🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا مفتی عبد الباقی ہمایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سند الکاملین حضرت علامہ عبد الغفور ہمایونی قدس سرہ کونر ینہ اولاد تھی ۔ مولانا عبد الباقی آپ کے نواسہ اور آپ کی رحلت کے بعد پہلے سجادہ نشین مقرر ہوئے ۔ مولانا عبدالباقی بن میاں محمود بن میاں محمد شریف ۱۳۲۳ھ میں تولد ہوئے اور ۱۳۔ ۱۴سال کی عمر میں (علامہ ہمایونی قدس سرہ کے وصال کے بعد ) مسند نشین ہوئے۔ ان دنوں زیر تعلیم تھے اور کافیہ و کنز الد قائق کتابیں پڑھتے تھے۔

تعلیم و تربیت:
آپ کے نانا جا ن نے آپ کی تعلیم و تربیت کیلئے گڑھی یاسین کے عالم مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب کو ہمایون شریف کی درسگاہ میں مدرس مقرر کیا تھا ۔ مسند نشین ہونے سے قبل بھی ان کے پاس تعلیم حاصل کی اور بعد مسند بھی شوق وذوق سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ آپ نہایت ذکی و محنتی تھے۔ درسی نصاب کی تکمیل کے بعد فتاویٰ نویسی میں دلچپسی لی اور ۱۳۳۹ھ میں آپ فارغ التحصیل ہوئے۔ ( ہمایونی ص۲۰)

بیعت:
آپ اپنے نانا جان مفتی اعظم ، عارف کامل علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت تھے۔ (بروایت میاں عبدالحئی قادری) ـ

درس و تدریس:
آپ عالم باعمل ، پرہیز گار ، شب بیدار ، سیکڑوں مریدوں کے پیر ، مدرس ، محرر اور مفتی تھے ۔ فراغت آپ نے ساری زندگی درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی فی سبیل اللہ میں گذار دی۔ دور درازعلاقوں سے آپ کے پاس استفتاء آتے تھے جس کے مدلل جوابات تحریر فرماتے تھے۔ لایخل مسائل میں علماء و جج اور قومی سردار رجوع فرماتے اور آپ کے جاری کردہ فتویٰ پر عمل کرتے ۔ اہل سنت و جماعت کے بے باک ترجمان اور باطل کے لئے شمشیر بے نیام جرائد ’’ماہنامہ الاسلام ‘‘اور ’’ماہنامہ الھمایون ‘‘ آپ کے دور میں حضرت علامہ مفتی محمد صاحبداد خان جمالی نے جاری کئے تھے اور آپ ان رسائل کے سر پرست اعلیٰ تھے۔

تصنیف و تالیف:
آپ نے کافی تعداد میں فتاویٰ جاری فرمائے جو کہ محفوظ ہوں گے لیکن افسوس کہ ان پر کام نہ ہو سکا ۔ اور دیگر رسائل کا علم بھی نہیں ہوا۔

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں سے مفتی سید نور علی شاہ بخاری (جیکب آباد ) مشہور ہیں ۔

اولاد:
مولانا عبدالباقی کو ۵ بیٹے (۱) میاں عبدالباری ، (۲) حکیم صدر الدین، (۳) محمد ایوب ، (۴)اعجاز احمد ، (الطاف احمد اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔ مولانا عبد الباقی کے بعد ان کے بیٹے میاں عبد الباری سجادہ نشین ہوئے۔ انہیں سات بیٹے (۱) ارشاد احمد بابو ، (۲) محمود ، (۳) نیاز احمد ، (۴) زبیر احمد ، (۵) طفیل احمد ، (۶) میاں عبد الباقی عرف بابا، (۷) سہیل احمد اور چاربیٹیاں تولد ہوئیں ۔

آج میاں عبدالباقی ہمایونی ہمایون شریف کے سجادہ نشین ہیں ۔ سیاست سے خاص دلچپسی رکھتے ہیں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور ابھی ابھی اوقاف کے سوبائی وزیر بنائے گئے ہیں ۔ (لیکن ا س کے باوجود درگاہ پر اشاعتی ادارہ نہیں ۔ علامہ ہمایونی قدس سرہ کی تصانیف جلیلہ پر کوئی کام نہ ہو سکا اشاعت کا کوئی پروگرام مرتب نہیں یہی سبب ہے کہ ایک طویل عرصہ ہوگیا ہے لیکن آستانہ سے ایک کتاب بھی شائع نہ ہو سکی ۔ کئی بار رابطہ کیا لیکن ان سے تفصیلی حالات نہ مل سکے ۔

وصال:
مولانا مفتی عبد الباقی ہمایونی نے ساٹھ سال کی عمر میں ۱۴، محرم الحرا م ۱۳۸۳ھ ؍ ۱۹۶۳ء بروز پیر انتقال کیا۔

ہمایون شریف (ضلع جیکب آباد ) میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ آپ کے وصال پر آپ کے استاد محترم مفتی حافظ محمد ابراہیم ناظم نے قطعہ تاریخ وصال کہا :

آہ! وہ افسوس کہ آن فاضل و فیاض جہاں
وآ نکہ بادین نبی بود ہمیشہ مشغول

مسند آرائے بسجادہ غوث عالم
مرجع خلق خدا بود و ہم اصحاب عقول

بیست و چارم تاریخ محرم بود
کہ درآن بیک اجل برسراو کردہ نزول

جستجو چونکہ نمودم زبرائے تاریخ
گشت از عالم افلاک ندائے موصول

زاہد ہادی علامہ عبدالباقی
بجنان جائے گزیں ست باحباب رسول
(۱۳۸۳ھ)

(ماخوذ: ہماہمایونی ص ۲۰ مطبوعہ کراچی ۲۰۰۰ئ)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-baqi-humayuni
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ مفتی محمد مشرف احمد رضوی مظہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت اور تعلیم
حضرت مولانا مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمۃ دہلی میں پیدا ہوئے حفظ قرآن اور تجوید وقرأت کی تکمیل کے بعد ۱۳۵۱ھ؍۱۹۲۳ء میں مدرسہ عالیہ مسجد جامع فتحپوری دہلی سے علوم عقلیہ و نقلیہ میں سند تکمیل حاصل کی، اس کے ساتھ ساتھ فن طب میں سند حاصل کی، اورمہارت تامہ پیدا کی ابتدا میں کچھ عرصہ دہلی میں رہے اور مسجد جامع فتحپوری میں نائب مفتی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر قصبہ نوح میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں استاد ودینیات مقرر ہوگئے۔ چند سال یہاں گزار کر پھر دہلی تشریف لے آئے اور یہاں مسجد شیخان (باڑہ ہند وراؤ) میں خطیب مقرر ہوئے۔ سالہا سال فرائض خطاب اور امامت انجام دیتے رہے اس کے علاوہ مطب بھی فرماتے۔

علم وفضل
مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ فن قرأت، حف قرآن کریم، علوم عربیہ، بالتخصیص فقہ اسلامی پر کمال رکھتے تھے اور اپنی مثال آپ تھے۔ تقریباً تیس سال تحریر فرماتےرہے، جو نہایت فاضلانہ اور تحقیقی وکاوش کا نتیجہ ہوتے تھے اس کے علاوہ مختلف علمی رسائل میں مضامین بھی تحریر فرماتے رہتے تھے۔ مفتی محمد مشرف احمد کے علمی وفقہی اور مذہبی نگار شات کو جمع کیا جائے تو کئی ضخیم مجلدات تیار ہوسکتی ہیں۔ مگر آپ خوموشی کے ساتھ خدمتِ دین میںم صروف تھے۔

فن تقریر گوئی
علامہ مفتی محمدمشرف احمد کی تقریرکا خاص ملکہ حاصل تھا۔ طبیعت نکتہ رس پائی تھی، کئی کئی گھنٹے فاضلانہ اور علمانہ تقریر فرماتے ۔ تبلیغ وارشاد کے فرائض بھی دیتے تھے۔ مفتی محمد شرف احمد کے دست حق پرت پر بہت سے غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔

بیعت وخلافت
مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ علوم ظاہری کے ساتھ ساتھے علوم باطنی میں بھی کمال رکھتے تھے۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدیہ میں حضرت مولانا رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے۔ خلافت واجازت حضرت مولانا مفتی محمد مظہر اللہ علیہ الرحمہ (والد ماجد) نے نوازا تھا [1] ۔ اور سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں حضور مفتئ اعطم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے خلافت واجازت مرحمت فرمائی [2] ۔ مفتی محمد مشرف احمد کے بکثرت مریدین و معتقدین ہیں۔

