الغرض جب بعض اعلیٰ یاروں کو سلطان المشائخ کے فرمان کے بموجب لوگوں نے خلافت کے لیے منتخب کیا تو ان میں ان بزرگ کو بھی شامل کیا اور جب ان تمام بزرگوں کے نام نامی سلطان المشائخ کے سامنے لیے گئے تو مولانا سراج الدین کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کام میں سب سے پہلا درجہ علم کا ہے اور مولانا سراج الدین علم سے چنداں حصہ رکھتے نہیں جوں ہی یہ بات مولانا فخر الدین زادی کے کان میں پہنچی آپ کی زبانِ مبارک سے نکل گیا کہ میں اسے چھ مہینے میں عالم متبحر اور دانشمند کامل بنادوں گا ـ
چنانچہ مولانا سراج الدین نیکبر سنی میں علم پڑھنا شروع کیا اور کاتب حروف کے ساتھ آغاز تعلم میں میزان اور تصریف اور قواعد اور اس کے مقدمات کی تحقیق کی۔ خود مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے لیے ایک مختصر و مفصل تصریف تالیف کی اور اس کا نام عثمانی رکھا۔ جب تک مولانا فخر الدین غیاث پور میں رہے آپ کو برابر پڑھاتے رہے بعدہ آپ مولانا رکن الدین اندر پتی کی خدمت میں پہنچے اور کاتب حروف کے ساتھ کافیہ۔ مفصل۔ قدوری۔ مجمع البحرین کی تحقیق میں مصروف رہے بہت تھوڑے دنوں میں افادت کے مرتبہ میں پہنچ گئے اور سلطان المشائخ کے خلافت نامہ سے جس پر حضور کی مہر کا نشان تھا مشرف ہوئے۔
قبل اس کے کہ مولانا سراج الدین ہندوستان کا عزم کرتے شیخ نصیر الدین محمود خلافت نامہ لے کر اودھ میں پہنچے۔ اس کے بعد آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اب بھی تعلیم و تعلم میں مشغول رہے جب سلطان المشائخ جنت میں تشریف لے گئے تو اس کے تین سال بعد تک بھی تعلیم و تعلم میں مستغرق رہے اور سلطان المشائخ جعل اللہ الجنتہ مثواہ کے خطیرۂ اقدس میں گنبد کے اندر رہے۔ جب مخلوق دیار دیوگیر کی طرف جلا وطن کی گئی تو مولانا سراج الدین لکھنوتی میں تشریف لے گئے اور کچھ کتابیں حضرت سلطان المشائخ کے کتاب خانہ سے جو طلبہ کے لیے وقف تھا مطالعہ کے لیے ساتھ لیتے گئے۔
علاوہ اس کے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو آپ نے وقتاً فوقتاً حضور سے پائے تھے وہ بھی ساتھ لے گئے اور اس طرف کے شہروں کو اپنے جمال ولایت سے آراستہ و منور کیا اور خلق خدا سے بیعت لینی شروع کی۔ چنانچہ اس ملک کے بادشاہ آپ کے مریدوں کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔ مولانا سراج الدین نے عمر بہت پائی اور نہایت مقصدوری اور کامیابی کے ساتھ زندگی بسر کی۔
آپ نے آخر عمر میں مولانا رکن الدین اندر پتی کے لیے جو آپ کے استاد تھے اور کاتب حروف کے واسطے جو آپ کا ہم سبق تھا بطریق یادگار چند تنکہ چاندیکے روانہ کیئے اور پچھلے حقوق کی رعایت کما حقہ مرعی رکھی (حق تعالیٰ ان سے قبول فرمائے آمین۔) جب آپ کے انتقال کا وقت قریب آلگا تو اطراف لکھنوتی میں اپنے مدفن کے لیے ایک نہایت عمدہ مقام پسند کیا اول اس مقام میں آپ نے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو اپنے ہمراہ لے گئے تھیبہ تعظیم تمام دفن کئے اور اسے بصورت قبر بنایا بعدہ جب انتقال ہونے لگا تو وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی دفن کرنا چاہیے۔
چنانچہ جب آپ کا وصال ہوا تو سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی آپ کا مدفن قرار پایا رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعتہ۔ مولانا سراج الدین کا روضہ متبرکہ سلطان المشائخ کے کپڑوں کی برکت سے قبلۂ ہندوستان ہے اور آپ کے خلفا اس زمانہ تک ان شہروں میں خلق خدا سے بیعت لیتے ہیں ۔
( سِیَر الاولیاء )
یوم ولادت: 15 محرم الحرام 1297ھ
یوم وصال: 26 ربیع الاول 1333 ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/mohtaram-saleh-sirajuddin-bin-usman-hanafi-naqshbandi
