🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-01-1445 ᴴ | 04-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-01-1445 ᴴ | 04-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حافظ محمد عبد اللہ بھرچونڈوی علیہ الرحمہ
حالاتِ زندگی:
حافظ صاحب 1283ھ میں پیدا ہوئے، حضرت حافظ محمد صدیق بھر چونڈوی قدس سرہ کے خلیفہ اور جانشین تھے، اور رشتہ میں ان کے بھتیجے تھے سجادہ نشینی کے وقت عمر کل پچیس برس تھی، بیس سال کی عمر میں درس نظامی سے فارغ ہوئے اور پانچ سال شیخ کی خدمت میں رہ کر منازل سلوک طے کیں، اس نو عمری میں آپ کے والد ماجد کا نام قاضی اللہ بخش تھا، حضرت حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ کے چھوٹے بھائی تھے آپ نے تجرد کی زندگی اختیارکی تھی اس لیے بھائی کی اولاد کو بِالکل اپنی اولاد کی طرح جانا، حافظ صاحب قدس سرہ نے اپنے اس ہونہار بھتیجے کو اپنے ایک مرید مولوی محمد اسحاق کے پاس کوٹ سبزل میں بٹھا دیا، کوٹ سبزل بھر چونڈی سے کوئی پچیس میل کے فاصلہ پر حدود بہاولپور میں ہے، جب چھٹیاں ہوتیں تو حافظ محمد عبد اللہ صاحب پاپیادہ بھر چونڈی آتے تھے، فاصلہ زیادہ تھا اس لیے آپ کو ایک گھوڑی خرید دی گئی، حضرت حافظ صاحب قدس سرہ کو جب پتہ چلا تو گھوڑی فروخت کر کے اس کی قیمت فقراء میں خیرات کر دی اور فرمایا ہمارے فقراء نان شبینہ تک کو ترستے ہیں اور تم صاحبزادگی کے مزے لوٹتے ہو۔
حضرت حافظ صاحب نے بذات خود اہتمام کر کے آپ کی شادی ایک نیک گھر انے میں کرائی سسرال پوری حفاظ کرام کی تھی، بہو بھی قرآن کریم کی حافظہ تھی، اس قران السعدین سے حضرت خواجہ عبد الرحمٰن بھر چونڈوی جیسی عارف باللہ شخصیت پیدا ہو تو کیا تعجب کی بات ہے؟
ایں سلسلہ از طلائے ناب است
این خانہ تمام آفتاب است
کہتے ہیں کہ آپ جب ذکر الٰہی کرتے تو انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آتے ، آپ کی بزم میں آہ فغاں سے حشر کا ساسماں بندھ جاتا تھا۔
گریہ وزاری عجب سرمایہ است
تابہ شہر دل قوی ترپایہ است
جب آپ نماز ادا فرمانے کے لیے باہر تشریف لاتے تو کئی آدمی بے ہوش ہوجاتے اور جن زبانوں پر کبھی نام خدا نہیں آیا تھا ان کی زبان بے اختیار ذکر الٰہی سے ترہوجاتی تھی آپ نے اپنی پوری جماعت کے دلوں کو عشق الٰہی کی سوزش سے بہرہ ور کرایا تھا، مسجد کے ہر گوشہ سے سسکیوں کی آوازیں اٹھتی تھیں اور محراب دل سے ٹکراتی رہتی تھیں، خلوت نیم شبی میں یا تو قرآن کے پڑھنے کی سحرانگیز آوازیں آتی تھیں یا پھر نالہ ہائے ، ہائے ہو،نماز عصر کے بعد اور تہجد کے بعد سندھ کے باکمال شاعروں کی کافیاں پڑھی جاتی تھیں، فقیر فتح محمد نہایت سوزو گداز کے ساتھ پڑھتا تھا،
حضرت کے پسندیدہ شعراء یہ تھے،
حضرت سچل سرمست
فقیر خیر محمد دریا خان
مخدوم محمد اشرف سجادہ نشین کا مارد
عبداللطیف بھٹائی
بلھے شاہ صاحب
مولانا جامی
امیر خسر و
مولانا روم
شیرازی
شمس تبریزی
لال شہباز قلندر
اشعار اور کافیاں سنتے وقت رقص و وجد کی کیفیات تو آپ پر طاری نہ ہوتی تھیں، لیکن آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں، آنسو ڈھلک آتے تھے، مگر فقراء ذکر کرتے کرتے بے ہوش ہوجاتے، ایک فقیر اپنے گھر میں بیٹھا ذکر کر رہا تھا عین ذکر میں سمجھیں کہ اس پر آسیب آگیا ہے، کہنے لگیں، کلمہ پڑھو، فقیر کی بیوی گھبرا کر کہنے لگی، ہائے ہائے کلمہ کا نام نہ لو اسی کا تومارا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجد و حال سماع و سرور کا محتاج نہیں ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
ومن یک وجدہ وجدا صحیحا فلم یحتج الیٰ قول المغنی
لہ من ذاتہ طرب قدیم وسکر دائم من غیر دن
آپ انتہائی درجہ متبع شرع تھے، سماع کے سخت مخالف تھے، حتٰی کہ باورچی جو عام طور پر کفگیر و دیگ گھما مارتا ہے اس کو بھی ناپسند فرماتے اپنی جماعت کے افراد کے ساتھ خصوصی طور پر شفقت کا برتاو کرتے تھے، ایک مرتبہ کسی نے عرض کیا کہ حضور عرس شریف کی تقریب نزدیک ہے کدال اور کلہاڑیاں جمع کروالیں، عرس میں شرکت کوبہت سے مریدین آئیں گے ان سے فلاں فلاں کام کرالیں گے، آپ نے فرمایا شرم کرو طالبان مولیٰ طلب مولیٰ میں یہ سفر اختیار کرتے ہیں ذکر الٰہی کے لیے جمع ہوتے ہیں تمہاری نیت ایسی ہے؟ (عباد الرحمٰن، 104)
