالیہ حضرت مشوری شریف (لاڑکانہ) می۹ں داخلہ لیا ۔ فقیہ اعظم ، تاج العافرین، بحر العلوم و الفیوض استاد الاساتذہ حضرت علامہ الحاج مفتی خواجہ محدم قاسم مشوری قدس سرہ الاقدس کی خدمت عالیہ میں رہ کر علوم عقلیہ و نقلیہ میں تکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ سلسلہ قادریہ راشدیہ میں حضرت قبلہ عالم، فقیہ اعظم سرکار مشوری قدس سرہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت پوری عمر عزیز درس و تدریس میں صر فکی ، بالکل سادہ ، بناوٹ سے آزاد، نرم طبیعت ، اخلاق حسنہ سے مزین، سراپا محبت و ادیب تھے، سادات کرام کا نہایت احترام فرمایا کرتے تھے، رحیم کے گوٹھ، میانی کے گوٹھ (دادو) ، خانپور، دادو شہر میں احمد خان سیال کی مسجد شریف میں، مدرسہ چراغ الاسلام بوبک (تحصیل سیوہن شریف) ، کرمپور کے مدرسہ شمس العلوم قاسمیہ، مدرسہ جیلانیہ لاڑکانہ شہر اور درگاہ مرتضائیہ جیلانیہ گمبٹ وغیرہ مقامات پر درس و تدریس، امامت و خطابت کی خدمات انجام دیں اور عوام و خواص کو مستفیض فرمایا۔
آخر عمر میں خیر پور ناتھن شاہ (ضلع دادو) میں ’’مدرسہ انوار الہدیٰ قاسمیہ‘‘ اور مسجد شریف قائم فرمائی۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی فہرست میں سے تین نام معلوم ہو سکے جو کہ درج ذیل ہیں:
٭ خلیفہ قاضی جمال اللہ میانی کے گوٹھ
٭ حکیم عبد اللطیف عباسی (نے بخاری و ہدایہ پڑھی) بوبک اسٹیشن
٭ مخدوم زادہ عبدالفتاح عباسی بوبک اسٹیشن
اولاد:
رب کریم نے آپ کو پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں عطا فرمائیں ان میں سے تین بیٹے حافظ القرآن اور ایک بیٹا مولوی اورع ایک بیٹی حافظ القرآن ہے۔
حرمین شریفین:
۱۹۸۰ء میں حکومت کے خرچہ پر حج بیت اللہ اور روضۂ رسول اللہ ﷺ کی حاضری کی سعادت سے فیضیاب ہوئے۔
اوراد و وظائف:
آپ اپنے پیر و مرشد سے بے حد محبت و عقیدت رکھتے تھیاور مرشد کریم سے نسبت پر ناز کرتے تھے اور ان کی تعلیمات پر زندگی گزارتے تھے اور ان کے بتائے گئے اوراد و وظائف ، ذکر واذکار، تسبیح و تحلیل، حزب البحر اور دلائل الخیرات کا روزانہ پابندی سے ورد کرتے تھے۔
وصال:
انتقال سے قبل خوب میں دیکھا کہ مرشدکریم قبلہ عالم ، فیض گنجور حضرت سرکار مشویر علیہ الرحمہ تشریف لائے ہیں اور فرمایا : بیٹا آپ کے وصال کیلئے محرم شریف کا مہینہ مقرر ہے‘‘ اورع ہوا بھی ویسا ہی ۱۸ محرم الحرام ۱۴۱۵ھ بمطابق ۲۹ جون ۱۹۹۴ء میں وصال ہوا۔
انتقال سے قبل مسجد شریف میں طلباء کو صرف کے صیغے یاد کرا رہے تھے کہ اچانک دل میں درد ہوا علاج معالجہ سے افاقہ نہ ہوا اور تاریخ مذکورہ پر اس دنیا فانی سے عالم برزخ کی جانب رحلت فرمائی۔
آپ کی آخری آرام گاہ خیر پور ناتھن شاہ میں مدرسہ نوار الہدیٰ قاسمیہ کے متصل مسجد شریف کے احاطہ میں ہے۔ انتقال کے بعد اس طرح خواب میں نظر آئے کہ قبر میں سرجھکائے بیٹے ہیں اور تسبیح پر کچھ پڑھ رہے ہیں۔
(حافظ عبدالغفار ملاح بن مولانا نور احمد قاسمی نے ۱۹۹۴ء میں سکندر علی چانڈیو کی تحریک پر مواد بھجوایا تھا اسی سے یہ مضمون ماخوذ ہے)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-noor-ahmad-qasmi
تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم مولانا محمد انور لغاری سے حاصل کی۔ اس کے بعد استاد العلماء حضرت مولانا مفتی غلام محمد قاسمی لغاری (خیر پورناتھن شاہ) سے تعلیم حاصل کی۔ مفتی صاحب نے حج بیت اللہ کیلئے سفر اختیار کیا تو آپ نے مولانا محمد اسحاق کھونھارو کیجانب رجوع فرمایا، علم کی تڑپ نے آپ کو فارغ بیٹھنے نہ دیا، ان کی خدمت میں رہ کر فیضیاب ہوئے۔ اس کیب عد اعلیٰ تعلیم کیلئے سندھ کی نامور دینی درسگاہ ’’جامعہ عربیہ قاسم العلوم‘‘ درگاہ عالیہ حضرت مشوری شریف (لاڑکانہ) می۹ں داخلہ لیا ۔ فقیہ اعظم ، تاج العافرین، بحر العلوم و الفیوض استاد الاساتذہ حضرت علامہ الحاج مفتی خواجہ محدم قاسم مشوری قدس سرہ الاقدس کی خدمت عالیہ میں رہ کر علوم عقلیہ و نقلیہ میں تکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔
بیعت:
فارغ التحصیل ہونے کے بعد آپ سلسلہ قادریہ راشدیہ میں حضرت قبلہ عالم، فقیہ اعظم سرکار مشوری قدس سرہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے۔
درس و تدریس:
بعد فراغت پوری عمر عزیز درس و تدریس میں صر فکی ، بالکل سادہ ، بناوٹ سے آزاد، نرم طبیعت ، اخلاق حسنہ سے مزین، سراپا محبت و ادیب تھے، سادات کرام کا نہایت احترام فرمایا کرتے تھے، رحیم کے گوٹھ، میانی کے گوٹھ (دادو) ، خانپور، دادو شہر میں احمد خان سیال کی مسجد شریف میں، مدرسہ چراغ الاسلام بوبک (تحصیل سیوہن شریف) ، کرمپور کے مدرسہ شمس العلوم قاسمیہ، مدرسہ جیلانیہ لاڑکانہ شہر اور درگاہ مرتضائیہ جیلانیہ گمبٹ وغیرہ مقامات پر درس و تدریس، امامت و خطابت کی خدمات انجام دیں اور عوام و خواص کو مستفیض فرمایا۔