چنانچہ مولانا سراج الدین نیکبر سنی میں علم پڑھنا شروع کیا اور کاتب حروف کے ساتھ آغاز تعلم میں میزان اور تصریف اور قواعد اور اس کے مقدمات کی تحقیق کی۔ خود مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے لیے ایک مختصر و مفصل تصریف تالیف کی اور اس کا نام عثمانی رکھا۔ جب تک مولانا فخر الدین غیاث پور میں رہے آپ کو برابر پڑھاتے رہے بعدہ آپ مولانا رکن الدین اندر پتی کی خدمت میں پہنچے اور کاتب حروف کے ساتھ کافیہ۔ مفصل۔ قدوری۔ مجمع البحرین کی تحقیق میں مصروف رہے بہت تھوڑے دنوں میں افادت کے مرتبہ میں پہنچ گئے اور سلطان المشائخ کے خلافت نامہ سے جس پر حضور کی مہر کا نشان تھا مشرف ہوئے۔
قبل اس کے کہ مولانا سراج الدین ہندوستان کا عزم کرتے شیخ نصیر الدین محمود خلافت نامہ لے کر اودھ میں پہنچے۔ اس کے بعد آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اب بھی تعلیم و تعلم میں مشغول رہے جب سلطان المشائخ جنت میں تشریف لے گئے تو اس کے تین سال بعد تک بھی تعلیم و تعلم میں مستغرق رہے اور سلطان المشائخ جعل اللہ الجنتہ مثواہ کے خطیرۂ اقدس میں گنبد کے اندر رہے۔ جب مخلوق دیار دیوگیر کی طرف جلا وطن کی گئی تو مولانا سراج الدین لکھنوتی میں تشریف لے گئے اور کچھ کتابیں حضرت سلطان المشائخ کے کتاب خانہ سے جو طلبہ کے لیے وقف تھا مطالعہ کے لیے ساتھ لیتے گئے۔
علاوہ اس کے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو آپ نے وقتاً فوقتاً حضور سے پائے تھے وہ بھی ساتھ لے گئے اور اس طرف کے شہروں کو اپنے جمال ولایت سے آراستہ و منور کیا اور خلق خدا سے بیعت لینی شروع کی۔ چنانچہ اس ملک کے بادشاہ آپ کے مریدوں کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔ مولانا سراج الدین نے عمر بہت پائی اور نہایت مقصدوری اور کامیابی کے ساتھ زندگی بسر کی۔
آپ نے آخر عمر میں مولانا رکن الدین اندر پتی کے لیے جو آپ کے استاد تھے اور کاتب حروف کے واسطے جو آپ کا ہم سبق تھا بطریق یادگار چند تنکہ چاندیکے روانہ کیئے اور پچھلے حقوق کی رعایت کما حقہ مرعی رکھی (حق تعالیٰ ان سے قبول فرمائے آمین۔) جب آپ کے انتقال کا وقت قریب آلگا تو اطراف لکھنوتی میں اپنے مدفن کے لیے ایک نہایت عمدہ مقام پسند کیا اول اس مقام میں آپ نے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو اپنے ہمراہ لے گئے تھیبہ تعظیم تمام دفن کئے اور اسے بصورت قبر بنایا بعدہ جب انتقال ہونے لگا تو وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی دفن کرنا چاہیے۔
چنانچہ جب آپ کا وصال ہوا تو سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی آپ کا مدفن قرار پایا رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعتہ۔ مولانا سراج الدین کا روضہ متبرکہ سلطان المشائخ کے کپڑوں کی برکت سے قبلۂ ہندوستان ہے اور آپ کے خلفا اس زمانہ تک ان شہروں میں خلق خدا سے بیعت لیتے ہیں ۔
( سِیَر الاولیاء )
یوم ولادت: 15 محرم الحرام 1297ھ
یوم وصال: 26 ربیع الاول 1333 ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/mohtaram-saleh-sirajuddin-bin-usman-hanafi-naqshbandi
scholars.pk
Mohtaram Saleh Sirajuddin Bin Usman Hanafi Naqshbandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت میاں علی محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی مجمع علم و عرفان حضرت الحاج میاں علی محمد خان اور آپ کے والد کا نام حضر محمد عمر خاں تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما) ـ
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1299ھ / 1881ء میں بلسی عمر خاں ، متصل ہر یانہ ضلع ہوشیار پور (بھارت) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت میاں علی محمد خاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا کی نگرانی میں افاضل اساتذہ سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی، علم طب اور فنون سپر گری پر بھی خصوصی توجہ فرمائی ۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا دین محمد مولانا حکیم محمد عبد اللہ جگراونی اور مولانا مرید احمد خاں اپنے دور میں علم و فضل کے آفتاب دماہتاب ہوئے ہیں ۔