فنِ طب میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ آپ کے مطب سے بیشمار مریض فیضیات ہوتے تھے۔ طبیعت بے نیاز انہ اور فقیرانہ پائی تھی۔ علاج پُر تاثیر تھا تعویذات وعملیات میں بھی کمال حاصل تھا۔ بفضلہٖ تعالیٰ زیارت حرمین شریفین اور حج بیت اللہ شریف سے بھی مشرف تھے۔ تقریباً بیس سال تک تصنیف وتالیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ مفتی محمد مشرف احمد کی نگار شات کے مطالعہ سے زبان دانی اور بے پناہ قوت اظہار کے ساتھ ساتھ تبحر علمی اور تحقیقی شان کا اندازہ ہوتا ہے۔

نمونۂ کلام
علامہ زمخشری جنات کے وجود کے قائل نہ تھے۔ زمانہ حجۃ الاسلام امام غزالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا، جنات آپ کی خدمت میں آکر مستفیض ہوا کرتے تھے۔ ایک روز آپ نے جنات سے دریافت فرمایا۔ آج کل کیا کیا ہورہا ہے؟ اس کے جواب میں علامہ زمخشری کا ذکر آیا۔ عرض کیا حضور زمخشری قرآن کریم کی تفسیر لکھ رہے ہیں جو نصف تک پہنچ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ لکھا ہے وہ یہاں لے آؤ۔ چنانچہ وہ لے آئے۔ آپ نے اس کی نقل کرواکے اپنے پاس رکھ لی، اور اصل کو وہیں رکھوادیا۔ پھر زمخشری جب آئے تو آپ نے وہ نقل دکھائی دیکھتے ہی حیرت میں رہ گئے۔ کہنے لگے اگر یہ تفسیر اپنی بتاتا ہوں تو تعجب یہ ہے کہ میرا نسخہ دوسرے تک پہنچا کیسے۔ حالانکہ میں نے اس کو نہایت حفاظت کے ساتھ مقفل کر کے رکھا ہے۔ اور اگر کسی دوسرے کی کہوں تو معافی کثیرہ الفاظ کثیرہ اور ان کی وضع و ترتیب کس کس چیز میں اور کہاں تک نوار دمانوں عقل کچھ کام نہیں کرتی، آپ نے فرمایا، یہ تفسیر تمہاری ہی ہے جنات نے لاکر دی ہے۔ تو پھر علامہ زمخشری کو جنات کے وجود کا قائل ہونا پڑا۔ (روح البیان ص ۴، ج۱)

واضح ہوکہ خطیب کا ساعمین کو مواجہ میں ہونا مسنون ہے اور یہ آلہ (لاؤڈ اسپیکر ) خطیب کی مواجہت میں بلا ضرورت حائل ہوکر سنت مواجہت کا مزاحم ہوتا ہے۔ اس طرح سامعین کا خطیب کے مواجہ ہونا مسنون ہے۔ یہاں تک کہ جو لوگ خطیب سے دائیں بائیں جانب ہیں ان کا بھی خطیب کی جانب رُخ کرنا سنت ہے۔ اس آلہ کے استعمال کی صورت میں سنت بھی مفقود ہوتی ہے کہ اب خطیب کی جگہ خود یہ آلہ اس کا قائم مقام ہوگیا ہے۔ اگر چہ سامعین کی طرف سے رد گرواں ہے۔ مگر خطیب کے فرائض تو وہی انجام دے رہا ہے۔ نیز خطیب کا کھڑا ہونا بھی سنت کے درجہ میں ضروری ہے۔ اس آلہ کے ہوتے ہوئے یہ ضرورت بھی ایک حد تک باقی نہ رہتی۔ خطیب کے مشروع وغیر مشروع حالات کا دور تک معائنہ و مشاہدہ ہو سکے اور اس کے جذبات عالیہ قوم پر اثر انداز ہوسکیں یہ آلہ اس سنت کے بھی بعض مقاصد میں مزاحم ہے [3] ۔

اولاد امجاد
مفتی محمد شرف احمد علیہ الرحمہ کے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں سب سے بڑے صاحبزادے مولوی محمد میاں نے علوم عقلیہ و نقلیہ میں مکمل سند مدرسہ عالیہ مسجد فتح
1
پور دہلی سے حاصل کی ہے۔ مولوی محمد میاں بڑے ذہین و فطین اور فاضل وعالم جوان ہیں۔ حافظ قرآن اور علم تجوید وقرأت میں بھی پورا کمال حاصل ہے۔ علوم مغربیہ میں بھی درک ہے۔ فنِ طب میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ تشخیص وتجویز ماہرانہ ہے۔

دوسرے صاحبزادے مولوی احمد میاں ہیں، حافظ قرآن ہیں۔ اور علوم عربیہ کی تحصیل باقی ہے۔ باقی صاحبزادگان بھی حافظ قرآن ہیں اور علوم عربیہ وفاسیہ حاصل کر رہے ہیں، مفتی محمد مشرف احمد کے ایک داماد ہیں جناب قاری ڈاکٹر محمد رضوان اللہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں دینیات کےپروفیسر ہیں۔ اور بڑی خوبیوں کے مالک ہیں [4] ۔

مسجد فتحپوری کی امامت
حضرت مفتی مظہر اللہ علیہ الرحمہ شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی نے ۱۹۴۷ء سے مولانا محمد احمد علیہ الرحمہ کو اپنا قائم اور نائب بنالیا تھا۔ پھر ایک بزرت کی تحریک پر ۱۹۶۰ء میں مولانا محمد احمد کی جگہ حضرت مفتی محمد مشرف احمد کو نائب و قائم مقام بنایا گیا۔ م گر عملاً حضرت مفتی محمد مظہر اللہ کی حیات میں تقسیم ہند سے قبل اور بعد میں مولانا محمد احمد نیابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

۱۹۶۶ء میں دہلی کے خود مختار ادارے سنی مجلس اوقاف نے مولانا محمد احمد کو مفتی محمد مظہر اللہ علیہ الرحمہ کی جگہ امام وخطیب مقرر کر کے اطلاع دیدی۔ مفتی محمد مظہر اللہ نے اس فیصلے ک و قبول کرتے ہوئے خاموشی اختیار فرمائی۔ اسی سال مفتی مظہر اللہ نے وصال فرمایا۔ وصال کے بعد امامت کے فرائض مفتی محمد مشرف احمد انجام دینے لگے۔ مگر سنی مجلس اوقاف نے آپ کی امامت کو تسلیم نہ کیا اور آپکو سبکدوش ہونا پڑا۔ آج کل مسجد فتحپوری کی امامت وخطا بت کے فرائض مولانا محمد احمد کے فرزند اکبر مولانا محمد مکرم احمد انجام دے رہے ہیں، موصوف صاحب علم وفضل بزرگ ہیں۔ مفتی محمد مشرف احمد کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد میاں ثمر دہلوی مسجد شیخان باڑہ ہند وراؤد دہلی میں امامت وخطابت فرمارہےہیں۔ جہاں مفتی محمد مشرف احمد برسوں امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ موصوف صاحب علم، حافظ وقاری اور خطیب ہیں [5] ۔

مکتوب اول
ماہر رضویات محقق وقت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد دامت برکاتہم القدوسیہ نے راقم کی درخواست پر یہ چند مکتوب مہیا فرمائے۔ جو مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ نے ماہر رضویات مدظلہ کے نام لکھے تھے۔

عزیز مہجور ابریز تدر مقصود وقلب تقور اخی مسعود باحمد رب غفور سلمہ الودود وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