آخر عمر میں خیر پور ناتھن شاہ (ضلع دادو) میں ’’مدرسہ انوار الہدیٰ قاسمیہ‘‘ اور مسجد شریف قائم فرمائی۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی فہرست میں سے تین نام معلوم ہو سکے جو کہ درج ذیل ہیں:
٭ خلیفہ قاضی جمال اللہ میانی کے گوٹھ
٭ حکیم عبد اللطیف عباسی (نے بخاری و ہدایہ پڑھی) بوبک اسٹیشن
٭ مخدوم زادہ عبدالفتاح عباسی بوبک اسٹیشن
اولاد:
رب کریم نے آپ کو پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں عطا فرمائیں ان میں سے تین بیٹے حافظ القرآن اور ایک بیٹا مولوی اورع ایک بیٹی حافظ القرآن ہے۔
حرمین شریفین:
۱۹۸۰ء میں حکومت کے خرچہ پر حج بیت اللہ اور روضۂ رسول اللہ ﷺ کی حاضری کی سعادت سے فیضیاب ہوئے۔
اوراد و وظائف:
آپ اپنے پیر و مرشد سے بے حد محبت و عقیدت رکھتے تھیاور مرشد کریم سے نسبت پر ناز کرتے تھے اور ان کی تعلیمات پر زندگی گزارتے تھے اور ان کے بتائے گئے اوراد و وظائف ، ذکر واذکار، تسبیح و تحلیل، حزب البحر اور دلائل الخیرات کا روزانہ پابندی سے ورد کرتے تھے۔
وصال:
انتقال سے قبل خوب میں دیکھا کہ مرشدکریم قبلہ عالم ، فیض گنجور حضرت سرکار مشویر علیہ الرحمہ تشریف لائے ہیں اور فرمایا : بیٹا آپ کے وصال کیلئے محرم شریف کا مہینہ مقرر ہے‘‘ اورع ہوا بھی ویسا ہی ۱۸ محرم الحرام ۱۴۱۵ھ بمطابق ۲۹ جون ۱۹۹۴ء میں وصال ہوا۔
انتقال سے قبل مسجد شریف میں طلباء کو صرف کے صیغے یاد کرا رہے تھے کہ اچانک دل میں درد ہوا علاج معالجہ سے افاقہ نہ ہوا اور تاریخ مذکورہ پر اس دنیا فانی سے عالم برزخ کی جانب رحلت فرمائی۔
آپ کی آخری آرام گاہ خیر پور ناتھن شاہ میں مدرسہ نوار الہدیٰ قاسمیہ کے متصل مسجد شریف کے احاطہ میں ہے۔ انتقال کے بعد اس طرح خواب میں نظر آئے کہ قبر میں سرجھکائے بیٹے ہیں اور تسبیح پر کچھ پڑھ رہے ہیں۔
(حافظ عبدالغفار ملاح بن مولانا نور احمد قاسمی نے ۱۹۹۴ء میں سکندر علی چانڈیو کی تحریک پر مواد بھجوایا تھا اسی سے یہ مضمون ماخوذ ہے)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-noor-ahmad-qasmi
scholars.pk
Hazrat Molana Noor Ahmad Qasmi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
❤1
مفتئ دعوتِ اسلامی الحافظ القاری محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی
ولادت اور اِبتِدائی تعلیم:
مفتئ دعوتِ اسلامی الحافظ القاری محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی وِلادت 26 اگست 1976ء ماہِ رمضان المبارک میں لاڑکانہ (جس کا نام امیرِ اہل سنت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی نے آپ کی وفات کے بعد " فاروق نگر " رکھ دیا ہے) میں ہوئی۔ اسکول سے واپَسی پر والدہ کو قرآنِ پاک سنایا کرتے تھے۔ ابتدائی تعلیم وحفظ دار العلوم احسن البرکات ( حیدر آباد سندھ) سے کیا ۔ فاروق نگر (لاڑکانہ) سے حیدر آباد اور پھر 1989ء میں بابُ المدینہ (کراچی) منتقل ہو گئے۔
دعوتِ اسلامی سے کس طرح مُتأثِّر ہوئے:
مفتئ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی کے بارے میں خود کچھ اس طرح سے بتایا تھا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ سنّتوں بھرے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی تو وہاں کی جانے والی اِختِتامی رقّت انگیز دُعاء سن کربَہُت مُتَأ ثِّر ہوا بس اس دعا کا انداز پسند آگیا ۔ اس کے بعد دعوتِ اسلامی کی منزلیں طے ہوتی چلی گئیں، الحمدللہ عزوجل۔
عہدِ طالب علمی کا کردار:
باب المدینہ کراچی میں دعوتِ اسلا می کے جامعۃ المدینہ میں 1995ء میں داخلہ لیا ۔ آپ اپنی عادات واطوار میں دیگر طَلَبَہ سے ممتاز حیثیت کے حامِل تھے ۔ آپ کے ساتھ پڑھنے والے مدنی علماء کا بیان ہے کہ " دورانِ طالب العلمی جب پڑھائی کے درميانی وقفہ ميں ہم لوگ چائے وغيرہ پينے کے لئے ہوٹل ميں چلے جاتے تو يہ اس وقفہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن مجيد کی تلاوت شروع کر ديتے ۔ايک دفعہ اِسْتِفْسَار پر فرمايا: الحمدللہ عزوجل! میں روزانہ ایک منزِل کی تلاوت کرتا ہوں (قراٰنِ پاک کی سات منزِلیں ہیں اس طرح آپ سات دن ميں قرآنِ مجيد ختم کر لیا کرتے تھے) زبان کا قُفْلِ مدینہ بَہُت مضبوط تھا، خود گفتگو شروع کرنے کے بجائے اکثر سامنے والے کے آغازِ کلام کے مُنْتَظِرْ رہتے تھے۔ کبھی قَہْقَہَہ لگاتے نہیں دیکھا گیا، البتہ ان کے لبوں پر مسکراہٹ ضَرور دیکھی جاتی۔ الحمدُللہ عزوجل !یہ حافظِ قرآن بھی تھے اور ان کاحفظ اتنا مضبوط تھاکہ تمام اساتذہ دورانِ سبق آیت آجانے پر انہی سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے ،ہماری نظر سے ایسا مضبوط حافظے والا حافظ کبھی نہیں گزرا ۔کبھی اساتِذہ سے غیرضَروری سوالات نہیں کئے ،جب کبھی سوال کیا تو ہر ایک اس سوال میں دلچسپی لیتا تھا اور اس سوال کو اہم ترین قرار دیتا تھا۔ ہم درجہ اسلامی بھائیوں سے کسی مسئلے پر اختلاف ِ رائے ہونے کی صورت میں اپنے مؤقف کو پُر اعتماد طریقے سے بیان ضرور کرتے تھے لیکن کسی کی تَحْقِیْر یا تَجْہِیْل ہرگز نہیں فرماتے تھے۔ دورانِ طالبُ العلمی جب پِیریڈ خالی ہوتا قرآن مجید کی تلاوت شروع فرمادیتے ان کے ہم درجہ اسلامی بھائیوں نے ان سے متأثرہوکر ان سے تجوید وقراء ت کے اصولوں کے مطابق قرآن پاک پڑھنا شروع کردیا کیونکہ یہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھّے قاری بھی تھے۔انہی میں سے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ شام کے وقت تدریس بھی کرتا تھا۔ جب کبھی بھی میں نے ان سے کسی سبق کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے کبھی بیزاری کا اظہار نہیں کیا بلکہ بہت شوق اور لگن سے میرے سُوالات کے جوابات دئيے ۔ان کے کردار کی بلندی کی بناء پر ہمارا ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے ولی تھے۔"
تقریباً چار ہزار فتاویٰ لکھے:
مفتئ دعوتِ اسلامی حافظ محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فتویٰ نویسی کی تربیت جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر(بابُ الاسلام سندھ) سے لی اور ۱۵ شعبان، ۱۴۲۱ھ بمطابق13 نومبر 2001ء کو پہلا فتویٰ لکھا۔ پہلے پہل تقریباً ایک سال دارُ الافتاء اہلسنت "جامع مسجد کنزُ الایمان" بابری چوک (گرومندر) باب المدینہ (کراچی) میں رہے، اور تقریباً 500 فتاویٰ لکھے۔ اس کے بعد تقریباً تین سال دار الافتاء نور العرفان "جامع مسجد سید معصوم شاہ بخاری علیہ رحمۃ اللہ الباری" نزد پولیس چوکی، کھارادر،باب المدینہ (کراچی) میں رہے اور تقریباً 2000 فتاویٰ لکھے۔ پھر تقریباً ۱۱ماہ ، مکتب مجلسِ افتاء (عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ بابُ المدینہ) میں رہے، یہاں آپ کے فتاوٰی کی تعداد 1500 ہے۔ اس طرح آپ کے فتاوٰی کی تعداد تقریباً 4000 ہے ۔اس کے علاوہ تفسیرِ جلالین کاتقریباً 1200صفحات پر مشتمل عربی حاشیہ بھی لکھا اور تفسیرِ قرآن""صِراطُ الجنان "" کے چھ پاروں پر بھی کام مکمل کرچکے تھے۔
مُفْتِئ دعوتِ اسلامی علیہ رحمۃ اللّہ الغنی کی رحلت:
۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ مغرب تقریباً 8:00 بجے بابُ المدینہ کراچی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی
ولادت اور اِبتِدائی تعلیم:
مفتئ دعوتِ اسلامی الحافظ القاری محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کی وِلادت 26 اگست 1976ء ماہِ رمضان المبارک میں لاڑکانہ (جس کا نام امیرِ اہل سنت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی نے آپ کی وفات کے بعد " فاروق نگر " رکھ دیا ہے) میں ہوئی۔ اسکول سے واپَسی پر والدہ کو قرآنِ پاک سنایا کرتے تھے۔ ابتدائی تعلیم وحفظ دار العلوم احسن البرکات ( حیدر آباد سندھ) سے کیا ۔ فاروق نگر (لاڑکانہ) سے حیدر آباد اور پھر 1989ء میں بابُ المدینہ (کراچی) منتقل ہو گئے۔
دعوتِ اسلامی سے کس طرح مُتأثِّر ہوئے:
مفتئ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی کے بارے میں خود کچھ اس طرح سے بتایا تھا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ سنّتوں بھرے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی تو وہاں کی جانے والی اِختِتامی رقّت انگیز دُعاء سن کربَہُت مُتَأ ثِّر ہوا بس اس دعا کا انداز پسند آگیا ۔ اس کے بعد دعوتِ اسلامی کی منزلیں طے ہوتی چلی گئیں، الحمدللہ عزوجل۔
عہدِ طالب علمی کا کردار:
باب المدینہ کراچی میں دعوتِ اسلا می کے جامعۃ المدینہ میں 1995ء میں داخلہ لیا ۔ آپ اپنی عادات واطوار میں دیگر طَلَبَہ سے ممتاز حیثیت کے حامِل تھے ۔ آپ کے ساتھ پڑھنے والے مدنی علماء کا بیان ہے کہ " دورانِ طالب العلمی جب پڑھائی کے درميانی وقفہ ميں ہم لوگ چائے وغيرہ پينے کے لئے ہوٹل ميں چلے جاتے تو يہ اس وقفہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن مجيد کی تلاوت شروع کر ديتے ۔ايک دفعہ اِسْتِفْسَار پر فرمايا: الحمدللہ عزوجل! میں روزانہ ایک منزِل کی تلاوت کرتا ہوں (قراٰنِ پاک کی سات منزِلیں ہیں اس طرح آپ سات دن ميں قرآنِ مجيد ختم کر لیا کرتے تھے) زبان کا قُفْلِ مدینہ بَہُت مضبوط تھا، خود گفتگو شروع کرنے کے بجائے اکثر سامنے والے کے آغازِ کلام کے مُنْتَظِرْ رہتے تھے۔ کبھی قَہْقَہَہ لگاتے نہیں دیکھا گیا، البتہ ان کے لبوں پر مسکراہٹ ضَرور دیکھی جاتی۔ الحمدُللہ عزوجل !یہ حافظِ قرآن بھی تھے اور ان کاحفظ اتنا مضبوط تھاکہ تمام اساتذہ دورانِ سبق آیت آجانے پر انہی سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے ،ہماری نظر سے ایسا مضبوط حافظے والا حافظ کبھی نہیں گزرا ۔کبھی اساتِذہ سے غیرضَروری سوالات نہیں کئے ،جب کبھی سوال کیا تو ہر ایک اس سوال میں دلچسپی لیتا تھا اور اس سوال کو اہم ترین قرار دیتا تھا۔ ہم درجہ اسلامی بھائیوں سے کسی مسئلے پر اختلاف ِ رائے ہونے کی صورت میں اپنے مؤقف کو پُر اعتماد طریقے سے بیان ضرور کرتے تھے لیکن کسی کی تَحْقِیْر یا تَجْہِیْل ہرگز نہیں فرماتے تھے۔ دورانِ طالبُ العلمی جب پِیریڈ خالی ہوتا قرآن مجید کی تلاوت شروع فرمادیتے ان کے ہم درجہ اسلامی بھائیوں نے ان سے متأثرہوکر ان سے تجوید وقراء ت کے اصولوں کے مطابق قرآن پاک پڑھنا شروع کردیا کیونکہ یہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھّے قاری بھی تھے۔انہی میں سے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ شام کے وقت تدریس بھی کرتا تھا۔ جب کبھی بھی میں نے ان سے کسی سبق کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے کبھی بیزاری کا اظہار نہیں کیا بلکہ بہت شوق اور لگن سے میرے سُوالات کے جوابات دئيے ۔ان کے کردار کی بلندی کی بناء پر ہمارا ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے ولی تھے۔"
تقریباً چار ہزار فتاویٰ لکھے:
مفتئ دعوتِ اسلامی حافظ محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فتویٰ نویسی کی تربیت جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر(بابُ الاسلام سندھ) سے لی اور ۱۵ شعبان، ۱۴۲۱ھ بمطابق13 نومبر 2001ء کو پہلا فتویٰ لکھا۔ پہلے پہل تقریباً ایک سال دارُ الافتاء اہلسنت "جامع مسجد کنزُ الایمان" بابری چوک (گرومندر) باب المدینہ (کراچی) میں رہے، اور تقریباً 500 فتاویٰ لکھے۔ اس کے بعد تقریباً تین سال دار الافتاء نور العرفان "جامع مسجد سید معصوم شاہ بخاری علیہ رحمۃ اللہ الباری" نزد پولیس چوکی، کھارادر،باب المدینہ (کراچی) میں رہے اور تقریباً 2000 فتاویٰ لکھے۔ پھر تقریباً ۱۱ماہ ، مکتب مجلسِ افتاء (عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ بابُ المدینہ) میں رہے، یہاں آپ کے فتاوٰی کی تعداد 1500 ہے۔ اس طرح آپ کے فتاوٰی کی تعداد تقریباً 4000 ہے ۔اس کے علاوہ تفسیرِ جلالین کاتقریباً 1200صفحات پر مشتمل عربی حاشیہ بھی لکھا اور تفسیرِ قرآن""صِراطُ الجنان "" کے چھ پاروں پر بھی کام مکمل کرچکے تھے۔
مُفْتِئ دعوتِ اسلامی علیہ رحمۃ اللّہ الغنی کی رحلت:
۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ مغرب تقریباً 8:00 بجے بابُ المدینہ کراچی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی
❤1
مُفْتِئ دعوتِ اسلامی علیہ رحمۃ اللّہ الغنی کی رحلت:
۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ مغرب تقریباً 8:00بجے بابُ المدینہ کراچی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مُفْتِئ دعوتِ اِسلامی اَلحافِظ اَلقاری اَلحاج حضرتِ علامہ مولانا محمد فاروق العطاری المدنی اِنْتِقَال فرما گئے ہیں ۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) ـ
وفات کی کیفیات:
یہ خبر ملنے کی دیر تھی کہ کثیر تعداد میں اسلامی بھائی آپ کے گھر (واقع گلشن ِ اِقبال بابُ المدینہ کراچی) کے باہر جمع ہو گئے۔ ہر اسلامی بھائی تصویرِغم بنا اپنی آنکھوں میں اَشکوں کے موتی لئے نظر آرہا تھا ۔ کثیر اسلامی بھائیوں نے قطار میں لگ کر آپ کے چہرۂ مبارک کی زِیارت کی۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے ایک رُکْن نے آپ کے اِنْتِقَال کی تفصیلات کچھ اس طرح سے بتائیں کہ" نمازِ جُمُعَہ کی ادائیگی کے بعد مفتئ دعوتِ اسلامی الحاج محمد فاروق العطّاری المَدَنی (علیہ رحمۃ اللہ الغنی) نے کھانا تناول فرمایا ۔ اس کے بعد کچھ دیر گھر والوں سے مَحْوِ گفتگو رہے پھر دینی کُتُب کے مُطَالَعَہ میں مصروف ہوگئے ۔ ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ وہ آرام کرنے کے لئے اپنے گھر کی نچلی منزل میں آگئے اور گھر والوں کو تاکید کردی کہ انہیں نمازِ عصرکے لئے جگا دیا جائے ۔ نماز کا وَقْتْ ہونے پر ان کی والدہ مُحتَرمَہ نے انہیں پُکارا مگران کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ خود نیچے تشریف لائیں اور دیکھا کہ مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ بے حِس و حرکت پڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے فوراً ان کے بڑے بھائی کو فون کیا ۔ وہ فوراً گھر پہنچے اور مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ کو لے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے آپ علیہ الرحمۃ کا طِبّی معائنہ کیا اور بتایا کہ یہ توحرکتِ قَلْب بند ہونے کی وجہ سے تقریباً دوگھنٹے پہلے ہی داعئ اجل کو لَبَّیْک کہہ چکے ہیں ۔"
تختۂ غُسل پر مُسکراہٹ:
رات تقریباً 10:00 بجے مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو غُسل دیا گیا ۔ آپ کو غُسل دینے والے اسلامی بھائیوں کا بیان ہے کہ ہم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا کہ مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دورانِ غسل مسکرا رہے تھے ۔ اس کی گواہی وہاں پر موجود دیگر اسلامی بھائیوں نے بھی دی ہے ۔
