🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-01-1445 ᴴ | 03-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-01-1445 ᴴ | 03-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-01-1445 ᴴ | 03-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-01-1445 ᴴ | 03-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*خیمہ اہل بیت میں پانی نہ ہونے کے دعوے پر ،امام اہل سنت نے کسی کتاب کا حوالہ کیوں نہیں دیا____?*

*جمیل پٹنہ*

مجدد اسلام ،امام اہل سنت ،حضور اعلی حضرت، نے فتاوی رضویہ میں تحریر فرمایاکہ:

" کربلا میں رسول اللہﷺ کے جگر پارے کو تین دن بے اب و دانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے، تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا"

( فتاوی رضویہ جلد 14 صفحہ 592)

اور اس پر کسی تاریخی کتاب کا حوالہ نہیں دیا۔ جبکہ روایات مختلف ہیں۔ بعض روایتوں کے مطابق خیمہ حسین پاک میں پانی موجود تھا۔ امام حسین اور ان کے بعض رفقا ٕنے اس دن غسل بھی کیا ۔

اہل علم کے مابین یہ بحث کئی دن سے گرم ہے۔___ ایک صاحب نے تو یہاں تک لکھ مارا کہ :

"یہ حضرات (یعنی امام اہل سنت, استاذ زمن ،علامہ نعیم الدین مراد ابادی، اور مفتی جلال الدین صاحب امجدی علیہم الرحمہ) قران , حدیث, فقہ وغیرہ علوم شرعیہ میں کامل دسترس رکھتے تھے, جیسا کہ ان کی کتب سے ظاہر ہے۔ لیکن تاریخ ان کا موضوع نہ تھا "

یعنی امام اہل سنت تاریخ نہیں جانتے تھے, اس لیے بلا سند بات کہہ دی۔

بعض لوگ اپنے خلاف، امام اہل سنت کی تحریریں پاتے ہیں، تو عجیب عجیب الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگتے ہیں_ لفظ کملی پر جب بحث کا بازار گرم تھا, اور ایک فریق کی گردن پھنسنے لگی, تو اس نے بھی یہی کہا تھا کہ اعلی حضرت فقیہ تھے- زبان و بیان کے ماہر نہیں تھے, کہ ان کی تحریروں سے استدلال درست مانا جائے -

مجھے تو لگتا ہے, کہ کل کو کوئی صاحب یہ بھی کہہ دیں گے کہ اعلی حضرت فقیہ تھے ,علم حدیث ان کا موضوع نہیں تھا ,اس لیے اس فن میں کی جانے والی ان کی گفتگو، مستند نہیں ہو سکتی_ کوئی سر پھرا یہ کہہ دے کہ امام اہل سنت نے جو میراث اور ترکہ کے مسائل لکھے ہیں, وہ قابل اعتبار نہیں- کیونکہ اعلی حضرت فقیہ تھے, اور علم میراث کا لازمی جز ریاضی ہے, اور ریاضی اعلی حضرت کا موضوع نہ تھا-

میں مضمون نگار سے کہوں گا, کہ امام اہل سنت کی رفعت علمی آپ کیا جانیں۔ وہ جاننے کے لیے بھی وافر علم کی ضرورت ہوتی ہے_ دقیق نظر چاہیے____ جو صاحب نظر تھے, وہ تو برسوں پہلے کہہ گئے کہ :ع

"جس سمت اگئے ہو, سکے بٹھا دیے ہیں"
اور آپ جیسوں کےلۓمیں کہتاہوں:
ع
"دیدہ کورکوکیاآۓ نظر،کیادیکھے"
امام احمد رضا کتنے علوم کے تاجور تھے _اور کیسے تھے__ اس وقت یہ میرا موضوع بحث نہیں___ ورنہ اپ کی شکایت دور کر دیتا کہ "تاریخ ان کا موضوع نہیں تھا, اس لیے اس میں کامل دسترس نہیں رکھتے تھے"

آپ چار تاریخی کتابوں کو سامنے رکھ کر "تاریخ داں" بن گئے۔ اور جن اکابر کی زندگی، تاریخی کتب کی ورق گردانی میں گزری ہے، وہ اپ کے نزدیک کامل دسترس نہیں رکھتے-
واہ صاحب واہ !!!