دستی وعکسی تہنیت نامہ پہنچا آنکھیں کھُل گئیں کہ عید ایسی جیتی جاگتی گوناگو جلوے دکھاتی برنچ والم کیف وسرور کے نغمے گاتی بجاتی آئی ہے۔ انتخاب عجیب وانشاء غریب کا کیا کہنا، طبقۂ غربائے مساکین متفق اللسان ہیں کہ غریبوں کی کیا عید، عید تو دولت مندوں کی ہے کہ ہزاروں ہزار کیف وسرور سے معمور اور بھر پور ہوتی ہے او کوئی کہتا ہے کہ سب سے زیادہ پر لطف عید آفت رسیدہ اور غمزدہ کی ہے جو عید کے دن دولت صبر وشکر سے نواز ا گیا، گویہ قول ایک تہنیۃ مکنونہ ابلغ من التصریح ہے۔ مگر عزیزی من وطن واصل مسکن دھبی کی رہائش کو غربت سے تعبیر کرنا ایک غیر معمولی مخزون ومکنون غم واندوہ کا ن شان ہے۔ جب تک غم واندوہ کی بیخ کُنی نہ ہوجائے صبر وکشر کی تکمیل نہیں ہوتی، حقیقی صبر وشکر کی نشانی رضا وخوش ہے۔ دیکھو ایک شاعر کیا کہتا ہے؎

ضیئاً لارباب النعیم نعیمھا
واللعاشق المسکین ما یتجرع

اس شعر میں بھی رضا کا پہلو کما حقہ روشن نہیں دوسرے عاشق نے اس کو خوب واضح کردیا ہے۔ کہتا ہے:

اس کو دیکھو جسکی نظروں میں یہ غم آکر بسے
زخم یہ وہ ہے کہ صحت پر یہ کہہ کہہ کر ہنسے
تازہ دارد زخم دل فیض نمکدان کسے
سبر شد نخل مرا داز آپ پیکان کسے

اس عیب جوئی سے آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ مہ جبینوں کے رپخ روشن پر اگر کوئی کا لاداغ ہوتا ہے توہ وہ بدنما نہیں معلوم ہوتا بلکہ حسن وبالا کردینے والا ہوتا ہے۔ انقلاب حاضرہ کی ایک نیرنگی جو کسی وقت آپ کے پیش نظر کی گئی تھی۔ غالباً اس کو آپ نے فراموش فرمادیا۔ ورنہ آپ کو موازنہ عید غریب وعید وطن کے قصور وتحریر کی زحمت کا فیصلہ کر کے دونوں ملکوں میں اپنے احباب وقرباء کا جائزہ لیا جائے تو غریب وطنیت کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ مکان مکین کا تابع ہے نہ مکین مکان کا جو مقام مفیمینی ومطمئنی اعزاء واقرباء سے پر ہو یقیناً وطن سکونت ہے، اور جو مقام ان سے خالی ہو گذر گاہ غربا ہے۔ دونوں ملکوں کے اعزاء وقربا سب کے جائزہ کا مختصر واجمالی خاکہ یہ ہے کہ بہن بھائی وہاں بھی اور بہن بھائی یہاں بھی علیٰ ہذا القیاس خالہ ناموں یہاں، نافی وہاں دادی یہاں، والد ماجد وہاں دو۲ پھوپھیاں؎

لذکو مثل خط الانشین فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتان

وہاں بہنوئیوں کا وجدان یہاں فقدان، وہاں احباب کی کثرت، یہاں قلت، وہاں جاگیردار، یہاں کرایہ دار، وہاں عزت یہاں عسرت وہاں ذلت یہاں رجا، یہاں خوف وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

ایسی صورت میں احد الوطنین میں ترانۂ غربت کیسے موزن ہوسک
1
تا ہے۔ خصوصاً جبکہ اسکا ایسی دلر بائی حاسل ہوکہ وطن آخر سے ہزار ہا فرزندان وطن برابر کھینچے چلے جارہے ہیں اور جو کھینچ نہیں سکتے ان کی آنکھیں اسی دلبر باوطن کی طرف لگی ہوئی ہیں اور دل ب ھی عالم چناں میں اسی وطن کے احباب کے سایۂ شب و روز گل گشت کرتا رہتا ہے۔ ایسے دلربا اور پر فضا وطن کی عید کی ہمسری بھال اُجڑے ہوئے دیار کی عید کب کر سکتی ہے۔ مگر نہیں یہاں برابری اور ہمسری کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ زندہ دل حضرات کی شان کے لائق ایسے ہی اُجڑے وطن کی عید ہے۔ کل حزب بمالدیھم فرحوند

تہنیت نامہ کے آخر میں حد سے زیادہ تاخیر جواب کی شکایت نہایت دل لبھانے والے انداز میں کی گئی ہے، یہ شکایت ایک ح د تک تو بجاودرست ہے۔ لیکن اہم ضروری مصروفتیوں کے آگے ایسی شکائیتوں کے کواکب و نیرات مستور بماند ہوجاتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے میں بسایتین مکاتب کی دلچسپ سیر و تفریح کے سایۂ سایۂ ایسے امر ضروری کا متلاشی رہتا تھا جس کو ضروری مشاغل پر تقدم حاصل ہوا اگر کسی گلزار مکتوب میں کوئی بھی گل مقصود ایسا ہو تو فاوراً بلا تاخیر منتظر جواب اپنے مقصود سے مسعد ہوتا مگر سوائے دلچسپ ملاقات وعلیک سلیک کوئی امر ضروری الجواب مین نہ پایا رہی معنوی ملاقات وعلیک سلیک کوئی تو یہ بلاواسطہ نہیں تو بالواسطہ حاصل ہوتی رہی۔ اس لیے آتشِ شوق واشتیاق فد ہوتی رہی، ماہ صیام کی آمد پر تفسیر وحدیث کے مطالعہ ویبنا کے سلسلہ مشغلہ سے فرصت ملی تو احباب وقرباء کے چند خطوط کے جواب لکھنے کے لیے نکالے خیال تھا کہ ۱۵؍تاریخ تک تھوڑی تھوڑی فرست میں سب کی شکایت کا تدارک ہوجائے گا۔ مگر اب کے سال خلاف معمولی پہلے ہی سے خطونکا سلسلہ شروع ہوگیا اور اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا اور بعد انصرام ماہ صیام سب سے پہلے براور معظم جناب بھائی محمود وصاحب کے مکاتیب ثلٰثہ کا جواب پیش کرنا تھا۔ مگر افسوس کہ ایک کا بھ ی جواب مکمل نہ دے سکا۔ بعد ازاں آپ کی جانب رفع شکایات کے لیے متوجہ ہوا۔ فیصلہ شدہ حتمی اور یقینی امر تھا حسن اتفاق کہ اسہی وقت تہنیت نامہ پہنچا ہے جسے جواب کو بھی اپنے رنگ میں رنگ دیا۔

یہ سب طول طویل قصہ آپ کے انتظار جواب کی کلفت دور کرنےکے لیے لکھ اگیا۔ مگر آپ یہ بتائیں کہ جواب کا انتظار زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے یا کسی مقصود و مسعود کی آمد کا انتظار۔ اگر اہل انصاف کے سامنے یہ مسئلہ رکھا جائ ے تو وہ یقیناً یہی فیصلہ صادر فرمائیں گے کہ ثانی الذکر انتظار کی تکلیف اول الذکر انتظار کی تکلیف سے دو چار نہیں، بلکہ ہزار درجہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ للہ آپ اپنے صحیح اور واقعی ارادہ آمد سے مطلع فرمائیں۔ تجلف ارادات کے تواتر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین پاکستان فولادی ارادوں کے لیے متفاطیس بن گئی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر آپ کی آمد ایک خواب پریشاں نظر آتی ہے۔ آپ کے خط میں مکرمہ معظمہ جنابہ دادی صاحبہ کی خیریت سے ضرور مطلع فرمائیں۔ اور ان کی خدمت بابرکت میں ہم سب کا سلام و نیاز پیش فرمائیں۔ اور پھوپھا صاحب و عمتیق محترمین کی خدمت میں بھی جمیع اہل خانہ ہم سب کی جانب سے حسب مراتب سلام و دعا پیش فرمادیں۔ والسلام

احقر مشرف احمد عفی عنہ بروز جمعہ ۵؍شوال المکرم ستمبر ۱۹۴۹؁ء

مکتوب دوم
اخی الاغر جبین اعززا وعلماء حلماء وکاممن العبرالی الرضا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

