🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-01-1445 ᴴ | 02-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-01-1445 ᴴ | 02-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کتب شان حضور مفتئ اعظم ہند
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5219
عرسِ حضور مفتئ اعظم ہند 💐
وصال: 14 محرم الحرام 1402ھ
https://www.facebook.com/groups/456490489254996/permalink/675924670644909/?mibextid=Nif5oz
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
میاں نصیر الدین شہداد کوٹی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا حافظ میں نصیر الدین اول بن میاں عبدالحلیم ۱۲۹۸ھ کو گوٹھ کنڈو بلوچستان میں تولد ہوئے۔ حضرت غوث الزمان علامہ مفتی غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس کے رشتہ میں بھانجے تھے ۔

تعلیم و تربیت:
میاں نصیر الدین ، حضرت قبلہ شہداد کوٹی کے منظور نظر تھے، سعادت ابدی ان کی پیشانی سے عیاں تھی۔ بچپن میں بہن سے اجازت لے کر انہیں کنڈو سے اپنے پاس بلوا لیا، خود تربیت فرمائی اور اپنی نگرانی میں تعلیم دلوائی ۔ تعلیم کیلئے اپنے نامور شاگرد حضرت علامہ مولانا عطاء اللہ فیروز شاہی کو بلوا کر درگاہ شریف پر مدرس مقرر کیا ۔ میاں نصیر الدین انہیں سے درس نظامی مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔

جانشینی:
حضرت شہداد کوٹی نیا پنی زندگی میں میاں نصیر الدین کو جانشین مقرر کیا ۔ فرمایا :’’میری ظاہری باطنی وراثت کا وارث میاں نصیر الدین ہے‘‘ حضرت شہداد کوٹی کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت و خلیفہ مجاز تھے اور اس فرح درگاہ صدیقیہ کے آپ سجادہ نشین اول قرار پائے۔

درس و تدریس:
آپ نے دربار صدیقیہ پر درس و تدریس ، ارشاد و تلقین اور امامت و خطابت کے معمولات جاری رکھے ۔ اس طرح بے شمار طلباء ظاہری و باطنی طور پر مستفیض ہوئے۔

عادات و خصائل:
آپ عامل قرآن، عالم با عمل، شیخ باکمال اور شب خیز بزرگ تھے۔ اخلاق کریمانہ، سچائی سادگی کی تصویر ، غریبوں یتیموں پر شفیق و مہربان تھے ۔ شب و روز شریعت و طریقت کے فروغ میں بسر کئے۔ فقراء کو معرفت الٰہی کے اسباق پڑھائے، سنت و توکل کی تعلیم دی۔ آپ کی صحبت بافیض سیکئی بے دین ، بے نمازی، چور ڈاکو ، بد عمل لوگ توبہ تائب ہو کر تہجد گزار اور پرہیزگار بن گئے ۔

درس و تدریس کے بعد ختم قرآن حکیم اوردرود شریف کے ورد میں مشغول رہتے تھے۔ دونوں کاموں میں زیادہ وقت صرف کرتے تھے۔ فقراء کو بھی تلاوت قرآن کریم اور کثرت درود شریف کا حکم دیتے تھے۔ آپ تن تنہا تین کروڑ بار درود شریف کا عظیم تحفہ حضور اکرم نور مجسم ﷺ کے دربار مقدس میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر چکے تھے ۔

روزانہ رات کو تین بجے اٹھ جاتے، مسجد شریف میں تہجد کی نماز ادا کرکے ، مرشد کریم کے مزار پر انوار کے پاس آکر بیٹھتے، قرآن مجید ، درود شریف کی تلاوت میں مصروف رہتے، اس کیب عد مراقبہ کرتے اور بعد میں نماز فجر کی امامت فرماتے۔ اس کے بعد اوراد و وظائف کا ورد ، اس کے بعد اشراق کے نوافل ادا کرکے اپنی نشست سے اٹھتے تھے۔ یہ آپ کا روز کا معمول تھا۔

ہر ماہ کو دس ختم قرآن کا ثواب اپنے مرشد مربی کی روح مبارک کو بخشتے تھے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ آپ کس قدر محنت و لگن سے تلاوت قرآن کرتے تھے۔

