حضرت مولانا غلام قادر اشرفی
لالہ موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا غلام قادر اشرفی بن میاں باغ علی چشتی، ۱۴؍ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ مطابق ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۶ میں فرید کوٹ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میاں باغ علی چشتی کو حضرت میاں محمد شاہ چشتی بستی نو (ضلع ہوشیار پور) سے شرفِ بیعت حاصل تھا۔
ابھی آپ کا عہدِ طفولیّت ہی تھا کہ والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ۱۹۱۱ء میں سکول میں داخل ہوئے اور ۱۹۲۲ء میں امتیازی حیثیت سے میڑک کرنے کے بعد کالج میں داخلہ لے لیا مگر طبیعت مائل نہ ہوئی۔
کالج کی فضا سے نکلے اور دینی درس گاہ سے منسلک ہوگئے مذہبی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی اور مختلف اساتذہ سے اکتساب کرنے کے بعد سندِ فراغت جامعہ نعیمیہ مراد آباد (یوپی) سے حاصل کی۔
آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوائے تلّمذ طے کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا محمد سعید شبلی فرید کوٹی
۲۔ مفتی اعظم محمد مظہر اللہ خطیب و امام جامع مسجد فتح پوری دہلی (والد ماجد جناب پروفیسر مسعود احمد صاحب)
۳۔ حضرت مولانا سیّد غلام قطب الدین برہمچاری، اشرفی سہسوانی
۴۔ حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب برہمچاری
۵۔ حضرت بابا خلیل داس ایم اے (سنسکرت) چترویدی
۶۔ حضرت مولانا عبد العزیز فتح پوری
۷۔ حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ
آپ نے مدرسہ حلقہ اشاعت الحق گشتی (مراد آباد) کا تبلیغی کورس بھی مکمل کیا، جس میں ہندی، بھاشا اور سنسکرت کی تعلیم حاصل کی، اس کے علاوہ گور مکھی اور گیانی پر بھی عبور حاصل کیا۔
دورانِ طالب علمی مراد آباد کی سنی کانفرس (منعقدہ مارچ ۱۹۲۵ء) میں ایک رضا کار کی حیثیت سے حصّہ لیا۔ اس وقت ہندو اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کر رہے تھے کہیں فتنہ ارتداد برپا تھا، تو کہیں قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ چنانچہ ان فتنوں کے سدِّ باب کے لیے یہ کانفرس منعقد ہوئی اور اس میں مشاہیر مشائخ و علماء اہل سنت نے شرکت کی۔
تحصیلِ علم کے بعد آپ نے ۲۸۔۱۹۲۶ء (تین سال) تک مکتسر ضلع فیروز پور میں تدریس و خطابت کے فرائض سر انجام دیے اور ساتھ ہی نواب شاہ نواز ممدوٹ کی ہدایت پر سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔
شدھی تحریک میں آپ نے اپنے استاذ محترم حضرت مولانا برہمچاری رحمہ اللہ کے ساتھ بھر پور حصہ لیا اور مختلف بھیس بدل کر مثلاً معالج حیوانات، وید حکیم، گانے والی پارٹیوں اور سادھؤوں کی پارٹی وغیرہ بناکر شدھی تحریک کو کیفر کردار تک پہنچایا اس طرح آپ نے لاکھوں مسلمانوں کو مرتد ہونے سے بچالیا۔
۱۹۶۵ء میں آپ نے سیاست میں مکمل طور پر دلچسپی لینا شروع کردی۔ ضلع فیروز پور میں خطابت کے دوران نواب شاہ نواز ممدوٹ کی نگرانی میں مسلم لیگ کے نصب العین اور سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کے سلسلے میں کام کرتے رہے۔ شاردا ایکٹ کو ناکام بنانے کے لیےبھی علماء و مشائخ کے شانہ بشانہ کام کیا۔
۱۹۲۹ء میں مولانا نے عملی طور پر سیاست میں حصہ لیا مغلپورہ ایجی ٹیشن میں بھر پور کام کیا ۱۹۳۱ء میں تحریکِ کشمیر میں اور ۱۹۳۲ء میں جب مسلمانانِ ریاست الور ریاستی مظالم کی تاب نہ لاکر اجمیر شریف، پھرت پور، گوڈ گانواں اور دہلی کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے تو آپ حضرت سیّد غلام بھیک نیرنگ انبالوی رحمہ اللہ (آپ کے پیر بھائی) سیکرٹری جنرل انجمن تبلیغ الاسلام کے زیرِ کمان کام کرتےرہے۔
۱۹۳۳ء میں تحریکِ قادیان اور ۱۹۳۵ء میں تحریک مسجد شہید گنج میں بھر پور حصہ لیا۔ ۱۹۳۵ء ہی میں ملک برکت علی بیرسٹر لاہور (مشہور لیگی لیڈر) کے حلقہ انتخاب قصور میں کام کرتے رہے اور ملک صاحب بفضلِ خدا کامیاب ہوئے۔
۱۹۳۸ء میں لالہ موسیٰ ضلع گجرات کے اسلامیہ ہائی سکول میں مدرّس مقرر ہوئے اور پھر مستقل طور پر یہیں رہائش اختیار کرلی اور اب تک مذہب و ملّت کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
۱۹۳۸ء ہی میں تحریک آریہ سماج جو نظام حیدر آباد کے خلاف جتھہ بندی کی صورت میں چلائی گئی تھی، کے انسداد کے لیے کافی خدمات سر انجام دیں اور یومِ نظام منایا گیا۔
۱۹۳۹ء میں قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ہدایت پریومِ نجات منایا گیا، تو مولانا نے بھی مجلسِ تبلیغ الاسلام لالہ موسیٰ کے زیرِ اہتمام یہ دن منایا آپ بھر پور کوشش کر کے ضلع بھر میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لائے اور جابجا اس کی شاخیں قائم کیں۔
۱۹۴۰ء میں خضر و زارت میں مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں حصّہ لیا اور قراردادِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ کی پبلسٹی کے لیے زندگی وقف کردی حکیم سردار خان جو اس وقت مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے۔ ان کے ساتھ مولانا ضلع بھر کا دورہ کرتے رہے اور انتخابات کے دوران ضلع بھر کے اہم مقامات پر سر فیروز خان نون اور س
لالہ موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مولانا غلام قادر اشرفی بن میاں باغ علی چشتی، ۱۴؍ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ مطابق ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۶ میں فرید کوٹ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میاں باغ علی چشتی کو حضرت میاں محمد شاہ چشتی بستی نو (ضلع ہوشیار پور) سے شرفِ بیعت حاصل تھا۔
ابھی آپ کا عہدِ طفولیّت ہی تھا کہ والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ۱۹۱۱ء میں سکول میں داخل ہوئے اور ۱۹۲۲ء میں امتیازی حیثیت سے میڑک کرنے کے بعد کالج میں داخلہ لے لیا مگر طبیعت مائل نہ ہوئی۔
کالج کی فضا سے نکلے اور دینی درس گاہ سے منسلک ہوگئے مذہبی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی اور مختلف اساتذہ سے اکتساب کرنے کے بعد سندِ فراغت جامعہ نعیمیہ مراد آباد (یوپی) سے حاصل کی۔
آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوائے تلّمذ طے کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
۱۔ حضرت مولانا محمد سعید شبلی فرید کوٹی
۲۔ مفتی اعظم محمد مظہر اللہ خطیب و امام جامع مسجد فتح پوری دہلی (والد ماجد جناب پروفیسر مسعود احمد صاحب)
۳۔ حضرت مولانا سیّد غلام قطب الدین برہمچاری، اشرفی سہسوانی
۴۔ حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب برہمچاری
۵۔ حضرت بابا خلیل داس ایم اے (سنسکرت) چترویدی
۶۔ حضرت مولانا عبد العزیز فتح پوری
۷۔ حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ
آپ نے مدرسہ حلقہ اشاعت الحق گشتی (مراد آباد) کا تبلیغی کورس بھی مکمل کیا، جس میں ہندی، بھاشا اور سنسکرت کی تعلیم حاصل کی، اس کے علاوہ گور مکھی اور گیانی پر بھی عبور حاصل کیا۔
دورانِ طالب علمی مراد آباد کی سنی کانفرس (منعقدہ مارچ ۱۹۲۵ء) میں ایک رضا کار کی حیثیت سے حصّہ لیا۔ اس وقت ہندو اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کر رہے تھے کہیں فتنہ ارتداد برپا تھا، تو کہیں قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ چنانچہ ان فتنوں کے سدِّ باب کے لیے یہ کانفرس منعقد ہوئی اور اس میں مشاہیر مشائخ و علماء اہل سنت نے شرکت کی۔
تحصیلِ علم کے بعد آپ نے ۲۸۔۱۹۲۶ء (تین سال) تک مکتسر ضلع فیروز پور میں تدریس و خطابت کے فرائض سر انجام دیے اور ساتھ ہی نواب شاہ نواز ممدوٹ کی ہدایت پر سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔
شدھی تحریک میں آپ نے اپنے استاذ محترم حضرت مولانا برہمچاری رحمہ اللہ کے ساتھ بھر پور حصہ لیا اور مختلف بھیس بدل کر مثلاً معالج حیوانات، وید حکیم، گانے والی پارٹیوں اور سادھؤوں کی پارٹی وغیرہ بناکر شدھی تحریک کو کیفر کردار تک پہنچایا اس طرح آپ نے لاکھوں مسلمانوں کو مرتد ہونے سے بچالیا۔
۱۹۶۵ء میں آپ نے سیاست میں مکمل طور پر دلچسپی لینا شروع کردی۔ ضلع فیروز پور میں خطابت کے دوران نواب شاہ نواز ممدوٹ کی نگرانی میں مسلم لیگ کے نصب العین اور سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کے سلسلے میں کام کرتے رہے۔ شاردا ایکٹ کو ناکام بنانے کے لیےبھی علماء و مشائخ کے شانہ بشانہ کام کیا۔
۱۹۲۹ء میں مولانا نے عملی طور پر سیاست میں حصہ لیا مغلپورہ ایجی ٹیشن میں بھر پور کام کیا ۱۹۳۱ء میں تحریکِ کشمیر میں اور ۱۹۳۲ء میں جب مسلمانانِ ریاست الور ریاستی مظالم کی تاب نہ لاکر اجمیر شریف، پھرت پور، گوڈ گانواں اور دہلی کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے تو آپ حضرت سیّد غلام بھیک نیرنگ انبالوی رحمہ اللہ (آپ کے پیر بھائی) سیکرٹری جنرل انجمن تبلیغ الاسلام کے زیرِ کمان کام کرتےرہے۔
۱۹۳۳ء میں تحریکِ قادیان اور ۱۹۳۵ء میں تحریک مسجد شہید گنج میں بھر پور حصہ لیا۔ ۱۹۳۵ء ہی میں ملک برکت علی بیرسٹر لاہور (مشہور لیگی لیڈر) کے حلقہ انتخاب قصور میں کام کرتے رہے اور ملک صاحب بفضلِ خدا کامیاب ہوئے۔
۱۹۳۸ء میں لالہ موسیٰ ضلع گجرات کے اسلامیہ ہائی سکول میں مدرّس مقرر ہوئے اور پھر مستقل طور پر یہیں رہائش اختیار کرلی اور اب تک مذہب و ملّت کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
۱۹۳۸ء ہی میں تحریک آریہ سماج جو نظام حیدر آباد کے خلاف جتھہ بندی کی صورت میں چلائی گئی تھی، کے انسداد کے لیے کافی خدمات سر انجام دیں اور یومِ نظام منایا گیا۔
۱۹۳۹ء میں قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ہدایت پریومِ نجات منایا گیا، تو مولانا نے بھی مجلسِ تبلیغ الاسلام لالہ موسیٰ کے زیرِ اہتمام یہ دن منایا آپ بھر پور کوشش کر کے ضلع بھر میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لائے اور جابجا اس کی شاخیں قائم کیں۔
۱۹۴۰ء میں خضر و زارت میں مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں حصّہ لیا اور قراردادِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ کی پبلسٹی کے لیے زندگی وقف کردی حکیم سردار خان جو اس وقت مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے۔ ان کے ساتھ مولانا ضلع بھر کا دورہ کرتے رہے اور انتخابات کے دوران ضلع بھر کے اہم مقامات پر سر فیروز خان نون اور س
❤2
ردار شوکت حیات خان کی معیّت میں دورہ کیا مسلم لیگ کا سبز پرچم لہراتے ہوئے صبح سے لے کر رات گئے تک گلی کوچوں میں پھرتے تھے۔
۱۹۴۵ء میں آپ نے ملک فیروز خان نون اور سردار شوکت حیات کے ساتھ مسلم لیگی امیدواروں کے لیے شب و روز کام کیا اور اسی سال مسلم لیگیوں کی طرف سے قائدِ اعظم کو مسلم لیگ کی طرف سے تھیلی پیش کی۔[۱]
[۱۔ دلچسپ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے ’’اکابرِ تحریکِ پاکستان‘‘ مرتبہ محمد صادق قصوری ص ۱۷۹۔]
ان مجاہدانہ سرگرمیوں کی بناء پر آپ نے مختلف اوقات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مجموعی طور پر آپ نے ملک و ملت کے لیے تقریباً چار سال کا عرصہ جیلوں میں گزارا، مگر آپ کے عزم و حوصلے اور ولولے میں ذرّہ بھر کمی واقع نہیں ہوئی۔
۱۹۴۶ء میں علماء اہل سنت نے بنارس میں آل انڈیا سنّی کانفرنس منعقد کی جس میں ملک کے کونے کونے سے مشائخ و علماء کا جمِّ غفیر شریک ہوا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سنیّوں نے بنانا ہے اور وہ پاکستان بنا کر رہیں گے۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت محدّث کچھوچھوی سید محمد اشرفی جیلانی (صدر آل انڈیا سنّی کانفرنس) نے خطبہ صدارت ارشاد فرمایا جس کا ایک اقتباس مندرجہ ذیل ہے:
’’حضرات! میں نے بار بار پاکستان کا نام لیا ہے اور آخر میں صاف کہہ دیا ہے کہ پاکستان بنانا صرف سنیّوں کا کام ہے اور پاکستان کی تعمیر آل انڈیا سنّی کانفرنس کرے گی اس میں کوئی بات بھی نہ مبالغہ ہے نہ شاعری ہے اور نہ سنّی کانفرنس سے غلو کی بناء پر ہے پاکستان کا نام بار بار لینا جس قدر ناپاکوں کو باعثِ چٹر ہے اسی قدر پاکوں کا وظیفہ ہے اور اپنا اپنا وظیفہ کون سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے پورا نہیں کرتا‘‘۔[۱]
[۱۔ الخطبتہ الاشرفیہ للجمہوریہ الاسلامیہ بحوالہ اکابر تحریکِ پاکستان ص ۲۲۱۔]
[۲۔ محمد صادق قصوری: اکابر تحریکِ پاکستان، ص ۱۷۶تا ۱۸۱۔]
اس کانفرنس میں حضرت مولانا غلام قادر اشرفی اپنے ساتھیوں سمیت شریک ہوئے۔جب پاکستان معرض وجود میں آگیا، تو آپ نے زیادہ تر توجہ مذہبی امور کی طرف مبذول کردی، تاہم سیاسی تحریکات سے دلچسپی میں کوئی فرق نہ آیا۔ ۱۹۵۳ء میں تحریک ختمِ نبوّت میں حصہ لیا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جمعیت علماء پاکستان کے شانہ بشانہ کام کیا۔ تحریکِ نظامِ مصطفےٰ میں قید و بند کی صعوبتیں بھی اس پیرانہ سالی میں برداشت کیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ashraf-ul-mashaikh-hazrat-allama-ghulam-qadir-ashrafi
۱۹۴۵ء میں آپ نے ملک فیروز خان نون اور سردار شوکت حیات کے ساتھ مسلم لیگی امیدواروں کے لیے شب و روز کام کیا اور اسی سال مسلم لیگیوں کی طرف سے قائدِ اعظم کو مسلم لیگ کی طرف سے تھیلی پیش کی۔[۱]
[۱۔ دلچسپ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے ’’اکابرِ تحریکِ پاکستان‘‘ مرتبہ محمد صادق قصوری ص ۱۷۹۔]