امام احمد رضا نے واقعات کربلا, خصوصا پانی والے مسئلے کو تاریخی کتابوں سے لیا ہی نہیں۔ کیونکہ ان کی نظر میں تاریخی کتابیں عموما اغلاط سے پر ہوتی ہیں۔

امام فرماتے ہیں:

" واضح ہو چکا ہے کہ کتب سیر میں کیسے کیسے مجروحوں، مطعونوں، شدیدالضعفوں کی روایات بھری ہیں "

دو سطر بعد فرمایا :

"سیر, موضوع کے سوا ہر قسم ضعیف و سقیم و بے سند حکایات کو جمع کرتی ہے "

اسی جگہ ہے :

"سیر میں بہت اکاذیب و اباطیل بھرے ہیں"
( فتاوی رضویہ جلد دوم صفحہ 623 سب سے پرانا نسخہ باب الاذان والاقامة)

چارعدد تاریخی کتابوں پر اچھلنے والے لوگ، حضرت ملا علی قاری کی بھی سنیں، کیا فرماتے ہیں____?

حضرت کا ارشاد ہے :
"فان غالبھم غیرصحیح وکذب صریح"
(شرح الشفاللقاضی عیاض جلد٢ص٨٩)

یعنی تاریخی باتیں اکثر غلط اور صریح جھوٹ ہوتی ہیں ۔

تاریخی روایات کے بارے میں اگر مزید تفصیل درکار ہو تو فتاوی رضویہ جلد ٢ کا صفحہ 622 سے صفحہ 624 تک مطالعہ کر لیں ۔آپ کو تاریخ کی استنادی حیثیت کےبکھرے چیتھڑے نظر ائیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ امام اہل سنت نے اپنے فتوے میں آب بندی کے ذکر کے وقت کسی تاریخی کتاب کا حوالہ نہیں دیا۔ کیونکہ حوالہ تب دیتے جب کسی کتاب سے اخذ فرماتے_ مجدد اسلام کے نزدیک تو تاریخی روایات قابل استناد تھیں ہی نہیں۔ پھر ان کے ذکر کا کیا معنی __?
اب *سوال* یہ پیدا ہوتا ہے, کہ اتنی اہم اور صدیوں پرانی بات کا علم یقینی ،امام کو کیسے ہوا_ ان کا مصدر اور ذریعہ ثبوت کیا ہے____?

تو اس کا *جواب* یہ ہے کہ امام اہل سنت نے جو باتیں تحریر فرمائیں، ان کا ثبوت تواتر مسلمین سے ہوا ہے ۔جو علم یقینی کا افادہ کرتا ہے۔

شرح عقائد میں ہے :

"اسباب العلم للخلق ثلاثۃ الحواس السلیمةو الخبر الصادق والعقل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والخبر الصادق علی نوعین احدھما الخبر المتواتر وھو الثابت علی السنة قوم لایتصورطواطٸھم علی الکذب وھوموجب العلم الضروری کالعلم بالملوک الخالیة فی الازمنة الماضیةوالبلدان الناٸیة"
(شرح عقاٸد ص35)
3
ترجمہ: مخلوق کے لیے اسباب علم تین ہیں ۔حوا س سالم ،خبر صادق، اور عقل۔ خبر صادق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک خبر متواتر ،اور یہ وہ بات ہے، جو کسی قوم کی زبان پر ثابت ہو، اس طور پر کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا متصور نہ ہو ۔اور خبر متواتر علم یقینی کا افادہ کرتا ہے۔ جیسے زمانہ ماضی کے بادشاہوں اور دور دراز کے شہروں کے بارے میں جاننا( کہ یہ خبر متواتر سے ہی ہوا ہے)

امام اہل سنت سے پوچھا گیا :

حضور "کتب بینی ہی سے علم ہوتا ہے "فرمایا "یہی نہیں بلکہ افواہ رجال سے بھی حاصل ہوتا ہے "
(الملفوظ جلداول صفحہ 6 قادری کتاب گھر بریلی شریف)

افواہ رجال اور تواتر دونوں ایک ہی ہیں ۔

تواتر کی شرعی حیثیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ کہ امام غزالی فرماتے ہیں، کہ کسی مسلمان کی طرف کسی گناہ کبیرہ کی نسبت جائز نہیں۔ مگر تواتر کے ذریعہ اس کا ثبوت ہو تو پھر یہ نسبت معتبر ہوگی۔