گویا کہ آپ سَیِّدُنَا شیخ سعدی رحمۃ اللہ
تعالیٰ علیہ کے اس شعر کے مصداق تھے:
یادداری کہ وقتِ زادن تو
ہمہ خَنداں بدند توگِریاں
آنچناں زی کہ وقت مُردن تو
ہَمہ گِریاں شَوند توخَنداں
یعنی یاد رکھ! جب دنیا میں آیا تھا تو تُو رو رہا تھا اور لوگ مسکرا رہے تھے ،
اس طرح کی زندگی بسر کر کہ تیری موت کے وقت لوگ رو رہے ہوں اور تُو مسکرا رہا ہو۔
(شجرۂ عطاریہ، ص۳۰مکتبۃ المدینہ)
نعت خوانی کے دوران ہونٹوں کی جُنبِش
غسل دئيے جانے کے بعد اسلامی بھائیوں نے مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گرد جمع ہو کر نعت خوانی شروع کر دی ۔ تخَصُّصْ فِی الْفِقْہ (مفتی کورس) کے سالِ دُوُم کے ایک طالبُ العِلْم کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ نعت خوانی کے دوران استاذِ محترم مفتئ دعوتِ اسلامی الحاج مولانا محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے لب ہائے مبارَکہ بھی جُنبِش کررہے تھے ۔
رات تقریباً 1:00 بجے آپ کے جَسَدِ مبارک کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی لایا گیا ۔ جہاں اسلامی بھائیوں نے آپ کے اردگرد جمع ہوکر نعت خوانی کی ، تلاوتِ قرآن اور ذکرودُرود کا بھی سِلْسِلَہ رہا ۔
ہونٹ ہلنے لگے:
جَامِعَۃُ المدینہ فیضان مدینہ بابُ المدینہ کے ایک طالب علم کا بیان ہے کہ " الحمداللہ عزوجل! جب رات کے وقت مفتئ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا جسدِمبارک اسلامی بھائیوں کو زِیارت کروانےکے لئے ان کے گھر سے فیضان مدینہ لایا گیا تو اس دوران نعت خوانی جاری تھی اور زائرین زِیارت سے مُسْتَفِیْض ہو رہے تھے ، جب نعت خواں اسلامی بھائی نے " کعبے کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروڑوں دُرُود " پڑھنا شروع کیا تو اس دوران میں مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بہت قریب تھا اوربغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل ان کے چہرۂ مبارَک کی زِیارت کئے جارہا تھا۔ اچانک ایک شعر پر مجھے مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کے ہونٹوں کی جُنْبِش محسوس ہوئی لیکن میں نے اسے محض اپنا گمان سمجھا کہ ہوسکتا ہے یہ میری نظر کی خطاہو لیکن بعد میں اسی طرح ہونٹوں کے ہلنے کے بارے میں ایک اور اسلامی بھائی نے بھی بتایا ، اس کے علاوہ بھی کم از کم دو اسلامی بھائیوں نے اس کی تصدیق کی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-farooq-attari
۱۸محرم الحرام ۱۴۲۷ھ بمطابق 17 فروری 2006ء جُمُعَہ کو بعد نَمازِ مغرب تقریباً 8:00بجے بابُ المدینہ کراچی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مُفْتِئ دعوتِ اِسلامی اَلحافِظ اَلقاری اَلحاج حضرتِ علامہ مولانا محمد فاروق العطاری المدنی اِنْتِقَال فرما گئے ہیں ۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) ـ
وفات کی کیفیات:
یہ خبر ملنے کی دیر تھی کہ کثیر تعداد میں اسلامی بھائی آپ کے گھر (واقع گلشن ِ اِقبال بابُ المدینہ کراچی) کے باہر جمع ہو گئے۔ ہر اسلامی بھائی تصویرِغم بنا اپنی آنکھوں میں اَشکوں کے موتی لئے نظر آرہا تھا ۔ کثیر اسلامی بھائیوں نے قطار میں لگ کر آپ کے چہرۂ مبارک کی زِیارت کی۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے ایک رُکْن نے آپ کے اِنْتِقَال کی تفصیلات کچھ اس طرح سے بتائیں کہ" نمازِ جُمُعَہ کی ادائیگی کے بعد مفتئ دعوتِ اسلامی الحاج محمد فاروق العطّاری المَدَنی (علیہ رحمۃ اللہ الغنی) نے کھانا تناول فرمایا ۔ اس کے بعد کچھ دیر گھر والوں سے مَحْوِ گفتگو رہے پھر دینی کُتُب کے مُطَالَعَہ میں مصروف ہوگئے ۔ ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ وہ آرام کرنے کے لئے اپنے گھر کی نچلی منزل میں آگئے اور گھر والوں کو تاکید کردی کہ انہیں نمازِ عصرکے لئے جگا دیا جائے ۔ نماز کا وَقْتْ ہونے پر ان کی والدہ مُحتَرمَہ نے انہیں پُکارا مگران کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ خود نیچے تشریف لائیں اور دیکھا کہ مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ بے حِس و حرکت پڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے فوراً ان کے بڑے بھائی کو فون کیا ۔ وہ فوراً گھر پہنچے اور مفتئ دعوتِ اسلامی علیہ الرحمۃ کو لے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے ۔ وہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے آپ علیہ الرحمۃ کا طِبّی معائنہ کیا اور بتایا کہ یہ توحرکتِ قَلْب بند ہونے کی وجہ سے تقریباً دوگھنٹے پہلے ہی داعئ اجل کو لَبَّیْک کہہ چکے ہیں ۔"
تختۂ غُسل پر مُسکراہٹ:
رات تقریباً 10:00 بجے مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو غُسل دیا گیا ۔ آپ کو غُسل دینے والے اسلامی بھائیوں کا بیان ہے کہ ہم نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا کہ مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دورانِ غسل مسکرا رہے تھے ۔ اس کی گواہی وہاں پر موجود دیگر اسلامی بھائیوں نے بھی دی ہے ۔
گویا کہ آپ سَیِّدُنَا شیخ سعدی رحمۃ اللہ
تعالیٰ علیہ کے اس شعر کے مصداق تھے:
یادداری کہ وقتِ زادن تو
ہمہ خَنداں بدند توگِریاں
آنچناں زی کہ وقت مُردن تو
ہَمہ گِریاں شَوند توخَنداں
یعنی یاد رکھ! جب دنیا میں آیا تھا تو تُو رو رہا تھا اور لوگ مسکرا رہے تھے ،
اس طرح کی زندگی بسر کر کہ تیری موت کے وقت لوگ رو رہے ہوں اور تُو مسکرا رہا ہو۔
(شجرۂ عطاریہ، ص۳۰مکتبۃ المدینہ)
نعت خوانی کے دوران ہونٹوں کی جُنبِش
غسل دئيے جانے کے بعد اسلامی بھائیوں نے مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گرد جمع ہو کر نعت خوانی شروع کر دی ۔ تخَصُّصْ فِی الْفِقْہ (مفتی کورس) کے سالِ دُوُم کے ایک طالبُ العِلْم کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ نعت خوانی کے دوران استاذِ محترم مفتئ دعوتِ اسلامی الحاج مولانا محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے لب ہائے مبارَکہ بھی جُنبِش کررہے تھے ۔
رات تقریباً 1:00 بجے آپ کے جَسَدِ مبارک کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی لایا گیا ۔ جہاں اسلامی بھائیوں نے آپ کے اردگرد جمع ہوکر نعت خوانی کی ، تلاوتِ قرآن اور ذکرودُرود کا بھی سِلْسِلَہ رہا ۔
ہونٹ ہلنے لگے:
جَامِعَۃُ المدینہ فیضان مدینہ بابُ المدینہ کے ایک طالب علم کا بیان ہے کہ " الحمداللہ عزوجل! جب رات کے وقت مفتئ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کا جسدِمبارک اسلامی بھائیوں کو زِیارت کروانےکے لئے ان کے گھر سے فیضان مدینہ لایا گیا تو اس دوران نعت خوانی جاری تھی اور زائرین زِیارت سے مُسْتَفِیْض ہو رہے تھے ، جب نعت خواں اسلامی بھائی نے " کعبے کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروڑوں دُرُود " پڑھنا شروع کیا تو اس دوران میں مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بہت قریب تھا اوربغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل ان کے چہرۂ مبارَک کی زِیارت کئے جارہا تھا۔ اچانک ایک شعر پر مجھے مفتی صاحب علیہ الرحمۃ کے ہونٹوں کی جُنْبِش محسوس ہوئی لیکن میں نے اسے محض اپنا گمان سمجھا کہ ہوسکتا ہے یہ میری نظر کی خطاہو لیکن بعد میں اسی طرح ہونٹوں کے ہلنے کے بارے میں ایک اور اسلامی بھائی نے بھی بتایا ، اس کے علاوہ بھی کم از کم دو اسلامی بھائیوں نے اس کی تصدیق کی۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-farooq-attari
scholars.pk
Mufti Farooq Attari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
خدا در انتظار حمد مانیست
محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست
محمد ﷺ حامد حمد خدا بس
خدا مداح شان مصطفی بس
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔
والد کا اسمِ گرامی:
مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا جامی موضع خرجرد علاقہ جام ، " ہرات" میں 23 شعبان 817ھ مطابق 2 نومبر 1414ء کو پیدا ہوئے ۔
بیعت:
حضرت خواجہ عبید اللہ احرار علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ذوق لطیف کے مالک تھے ۔ فرماتے تھے کہ خامکار لوگ ہوا و ہوس کا نام عشق رکھ لیتے ہیں۔ ایسوں کا عشقِ حقیقی کے کوچے میں گزر نہیں۔سچا عاشق وہ ہے جس کے دل میں سوز و گداز ہو اور نفسانی خواہشات اور راحت و آرام سے کنارہ کش ہو اور آپ کے دل میں عشق حقیقی صحیح طور پر موجود تھا۔آپ صحیح معنوں میں درویش تھے اور تواضع ’فروتنی’ ترک ریا’نفس کشی اور خلوص عقیدت آپ کے حرکات و سکنات اور قول و فعل سے نمایاں تھا ـ
آپ شریعت کے احکام کی بجا آوری میں اکمل تھے اور ان فضائل و اصاف سے آراستہ تھے’ جو مشائخ صوفیہ کے لیے اپنے پیروؤں کو تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے’ مگر آپ میں ظاہر داری اور نمود و ریا کی آلائش بالکل نہیں تھی۔ آپ کے پاس جو آکر بیٹھتا’ آپ اس کے ساتھ برابر بیٹھے رہتے اور نہ اٹھتے جب تک وہ خود نہ اٹھ جاتا۔ طویل نشست سے آپ بیمار بھی ہوگئے مگر اپنی اس شریفانہ عادت کو ترک نہ فرمایا ۔
آپ کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ سب سے نیچے بیٹھیں’ اور ممکن ہوتا تو دہلیز پر بیٹھتے اور کم درجے کے آدمیوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوجاتے۔ زیادہ رغبت آپ کو بے تکلف کھانوں کی تھی ۔
آپ کی عادت زیادہ بولنےکی نہ تھی ۔ حاضرین سے کہتے کہ دوستو! کوئی بات کرو۔میرے پاس تو کرنے کو کوئی بات نہیں۔ مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ ضعیفوں کے دستگیر اور مظلموں کے مددگار تھے اگر واقعی کسی کو محتاج کو پاتے تو خفیہ طور سے اس کی مدد کرتے ۔ آپ نے شہر ہرات میں ایک مدرسہ، خیابان میں مدرسہ اور خانقاہ ،اور "جام" میں مسجد تعمیر کی اور کئی املاک مدرسہ خیابان پر وقف کیے ۔
