زیارتِ سرکارِ دو عالم ﷺ:
ایک باکمال درویش نے آپ کی خدمت مبارکہ میں ایک درود شریف نذر کیا ۔ حضرت نے اسے پسند فرما کر رکھ لیا ۔ اِسی شب میں حضورِ اقدس ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صاحبزادے اٹھو! اور درود شریف پڑھو ‘‘ ۔ آپ بیدار ہوئے، غسل فرمایا، عطر لگایا، بخور وغیرہ روشن کئے اور اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا ۔ ابھی درود شریف ختم بھی نہ کیا تھا کہ زیارتِ سرور کونین ﷺ سے مشرف ہوئے اور آپ علیہ الرحمہ نے سر کی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کا دیدار کیا ۔ آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور درود شریف کے بقیہ اعداد پورے کئے ۔ درود شریف تمام ہونے تک آقا ئے دو عالم ﷺ آپ کے پاس تشریف فرما رہے ۔ مذکورہ درویش کا نام مولانا محمد مکرم مرید شاہ پشاوری علیہ الرحمہ ہے جو 1174ھ کو احمد شاہ درانی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے ۔ (ایضا: 353) ـ
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا، اور جو کتابیں مطالعہ فرماتے اول سے آخر تک دیکھتے، اور پسندیدہ فوائد اس کے اول یا آخر یا اس پر حاشیہ تحریر فرما دیتے ۔ آپ کے کتب خانہ میں مختلف علوم و فنون کی کتب جمع تھیں ۔ جن کی تعداد سولہ ہزار کے قریب تھی ۔ نادر و نایاب کتب کی کتابت خود کرتے، یا کسی کاتب سے کروا کر کتب خانہ میں داخل کر دیتے ۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوقِ شاعری بھی عمدہ عطاء فرمایا تھا ۔ آپ کے اکثر اشعار فارسی اور اردو میں ملتے ہیں ۔ مشہور زمانہ منقبت
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے ‘‘
یہ منقبت آپ علیہ الرحمہ ہی کی ہے ۔
تصنیفات:
آپ کو تصنیف و تالیف سے خاص شغف تھا
1 کاشف الاستار ۔
2 فص الکلمات ۔
یہ کتاب تمام علوم و فنون کی جامع ہے ـ
3 مثنوی اتفاقیہ ۔
4 قصیدہ گوہربار ۔
5 رسالہ عقائد ۔
وہابیوں نے ایک کتاب ’’خزینۃ الاولیاء‘‘ گھڑ کر آپ کی طرف منسوب کر دی ۔ اس سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ کتاب آپ کی ہرگز نہیں ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ؛جلد 29،ص، 68) ـ
اولاد و خلفاء:
آپ علیہ الرحمہ کی پانچ اولادیں ہوئیں:
۱ شاہ آل احمد اچھے میاں ـ
۲ شاہ برکات ستھرے میاں ـ
۳ شاہ آل حسین سچے میاں ـ
۴ سید علی ـ
ان کا وصال بچپن میں ہی ہو گیا تھا،
۵ اور ایک صاحبزادی تھی ۔ علیہم الرحمہ
آپ کے خلفاءِ کرام کی تعداد اکتیس ہے،
اکثر خلفاءِ کرام سے سلسلہ جاری ہے ۔
تاریخِ وصال:
14 محرم الحرام 1198ھ مطابق 10 دسمبر 1783ء، بروز بدھ، بعد نماز مغرب واصل باللہ ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/asad-ul-aarifeen-hazrat-syed-shah-hamza-barkati-qadri-marehravi
ایک باکمال درویش نے آپ کی خدمت مبارکہ میں ایک درود شریف نذر کیا ۔ حضرت نے اسے پسند فرما کر رکھ لیا ۔ اِسی شب میں حضورِ اقدس ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’صاحبزادے اٹھو! اور درود شریف پڑھو ‘‘ ۔ آپ بیدار ہوئے، غسل فرمایا، عطر لگایا، بخور وغیرہ روشن کئے اور اس درود شریف کا ورد شروع کر دیا ۔ ابھی درود شریف ختم بھی نہ کیا تھا کہ زیارتِ سرور کونین ﷺ سے مشرف ہوئے اور آپ علیہ الرحمہ نے سر کی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کا دیدار کیا ۔ آپ تعظیماً کھڑے ہو گئے اور درود شریف کے بقیہ اعداد پورے کئے ۔ درود شریف تمام ہونے تک آقا ئے دو عالم ﷺ آپ کے پاس تشریف فرما رہے ۔ مذکورہ درویش کا نام مولانا محمد مکرم مرید شاہ پشاوری علیہ الرحمہ ہے جو 1174ھ کو احمد شاہ درانی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے ۔ (ایضا: 353) ـ