احیإالعلوم میں ہے:

"لاتجوز نسبة مسلم الی کبیرة من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال ان ابن ملجم قتل علیافان ذالک ثبت متواترا"

ترجمہ اعلی حضرت:
کسی مسلمان کو کسی کبیرہ گناہ کی طرف بے تحقیق، نسبت کرنا حرام ہے۔ ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم شقی خارجی اشقی الا خرین نے امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ کو شہید کیا۔ کہ یہ بہ تواتر ثابت ہے۔"
(فتاوی رضویہ جلد ٢ صفحہ 623 باب الاذان والا قامة)

تاریخی کتابیں حضرت علی کی شہادت پر چیخ چیخ کر کہتی ہیں کہ ابن ملجم نے مولا علی کو قتل کیا ۔مگر محققین علماء، تاریخ کی ایک نہیں سنتے۔ ہاں تواتر مسلمین سے جب اس کا ثبوت ہوا تو سب نے مانا _

تواتر, علم یقینی کے افادہ میں اتنا موثر ہے، کہ اس کے لیے اسلام کی شرط بھی ضروری نہیں۔ کافر کا تواتر بھی معتبر ہے۔

یہودیوں کے یہاں یہ امر مشہور ہے کہ ان کا دین ابدی ہے۔ تا قیامت باقی رہے گا ۔اور ہر یہودی اس بات کا قائل ہے ،گویا یہ تواتر سے ثابت ہے ۔حالانکہ اسلامی عقیدے کے مطابق، دین موسوی منسوخ ہو چکا ہے۔

صاحب نبراس نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہودیوں کی خبر، حد تواتر کو نہیں پہنچتی۔ کیونکہ تواتر کے لیے ضروری ہے کہ اس وقت سے لے کر، اب تک ہر دور میں،، اتنے افراد اس کے راوی ہوں، جن کا جھوٹ پر توافق ممکن نہ ہو۔ اور تاریخ یہود میں ایک دور ایسا آیا ہے کہ ان کے قتل عام کے بعد دو چند افراد ہی زندہ باقی بچے تھے۔ بقیہ سارے کے سارے مارے گئے تھے۔ اور جو باقی بچے تھے، ان کی تعداد، نصاب تواتر کو نہیں پہنچتی۔
نبراس کے الفاظ ہیں:

"والجواب عن خبر الیہود ففیہ وجہان احدھماان بخت نصر الملک المجوسی قتلہم حتی لم یبق منھم عددالتواتر"

( نبراس ص 52)

ترجمہ: یہودیوں کی خبر، حد تواتر کو اس لیے نہیں پہنچتی ,کہ مجوسی بادشاہ بخت نصر نے سوا،چند کے، سب کو قتل کر دیا تھا ۔

اسی طرح عیسائیوں کے یہاں ایک مسئلہ ہے کہ وہ لوگ حضرت عیسی کے مصلوب ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔اور ہر عیسائی اس بات کا معتقد ہے ۔لہذا یہ بھی تواتر سے ثابت ہونا چاہیے۔ علامہ عبدالعزیز فرہاری نے اس کا بھی جواب دیا۔ کہ عیسائیوں کی روایت، حد تواتر کو نہیں پہنچتی۔ کیونکہ ابتدا میں یہ روایت صرف چار لوگوں سے چلی۔ اور چار لوگوں کا ہونا تواترکی نصاب کو پورا نہیں کرتا ۔

حضرت کے الفاظ ہیں:
"فالجواب عن خبرالنصاری بوجوہ احدھاانہ منقول عن اربعةمنھم ولیس ھذاعددالتواتر "
(نبراس 52 )
ترجمہ: نصاری کی خبریں بھی حد تواتر کو نہیں پہنچتیں۔ کیونکہ ابتداً وہ چار افراد سے منقول ہیں۔ اور چار کی عدد، حد تواتر کے لیے کافی نہیں ۔

صاحب نبراس کے جواب نے واضح کر دیا کہ یہود و نصاری کی خبریں حد تواتر کو نہ پہنچیں۔_ اس کی وجہ ان کا کفر یا خلاف اسلام عقیدہ نہیں، بلکہ راویوں کی تعداد کا،حد تواترتک نہ پہنچنا، اصل سبب ہے ۔

اب ایک حوالہ اور ملاحظہ فرما لیں ۔پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