آپ یہ کہنا اخلاص سے بعید جانتے تھے کہ میں نے یہ کام فی سبیل اللہ کیا ہے۔ آپ بڑے لوگوں اور بالخصوص بادشاہوں کی خوشامد اور چاپلوسی سے متنفر تھے، بلکہ انہیں ہمیشہ نیکو کار رہنے کی تلقین بذریعہ مکتوبات کرتے رہتے تھے چنانچہ ایک خط میں بادشاہ وقت کی مخاطت کر کے لکھتے ہیں کہ:
اے بادشاہ! تو جس تاج و تخت کا دلدادہ ہے وہ ناپائدار ہے۔ یہ زندگی فنا ہونے والی ہے ۔ نہ یہ زمانہ رہے گانہ یہ زمین جہاں تک ہوسکے دنیا میں نیکی کرلے ’کیونکہ یہی کام آنے والی شے ہے ۔
وصال:
مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ اس دنیائے فانی میں 81 برس گزار کر 18 محرم 898 ھ ، بمطابق 14 نومبر 1492ءکو بروز جمعہ وقت اذان راہی عالم بقا ہوئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار ہرات افغانستان میں ہے ۔
ماخذ و مراجع: مقدمہ نفحات الانس ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdur-rehman-jami
scholars.pk
Hazrat Abdur Rehman Jami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
مولانا عبد الرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ خدا در انتظار حمد مانیست محمد ﷺ چشم برراہ ثنا نیست محمد ﷺ حامد حمد خدا بس خدا مداح شان مصطفی بس نام و نسب: اسمِ گرامی: عبدالرحمن ۔ لقب: جامی ۔ والد کا اسمِ گرامی: مولانا نظام الدین احمد دشتی بن شمس الدین محمد ۔ تاریخِ…
عاشق رسول حضرت نور الدین عبد الرحمٰن جامی - علامہ عبد الرحمٰن جامی ـ علامہ جامی ـ رحمۃ الله تعالیٰ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37024
یوم وصال: 18 محرم الحرام 898ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55894
https://t.me/islaamic_Knowledge/37024
یوم وصال: 18 محرم الحرام 898ھ
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55894
❤1
شہزادۂ امام حسین، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔
آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی:
شہر بانو بنت یزگرد ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ بروز جمعرات 5 شعبان المعظم 38ھ، بمطابق جنوری / 659ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ اپنے جد امجد حضرت امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کے آغوش میں تربیت پائی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے تو فرماتے" مرحبا یا حبیب ابن الحبیب" ۔
سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہیں پایا ۔ (طبقات الحفاظ) ـ
امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کہ یہ اہل فضل میں سے تھے، ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحیح اور افضل ترین وہ تمام اسانید ہیں جوزہری رضی اللہ عنہ نے اِن سے، اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے، اور اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں ۔ ( طبقات الحفّاظ ) ـ
اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ تابعین سے تھے، ثِقہ، مامون ،کثیر الحدیث، عالی قدر، رفیع منزلت، پرہیز گار، عابِد اور خائف من اللہ تھے ۔ ( طبقات ابن سعد ) ـ
ابو الائمہ اور سید التابعین تھے، واقعہ کر بلا میں موجود تھے، لیکن بوجہ علالت شریکِ قتال نہ ہو سکے، دنیا کی لذتوں کو ترک کیا ہوا تھا ۔ واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے آنسؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی ۔ جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہو جاتا، اور جسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھتے ۔ (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کا ایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے ۔
وصال:
آپ کا وصال 18 محرم الحرام 94ھ، بمطابق اکتوبر 712ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوا ۔
مزار شریف:
جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی الہ عنہ کے پہلومیں دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
الصواعق المحرقہ ۔ شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-zain-ul-abideen
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔
سلسلۂ نسب:
حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔
آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی:
