🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ترجمہ: مخلوق کے لیے اسباب علم تین ہیں ۔حوا س سالم ،خبر صادق، اور عقل۔ خبر صادق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک خبر متواتر ،اور یہ وہ بات ہے، جو کسی قوم کی زبان پر ثابت ہو، اس طور پر کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا متصور نہ ہو ۔اور خبر متواتر علم یقینی کا افادہ کرتا ہے۔ جیسے زمانہ ماضی کے بادشاہوں اور دور دراز کے شہروں کے بارے میں جاننا( کہ یہ خبر متواتر سے ہی ہوا ہے)

امام اہل سنت سے پوچھا گیا :

حضور "کتب بینی ہی سے علم ہوتا ہے "فرمایا "یہی نہیں بلکہ افواہ رجال سے بھی حاصل ہوتا ہے "
(الملفوظ جلداول صفحہ 6 قادری کتاب گھر بریلی شریف)

افواہ رجال اور تواتر دونوں ایک ہی ہیں ۔

تواتر کی شرعی حیثیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ کہ امام غزالی فرماتے ہیں، کہ کسی مسلمان کی طرف کسی گناہ کبیرہ کی نسبت جائز نہیں۔ مگر تواتر کے ذریعہ اس کا ثبوت ہو تو پھر یہ نسبت معتبر ہوگی۔

احیإالعلوم میں ہے:

"لاتجوز نسبة مسلم الی کبیرة من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال ان ابن ملجم قتل علیافان ذالک ثبت متواترا"

ترجمہ اعلی حضرت:
کسی مسلمان کو کسی کبیرہ گناہ کی طرف بے تحقیق، نسبت کرنا حرام ہے۔ ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم شقی خارجی اشقی الا خرین نے امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ کو شہید کیا۔ کہ یہ بہ تواتر ثابت ہے۔"
(فتاوی رضویہ جلد ٢ صفحہ 623 باب الاذان والا قامة)

تاریخی کتابیں حضرت علی کی شہادت پر چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ ابن ملجم نے مولا علی کو قتل کیا ۔مگر محققین علماء، تاریخ کی ایک نہیں سنتے۔ ہاں تواتر مسلمین سے جب اس کا ثبوت ہوا تو سب نے مانا _

تواتر, علم یقینی کے افادہ میں اتنا موثر ہے، کہ اس کے لیے اسلام کی شرط بھی ضروری نہیں۔ کافر کا تواتر بھی معتبر ہے۔

یہودیوں کے یہاں یہ امر مشہور ہے کہ ان کا دین ابدی ہے۔ تا قیامت باقی رہے گا ۔اور ہر یہودی اس بات کا قائل ہے ،گویا یہ تواتر سے ثابت ہے ۔حالانکہ اسلامی عقیدے کے مطابق، دین موسوی منسوخ ہو چکا ہے۔

صاحب نبراس نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہودیوں کی خبر، حد تواتر کو نہیں پہنچتی۔ کیونکہ تواتر کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت سے لے کر، اب تک ہر دور میں،، اتنے افراد اس کے راوی ہوں، جن کا جھوٹ پر توافق ممکن نہ ہو۔ اور تاریخ یہود میں ایک دور ایسا آیا ہے کہ ان کے قتل عام کے بعد دو چند افراد ہی زندہ باقی بچے تھے۔ بقیہ سارے کے سارے مارے گئے تھے۔ اور جو باقی بچے تھے، ان کی تعداد، نصاب تواتر کو نہیں پہنچتی۔
نبراس کے الفاظ ہیں:

"والجواب عن خبر الیہود ففیہ وجہان احدھماان بخت نصر الملک المجوسی قتلہم حتی لم یبق منھم عددالتواتر"

( نبراس ص 52)

ترجمہ: یہودیوں کی خبر، حد تواتر کو اس لیے نہیں پہنچتی ,کہ مجوسی بادشاہ بخت نصر نے سوا،چند کے، سب کو قتل کر دیا تھا ۔

اسی طرح عیسائیوں کے یہاں ایک مسئلہ ہے کہ وہ لوگ حضرت عیسی کے مصلوب ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔اور ہر عیسائی اس بات کا معتقد ہے ۔لہذا یہ بھی تواتر سے ثابت ہونا چاہیے۔ علامہ عبدالعزیز فرہاری نے اس کا بھی جواب دیا۔ کہ عیسائیوں کی روایت، حد تواتر کو نہیں پہنچتی۔ کیونکہ ابتدا میں یہ روایت صرف چار لوگوں سے چلی۔ اور چار لوگوں کا ہونا تواترکی نصاب کو پورا نہیں کرتا ۔

حضرت کے الفاظ ہیں:
"فالجواب عن خبرالنصاری بوجوہ احدھاانہ منقول عن اربعةمنھم ولیس ھذاعددالتواتر "
(نبراس 52 )
ترجمہ: نصاری کی خبریں بھی حد تواتر کو نہیں پہنچتیں۔ کیونکہ ابتداً وہ چار افراد سے منقول ہیں۔ اور چار کی عدد، حد تواتر کے لیے کافی نہیں ۔

صاحب نبراس کے جواب نے واضح کر دیا کہ یہود و نصاری کی خبریں حد تواتر کو نہ پہنچیں۔_ اس کی وجہ ان کا کفر یا خلاف اسلام عقیدہ نہیں، بلکہ راویوں کی تعداد کا،حد تواترتک نہ پہنچنا، اصل سبب ہے ۔