مرقع رنج وملال موصول ہوا۔ دل بیقرار سینہ فگار آنکھیں، اشکبار، ہوئیں۔ نامۂ غم اندوہ نے تمام مشاغل سے ہمہ وجوہ یکلخت اپنی طرف جذب کرلیا، اور اس امر پر مجبور کردیا کہ جلد از جلد تسلی نامہ ارسال کیا جائے۔ عزیز من یہاں سب کی ظاہراً وباطناً ہر طرح یہی کوشش ہے کہ آج آپ حضرات سے جلد ملاقات ہو۔ لیکن جب تک اس میں کامیابی نہ ہو اس وقت تک آپ حضرات کی دوری متقضائے مشیئت ہے جس پر ہزار ہانز ویکیاں اور کروڑہا ملاقاتیں قربان ہیں کہ مرضئ مولانا از ہمہ اولیٰ، عقلاً ونقلاً ہر طرح مسلم، ہے، قدرت بچہ سے ماں کا دودھ چھٹاتی ہے تو ساری دنیا بلکہ سارا عالم اسی فطام عقل میں بھی طفل کے لیے صدہا حکمتیں مضمر پاتا ہے، بلکہ آئندہ وہی طفل اس خطام ناگوار کو سراہتا ہے، اور اپنی طفلی پر مسکراتا ہے۔ عزیز من ذرا اس حدیث قدسی کو تو دیکھو یہ تم ہارے لیے کیسی بشارت عظمیٰ ہے۔

انا عند المنکسرۃ قلوبھم

اگر احباب کا قرب نہیں تو اس کا نعم البدل تو دیکھو کیسا عظیم الشان نصیب ہوا۔ اور امام الناصحین علامہ اجل حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے شعر کا ظاہری مطلب سقیم ہے جو تمہارے قلب حزیں کی علیہ شکایت کی شکایت کرتا ہے۔

اے وارث جد امجد مسعود احمد، حبیب احمد اس شعر (دوستاں رالخ) کو میزنا قرآن میں تو لو اور محک فرقان پر کھو، تو اس کا جو ہر اصل آشکا را ہو۔

قال اللہ تعالیٰ ولا یحسبن الذین کفرو ا انما علی لمھخیر لانفسھم انما علی لھم لیزدادوا اثما ولھم عذاب محین

وقال تعالیٰ ام نجعل الذین اٰمنو وعملو الصٰلِحٰت کالمفسدین فی الارض ام ن عجل المتقین کالفجار۔

بھال نوازش خدا وندی سے دشمنانِ دی
1
ن کو کیا تعلق۔ اس کی نوازش تو دوستوں ہی کے ساتھ مخلوص ہے۔

قال علیہ السلام واذا ا احب اللہ عبد اتبلاءہ فان جبن اجتباہ وان رضی اصطفاہ اوکما قال علیہ السلام

قلت فرصت کے سبب گو زیادہ کچھ نہ لکھا جاسکا۔ تاہم مولائے تعالیٰ کے لطف وکرم سے اُمید واثف ہے کہ یہ عجالۂ مختسر نشتر انقلاب کے زخمی دل وخستہ جگر کے لیے مرہم کا فوری ثابت ہوگیا۔ اور آپ سے بھی زیادہ عزیز فاضل بے عدیل مولوی منظور احمد سلمہٗ اللہ تعالیٰ دعا فاۃ واقبا اس شربت روح افزا سے خاص کیف و سرور حاصل کریں گے۔ گوا نہیں تحریر میں إخاطب نہیں کیا گیا۔ مگر انداز تحریر سے وہ تاڑ لیں گے کہ مضمون مکتوب میں وہ خصوصاً مضمون و ملحوظ ہیں، اب آخر میں آپ حضرات سے رخصت ہوتے ہوئے ان بیقرار خوردو کلاں کو سلام و دعا لکھ رہا ہوں۔ جن کو آپ کے مکتوب نے تڑپادیا یہ سلام و دعا مع الأداب والکرام سب سے پہلے دادی صاحبہ دام مجدھا پھر پھوپھا صاحب کے پھر عمتین محترمین پھر درجہ بدرجہ سب کی خدمت میں تحریر ہے۔ تفصیل کی گنجائش نہیں۔ والسلام علیکم وقلوبنا لدیکم، گو جواب تمام مشاغل چھوڑ کر لک لیا تھا۔ مگر مشاغل چھوڑ کر لکھ لیا تھا۔ مگر مشاغل نے ایک اژ دھام کیا اس لیے اسکی روانگی میں ایک روز کی تاخیر ہوگئی۔ آپ کا خط جمعہ کی شام کو موصولہوا اور یہ اتوار کو روانہ ہورہا ہے۔

احقر مشرف احمد عفی عنہ

شنبہ ۲۰؍ربیع الثانی مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۴۹ء



مکتوب سوم
اخی المحجوب عزیز الوجود مولوی مسعود احمد صاحب سلمہٗ الودود و

علیکم السلام وورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

قلبی وقلمی نقش و نگار اور فرح وانبساط سے آراستہ وپیراستہ اپ کا عید کارڈ مردہ دلوں میں روح انسباط پھونکنے والا موصول ہوا، گو باسی سہ باسی کے بعد موصول ہوا۔ مگر اس میں آزاد فضا کا جوش وخروش کس قدر تھا۔ میں یہیں نہیں کر سکتا کہ اس کو پڑھ کر اس قدر باسی عید کس قدر تازہ ہوگئی۔ گویا کہ میںن ے اسی وقت عید منائی فجر اکم اللہ خیراً۔

اس میں شک نہیں کہ یوم عید وہ عظیم الشان تحفۂ ربانی ہے جس کے شکریہ میں اگر مومن عزیز واخوان جی جان دھن دولت سب ہی کچھ قربان کردے تو یہ قربانیاں اس بے بہا نعمت عظمیٰ کا شکریہ نہیں ہوسکتیں۔ فالحمدللہ حمداً ایوانی نعمۃ ولکافی

مزید یہ صرف آپ ہی کے دل ناصور کا ظہور نہیں بلکہ انسان ضعیف البنیان کی طینت کا اقتضاء ہے ۔ جس میں اس انیس مطلق جل جلالہٗ کی حکمت یہ ہے کہ انسان خالی الیف وانیس کی جدائی سے شکستہ خاطر ہو، انسردہ دل ہو عند المنکسرۃ قلوبھم کامژدۂ ربانی فتح روح کا کام ہے۔ اور اسے فانی کےنعم البدل باقی کے قرب خاص وانس کاص سے وہ کیف و سرور حاصل ہو جس پر باسی عیدن نہیں بلکہ تازہ۔

عیدین ہزارہا قربان؎

اتصال بے تکلیف بے قیاس
ہست رب الناس رابا جان ناس

اس دور انقلاب کی عجوبہ کاری تو دیکھو کس قدر باطن ہیں کہ بے وطن غریب الوطن رنجوز بلاؤں سے چور نظر آرہے ہیں، اور کس قدر بے وطن ہیں کہ باوطن بحال ح سن نعم وآلالہ سے مخمور دپرسر ور نظر آرہے ہیں۔ آپ نے جانا کہ عید اپنے پر شکوہ وپرشوکت طریقہ پر گذر گئی۔ مگر اس کا پتہ اسی وقت چلا جب آزاد فضا کا ایک جھونکا آیا۔ گویہاں کے حالات کچھ بھی سہی مگر طبیعت یہی چاہتی ہے کہ آپ جلد سےجلد دہلی پہنچیں۔

فقط والسلام مع الاشتیاق التام

احقر مشرف احمد عفی عنہ

شنبہ ۱۰؍شوال المکرم ۱۹۵۰ء

انتقال پر ملال
مولانا مفتی محمد مشرف احمد رضوی مظہری کا انتقال ۱۴؍محرم الحرام کو ہوا، اور ۱۳؍ محرم ۱۴۰۳ھ کو حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کا وصال پُر ملال ہوا۔ واقعہ یہ ہوا کہ مفتی اعظم قدس سرہٗ کے وصال پُر ملال کی خبر جب بی بی سی لندن سے نشر ہوئی تو آپ نماز فجر سے فراغت پاکر اپنے بستر پر بیٹھے ہوئے یٰسین شریف کی تلاوت فرمارہے تھے۔ مفتی مشرف احمد یہ روح فرساں خبر سنکر اچھل پڑے۔ زبان مبارک پر جملہ یک لخت نکلا۔

‘‘ایک ہی ساتھ جانے کا وعدہ ہوا تھا۔ ارے میرے مفتئ اعطم ہی جب نہ رہے تو میں یہاں رہ کر کیا کروں گا [6] ۔