ان مجاہدانہ سرگرمیوں کی بناء پر آپ نے مختلف اوقات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مجموعی طور پر آپ نے ملک و ملت کے لیے تقریباً چار سال کا عرصہ جیلوں میں گزارا، مگر آپ کے عزم و حوصلے اور ولولے میں ذرّہ بھر کمی واقع نہیں ہوئی۔
۱۹۴۶ء میں علماء اہل سنت نے بنارس میں آل انڈیا سنّی کانفرنس منعقد کی جس میں ملک کے کونے کونے سے مشائخ و علماء کا جمِّ غفیر شریک ہوا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سنیّوں نے بنانا ہے اور وہ پاکستان بنا کر رہیں گے۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت محدّث کچھوچھوی سید محمد اشرفی جیلانی (صدر آل انڈیا سنّی کانفرنس) نے خطبہ صدارت ارشاد فرمایا جس کا ایک اقتباس مندرجہ ذیل ہے:
’’حضرات! میں نے بار بار پاکستان کا نام لیا ہے اور آخر میں صاف کہہ دیا ہے کہ پاکستان بنانا صرف سنیّوں کا کام ہے اور پاکستان کی تعمیر آل انڈیا سنّی کانفرنس کرے گی اس میں کوئی بات بھی نہ مبالغہ ہے نہ شاعری ہے اور نہ سنّی کانفرنس سے غلو کی بناء پر ہے پاکستان کا نام بار بار لینا جس قدر ناپاکوں کو باعثِ چٹر ہے اسی قدر پاکوں کا وظیفہ ہے اور اپنا اپنا وظیفہ کون سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے پورا نہیں کرتا‘‘۔[۱]
[۱۔ الخطبتہ الاشرفیہ للجمہوریہ الاسلامیہ بحوالہ اکابر تحریکِ پاکستان ص ۲۲۱۔]
[۲۔ محمد صادق قصوری: اکابر تحریکِ پاکستان، ص ۱۷۶تا ۱۸۱۔]
اس کانفرنس میں حضرت مولانا غلام قادر اشرفی اپنے ساتھیوں سمیت شریک ہوئے۔جب پاکستان معرض وجود میں آگیا، تو آپ نے زیادہ تر توجہ مذہبی امور کی طرف مبذول کردی، تاہم سیاسی تحریکات سے دلچسپی میں کوئی فرق نہ آیا۔ ۱۹۵۳ء میں تحریک ختمِ نبوّت میں حصہ لیا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جمعیت علماء پاکستان کے شانہ بشانہ کام کیا۔ تحریکِ نظامِ مصطفےٰ میں قید و بند کی صعوبتیں بھی اس پیرانہ سالی میں برداشت کیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/ashraf-ul-mashaikh-hazrat-allama-ghulam-qadir-ashrafi
scholars.pk
Hazrat Molana Ghulam Qadir Ashrafi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت مولانا محمد قاسم جبل پوری
آستانہ رضویہ مصطفویہ برھانیہ جبلپور
ولادت
حضرت مولانا محمد قاسم عبدالواحد شہید القادری تاج محمد قادری بن حاجی عبدالکریم چشتی ۱۴؍محرم الحرام ۱۳۶۲ھ؍۱۹؍جنوری ۱۹۴۳ء شب دو شنبہ بوقت ۱۲ بجے قصبہ ممبر کھا ضلع الیہ آباد میں پیدا ہوئے۔
خاندانی حالات
مولانا محمد قاسم رضوی کے جد امجد حاجی عبدالکریم چشتی ۱۸۵۷ء میں بمعر ۱۹یا ۲۰ سال جبل پور تشریف لائے اور ایک سو اٹھارہ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ جامع مسجد منٹری جبل پور کے بڑے قبرستان میں دفن ہوئے۔
مولانا محمد قاسم کے والد تاج محمد قادری نے ۱۳؍صفر المظفر ۱۳۹۹ھ شب یکشنبہ فجر بعمر ۸۵ سال انتقال فرمایا۔ یہ خاندان آج بھی مشہور اور وقار وعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو حضرت شیر علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد سے ہے۔
تعلیم وتربیت
مولانامحمد قاسم رضوی کی تعلیم کا آغاز جمادی الاخریٰ ۱۳۸۱ھ؍۱۹۶۰ء کو جامعہ عربیہ ناگپور سے ہوا۔ ۱۹۶۵ء میں مولانا مشتاق احمد رضوی نظامی الٰہ آبادی کے رقعہ کے توسط سے شوال المکرم ۱۳۸۵ھ کو جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں داخلہ لیا بعدہٗ ۱۹۶۷ء میں دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں داخلہ لے کر علوم اسلامیہ کے تحصیل کی تکمیل کی۔
اساتذۂ کرام
۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی
۲۔ حافظ ملت مولانا عبدالعزیز رضوی مراد آبادی ثم مبارکپوری
۳۔ حضرت مولانا حافظ عبدالرؤف بلیاوی سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارکپور
۴۔ بقیۃ السلف مولانا الحاج محمد مبین الدین رضوی امروہوی شیخ التفسیر جامعہ نعیمیہ مراد آباد
۵۔ سید الاتقیا علامہ تحسین رضا رضوی بریلوی محدث جامعہ نوریہ رضویہ بریلی
۶۔ حضرت مولانا سید حامد اشرف رضوی اشرفی کچھوچھوی
۷۔ حضرت مولانا عبدالمنان اعظمی شیخ الحدیچ شمس العلوم گھوسی اعظم گڈھ
۸۔ حضرت مولانا مظفر حسین ظفر ادیبی مبارکپوری
۹۔ حضرت مولانا مفتی عبدالرشید فتحپوری بانی جامعہ عربیہ ناگپور
۱۰۔ حضرت مفتی غلام محمد خاں رضوی شیخ الحدیث امعہ عربیہ ناگپور
۱۱۔ حضرت مولانا مجیب اشرف رضوی جامعہ عربیہ ناگپور
خدمات دینیہ اور تصانیف
مولانا قاسم تاریخی مادے نکالنے میں بہت ماہر ہیں۔۔۔۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کی تاریخ ولادت و وصال کو ایک طویل عربی عبارت میں بند کیا۔ جس کے ہر ایک جملے سے امام احمد رضا بریلوی کا سنہ ولادت اور سنہ وفات اخذ ہوتا ہے۔ مولانا محمد قاسم نے اپنا مستقل مستقر جبل پور کو بنایا اور یہاں رہ کر وعظ وتبلیغ پند ونصاح کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ فتویٰ نویسی کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی تصانیف میں سے دو کتابیں شائع ہوچکی ہیں:
۱۔ الہامات قادریہ رضوی قاسمیہ
۲۔ جامع حقیقت
بیعت وخلافت
مولانا محمد قاسم رضوی جبلپوری کو بیعت حضور مفتی اعطم سے حاصل ہے۔ اور مفتی اعظم مولانا شاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی نے ۱۹۶۸ء کو زبانی اور ۱۹۶۹ء کو تحریری اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ نیز برہان ملت مفتی عبدالباقی برہان الحق رضوی جبلپوری نے ۱۹۷۴ء میں اجازت مرحمت فرمائی۔
نمونۂ کلام
مولانا محمد قاسم فن شعر گوئی سے بھی آشنا ہیں۔ تخلص شہید فرماتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں۔ ذیل کے اشعار مفتی اعظم قدس سرہٗ کی شان میں کہے گئے ہیں۔
سیدی مفتئ اعظم متقدائے اولیاء
تاجدار اہلسنت رہنمائے اولیاء
ناقصوں کے پیر کامل، کاملوں کے رہنما
ہے شہید بے نوا بھی خاکپائے اولیاء
ایک اور منقبت کے اشعار ملاحظہ ہو؎
عقدہ کشا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
محبوب حق کے پیارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
احمد رضا کے بیٹے وقف رضائے احمد
نوری میاں کے پیارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
نائب ہیں یہ نبی کے وارث ہیں غوثیت کے
ہر رُخ سے ہیں یہ نیارے مصطفیٰ رضا ہیں
تسلیم ہے ولایت ان کی ہر اک ولی کو
ہاں پیشوا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
تقدیر کے سکندر ہم ہیں شہید نوری
شکر خدا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں [1]
[1] ۔ محمد قاسم رضوی، مولانا: الہامات قادریہ رضویہ ص ۱۳۹، ۱۴۰
(نوٹ) حوالہ الہامات قادریہ رضویہ کے علاوہ جمیع حالات وکوائف حضرت مولانا محمد قاسم رضوی جبلپوری کے مکتوب سے ماخوذ ہیں، بنام راقم محررہ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء ۱۲، رضوی غفرلہٗ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-qasim-jabalpuri
آستانہ رضویہ مصطفویہ برھانیہ جبلپور
ولادت
حضرت مولانا محمد قاسم عبدالواحد شہید القادری تاج محمد قادری بن حاجی عبدالکریم چشتی ۱۴؍محرم الحرام ۱۳۶۲ھ؍۱۹؍جنوری ۱۹۴۳ء شب دو شنبہ بوقت ۱۲ بجے قصبہ ممبر کھا ضلع الیہ آباد میں پیدا ہوئے۔
خاندانی حالات
مولانا محمد قاسم رضوی کے جد امجد حاجی عبدالکریم چشتی ۱۸۵۷ء میں بمعر ۱۹یا ۲۰ سال جبل پور تشریف لائے اور ایک سو اٹھارہ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ جامع مسجد منٹری جبل پور کے بڑے قبرستان میں دفن ہوئے۔
مولانا محمد قاسم کے والد تاج محمد قادری نے ۱۳؍صفر المظفر ۱۳۹۹ھ شب یکشنبہ فجر بعمر ۸۵ سال انتقال فرمایا۔ یہ خاندان آج بھی مشہور اور وقار وعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو حضرت شیر علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد سے ہے۔
تعلیم وتربیت
مولانامحمد قاسم رضوی کی تعلیم کا آغاز جمادی الاخریٰ ۱۳۸۱ھ؍۱۹۶۰ء کو جامعہ عربیہ ناگپور سے ہوا۔ ۱۹۶۵ء میں مولانا مشتاق احمد رضوی نظامی الٰہ آبادی کے رقعہ کے توسط سے شوال المکرم ۱۳۸۵ھ کو جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں داخلہ لیا بعدہٗ ۱۹۶۷ء میں دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں داخلہ لے کر علوم اسلامیہ کے تحصیل کی تکمیل کی۔
اساتذۂ کرام
۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی
۲۔ حافظ ملت مولانا عبدالعزیز رضوی مراد آبادی ثم مبارکپوری
۳۔ حضرت مولانا حافظ عبدالرؤف بلیاوی سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارکپور
۴۔ بقیۃ السلف مولانا الحاج محمد مبین الدین رضوی امروہوی شیخ التفسیر جامعہ نعیمیہ مراد آباد
۵۔ سید الاتقیا علامہ تحسین رضا رضوی بریلوی محدث جامعہ نوریہ رضویہ بریلی
۶۔ حضرت مولانا سید حامد اشرف رضوی اشرفی کچھوچھوی
۷۔ حضرت مولانا عبدالمنان اعظمی شیخ الحدیچ شمس العلوم گھوسی اعظم گڈھ
۸۔ حضرت مولانا مظفر حسین ظفر ادیبی مبارکپوری
۹۔ حضرت مولانا مفتی عبدالرشید فتحپوری بانی جامعہ عربیہ ناگپور
۱۰۔ حضرت مفتی غلام محمد خاں رضوی شیخ الحدیث امعہ عربیہ ناگپور
۱۱۔ حضرت مولانا مجیب اشرف رضوی جامعہ عربیہ ناگپور
خدمات دینیہ اور تصانیف
مولانا قاسم تاریخی مادے نکالنے میں بہت ماہر ہیں۔۔۔۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کی تاریخ ولادت و وصال کو ایک طویل عربی عبارت میں بند کیا۔ جس کے ہر ایک جملے سے امام احمد رضا بریلوی کا سنہ ولادت اور سنہ وفات اخذ ہوتا ہے۔ مولانا محمد قاسم نے اپنا مستقل مستقر جبل پور کو بنایا اور یہاں رہ کر وعظ وتبلیغ پند ونصاح کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ فتویٰ نویسی کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی تصانیف میں سے دو کتابیں شائع ہوچکی ہیں:
۱۔ الہامات قادریہ رضوی قاسمیہ
۲۔ جامع حقیقت
بیعت وخلافت
مولانا محمد قاسم رضوی جبلپوری کو بیعت حضور مفتی اعطم سے حاصل ہے۔ اور مفتی اعظم مولانا شاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی نے ۱۹۶۸ء کو زبانی اور ۱۹۶۹ء کو تحریری اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ نیز برہان ملت مفتی عبدالباقی برہان الحق رضوی جبلپوری نے ۱۹۷۴ء میں اجازت مرحمت فرمائی۔
نمونۂ کلام
مولانا محمد قاسم فن شعر گوئی سے بھی آشنا ہیں۔ تخلص شہید فرماتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں۔ ذیل کے اشعار مفتی اعظم قدس سرہٗ کی شان میں کہے گئے ہیں۔
سیدی مفتئ اعظم متقدائے اولیاء
تاجدار اہلسنت رہنمائے اولیاء
ناقصوں کے پیر کامل، کاملوں کے رہنما
ہے شہید بے نوا بھی خاکپائے اولیاء
ایک اور منقبت کے اشعار ملاحظہ ہو؎
عقدہ کشا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
محبوب حق کے پیارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
احمد رضا کے بیٹے وقف رضائے احمد
نوری میاں کے پیارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
نائب ہیں یہ نبی کے وارث ہیں غوثیت کے
ہر رُخ سے ہیں یہ نیارے مصطفیٰ رضا ہیں
تسلیم ہے ولایت ان کی ہر اک ولی کو
ہاں پیشوا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
تقدیر کے سکندر ہم ہیں شہید نوری
شکر خدا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں [1]
[1] ۔ محمد قاسم رضوی، مولانا: الہامات قادریہ رضویہ ص ۱۳۹، ۱۴۰
(نوٹ) حوالہ الہامات قادریہ رضویہ کے علاوہ جمیع حالات وکوائف حضرت مولانا محمد قاسم رضوی جبلپوری کے مکتوب سے ماخوذ ہیں، بنام راقم محررہ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء ۱۲، رضوی غفرلہٗ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-qasim-jabalpuri
www.scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Qasim Jabalpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
❤1👍1
حافظ و قاری مفتی عبدالرحمٰن قادری
تاریخ پیدائش:
22 اکتوبر 1983ء, 14 محرم الحرام 1404ھ
حفظ قرآن پاک و تجوید:مدرسۃ المصطفی 15 اگست 1997ء
مشق قرآت:
استاذ القراء قاری محمد بشیر چشتی مدظلہ العالی
درس نظامی و دینی علوم:
تقریبا 11 سال 1997 تا 2008
جید اساتذہ و مشائخ سے اکتساب فیض:
شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد اسماعیل ضیائی
پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
عمدۃ الاسلاف الدکتور ابوالقاسم ضیائ
علامہ غلام رسول افغانی
نبیرہ صدر الشریعہ مفتی عطاء المصطفی اعظمی
مفتی عبد العزیز حنفی
علامہ مختار احمد قادری شہید علیہ الرحمہ
استاذ العلماء مفتی محمد وسیم ضیائ
علامہ سید نثار اختر القادری
سند فراغت:دارالعلوم امجدیہ کراچی2008
ادیب عربی میں کراچی میں اول پوزیشن
عالم عربی, فاضل عربی, 2008 میں دارالعلوم امجدیہ میں پورے مدرسے میں اول پوزیشن
اجازت حدیث:
فاتح افریقہ جانشین صدر الشریعہ محدث کبیر مفتی ضیاء المصطفی اعظمی
شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد اسماعیل ضیائ
ابدال شام الدکتور عبدالعزیز دمشقی
سند افتاء 2012
خلیفہ تاج الشریعہ ابو البرکات مفتی محمد ثاقب اختر القادری... وہ عالم نبیل جنھوں نے افتاء کی ٹریننگ بریلی شریف میں نصف صدی تک فتاوی لکھنے والے بزرگ حضرت قاضی عبدالرحیم بستوی اور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری مدظلہ العالی سے حاصل کی-
فتوی نویسی:
دوران طالب علمی 2004 سے فتاوی لکھنے کا سلسلہ شروع کیا... تا حال جاری ہے...