تعمیرات:
آپ نے اپنے عہد میں درگاہ شریف پر کافی تعمیری کام کروائے مثلاً زنانہ مقبروں کی دیواریں، مسجد شریف کا برآمدہ ، کنواں (جو لنگر خانہ میں واقع ہے) لکڑی کی چھت ار حجرے تعمیر کروائے۔ اس کے علاوہ درگاہ شریف کے باہر والی ٹنکی ، درگاہ شریف اور مسجد شریف کے صحن کے فرش بھی آپ کی خدمت کی یاد گارہیں۔

وصال:
حضرت مولانا حافظ میاں نصیر الدین اول نے ۱۵ محرم الحرام ۱۳۴۷ھ بمطابق ۱۹۲۸ء بروز بدھ وصال کیا ۔ آپ کا مزار درگاہ صدیقیہ شہدادکوٹ ضلع لاڑکانہ میں واقع اور مرجع خلائق ہے۔

کئی بار فقراء سے حضرت خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی علیہ الرحمۃ الباری نے خواب میں فرمایا:

’’اگر مجھے راضی کرنا ہے تو پہلے میرے فرزند میاں نصیر الدین کو راضی کرو‘‘

اس لئے فقراء سب سے پہلے آپ کو فاتحہ دیتے ہیں پھرآگے بڑھتے ہیں۔ آپ کے بعد آپ کے بڑے صاحبزادے میاں عبدالحلیم سجادہ نشین ہوئے۔ (ماخوذ : تجلیات صدیقیہ ص ۳۸)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/mian-naseeruddin-shahdadkoti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
محترم صالح سراج الدین بن عثمان حنفی نقشبندی ڈیروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ اخی سراج کے نام سے مشہور تھے اور شیخ نطام الدین اولیاء کے جلیل القدر خلفاء میں سے تھے، خواجہ نظام الدین کے مریدوں میں آپ اور شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے دونوں سلسلے بہت مشہور ہیں، عین جوانی کے وقت جبکہ آپ کی داڑھی کے بال تک نہ نکلے تھے خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید ہوئے اور چند برس آپ کی خدمت میں رہنے کے بعد اپنی والدہ کی خدمت کے لیے لکھنؤ تی جس کا موجودہ نام گور ہے تشریف لے گئے، چند روز وہاں قیام فرمانے کے بعد پھر واپس شیخ کی خدمت میں حاضر ہو گئے، خلافت دیتے وقت آپ سے شیخ نے فرمایا کہ اس کام میں پہلا مقام علم کو حاصل ہے اور شیخ میں ابھی اتنا علم نہیں ہے، اس پر اس وقت جو لوگ موجود تھے ان میں سے مولانا فخر الدین زرداری نے عرض کیا کہ میں انہیں چھ ماہ میں عالم بنادوں گا، چنانچہ شیخ سراج نے مولانا زرداری سے علم حاصل کیا، مولانا زرداری نے ان کے لیے ایک کتاب بھی بنام عثمانی بھیجی، اس کے بعد شیخ سراج نے مولانا رکن الدین سے کافیہ، مفصل قدوری اور مجمع البحرین پڑھیں، اور حضرت خواجہ نظام الدین کے انتقال کے بعد مزید تین برس تک دیگر درسی کتب کی تحصیل کی پھر شیخ کے موقوفہ کتب خانے سے چند کتابیں، کچھ کپڑے اور خلافت نامہ جو شیخ نے آپ کو دیا تھا لے کر اپنے مقام لکھنؤتی تشریف لے گئے اور دیار کو ولایت کے جمال سے مزین کیا، شیخ نے عین حیات میں آپ کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ ہندوستان کا آئینہ ہے ۔

