🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-01-1445 ᴴ | 01-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-01-1445 ᴴ | 01-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
لڑکی کا لڑکے سے اِظہار محبت کرنا
جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کیا اس نے کفر کیا ـ اِس حدیث پاک کی وضاحت
بارش کی وجہ سے قبر گِر گئی تو
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ ابوالفتح جونپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ اپنے جد امجد قاضی عبدالمقتدر کے تلمیذ و مرید تھے اور اپنے دادا ہی کے طریقہ پر قائم رہے جوبڑے عقل مند عالم تھے اور انہی کی وصیت کے مطابق درس و تداریس اور عوام کو فائدہ پہنچانے میں مشغول رہے۔ عربی زَبان میں قصیدے اور فارسی زَبان میں اشعار کہا کرتے تھے۔ آپ کے قاضی شہاب الدین سے اصول علمِ کلام اور فقہی مسائل میں بہت مناظر ہوئے تھے۔ سیاہ بلی کے پسینہ کو شیخ پلید کہتے تھے اور قاضی صاحب طاہر اور یہ بات ان رسائل کے اندر بھی موجود ہے جو اس بحث پر لکھے گئے ہیں۔ آپ کی اولاد میں سے بعضوں کا بیان ہے کہ شیخ ابوالفتح موالیوں کی طرح بد زَبان تھے وہ اپنے مخالفوں کو غصہ کی حالت میں گالیاں دیتے تھے۔ ممکن ہے کہ مناظرے کے وقت ان کی یہ حالت ہوجاتی ہو یا دیدہ و دانستہ دشمنوں کو بُرا کہتے ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے گھر میں سونے کی بارش ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ یہ بات عام لوگوں میں مشہور ہے لیکن آپ کے ملفوظات میں جو آپ کے خلفاء نے لکھے ہیں کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی اس واقعہ کی ان کی اولاد سے تصدیق ہوتی ہے۔ سوائے شیخ عبدالوہاب کے جو آپ کی اولاد میں سے بڑے بزرگ تھے وہ فرماتے ہیں کہ شیخ ابوالفتح نے اپنے دادا قاضی عبدالمقتدر کے ملفوظات جمع کیے ہیں اس میں لکھا ہے کہ قاضی شاہ جو قاضی عبدالمقتدر کے خلفاء میں سے تھے وہ ایک دن شیخ نصیرالدین محمود کے پاس دہلی تشریف لائے اور فرمایا کہ میں ایک دن قاضی عبدالمقتدر کے پاس گیا۔ اس وقت ان کے گھر میں تین روز سے فاقہ تھا جس کا قاضی صاحب نے مجھ سے ذکر بھی کیا تھا چنانچہ میں ان کے ہاں سے اُٹھ کر باہر آگیا۔ ان کے اس جانکاہ واقعہ سے میں خود بڑی پریشانی کی حالت میں ان کے گھر کے سامنے بیٹھ گیا کہ پندرہ بیس روپوں کی ان کےگھر میں بارش ہوئی۔ میں نے ان تمام سکوں کو اُٹھا لیا اور قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو وہ روپے پیش کیے اور تمام واقعہ بھی سنادیا لیکن وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے میں نے بہت اصرار کیا کہ اگر ان تمام کو قبول نہیں فرماتے تو ان میں سے کچھ تو ضرور قبول فرمالیجیے لیکن میں جتنا اصرار کرتا آپ کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جاتا، بالاخر انھوں نے ایک روپیہ بھی قبول نہیں کیا، پس یہ فی الواقع شیخ عبدالمقتدر کی کرامت تھی۔

لوگوں میں مشہور ہے کہ اس کے بعد قاضی عبدالمقتدر کے معتقدین نے وہ روپے قاضی صاحب سے ایک بڑی رقم دے کر خرید لیے تھے، شیخ ابوالفتح ابتداً تو دہلی میں رہتے تھے، لیکن امیر تیمور کے غدر کے وقت دہلی کے دوسرے بزرگوں اور بڑے لوگوں کے ہمراہ جونپور تشریف لے گئے تھے، اس کس مپرسی کے عالم میں قاضی شہاب الدین بھی دہلی سے جونپور آئے تھے۔ شیخ ابوالفتح۱۴؍ محرم الحرام ۷۷۲ھ میں بمقام دہلی اس دنیا میں تشریف لائے اور بروز جمعہ۱۳؍ ربیع الاول ۸۵۸ھ میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کی۔