تخصص فی الفقہ کی تدریس... 2013 سے جاری..
عصری تعلیم:
او لیول
اے لیول
بی اے
ایم بی اے MBA فنانس
ایم اے آئ آر
شریعہ ایڈوائزر:
یو بی ایل UBL امین, نومبر 2012 تا حال
امامت و خطابت و امامتِ تراویح:
1998 سے تا حال جاری
فی الحال:
امام وخطیب مرکزی جامع مسجد گلزار حبیب عیدگاہ چوک منظور کالونی
صدر انجمن جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمانی کالونی منظور کالونی
نائب امیر جماعت اہلسنت پاکستان جمشید ٹاٶن کراچی
چند علمی کارنامے
تاحال 1500 کے قریب فتاوی جات جاری
فتاوی الفیضان جلد اول 63 فتاوی
شب براءت نجات کی رات
تخریج و حاشیہ شرح قصیدہ معراجیہ
پروف ریڈنگ ماہنامہ مصلح الدین 2005 تا 2008
پروف ریڈنگ عرفان منزل ٢
پروف ریڈنگ کتاب نعت خوانی کے تقاضے
پروف ریڈنگ -ترجمہ مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
و کثیر کتب ورسائل
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کی 15 کے قریب تقاریر کیسیٹ سے تحریری صورت میں لانا...سب چھپ چکی ہیں.. جس میں بالخصوص... تحریک پاکستان میں علماء کا کردار 2007 سے ہر سال چھپ رہی ہے.....
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-abdul-rehman-qadri
تاریخ پیدائش:
22 اکتوبر 1983ء, 14 محرم الحرام 1404ھ
حفظ قرآن پاک و تجوید:مدرسۃ المصطفی 15 اگست 1997ء
مشق قرآت:
استاذ القراء قاری محمد بشیر چشتی مدظلہ العالی
درس نظامی و دینی علوم:
تقریبا 11 سال 1997 تا 2008
جید اساتذہ و مشائخ سے اکتساب فیض:
شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد اسماعیل ضیائی
پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری
عمدۃ الاسلاف الدکتور ابوالقاسم ضیائ
علامہ غلام رسول افغانی
نبیرہ صدر الشریعہ مفتی عطاء المصطفی اعظمی
مفتی عبد العزیز حنفی
علامہ مختار احمد قادری شہید علیہ الرحمہ
استاذ العلماء مفتی محمد وسیم ضیائ
علامہ سید نثار اختر القادری
سند فراغت:دارالعلوم امجدیہ کراچی2008
ادیب عربی میں کراچی میں اول پوزیشن
عالم عربی, فاضل عربی, 2008 میں دارالعلوم امجدیہ میں پورے مدرسے میں اول پوزیشن
اجازت حدیث:
فاتح افریقہ جانشین صدر الشریعہ محدث کبیر مفتی ضیاء المصطفی اعظمی
شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد اسماعیل ضیائ
ابدال شام الدکتور عبدالعزیز دمشقی
سند افتاء 2012
خلیفہ تاج الشریعہ ابو البرکات مفتی محمد ثاقب اختر القادری... وہ عالم نبیل جنھوں نے افتاء کی ٹریننگ بریلی شریف میں نصف صدی تک فتاوی لکھنے والے بزرگ حضرت قاضی عبدالرحیم بستوی اور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری مدظلہ العالی سے حاصل کی-
فتوی نویسی:
دوران طالب علمی 2004 سے فتاوی لکھنے کا سلسلہ شروع کیا... تا حال جاری ہے...
تخصص فی الفقہ کی تدریس... 2013 سے جاری..
عصری تعلیم:
او لیول
اے لیول
بی اے
ایم بی اے MBA فنانس
ایم اے آئ آر
شریعہ ایڈوائزر:
یو بی ایل UBL امین, نومبر 2012 تا حال
امامت و خطابت و امامتِ تراویح:
1998 سے تا حال جاری
فی الحال:
امام وخطیب مرکزی جامع مسجد گلزار حبیب عیدگاہ چوک منظور کالونی
صدر انجمن جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمانی کالونی منظور کالونی
نائب امیر جماعت اہلسنت پاکستان جمشید ٹاٶن کراچی
چند علمی کارنامے
تاحال 1500 کے قریب فتاوی جات جاری
فتاوی الفیضان جلد اول 63 فتاوی
شب براءت نجات کی رات
تخریج و حاشیہ شرح قصیدہ معراجیہ
پروف ریڈنگ ماہنامہ مصلح الدین 2005 تا 2008
پروف ریڈنگ عرفان منزل ٢
پروف ریڈنگ کتاب نعت خوانی کے تقاضے
پروف ریڈنگ -ترجمہ مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
و کثیر کتب ورسائل
حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کی 15 کے قریب تقاریر کیسیٹ سے تحریری صورت میں لانا...سب چھپ چکی ہیں.. جس میں بالخصوص... تحریک پاکستان میں علماء کا کردار 2007 سے ہر سال چھپ رہی ہے.....
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-abdul-rehman-qadri
scholars.pk
Hazrat Hafiz Abdul Rehman Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا مفتی عبد الباقی ہمایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سند الکاملین حضرت علامہ عبد الغفور ہمایونی قدس سرہ کونر ینہ اولاد تھی ۔ مولانا عبد الباقی آپ کے نواسہ اور آپ کی رحلت کے بعد پہلے سجادہ نشین مقرر ہوئے ۔ مولانا عبدالباقی بن میاں محمود بن میاں محمد شریف ۱۳۲۳ھ میں تولد ہوئے اور ۱۳۔ ۱۴سال کی عمر میں (علامہ ہمایونی قدس سرہ کے وصال کے بعد ) مسند نشین ہوئے۔ ان دنوں زیر تعلیم تھے اور کافیہ و کنز الد قائق کتابیں پڑھتے تھے۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے نانا جا ن نے آپ کی تعلیم و تربیت کیلئے گڑھی یاسین کے عالم مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب کو ہمایون شریف کی درسگاہ میں مدرس مقرر کیا تھا ۔ مسند نشین ہونے سے قبل بھی ان کے پاس تعلیم حاصل کی اور بعد مسند بھی شوق وذوق سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ آپ نہایت ذکی و محنتی تھے۔ درسی نصاب کی تکمیل کے بعد فتاویٰ نویسی میں دلچپسی لی اور ۱۳۳۹ھ میں آپ فارغ التحصیل ہوئے۔ ( ہمایونی ص۲۰)
بیعت:
آپ اپنے نانا جان مفتی اعظم ، عارف کامل علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت تھے۔ (بروایت میاں عبدالحئی قادری) ـ
درس و تدریس:
آپ عالم باعمل ، پرہیز گار ، شب بیدار ، سیکڑوں مریدوں کے پیر ، مدرس ، محرر اور مفتی تھے ۔ فراغت آپ نے ساری زندگی درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی فی سبیل اللہ میں گذار دی۔ دور درازعلاقوں سے آپ کے پاس استفتاء آتے تھے جس کے مدلل جوابات تحریر فرماتے تھے۔ لایخل مسائل میں علماء و جج اور قومی سردار رجوع فرماتے اور آپ کے جاری کردہ فتویٰ پر عمل کرتے ۔ اہل سنت و جماعت کے بے باک ترجمان اور باطل کے لئے شمشیر بے نیام جرائد ’’ماہنامہ الاسلام ‘‘اور ’’ماہنامہ الھمایون ‘‘ آپ کے دور میں حضرت علامہ مفتی محمد صاحبداد خان جمالی نے جاری کئے تھے اور آپ ان رسائل کے سر پرست اعلیٰ تھے۔
تصنیف و تالیف:
آپ نے کافی تعداد میں فتاویٰ جاری فرمائے جو کہ محفوظ ہوں گے لیکن افسوس کہ ان پر کام نہ ہو سکا ۔ اور دیگر رسائل کا علم بھی نہیں ہوا۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں سے مفتی سید نور علی شاہ بخاری (جیکب آباد ) مشہور ہیں ۔
اولاد:
مولانا عبدالباقی کو ۵ بیٹے (۱) میاں عبدالباری ، (۲) حکیم صدر الدین، (۳) محمد ایوب ، (۴)اعجاز احمد ، (الطاف احمد اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔ مولانا عبد الباقی کے بعد ان کے بیٹے میاں عبد الباری سجادہ نشین ہوئے۔ انہیں سات بیٹے (۱) ارشاد احمد بابو ، (۲) محمود ، (۳) نیاز احمد ، (۴) زبیر احمد ، (۵) طفیل احمد ، (۶) میاں عبد الباقی عرف بابا، (۷) سہیل احمد اور چاربیٹیاں تولد ہوئیں ۔
آج میاں عبدالباقی ہمایونی ہمایون شریف کے سجادہ نشین ہیں ۔ سیاست سے خاص دلچپسی رکھتے ہیں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور ابھی ابھی اوقاف کے سوبائی وزیر بنائے گئے ہیں ۔ (لیکن ا س کے باوجود درگاہ پر اشاعتی ادارہ نہیں ۔ علامہ ہمایونی قدس سرہ کی تصانیف جلیلہ پر کوئی کام نہ ہو سکا اشاعت کا کوئی پروگرام مرتب نہیں یہی سبب ہے کہ ایک طویل عرصہ ہوگیا ہے لیکن آستانہ سے ایک کتاب بھی شائع نہ ہو سکی ۔ کئی بار رابطہ کیا لیکن ان سے تفصیلی حالات نہ مل سکے ۔
وصال:
مولانا مفتی عبد الباقی ہمایونی نے ساٹھ سال کی عمر میں ۱۴، محرم الحرا م ۱۳۸۳ھ ؍ ۱۹۶۳ء بروز پیر انتقال کیا۔
ہمایون شریف (ضلع جیکب آباد ) میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ آپ کے وصال پر آپ کے استاد محترم مفتی حافظ محمد ابراہیم ناظم نے قطعہ تاریخ وصال کہا :
آہ! وہ افسوس کہ آن فاضل و فیاض جہاں
وآ نکہ بادین نبی بود ہمیشہ مشغول
مسند آرائے بسجادہ غوث عالم
مرجع خلق خدا بود و ہم اصحاب عقول
بیست و چارم تاریخ محرم بود
کہ درآن بیک اجل برسراو کردہ نزول
جستجو چونکہ نمودم زبرائے تاریخ
گشت از عالم افلاک ندائے موصول
زاہد ہادی علامہ عبدالباقی
بجنان جائے گزیں ست باحباب رسول
(۱۳۸۳ھ)
(ماخوذ: ہماہمایونی ص ۲۰ مطبوعہ کراچی ۲۰۰۰ئ)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-baqi-humayuni
سند الکاملین حضرت علامہ عبد الغفور ہمایونی قدس سرہ کونر ینہ اولاد تھی ۔ مولانا عبد الباقی آپ کے نواسہ اور آپ کی رحلت کے بعد پہلے سجادہ نشین مقرر ہوئے ۔ مولانا عبدالباقی بن میاں محمود بن میاں محمد شریف ۱۳۲۳ھ میں تولد ہوئے اور ۱۳۔ ۱۴سال کی عمر میں (علامہ ہمایونی قدس سرہ کے وصال کے بعد ) مسند نشین ہوئے۔ ان دنوں زیر تعلیم تھے اور کافیہ و کنز الد قائق کتابیں پڑھتے تھے۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے نانا جا ن نے آپ کی تعلیم و تربیت کیلئے گڑھی یاسین کے عالم مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب کو ہمایون شریف کی درسگاہ میں مدرس مقرر کیا تھا ۔ مسند نشین ہونے سے قبل بھی ان کے پاس تعلیم حاصل کی اور بعد مسند بھی شوق وذوق سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ۔ آپ نہایت ذکی و محنتی تھے۔ درسی نصاب کی تکمیل کے بعد فتاویٰ نویسی میں دلچپسی لی اور ۱۳۳۹ھ میں آپ فارغ التحصیل ہوئے۔ ( ہمایونی ص۲۰)
بیعت:
آپ اپنے نانا جان مفتی اعظم ، عارف کامل علامہ مفتی عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت تھے۔ (بروایت میاں عبدالحئی قادری) ـ
درس و تدریس:
آپ عالم باعمل ، پرہیز گار ، شب بیدار ، سیکڑوں مریدوں کے پیر ، مدرس ، محرر اور مفتی تھے ۔ فراغت آپ نے ساری زندگی درس و تدریس اور فتاویٰ نویسی فی سبیل اللہ میں گذار دی۔ دور درازعلاقوں سے آپ کے پاس استفتاء آتے تھے جس کے مدلل جوابات تحریر فرماتے تھے۔ لایخل مسائل میں علماء و جج اور قومی سردار رجوع فرماتے اور آپ کے جاری کردہ فتویٰ پر عمل کرتے ۔ اہل سنت و جماعت کے بے باک ترجمان اور باطل کے لئے شمشیر بے نیام جرائد ’’ماہنامہ الاسلام ‘‘اور ’’ماہنامہ الھمایون ‘‘ آپ کے دور میں حضرت علامہ مفتی محمد صاحبداد خان جمالی نے جاری کئے تھے اور آپ ان رسائل کے سر پرست اعلیٰ تھے۔
تصنیف و تالیف:
آپ نے کافی تعداد میں فتاویٰ جاری فرمائے جو کہ محفوظ ہوں گے لیکن افسوس کہ ان پر کام نہ ہو سکا ۔ اور دیگر رسائل کا علم بھی نہیں ہوا۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ میں سے مفتی سید نور علی شاہ بخاری (جیکب آباد ) مشہور ہیں ۔
اولاد:
مولانا عبدالباقی کو ۵ بیٹے (۱) میاں عبدالباری ، (۲) حکیم صدر الدین، (۳) محمد ایوب ، (۴)اعجاز احمد ، (الطاف احمد اور ایک بیٹی تولد ہوئی ۔ مولانا عبد الباقی کے بعد ان کے بیٹے میاں عبد الباری سجادہ نشین ہوئے۔ انہیں سات بیٹے (۱) ارشاد احمد بابو ، (۲) محمود ، (۳) نیاز احمد ، (۴) زبیر احمد ، (۵) طفیل احمد ، (۶) میاں عبد الباقی عرف بابا، (۷) سہیل احمد اور چاربیٹیاں تولد ہوئیں ۔
آج میاں عبدالباقی ہمایونی ہمایون شریف کے سجادہ نشین ہیں ۔ سیاست سے خاص دلچپسی رکھتے ہیں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور ابھی ابھی اوقاف کے سوبائی وزیر بنائے گئے ہیں ۔ (لیکن ا س کے باوجود درگاہ پر اشاعتی ادارہ نہیں ۔ علامہ ہمایونی قدس سرہ کی تصانیف جلیلہ پر کوئی کام نہ ہو سکا اشاعت کا کوئی پروگرام مرتب نہیں یہی سبب ہے کہ ایک طویل عرصہ ہوگیا ہے لیکن آستانہ سے ایک کتاب بھی شائع نہ ہو سکی ۔ کئی بار رابطہ کیا لیکن ان سے تفصیلی حالات نہ مل سکے ۔
وصال:
مولانا مفتی عبد الباقی ہمایونی نے ساٹھ سال کی عمر میں ۱۴، محرم الحرا م ۱۳۸۳ھ ؍ ۱۹۶۳ء بروز پیر انتقال کیا۔
ہمایون شریف (ضلع جیکب آباد ) میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ آپ کے وصال پر آپ کے استاد محترم مفتی حافظ محمد ابراہیم ناظم نے قطعہ تاریخ وصال کہا :
آہ! وہ افسوس کہ آن فاضل و فیاض جہاں
وآ نکہ بادین نبی بود ہمیشہ مشغول
مسند آرائے بسجادہ غوث عالم
مرجع خلق خدا بود و ہم اصحاب عقول
بیست و چارم تاریخ محرم بود
کہ درآن بیک اجل برسراو کردہ نزول
جستجو چونکہ نمودم زبرائے تاریخ
گشت از عالم افلاک ندائے موصول
زاہد ہادی علامہ عبدالباقی
بجنان جائے گزیں ست باحباب رسول
(۱۳۸۳ھ)
(ماخوذ: ہماہمایونی ص ۲۰ مطبوعہ کراچی ۲۰۰۰ئ)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-baqi-humayuni
scholars.pk
Mufti Abdul Baqi Humayon
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤2
حضرت علامہ مفتی محمد مشرف احمد رضوی مظہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت اور تعلیم
حضرت مولانا مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمۃ دہلی میں پیدا ہوئے حفظ قرآن اور تجوید وقرأت کی تکمیل کے بعد ۱۳۵۱ھ؍۱۹۲۳ء میں مدرسہ عالیہ مسجد جامع فتحپوری دہلی سے علوم عقلیہ و نقلیہ میں سند تکمیل حاصل کی، اس کے ساتھ ساتھ فن طب میں سند حاصل کی، اورمہارت تامہ پیدا کی ابتدا میں کچھ عرصہ دہلی میں رہے اور مسجد جامع فتحپوری میں نائب مفتی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر قصبہ نوح میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں استاد ودینیات مقرر ہوگئے۔ چند سال یہاں گزار کر پھر دہلی تشریف لے آئے اور یہاں مسجد شیخان (باڑہ ہند وراؤ) میں خطیب مقرر ہوئے۔ سالہا سال فرائض خطاب اور امامت انجام دیتے رہے اس کے علاوہ مطب بھی فرماتے۔
علم وفضل
مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ فن قرأت، حف قرآن کریم، علوم عربیہ، بالتخصیص فقہ اسلامی پر کمال رکھتے تھے اور اپنی مثال آپ تھے۔ تقریباً تیس سال تحریر فرماتےرہے، جو نہایت فاضلانہ اور تحقیقی وکاوش کا نتیجہ ہوتے تھے اس کے علاوہ مختلف علمی رسائل میں مضامین بھی تحریر فرماتے رہتے تھے۔ مفتی محمد مشرف احمد کے علمی وفقہی اور مذہبی نگار شات کو جمع کیا جائے تو کئی ضخیم مجلدات تیار ہوسکتی ہیں۔ مگر آپ خوموشی کے ساتھ خدمتِ دین میںم صروف تھے۔
فن تقریر گوئی
علامہ مفتی محمدمشرف احمد کی تقریرکا خاص ملکہ حاصل تھا۔ طبیعت نکتہ رس پائی تھی، کئی کئی گھنٹے فاضلانہ اور علمانہ تقریر فرماتے ۔ تبلیغ وارشاد کے فرائض بھی دیتے تھے۔ مفتی محمد شرف احمد کے دست حق پرت پر بہت سے غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔
بیعت وخلافت
مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ علوم ظاہری کے ساتھ ساتھے علوم باطنی میں بھی کمال رکھتے تھے۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدیہ میں حضرت مولانا رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے۔ خلافت واجازت حضرت مولانا مفتی محمد مظہر اللہ علیہ الرحمہ (والد ماجد) نے نوازا تھا [1] ۔ اور سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں حضور مفتئ اعطم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے خلافت واجازت مرحمت فرمائی [2] ۔ مفتی محمد مشرف احمد کے بکثرت مریدین و معتقدین ہیں۔
فنِ طب میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ آپ کے مطب سے بیشمار مریض فیضیات ہوتے تھے۔ طبیعت بے نیاز انہ اور فقیرانہ پائی تھی۔ علاج پُر تاثیر تھا تعویذات وعملیات میں بھی کمال حاصل تھا۔ بفضلہٖ تعالیٰ زیارت حرمین شریفین اور حج بیت اللہ شریف سے بھی مشرف تھے۔ تقریباً بیس سال تک تصنیف وتالیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ مفتی محمد مشرف احمد کی نگار شات کے مطالعہ سے زبان دانی اور بے پناہ قوت اظہار کے ساتھ ساتھ تبحر علمی اور تحقیقی شان کا اندازہ ہوتا ہے۔
نمونۂ کلام
علامہ زمخشری جنات کے وجود کے قائل نہ تھے۔ زمانہ حجۃ الاسلام امام غزالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا، جنات آپ کی خدمت میں آکر مستفیض ہوا کرتے تھے۔ ایک روز آپ نے جنات سے دریافت فرمایا۔ آج کل کیا کیا ہورہا ہے؟ اس کے جواب میں علامہ زمخشری کا ذکر آیا۔ عرض کیا حضور زمخشری قرآن کریم کی تفسیر لکھ رہے ہیں جو نصف تک پہنچ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ لکھا ہے وہ یہاں لے آؤ۔ چنانچہ وہ لے آئے۔ آپ نے اس کی نقل کرواکے اپنے پاس رکھ لی، اور اصل کو وہیں رکھوادیا۔ پھر زمخشری جب آئے تو آپ نے وہ نقل دکھائی دیکھتے ہی حیرت میں رہ گئے۔ کہنے لگے اگر یہ تفسیر اپنی بتاتا ہوں تو تعجب یہ ہے کہ میرا نسخہ دوسرے تک پہنچا کیسے۔ حالانکہ میں نے اس کو نہایت حفاظت کے ساتھ مقفل کر کے رکھا ہے۔ اور اگر کسی دوسرے کی کہوں تو معافی کثیرہ الفاظ کثیرہ اور ان کی وضع و ترتیب کس کس چیز میں اور کہاں تک نوار دمانوں عقل کچھ کام نہیں کرتی، آپ نے فرمایا، یہ تفسیر تمہاری ہی ہے جنات نے لاکر دی ہے۔ تو پھر علامہ زمخشری کو جنات کے وجود کا قائل ہونا پڑا۔ (روح البیان ص ۴، ج۱)
واضح ہوکہ خطیب کا ساعمین کو مواجہ میں ہونا مسنون ہے اور یہ آلہ (لاؤڈ اسپیکر ) خطیب کی مواجہت میں بلا ضرورت حائل ہوکر سنت مواجہت کا مزاحم ہوتا ہے۔ اس طرح سامعین کا خطیب کے مواجہ ہونا مسنون ہے۔ یہاں تک کہ جو لوگ خطیب سے دائیں بائیں جانب ہیں ان کا بھی خطیب کی جانب رُخ کرنا سنت ہے۔ اس آلہ کے استعمال کی صورت میں سنت بھی مفقود ہوتی ہے کہ اب خطیب کی جگہ خود یہ آلہ اس کا قائم مقام ہوگیا ہے۔ اگر چہ سامعین کی طرف سے رد گرواں ہے۔ مگر خطیب کے فرائض تو وہی انجام دے رہا ہے۔ نیز خطیب کا کھڑا ہونا بھی سنت کے درجہ میں ضروری ہے۔ اس آلہ کے ہوتے ہوئے یہ ضرورت بھی ایک حد تک باقی نہ رہتی۔ خطیب کے مشروع وغیر مشروع حالات کا دور تک معائنہ و مشاہدہ ہو سکے اور اس کے جذبات عالیہ قوم پر اثر انداز ہوسکیں یہ آلہ اس سنت کے بھی بعض مقاصد میں مزاحم ہے [3] ۔
اولاد امجاد
مفتی محمد شرف احمد علیہ الرحمہ کے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں سب سے بڑے صاحبزادے مولوی محمد میاں نے علوم عقلیہ و نقلیہ میں مکمل سند مدرسہ عالیہ مسجد فتح
ولادت اور تعلیم
حضرت مولانا مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمۃ دہلی میں پیدا ہوئے حفظ قرآن اور تجوید وقرأت کی تکمیل کے بعد ۱۳۵۱ھ؍۱۹۲۳ء میں مدرسہ عالیہ مسجد جامع فتحپوری دہلی سے علوم عقلیہ و نقلیہ میں سند تکمیل حاصل کی، اس کے ساتھ ساتھ فن طب میں سند حاصل کی، اورمہارت تامہ پیدا کی ابتدا میں کچھ عرصہ دہلی میں رہے اور مسجد جامع فتحپوری میں نائب مفتی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر قصبہ نوح میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں استاد ودینیات مقرر ہوگئے۔ چند سال یہاں گزار کر پھر دہلی تشریف لے آئے اور یہاں مسجد شیخان (باڑہ ہند وراؤ) میں خطیب مقرر ہوئے۔ سالہا سال فرائض خطاب اور امامت انجام دیتے رہے اس کے علاوہ مطب بھی فرماتے۔
علم وفضل
مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ فن قرأت، حف قرآن کریم، علوم عربیہ، بالتخصیص فقہ اسلامی پر کمال رکھتے تھے اور اپنی مثال آپ تھے۔ تقریباً تیس سال تحریر فرماتےرہے، جو نہایت فاضلانہ اور تحقیقی وکاوش کا نتیجہ ہوتے تھے اس کے علاوہ مختلف علمی رسائل میں مضامین بھی تحریر فرماتے رہتے تھے۔ مفتی محمد مشرف احمد کے علمی وفقہی اور مذہبی نگار شات کو جمع کیا جائے تو کئی ضخیم مجلدات تیار ہوسکتی ہیں۔ مگر آپ خوموشی کے ساتھ خدمتِ دین میںم صروف تھے۔
فن تقریر گوئی
علامہ مفتی محمدمشرف احمد کی تقریرکا خاص ملکہ حاصل تھا۔ طبیعت نکتہ رس پائی تھی، کئی کئی گھنٹے فاضلانہ اور علمانہ تقریر فرماتے ۔ تبلیغ وارشاد کے فرائض بھی دیتے تھے۔ مفتی محمد شرف احمد کے دست حق پرت پر بہت سے غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔
بیعت وخلافت
مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ علوم ظاہری کے ساتھ ساتھے علوم باطنی میں بھی کمال رکھتے تھے۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدیہ میں حضرت مولانا رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے۔ خلافت واجازت حضرت مولانا مفتی محمد مظہر اللہ علیہ الرحمہ (والد ماجد) نے نوازا تھا [1] ۔ اور سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں حضور مفتئ اعطم مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے خلافت واجازت مرحمت فرمائی [2] ۔ مفتی محمد مشرف احمد کے بکثرت مریدین و معتقدین ہیں۔
فنِ طب میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ آپ کے مطب سے بیشمار مریض فیضیات ہوتے تھے۔ طبیعت بے نیاز انہ اور فقیرانہ پائی تھی۔ علاج پُر تاثیر تھا تعویذات وعملیات میں بھی کمال حاصل تھا۔ بفضلہٖ تعالیٰ زیارت حرمین شریفین اور حج بیت اللہ شریف سے بھی مشرف تھے۔ تقریباً بیس سال تک تصنیف وتالیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ مفتی محمد مشرف احمد کی نگار شات کے مطالعہ سے زبان دانی اور بے پناہ قوت اظہار کے ساتھ ساتھ تبحر علمی اور تحقیقی شان کا اندازہ ہوتا ہے۔
نمونۂ کلام
علامہ زمخشری جنات کے وجود کے قائل نہ تھے۔ زمانہ حجۃ الاسلام امام غزالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا، جنات آپ کی خدمت میں آکر مستفیض ہوا کرتے تھے۔ ایک روز آپ نے جنات سے دریافت فرمایا۔ آج کل کیا کیا ہورہا ہے؟ اس کے جواب میں علامہ زمخشری کا ذکر آیا۔ عرض کیا حضور زمخشری قرآن کریم کی تفسیر لکھ رہے ہیں جو نصف تک پہنچ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ لکھا ہے وہ یہاں لے آؤ۔ چنانچہ وہ لے آئے۔ آپ نے اس کی نقل کرواکے اپنے پاس رکھ لی، اور اصل کو وہیں رکھوادیا۔ پھر زمخشری جب آئے تو آپ نے وہ نقل دکھائی دیکھتے ہی حیرت میں رہ گئے۔ کہنے لگے اگر یہ تفسیر اپنی بتاتا ہوں تو تعجب یہ ہے کہ میرا نسخہ دوسرے تک پہنچا کیسے۔ حالانکہ میں نے اس کو نہایت حفاظت کے ساتھ مقفل کر کے رکھا ہے۔ اور اگر کسی دوسرے کی کہوں تو معافی کثیرہ الفاظ کثیرہ اور ان کی وضع و ترتیب کس کس چیز میں اور کہاں تک نوار دمانوں عقل کچھ کام نہیں کرتی، آپ نے فرمایا، یہ تفسیر تمہاری ہی ہے جنات نے لاکر دی ہے۔ تو پھر علامہ زمخشری کو جنات کے وجود کا قائل ہونا پڑا۔ (روح البیان ص ۴، ج۱)