کلمۂ طیبہ لا الہ اِلَّا اللہ محمد الرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا۔ مزار پر انوار مسد شیخان باڑہ ہند وراؤ دہلی میں مرجع خلائق ہے۔


[1] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۴

[2] ۔ (الف) بروایت مولانا سید شاہد علی رضوی شیخ الحدیث الجامعۃ الاسلامیہ رام پور

(ب) مولانا صغیر احمد رضوی جو کھن پوری نے راقم کو ایک ملاقات میں بتایا کہ مفتی مشرف احمد کو حضرت سے اجازت حاصل تھی۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ

[3] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۴، ۳۷۵، بحوالہ رسالہ قصد السبیل ص ۱۵، ۱۴،

[4] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۵

[5] ۔ مکتوب پروفیسر محمد مسعود احمد مدظلہٗ بنام راقم، محررہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۸۹ء؍۱۴۱۰ھ

(نوٹ) حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی حیات پر محترمہ فاضلہ آر۔ بی۔ مظہری (ریسرچ اسکالر سندھ یونیورسٹی پاکستان) کا تحقیقی مقالہ بنام ‘‘جہان مسعود’’ طبع
1
ہوچکا ہے۔ فاضلہ نے جہان مسعود لکھ کر سوانح نگاروں کو نئے زاویے پر تذکرہ لکھنے کی دعوت دی ہے، اس میں الفاظ کم تحقیق زیادہ ہے۔ راقم کو محترمہ کا یہ اچھوتا طرز نگارش بہت پسند آیا جہان مسعود کے مطالعہ سے محترمہ کی علمی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ

[6] ۔ بروایت حضرت مولانا مفتی سید شاہد علی رضوی محدث الجامعۃ الاسلامیہ گنج قدیم رام پور ۸ مھرم الحرام ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء، ۱۲رضوی غفرلہٗ ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-musharraf-ahmed-rizvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ کریم الدین علوممشاد دینوری

فقراء کے درخشاں آفتاب، اتقیا کے چمکدار ماہتاب منتخب اور برگزیدہ لوگوں کے شیخ وقت، صاحب کشف و کرامت، ذات و صفات میں پسندیدہ سرداری کے خلعت سے ممتاز حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری ہیں (خدا تعالیٰ ان کے مرقد کو اپنے انوار اقدس سے منور کرے) ـ

اس معزز اور پاک نفس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ ہبیرہ بصری سے زیب تن فرمایا۔ آپ ریاضات و مجاہدات میں نہایت بلند و ارفع درجہ رکھتے اور مشاہدات میں انتہا سے زیادہ قدر و منزلت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے زمانہ زندگی میں دن کو کبھی کچھ کھایا نہ پیا چنانچہ لکھا ہے جب بزرگ خواجہ پیدا ہوئے تو صرف رات کو دودھ پیا کرتے تھے لیکن صبح کی پوپھٹتی تو اس وقت سے لے کر شام تک دہن مبارک میں چھاتی نہ لیتے غرضیکہ ابتدائے پیدائش سے منتہائے عمر تک ہمیشہ روزہ سے رہے اور کبھی افطار نہیں کیا یہاںں تک کہ خدا تعالیٰ سے ملاقات کی

ھو الذی قد صام فی ایامہ
من مھدہ حتی زمان رقادہ

یعنی یہ بزرگ وہ مقدس شخص ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی ایام گہوارہ سے قبر میں آرام کرنے کے وقت تک روزہ میں بسر کی۔ (سیر الاولیاء)

آں ماحی رسوم وبشری، وباقی أساس رہبری وتابع آثار احمدی، وموصوف بصفات سرمدی، مزین بہ پیرا یہ دین وری، قطب الابدال حجرت کواجہ ممشاد علودینوری قدس سرہ ریاضات و مجاہدات میں بلند مقام اور مشاہدات ومکاشفات میں رفیع الشان تھے۔ وقت کے جملہ مشائخ آپ کے ظاہری وباطنی کمالات کے قائل تھے۔ حقائق ومعارف کے بیان میں آپ کا کلام بہت بلند ہے۔ آپ کا وطن دینور تھا۔ (بہ کسر دال وفتح نون) جو کوہستان کے شہروں میں ایک شہر ہے۔ لیکن تربیت آپ نے بغداد میں پائی۔ آپ کا اسم گرامی علو ہے اور لقب کریم الدین ہے۔ آپ حضرت کواجہ ہبیرہ الصری قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ ہیں۔ راقم الحروف نے مختلف کتب تواریخ کے مطالعہ سے یہی تحقیق کی ہے کہ علو دنیوری وہی ممشاد دینوری ہیں اور میرے مشائخ کا بھی یہی قول ہے۔ لیکن مراۃ الاسرار میں دو ممشاد دینوری کا ذکر کیا گیا ہے ایک وہ جو حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی قدس سرہٗ کے مرشد ہیں دوسرے اور بزرگ ہیں۔ لیکن راقم الحروف اپنے مشائخ کی شہادت کی بنا پر اس روایت کو صحیح نہیں سمجھتا۔ واللہ اعلم

اولیاء وقت کی زیارت:
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری قدس سرہٗ مشائخ عراق میں سے تھے، یگانہ روزگار تھے، حافظ قرآن تھے، جامع علوم ظاہری وباطنی تھے، بڑے باعظمت وکرامت بزرف تھے، شیخ جنید بغدادی شیخ ردیم، سفیان ثوری اور شیخ المشائخ حضرت خواجہ معروف کرخی قدس سرہٗ کے صحبت یافتہ تھے۔ نیز حضرت خواجہ معروف کرخی قدس سرہٗ سے آپ کو خلافت بھی ملی تھی۔ اس سلسلہ میں بھی آپ صاحب طریقت وسلسلہ ہیں اس کے علاوہ آپ کو بہت سے دیگر مشائخ واولیاء کی صحبت بھی نصیب ہوئی ہے اور ہر مشائخ سے آپ نے اخذ فیض کیا ہے۔

عبادات، ریاضات وعادات، وخصائل

مرید ہونے سے قبل آپ نے سالہا سال ریاضت ومجاہدہ کیا۔ آپ سات دن کے بعد افطار کرتےتھے۔ گلے کی خشکی دور کرنے کے لیے آپ تھوڑا سا پانی پیتے تھے اور خرما پر اکتفا کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے بلکہ ایام طفلی سے روزہ رکھنا شروع کیا تھا اور شیر خوارگی کے زمانے میں آپ نے دن میں کبھی اپنی والدہ کا دودھ نہیں پیا تھا۔ غرضیکہ آپ ساری عمر شیر خوارگی سمیت صائم رہے۔ یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ آپ دیدار الٰہی سے افطار کریں۔ حق تعالیٰ نے آپ کو دولت عرفان والدہ کی گود ہی سے عطا فرمائی تھی۔ منقول ہے کہ آپ اوائل عمر میں مال دار تھے۔ جب حق تعالیٰ کے عشق نے غلبہ کیا آپ نے تمام مال ودولت راہ حق میں دے کر کعبۃ اللہ کا رخ کیا اور عرض کیا کہ الٰہی مجھے تیرے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے عیال واطفال تیرے سپرد کیے انکو رزق عطا کرنا تیرا کام ہے۔ آواز آئی کہ اے علو تم میرے ساتھ رہو تیرے عیال واطفال میرے ذمہ ہیں۔ آپ مکہ معظمہ پہنچ کر عبادت میں مشغول ہوگئے۔ ایک دن آپ بیٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص طعام کو خونچہ سر پر رکھے آیا اور سلام کیا۔ خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ تم کون ہو اور یہ طعام کس ن ے بھیجا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں رمدان غیب[1] میں سے ہوں مجھے حق تعالیٰ سے حکم ملا ہے کہ یہ نعمت آپ کے فرزندوں کو پہنچادوں۔ نیز آپ کے لیے حق تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میرے کام میں کوتاہی نہ کرنا۔ تیرے اہل وعیال میرے بندے ہیں ان کی فکر نہ کرنا میں نے اپنے خزانہ کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے ہیں۔ آپ نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور عبادت حق تعالیٰ میں مشغول ہوگئے۔ فقر وفاقہ پر قناعت کی۔ یہاں تک کہ کپڑوں پر پپوند لگاکر پہنتے تھے اور خدا کے خوف سے اس قدر روتے تھے کہ بے ہوش ہو جاتے تھے ۔
1
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ آپ حضرت خضرعلیہ السلام کے صحبت یافتہ تھے۔ اور خضر ہی کی وساطت سے آپ حضرت خواجہ ہبیرہ بصری کی خدمت میں پہنچے اور مرید ہوئے۔