شیخ ابو الفتح جونپوری[1]: عالم فاضل،فصیح بلیغ،جامع معقول و منقول اور اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے شاگرد مرید تھے اور مطابق ان کی وصیت کے ہمیشہ درس وفادۃ عللوم میں مشغول رہتے تھے،اکثر عربی و فارسی قصائد کہا کرتے تھے۔قاضی شہاب الدین سے آپ کے اصول کلامیہ اور فروع فقہیہ میں بہت مباحثے ہوئے خصوصاً زباد گربہ یعنی مشک بلائی کے باب میں جو بلی کے عرق سے ٹپکتا ہے شیخ اس کو پلید کہتے تھے اقر قاضی شہاب الدین اس کی طہارت کا حکم دیتے تھے چنانچہ اس بحث میں کئی رسالے تصنیف ہوئے۔شیخ موصوف پہلے دہلی میں رہا کرتے تھے لیکن امیر تیمور کے وافعہ میں بہ ہمراہی دیگر اکابر کے جونپور میں چلے گئے اور قاضی شہاب الدین بھی اسی واقعہ میں دہلی سے جونپور میں پہنچے۔کہتے ہیں کہ شیخ کے گھر میں زر بر سا تھا لیکن سوائے شیخ عبد الوہاب کے آپ کی دوسری اولاد اس واقعہ کی قائل نہیں۔آپ ۱۴محرم ۷۷۲ھ میں پیدا اور یوم جمعہ ۱۳ربیع الاول ۸۵۸ھ میں فوت ہوئے۔’’بحر رحمت‘‘ تاریخ وفات ہے۔

1۔ ابو الفتح بن عبد الحی بن عبد المقتدرین رکن الدین شریحی الکندی الدہلوی چم جونپوری ولادت ۷۷۲ھ(مرتب)


( حدائق الحنفیہ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fatah-jonpuri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا غلام قادر اشرفی
لالہ موسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا غلام قادر اشرفی بن میاں باغ علی چشتی، ۱۴؍ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ مطابق ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۶ میں فرید کوٹ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میاں باغ علی چشتی کو حضرت میاں محمد شاہ چشتی بستی نو (ضلع ہوشیار پور) سے شرفِ بیعت حاصل تھا۔

ابھی آپ کا عہدِ طفولیّت ہی تھا کہ والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ۱۹۱۱ء میں سکول میں داخل ہوئے اور ۱۹۲۲ء میں امتیازی حیثیت سے میڑک کرنے کے بعد کالج میں داخلہ لے لیا مگر طبیعت مائل نہ ہوئی۔

کالج کی فضا سے نکلے اور دینی درس گاہ سے منسلک ہوگئے مذہبی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی اور مختلف اساتذہ سے اکتساب کرنے کے بعد سندِ فراغت جامعہ نعیمیہ مراد آباد (یوپی) سے حاصل کی۔

آپ نے جن اساتذہ کے سامنے زانوائے تلّمذ طے کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:

۱۔ حضرت مولانا محمد سعید شبلی فرید کوٹی

۲۔ مفتی اعظم محمد مظہر اللہ خطیب و امام جامع مسجد فتح پوری دہلی (والد ماجد جناب پروفیسر مسعود احمد صاحب)

۳۔ حضرت مولانا سیّد غلام قطب الدین برہمچاری، اشرفی سہسوانی

۴۔ حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب برہمچاری

۵۔ حضرت بابا خلیل داس ایم اے (سنسکرت) چترویدی

۶۔ حضرت مولانا عبد العزیز فتح پوری

۷۔ حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ

آپ نے مدرسہ حلقہ اشاعت الحق گشتی (مراد آباد) کا تبلیغی کورس بھی مکمل کیا، جس میں ہندی، بھاشا اور سنسکرت کی تعلیم حاصل کی، اس کے علاوہ گور مکھی اور گیانی پر بھی عبور حاصل کیا۔

دورانِ طالب علمی مراد آباد کی سنی کانفرس (منعقدہ مارچ ۱۹۲۵ء) میں ایک رضا کار کی حیثیت سے حصّہ لیا۔ اس وقت ہندو اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کر رہے تھے کہیں فتنہ ارتداد برپا تھا، تو کہیں قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ چنانچہ ان فتنوں کے سدِّ باب کے لیے یہ کانفرس منعقد ہوئی اور اس میں مشاہیر مشائخ و علماء اہل سنت نے شرکت کی۔