بر صغیر پاک و ہند کے مسلمان انگریزوں سے نفرت کرتے تھے اور ان نصاریٰ کو اپنے وطن عزیز سے بہ ہر طور نکال دینا چاہتے تھے اس سلسلہ میں مختلف طریقے اختیار کیے ہوئے تھے سر زمین سندھ میں کئی تحریکیں زوروں پر تھیں، دیوبندی حضرات نے سندھ کو دارالحرب قرار دیکر وہاں سے ہجرت کر کے جانے کو فرض قرار دیا تھا جبکہ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان اور سندھ کے جلیل القدر عالم مخدوم سید محسن علی شاہ صاحب ساکن ٹھٹھہ نے سندھ کو دارالاسلام قرار دیا تھا، اسی بناء پر حضرت عبداللہ بھر چونڈوی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خانقاہ سے ہی انگریز کے خلاف جہاد کریں گے اور وطن کو نہیں چھوڑیں گے درحقیقت جن لوگوں نے سندھ وغیرہ کو دارالحرب قرار دیا وہ ہندوؤں کے دھوکہ اور مکر کا شکار ہوگئے، یہ کتنی عجیب بات تھی کہ سندھ کو خوددار الحرب قرار دیکر اس پر سے مسلمانوں کا حق ختم کر دیا جائے ۔
حالاتِ زندگی:
حافظ صاحب 1283ھ میں پیدا ہوئے، حضرت حافظ محمد صدیق بھر چونڈوی قدس سرہ کے خلیفہ اور جانشین تھے، اور رشتہ میں ان کے بھتیجے تھے سجادہ نشینی کے وقت عمر کل پچیس برس تھی، بیس سال کی عمر میں درس نظامی سے فارغ ہوئے اور پانچ سال شیخ کی خدمت میں رہ کر منازل سلوک طے کیں، اس نو عمری میں آپ کے والد ماجد کا نام قاضی اللہ بخش تھا، حضرت حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ کے چھوٹے بھائی تھے آپ نے تجرد کی زندگی اختیارکی تھی اس لیے بھائی کی اولاد کو بِالکل اپنی اولاد کی طرح جانا، حافظ صاحب قدس سرہ نے اپنے اس ہونہار بھتیجے کو اپنے ایک مرید مولوی محمد اسحاق کے پاس کوٹ سبزل میں بٹھا دیا، کوٹ سبزل بھر چونڈی سے کوئی پچیس میل کے فاصلہ پر حدود بہاولپور میں ہے، جب چھٹیاں ہوتیں تو حافظ محمد عبد اللہ صاحب پاپیادہ بھر چونڈی آتے تھے، فاصلہ زیادہ تھا اس لیے آپ کو ایک گھوڑی خرید دی گئی، حضرت حافظ صاحب قدس سرہ کو جب پتہ چلا تو گھوڑی فروخت کر کے اس کی قیمت فقراء میں خیرات کر دی اور فرمایا ہمارے فقراء نان شبینہ تک کو ترستے ہیں اور تم صاحبزادگی کے مزے لوٹتے ہو۔
حضرت حافظ صاحب نے بذات خود اہتمام کر کے آپ کی شادی ایک نیک گھر انے میں کرائی سسرال پوری حفاظ کرام کی تھی، بہو بھی قرآن کریم کی حافظہ تھی، اس قران السعدین سے حضرت خواجہ عبد الرحمٰن بھر چونڈوی جیسی عارف باللہ شخصیت پیدا ہو تو کیا تعجب کی بات ہے؟
ایں سلسلہ از طلائے ناب است
این خانہ تمام آفتاب است
کہتے ہیں کہ آپ جب ذکر الٰہی کرتے تو انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آتے ، آپ کی بزم میں آہ فغاں سے حشر کا ساسماں بندھ جاتا تھا۔
گریہ وزاری عجب سرمایہ است
تابہ شہر دل قوی ترپایہ است
جب آپ نماز ادا فرمانے کے لیے باہر تشریف لاتے تو کئی آدمی بے ہوش ہوجاتے اور جن زبانوں پر کبھی نام خدا نہیں آیا تھا ان کی زبان بے اختیار ذکر الٰہی سے ترہوجاتی تھی آپ نے اپنی پوری جماعت کے دلوں کو عشق الٰہی کی سوزش سے بہرہ ور کرایا تھا، مسجد کے ہر گوشہ سے سسکیوں کی آوازیں اٹھتی تھیں اور محراب دل سے ٹکراتی رہتی تھیں، خلوت نیم شبی میں یا تو قرآن کے پڑھنے کی سحرانگیز آوازیں آتی تھیں یا پھر نالہ ہائے ، ہائے ہو،نماز عصر کے بعد اور تہجد کے بعد سندھ کے باکمال شاعروں کی کافیاں پڑھی جاتی تھیں، فقیر فتح محمد نہایت سوزو گداز کے ساتھ پڑھتا تھا،
حضرت کے پسندیدہ شعراء یہ تھے،
حضرت سچل سرمست
فقیر خیر محمد دریا خان
مخدوم محمد اشرف سجادہ نشین کا مارد
عبداللطیف بھٹائی
بلھے شاہ صاحب
مولانا جامی
امیر خسر و
مولانا روم
شیرازی
شمس تبریزی
لال شہباز قلندر
اشعار اور کافیاں سنتے وقت رقص و وجد کی کیفیات تو آپ پر طاری نہ ہوتی تھیں، لیکن آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں، آنسو ڈھلک آتے تھے، مگر فقراء ذکر کرتے کرتے بے ہوش ہوجاتے، ایک فقیر اپنے گھر میں بیٹھا ذکر کر رہا تھا عین ذکر میں سمجھیں کہ اس پر آسیب آگیا ہے، کہنے لگیں، کلمہ پڑھو، فقیر کی بیوی گھبرا کر کہنے لگی، ہائے ہائے کلمہ کا نام نہ لو اسی کا تومارا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وجد و حال سماع و سرور کا محتاج نہیں ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے۔