واضح ہوکہ خطیب کا ساعمین کو مواجہ میں ہونا مسنون ہے اور یہ آلہ (لاؤڈ اسپیکر ) خطیب کی مواجہت میں بلا ضرورت حائل ہوکر سنت مواجہت کا مزاحم ہوتا ہے۔ اس طرح سامعین کا خطیب کے مواجہ ہونا مسنون ہے۔ یہاں تک کہ جو لوگ خطیب سے دائیں بائیں جانب ہیں ان کا بھی خطیب کی جانب رُخ کرنا سنت ہے۔ اس آلہ کے استعمال کی صورت میں سنت بھی مفقود ہوتی ہے کہ اب خطیب کی جگہ خود یہ آلہ اس کا قائم مقام ہوگیا ہے۔ اگر چہ سامعین کی طرف سے رد گرواں ہے۔ مگر خطیب کے فرائض تو وہی انجام دے رہا ہے۔ نیز خطیب کا کھڑا ہونا بھی سنت کے درجہ میں ضروری ہے۔ اس آلہ کے ہوتے ہوئے یہ ضرورت بھی ایک حد تک باقی نہ رہتی۔ خطیب کے مشروع وغیر مشروع حالات کا دور تک معائنہ و مشاہدہ ہو سکے اور اس کے جذبات عالیہ قوم پر اثر انداز ہوسکیں یہ آلہ اس سنت کے بھی بعض مقاصد میں مزاحم ہے [3] ۔
اولاد امجاد
مفتی محمد شرف احمد علیہ الرحمہ کے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہیں سب سے بڑے صاحبزادے مولوی محمد میاں نے علوم عقلیہ و نقلیہ میں مکمل سند مدرسہ عالیہ مسجد فتح
❤1
پور دہلی سے حاصل کی ہے۔ مولوی محمد میاں بڑے ذہین و فطین اور فاضل وعالم جوان ہیں۔ حافظ قرآن اور علم تجوید وقرأت میں بھی پورا کمال حاصل ہے۔ علوم مغربیہ میں بھی درک ہے۔ فنِ طب میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ تشخیص وتجویز ماہرانہ ہے۔
دوسرے صاحبزادے مولوی احمد میاں ہیں، حافظ قرآن ہیں۔ اور علوم عربیہ کی تحصیل باقی ہے۔ باقی صاحبزادگان بھی حافظ قرآن ہیں اور علوم عربیہ وفاسیہ حاصل کر رہے ہیں، مفتی محمد مشرف احمد کے ایک داماد ہیں جناب قاری ڈاکٹر محمد رضوان اللہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں دینیات کےپروفیسر ہیں۔ اور بڑی خوبیوں کے مالک ہیں [4] ۔
مسجد فتحپوری کی امامت
حضرت مفتی مظہر اللہ علیہ الرحمہ شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی نے ۱۹۴۷ء سے مولانا محمد احمد علیہ الرحمہ کو اپنا قائم اور نائب بنالیا تھا۔ پھر ایک بزرت کی تحریک پر ۱۹۶۰ء میں مولانا محمد احمد کی جگہ حضرت مفتی محمد مشرف احمد کو نائب و قائم مقام بنایا گیا۔ م گر عملاً حضرت مفتی محمد مظہر اللہ کی حیات میں تقسیم ہند سے قبل اور بعد میں مولانا محمد احمد نیابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
۱۹۶۶ء میں دہلی کے خود مختار ادارے سنی مجلس اوقاف نے مولانا محمد احمد کو مفتی محمد مظہر اللہ علیہ الرحمہ کی جگہ امام وخطیب مقرر کر کے اطلاع دیدی۔ مفتی محمد مظہر اللہ نے اس فیصلے ک و قبول کرتے ہوئے خاموشی اختیار فرمائی۔ اسی سال مفتی مظہر اللہ نے وصال فرمایا۔ وصال کے بعد امامت کے فرائض مفتی محمد مشرف احمد انجام دینے لگے۔ مگر سنی مجلس اوقاف نے آپ کی امامت کو تسلیم نہ کیا اور آپکو سبکدوش ہونا پڑا۔ آج کل مسجد فتحپوری کی امامت وخطا بت کے فرائض مولانا محمد احمد کے فرزند اکبر مولانا محمد مکرم احمد انجام دے رہے ہیں، موصوف صاحب علم وفضل بزرگ ہیں۔ مفتی محمد مشرف احمد کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد میاں ثمر دہلوی مسجد شیخان باڑہ ہند وراؤد دہلی میں امامت وخطابت فرمارہےہیں۔ جہاں مفتی محمد مشرف احمد برسوں امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ موصوف صاحب علم، حافظ وقاری اور خطیب ہیں [5] ۔
مکتوب اول
ماہر رضویات محقق وقت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد دامت برکاتہم القدوسیہ نے راقم کی درخواست پر یہ چند مکتوب مہیا فرمائے۔ جو مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ نے ماہر رضویات مدظلہ کے نام لکھے تھے۔
عزیز مہجور ابریز تدر مقصود وقلب تقور اخی مسعود باحمد رب غفور سلمہ الودود وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
دستی وعکسی تہنیت نامہ پہنچا آنکھیں کھُل گئیں کہ عید ایسی جیتی جاگتی گوناگو جلوے دکھاتی برنچ والم کیف وسرور کے نغمے گاتی بجاتی آئی ہے۔ انتخاب عجیب وانشاء غریب کا کیا کہنا، طبقۂ غربائے مساکین متفق اللسان ہیں کہ غریبوں کی کیا عید، عید تو دولت مندوں کی ہے کہ ہزاروں ہزار کیف وسرور سے معمور اور بھر پور ہوتی ہے او کوئی کہتا ہے کہ سب سے زیادہ پر لطف عید آفت رسیدہ اور غمزدہ کی ہے جو عید کے دن دولت صبر وشکر سے نواز ا گیا، گویہ قول ایک تہنیۃ مکنونہ ابلغ من التصریح ہے۔ مگر عزیزی من وطن واصل مسکن دھبی کی رہائش کو غربت سے تعبیر کرنا ایک غیر معمولی مخزون ومکنون غم واندوہ کا ن شان ہے۔ جب تک غم واندوہ کی بیخ کُنی نہ ہوجائے صبر وکشر کی تکمیل نہیں ہوتی، حقیقی صبر وشکر کی نشانی رضا وخوش ہے۔ دیکھو ایک شاعر کیا کہتا ہے؎
ضیئاً لارباب النعیم نعیمھا
واللعاشق المسکین ما یتجرع
اس شعر میں بھی رضا کا پہلو کما حقہ روشن نہیں دوسرے عاشق نے اس کو خوب واضح کردیا ہے۔ کہتا ہے:
اس کو دیکھو جسکی نظروں میں یہ غم آکر بسے
زخم یہ وہ ہے کہ صحت پر یہ کہہ کہہ کر ہنسے
تازہ دارد زخم دل فیض نمکدان کسے
سبر شد نخل مرا داز آپ پیکان کسے
اس عیب جوئی سے آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ مہ جبینوں کے رپخ روشن پر اگر کوئی کا لاداغ ہوتا ہے توہ وہ بدنما نہیں معلوم ہوتا بلکہ حسن وبالا کردینے والا ہوتا ہے۔ انقلاب حاضرہ کی ایک نیرنگی جو کسی وقت آپ کے پیش نظر کی گئی تھی۔ غالباً اس کو آپ نے فراموش فرمادیا۔ ورنہ آپ کو موازنہ عید غریب وعید وطن کے قصور وتحریر کی زحمت کا فیصلہ کر کے دونوں ملکوں میں اپنے احباب وقرباء کا جائزہ لیا جائے تو غریب وطنیت کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ مکان مکین کا تابع ہے نہ مکین مکان کا جو مقام مفیمینی ومطمئنی اعزاء واقرباء سے پر ہو یقیناً وطن سکونت ہے، اور جو مقام ان سے خالی ہو گذر گاہ غربا ہے۔ دونوں ملکوں کے اعزاء وقربا سب کے جائزہ کا مختصر واجمالی خاکہ یہ ہے کہ بہن بھائی وہاں بھی اور بہن بھائی یہاں بھی علیٰ ہذا القیاس خالہ ناموں یہاں، نافی وہاں دادی یہاں، والد ماجد وہاں دو۲ پھوپھیاں؎
لذکو مثل خط الانشین فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتان
وہاں بہنوئیوں کا وجدان یہاں فقدان، وہاں احباب کی کثرت، یہاں قلت، وہاں جاگیردار، یہاں کرایہ دار، وہاں عزت یہاں عسرت وہاں ذلت یہاں رجا، یہاں خوف وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
ایسی صورت میں احد الوطنین میں ترانۂ غربت کیسے موزن ہوسک
دوسرے صاحبزادے مولوی احمد میاں ہیں، حافظ قرآن ہیں۔ اور علوم عربیہ کی تحصیل باقی ہے۔ باقی صاحبزادگان بھی حافظ قرآن ہیں اور علوم عربیہ وفاسیہ حاصل کر رہے ہیں، مفتی محمد مشرف احمد کے ایک داماد ہیں جناب قاری ڈاکٹر محمد رضوان اللہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں دینیات کےپروفیسر ہیں۔ اور بڑی خوبیوں کے مالک ہیں [4] ۔
مسجد فتحپوری کی امامت
حضرت مفتی مظہر اللہ علیہ الرحمہ شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی نے ۱۹۴۷ء سے مولانا محمد احمد علیہ الرحمہ کو اپنا قائم اور نائب بنالیا تھا۔ پھر ایک بزرت کی تحریک پر ۱۹۶۰ء میں مولانا محمد احمد کی جگہ حضرت مفتی محمد مشرف احمد کو نائب و قائم مقام بنایا گیا۔ م گر عملاً حضرت مفتی محمد مظہر اللہ کی حیات میں تقسیم ہند سے قبل اور بعد میں مولانا محمد احمد نیابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
۱۹۶۶ء میں دہلی کے خود مختار ادارے سنی مجلس اوقاف نے مولانا محمد احمد کو مفتی محمد مظہر اللہ علیہ الرحمہ کی جگہ امام وخطیب مقرر کر کے اطلاع دیدی۔ مفتی محمد مظہر اللہ نے اس فیصلے ک و قبول کرتے ہوئے خاموشی اختیار فرمائی۔ اسی سال مفتی مظہر اللہ نے وصال فرمایا۔ وصال کے بعد امامت کے فرائض مفتی محمد مشرف احمد انجام دینے لگے۔ مگر سنی مجلس اوقاف نے آپ کی امامت کو تسلیم نہ کیا اور آپکو سبکدوش ہونا پڑا۔ آج کل مسجد فتحپوری کی امامت وخطا بت کے فرائض مولانا محمد احمد کے فرزند اکبر مولانا محمد مکرم احمد انجام دے رہے ہیں، موصوف صاحب علم وفضل بزرگ ہیں۔ مفتی محمد مشرف احمد کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد میاں ثمر دہلوی مسجد شیخان باڑہ ہند وراؤد دہلی میں امامت وخطابت فرمارہےہیں۔ جہاں مفتی محمد مشرف احمد برسوں امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ موصوف صاحب علم، حافظ وقاری اور خطیب ہیں [5] ۔
مکتوب اول
ماہر رضویات محقق وقت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد دامت برکاتہم القدوسیہ نے راقم کی درخواست پر یہ چند مکتوب مہیا فرمائے۔ جو مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ نے ماہر رضویات مدظلہ کے نام لکھے تھے۔
عزیز مہجور ابریز تدر مقصود وقلب تقور اخی مسعود باحمد رب غفور سلمہ الودود وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
دستی وعکسی تہنیت نامہ پہنچا آنکھیں کھُل گئیں کہ عید ایسی جیتی جاگتی گوناگو جلوے دکھاتی برنچ والم کیف وسرور کے نغمے گاتی بجاتی آئی ہے۔ انتخاب عجیب وانشاء غریب کا کیا کہنا، طبقۂ غربائے مساکین متفق اللسان ہیں کہ غریبوں کی کیا عید، عید تو دولت مندوں کی ہے کہ ہزاروں ہزار کیف وسرور سے معمور اور بھر پور ہوتی ہے او کوئی کہتا ہے کہ سب سے زیادہ پر لطف عید آفت رسیدہ اور غمزدہ کی ہے جو عید کے دن دولت صبر وشکر سے نواز ا گیا، گویہ قول ایک تہنیۃ مکنونہ ابلغ من التصریح ہے۔ مگر عزیزی من وطن واصل مسکن دھبی کی رہائش کو غربت سے تعبیر کرنا ایک غیر معمولی مخزون ومکنون غم واندوہ کا ن شان ہے۔ جب تک غم واندوہ کی بیخ کُنی نہ ہوجائے صبر وکشر کی تکمیل نہیں ہوتی، حقیقی صبر وشکر کی نشانی رضا وخوش ہے۔ دیکھو ایک شاعر کیا کہتا ہے؎
ضیئاً لارباب النعیم نعیمھا
واللعاشق المسکین ما یتجرع
اس شعر میں بھی رضا کا پہلو کما حقہ روشن نہیں دوسرے عاشق نے اس کو خوب واضح کردیا ہے۔ کہتا ہے:
اس کو دیکھو جسکی نظروں میں یہ غم آکر بسے
زخم یہ وہ ہے کہ صحت پر یہ کہہ کہہ کر ہنسے
تازہ دارد زخم دل فیض نمکدان کسے
سبر شد نخل مرا داز آپ پیکان کسے