تحصیلِ علم کے بعد آپ نے ۲۸۔۱۹۲۶ء (تین سال) تک مکتسر ضلع فیروز پور میں تدریس و خطابت کے فرائض سر انجام دیے اور ساتھ ہی نواب شاہ نواز ممدوٹ کی ہدایت پر سیاسی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔

شدھی تحریک میں آپ نے اپنے استاذ محترم حضرت مولانا برہمچاری رحمہ اللہ کے ساتھ بھر پور حصہ لیا اور مختلف بھیس بدل کر مثلاً معالج حیوانات، وید حکیم، گانے والی پارٹیوں اور سادھؤوں کی پارٹی وغیرہ بناکر شدھی تحریک کو کیفر کردار تک پہنچایا اس طرح آپ نے لاکھوں مسلمانوں کو مرتد ہونے سے بچالیا۔

۱۹۶۵ء میں آپ نے سیاست میں مکمل طور پر دلچسپی لینا شروع کردی۔ ضلع فیروز پور میں خطابت کے دوران نواب شاہ نواز ممدوٹ کی نگرانی میں مسلم لیگ کے نصب العین اور سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کے سلسلے میں کام کرتے رہے۔ شاردا ایکٹ کو ناکام بنانے کے لیےبھی علماء و مشائخ کے شانہ بشانہ کام کیا۔

۱۹۲۹ء میں مولانا نے عملی طور پر سیاست میں حصہ لیا مغلپورہ ایجی ٹیشن میں بھر پور کام کیا ۱۹۳۱ء میں تحریکِ کشمیر میں اور ۱۹۳۲ء میں جب مسلمانانِ ریاست الور ریاستی مظالم کی تاب نہ لاکر اجمیر شریف، پھرت پور، گوڈ گانواں اور دہلی کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے تو آپ حضرت سیّد غلام بھیک نیرنگ انبالوی رحمہ اللہ (آپ کے پیر بھائی) سیکرٹری جنرل انجمن تبلیغ الاسلام کے زیرِ کمان کام کرتےرہے۔

۱۹۳۳ء میں تحریکِ قادیان اور ۱۹۳۵ء میں تحریک مسجد شہید گنج میں بھر پور حصہ لیا۔ ۱۹۳۵ء ہی میں ملک برکت علی بیرسٹر لاہور (مشہور لیگی لیڈر) کے حلقہ انتخاب قصور میں کام کرتے رہے اور ملک صاحب بفضلِ خدا کامیاب ہوئے۔

۱۹۳۸ء میں لالہ موسیٰ ضلع گجرات کے اسلامیہ ہائی سکول میں مدرّس مقرر ہوئے اور پھر مستقل طور پر یہیں رہائش اختیار کرلی اور اب تک مذہب و ملّت کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔

۱۹۳۸ء ہی میں تحریک آریہ سماج جو نظام حیدر آباد کے خلاف جتھہ بندی کی صورت میں چلائی گئی تھی، کے انسداد کے لیے کافی خدمات سر انجام دیں اور یومِ نظام منایا گیا۔

۱۹۳۹ء میں قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ہدایت پریومِ نجات منایا گیا، تو مولانا نے بھی مجلسِ تبلیغ الاسلام لالہ موسیٰ کے زیرِ اہتمام یہ دن منایا آپ بھر پور کوشش کر کے ضلع بھر میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لائے اور جابجا اس کی شاخیں قائم کیں۔

۱۹۴۰ء میں خضر و زارت میں مسلم لیگ کی سول نافرمانی کی تحریک میں حصّہ لیا اور قراردادِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ کی پبلسٹی کے لیے زندگی وقف کردی حکیم سردار خان جو اس وقت مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری تھے۔ ان کے ساتھ مولانا ضلع بھر کا دورہ کرتے رہے اور انتخابات کے دوران ضلع بھر کے اہم مقامات پر سر فیروز خان نون اور س
2
ردار شوکت حیات خان کی معیّت میں دورہ کیا مسلم لیگ کا سبز پرچم لہراتے ہوئے صبح سے لے کر رات گئے تک گلی کوچوں میں پھرتے تھے۔