بیعت و خلافت:
مروجہ علوم سے فارغ ہو کر اپنے نانا اور مرشد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلوک و معرفت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے نانا اور مرشد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوکر اکتساب کرتے رہے ۔
بیعت آپ نے اپنے نانا جان حضرت خواجہ محمد خاں رحمہ اللہ تعالیٰ سے کی اور خرقہ خلافت بھی اپنے نانا جان سے حاصل کیا ۔ کے وصال پر حضرت خواجہ میاں علی محمد خاں قدس سرہ مسند شیخ پر فائز ہوئے اور سجادگی کا حق ادا کر دیا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت میاں صاحب اپنے دور میں سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے سب سے معمر بزرگ تھے ۔ علم و فضل، جود و سخا، زہد و تقویٰ، اتباع شریعت اور اسقامت میں نادر روزگار تھے ۔ خاموشی سے گرانقد دینی خدمات انجام دیتے اور کسی کو خبر تک نہ ہونے دیتے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں بے پناہ حسن ظاہری عطا فرمایا تھا ـ
حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ بزم رشد و ہدایت کی شمع نورانی تھے ۔ ملکی سیاست سے کبھی تعلق نہ رکھا البتہ تحریک پاکستان کے ایام میں مکمل طور پر تحریک کے حامی اور معاون رہے ۔۱۹۴۵ء میں پیر صاحب مانکی شریف ، پاکپتن شریف عرس کے موقع پر مشائخ کرام سے ملے اور تحریک پاکستان کے سلسلے میں مشورے کرتے رہے ۔ اور اکابرین و مشائخ کے قدم قدم سے ملاکر چلے حتٰی کے پاکستان کا قیام ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت میاں صاحب لاہور تشریف لے آئے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے زیر سایہ اپنی قیام گاہ میں دیڑھ دو ماہ قیام کیا ۔ ایک موقع پر فرمایا ہمیں حضرت داتا گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ ہی اپنے پاس ٹھہر ائیں گے ۔
پھر حضرت فرید گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایسے حاضر ہوئے کہ آپ کا مزار بھی انہی کے مبارک قدموں میں بنا۔ حضرت میاں صاحب اور ادو وثائف کی بے مثال پابندی کے ساتھ ساتھ کتب تصوف کے پڑھنے میں بڑی دلچسبی رکھتے تھے۔
شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی قدس سہر کی تصنیف لطیف "فصوص الحکم" سے تو آپ کو عشق تھا ۔
تاریخِ وصال:
15محرم الحرام 1395ھ / بمطابق 28 جنوری 1975ء بروز منگل آفتاب شریعت و طریقت وحید العصر ، فرید الدہر حضرت میاں علی محمد خاں چشتی نظامی فخری رحمۃ اللہ علیہ کا لاہور میں وصال ہوا ۔
دوسرے دن تین بجے بعد نماز ظہر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر قد س سرہ العزیز کی خانقاہ شریف میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں علماء مشائخ کی کثیر تعداد کے علاوہ ہزاروں تمندوں نے شرکت کی ۔
ان کی آخری آرام گاہ حضرت خواجہ گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درگاہ شریف میں بنائی گئی ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-ali-muhammad-chishti
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی مجمع علم و عرفان حضرت الحاج میاں علی محمد خان اور آپ کے والد کا نام حضر محمد عمر خاں تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما) ـ
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1299ھ / 1881ء میں بلسی عمر خاں ، متصل ہر یانہ ضلع ہوشیار پور (بھارت) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