اس عیب جوئی سے آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ مہ جبینوں کے رپخ روشن پر اگر کوئی کا لاداغ ہوتا ہے توہ وہ بدنما نہیں معلوم ہوتا بلکہ حسن وبالا کردینے والا ہوتا ہے۔ انقلاب حاضرہ کی ایک نیرنگی جو کسی وقت آپ کے پیش نظر کی گئی تھی۔ غالباً اس کو آپ نے فراموش فرمادیا۔ ورنہ آپ کو موازنہ عید غریب وعید وطن کے قصور وتحریر کی زحمت کا فیصلہ کر کے دونوں ملکوں میں اپنے احباب وقرباء کا جائزہ لیا جائے تو غریب وطنیت کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ مکان مکین کا تابع ہے نہ مکین مکان کا جو مقام مفیمینی ومطمئنی اعزاء واقرباء سے پر ہو یقیناً وطن سکونت ہے، اور جو مقام ان سے خالی ہو گذر گاہ غربا ہے۔ دونوں ملکوں کے اعزاء وقربا سب کے جائزہ کا مختصر واجمالی خاکہ یہ ہے کہ بہن بھائی وہاں بھی اور بہن بھائی یہاں بھی علیٰ ہذا القیاس خالہ ناموں یہاں، نافی وہاں دادی یہاں، والد ماجد وہاں دو۲ پھوپھیاں؎
لذکو مثل خط الانشین فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتان
وہاں بہنوئیوں کا وجدان یہاں فقدان، وہاں احباب کی کثرت، یہاں قلت، وہاں جاگیردار، یہاں کرایہ دار، وہاں عزت یہاں عسرت وہاں ذلت یہاں رجا، یہاں خوف وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
ایسی صورت میں احد الوطنین میں ترانۂ غربت کیسے موزن ہوسک
❤1
تا ہے۔ خصوصاً جبکہ اسکا ایسی دلر بائی حاسل ہوکہ وطن آخر سے ہزار ہا فرزندان وطن برابر کھینچے چلے جارہے ہیں اور جو کھینچ نہیں سکتے ان کی آنکھیں اسی دلبر باوطن کی طرف لگی ہوئی ہیں اور دل ب ھی عالم چناں میں اسی وطن کے احباب کے سایۂ شب و روز گل گشت کرتا رہتا ہے۔ ایسے دلربا اور پر فضا وطن کی عید کی ہمسری بھال اُجڑے ہوئے دیار کی عید کب کر سکتی ہے۔ مگر نہیں یہاں برابری اور ہمسری کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ زندہ دل حضرات کی شان کے لائق ایسے ہی اُجڑے وطن کی عید ہے۔ کل حزب بمالدیھم فرحوند
تہنیت نامہ کے آخر میں حد سے زیادہ تاخیر جواب کی شکایت نہایت دل لبھانے والے انداز میں کی گئی ہے، یہ شکایت ایک ح د تک تو بجاودرست ہے۔ لیکن اہم ضروری مصروفتیوں کے آگے ایسی شکائیتوں کے کواکب و نیرات مستور بماند ہوجاتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے میں بسایتین مکاتب کی دلچسپ سیر و تفریح کے سایۂ سایۂ ایسے امر ضروری کا متلاشی رہتا تھا جس کو ضروری مشاغل پر تقدم حاصل ہوا اگر کسی گلزار مکتوب میں کوئی بھی گل مقصود ایسا ہو تو فاوراً بلا تاخیر منتظر جواب اپنے مقصود سے مسعد ہوتا مگر سوائے دلچسپ ملاقات وعلیک سلیک کوئی امر ضروری الجواب مین نہ پایا رہی معنوی ملاقات وعلیک سلیک کوئی تو یہ بلاواسطہ نہیں تو بالواسطہ حاصل ہوتی رہی۔ اس لیے آتشِ شوق واشتیاق فد ہوتی رہی، ماہ صیام کی آمد پر تفسیر وحدیث کے مطالعہ ویبنا کے سلسلہ مشغلہ سے فرصت ملی تو احباب وقرباء کے چند خطوط کے جواب لکھنے کے لیے نکالے خیال تھا کہ ۱۵؍تاریخ تک تھوڑی تھوڑی فرست میں سب کی شکایت کا تدارک ہوجائے گا۔ مگر اب کے سال خلاف معمولی پہلے ہی سے خطونکا سلسلہ شروع ہوگیا اور اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا اور بعد انصرام ماہ صیام سب سے پہلے براور معظم جناب بھائی محمود وصاحب کے مکاتیب ثلٰثہ کا جواب پیش کرنا تھا۔ مگر افسوس کہ ایک کا بھ ی جواب مکمل نہ دے سکا۔ بعد ازاں آپ کی جانب رفع شکایات کے لیے متوجہ ہوا۔ فیصلہ شدہ حتمی اور یقینی امر تھا حسن اتفاق کہ اسہی وقت تہنیت نامہ پہنچا ہے جسے جواب کو بھی اپنے رنگ میں رنگ دیا۔
یہ سب طول طویل قصہ آپ کے انتظار جواب کی کلفت دور کرنےکے لیے لکھ اگیا۔ مگر آپ یہ بتائیں کہ جواب کا انتظار زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے یا کسی مقصود و مسعود کی آمد کا انتظار۔ اگر اہل انصاف کے سامنے یہ مسئلہ رکھا جائ ے تو وہ یقیناً یہی فیصلہ صادر فرمائیں گے کہ ثانی الذکر انتظار کی تکلیف اول الذکر انتظار کی تکلیف سے دو چار نہیں، بلکہ ہزار درجہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ للہ آپ اپنے صحیح اور واقعی ارادہ آمد سے مطلع فرمائیں۔ تجلف ارادات کے تواتر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین پاکستان فولادی ارادوں کے لیے متفاطیس بن گئی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر آپ کی آمد ایک خواب پریشاں نظر آتی ہے۔ آپ کے خط میں مکرمہ معظمہ جنابہ دادی صاحبہ کی خیریت سے ضرور مطلع فرمائیں۔ اور ان کی خدمت بابرکت میں ہم سب کا سلام و نیاز پیش فرمائیں۔ اور پھوپھا صاحب و عمتیق محترمین کی خدمت میں بھی جمیع اہل خانہ ہم سب کی جانب سے حسب مراتب سلام و دعا پیش فرمادیں۔ والسلام
احقر مشرف احمد عفی عنہ بروز جمعہ ۵؍شوال المکرم ستمبر ۱۹۴۹ء
مکتوب دوم
اخی الاغر جبین اعززا وعلماء حلماء وکاممن العبرالی الرضا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
مرقع رنج وملال موصول ہوا۔ دل بیقرار سینہ فگار آنکھیں، اشکبار، ہوئیں۔ نامۂ غم اندوہ نے تمام مشاغل سے ہمہ وجوہ یکلخت اپنی طرف جذب کرلیا، اور اس امر پر مجبور کردیا کہ جلد از جلد تسلی نامہ ارسال کیا جائے۔ عزیز من یہاں سب کی ظاہراً وباطناً ہر طرح یہی کوشش ہے کہ آج آپ حضرات سے جلد ملاقات ہو۔ لیکن جب تک اس میں کامیابی نہ ہو اس وقت تک آپ حضرات کی دوری متقضائے مشیئت ہے جس پر ہزار ہانز ویکیاں اور کروڑہا ملاقاتیں قربان ہیں کہ مرضئ مولانا از ہمہ اولیٰ، عقلاً ونقلاً ہر طرح مسلم، ہے، قدرت بچہ سے ماں کا دودھ چھٹاتی ہے تو ساری دنیا بلکہ سارا عالم اسی فطام عقل میں بھی طفل کے لیے صدہا حکمتیں مضمر پاتا ہے، بلکہ آئندہ وہی طفل اس خطام ناگوار کو سراہتا ہے، اور اپنی طفلی پر مسکراتا ہے۔ عزیز من ذرا اس حدیث قدسی کو تو دیکھو یہ تم ہارے لیے کیسی بشارت عظمیٰ ہے۔
انا عند المنکسرۃ قلوبھم
اگر احباب کا قرب نہیں تو اس کا نعم البدل تو دیکھو کیسا عظیم الشان نصیب ہوا۔ اور امام الناصحین علامہ اجل حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے شعر کا ظاہری مطلب سقیم ہے جو تمہارے قلب حزیں کی علیہ شکایت کی شکایت کرتا ہے۔
اے وارث جد امجد مسعود احمد، حبیب احمد اس شعر (دوستاں رالخ) کو میزنا قرآن میں تو لو اور محک فرقان پر کھو، تو اس کا جو ہر اصل آشکا را ہو۔
قال اللہ تعالیٰ ولا یحسبن الذین کفرو ا انما علی لمھخیر لانفسھم انما علی لھم لیزدادوا اثما ولھم عذاب محین
وقال تعالیٰ ام نجعل الذین اٰمنو وعملو الصٰلِحٰت کالمفسدین فی الارض ام ن عجل المتقین کالفجار۔
بھال نوازش خدا وندی سے دشمنانِ دی
تہنیت نامہ کے آخر میں حد سے زیادہ تاخیر جواب کی شکایت نہایت دل لبھانے والے انداز میں کی گئی ہے، یہ شکایت ایک ح د تک تو بجاودرست ہے۔ لیکن اہم ضروری مصروفتیوں کے آگے ایسی شکائیتوں کے کواکب و نیرات مستور بماند ہوجاتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے میں بسایتین مکاتب کی دلچسپ سیر و تفریح کے سایۂ سایۂ ایسے امر ضروری کا متلاشی رہتا تھا جس کو ضروری مشاغل پر تقدم حاصل ہوا اگر کسی گلزار مکتوب میں کوئی بھی گل مقصود ایسا ہو تو فاوراً بلا تاخیر منتظر جواب اپنے مقصود سے مسعد ہوتا مگر سوائے دلچسپ ملاقات وعلیک سلیک کوئی امر ضروری الجواب مین نہ پایا رہی معنوی ملاقات وعلیک سلیک کوئی تو یہ بلاواسطہ نہیں تو بالواسطہ حاصل ہوتی رہی۔ اس لیے آتشِ شوق واشتیاق فد ہوتی رہی، ماہ صیام کی آمد پر تفسیر وحدیث کے مطالعہ ویبنا کے سلسلہ مشغلہ سے فرصت ملی تو احباب وقرباء کے چند خطوط کے جواب لکھنے کے لیے نکالے خیال تھا کہ ۱۵؍تاریخ تک تھوڑی تھوڑی فرست میں سب کی شکایت کا تدارک ہوجائے گا۔ مگر اب کے سال خلاف معمولی پہلے ہی سے خطونکا سلسلہ شروع ہوگیا اور اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا اور بعد انصرام ماہ صیام سب سے پہلے براور معظم جناب بھائی محمود وصاحب کے مکاتیب ثلٰثہ کا جواب پیش کرنا تھا۔ مگر افسوس کہ ایک کا بھ ی جواب مکمل نہ دے سکا۔ بعد ازاں آپ کی جانب رفع شکایات کے لیے متوجہ ہوا۔ فیصلہ شدہ حتمی اور یقینی امر تھا حسن اتفاق کہ اسہی وقت تہنیت نامہ پہنچا ہے جسے جواب کو بھی اپنے رنگ میں رنگ دیا۔
یہ سب طول طویل قصہ آپ کے انتظار جواب کی کلفت دور کرنےکے لیے لکھ اگیا۔ مگر آپ یہ بتائیں کہ جواب کا انتظار زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے یا کسی مقصود و مسعود کی آمد کا انتظار۔ اگر اہل انصاف کے سامنے یہ مسئلہ رکھا جائ ے تو وہ یقیناً یہی فیصلہ صادر فرمائیں گے کہ ثانی الذکر انتظار کی تکلیف اول الذکر انتظار کی تکلیف سے دو چار نہیں، بلکہ ہزار درجہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ للہ آپ اپنے صحیح اور واقعی ارادہ آمد سے مطلع فرمائیں۔ تجلف ارادات کے تواتر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین پاکستان فولادی ارادوں کے لیے متفاطیس بن گئی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو پھر آپ کی آمد ایک خواب پریشاں نظر آتی ہے۔ آپ کے خط میں مکرمہ معظمہ جنابہ دادی صاحبہ کی خیریت سے ضرور مطلع فرمائیں۔ اور ان کی خدمت بابرکت میں ہم سب کا سلام و نیاز پیش فرمائیں۔ اور پھوپھا صاحب و عمتیق محترمین کی خدمت میں بھی جمیع اہل خانہ ہم سب کی جانب سے حسب مراتب سلام و دعا پیش فرمادیں۔ والسلام
احقر مشرف احمد عفی عنہ بروز جمعہ ۵؍شوال المکرم ستمبر ۱۹۴۹ء
مکتوب دوم
اخی الاغر جبین اعززا وعلماء حلماء وکاممن العبرالی الرضا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
مرقع رنج وملال موصول ہوا۔ دل بیقرار سینہ فگار آنکھیں، اشکبار، ہوئیں۔ نامۂ غم اندوہ نے تمام مشاغل سے ہمہ وجوہ یکلخت اپنی طرف جذب کرلیا، اور اس امر پر مجبور کردیا کہ جلد از جلد تسلی نامہ ارسال کیا جائے۔ عزیز من یہاں سب کی ظاہراً وباطناً ہر طرح یہی کوشش ہے کہ آج آپ حضرات سے جلد ملاقات ہو۔ لیکن جب تک اس میں کامیابی نہ ہو اس وقت تک آپ حضرات کی دوری متقضائے مشیئت ہے جس پر ہزار ہانز ویکیاں اور کروڑہا ملاقاتیں قربان ہیں کہ مرضئ مولانا از ہمہ اولیٰ، عقلاً ونقلاً ہر طرح مسلم، ہے، قدرت بچہ سے ماں کا دودھ چھٹاتی ہے تو ساری دنیا بلکہ سارا عالم اسی فطام عقل میں بھی طفل کے لیے صدہا حکمتیں مضمر پاتا ہے، بلکہ آئندہ وہی طفل اس خطام ناگوار کو سراہتا ہے، اور اپنی طفلی پر مسکراتا ہے۔ عزیز من ذرا اس حدیث قدسی کو تو دیکھو یہ تم ہارے لیے کیسی بشارت عظمیٰ ہے۔
انا عند المنکسرۃ قلوبھم
اگر احباب کا قرب نہیں تو اس کا نعم البدل تو دیکھو کیسا عظیم الشان نصیب ہوا۔ اور امام الناصحین علامہ اجل حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے شعر کا ظاہری مطلب سقیم ہے جو تمہارے قلب حزیں کی علیہ شکایت کی شکایت کرتا ہے۔
اے وارث جد امجد مسعود احمد، حبیب احمد اس شعر (دوستاں رالخ) کو میزنا قرآن میں تو لو اور محک فرقان پر کھو، تو اس کا جو ہر اصل آشکا را ہو۔