ومن یک وجدہ وجدا صحیحا فلم یحتج الیٰ قول المغنی
لہ من ذاتہ طرب قدیم وسکر دائم من غیر دن
آپ انتہائی درجہ متبع شرع تھے، سماع کے سخت مخالف تھے، حتٰی کہ باورچی جو عام طور پر کفگیر و دیگ گھما مارتا ہے اس کو بھی ناپسند فرماتے اپنی جماعت کے افراد کے ساتھ خصوصی طور پر شفقت کا برتاو کرتے تھے، ایک مرتبہ کسی نے عرض کیا کہ حضور عرس شریف کی تقریب نزدیک ہے کدال اور کلہاڑیاں جمع کروالیں، عرس میں شرکت کوبہت سے مریدین آئیں گے ان سے فلاں فلاں کام کرالیں گے، آپ نے فرمایا شرم کرو طالبان مولیٰ طلب مولیٰ میں یہ سفر اختیار کرتے ہیں ذکر الٰہی کے لیے جمع ہوتے ہیں تمہاری نیت ایسی ہے؟ (عباد الرحمٰن، 104)
بر صغیر پاک و ہند کے مسلمان انگریزوں سے نفرت کرتے تھے اور ان نصاریٰ کو اپنے وطن عزیز سے بہ ہر طور نکال دینا چاہتے تھے اس سلسلہ میں مختلف طریقے اختیار کیے ہوئے تھے سر زمین سندھ میں کئی تحریکیں زوروں پر تھیں، دیوبندی حضرات نے سندھ کو دارالحرب قرار دیکر وہاں سے ہجرت کر کے جانے کو فرض قرار دیا تھا جبکہ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان اور سندھ کے جلیل القدر عالم مخدوم سید محسن علی شاہ صاحب ساکن ٹھٹھہ نے سندھ کو دارالاسلام قرار دیا تھا، اسی بناء پر حضرت عبداللہ بھر چونڈوی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خانقاہ سے ہی انگریز کے خلاف جہاد کریں گے اور وطن کو نہیں چھوڑیں گے درحقیقت جن لوگوں نے سندھ وغیرہ کو دارالحرب قرار دیا وہ ہندوؤں کے دھوکہ اور مکر کا شکار ہوگئے، یہ کتنی عجیب بات تھی کہ سندھ کو خوددار الحرب قرار دیکر اس پر سے مسلمانوں کا حق ختم کر دیا جائے ۔
❤1
آپ وصال کے وقت حضرت امیر خسرو رحمہ اللہ کے اس شعر کو بار بار دہراتے تھے۔
شاد باش اے دل کہ فردا بر سر بازار عشق
وعدہ قتل است اگر چہ وعدہ دیدار نیست
منگل کے دن رجب کی پچیس تاریخ بوقت عشاء 1346ھ کو آپ کا وصال ہوا، مولوی احمد صاحب سجادہ نشین خان گڑھ شریف نے تاریخ وصال میں یہ مصرعہ کہا۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
وصال:
17 رمضان 1347ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-abdullah-bharchondi
شاد باش اے دل کہ فردا بر سر بازار عشق
وعدہ قتل است اگر چہ وعدہ دیدار نیست
منگل کے دن رجب کی پچیس تاریخ بوقت عشاء 1346ھ کو آپ کا وصال ہوا، مولوی احمد صاحب سجادہ نشین خان گڑھ شریف نے تاریخ وصال میں یہ مصرعہ کہا۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
وصال:
17 رمضان 1347ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-abdullah-bharchondi
scholars.pk
Hazrat Hafiz Abdullah Bharchondi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت علامہ غلام ترنّم امرتسری رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا غلام محمد ترنم امر تسری کے ایک غریب کشمیری گھرانے میں ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام عبد العزیزی تھا، آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد غربت وافلاس کی وجہ سے شال اور قالین بانی کافن سیکھا، پھر قالینوں کے ڈیزائنر ہوگئے، تحصیل علم کی وجہ سے اپنے استاذ حکیم فریزو الدین فیروز طفرائی کی خدمت میں پہونچا دیا، حکیم طغرائی کی توجہ سے منشی فاضل، ادیب فاضل کےامتحان میں کامیاب ہوئے، عربی کی ابتدائی کتابیں پروفیسر مولانا عبد الرحیم سے مطالعہ کیں، فقہ کی تحصیل فقیہہ عصر مولانا لمشی عبدالصمد خاں کشمیری مرحوم اور مشہور عربی ادیب،نامور عالم و محقق حضرت علامہ محمد عالم آسی امر تسری علیہما الرحمۃ سے کی اور یونیورسٹی کےمولوی فاضل کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کیے، حکیم حاجی محمد علی، حکیم محبوب عالم اور حکیم فتح چند سے طب کے اسباق پڑھے، اور لاہور کے مشہور طبیب شہزادہ غلام محمد سے اصول طب سیکھے۔