شہر بانو بنت یزگرد ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ بروز جمعرات 5 شعبان المعظم 38ھ، بمطابق جنوری / 659ء کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ اپنے جد امجد حضرت امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کے آغوش میں تربیت پائی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے تو فرماتے" مرحبا یا حبیب ابن الحبیب" ۔
سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہیں پایا ۔ (طبقات الحفاظ) ـ
امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
کہ یہ اہل فضل میں سے تھے، ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحیح اور افضل ترین وہ تمام اسانید ہیں جوزہری رضی اللہ عنہ نے اِن سے، اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے، اور اُنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں ۔ ( طبقات الحفّاظ ) ـ
اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ تابعین سے تھے، ثِقہ، مامون ،کثیر الحدیث، عالی قدر، رفیع منزلت، پرہیز گار، عابِد اور خائف من اللہ تھے ۔ ( طبقات ابن سعد ) ـ
ابو الائمہ اور سید التابعین تھے، واقعہ کر بلا میں موجود تھے، لیکن بوجہ علالت شریکِ قتال نہ ہو سکے، دنیا کی لذتوں کو ترک کیا ہوا تھا ۔ واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی، آنکھوں سے آنسؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی ۔ جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہو جاتا، اور جسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز پڑھتے ۔ (اس لئے سجاد لقب ہوا) دِن کو روزہ رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان (روٹی کا ایک ٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے ۔
وصال:
آپ کا وصال 18 محرم الحرام 94ھ، بمطابق اکتوبر 712ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوا ۔
مزار شریف:
جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی الہ عنہ کے پہلومیں دفن ہوئے ۔
ماخذ و مراجع:
الصواعق المحرقہ ۔ شریف التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-zain-ul-abideen
scholars.pk
Muslim Scholar Hazrat Imam Zain-ul-Abideen,The Fourth Imam, Books , Qoutes, Sayi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
Ziaetaiba please to share the true history of Muslim Scholar Hazrat Imam Zain-ul-Abideen History, Books, Hadees, Family Tree, Photoes, Date of Birth
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شہزادۂ امام حسین، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نام و نسب: اسمِ گرامی: سید علی ۔ کنیت: ابو محمد، ابو الحسن ۔ لقب: سجاد، سید الساجدین، زَین العابدین، امین ۔ سلسلۂ نسب: حضرت امام علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر…
شہزادۂ امام حسین رضی اللہ عنہ ، حضرت سید سجاد سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37027
یوم وصال: 18 محرم الحرام 94ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ارشادات امام زین العابدین
پیشکش: المدینۃ العلمیہ دَ اِ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15770
حضرت سیدنا امام زین العابدین
رضی اللہ عنہ کی سیرت اور تعلیمات
✍ حضرت مفتی وسیم ضیائی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15768
امام زین العابدین کی شان میں فرزدق تمیمی کا قصیدۂ میمیہ ایک تحقیقی مطالعہ
✍ اسید الحق قادری بدایونی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15766
حضرت امام زین العابدین کی
سیرت کی کچھ مبارک جھلکیاں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15763
سیرت حضرت امام زین العابدین
تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ
✍ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15760
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55897
https://t.me/islaamic_Knowledge/37027
یوم وصال: 18 محرم الحرام 94ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ارشادات امام زین العابدین
پیشکش: المدینۃ العلمیہ دَ اِ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15770
حضرت سیدنا امام زین العابدین
رضی اللہ عنہ کی سیرت اور تعلیمات
✍ حضرت مفتی وسیم ضیائی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15768
امام زین العابدین کی شان میں فرزدق تمیمی کا قصیدۂ میمیہ ایک تحقیقی مطالعہ
✍ اسید الحق قادری بدایونی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15766
حضرت امام زین العابدین کی
سیرت کی کچھ مبارک جھلکیاں
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15763
سیرت حضرت امام زین العابدین
تذکرۂ مشائخ قادریہ برکاتیہ رضویہ
✍ مولانا عبد المجتبیٰ رضوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/15760
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55897
❤1