قال اللہ تعالیٰ ولا یحسبن الذین کفرو ا انما علی لمھخیر لانفسھم انما علی لھم لیزدادوا اثما ولھم عذاب محین
وقال تعالیٰ ام نجعل الذین اٰمنو وعملو الصٰلِحٰت کالمفسدین فی الارض ام ن عجل المتقین کالفجار۔
بھال نوازش خدا وندی سے دشمنانِ دی
❤1
ن کو کیا تعلق۔ اس کی نوازش تو دوستوں ہی کے ساتھ مخلوص ہے۔
قال علیہ السلام واذا ا احب اللہ عبد اتبلاءہ فان جبن اجتباہ وان رضی اصطفاہ اوکما قال علیہ السلام
قلت فرصت کے سبب گو زیادہ کچھ نہ لکھا جاسکا۔ تاہم مولائے تعالیٰ کے لطف وکرم سے اُمید واثف ہے کہ یہ عجالۂ مختسر نشتر انقلاب کے زخمی دل وخستہ جگر کے لیے مرہم کا فوری ثابت ہوگیا۔ اور آپ سے بھی زیادہ عزیز فاضل بے عدیل مولوی منظور احمد سلمہٗ اللہ تعالیٰ دعا فاۃ واقبا اس شربت روح افزا سے خاص کیف و سرور حاصل کریں گے۔ گوا نہیں تحریر میں إخاطب نہیں کیا گیا۔ مگر انداز تحریر سے وہ تاڑ لیں گے کہ مضمون مکتوب میں وہ خصوصاً مضمون و ملحوظ ہیں، اب آخر میں آپ حضرات سے رخصت ہوتے ہوئے ان بیقرار خوردو کلاں کو سلام و دعا لکھ رہا ہوں۔ جن کو آپ کے مکتوب نے تڑپادیا یہ سلام و دعا مع الأداب والکرام سب سے پہلے دادی صاحبہ دام مجدھا پھر پھوپھا صاحب کے پھر عمتین محترمین پھر درجہ بدرجہ سب کی خدمت میں تحریر ہے۔ تفصیل کی گنجائش نہیں۔ والسلام علیکم وقلوبنا لدیکم، گو جواب تمام مشاغل چھوڑ کر لک لیا تھا۔ مگر مشاغل چھوڑ کر لکھ لیا تھا۔ مگر مشاغل نے ایک اژ دھام کیا اس لیے اسکی روانگی میں ایک روز کی تاخیر ہوگئی۔ آپ کا خط جمعہ کی شام کو موصولہوا اور یہ اتوار کو روانہ ہورہا ہے۔
احقر مشرف احمد عفی عنہ
شنبہ ۲۰؍ربیع الثانی مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۴۹ء
مکتوب سوم
اخی المحجوب عزیز الوجود مولوی مسعود احمد صاحب سلمہٗ الودود و
علیکم السلام وورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
قلبی وقلمی نقش و نگار اور فرح وانبساط سے آراستہ وپیراستہ اپ کا عید کارڈ مردہ دلوں میں روح انسباط پھونکنے والا موصول ہوا، گو باسی سہ باسی کے بعد موصول ہوا۔ مگر اس میں آزاد فضا کا جوش وخروش کس قدر تھا۔ میں یہیں نہیں کر سکتا کہ اس کو پڑھ کر اس قدر باسی عید کس قدر تازہ ہوگئی۔ گویا کہ میںن ے اسی وقت عید منائی فجر اکم اللہ خیراً۔
اس میں شک نہیں کہ یوم عید وہ عظیم الشان تحفۂ ربانی ہے جس کے شکریہ میں اگر مومن عزیز واخوان جی جان دھن دولت سب ہی کچھ قربان کردے تو یہ قربانیاں اس بے بہا نعمت عظمیٰ کا شکریہ نہیں ہوسکتیں۔ فالحمدللہ حمداً ایوانی نعمۃ ولکافی
مزید یہ صرف آپ ہی کے دل ناصور کا ظہور نہیں بلکہ انسان ضعیف البنیان کی طینت کا اقتضاء ہے ۔ جس میں اس انیس مطلق جل جلالہٗ کی حکمت یہ ہے کہ انسان خالی الیف وانیس کی جدائی سے شکستہ خاطر ہو، انسردہ دل ہو عند المنکسرۃ قلوبھم کامژدۂ ربانی فتح روح کا کام ہے۔ اور اسے فانی کےنعم البدل باقی کے قرب خاص وانس کاص سے وہ کیف و سرور حاصل ہو جس پر باسی عیدن نہیں بلکہ تازہ۔
عیدین ہزارہا قربان؎
اتصال بے تکلیف بے قیاس
ہست رب الناس رابا جان ناس
اس دور انقلاب کی عجوبہ کاری تو دیکھو کس قدر باطن ہیں کہ بے وطن غریب الوطن رنجوز بلاؤں سے چور نظر آرہے ہیں، اور کس قدر بے وطن ہیں کہ باوطن بحال ح سن نعم وآلالہ سے مخمور دپرسر ور نظر آرہے ہیں۔ آپ نے جانا کہ عید اپنے پر شکوہ وپرشوکت طریقہ پر گذر گئی۔ مگر اس کا پتہ اسی وقت چلا جب آزاد فضا کا ایک جھونکا آیا۔ گویہاں کے حالات کچھ بھی سہی مگر طبیعت یہی چاہتی ہے کہ آپ جلد سےجلد دہلی پہنچیں۔
فقط والسلام مع الاشتیاق التام
احقر مشرف احمد عفی عنہ
شنبہ ۱۰؍شوال المکرم ۱۹۵۰ء
انتقال پر ملال
مولانا مفتی محمد مشرف احمد رضوی مظہری کا انتقال ۱۴؍محرم الحرام کو ہوا، اور ۱۳؍ محرم ۱۴۰۳ھ کو حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کا وصال پُر ملال ہوا۔ واقعہ یہ ہوا کہ مفتی اعظم قدس سرہٗ کے وصال پُر ملال کی خبر جب بی بی سی لندن سے نشر ہوئی تو آپ نماز فجر سے فراغت پاکر اپنے بستر پر بیٹھے ہوئے یٰسین شریف کی تلاوت فرمارہے تھے۔ مفتی مشرف احمد یہ روح فرساں خبر سنکر اچھل پڑے۔ زبان مبارک پر جملہ یک لخت نکلا۔
‘‘ایک ہی ساتھ جانے کا وعدہ ہوا تھا۔ ارے میرے مفتئ اعطم ہی جب نہ رہے تو میں یہاں رہ کر کیا کروں گا [6] ۔
کلمۂ طیبہ لا الہ اِلَّا اللہ محمد الرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا۔ مزار پر انوار مسد شیخان باڑہ ہند وراؤ دہلی میں مرجع خلائق ہے۔
[1] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۴
[2] ۔ (الف) بروایت مولانا سید شاہد علی رضوی شیخ الحدیث الجامعۃ الاسلامیہ رام پور
(ب) مولانا صغیر احمد رضوی جو کھن پوری نے راقم کو ایک ملاقات میں بتایا کہ مفتی مشرف احمد کو حضرت سے اجازت حاصل تھی۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ
[3] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۴، ۳۷۵، بحوالہ رسالہ قصد السبیل ص ۱۵، ۱۴،
[4] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۵
[5] ۔ مکتوب پروفیسر محمد مسعود احمد مدظلہٗ بنام راقم، محررہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۸۹ء؍۱۴۱۰ھ
(نوٹ) حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی حیات پر محترمہ فاضلہ آر۔ بی۔ مظہری (ریسرچ اسکالر سندھ یونیورسٹی پاکستان) کا تحقیقی مقالہ بنام ‘‘جہان مسعود’’ طبع
قال علیہ السلام واذا ا احب اللہ عبد اتبلاءہ فان جبن اجتباہ وان رضی اصطفاہ اوکما قال علیہ السلام
قلت فرصت کے سبب گو زیادہ کچھ نہ لکھا جاسکا۔ تاہم مولائے تعالیٰ کے لطف وکرم سے اُمید واثف ہے کہ یہ عجالۂ مختسر نشتر انقلاب کے زخمی دل وخستہ جگر کے لیے مرہم کا فوری ثابت ہوگیا۔ اور آپ سے بھی زیادہ عزیز فاضل بے عدیل مولوی منظور احمد سلمہٗ اللہ تعالیٰ دعا فاۃ واقبا اس شربت روح افزا سے خاص کیف و سرور حاصل کریں گے۔ گوا نہیں تحریر میں إخاطب نہیں کیا گیا۔ مگر انداز تحریر سے وہ تاڑ لیں گے کہ مضمون مکتوب میں وہ خصوصاً مضمون و ملحوظ ہیں، اب آخر میں آپ حضرات سے رخصت ہوتے ہوئے ان بیقرار خوردو کلاں کو سلام و دعا لکھ رہا ہوں۔ جن کو آپ کے مکتوب نے تڑپادیا یہ سلام و دعا مع الأداب والکرام سب سے پہلے دادی صاحبہ دام مجدھا پھر پھوپھا صاحب کے پھر عمتین محترمین پھر درجہ بدرجہ سب کی خدمت میں تحریر ہے۔ تفصیل کی گنجائش نہیں۔ والسلام علیکم وقلوبنا لدیکم، گو جواب تمام مشاغل چھوڑ کر لک لیا تھا۔ مگر مشاغل چھوڑ کر لکھ لیا تھا۔ مگر مشاغل نے ایک اژ دھام کیا اس لیے اسکی روانگی میں ایک روز کی تاخیر ہوگئی۔ آپ کا خط جمعہ کی شام کو موصولہوا اور یہ اتوار کو روانہ ہورہا ہے۔
احقر مشرف احمد عفی عنہ
شنبہ ۲۰؍ربیع الثانی مطابق ۱۹؍فروری ۱۹۴۹ء
مکتوب سوم
اخی المحجوب عزیز الوجود مولوی مسعود احمد صاحب سلمہٗ الودود و
علیکم السلام وورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
قلبی وقلمی نقش و نگار اور فرح وانبساط سے آراستہ وپیراستہ اپ کا عید کارڈ مردہ دلوں میں روح انسباط پھونکنے والا موصول ہوا، گو باسی سہ باسی کے بعد موصول ہوا۔ مگر اس میں آزاد فضا کا جوش وخروش کس قدر تھا۔ میں یہیں نہیں کر سکتا کہ اس کو پڑھ کر اس قدر باسی عید کس قدر تازہ ہوگئی۔ گویا کہ میںن ے اسی وقت عید منائی فجر اکم اللہ خیراً۔
اس میں شک نہیں کہ یوم عید وہ عظیم الشان تحفۂ ربانی ہے جس کے شکریہ میں اگر مومن عزیز واخوان جی جان دھن دولت سب ہی کچھ قربان کردے تو یہ قربانیاں اس بے بہا نعمت عظمیٰ کا شکریہ نہیں ہوسکتیں۔ فالحمدللہ حمداً ایوانی نعمۃ ولکافی
مزید یہ صرف آپ ہی کے دل ناصور کا ظہور نہیں بلکہ انسان ضعیف البنیان کی طینت کا اقتضاء ہے ۔ جس میں اس انیس مطلق جل جلالہٗ کی حکمت یہ ہے کہ انسان خالی الیف وانیس کی جدائی سے شکستہ خاطر ہو، انسردہ دل ہو عند المنکسرۃ قلوبھم کامژدۂ ربانی فتح روح کا کام ہے۔ اور اسے فانی کےنعم البدل باقی کے قرب خاص وانس کاص سے وہ کیف و سرور حاصل ہو جس پر باسی عیدن نہیں بلکہ تازہ۔
عیدین ہزارہا قربان؎
اتصال بے تکلیف بے قیاس
ہست رب الناس رابا جان ناس
اس دور انقلاب کی عجوبہ کاری تو دیکھو کس قدر باطن ہیں کہ بے وطن غریب الوطن رنجوز بلاؤں سے چور نظر آرہے ہیں، اور کس قدر بے وطن ہیں کہ باوطن بحال ح سن نعم وآلالہ سے مخمور دپرسر ور نظر آرہے ہیں۔ آپ نے جانا کہ عید اپنے پر شکوہ وپرشوکت طریقہ پر گذر گئی۔ مگر اس کا پتہ اسی وقت چلا جب آزاد فضا کا ایک جھونکا آیا۔ گویہاں کے حالات کچھ بھی سہی مگر طبیعت یہی چاہتی ہے کہ آپ جلد سےجلد دہلی پہنچیں۔
فقط والسلام مع الاشتیاق التام
احقر مشرف احمد عفی عنہ
شنبہ ۱۰؍شوال المکرم ۱۹۵۰ء
انتقال پر ملال
مولانا مفتی محمد مشرف احمد رضوی مظہری کا انتقال ۱۴؍محرم الحرام کو ہوا، اور ۱۳؍ محرم ۱۴۰۳ھ کو حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ کا وصال پُر ملال ہوا۔ واقعہ یہ ہوا کہ مفتی اعظم قدس سرہٗ کے وصال پُر ملال کی خبر جب بی بی سی لندن سے نشر ہوئی تو آپ نماز فجر سے فراغت پاکر اپنے بستر پر بیٹھے ہوئے یٰسین شریف کی تلاوت فرمارہے تھے۔ مفتی مشرف احمد یہ روح فرساں خبر سنکر اچھل پڑے۔ زبان مبارک پر جملہ یک لخت نکلا۔
‘‘ایک ہی ساتھ جانے کا وعدہ ہوا تھا۔ ارے میرے مفتئ اعطم ہی جب نہ رہے تو میں یہاں رہ کر کیا کروں گا [6] ۔
کلمۂ طیبہ لا الہ اِلَّا اللہ محمد الرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا۔ مزار پر انوار مسد شیخان باڑہ ہند وراؤ دہلی میں مرجع خلائق ہے۔
[1] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۴
[2] ۔ (الف) بروایت مولانا سید شاہد علی رضوی شیخ الحدیث الجامعۃ الاسلامیہ رام پور
(ب) مولانا صغیر احمد رضوی جو کھن پوری نے راقم کو ایک ملاقات میں بتایا کہ مفتی مشرف احمد کو حضرت سے اجازت حاصل تھی۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ
[3] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۴، ۳۷۵، بحوالہ رسالہ قصد السبیل ص ۱۵، ۱۴،
[4] ۔ محمد مسعود احمد، پروفیسر، ڈاکٹر : تذکرہ مظہر مسعود ص ۳۷۵
[5] ۔ مکتوب پروفیسر محمد مسعود احمد مدظلہٗ بنام راقم، محررہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۸۹ء؍۱۴۱۰ھ
(نوٹ) حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی حیات پر محترمہ فاضلہ آر۔ بی۔ مظہری (ریسرچ اسکالر سندھ یونیورسٹی پاکستان) کا تحقیقی مقالہ بنام ‘‘جہان مسعود’’ طبع
❤1
ہوچکا ہے۔ فاضلہ نے جہان مسعود لکھ کر سوانح نگاروں کو نئے زاویے پر تذکرہ لکھنے کی دعوت دی ہے، اس میں الفاظ کم تحقیق زیادہ ہے۔ راقم کو محترمہ کا یہ اچھوتا طرز نگارش بہت پسند آیا جہان مسعود کے مطالعہ سے محترمہ کی علمی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ۱۲رضوی غفرلہٗ