تحصیل علم کے بعد اولاً مسلم ہائی اسکول شریف پورہ میں اسلامیات کے مدرس ہوئے، فارغ اوقات میں طبابت کرتے تھے، آپ ساس اور در و مندول رکھتے تھے، ملی اور ملکی مائل سے خصوصی شغف تھا، نوجوانوں کی ترقی و تعلیم کے لیے ۱۹۳۱ء میں سکتری باغ امر تسر میں درختوں کے سایہ میں جامعہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور خود پڑھانے میں مصروف رہے، بعد میں یہ مدرسہ کٹرہ رام گڑھیاں کوچہ مست کھوہ میں منتقل ہوگیا، تقسیم ملک کے وقت مدرسہ ہال بازار میں تھا،
آپ کو تقریر پوری قدرت حاصل تھی، امر تسر کے عوم و خواص آپ کے مواعظ حسنہ سننے کے لیے بے چین رہتے تھے، آپ بلامعاوضہ امر تسر کی مساجد میں ازخودجاکر تقریریں کرتے،آپ کی سحر بیانی کی وجہ سے امر تسر ی تنگ، بوسیدہ مساجد، جامع مسجد میں تبدیل ہوگئیں، جامع مسجد حنفیہ رانی بازار شریف پورہ اور جامع کوچہ قاصداں کو آپ کی تقریروں کے نتیجہ میں وسعت و رونق ملی۔
تقسیم ملک کے بعد آپ لاہور میں جابسے، احباب و معتقدین کےامراء سے سوول سکرٹریٹ کی تنگ مسجد میں خطابت کی ذمہ داری قبول کرلی، اس مسجد میں لوگ دور دور سے آپ کی تقریری سننے کے لیے آتے اور گرمیوں میں وہ آپ کی تمازت سے پیرشان ہوتے، ایک دفعہ سردار عبد الرب نشتر جو اس وقت گورنر تھے جمعہ کے لیے پہونچ گئے، اُنہیں جہاں جگہ ملی وہاں دھوپ کی تمازت تیز تھی، آپ نے موقع فائدہ اٹھارے ہوئے اُن کی رگ حمیت کو چھیڑدیا، اُنہوں نے دفتر جاکر وسعت کے لیے بیس ۲۰ہزار کی منظوری دیدی،۔۔۔۔۔ اسی طرح چودھری منظور احمد نے اُسی مسجد میں آپ کی تقریر سے متأثر ہوکر دس ہزار کی چیک آپ کے ذاتی نام کاٹ دیا، اُن دنوں اگر چہ آپ نہایت پریشان ومفلس تھے مگر اس رقم کو مسجد میں صرف کردیا، اور ۵ہزار مزید چودھری صاحب سے حاصل کیے، آپ کو خود بھی اپنی جادو بینای کا احساس تھا، آپ کا ایک شعر ہے ؎
لب پہ ترنم کے جو اُبھرا
رُوح میں ڈوب گیا وہ ترانہ
ظفر علی خاں کا یہ شعر آپ کے بارے میں کافی مشہور ہے ؎
ترنم چاند ہے اس شہر میں علم اور حکمت
درخشاں اس کے بالے ہیں مسلمانان امر تسر
آپ حضرت امیر ملت قطب عالم پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے مرید اور اعلیٰ حضرت قطب المشائخ شاہ علی حسین اشرفی میاں سرکار کچھوچھہ سے بھی فیضیاب تھے۔
آپ ڈھائی تین سال مرض ذیابیطس میں مبتلا ہوگئے تھے، جگر مبتورم اور دل بڑھ گیا تھا، اسی حال میں بروز جمعہ ۱۷؍محرم الحرام ۱۳۷۹ھ مطابق ۲۴؍جولائی ۱۹۹۵ھ میں آخرت کا سفر اختیار کیا علامہ ابو البرکات ناظم حزب الاحناف لاہور نے نماز جنازہ کی امامت کی، آپ کی آخری آرام گاہ گورستان میانی بہاول پور روڈ پر (برلب سڑک) بالمقابل حضرت مہر محمد نقشبندی ہے، آپ کے عقیدت کیش اور مشہور اہل علم و قلم حکیم مولوی محمد موسیٰ صاحب امر تسری لاہوری نے ‘‘ترنم داخل خلد’’ اور ‘‘فاضل حکمت’’ تاریخیں کہیں۔
آپ کو مسلک اہل سنّت کی ترویج و تبلیغ سے جو والہانہ شغف تھا وہ آپ اپنی م ثال تھا، علمائے اہل سنت کی دینی و سیاسی تنظیم مرکزی جمعیۃ علمائے پاکستان کے نائب صدر کی حیثیت سے جو خدمات آپ نے انجام دی ہیں وہ سدا یادرہیں گی ۔ ( مولانا غلام محمد ترنم ) ـ
وصال:
17 محرم الحرام 1379ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-tarannum-amritsari
حضرت مولانا غلام محمد ترنم امر تسری کے ایک غریب کشمیری گھرانے میں ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام عبد العزیزی تھا، آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد غربت وافلاس کی وجہ سے شال اور قالین بانی کافن سیکھا، پھر قالینوں کے ڈیزائنر ہوگئے، تحصیل علم کی وجہ سے اپنے استاذ حکیم فریزو الدین فیروز طفرائی کی خدمت میں پہونچا دیا، حکیم طغرائی کی توجہ سے منشی فاضل، ادیب فاضل کےامتحان میں کامیاب ہوئے، عربی کی ابتدائی کتابیں پروفیسر مولانا عبد الرحیم سے مطالعہ کیں، فقہ کی تحصیل فقیہہ عصر مولانا لمشی عبدالصمد خاں کشمیری مرحوم اور مشہور عربی ادیب،نامور عالم و محقق حضرت علامہ محمد عالم آسی امر تسری علیہما الرحمۃ سے کی اور یونیورسٹی کےمولوی فاضل کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کیے، حکیم حاجی محمد علی، حکیم محبوب عالم اور حکیم فتح چند سے طب کے اسباق پڑھے، اور لاہور کے مشہور طبیب شہزادہ غلام محمد سے اصول طب سیکھے۔