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ کو مطالعے کا خاص ذوق تھا، اور جو کتابیں مطالعہ فرماتے اول سے آخر تک دیکھتے، اور پسندیدہ فوائد اس کے اول یا آخر یا اس پر حاشیہ تحریر فرما دیتے ۔ آپ کے کتب خانہ میں مختلف علوم و فنون کی کتب جمع تھیں ۔ جن کی تعداد سولہ ہزار کے قریب تھی ۔ نادر و نایاب کتب کی کتابت خود کرتے، یا کسی کاتب سے کروا کر کتب خانہ میں داخل کر دیتے ۔ اسی طرح اللہ جل شانہ نے آپ کو ذوقِ شاعری بھی عمدہ عطاء فرمایا تھا ۔ آپ کے اکثر اشعار فارسی اور اردو میں ملتے ہیں ۔ مشہور زمانہ منقبت
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلۂ دیں مددے کعبۂ ایماں مددے ‘‘
یہ منقبت آپ علیہ الرحمہ ہی کی ہے ۔
تصنیفات:
آپ کو تصنیف و تالیف سے خاص شغف تھا
1 کاشف الاستار ۔
2 فص الکلمات ۔
یہ کتاب تمام علوم و فنون کی جامع ہے ـ
3 مثنوی اتفاقیہ ۔
4 قصیدہ گوہربار ۔
5 رسالہ عقائد ۔
وہابیوں نے ایک کتاب ’’خزینۃ الاولیاء‘‘ گھڑ کر آپ کی طرف منسوب کر دی ۔ اس سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ کتاب آپ کی ہرگز نہیں ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ؛جلد 29،ص، 68) ـ
اولاد و خلفاء:
آپ علیہ الرحمہ کی پانچ اولادیں ہوئیں:
۱ شاہ آل احمد اچھے میاں ـ
۲ شاہ برکات ستھرے میاں ـ
۳ شاہ آل حسین سچے میاں ـ
۴ سید علی ـ
ان کا وصال بچپن میں ہی ہو گیا تھا،
۵ اور ایک صاحبزادی تھی ۔ علیہم الرحمہ
آپ کے خلفاءِ کرام کی تعداد اکتیس ہے،
اکثر خلفاءِ کرام سے سلسلہ جاری ہے ۔
تاریخِ وصال:
14 محرم الحرام 1198ھ مطابق 10 دسمبر 1783ء، بروز بدھ، بعد نماز مغرب واصل باللہ ہوئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/asad-ul-aarifeen-hazrat-syed-shah-hamza-barkati-qadri-marehravi
❤2
زبدۃ الواصلین، حضرت سید شاہ حمزہ عینی مارہروی علیه رحمة الله القوي کی ولادت ۱۱۳۱ھ مارہرہ شریف (یو پی) ہند میں ہوئی اور یہیں ۱٤ محرم الحرام ۱۱۹۸ھ کو وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، سلسلۂ عالیہ قادریہ برکاتیہ کے عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔ آپ کا مزار شریف ”درگاہ شاہ برکت الله“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ (تاریخ خاندان برکات، صفحہ ۲۰ تا ۲۳)
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/755707071673531/
https://www.facebook.com/190656494845261/posts/755707071673531/
❤2
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظم ہند، حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے ۔ والد ماجد نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا ۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص " نوری " فرماتے تھے ۔ لقب: مفتیِ اعظم ہند ہے ۔
آپ امامِ اہلسنت، مجدد دین و ملت، شیخ الاسلام، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے صاحبزادے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ 22 ذی الحجہ 1310ھ 7 جولائی 1893ء بروز جمعہ بوقتِ صبح صادق دنیا میں تشریف لائے ۔ آپ کی جائے ولادت محلہ رضا نگر ، سودا گران شہر بریلی شریف ، یوپی انڈیا ہے ۔
تحصیلِ علم:
حضور مفتئ اعظم ہند قدس سرہٗ نے اصل تربیت تو اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ سے پائی ۔ علوم دینیہ کی تکمیل بھی اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے کی ۔
فراغت:
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ۱۳۲۸ھ / ۱۹۱۰ء میں بہ عمر اٹھارہ سال خدا داد ذہانت ، ذوقِ مطالعہ، لگن اور محنت اساتذہ کرام کی شفقت ورافت ، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہٗ کی توجہ کامل اور شیخ مکرم سید المشائخ قدس سرہٗ کی عنایات کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہل سنت دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی ۔