خواجہ ہبیرہ نے فرمایا آؤ اے علو! تمہارا کام ہمیشہ علو (یعنی بلند) رہے گا۔ میں نے حق تعالیٰ سے درخواست کی ہے کہ میرے جانشین ہو اور خلق خدا کی ہدایت میں سر گرم رہو۔ اس کے بعد آپ نے ان کو ذکر لاالہ الا اللہ تلقین فرمایا اور خلوقت میں بٹھا دیا۔

خلوت میں بیٹھتے ہی حجاب اٹھ گیا اور عرش سے تحت الثریٰ تک سب کچھ نظر آنے لگا۔ راقم الحروف عفی اللہ عنہٗ کہتا ہے کہ ذکر نفی واثبات (لا الہ الا اللہ) اکثر مشائخ سلسلہ چشتیہ کا معمول رہا ہے اور ذکر جہری کے طور پر سالکین کو خلوت میں نفی واثبات کا ذکر کرایا جاتا ہے۔ سلطان المشائخ شیخ نظام الدین اولیاء قدس سرہٗ کے طریقہ کے مطابق یہ ذکر اس طرح کیا جاتا ہے کہ لا الہٰ کہتے وقت یہ تصور کرے کہ جو کچھ غیر اللہ ہے میں نے اسے اپنے دل سے نکال دیا ۔ الا اللہ کہتے وقت یہ خیال کرے کہ میں نے حق تعالیٰ کا اثبات کیا۔ یعنی نفی کے وقت یہ تصور کرے کہ کوئی معبود نہیں ہے اور اچبات کے وقت یہ خیال جمائے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے نیز ہر ذکر اور خصوصاً نفی اثبات میں مرشد کا چہرہ چودہ سال کے نو جوان کا تصور کرے۔ اور اپنے چہرہ کی بجائے رکھے یعنی اپنے آپ کو شیخ کی شکل خیال کرے اور شیخ کو اپنا عین تصور کرے اس ذکر کی اتنیمشق کرنی چاہئے کہ قلب ذاکر ہوجائے اور قلب ذاکر ہوجائے اور قلب کے ذکر کی آواز دل کے کانوں سے سنے۔ بعض درویش ذکر کے وقت اپنی زبان ساکت (خاموش) رکھتے ہیں اور دل میں ذکر کرتے ہیں۔ جو اپنے کانوں سے سنتے ہیں۔ لیکن حضرات قادریہ کے سلسلہ میں بیشتر اسم ذات (اللہ اللہ) کا ذکر کرتے ہیں اور ابتدائے حال میں اسے دل سے جاری کراتے ہیں۔

اس کے بعد باقی لطائف خمسہ پر جاری کرتے ہیں کہ بعد ازاں سارے جسم میں یہ ذکر جاری وساری ہوجاتا ہے۔ اس اثنا میں طالب پر سلطان الاذکار بھی طالب کے پیش آتا ہے ار معاملہ شنید سے نکل کر دید تک پہنچ جاتا ہے (مشاہدہ حاصل ہوتا ہے) اور محو بنائی مطلق ہوجاتا ہے۔ صاحب سیر الاقطاب لکھتے ہیں کہ چونکہ خواجہ ممشاد علو دینوری قدس سرہٗ نے کچھ عرصہ ریاضت ومجاہدہ اپنے پیر مرشد کی خدمت میں کیا تھا ایک دن آپ نےفرمایا کہ اے علو تمہارا کامہوگیا ہے جاؤ وضو کر کے آجاؤ آپ نے حکم کی تعمیل کی۔

حضرت شیخ نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا الٰہی علو کو مقام درویشی پر پہنچادے یہ کہنا تھا کہ حضرت خواجہ ممشاد دینوری بے ہوش ہوگئے کچھ دیر کے بعد ہوش آیا لیکن پھر بے ہوش ہوگئے غرضیکہ آپ چالیس بار بے ہوش ہوئے۔ حضرت خواجہ ہبیرہ قدس سرہٗ نے اپنا لعاب دہن ان کے منہ میں دیا تو حالت درس ہوگئی۔ حضرت شیخ نے فرمایا علو تم نے دیکھ لیا اور اپنے مطلوب ومقصود کا مشاہدہ کرلیا۔ انہوں نے سرزمین پر رکھ دیا۔ اور عرض کیا کہ حضور میں نے تیس سال ریاضت ومجاہدہ کیا لیکن یہ گنج سعادت نصیب نہ ہوا۔

جو طرفہ العین میں پیر دست گیر کے ذریعے حاصل ہوا۔ اس کے بعد حضرت شیخ نے اپنی وہ گلیم جو مشائخ عظام سے ملی تھی خواجہ ممشاد علو کو پہنائی اور سجادہ پر بٹھایا۔ اس دن کے بعد حضرت خواجہ ممشاد علو نے کوئی کام حق تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہ کیا۔ جب کوئی شخص مرید ہونے کے لیے آتا تو آپ سرنگوں ہوکر مراقبہ کرتے اور پھر مرید بناتے تھے ورنہ نہیں اور جو کوئی آپ کا مرید ہوتا اسی روز عرش سے تحت الثریٰ تک اُس پر مکشوف ہوجاتا تھا۔

حضرت اقدس قیلولہ[2]کے سواہر گز نہیں سوتے تھے۔ آپچار پائی پر بھی نہیں سوتے تھے۔ ہمیشہ ذکر مولا اور تلاوت قرآن میں مشغول رہتے تھے۔

ذوق سماع:
آپ صاحب سماع تھے۔ آپ اکثر سماع سنتے تھے اور مجالس سماع منعقد کرتے تھے۔ مجلس سماع کی ابتدا تلاوت قرآن سے کرتے تھے اور آخر میں بھی قرآن پڑھتے تھے۔ ایک دن آپ کو آنحضرت ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی آپ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ سماع کی کس چیز سے آپ کو انکار ہے۔ رسول خداﷺ نے فرمایا ما انکرہٗ بشی (مجھے اس کی کسی چیز سے انکار نہیں ہے)۔ لیکن اہل سماع سے کہہ دو کہ مجلس سماع کا آغاز قرآن سے کیا کریں۔ اس روز سے آپ ہمیشہ اسی پر عمل کرتے تھے۔

بت پرستوں کا ولی اللہ بن جانا

نقل ہے کہ ایک دن کا فر لوگ شہر سے باہر نکل کر بت پرستی کر رہے تھے۔ آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ لوگو تم کو شرم نہیں آتی کہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو۔ آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمات سنتے ہی ان کے دل جہالت سے پھر گئے اور مسلمان ہوگئے حضرت خواجنہ نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا کہ الٰہی تیرے بندے تیری دربار میں حاضر آئے ہیں ان پر عنایت فرمائی جاوے۔ آواز آی کہ اے علوان کے حق میں تم جو دعا کرو پوری کروں گا۔ اس کے بعد حضرت خواجہ نے ان کے حق میں دعا کی تو انہیں عرش سے تحت الثریٰ تک سب کچھ نظر آنے لگا۔ ذکر حق میں مشغول ہوئے اور تھوڑے عرصے میں مطلوب حقیقی تک رسائی ہو گئی ۔
1
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے حضرت کواجہ علو دنیوری کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے کوچہ میں جاؤ تاکہ ممشاد علو کی دعا سے تجھے کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اس نے کہا خدا کا کوچہ کہاں ہے۔ فرمایا جہاں تم کھڑے ہو۔ چنانچہ اس آدمی نے خلوت اختیار کرلی اور بلند مراتب کو پہنچا۔

ایک دفعہ دنیور میں ایسا سیلاب آیا کہ خلق خدا بھاگی ہوئی حضرت شیخ کی خدمت میں گئی۔ راستے میں کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کا وسی مرید مصلے پانی پر بچھائے اس پر بیٹھا آرہا ہے حضرت شیخ نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ اس نے عرض کیا کہ یہس ب آپ کی دعا کا نتیجہ ہے۔ جب آپ خود جانتے ہیں مجھ سے کیا پوچھتے ہیں۔ میں ساری خلقت سے مستفی ہوچکا ہوں۔