شیخ سراج نے اپنے شیخ سے جو خرقہ وغیرہ حاصل کیا تھا اسے زمین میں دفن کیا اور اس پر قبر بنادی اور انتقال سے پیشتر اپنے ورثاء کو یہ وصیت کی کہ مجھے کپڑوں والی قبر میں دفن کیا جائے چنانچہ بعد انتقال لوگوں نے ایسا ہی کیا، آپ کے خلفاء شہر گور میں مشہور ہیں جو اب تک بھی موجود ہیں، آپ کا قیام بھی اسی شہر میں تھا، شیخ حسام الدین مانکپوری کے ملفوظات میں ہے کہ شیخ سراج الدین عثمان اودھی کے پاس ایک سہروردی درویش مہمان ہوا، عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد شیخ سراج کپڑے اتار کر اپنے بستر پر سوگئے اور وہ درویش رات بھر نماز و عبادت میں مشغول رہا، صبح کو بستر سے اٹھ کر شیخ نے رات کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی، یہ دیکھ کر اس درویش نے کہا کہ مجھے تعجب ہے کہ آپ تمام رات تو سوتے رہے اور نماز فجر بھی بغیر وضو ادا کی، شیخ سراج نے نہایت ہی متواضعانہ انداز میں کہا کہ آپ بزرگ ہیں، آپ نے تو تمام رات ہی عبادت میں گزار دی اور ہم سامان رکھتے ہیں اور چور تاک میں ہے اس لیے ہم اس کی حفاظت کرتے رہے

اگر عاشق بہ مسجد در نیا مد!
دل عاشق ہمیشہ در نماز است

ترجمہ: (اگر عاشق (حقیقی) عبادت کے لیے مسجد (کسی عذر کی وجہ سے) نہیں آسکتا لیکن اس کا دل ہمیشہ نماز میں مشغول ہے)

(اخبار الاخیار)

صوفی خوشلقا زاہد دلربا مولانا سراج الملۃ والدین عثمان ہیں جو تقوی و طہارت اور زہد و ورع اور مکارم اخلاق اور لطافت طبع میں مشہور اور دوسرے یاروں میں ممتاز و موصوف تھے اور جو سلطان المشائخ کے خلفا میں ایک معزز خلیفہ تھے ان کو لوگ اخی سراج بھی کہتے تھے جو لوگ ملک اودھ اور دیار ہندوستان سے سلطان المشائخ کے غلاموں کے سلسلہ میں داخل ہوئے یہ ان سب سے ارادت میں سابق تھے ۔

سلطان المشائخ کا نفس مبارک ان ہی کے حق میں باین مضمون جاری ہوا ہے کے مولانا سراج الدین آئینہ ہندوستان ہے۔ آپ میں عالم جوانی میں کہ ہنوز ڈاڑھی کے بالوں کا آغاز نہ ہوا تھا۔ لکھنوتی سے آئے اور سلطان المشائخ کے آستانہ پر سرِ ارادت رکھا اور ان یاروں کی صحبت میں پرورش پائی جو سلطان المشائخ کی خدمت و ملازمت میں ہمیشہ زندگی بسر کرتے تھے جب سال تمام ہو جاتا تو آپ اپنی والدہ مکرمہ کو دیکھنے لکھنوتی چلے جاتے اور پھر سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔

آپ بیشتر اوقات سلطان المشائخ کی خدمت میں مجرد الحال اور فارغ البال رہتے اور سلطان المشائخ کے جماعت خانہ کے ایک گوشہ میں اپنی عمر عزیز بسر کرتے حتی کہ کاغذ اور کتاب کہ اس کے علاوہ کوئی سامان و اسباب آپ کے پاس نہ تھا۔ یہ بھی سب کتابت خانہ اور جماعت خانہ میں رکھتے ۔
1
الغرض جب بعض اعلیٰ یاروں کو سلطان المشائخ کے فرمان کے بموجب لوگوں نے خلافت کے لیے منتخب کیا تو ان میں ان بزرگ کو بھی شامل کیا اور جب ان تمام بزرگوں کے نام نامی سلطان المشائخ کے سامنے لیے گئے تو مولانا سراج الدین کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کام میں سب سے پہلا درجہ علم کا ہے اور مولانا سراج الدین علم سے چنداں حصہ رکھتے نہیں جوں ہی یہ بات مولانا فخر الدین زادی کے کان میں پہنچی آپ کی زبانِ مبارک سے نکل گیا کہ میں اسے چھ مہینے میں عالم متبحر اور دانشمند کامل بنادوں گا ـ