ہندؤں کے مذہبی پیشوا رام و کرشن کے نبی ہونے کا سوال آیا۔ کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ دونوں اپنے وقت کے نبی تھے۔

امام اہل سنت نے جواباً فرمایا کہ نبی ہونے کے لیے قران و حدیث سے ثبوت چاہیے ۔ان دونوں کا تو قران و حدیث میں کہیں نام و نشان تک نہیں۔ بلکہ وہ دونوں انسانی جماعت کے افراد سے تھے بھی، یا نہیں۔ اس کا بھی ہمارے یہاں ثبوت نہیں ملتا _ہاں تواتر ہنود سے ثابت ہوتا ہے کہ رام وکرشن نام کے دو فرد گزرے ہیں -مگر ساتھ ہی تواتر ہنود سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے، کہ وہ دونوں حد درجہ فاسق و فاجر تھے۔ اور فاسق و فاجر شخص نبی نہیں ہو سکتا۔

امام کی اصل عبارت ملاحظہ ہو:
3👍1
" قران عظیم یا حدیث کریم میں رام و کرشن کا ذکر تک نہیں۔ ان کے نفس وجود پر سوائے تواتر ہنود، ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ کہ یہ واقع میں کوئی اشخاص تھے بھی، یا محض انیاب اغوال ورجال بوستان خیال کی طرح اوہام تراشیدہ ہیں۔ تواتر ہنود اگر حجت نہیں، تو ان کا وجود ہی ناثابت۔ اور اگر حجت ہے تو اسی تواتر سے ان کا فسق و فجور ،لہو ولعب ثابت _پھر کیا معنی کہ وجود کے لیے تواتر ہنود مقبول, اور احوال کے لیے مردود مانا جائے "
(فتاوی رضویہ جلد 6 صفحہ 142 رضا اکیڈمی ممبئی)

مذکورہ بالا عبارت کا یہ حصہ بغور پڑھیں "ان کے نفس وجود پر سوائے تواتر ہنود ,ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں"

امام فرما رہے ہیں کہ تواتر ہنود ہمارے یہاں دلیل ہے ۔

اور جب تواتر کفار، دلیل ہے، تو تواتر مسلمین کا کیا کہنا۔

*اب آتے ہیں اصل مدعا کی طرف__ معرکہ کربلا کےوجود کے بعد سے اب تک، ہر دور میں ہزاروں، لاکھوں، مسلمان اس بات کو بیان کرتے چلے آئے۔ کہ یزیدیوں نے اہل بیت پر تین دن تک پانی بند رکھا۔ اس عظیم تواتر کے ہوتے ہوئے، کسی دوسری دلیل ،خصوصا تاریخی حوالوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔*

*لہذا مجدد اسلام نے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا ۔_ہمارے بعض اکابر نے اگر کہیں کسی کتاب کی عبارت پیش کی ،تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے اسی عبارت کو اپنے مدعا کے ثبوت کا ذریعہ بنایا__ نہیں اور ہرگز نہیں _بلکہ تائید کے طور پر کتاب یا اس کی عبارت رکھ دی _ورنہ ان کی دلیل تواتر مسلمین ہے۔ تاریخی کتابوں کے مضطرب اقوال نہیں۔*

وما توفیقی الا باللہ

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid06wRisGQLnyad1rbnL7avYvZrc8umK4ZbZ6SnpKqBAXbCmUJpK2vFyxjpoDvaZoywl&id=100004579304922&mibextid=Nif5oz
3👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
*خیمہ اہل بیت میں پانی نہ ہونے کے دعوے پر ،امام اہل سنت نے کسی کتاب کا حوالہ کیوں نہیں دیا____?* *جمیل پٹنہ* مجدد اسلام ،امام اہل سنت ،حضور اعلی حضرت، نے فتاوی رضویہ میں تحریر فرمایاکہ: " کربلا میں رسول اللہﷺ کے جگر پارے…
خیمۂ اہل بیت میں پانی نہ ہونے کے دعوے پر ، امام اہل سنت نے کسی کتاب کا حوالہ کیوں نہیں دیا ــــ ؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/55762
━═─────────────═━
امام احمد رضا کے 562 علوم و فنون
حضرت مولانا طارق انور مصباحی
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/4543
━═─────────────═━
2💯1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2