جواز عرس و سماع:
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے مشائخ کا عرس کیا کرتے تھے اور عرس کے دوران سماع سنتے تھے لوگ مجلس میں جمع ہوتے تھے اور آپ سب کو طعام کھلاتے تھے ۔ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ سماع سننا اور وہ بھی عرس کے دن یہ کہاں جائز ہے آپ نے فرمایا ہمارے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام، حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ اور ہمارے تمام مشائخ نے سماع سنا ہے۔

عرس کے دن کی خصوصیت میں یہ راز ہے کہ اس روز اولیاء کرام کو محبوب حقیقی کا وصال نصیب ہوتا ہے الموت جسرٌ بوصل الجیب الی الجیب (موت ایک پل ہے جو دوست کو دوست سے ملاتا ہے)۔ پس میں اپنے مشائخ کے یوم وصال کی شادی کے موقعہ پر سماع سنتا ہوں تاکہ ان کی توجہ سے ہم بھی مقام وصال تک پہنچ جائیں۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا ہےکہ جو شخص دوستان حق کی دوستی کا انکار کرتا ہے اس کی ادنیٰ ترین سزا یہ ہے کہ اس کو اس دوستی سے ہرگز نہیں نوازا جاتا۔ جب تک توبہ نہ کرے۔

جمع و تفرقہ کیا ہے:
آپ فرماتے ہیں کہ جمع یہ ہے کہ خلق کو توحید میں جمع کرے اور تفرقہ یہ ہے کہ شریعت میں تو خلق کو متفرق کرے[3]۔

آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے کسی ولی اللہ کی خدمت میں جاکر کوئی سوال نہیں کیا بلکہ صاف دل کے ساتھ حاضر ہوا ہوں حتیٰ کہ وہ جو چاہیں بیان فرمادین۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عارف کو سر میں ایک آئینہ دیا ہے جب بھی اس کے اندر نگاہ کرتا ہے اللہ دیکھتا ہے۔ نیز فرمایا چالیس سال ہوئے ہیں کہ جب بہشت کو اس کی تمام نعمتوں کے ساتھ میرےسامنے کیا جاتا ہے تو میں اسے گوشہ چشم سے بھی نہیں دیکھتا۔

مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ شیخ عبداللہ طاقی حضرت کواجہ محمد خفیف سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے خواجہ ممشاد علو دنیوری کو خواب میں دیکھا کہ ہاتھ آسمان کی جانت اٹھائے ہوئے کھڑے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں اے پرور دگار قلوب اے پروردگار قلوب! اور آسمان نیچے کی جانب آرہا ہے حتیٰ کہ آسمان ان کے سر کے برابر آکر پھٹ گیا اور ان کو اٹھا لیا اور تطروں سے غیب ہوگئے۔ (نقل ہے کہ آخر وقت میں آپ نے ایک شخص سے کہا کہ لا الہ الا اللہ کہو) اس نے کہا میں تمہارے اندر فانی ہوگیا ہوں جو شخص تجھے دیکھتے ہو فرمایا تیس سال ہوئے میں دل کھو بیٹھا ہوں۔ مجھے نہیں مل رہا۔ جب تمام صدیقین نے اس جگہ دل گم کردیا ہے میں اسے کس طرح پا سکتا ہوں ـ

خلفاء:
روایت ہے کہ آنحجرت کے تین خلفاء تھے۔ خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی، حضرت ابو عامر اور شیخ احمد اسود دنیوری جو سہروردیہ میں صاحب سلسلہ ہیں۔ آپ کا وصال بتاریخ چودہ محرم ۹۹ھ ہوا۔ سیر الاقطاب میں تاریخ وصال یہ نکالی گئی ہے ‘‘قدوہ اولیائے حق بود’’[4]

اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود
ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد

[1] ۔ رجال الغیب جو مختلف علاقوں میں صاحب خدمت ہوتے ہیں اور باطنی طور پر فرائض انجام دیتے ہیں۔

[2] ۔ نماز اشراق وچاشت و معمولات ادا کرنے کے بعد دوپہر کے قریب تھوڑی دیر آرام کرنے کو قیلولہ کیا جاتا ہے۔ یہ عام اولیاء کرام کا معمول رہا ہے۔ رات کے وقت نہیں سوتے تھے کیونکہ رات تو اولیاء کرام کی عید ہوتی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے۔ ہر روز روزِ عید است وہر شب شب قدر است گر قدر بدانی ۔
1
[3] ۔ وجمع اور تفرقہ علم سلوک یا طریقت کے دو اصطلاحات ہیں جمع کے مراد فنافی اللہ ہے جہاں پہنچ کر سالک کو اللہ کے سو ا کچھ نہیں آتا اور تفرقہ سے مراد مقام دوئی جسے نزول یا بقا باللہ ودرجدیت ہے جہاں فنا کے استغراق سے نکل کر سالک دوبار مقام کثرت اور دوئی پر واپس آتا ہے یہاں استغراق ختمہوجاتا ہے اور سالک پر صحو یا ہوشیاری طاری ہو جاتی ہے۔

حضرت شیخ  کا مطلب یہ ہے کہ مقام بمع میں سالک خلق کو  مخلوق کا عین دیکھتا ہے اور وحدت الوجود قائم ہو  جاتا ہے۔ لیکن مقام عبدیت پر  نزول کے بعد خالق اور مخلوق میں مغائرت پیدا ہوجاتی ہے اور احکام شریعت لازم آتے ہیں۔ اور یہی تفرقہ  ہے یعنی خالق کو مخلوق  سے الگ دیکھنا۔ یادر ہے کہ یہ بحث بہت طویل ہے ہاں صرف اس قدر بتایا جا سکتا ہے کہ عینیت اور غیریت کے متعلق جس قدر اخلاق کا طوفان ب رپا ہوچکا ہے محض نزاع لفظی اور بلا ضرورت ہے۔

وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے اختلاف کو بھی خود مجدد الف ثانی قدس سرہٗ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے نزاع لفظی کہا ہے۔ کیونکہ ایک لحاظ سے خلق عین خالق ہے اور ایک لحاظ سے غیر ہے۔ چونکہ کائنات حق تعالیٰ کی صفت خلق کا ظہور ہے  اگر صفات کو موصوف کا عین تصور کیا جائے تو خلق خالق کی عینہ۔ اور صفات کو موصوف کا غیر تصور کیا جائے تو خلق خالق کی غیر ہے اس لیے اولیاء کرام نے فرمایا ہے کہ صفات اللہ ھِیَ لاَ عَیْنِہٖ وَ لاَ غَیرِہٖ (یعنی صفات نہ اللہ تعالیٰ کا عین ہیں نہ غیر) یعنی ایک لحاث سے ہم عین کہہ سکتے ہیں اور ایک لحاظ سے غیر یہ صرف نقطۂ نگاہ کا فرق ہے اس سے تصادم لازم نہیں آتا۔

آپ کی مرضی آپ صفات کو موصوف کا عین سمجھیں یا غیر اگر عین سمجھیں گے و اس کا نام وحدت الوجود با جمع اور عینت ہے۔ اگر صفات کو موصوف کا گیر تصور کریں گے تو یہ تفرقہ غیریت ہے وحدت نہیں ہے چنانچہ حضرت شیخ کا مطلب یہ ہو اکہ جب سالک کو ذات احدیت میں فنائیت حاصل ہوتی ہے تو اس وقت وہ ہر چیز کو خالق میں گم دیکھتا ہے یہ وحدت الوجود اور جمع ہے۔ جب مقام دوئی پر واپس آتا ہے تو کثرت قائم ہوجاتی ہے اور خالق و مخلوق میں عینیت کی بجائے غیریت قائم ہوجاتی ہے اور احکام شریعت لازم ہوجاتے ہیں یہ بھی یادر ہے کہ قنائیت عارضی ہوتی ہے اس لیے علی الدوام ترک احکام شرع لازم نہیں آتا۔

یہ چند ساعت کا مراقبہ ہوتا ہے جہاں شریعت سے تحائف کی نوبت ہی نہیں آتی۔ البتہ جو لوگ مجذوب ہوجاتے ہیں اور دائمی طور پر فنا میں رہ جاتے ہیں وہ مرفوع القلم ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ معذور ہیں ۔ (اقتباس الانوار) ـ