تحصیل علم کے بعد اولاً مسلم ہائی اسکول شریف پورہ میں اسلامیات کے مدرس ہوئے، فارغ اوقات میں طبابت کرتے تھے، آپ ساس اور در و مندول رکھتے تھے، ملی اور ملکی مائل سے خصوصی شغف تھا، نوجوانوں کی ترقی و تعلیم کے لیے ۱۹۳۱ء میں سکتری باغ امر تسر میں درختوں کے سایہ میں جامعہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور خود پڑھانے میں مصروف رہے، بعد میں یہ مدرسہ کٹرہ رام گڑھیاں کوچہ مست کھوہ میں منتقل ہوگیا، تقسیم ملک کے وقت مدرسہ ہال بازار میں تھا،
آپ کو تقریر پوری قدرت حاصل تھی، امر تسر کے عوم و خواص آپ کے مواعظ حسنہ سننے کے لیے بے چین رہتے تھے، آپ بلامعاوضہ امر تسر کی مساجد میں ازخودجاکر تقریریں کرتے،آپ کی سحر بیانی کی وجہ سے امر تسر ی تنگ، بوسیدہ مساجد، جامع مسجد میں تبدیل ہوگئیں، جامع مسجد حنفیہ رانی بازار شریف پورہ اور جامع کوچہ قاصداں کو آپ کی تقریروں کے نتیجہ میں وسعت و رونق ملی۔
تقسیم ملک کے بعد آپ لاہور میں جابسے، احباب و معتقدین کےامراء سے سوول سکرٹریٹ کی تنگ مسجد میں خطابت کی ذمہ داری قبول کرلی، اس مسجد میں لوگ دور دور سے آپ کی تقریری سننے کے لیے آتے اور گرمیوں میں وہ آپ کی تمازت سے پیرشان ہوتے، ایک دفعہ سردار عبد الرب نشتر جو اس وقت گورنر تھے جمعہ کے لیے پہونچ گئے، اُنہیں جہاں جگہ ملی وہاں دھوپ کی تمازت تیز تھی، آپ نے موقع فائدہ اٹھارے ہوئے اُن کی رگ حمیت کو چھیڑدیا، اُنہوں نے دفتر جاکر وسعت کے لیے بیس ۲۰ہزار کی منظوری دیدی،۔۔۔۔۔ اسی طرح چودھری منظور احمد نے اُسی مسجد میں آپ کی تقریر سے متأثر ہوکر دس ہزار کی چیک آپ کے ذاتی نام کاٹ دیا، اُن دنوں اگر چہ آپ نہایت پریشان ومفلس تھے مگر اس رقم کو مسجد میں صرف کردیا، اور ۵ہزار مزید چودھری صاحب سے حاصل کیے، آپ کو خود بھی اپنی جادو بینای کا احساس تھا، آپ کا ایک شعر ہے ؎
لب پہ ترنم کے جو اُبھرا
رُوح میں ڈوب گیا وہ ترانہ
ظفر علی خاں کا یہ شعر آپ کے بارے میں کافی مشہور ہے ؎
ترنم چاند ہے اس شہر میں علم اور حکمت
درخشاں اس کے بالے ہیں مسلمانان امر تسر
آپ حضرت امیر ملت قطب عالم پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے مرید اور اعلیٰ حضرت قطب المشائخ شاہ علی حسین اشرفی میاں سرکار کچھوچھہ سے بھی فیضیاب تھے۔
آپ ڈھائی تین سال مرض ذیابیطس میں مبتلا ہوگئے تھے، جگر مبتورم اور دل بڑھ گیا تھا، اسی حال میں بروز جمعہ ۱۷؍محرم الحرام ۱۳۷۹ھ مطابق ۲۴؍جولائی ۱۹۹۵ھ میں آخرت کا سفر اختیار کیا علامہ ابو البرکات ناظم حزب الاحناف لاہور نے نماز جنازہ کی امامت کی، آپ کی آخری آرام گاہ گورستان میانی بہاول پور روڈ پر (برلب سڑک) بالمقابل حضرت مہر محمد نقشبندی ہے، آپ کے عقیدت کیش اور مشہور اہل علم و قلم حکیم مولوی محمد موسیٰ صاحب امر تسری لاہوری نے ‘‘ترنم داخل خلد’’ اور ‘‘فاضل حکمت’’ تاریخیں کہیں۔
آپ کو مسلک اہل سنّت کی ترویج و تبلیغ سے جو والہانہ شغف تھا وہ آپ اپنی م ثال تھا، علمائے اہل سنت کی دینی و سیاسی تنظیم مرکزی جمعیۃ علمائے پاکستان کے نائب صدر کی حیثیت سے جو خدمات آپ نے انجام دی ہیں وہ سدا یادرہیں گی ۔ ( مولانا غلام محمد ترنم ) ـ
وصال:
17 محرم الحرام 1379ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-ghulam-tarannum-amritsari
scholars.pk
Hazrat Allama Ghulam Tarannum Amritsari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت شاہ عبد المجید بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
قدوۃ العلماء، زبدۃ العرفاء، عروس حجلۂ تقدیس، نوشاہ خلوت توحید، حضرت مولانا شاہ عین الحق عبد المجید سرمست بادہ توحید حضرت شاہ عبد الحمید عثمانی المتوفی ۱۲۳۳ھ کے بڑے صاحبزادے ـ
ولادت:
۲۹ رمضان المبارک ۱۱۷۷ھ کو پیدا ہوئے ـ
نام:
” ظہور اللہ ’’ تاریخی نام تجویز ہوا ـ
تعلیم:
بزرگ خاندان اور والد ماجد کے پھوپھا بحر العلوم حضرت مولانا شاہ محمد علی عثمانی اور اپنے ماموں حضرت مولانا محمد عمران خطیب اور پھوپھا حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الغنی قدست اسرارھم سے پڑھنے کے بعد لکھنؤ میں حضرت مولانا ذوالفقار علی دیوی سے تکمیل علوم کی ـ