حضرت میاں علی محمد خاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا کی نگرانی میں افاضل اساتذہ سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی، علم طب اور فنون سپر گری پر بھی خصوصی توجہ فرمائی ۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا دین محمد مولانا حکیم محمد عبد اللہ جگراونی اور مولانا مرید احمد خاں اپنے دور میں علم و فضل کے آفتاب دماہتاب ہوئے ہیں ۔
بیعت و خلافت:
مروجہ علوم سے فارغ ہو کر اپنے نانا اور مرشد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلوک و معرفت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے نانا اور مرشد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوکر اکتساب کرتے رہے ۔
بیعت آپ نے اپنے نانا جان حضرت خواجہ محمد خاں رحمہ اللہ تعالیٰ سے کی اور خرقہ خلافت بھی اپنے نانا جان سے حاصل کیا ۔ کے وصال پر حضرت خواجہ میاں علی محمد خاں قدس سرہ مسند شیخ پر فائز ہوئے اور سجادگی کا حق ادا کر دیا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت میاں صاحب اپنے دور میں سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے سب سے معمر بزرگ تھے ۔ علم و فضل، جود و سخا، زہد و تقویٰ، اتباع شریعت اور اسقامت میں نادر روزگار تھے ۔ خاموشی سے گرانقد دینی خدمات انجام دیتے اور کسی کو خبر تک نہ ہونے دیتے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں بے پناہ حسن ظاہری عطا فرمایا تھا ـ
حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ بزم رشد و ہدایت کی شمع نورانی تھے ۔ ملکی سیاست سے کبھی تعلق نہ رکھا البتہ تحریک پاکستان کے ایام میں مکمل طور پر تحریک کے حامی اور معاون رہے ۔۱۹۴۵ء میں پیر صاحب مانکی شریف ، پاکپتن شریف عرس کے موقع پر مشائخ کرام سے ملے اور تحریک پاکستان کے سلسلے میں مشورے کرتے رہے ۔ اور اکابرین و مشائخ کے قدم قدم سے ملاکر چلے حتٰی کے پاکستان کا قیام ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت میاں صاحب لاہور تشریف لے آئے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے زیر سایہ اپنی قیام گاہ میں دیڑھ دو ماہ قیام کیا ۔ ایک موقع پر فرمایا ہمیں حضرت داتا گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ ہی اپنے پاس ٹھہر ائیں گے ۔
پھر حضرت فرید گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایسے حاضر ہوئے کہ آپ کا مزار بھی انہی کے مبارک قدموں میں بنا۔ حضرت میاں صاحب اور ادو وثائف کی بے مثال پابندی کے ساتھ ساتھ کتب تصوف کے پڑھنے میں بڑی دلچسبی رکھتے تھے۔
شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی قدس سہر کی تصنیف لطیف "فصوص الحکم" سے تو آپ کو عشق تھا ۔
تاریخِ وصال:
15محرم الحرام 1395ھ / بمطابق 28 جنوری 1975ء بروز منگل آفتاب شریعت و طریقت وحید العصر ، فرید الدہر حضرت میاں علی محمد خاں چشتی نظامی فخری رحمۃ اللہ علیہ کا لاہور میں وصال ہوا ۔
دوسرے دن تین بجے بعد نماز ظہر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر قد س سرہ العزیز کی خانقاہ شریف میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں علماء مشائخ کی کثیر تعداد کے علاوہ ہزاروں تمندوں نے شرکت کی ۔
ان کی آخری آرام گاہ حضرت خواجہ گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درگاہ شریف میں بنائی گئی ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-ali-muhammad-chishti
scholars.pk
Hazrat Mian Ali Muhammad Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت مولانا شاہ محمد اجمل سنبھلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل ـ
ولادت:
۱۵ محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے، ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سے پائی، ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل و تکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ
حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہو کر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی، ۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا ـ اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ و ارشاد میں بسر فرمائی، نہایت پختہ مشق مدرس تھے ـ
حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی، مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق و باطن، رد شہاب ثاقب آپ کی مشہور کتابیں ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
والد کا نام شاہ محمد اکمل، بڑے بھائی کا نام مولانا شاہ محمد افضل ـ
ولادت:
۱۵ محرم ۱۳۲۲ھ سال پیدائش ہے، ابتدائی تعلیم والد اور بڑے بھائی سے پائی، ابتدائی عربی شرح جامی تک اپنے چچیرے بھائی مولانا شاہ محمد عماد الدین سنبھلی سے پڑھی، معقول و منقول کی تحصیل و تکمیل حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مولانا حکیم محمد نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس سرہٗ سے کی، ۱۳۳۹ھ میں سند فراغ حاصل کی ـ
حضرت فاضل مراد آبادی کی معیت میں بریلی میں حاضر ہو کر اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے بیعت کی، ۱۳۴۴ھ میں مدرسہ اسلامیہ حنفیہ قائم کیا ـ اور درس دینا شروع کیا، ساری عمر افادۂ درس، وعظ و ارشاد میں بسر فرمائی، نہایت پختہ مشق مدرس تھے ـ
حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی اور اعلیٰ حضرت قطب العالم مخدوم علی حسین اشرفی قدس سرہما سے اجازت وخلافت پائی ـ
کئی سال کی مسلسل علالت کے بعد اکسٹھ برس کی عمر میں ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۸۳ھ مطابق ۱۸ ستمبر ۱۹۶۳ء کو بروز چہار شنبہ ۱۲؍بج کر ۴۵ منٹ پر دارِ فنا سے دار بقا کی راہ لی، مرقد سنبھل میں ہے، فیصکہ حق و باطن، رد شہاب ثاقب آپ کی مشہور کتابیں ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-muhammad-ajmal-sumbhuli
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Muhammad Ajmal Sumbhuli
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
استاذ العلماء ،جامع المعقول والمنقول حضرت علّامہ مفتی محمد اشفاق احمد قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
پیدائش:
حضرت علّامہ مفتی محمد اشفاق احمد رضوی بن حاجی ولی الرّحمٰن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یکم جنوری 1948ء کو چک نمبر AH-12 تحصیل و ضلع خانیوال (پنجاب، پاکستان) میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی ۔ مزید دینی تعلیم کے لیے جامعہ غوثیہ جامع العلوم خانیوال، مدرسۂ شوکت الاسلام خانیوال، جامعہ اشرف المدارس اوکاڑہ، مدرسہ احیاء العلوم بورے والا، دارالعلوم محمودیہ پپلاں میانوالی، جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر وغیرہم میں داخل ہوکر جامع المعقول والمنقول حضرت علّامہ مولانا منظور احمد چشتی (نواں جنڈا والہ)، حضرت مولانا محمد شفیع (خانیوال)، حضرت مولانا قاضی نور احمد (پپلاں،میاں والی)، حضرت علّامہ مولانا محمد حسین شوق (پپلاں میاں والی)، حضرت علّامہ مولانا احمد یار (اوکاڑہ) علیھم الرّحمۃ سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کی ۔
1966ء میں علومِ عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل کے بعد درسِ حدیث کے لیے جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آبادمیں داخل ہو کر شیخ الحدیث حضرت علّامہ مولانا غلام رسول رضوی شارحِ بخاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے صحاحِ ستّہ کا درس لیا اور سندِ فراغت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ جامعہ غوثیہ خانیوال میں قیام کے دوران ہی محدثِ اعظمِ پاکستان حضرت علّامہ مولانا سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ان کے دستِ اقدس پر بیعت ہو ئے، اُن کے وصال کے بعد شہزادۂ محدثِ اعظم پاکستان حضرت صاحبزادہ فضل احمد علیہ الرحمۃ نے خلافت عطا فرمائی، نیز کافی عرصہ عارف باللہ حافظ محمد شفیع (شہید) رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (چشتیاں شریف) کی صحبتِ با برکت میں گذارے؛ حافظ صاحب علیہ الرحمۃ نے تکمیلِ سلوک کرانے کے بعد، آپ کو سلسلۂ چشتیہ نظامیہ میں خلافت سے نوازا ۔