۱۹۴۵ء میں آپ نے ملک فیروز خان نون اور سردار شوکت حیات کے ساتھ مسلم لیگی امیدواروں کے لیے شب و روز کام کیا اور اسی سال مسلم لیگیوں کی طرف سے قائدِ اعظم کو مسلم لیگ کی طرف سے تھیلی پیش کی۔[۱]

[۱۔ دلچسپ تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے ’’اکابرِ تحریکِ پاکستان‘‘ مرتبہ محمد صادق قصوری ص ۱۷۹۔]

ان مجاہدانہ سرگرمیوں کی بناء پر آپ نے مختلف اوقات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مجموعی طور پر آپ نے ملک و ملت کے لیے تقریباً چار سال کا عرصہ جیلوں میں گزارا، مگر آپ کے عزم و حوصلے اور ولولے میں ذرّہ بھر کمی واقع نہیں ہوئی۔

۱۹۴۶ء میں علماء اہل سنت نے بنارس میں آل انڈیا سنّی کانفرنس منعقد کی جس میں ملک کے کونے کونے سے مشائخ و علماء کا جمِّ غفیر شریک ہوا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سنیّوں نے بنانا ہے اور وہ پاکستان بنا کر رہیں گے۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت محدّث کچھوچھوی سید محمد اشرفی جیلانی (صدر آل انڈیا سنّی کانفرنس) نے خطبہ صدارت ارشاد فرمایا جس کا ایک اقتباس مندرجہ ذیل ہے:

’’حضرات! میں نے بار بار پاکستان کا نام لیا ہے اور آخر میں صاف کہہ دیا ہے کہ پاکستان بنانا صرف سنیّوں کا کام ہے اور پاکستان کی تعمیر آل انڈیا سنّی کانفرنس کرے گی اس میں کوئی بات بھی نہ مبالغہ ہے نہ شاعری ہے اور نہ سنّی کانفرنس سے غلو کی بناء پر ہے پاکستان کا نام بار بار لینا جس قدر ناپاکوں کو باعثِ چٹر ہے اسی قدر پاکوں کا وظیفہ ہے اور اپنا اپنا وظیفہ کون سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے پورا نہیں کرتا‘‘۔[۱]

[۱۔ الخطبتہ الاشرفیہ للجمہوریہ الاسلامیہ بحوالہ اکابر تحریکِ پاکستان ص ۲۲۱۔]

[۲۔ محمد صادق قصوری: اکابر تحریکِ پاکستان، ص ۱۷۶تا ۱۸۱۔]

اس کانفرنس میں حضرت مولانا غلام قادر اشرفی اپنے ساتھیوں سمیت شریک ہوئے۔جب پاکستان معرض وجود میں آگیا، تو آپ نے زیادہ تر توجہ مذہبی امور کی طرف مبذول کردی، تاہم سیاسی تحریکات سے دلچسپی میں کوئی فرق نہ آیا۔ ۱۹۵۳ء میں تحریک ختمِ نبوّت میں حصہ لیا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں جمعیت علماء پاکستان کے شانہ بشانہ کام کیا۔ تحریکِ نظامِ مصطفےٰ میں قید و بند کی صعوبتیں بھی اس پیرانہ سالی میں برداشت کیں ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/ashraf-ul-mashaikh-hazrat-allama-ghulam-qadir-ashrafi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت مولانا محمد قاسم جبل پوری
آستانہ رضویہ مصطفویہ برھانیہ جبلپور

ولادت
حضرت مولانا محمد قاسم عبدالواحد شہید القادری تاج محمد قادری بن حاجی عبدالکریم چشتی ۱۴؍محرم الحرام ۱۳۶۲ھ؍۱۹؍جنوری ۱۹۴۳ء شب دو شنبہ بوقت ۱۲ بجے قصبہ ممبر کھا ضلع الیہ آباد میں پیدا ہوئے۔

خاندانی حالات
مولانا محمد قاسم رضوی کے جد امجد حاجی عبدالکریم چشتی ۱۸۵۷ء میں بمعر ۱۹یا ۲۰ سال جبل پور تشریف لائے اور ایک سو اٹھارہ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ جامع مسجد منٹری جبل پور کے بڑے قبرستان میں دفن ہوئے۔

مولانا محمد قاسم کے والد تاج محمد قادری نے ۱۳؍صفر المظفر ۱۳۹۹ھ شب یکشنبہ فجر بعمر ۸۵ سال انتقال فرمایا۔ یہ خاندان آج بھی مشہور اور وقار وعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو حضرت شیر علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی اولاد سے ہے۔