چنانچہ مولانا سراج الدین نیکبر سنی میں علم پڑھنا شروع کیا اور کاتب حروف کے ساتھ آغاز تعلم میں میزان اور تصریف اور قواعد اور اس کے مقدمات کی تحقیق کی۔ خود مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے لیے ایک مختصر و مفصل تصریف تالیف کی اور اس کا نام عثمانی رکھا۔ جب تک مولانا فخر الدین غیاث پور میں رہے آپ کو برابر پڑھاتے رہے بعدہ آپ مولانا رکن الدین اندر پتی کی خدمت میں پہنچے اور کاتب حروف کے ساتھ کافیہ۔ مفصل۔ قدوری۔ مجمع البحرین کی تحقیق میں مصروف رہے بہت تھوڑے دنوں میں افادت کے مرتبہ میں پہنچ گئے اور سلطان المشائخ کے خلافت نامہ سے جس پر حضور کی مہر کا نشان تھا مشرف ہوئے۔

قبل اس کے کہ مولانا سراج الدین ہندوستان کا عزم کرتے شیخ نصیر الدین محمود خلافت نامہ لے کر اودھ میں پہنچے۔ اس کے بعد آپ سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اب بھی تعلیم و تعلم میں مشغول رہے جب سلطان المشائخ جنت میں تشریف لے گئے تو اس کے تین سال بعد تک بھی تعلیم و تعلم میں مستغرق رہے اور سلطان المشائخ جعل اللہ الجنتہ مثواہ کے خطیرۂ اقدس میں گنبد کے اندر رہے۔ جب مخلوق دیار دیوگیر کی طرف جلا وطن کی گئی تو مولانا سراج الدین لکھنوتی میں تشریف لے گئے اور کچھ کتابیں حضرت سلطان المشائخ کے کتاب خانہ سے جو طلبہ کے لیے وقف تھا مطالعہ کے لیے ساتھ لیتے گئے۔

علاوہ اس کے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو آپ نے وقتاً فوقتاً حضور سے پائے تھے وہ بھی ساتھ لے گئے اور اس طرف کے شہروں کو اپنے جمال ولایت سے آراستہ و منور کیا اور خلق خدا سے بیعت لینی شروع کی۔ چنانچہ اس ملک کے بادشاہ آپ کے مریدوں کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔ مولانا سراج الدین نے عمر بہت پائی اور نہایت مقصدوری اور کامیابی کے ساتھ زندگی بسر کی۔

آپ نے آخر عمر میں مولانا رکن الدین اندر پتی کے لیے جو آپ کے استاد تھے اور کاتب حروف کے واسطے جو آپ کا ہم سبق تھا بطریق یادگار چند تنکہ چاندیکے روانہ کیئے اور پچھلے حقوق کی رعایت کما حقہ مرعی رکھی (حق تعالیٰ ان سے قبول فرمائے آمین۔) جب آپ کے انتقال کا وقت قریب آلگا تو اطراف لکھنوتی میں اپنے مدفن کے لیے ایک نہایت عمدہ مقام پسند کیا اول اس مقام میں آپ نے سلطان المشائخ کے وہ کپڑے جو اپنے ہمراہ لے گئے تھیبہ تعظیم تمام دفن کئے اور اسے بصورت قبر بنایا بعدہ جب انتقال ہونے لگا تو وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی دفن کرنا چاہیے۔

چنانچہ جب آپ کا وصال ہوا تو سلطان المشائخ کے کپڑوں کی قبر کی پائینتی آپ کا مدفن قرار پایا رحمۃ اللہ علیہ رحمۃً واسعتہ۔ مولانا سراج الدین کا روضہ متبرکہ سلطان المشائخ کے کپڑوں کی برکت سے قبلۂ ہندوستان ہے اور آپ کے خلفا اس زمانہ تک ان شہروں میں خلق خدا سے بیعت لیتے ہیں ۔

( سِیَر الاولیاء )