[6] ۔ بروایت حضرت مولانا مفتی سید شاہد علی رضوی محدث الجامعۃ الاسلامیہ گنج قدیم رام پور ۸ مھرم الحرام ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء، ۱۲رضوی غفرلہٗ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-musharraf-ahmed-rizvi
[6] ۔ بروایت حضرت مولانا مفتی سید شاہد علی رضوی محدث الجامعۃ الاسلامیہ گنج قدیم رام پور ۸ مھرم الحرام ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء، ۱۲رضوی غفرلہٗ ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-musharraf-ahmed-rizvi
scholars.pk
Mufti Muhammad Musharraf Ahmed Rizvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت خواجہ کریم الدین علوممشاد دینوری
فقراء کے درخشاں آفتاب، اتقیا کے چمکدار ماہتاب منتخب اور برگزیدہ لوگوں کے شیخ وقت، صاحب کشف و کرامت، ذات و صفات میں پسندیدہ سرداری کے خلعت سے ممتاز حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری ہیں (خدا تعالیٰ ان کے مرقد کو اپنے انوار اقدس سے منور کرے) ـ
اس معزز اور پاک نفس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ ہبیرہ بصری سے زیب تن فرمایا۔ آپ ریاضات و مجاہدات میں نہایت بلند و ارفع درجہ رکھتے اور مشاہدات میں انتہا سے زیادہ قدر و منزلت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے زمانہ زندگی میں دن کو کبھی کچھ کھایا نہ پیا چنانچہ لکھا ہے جب بزرگ خواجہ پیدا ہوئے تو صرف رات کو دودھ پیا کرتے تھے لیکن صبح کی پوپھٹتی تو اس وقت سے لے کر شام تک دہن مبارک میں چھاتی نہ لیتے غرضیکہ ابتدائے پیدائش سے منتہائے عمر تک ہمیشہ روزہ سے رہے اور کبھی افطار نہیں کیا یہاںں تک کہ خدا تعالیٰ سے ملاقات کی
ھو الذی قد صام فی ایامہ
من مھدہ حتی زمان رقادہ
یعنی یہ بزرگ وہ مقدس شخص ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی ایام گہوارہ سے قبر میں آرام کرنے کے وقت تک روزہ میں بسر کی۔ (سیر الاولیاء)
آں ماحی رسوم وبشری، وباقی أساس رہبری وتابع آثار احمدی، وموصوف بصفات سرمدی، مزین بہ پیرا یہ دین وری، قطب الابدال حجرت کواجہ ممشاد علودینوری قدس سرہ ریاضات و مجاہدات میں بلند مقام اور مشاہدات ومکاشفات میں رفیع الشان تھے۔ وقت کے جملہ مشائخ آپ کے ظاہری وباطنی کمالات کے قائل تھے۔ حقائق ومعارف کے بیان میں آپ کا کلام بہت بلند ہے۔ آپ کا وطن دینور تھا۔ (بہ کسر دال وفتح نون) جو کوہستان کے شہروں میں ایک شہر ہے۔ لیکن تربیت آپ نے بغداد میں پائی۔ آپ کا اسم گرامی علو ہے اور لقب کریم الدین ہے۔ آپ حضرت کواجہ ہبیرہ الصری قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ ہیں۔ راقم الحروف نے مختلف کتب تواریخ کے مطالعہ سے یہی تحقیق کی ہے کہ علو دنیوری وہی ممشاد دینوری ہیں اور میرے مشائخ کا بھی یہی قول ہے۔ لیکن مراۃ الاسرار میں دو ممشاد دینوری کا ذکر کیا گیا ہے ایک وہ جو حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی قدس سرہٗ کے مرشد ہیں دوسرے اور بزرگ ہیں۔ لیکن راقم الحروف اپنے مشائخ کی شہادت کی بنا پر اس روایت کو صحیح نہیں سمجھتا۔ واللہ اعلم
اولیاء وقت کی زیارت:
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری قدس سرہٗ مشائخ عراق میں سے تھے، یگانہ روزگار تھے، حافظ قرآن تھے، جامع علوم ظاہری وباطنی تھے، بڑے باعظمت وکرامت بزرف تھے، شیخ جنید بغدادی شیخ ردیم، سفیان ثوری اور شیخ المشائخ حضرت خواجہ معروف کرخی قدس سرہٗ کے صحبت یافتہ تھے۔ نیز حضرت خواجہ معروف کرخی قدس سرہٗ سے آپ کو خلافت بھی ملی تھی۔ اس سلسلہ میں بھی آپ صاحب طریقت وسلسلہ ہیں اس کے علاوہ آپ کو بہت سے دیگر مشائخ واولیاء کی صحبت بھی نصیب ہوئی ہے اور ہر مشائخ سے آپ نے اخذ فیض کیا ہے۔
عبادات، ریاضات وعادات، وخصائل
مرید ہونے سے قبل آپ نے سالہا سال ریاضت ومجاہدہ کیا۔ آپ سات دن کے بعد افطار کرتےتھے۔ گلے کی خشکی دور کرنے کے لیے آپ تھوڑا سا پانی پیتے تھے اور خرما پر اکتفا کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے بلکہ ایام طفلی سے روزہ رکھنا شروع کیا تھا اور شیر خوارگی کے زمانے میں آپ نے دن میں کبھی اپنی والدہ کا دودھ نہیں پیا تھا۔ غرضیکہ آپ ساری عمر شیر خوارگی سمیت صائم رہے۔ یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ آپ دیدار الٰہی سے افطار کریں۔ حق تعالیٰ نے آپ کو دولت عرفان والدہ کی گود ہی سے عطا فرمائی تھی۔ منقول ہے کہ آپ اوائل عمر میں مال دار تھے۔ جب حق تعالیٰ کے عشق نے غلبہ کیا آپ نے تمام مال ودولت راہ حق میں دے کر کعبۃ اللہ کا رخ کیا اور عرض کیا کہ الٰہی مجھے تیرے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے عیال واطفال تیرے سپرد کیے انکو رزق عطا کرنا تیرا کام ہے۔ آواز آئی کہ اے علو تم میرے ساتھ رہو تیرے عیال واطفال میرے ذمہ ہیں۔ آپ مکہ معظمہ پہنچ کر عبادت میں مشغول ہوگئے۔ ایک دن آپ بیٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص طعام کو خونچہ سر پر رکھے آیا اور سلام کیا۔ خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ تم کون ہو اور یہ طعام کس ن ے بھیجا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں رمدان غیب[1] میں سے ہوں مجھے حق تعالیٰ سے حکم ملا ہے کہ یہ نعمت آپ کے فرزندوں کو پہنچادوں۔ نیز آپ کے لیے حق تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میرے کام میں کوتاہی نہ کرنا۔ تیرے اہل وعیال میرے بندے ہیں ان کی فکر نہ کرنا میں نے اپنے خزانہ کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے ہیں۔ آپ نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور عبادت حق تعالیٰ میں مشغول ہوگئے۔ فقر وفاقہ پر قناعت کی۔ یہاں تک کہ کپڑوں پر پپوند لگاکر پہنتے تھے اور خدا کے خوف سے اس قدر روتے تھے کہ بے ہوش ہو جاتے تھے ۔
فقراء کے درخشاں آفتاب، اتقیا کے چمکدار ماہتاب منتخب اور برگزیدہ لوگوں کے شیخ وقت، صاحب کشف و کرامت، ذات و صفات میں پسندیدہ سرداری کے خلعت سے ممتاز حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری ہیں (خدا تعالیٰ ان کے مرقد کو اپنے انوار اقدس سے منور کرے) ـ
اس معزز اور پاک نفس بزرگ نے خرقہ ارادت خواجہ ہبیرہ بصری سے زیب تن فرمایا۔ آپ ریاضات و مجاہدات میں نہایت بلند و ارفع درجہ رکھتے اور مشاہدات میں انتہا سے زیادہ قدر و منزلت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے زمانہ زندگی میں دن کو کبھی کچھ کھایا نہ پیا چنانچہ لکھا ہے جب بزرگ خواجہ پیدا ہوئے تو صرف رات کو دودھ پیا کرتے تھے لیکن صبح کی پوپھٹتی تو اس وقت سے لے کر شام تک دہن مبارک میں چھاتی نہ لیتے غرضیکہ ابتدائے پیدائش سے منتہائے عمر تک ہمیشہ روزہ سے رہے اور کبھی افطار نہیں کیا یہاںں تک کہ خدا تعالیٰ سے ملاقات کی
ھو الذی قد صام فی ایامہ
من مھدہ حتی زمان رقادہ
یعنی یہ بزرگ وہ مقدس شخص ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی ایام گہوارہ سے قبر میں آرام کرنے کے وقت تک روزہ میں بسر کی۔ (سیر الاولیاء)
آں ماحی رسوم وبشری، وباقی أساس رہبری وتابع آثار احمدی، وموصوف بصفات سرمدی، مزین بہ پیرا یہ دین وری، قطب الابدال حجرت کواجہ ممشاد علودینوری قدس سرہ ریاضات و مجاہدات میں بلند مقام اور مشاہدات ومکاشفات میں رفیع الشان تھے۔ وقت کے جملہ مشائخ آپ کے ظاہری وباطنی کمالات کے قائل تھے۔ حقائق ومعارف کے بیان میں آپ کا کلام بہت بلند ہے۔ آپ کا وطن دینور تھا۔ (بہ کسر دال وفتح نون) جو کوہستان کے شہروں میں ایک شہر ہے۔ لیکن تربیت آپ نے بغداد میں پائی۔ آپ کا اسم گرامی علو ہے اور لقب کریم الدین ہے۔ آپ حضرت کواجہ ہبیرہ الصری قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ ہیں۔ راقم الحروف نے مختلف کتب تواریخ کے مطالعہ سے یہی تحقیق کی ہے کہ علو دنیوری وہی ممشاد دینوری ہیں اور میرے مشائخ کا بھی یہی قول ہے۔ لیکن مراۃ الاسرار میں دو ممشاد دینوری کا ذکر کیا گیا ہے ایک وہ جو حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی قدس سرہٗ کے مرشد ہیں دوسرے اور بزرگ ہیں۔ لیکن راقم الحروف اپنے مشائخ کی شہادت کی بنا پر اس روایت کو صحیح نہیں سمجھتا۔ واللہ اعلم
اولیاء وقت کی زیارت:
سیر الاقطاب میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری قدس سرہٗ مشائخ عراق میں سے تھے، یگانہ روزگار تھے، حافظ قرآن تھے، جامع علوم ظاہری وباطنی تھے، بڑے باعظمت وکرامت بزرف تھے، شیخ جنید بغدادی شیخ ردیم، سفیان ثوری اور شیخ المشائخ حضرت خواجہ معروف کرخی قدس سرہٗ کے صحبت یافتہ تھے۔ نیز حضرت خواجہ معروف کرخی قدس سرہٗ سے آپ کو خلافت بھی ملی تھی۔ اس سلسلہ میں بھی آپ صاحب طریقت وسلسلہ ہیں اس کے علاوہ آپ کو بہت سے دیگر مشائخ واولیاء کی صحبت بھی نصیب ہوئی ہے اور ہر مشائخ سے آپ نے اخذ فیض کیا ہے۔
عبادات، ریاضات وعادات، وخصائل
مرید ہونے سے قبل آپ نے سالہا سال ریاضت ومجاہدہ کیا۔ آپ سات دن کے بعد افطار کرتےتھے۔ گلے کی خشکی دور کرنے کے لیے آپ تھوڑا سا پانی پیتے تھے اور خرما پر اکتفا کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے بلکہ ایام طفلی سے روزہ رکھنا شروع کیا تھا اور شیر خوارگی کے زمانے میں آپ نے دن میں کبھی اپنی والدہ کا دودھ نہیں پیا تھا۔ غرضیکہ آپ ساری عمر شیر خوارگی سمیت صائم رہے۔ یہ صرف اس وجہ سے تھا کہ آپ دیدار الٰہی سے افطار کریں۔ حق تعالیٰ نے آپ کو دولت عرفان والدہ کی گود ہی سے عطا فرمائی تھی۔ منقول ہے کہ آپ اوائل عمر میں مال دار تھے۔ جب حق تعالیٰ کے عشق نے غلبہ کیا آپ نے تمام مال ودولت راہ حق میں دے کر کعبۃ اللہ کا رخ کیا اور عرض کیا کہ الٰہی مجھے تیرے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے عیال واطفال تیرے سپرد کیے انکو رزق عطا کرنا تیرا کام ہے۔ آواز آئی کہ اے علو تم میرے ساتھ رہو تیرے عیال واطفال میرے ذمہ ہیں۔ آپ مکہ معظمہ پہنچ کر عبادت میں مشغول ہوگئے۔ ایک دن آپ بیٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص طعام کو خونچہ سر پر رکھے آیا اور سلام کیا۔ خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ تم کون ہو اور یہ طعام کس ن ے بھیجا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں رمدان غیب[1] میں سے ہوں مجھے حق تعالیٰ سے حکم ملا ہے کہ یہ نعمت آپ کے فرزندوں کو پہنچادوں۔ نیز آپ کے لیے حق تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ میرے کام میں کوتاہی نہ کرنا۔ تیرے اہل وعیال میرے بندے ہیں ان کی فکر نہ کرنا میں نے اپنے خزانہ کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے ہیں۔ آپ نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور عبادت حق تعالیٰ میں مشغول ہوگئے۔ فقر وفاقہ پر قناعت کی۔ یہاں تک کہ کپڑوں پر پپوند لگاکر پہنتے تھے اور خدا کے خوف سے اس قدر روتے تھے کہ بے ہوش ہو جاتے تھے ۔
❤1