تعلیم وتربیت
مولانامحمد قاسم رضوی کی تعلیم کا آغاز جمادی الاخریٰ ۱۳۸۱ھ؍۱۹۶۰ء کو جامعہ عربیہ ناگپور سے ہوا۔ ۱۹۶۵ء میں مولانا مشتاق احمد رضوی نظامی الٰہ آبادی کے رقعہ کے توسط سے شوال المکرم ۱۳۸۵ھ کو جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں داخلہ لیا بعدہٗ ۱۹۶۷ء میں دارالعلوم مظہر اسلام بریلی میں داخلہ لے کر علوم اسلامیہ کے تحصیل کی تکمیل کی۔

اساتذۂ کرام
۱۔ حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی

۲۔ حافظ ملت مولانا عبدالعزیز رضوی مراد آبادی ثم مبارکپوری

۳۔ حضرت مولانا حافظ عبدالرؤف بلیاوی سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مبارکپور

۴۔ بقیۃ السلف مولانا الحاج محمد مبین الدین رضوی امروہوی شیخ التفسیر جامعہ نعیمیہ مراد آباد

۵۔ سید الاتقیا علامہ تحسین رضا رضوی بریلوی محدث جامعہ نوریہ رضویہ بریلی

۶۔ حضرت مولانا سید حامد اشرف رضوی اشرفی کچھوچھوی

۷۔ حضرت مولانا عبدالمنان اعظمی شیخ الحدیچ شمس العلوم گھوسی اعظم گڈھ

۸۔ حضرت مولانا مظفر حسین ظفر ادیبی مبارکپوری

۹۔ حضرت مولانا مفتی عبدالرشید فتحپوری بانی جامعہ عربیہ ناگپور

۱۰۔ حضرت مفتی غلام محمد خاں رضوی شیخ الحدیث امعہ عربیہ ناگپور

۱۱۔ حضرت مولانا مجیب اشرف رضوی جامعہ عربیہ ناگپور

خدمات دینیہ اور تصانیف
مولانا قاسم تاریخی مادے نکالنے میں بہت ماہر ہیں۔۔۔۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کی تاریخ ولادت و وصال کو ایک طویل عربی عبارت میں بند کیا۔ جس کے ہر ایک جملے سے امام احمد رضا بریلوی کا سنہ ولادت اور سنہ وفات اخذ ہوتا ہے۔ مولانا محمد قاسم نے اپنا مستقل مستقر جبل پور کو بنایا اور یہاں رہ کر وعظ وتبلیغ پند ونصاح کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ فتویٰ نویسی کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی تصانیف میں سے دو کتابیں شائع ہوچکی ہیں:

۱۔ الہامات قادریہ رضوی قاسمیہ

۲۔ جامع حقیقت

بیعت وخلافت
مولانا محمد قاسم رضوی جبلپوری کو بیعت حضور مفتی اعطم سے حاصل ہے۔ اور مفتی اعظم مولانا شاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی نے ۱۹۶۸ء کو زبانی اور ۱۹۶۹ء کو تحریری اجازت وخلافت عطا فرمائی۔ نیز برہان ملت مفتی عبدالباقی برہان الحق رضوی جبلپوری نے ۱۹۷۴ء میں اجازت مرحمت فرمائی۔

نمونۂ کلام
مولانا محمد قاسم فن شعر گوئی سے بھی آشنا ہیں۔ تخلص شہید فرماتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر چند اشعار ملاحظہ ہوں۔ ذیل کے اشعار مفتی اعظم قدس سرہٗ کی شان میں کہے گئے ہیں۔

سیدی مفتئ اعظم متقدائے اولیاء
تاجدار اہلسنت رہنمائے اولیاء
ناقصوں کے پیر کامل، کاملوں کے رہنما
ہے شہید بے نوا بھی خاکپائے اولیاء

ایک اور منقبت کے اشعار ملاحظہ ہو؎

عقدہ کشا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
محبوب حق کے پیارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
احمد رضا کے بیٹے وقف رضائے احمد
نوری میاں کے پیارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
نائب ہیں یہ نبی کے وارث ہیں غوثیت کے
ہر رُخ سے ہیں یہ نیارے مصطفیٰ رضا ہیں
تسلیم ہے ولایت ان کی ہر اک ولی کو
ہاں پیشوا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں
تقدیر کے سکندر ہم ہیں شہید نوری
شکر خدا ہمارے یہ مصطفیٰ رضا ہیں [1]