باشارہ حضور سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ وسلم حضرت شاہ اچھے میاں کو خبر ہو جاتی تو حضرت وطن جانے کی تاکید فرماتے، آپ اچھا کہہ کر تعمیل حکم والا کا قصد فرماتے لیکن دل جدائی پر راضی نہ ہوتا، ادھر اُدھر پھر کر حاضر دربار ہو جاتے، یہاں تک کہ حضرت اچھے میاں خود ہی سواری کا انتظام فرما کر جانے کا حکم فرماتے، مجبوراً بدایوں جاتے، دو چار دن رہ کر واپس آجاتے ـ
آثارِ احمدی میں حضرت اچھے میاں نے آپ کے بارے میں نہایت بلند کلمات تحریر فرمائے ہیں ۔
حضرت نے تکمیل مراتب کے بعد آپ کو خلافت عطا کی اور شاہ عین الحق کے خطاب سے عزت افزائی فرمائی، ۱۲۵۱ھ میں حضرت مخدوم شاہ اچھے میاں نے ملاء اعلیٰ کا سفر فرمایا، اس واقعہ کے بعد آپ مستقل بدایوں رہنے لگے، ۱۲۵۶ھ میں آپ نے حج و زیارت کا شرف حاصل فرمایا، یوں تو بدایوں کا خاندان عثمانی ہمیشہ سے علم و معرفت میں مشہور چلا آتا تھا، مگر آپ کے زمانہ میں اُس نے کافی شہرت پائی اور آپ کی ذات با برکات سے بے شمار خلائق نے راہ ہدایت پائی، ۔۔۔۔۔
وصال:
سہ شنبہ 17 محرم الحرام 1263ھ میں پچاسی سال تین ماہ اٹھارہ یوم کی عمر میں واصل بحق ہوئے، حضرت سید شاہ صاحب [1] عالم قدس سرہٗ مارہروی نے قطعۂ تاریخ کہا ؎
سفر کرد سوئے مکانات قدس
شہ عین حق، اکمل واصلین
اگر سالِ نقلش بہ پُرسد کسے
بگو ‘‘داد رونق بخلد بریں’’
حضرت شاہ آل رسول مارہروی اور مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی آپ کے نامور شاگرد تھے، اور حضرت مولانا فضل رسول بدایونی آپ کے صاحبزادہ اور جانشین تھے ـ (تذکرہ علماء ہند، اکمل التاریخ حصہ اول) ـ
[1] ۔ حضرت سید شاہ صاحبِ عالم مارہروی ابن شاہ مخدوم عالم ابن شاہ مقبول عالم ابن شاہ نجات اللہ فرزند اصغر حضرت مخدوم شاہ برکت اللہ پیر برکات عشقی ۱۶ ربیع الآخر کو پیدا ہوئے، عربی و فارسی کے عالم اور شاعر و ادیب تھے، مرزا غالب کے بہت سے خطوط آپ کے نام ملتے ہیں، مرزا نے بطور مزاح آپ کو لکھا پیر و مرشد کے سنہ ولادت کا مادہ تاریخ ہے اور غلام کا ” تاریخا “ بروز جمعہ ۲ محرم ۱۲۸۸ھ میں وفات ہوئی، بنگد گاہ معلی مارہرہ میں جانب عرب دفن ہوئے ۔ (خاندان برکات) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-majeed-badayuni
قدوۃ العلماء، زبدۃ العرفاء، عروس حجلۂ تقدیس، نوشاہ خلوت توحید، حضرت مولانا شاہ عین الحق عبد المجید سرمست بادہ توحید حضرت شاہ عبد الحمید عثمانی المتوفی ۱۲۳۳ھ کے بڑے صاحبزادے ـ
ولادت:
۲۹ رمضان المبارک ۱۱۷۷ھ کو پیدا ہوئے ـ
نام:
” ظہور اللہ ’’ تاریخی نام تجویز ہوا ـ
تعلیم:
بزرگ خاندان اور والد ماجد کے پھوپھا بحر العلوم حضرت مولانا شاہ محمد علی عثمانی اور اپنے ماموں حضرت مولانا محمد عمران خطیب اور پھوپھا حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الغنی قدست اسرارھم سے پڑھنے کے بعد لکھنؤ میں حضرت مولانا ذوالفقار علی دیوی سے تکمیل علوم کی ـ
باشارہ حضور سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ و اصحابہ وسلم حضرت شاہ اچھے میاں کو خبر ہو جاتی تو حضرت وطن جانے کی تاکید فرماتے، آپ اچھا کہہ کر تعمیل حکم والا کا قصد فرماتے لیکن دل جدائی پر راضی نہ ہوتا، ادھر اُدھر پھر کر حاضر دربار ہو جاتے، یہاں تک کہ حضرت اچھے میاں خود ہی سواری کا انتظام فرما کر جانے کا حکم فرماتے، مجبوراً بدایوں جاتے، دو چار دن رہ کر واپس آجاتے ـ
آثارِ احمدی میں حضرت اچھے میاں نے آپ کے بارے میں نہایت بلند کلمات تحریر فرمائے ہیں ۔
حضرت نے تکمیل مراتب کے بعد آپ کو خلافت عطا کی اور شاہ عین الحق کے خطاب سے عزت افزائی فرمائی، ۱۲۵۱ھ میں حضرت مخدوم شاہ اچھے میاں نے ملاء اعلیٰ کا سفر فرمایا، اس واقعہ کے بعد آپ مستقل بدایوں رہنے لگے، ۱۲۵۶ھ میں آپ نے حج و زیارت کا شرف حاصل فرمایا، یوں تو بدایوں کا خاندان عثمانی ہمیشہ سے علم و معرفت میں مشہور چلا آتا تھا، مگر آپ کے زمانہ میں اُس نے کافی شہرت پائی اور آپ کی ذات با برکات سے بے شمار خلائق نے راہ ہدایت پائی، ۔۔۔۔۔