تدریس:
فراغت کے بعد آپ نے تدریس کا آغاز جامعہ نور المدارس چشتیاں شریف سے کیا اور 6 سال تک اس جامعہ میں آپ کا قیام رہا، اس کے بعد آپ کچا کھوہ خانیوال میں قائم مدرسہ معراج العلوم میں تشریف لائےاور 7 سال تک اسی مدرسے میں تدریس فرماتے رہے، اس دوران محکمۂ اوقاف کی طرف سے ملحقہ مرکزی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ۔
1979ء میں محکمۂ اوقاف کی طرف سے آپ کا تبادلہ مرکزی جامع مسجد خانیوال میں ہوا، نیز مدرسۂ غوثیہ جامع العلوم کی انتظامیہ نے آپ کو مدرسۂ ہٰذا کا مہتمم مقرر کر دیا، جہاں آپ نے عرصۂ دراز تک تدریس فرمائی؛ اس دوران آپ نے جامعہ غوثیہ للبنات کا سنگِ بنیاد بھی رکھا ۔
خطابت و تبلیغِ دین:
مرکزی جامع مسجد کچا کھوہ میں 7 سال امامت و خطابت فرمائی، اس کی مرکزی جامع مسجد خانیوال میں طویل عرصہ خطابت کے فرائض سر انجام دیے؛ نیز تبلیغِ دین کے لیے مختلف مقامات کے سفر کیے ۔ زندگی کے آخری چند سال تبلیغ دین کے لیے برطانیہ تشریف لے گئے ۔
تلامذہ:
۱۔ حضرت علّامہ مفتی عبد الحمید چشتی، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم ،خانیوال۔ ۲۔ علّامہ شوکت علی سیالوی، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم، خانیوال۔ ۳۔ مولانا فضلِ رسول، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم، خانیوال۔ ۴۔ علّامہ مولانا قاضی وہاج صاحب، خطیب دربار حضرت بابافرید علیہ الرحمۃ، پاکپتن شریف، پنجاب، پاکستان۔ ۵۔ علّامہ مولانا محمد صفدر سعیدی( کبیر والہ)۔ ۶۔ علّامہ مولانا عمر حیات قادری (لاہور) وغیرہم ۔
وصال / جنازہ / تدفین:
۵ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو آپ ادائیگیِ حج کےبعد واپس پہنچے، کچھ دنوں بعد طبیعت ناساز ہو گئی اور ملتان کے اسپتال میں داخل ہوئے ۔ ۱۵ محرم الحرام ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات صبح تقریباً ۹؍ بجے آپ کا وصالِ پُر ملال ہوا، اور رات ۱۰؍ بجے آپ کے صاحبزادے مولانا حافظ محمد مبشر جمیل رضوی کی اقتدا میں آپ کی نمازِ جنازہ اداکی گئی۔ آپ اپنی جائے ولادت یعنی چک نمبر AH-12 تحصیل و ضلع خانیوال (پنجاب، پاکستان) میں، اپنے ماموں مولانا غلام حسین رَحِمَہُ اللہُ تَعَالیٰ علیہ اور والدۂ مرحومہ کے پہلو میں دفن ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-ashfaq-ahmed-rizvi
پیدائش:
حضرت علّامہ مفتی محمد اشفاق احمد رضوی بن حاجی ولی الرّحمٰن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یکم جنوری 1948ء کو چک نمبر AH-12 تحصیل و ضلع خانیوال (پنجاب، پاکستان) میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی ۔ مزید دینی تعلیم کے لیے جامعہ غوثیہ جامع العلوم خانیوال، مدرسۂ شوکت الاسلام خانیوال، جامعہ اشرف المدارس اوکاڑہ، مدرسہ احیاء العلوم بورے والا، دارالعلوم محمودیہ پپلاں میانوالی، جامعہ غوثیہ رضویہ سکھر وغیرہم میں داخل ہوکر جامع المعقول والمنقول حضرت علّامہ مولانا منظور احمد چشتی (نواں جنڈا والہ)، حضرت مولانا محمد شفیع (خانیوال)، حضرت مولانا قاضی نور احمد (پپلاں،میاں والی)، حضرت علّامہ مولانا محمد حسین شوق (پپلاں میاں والی)، حضرت علّامہ مولانا احمد یار (اوکاڑہ) علیھم الرّحمۃ سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کی ۔