فقراء کے درخشاں آفتاب، اتقیا کے چمکدار ماہتاب منتخب اور برگزیدہ لوگوں کے شیخ وقت، صاحب کشف و کرامت، ذات و صفات میں پسندیدہ سرداری کے خلعت سے ممتاز حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری ہیں (خدا تعالیٰ ان کے مرقد کو اپنے انوار اقدس سے منور کرے) اس معزز اور پاک نفس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ ہبیرہ بصری سے زیب تن فرمایا۔

آپ ریاضات و مجاہدات میں نہایت بلند و ارفع درجہ رکھتے اور مشاہدات میں انتہا سے زیادہ قدر و منزلت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے زمانہ زندگی میں دن کو کبھی کچھ کھایا نہ پیا چنانچہ لکھا ہے جب بزرگ خواجہ پیدا ہوئے تو صرف رات کو دودھ پیا کرتے تھے لیکن صبح کی پوپھٹتی تو اس وقت سے لے کر شام تک دہن مبارک میں چھاتی نہ لیتے غرضیکہ ابتدائے پیدائش سے منتہائے عمر تک ہمیشہ روزہ سے رہے اور کبھی افطار نہیں کیا یہاںں تک کہ خدا تعالیٰ سے ملاقات کی ـ

ھو الذی قد صام فی ایامہ
من مھدہ حتی زمان رقادہ

یعنی یہ بزرگ وہ مقدس شخص ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی ایام گہوارہ سے قبر میں آرام کرنے کے وقت تک روزہ میں بسر کی ۔

آپ کا لقب کریم الدین تھا، ریاضت اور مجاہدہ میں عالی مقام رکھتے تھے کلام پاک کے حافظ تھے خرقۂ خلافت و ارادت حضرت خواجہ ہبیرہ رحمۃ اللہ علیہ سے پایا آپ عراق کے صاحب ولایت و کرامت مشائخ میں مشہور تھے آپ حضرت جنید بغدادی رویم اور حضرت سفیان نوری رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر تھے، حضرت شیخ معروف کرفی رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء کے پاس بھی حاضری دیتے تھے۔ ان سے بھی خرقۂ خلافت حاصل کیا تھا، آپ کو سلسلہ معروفی سے بھی اجازت ملی تھی، حضرت شیخ معروف کرفی سے چار نسبتوں سے واسطہ تھا ۔

خواجہ علو دینوری، خلیفہ شیخ عبد اللہ بن خفیف وہ خلفہ شیخ محمد رویم کے تھے اور وہ حضرت جنید بغدادی کے خلیفہ تھے آپ حضرت سری سقطی کے خلیفہ تھے، وہ حضرت معروف کرخی کے خلیفہ تھے۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین، ان حضرات کے علاوہ بھی آپ نے بہت سے بزرگان دین سے فیض پایا تھا ۔
1
خواجہ علو دینوری ابتدائی زندگی میں بڑے صاحب ثروت و دنیا دار تھے، مگر جب اللہ سے لگاؤ، ہوا تو سب کچھ غریبوں میں تقسیم کردیا اور کعبۃ اللہ کی طرف روانہ ہو گئے، اور فرمایا اے اللہ میں نے اپنے عزیز و اقارب کو تیرے سپرد کردیا ہے اب انہیں رزق دینا تیرا کام ہے، دینور سے روانہ ہوئے، مکہ معظمہ پہنچے ایک دن دوران سفر ایک شخص کو دیکھا کہ سر پر کھانا رکھے تیز تیز جا رہا تھا، پوچھا تم کون ہو، اور  کہاں جا رہے ہو، اور یہ کھانا کس کے لیے ہے؟ فرمایا میں رجال الغیب سے ہوں، یہ کھانا تمہارے اہل و عیال کے لیے ہے مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ ہر روز انہیں کھانا پہنچاؤں۔

جس دن خواجہ علو دینوری نے خرقہ خلافت پہنا، خواجہ ہبیرہ بصری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو فرمایا اے علو، جاؤ تماہرا کام بھی علو (اعلیٰ) ہو گیا، وضو کرکے ہمارے پاس آؤ، وضو کرکے آئے تو پیر روشن ضمیر نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور آسمان کی طرف منہ کرکے کہا اے اللہ! علو کو درویشی عطا فرمادے یہ بات سنتے ہی خواجہ علو بیہوش ہوکر گر پڑے چند لمحوں کے بعد ہوش میں آئے پھر بے ہوش ہوگئے، اس طرح چالیس بار بے ہوش ہوئے آخرکار پیر روشن ضمیر نے اپنا لعب دہن منہ میں ڈالا، آپ کو ہوش آیا ، قدموں میں گر گئے، فرمایا،علو! تمہیں اپنے مطلب کا دیدار ہوگیا ہے آپ نے عرض کیا کہ میں تیس سال مجاہدہ کرتا رہا ریاضتیں کیں، مگر یہ مقام نہ پاسکا، آج آپ کی وساطت سے ایک لمحہ میں پہنچ گیا ہوں، اور بے پناہ دولت م لی ہے، خواجہ ہبیرہ نے اپنا خرقہ پہنایا اور اپنے مصلی پر بٹھا کر ارشاد و سلوک کی اجازت دی۔

حضرت خواجہ علو کی عادت تھی کہ اپنی زندگی کے چالیس سالوں میں دن کے وقت کبھی کوئی چیز نہیں کھائی رات کو کچھ نہ کچھ کھالیتے تھے بعض تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ شیر خوارگی کے زمانہ میں بھی آپ صرف رات کو دودھ پیا کرتے تھے، آپ تولد سے لحد تک صائم الدہر رہے ۔

وصال:
آپ کی وفات ۲۹۸ ھ میں ہوئی اور اسی پر تمام وقائع نگاروں کا اتفاق ہے، یاد رہے کہ بزرگان دین کے حالات میں ایک اور بزرگ خواجہ ممشاد دینوری کا نام نامی بھی ملتا ہے آپ سلسلہ سہروردیہ کے بزرگ تھے، اور حضرت خواجہ جنید کے سلسلہ میں سے تھے، بعض تذکرہ نگاروں نے خواجہ علو دینوری اور خواجہ ممشاد دینوری کو ایک ہی بزرگ لکھا ہے ان دنوں نے دونوں خاندانوں سے فیض پایا تھا، اس لیے یہ تسامح واقعہ ہوا ہے، دار اشکوہ نے اپنی مشہور کتاب سفینۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ خواجہ علو دینوری خانوادہ چشتیہ عالیہ کے بزرگ تھے اور خواجہ ممشاد دینوری خانوادہ سہروردیہ سے تعلق رکھتے تھے شاید دار اشکوہ کی یہ تحقیق درست ہی ہو، مگرایک بات سامنے آتی ہے کہ دونوں بزرگوں کی تاریخ وفات ایک ہی ہے یعنی ۲۹۸ھ ہوسکتا ہے اس وجہ سے یہ شک پیدا ہوا ہو، اور لوگوں نے ممشاد اور علو کو ایک ہی شخصیت جان لیا ہو۔

تاریخ وفات:
شیخ عالی علو دینوری
یافت چوں زین جہاں بخلد مکان
شد عیاں آنچہ از دل سرور
سالِ ترحیل آن شہِ ذیشاں
۲۹۸ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-kareemuddin
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ اختیارالدین عمر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کے آباء و اجداد علاقہ ایرج کے رئیس لوگوں میں سے تھے ـ جو حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز المرام تھے ـ

آپ نے اپنے جذبہ حق کی وجہ سے دنیاوی عزت، سامان راحت اور بڑے اونچے عہدے کی بڑی تنخواہ وظیفہ برضا و رغبت ترک کرکے علم و زہد میں قدم رکھا ـ

اور شیخ نصیر الدین محمود دہلوی کے مرید و خلیفہ قاضی محمد ساوی سے جو اس زمانہ کے بہت بڑے صالح عالم تھے، تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہو گئے ـ

تحصیل علم کے بعد انہیں سے بیعت ہو گئے اور خلافت و اجازت حاصل کی ـ

وصال:
آپ نے 14 محرم الحرام 809ھ میں وفات پائی آپ کا مزار ایرج ہی میں ہے ۔

اخبار الاخیار ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-ikhtiaruddin-umar
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1