وصال:
سہ شنبہ 17 محرم الحرام 1263ھ میں پچاسی سال تین ماہ اٹھارہ یوم کی عمر میں واصل بحق ہوئے، حضرت سید شاہ صاحب [1] عالم قدس سرہٗ مارہروی نے قطعۂ تاریخ کہا ؎
سفر کرد سوئے مکانات قدس
شہ عین حق، اکمل واصلین
اگر سالِ نقلش بہ پُرسد کسے
بگو ‘‘داد رونق بخلد بریں’’
حضرت شاہ آل رسول مارہروی اور مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی آپ کے نامور شاگرد تھے، اور حضرت مولانا فضل رسول بدایونی آپ کے صاحبزادہ اور جانشین تھے ـ (تذکرہ علماء ہند، اکمل التاریخ حصہ اول) ـ
[1] ۔ حضرت سید شاہ صاحبِ عالم مارہروی ابن شاہ مخدوم عالم ابن شاہ مقبول عالم ابن شاہ نجات اللہ فرزند اصغر حضرت مخدوم شاہ برکت اللہ پیر برکات عشقی ۱۶ ربیع الآخر کو پیدا ہوئے، عربی و فارسی کے عالم اور شاعر و ادیب تھے، مرزا غالب کے بہت سے خطوط آپ کے نام ملتے ہیں، مرزا نے بطور مزاح آپ کو لکھا پیر و مرشد کے سنہ ولادت کا مادہ تاریخ ہے اور غلام کا ” تاریخا “ بروز جمعہ ۲ محرم ۱۲۸۸ھ میں وفات ہوئی، بنگد گاہ معلی مارہرہ میں جانب عرب دفن ہوئے ۔ (خاندان برکات) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-majeed-badayuni
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Majeed Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
*سیدنا جنید بغدادی کی جانب منسوب قول*
👇👇👇👇
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کیا ایک مرد کسی عورت کو پڑھا سکتا ہے؟
فرمایا: اگر پڑھانے والا *بایزید بسطامی* رحمۃ اللہ علیہ ہوں اور پڑھنے والی *رابعہ بصریہ* رحمتہ اللہ علیہا ہوں، اور جس جگہ پڑھایا جائے وہ *خانۂ کعبہ* ہو اور جو پڑھایا جائے وہ *کلام اللہ* ہو تب بھی یہ جائز نہیں ہے۔
-----------------------------
نیچے کا مضمون حضرت سید مہتاب صاحب قبلہ کا ہے👇
امیر المؤمنین فی الحدیث ابن حجر عسقلانی (متوفی 852) نے الدرر الکامنہ میں تقریبا 170 محدثات کا ذکر کیا ـ
جن میں 54 ان خواتین محدثات و عالمات کا ذکر کیا جن سے امام ابن حجر عسقلانی نے خود علوم سیکھے!
ابن فھد المکی (متوفی 885) نے فرمایا میں نے 130 خواتین معلمات و فقیہات سے علم حاصل کیا!
امام سخاوی (متوفی 902) نے الضوء اللامع میں 85 خواتین محدثات و عالمات کا ذکر فرمایا ہے!
امام جلال الدین سیوطی (متوفی 911) کے دَور میں 44 فقہیات علامات مصر میں موجود تھیں!
امام ابن عساکر (متوفی 571) نے معجم النسوان لکھی جس میں اپنی 80 خواتین معلمات کا ذکر کیا اور ان سے احادیث بیان کی!
امام ذھبی نے التقریب میں 824 ان عالمات کا ذکر کیا جو حدیث اپنی سند سے بیان کرتی تھیں!
*یہ عروجِ اسلام کی باتیں ہیں*
اب زوال یہ ہے کہ خواتین کا فقیہات و محدثات ہونا تو دور، ان کو درست عربی عبارت پڑھنا نہیں آتی!
یہاں سے وہ غبار زدہ ذہن بھی گرد صاف کریں کہ شرعی حدود و قیود میں رہ کر مرد سے خاتون کا اور خاتون سے مرد کا علمِ دین پڑھنا سلفاً خلفاً صدیوں سے رائج ہے!
یہ صرف علماءِ ظاہر کا ذکر ہے
جبکہ علماء باطن یعنی صوفیاء کرام کی الگ تفصیل ہے کہ ان کے ہاں بھی مرد خواتین سے اور خواتین مردوں سے اکتسابِ فیض کرتی رہی ہیں!
اور فی زمانہ خواتین میں عربیت و بلاغت و فقاہت کے فقدان کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جن خواتین سے سیکھتی ہیں وہ خود کمزور ہوتی ہیں اوپر سے ان کا عرصہِ درس نظامی پانچ سالہ اس میں بھی محدود کتب ان میں بھی اردو کی کثیر کتب شاملِ نصاب ہیں!
اس کمی کو دو طرح پورا کیا جا سکتا ہے
*اول* کہ خواتین مکمل پردے میں اور فتنہ کے نہ ہونے کے یقین کی صورت میں مرد اساتذہ سے پڑھیں تو اِن شآء اللہ علوم و فنون میں پختگی آتی جائے گی!
*دوم* کہ جو مرد علماء ہیں وہ اپنے گھر سے آغاز کریں
اپنی محرمات کو اس طریقے پر پڑھائیں جو مردوں کے لیے ہوتا ہے
اپنی بہن, بیٹی کو وہ نصاب پڑھائیں جو طلباء پڑھتے ہیں اس طرح مردوں کے علوم و فنون کی پختگی خواتین میں پیدا ہوتی جائے گی!
نہ خواتین پردے میں پڑھیں نہ مرد اپنی محرمات کو پڑھائیں تو امت کی بیٹیوں میں وہ زمانہ نہیں آئے گا جس میں فقہیات و عالمات و محدثات کی کثرت تھی!