بیعت و خلافت:
25 جمادی الثانی 1311ھ چھ ماہ تین یوم کی عمر شریف میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
مرشد کامل کی بشارت:
سید المشائخ نے حضرت مفتیِ اعظم کو بیعت کرتے وقت ارشاد فرمایا: " یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گا ۔ اور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا ۔ یہ بچہ ولی ہے ۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گمراہ انسان دین حق پر قائم ہوں گے ۔ یہ فیض کا دریا بہائےگا " ۔
سیرتِ مبارکہ:
اسلام کا وہ بطل جلیل اور استقامت کا جبل عظیم جس کے جہاد بالقلم نے دینِ مصطفٰی ﷺ کی آبیاری فرمائی ۔ جس کی نگاہ کیمیاء اثر نے لاکھوں گم گشتگان راہ کو جادۂ حق سے ہم کنار کیا ۔ جس کے در کی جبیں سائی وقت کے بڑے بڑے مسند نشینوں نے کی ۔ جس کے ناخنِ ادراک میں لا ینحل مسائل کا حل تھا ۔
جو بیک وقت علم ظاہر و باطن کا ایسا سنگم تھا جہاں ہر تشنہ لب کو سیرابی و آسودگی کی دولتِ گراں مایہ ملتی تھی ۔ جو رسول پاک ﷺ کا سچا نائب ، تصدیق حق میں صدیقِ اکبر کا پرتو ، باطل کو چھانٹنے میں فاروق اعظم کا مظہر، رحم و کرم میں ذوالنورین کی تصویر، باطل شکنی میں حیدری شمشیر ۔ جس میں امام اعظم ابو حنیفہ کی فکر ، امام رازی کی حکمت ، امام غزالی کا تصوف اور مولائے روم کا سوزو گداز تھا ۔
جو علم و فضل میں شہرۂ آفاق، معقولات میں بحر ذخار، منقولات میں دریاے ناپیدار کنار، فقہ روایت میں امیر المومنین اور سلطنت قرآن و حدیث کا مسلم الثبوت وزیر المجتہدین، اعلم العلما عند العلماء، افقہ الفقہا عند الفقہا، قطب عالم علی لسان الاولیاء، فانی فی اللہ ، باقی باللہ عاشقِ کاملِ رسول اللہ ﷺ مولانا الشاہ الحاج محمد ابو البرکات محی الدین جیلانی محمد مصطفی رضا قادری قدس سرہ جسے دنیا تاجدار اہل سنت حضور مفتئ اعظم ہند کے نام نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے ۔
وصال:
اکانوے 91 سال اکیس دن کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 14 محرم الحرام 1402ھ ، بمطابق 12 نومبر 1981ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔
ماخذ و مراجع: جہانِ مفتیِ اعظم ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-azam-hind-muhammad-mustafa-raza-khan-noori
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے ۔ والد ماجد نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا ۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص " نوری " فرماتے تھے ۔ لقب: مفتیِ اعظم ہند ہے ۔
آپ امامِ اہلسنت، مجدد دین و ملت، شیخ الاسلام، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے صاحبزادے ہیں ۔
تاریخِ ولادت:
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ 22 ذی الحجہ 1310ھ 7 جولائی 1893ء بروز جمعہ بوقتِ صبح صادق دنیا میں تشریف لائے ۔ آپ کی جائے ولادت محلہ رضا نگر ، سودا گران شہر بریلی شریف ، یوپی انڈیا ہے ۔
تحصیلِ علم:
حضور مفتئ اعظم ہند قدس سرہٗ نے اصل تربیت تو اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ سے پائی ۔ علوم دینیہ کی تکمیل بھی اپنے والد ماجد اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے کی ۔
فراغت:
حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہٗ ۱۳۲۸ھ / ۱۹۱۰ء میں بہ عمر اٹھارہ سال خدا داد ذہانت ، ذوقِ مطالعہ، لگن اور محنت اساتذہ کرام کی شفقت ورافت ، اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہٗ کی توجہ کامل اور شیخ مکرم سید المشائخ قدس سرہٗ کی عنایات کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون منقولات و معقولات پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہل سنت دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی ۔