اب ایک حوالہ اور ملاحظہ فرما لیں ۔پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

ہندؤں کے مذہبی پیشوا رام و کرشن کے نبی ہونے کا سوال آیا۔ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ دونوں اپنے وقت کے نبی تھے۔

امام اہل سنت نے جواباً فرمایا کہ نبی ہونے کے لیے قران و حدیث سے ثبوت چاہیے ۔ان دونوں کا تو قران و حدیث میں کہیں نام و نشان تک نہیں۔ بلکہ وہ دونوں انسانی جماعت کے افراد سے تھے بھی، یا نہیں۔ اس کا بھی ہمارے یہاں ثبوت نہیں ملتا _ہاں تواتر ہنود سے ثابت ہوتا ہے کہ رام وکرشن نام کے دو فرد گزرے ہیں -مگر ساتھ ہی تواتر ہنود سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے، کہ وہ دونوں حد درجہ فاسق و فاجر تھے۔ اور فاسق و فاجر شخص نبی نہیں ہو سکتا۔

امام کی اصل عبارت ملاحظہ ہو:
3👍1
" قران عظیم یا حدیث کریم میں رام و کرشن کا ذکر تک نہیں۔ ان کے نفس وجود پر سوائے تواتر ہنود، ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ کہ یہ واقع میں کوئی اشخاص تھے بھی، یا محض انیاب اغوال ورجال بوستان خیال کی طرح اوہام تراشیدہ ہیں۔ تواتر ہنود اگر حجت نہیں، تو ان کا وجود ہی ناثابت۔ اور اگر حجت ہے تو اسی تواتر سے ان کا فسق و فجور ،لہو ولعب ثابت _پھر کیا معنی کہ وجود کے لیے تواتر ہنود مقبول, اور احوال کے لیے مردود مانا جائے "
(فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 142 رضا اکیڈمی ممبئی)

مذکورہ بالا عبارت کا یہ حصہ بغور پڑھیں "ان کے نفس وجود پر سوائے تواتر ہنود ,ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں"

امام فرما رہے ہیں کہ تواتر ہنود ہمارے یہاں دلیل ہے ۔

اور جب تواتر کفار، دلیل ہے، تو تواتر مسلمین کا کیا کہنا۔

*اب آتے ہیں اصل مدعا کی طرف__ معرکہ کربلا کےوجود کے بعد سے اب تک، ہر دور میں ہزاروں، لاکھوں، مسلمان اس بات کو بیان کرتے چلے آئے۔ کہ یزیدیوں نے اہل بیت پر تین دن تک پانی بند رکھا۔ اس عظیم تواتر کے ہوتے ہوئے، کسی دوسری دلیل ،خصوصا تاریخی حوالوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔*

*لہذا مجدد اسلام نے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا ۔_ہمارے بعض اکابر نے اگر کہیں کسی کتاب کی عبارت پیش کی ،تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے اسی عبارت کو اپنے مدعا کے ثبوت کا ذریعہ بنایا__ نہیں اور ہرگز نہیں _بلکہ تائید کے طور پر کتاب یا اس کی عبارت رکھ دی _ورنہ ان کی دلیل تواتر مسلمین ہے۔ تاریخی کتابوں کے مضطرب اقوال نہیں۔*

وما توفیقی الا باللہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid06wRisGQLnyad1rbnL7avYvZrc8umK4ZbZ6SnpKqBAXbCmUJpK2vFyxjpoDvaZoywl&id=100004579304922&mibextid=Nif5oz
3👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
*خیمہ اہل بیت میں پانی نہ ہونے کے دعوے پر ،امام اہل سنت نے کسی کتاب کا حوالہ کیوں نہیں دیا____?* *جمیل پٹنہ* مجدد اسلام ،امام اہل سنت ،حضور اعلی حضرت، نے فتاوی رضویہ میں تحریر فرمایاکہ: " کربلا میں رسول اللہﷺ کے جگر پارے…
خیمۂ اہل بیت میں پانی نہ ہونے کے دعوے پر ، امام اہل سنت نے کسی کتاب کا حوالہ کیوں نہیں دیا ــــ ؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/55762
━═─────────────═━
امام احمد رضا کے 562 علوم و فنون
حضرت مولانا طارق انور مصباحی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4543
━═─────────────═━
2💯1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-01-1445 ᴴ | 03-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-01-1445 ᴴ | 04-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ درویش محمد بن قاسم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت شیخ درویش محمد کے والد ماجد کا نام شیخ قاسم ہے ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں حضرت شیخ فتح اللہ لودھی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت تھے اور اُن سے خلافت پائی اور سلسلہ چشتیہ جہانیاں وقادریہ، سہروردیہ میں آپ حضرت سید بڈھن بہرائچی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بیعت تھے اور ان کے خلیفہ بھی تھے ۔ ۱؎

وصال:
آپ نے14 محرم 896ھ کو وفات پائی۔

آپ کا مزار فیض آباد میں مرجع خاص و عام ہے۔

حواشی:
۱؎سالک السالکین (جلد دوم) ص۴۲۵

( تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-darwaish-muhammad-bin-qasim
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-01-1445 ᴴ | 04-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-01-1445 ᴴ | 04-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1