1966ء میں علومِ عقلیہ ونقلیہ کی تکمیل کے بعد درسِ حدیث کے لیے جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آبادمیں داخل ہو کر شیخ الحدیث حضرت علّامہ مولانا غلام رسول رضوی شارحِ بخاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے صحاحِ ستّہ کا درس لیا اور سندِ فراغت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
آپ جامعہ غوثیہ خانیوال میں قیام کے دوران ہی محدثِ اعظمِ پاکستان حضرت علّامہ مولانا سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور ان کے دستِ اقدس پر بیعت ہو ئے، اُن کے وصال کے بعد شہزادۂ محدثِ اعظم پاکستان حضرت صاحبزادہ فضل احمد علیہ الرحمۃ نے خلافت عطا فرمائی، نیز کافی عرصہ عارف باللہ حافظ محمد شفیع (شہید) رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (چشتیاں شریف) کی صحبتِ با برکت میں گذارے؛ حافظ صاحب علیہ الرحمۃ نے تکمیلِ سلوک کرانے کے بعد، آپ کو سلسلۂ چشتیہ نظامیہ میں خلافت سے نوازا ۔
تدریس:
فراغت کے بعد آپ نے تدریس کا آغاز جامعہ نور المدارس چشتیاں شریف سے کیا اور 6 سال تک اس جامعہ میں آپ کا قیام رہا، اس کے بعد آپ کچا کھوہ خانیوال میں قائم مدرسہ معراج العلوم میں تشریف لائےاور 7 سال تک اسی مدرسے میں تدریس فرماتے رہے، اس دوران محکمۂ اوقاف کی طرف سے ملحقہ مرکزی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ۔
1979ء میں محکمۂ اوقاف کی طرف سے آپ کا تبادلہ مرکزی جامع مسجد خانیوال میں ہوا، نیز مدرسۂ غوثیہ جامع العلوم کی انتظامیہ نے آپ کو مدرسۂ ہٰذا کا مہتمم مقرر کر دیا، جہاں آپ نے عرصۂ دراز تک تدریس فرمائی؛ اس دوران آپ نے جامعہ غوثیہ للبنات کا سنگِ بنیاد بھی رکھا ۔
خطابت و تبلیغِ دین:
مرکزی جامع مسجد کچا کھوہ میں 7 سال امامت و خطابت فرمائی، اس کی مرکزی جامع مسجد خانیوال میں طویل عرصہ خطابت کے فرائض سر انجام دیے؛ نیز تبلیغِ دین کے لیے مختلف مقامات کے سفر کیے ۔ زندگی کے آخری چند سال تبلیغ دین کے لیے برطانیہ تشریف لے گئے ۔
تلامذہ:
۱۔ حضرت علّامہ مفتی عبد الحمید چشتی، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم ،خانیوال۔ ۲۔ علّامہ شوکت علی سیالوی، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم، خانیوال۔ ۳۔ مولانا فضلِ رسول، مدرّس جامعہ غوثیہ جامع العلوم، خانیوال۔ ۴۔ علّامہ مولانا قاضی وہاج صاحب، خطیب دربار حضرت بابافرید علیہ الرحمۃ، پاکپتن شریف، پنجاب، پاکستان۔ ۵۔ علّامہ مولانا محمد صفدر سعیدی( کبیر والہ)۔ ۶۔ علّامہ مولانا عمر حیات قادری (لاہور) وغیرہم ۔
وصال / جنازہ / تدفین:
۵ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو آپ ادائیگیِ حج کےبعد واپس پہنچے، کچھ دنوں بعد طبیعت ناساز ہو گئی اور ملتان کے اسپتال میں داخل ہوئے ۔ ۱۵ محرم الحرام ۱۴۳۷ھ مطابق ۲۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات صبح تقریباً ۹؍ بجے آپ کا وصالِ پُر ملال ہوا، اور رات ۱۰؍ بجے آپ کے صاحبزادے مولانا حافظ محمد مبشر جمیل رضوی کی اقتدا میں آپ کی نمازِ جنازہ اداکی گئی۔ آپ اپنی جائے ولادت یعنی چک نمبر AH-12 تحصیل و ضلع خانیوال (پنجاب، پاکستان) میں، اپنے ماموں مولانا غلام حسین رَحِمَہُ اللہُ تَعَالیٰ علیہ اور والدۂ مرحومہ کے پہلو میں دفن ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-ashfaq-ahmed-rizvi
scholars.pk
Mufti Muhammad Ashfaq Ahmed Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Mufti Muhammad Ashfaq Ahmed Rizvi is a great Islamic Scholar (Celebrity / Personality). This Web Page have very good information about Islam.
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-01-1445 ᴴ | 02-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-01-1445 ᴴ | 03-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1