یوم ولادت: 15 محرم الحرام 1297ھ
یوم وصال: 26 ربیع الاول 1333 ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/mohtaram-saleh-sirajuddin-bin-usman-hanafi-naqshbandi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت میاں علی محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی مجمع علم و عرفان حضرت الحاج میاں علی محمد خان اور آپ کے والد کا نام حضر محمد عمر خاں تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہما) ـ

تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 1299ھ / 1881ء میں بلسی عمر خاں ، متصل ہر یانہ ضلع ہوشیار پور (بھارت) میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم:
حضرت میاں علی محمد خاں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا کی نگرانی میں افاضل اساتذہ سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی، علم طب اور فنون سپر گری پر بھی خصوصی توجہ فرمائی ۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا دین محمد مولانا حکیم محمد عبد اللہ جگراونی اور مولانا مرید احمد خاں اپنے دور میں علم و فضل کے آفتاب دماہتاب ہوئے ہیں ۔

بیعت و خلافت:
مروجہ علوم سے فارغ ہو کر اپنے نانا اور مرشد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلوک و معرفت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے نانا اور مرشد گرامی کی خدمت میں حاضر ہوکر اکتساب کرتے رہے ۔

بیعت آپ نے اپنے نانا جان حضرت خواجہ محمد خاں رحمہ اللہ تعالیٰ سے کی اور خرقہ خلافت بھی اپنے نانا جان سے حاصل کیا ۔ کے وصال پر حضرت خواجہ میاں علی محمد خاں قدس سرہ مسند شیخ پر فائز ہوئے اور سجادگی کا حق ادا کر دیا ۔

سیرت و خصائص:
حضرت میاں صاحب اپنے دور میں سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے سب سے معمر بزرگ تھے ۔ علم و فضل، جود و سخا، زہد و تقویٰ، اتباع شریعت اور اسقامت میں نادر روزگار تھے ۔ خاموشی سے گرانقد دینی خدمات انجام دیتے اور کسی کو خبر تک نہ ہونے دیتے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں بے پناہ حسن ظاہری عطا فرمایا تھا ـ

حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ بزم رشد و ہدایت کی شمع نورانی تھے ۔ ملکی سیاست سے کبھی تعلق نہ رکھا البتہ تحریک پاکستان کے ایام میں مکمل طور پر تحریک کے حامی اور معاون رہے ۔۱۹۴۵ء میں پیر صاحب مانکی شریف ، پاکپتن شریف عرس کے موقع پر مشائخ کرام سے ملے اور تحریک پاکستان کے سلسلے میں مشورے کرتے رہے ۔ اور اکابرین و مشائخ کے قدم قدم سے ملاکر چلے حتٰی کے پاکستان کا قیام ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد حضرت میاں صاحب لاہور تشریف لے آئے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے زیر سایہ اپنی قیام گاہ میں دیڑھ دو ماہ قیام کیا ۔ ایک موقع پر فرمایا ہمیں حضرت داتا گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ ہی اپنے پاس ٹھہر ائیں گے ۔

پھر حضرت فرید گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایسے حاضر ہوئے کہ آپ کا مزار بھی انہی کے مبارک قدموں میں بنا۔ حضرت میاں صاحب اور ادو وثائف کی بے مثال پابندی کے ساتھ ساتھ کتب تصوف کے پڑھنے میں بڑی دلچسبی رکھتے تھے۔

شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی قدس سہر کی تصنیف لطیف "فصوص الحکم" سے تو آپ کو عشق تھا ۔

تاریخِ وصال:
15محرم الحرام 1395ھ / بمطابق 28 جنوری 1975ء بروز منگل آفتاب شریعت و طریقت وحید العصر ، فرید الدہر حضرت میاں علی محمد خاں چشتی نظامی فخری رحمۃ اللہ علیہ کا لاہور میں وصال ہوا ۔

دوسرے دن تین بجے بعد نماز ظہر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر قد س سرہ العزیز کی خانقاہ شریف میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں علماء مشائخ کی کثیر تعداد کے علاوہ ہزاروں تمندوں نے شرکت کی ۔

ان کی آخری آرام گاہ حضرت خواجہ گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درگاہ شریف میں بنائی گئی ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mian-ali-muhammad-chishti
1