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://t.me/Sada_E_Haq_Noori/6525
سیدنا جنید بغدادی کا یہ قول کس کتاب میں ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سیدنا جنید بغدادی نے ایسا فرمایا ہے؟
کیا خواتین نے فقہاء محدثین سے علم نہیں سیکھا؟
کیا خواتین نے مردوں کو علم نہیں سکھایا؟
کیا شرعی حدود میں رہ کر علم سیکھا اور سکھایا نہیں جا سکتا؟
جس دور میں عصری علوم کے لیے والدین بچے اور بچیوں کو ہر طرح کا خلط ملط ماحول دے کر واضح نقصان پہنچا رہے ہیں، ایسے دور میں شریعت کا علم کیا حدود شرع میں رہ کر بھی دینا درست نہیں؟
آخر وہ کون لوگ ہیں جو امت کے نصف حصہ کو گنوار رکھنا چاہتے ہیں؟
📝 حسن نوری گونڈوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02W1FUBxeTj8hBBrwZYZUT9aCr3vuXLWk28q6YZgp9PQg5SFd67cqjFYWUwMxK4EJJl&id=100005157704773&mibextid=Nif5oz
👇👇👇👇
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کیا ایک مرد کسی عورت کو پڑھا سکتا ہے؟
فرمایا: اگر پڑھانے والا *بایزید بسطامی* رحمۃ اللہ علیہ ہوں اور پڑھنے والی *رابعہ بصریہ* رحمتہ اللہ علیہا ہوں، اور جس جگہ پڑھایا جائے وہ *خانۂ کعبہ* ہو اور جو پڑھایا جائے وہ *کلام اللہ* ہو تب بھی یہ جائز نہیں ہے۔
-----------------------------
نیچے کا مضمون حضرت سید مہتاب صاحب قبلہ کا ہے👇
امیر المؤمنین فی الحدیث ابن حجر عسقلانی (متوفی 852) نے الدرر الکامنہ میں تقریبا 170 محدثات کا ذکر کیا ـ
جن میں 54 ان خواتین محدثات و عالمات کا ذکر کیا جن سے امام ابن حجر عسقلانی نے خود علوم سیکھے!
ابن فھد المکی (متوفی 885) نے فرمایا میں نے 130 خواتین معلمات و فقیہات سے علم حاصل کیا!
امام سخاوی (متوفی 902) نے الضوء اللامع میں 85 خواتین محدثات و عالمات کا ذکر فرمایا ہے!
امام جلال الدین سیوطی (متوفی 911) کے دَور میں 44 فقہیات علامات مصر میں موجود تھیں!
امام ابن عساکر (متوفی 571) نے معجم النسوان لکھی جس میں اپنی 80 خواتین معلمات کا ذکر کیا اور ان سے احادیث بیان کی!
امام ذھبی نے التقریب میں 824 ان عالمات کا ذکر کیا جو حدیث اپنی سند سے بیان کرتی تھیں!
*یہ عروجِ اسلام کی باتیں ہیں*
اب زوال یہ ہے کہ خواتین کا فقیہات و محدثات ہونا تو دور، ان کو درست عربی عبارت پڑھنا نہیں آتی!
یہاں سے وہ غبار زدہ ذہن بھی گرد صاف کریں کہ شرعی حدود و قیود میں رہ کر مرد سے خاتون کا اور خاتون سے مرد کا علمِ دین پڑھنا سلفاً خلفاً صدیوں سے رائج ہے!
یہ صرف علماءِ ظاہر کا ذکر ہے
جبکہ علماء باطن یعنی صوفیاء کرام کی الگ تفصیل ہے کہ ان کے ہاں بھی مرد خواتین سے اور خواتین مردوں سے اکتسابِ فیض کرتی رہی ہیں!
اور فی زمانہ خواتین میں عربیت و بلاغت و فقاہت کے فقدان کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جن خواتین سے سیکھتی ہیں وہ خود کمزور ہوتی ہیں اوپر سے ان کا عرصہِ درس نظامی پانچ سالہ اس میں بھی محدود کتب ان میں بھی اردو کی کثیر کتب شاملِ نصاب ہیں!
اس کمی کو دو طرح پورا کیا جا سکتا ہے
*اول* کہ خواتین مکمل پردے میں اور فتنہ کے نہ ہونے کے یقین کی صورت میں مرد اساتذہ سے پڑھیں تو اِن شآء اللہ علوم و فنون میں پختگی آتی جائے گی!
*دوم* کہ جو مرد علماء ہیں وہ اپنے گھر سے آغاز کریں
اپنی محرمات کو اس طریقے پر پڑھائیں جو مردوں کے لیے ہوتا ہے
اپنی بہن, بیٹی کو وہ نصاب پڑھائیں جو طلباء پڑھتے ہیں اس طرح مردوں کے علوم و فنون کی پختگی خواتین میں پیدا ہوتی جائے گی!
نہ خواتین پردے میں پڑھیں نہ مرد اپنی محرمات کو پڑھائیں تو امت کی بیٹیوں میں وہ زمانہ نہیں آئے گا جس میں فقہیات و عالمات و محدثات کی کثرت تھی!
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
https://t.me/Sada_E_Haq_Noori/6525
سیدنا جنید بغدادی کا یہ قول کس کتاب میں ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سیدنا جنید بغدادی نے ایسا فرمایا ہے؟
کیا خواتین نے فقہاء محدثین سے علم نہیں سیکھا؟
کیا خواتین نے مردوں کو علم نہیں سکھایا؟
کیا شرعی حدود میں رہ کر علم سیکھا اور سکھایا نہیں جا سکتا؟
جس دور میں عصری علوم کے لیے والدین بچے اور بچیوں کو ہر طرح کا خلط ملط ماحول دے کر واضح نقصان پہنچا رہے ہیں، ایسے دور میں شریعت کا علم کیا حدود شرع میں رہ کر بھی دینا درست نہیں؟
آخر وہ کون لوگ ہیں جو امت کے نصف حصہ کو گنوار رکھنا چاہتے ہیں؟
📝 حسن نوری گونڈوی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02W1FUBxeTj8hBBrwZYZUT9aCr3vuXLWk28q6YZgp9PQg5SFd67cqjFYWUwMxK4EJJl&id=100005157704773&mibextid=Nif5oz
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-01-1445 ᴴ | 04-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-01-1445 ᴴ | 05-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1