[1] ۔ محمد قاسم رضوی، مولانا: الہامات قادریہ رضویہ ص ۱۳۹، ۱۴۰

(نوٹ) حوالہ الہامات قادریہ رضویہ کے علاوہ جمیع حالات وکوائف حضرت مولانا محمد قاسم رضوی جبلپوری کے مکتوب سے ماخوذ ہیں، بنام راقم محررہ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ؍ ۱۹۹۰ء ۱۲، رضوی غفرلہٗ ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-qasim-jabalpuri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حافظ و قاری مفتی عبدالرحمٰن قادری

تاریخ پیدائش:
22 اکتوبر 1983ء, 14 محرم الحرام 1404ھ

حفظ قرآن پاک و تجوید:مدرسۃ المصطفی 15 اگست 1997ء

مشق قرآت:
استاذ القراء قاری محمد بشیر چشتی مدظلہ العالی

درس نظامی و دینی علوم:
تقریبا 11 سال 1997 تا 2008

جید اساتذہ و مشائخ سے اکتساب فیض:

شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد اسماعیل ضیائی

پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری

عمدۃ الاسلاف الدکتور ابوالقاسم ضیائ

علامہ غلام رسول افغانی

نبیرہ صدر الشریعہ مفتی عطاء المصطفی اعظمی

مفتی عبد العزیز حنفی

علامہ مختار احمد قادری شہید علیہ الرحمہ

استاذ العلماء مفتی محمد وسیم ضیائ

علامہ سید نثار اختر القادری

سند فراغت:دارالعلوم امجدیہ کراچی2008

ادیب عربی میں کراچی میں اول پوزیشن

عالم عربی, فاضل عربی, 2008 میں دارالعلوم امجدیہ میں پورے مدرسے میں اول پوزیشن

اجازت حدیث:
فاتح افریقہ جانشین صدر الشریعہ محدث کبیر مفتی ضیاء المصطفی اعظمی

شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد اسماعیل ضیائ

ابدال شام الدکتور عبدالعزیز دمشقی

سند افتاء 2012

خلیفہ تاج الشریعہ ابو البرکات مفتی محمد ثاقب اختر القادری... وہ عالم نبیل جنھوں نے افتاء کی ٹریننگ بریلی شریف میں نصف صدی تک فتاوی لکھنے والے بزرگ حضرت قاضی عبدالرحیم بستوی اور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان قادری ازہری مدظلہ العالی سے حاصل کی-

فتوی نویسی:
دوران طالب علمی 2004 سے فتاوی لکھنے کا سلسلہ شروع کیا... تا حال جاری ہے...

تخصص فی الفقہ کی تدریس... 2013 سے جاری..

عصری تعلیم:
او لیول
اے لیول
بی اے
ایم بی اے MBA فنانس
ایم اے آئ آر

شریعہ ایڈوائزر:
یو بی ایل UBL امین, نومبر 2012 تا حال

امامت و خطابت و امامتِ تراویح:
1998 سے تا حال جاری

فی الحال:
امام وخطیب مرکزی جامع مسجد گلزار حبیب عیدگاہ چوک منظور کالونی

صدر انجمن جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمانی کالونی منظور کالونی

نائب امیر جماعت اہلسنت پاکستان جمشید ٹاٶن کراچی

چند علمی کارنامے

تاحال 1500 کے قریب فتاوی جات جاری

فتاوی الفیضان جلد اول 63 فتاوی

شب براءت نجات کی رات

تخریج و حاشیہ شرح قصیدہ معراجیہ

پروف ریڈنگ ماہنامہ مصلح الدین 2005 تا 2008

پروف ریڈنگ عرفان منزل ٢

پروف ریڈنگ کتاب نعت خوانی کے تقاضے

پروف ریڈنگ -ترجمہ مولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

و کثیر کتب ورسائل

حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کی 15 کے قریب تقاریر کیسیٹ سے تحریری صورت میں لانا...سب چھپ چکی ہیں.. جس میں بالخصوص... تحریک پاکستان میں علماء کا کردار 2007 سے ہر سال چھپ رہی ہے.....

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-hafiz-abdul-rehman-qadri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1