بیعت و خلافت:
25 جمادی الثانی 1311ھ چھ ماہ تین یوم کی عمر شریف میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا ۔
مرشد کامل کی بشارت:
سید المشائخ نے حضرت مفتیِ اعظم کو بیعت کرتے وقت ارشاد فرمایا: " یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گا ۔ اور مخلوق خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا ۔ یہ بچہ ولی ہے ۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گمراہ انسان دین حق پر قائم ہوں گے ۔ یہ فیض کا دریا بہائےگا " ۔
سیرتِ مبارکہ:
اسلام کا وہ بطل جلیل اور استقامت کا جبل عظیم جس کے جہاد بالقلم نے دینِ مصطفٰی ﷺ کی آبیاری فرمائی ۔ جس کی نگاہ کیمیاء اثر نے لاکھوں گم گشتگان راہ کو جادۂ حق سے ہم کنار کیا ۔ جس کے در کی جبیں سائی وقت کے بڑے بڑے مسند نشینوں نے کی ۔ جس کے ناخنِ ادراک میں لا ینحل مسائل کا حل تھا ۔
جو بیک وقت علم ظاہر و باطن کا ایسا سنگم تھا جہاں ہر تشنہ لب کو سیرابی و آسودگی کی دولتِ گراں مایہ ملتی تھی ۔ جو رسول پاک ﷺ کا سچا نائب ، تصدیق حق میں صدیقِ اکبر کا پرتو ، باطل کو چھانٹنے میں فاروق اعظم کا مظہر، رحم و کرم میں ذوالنورین کی تصویر، باطل شکنی میں حیدری شمشیر ۔ جس میں امام اعظم ابو حنیفہ کی فکر ، امام رازی کی حکمت ، امام غزالی کا تصوف اور مولائے روم کا سوزو گداز تھا ۔
جو علم و فضل میں شہرۂ آفاق، معقولات میں بحر ذخار، منقولات میں دریاے ناپیدار کنار، فقہ روایت میں امیر المومنین اور سلطنت قرآن و حدیث کا مسلم الثبوت وزیر المجتہدین، اعلم العلما عند العلماء، افقہ الفقہا عند الفقہا، قطب عالم علی لسان الاولیاء، فانی فی اللہ ، باقی باللہ عاشقِ کاملِ رسول اللہ ﷺ مولانا الشاہ الحاج محمد ابو البرکات محی الدین جیلانی محمد مصطفی رضا قادری قدس سرہ جسے دنیا تاجدار اہل سنت حضور مفتئ اعظم ہند کے نام نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے ۔
وصال:
اکانوے 91 سال اکیس دن کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 14 محرم الحرام 1402ھ ، بمطابق 12 نومبر 1981ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔
ماخذ و مراجع: جہانِ مفتیِ اعظم ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-azam-hind-muhammad-mustafa-raza-khan-noori
scholars.pk
Mufti Azam Hind Muhammad Mustafa Raza Khan Noori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظم ہند، حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان نوری میاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نام و نسب: اسمِ گرامی: حضرت مفتی اعظم قدس سرہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے ۔ والد ماجد نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا ۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص " نوری " فرماتے…
#یوم_ولادت_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55633
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کتب شان حضور مفتئ اعظم ہند
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5219
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55633
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کتب شان حضور مفتئ اعظم ہند
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/Aalaa_Hazrat_Library/5219
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-01-1445 ᴴ | 01-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-01-1445 ᴴ | 02-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-01-1445 ᴴ | 02-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-01-1445 ᴴ | 02-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1