حضرت مولانا عبد الغنی کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
حضرت مولانا عبد الغنی کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کان پور میں پیدا ہوئے ـ
علوم کی تکمیل و تحصیل والد ماجد حضرت مولانا قاضی عبد الرزاق کانپوری سے کی، بالغ الاستعداد و عالم و فاضل، متورع و متقی، مذہب اہل سنت کے سر گرم رکن اور مشہور مناظر و متکلم و فقہیہ تھے، بہت کم عمر پائی ـ
وصال:
۳۳ برس کی عمر میں ۱۳ محرم ۱۳۵۸ھ میں انتقال کیا ـ
راقم سطور کے محب مخلص مولانا قاری عبد السمیع صاحب آپ کے فرزند کان پور کے دینی قائدوں میں ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-kanpuri
ولادت:
حضرت مولانا عبد الغنی کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کان پور میں پیدا ہوئے ـ
علوم کی تکمیل و تحصیل والد ماجد حضرت مولانا قاضی عبد الرزاق کانپوری سے کی، بالغ الاستعداد و عالم و فاضل، متورع و متقی، مذہب اہل سنت کے سر گرم رکن اور مشہور مناظر و متکلم و فقہیہ تھے، بہت کم عمر پائی ـ
وصال:
۳۳ برس کی عمر میں ۱۳ محرم ۱۳۵۸ھ میں انتقال کیا ـ
راقم سطور کے محب مخلص مولانا قاری عبد السمیع صاحب آپ کے فرزند کان پور کے دینی قائدوں میں ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghani-kanpuri
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Ghani Kanpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت عماد الدین عمار یاسر سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ شیخ ابو النجیب سہروردی کے مریدین میں سے ہیں ۔ آپ ناقصوں کی تکمیل اور مریدوں کی تربیت اور ان کے واقعات کشف میں بڑا کمال رکھتے تھے ـ
شیخ نجم الدین کبریٰ کتاب " فاتح الجمال " میں لکھتے ہیں کہ جب میں شیخ عمار کی خدمت میں پہنچا، اور ان کے حکم ہے تارت میں آیا، تو میری طبیعت میں یہ گزرا کہ جب سے میں نے علوم ظاہری پڑھے ہیں ۔
جب غیبی فتوحات حاصل ہوگی تو میں منبر پر چڑھ کر ان کو طالبان حق سناؤں گا ۔ جب میں اس نیت سے خلوت میں آیا تو خلوت کا پورا ہونا میسر نہ ہوا ۔ تب میں باہر نکل آیا ۔
شیخ نے فرمایا: دل کی نیت کو صحیح کرو ۔ اس کے بعد خلوت کرو ۔ آپ نور باطن کا پرتوہ میرے دل پر چمکایا ۔ میں نے کتابوں کو وقف کر دیا اور کپڑے فقرا کو دے دیے صرف ایک جبہ جو پہنا ہوا تھا وہ رہنے دیا میں نے کہا یہ خلوت خانہ میری قبر کاہے اور میرے اس کفن کے جبہ کو دوبارہ آنا ممکن نہ ہوگا ۔
میں نے قصد کر لیا کہ اگر باہر آنے کی خواہش غالب ہو تو اس جبہ کو پھاڑ دوںگا تاکہ ستر باقی نہ رہے ۔ اور ھیا نکلے کو مانع ہو ۔ شیخ نے مجھے دیکھا اور کہا اب آ کیونکہ تم نے نیت درست کر لی ۔
جب میں آیا تو خلوت پوری ہو گئی، اور شیخ کی ہمت کی برکت سے فتوحات کے دروازے مجھ پر کھل گئے ۔
وصال:
13 محرم الحرام 599ھ
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imaduddin-ammar-yasir-soharwardi
آپ شیخ ابو النجیب سہروردی کے مریدین میں سے ہیں ۔ آپ ناقصوں کی تکمیل اور مریدوں کی تربیت اور ان کے واقعات کشف میں بڑا کمال رکھتے تھے ـ
شیخ نجم الدین کبریٰ کتاب " فاتح الجمال " میں لکھتے ہیں کہ جب میں شیخ عمار کی خدمت میں پہنچا، اور ان کے حکم ہے تارت میں آیا، تو میری طبیعت میں یہ گزرا کہ جب سے میں نے علوم ظاہری پڑھے ہیں ۔
جب غیبی فتوحات حاصل ہوگی تو میں منبر پر چڑھ کر ان کو طالبان حق سناؤں گا ۔ جب میں اس نیت سے خلوت میں آیا تو خلوت کا پورا ہونا میسر نہ ہوا ۔ تب میں باہر نکل آیا ۔
شیخ نے فرمایا: دل کی نیت کو صحیح کرو ۔ اس کے بعد خلوت کرو ۔ آپ نور باطن کا پرتوہ میرے دل پر چمکایا ۔ میں نے کتابوں کو وقف کر دیا اور کپڑے فقرا کو دے دیے صرف ایک جبہ جو پہنا ہوا تھا وہ رہنے دیا میں نے کہا یہ خلوت خانہ میری قبر کاہے اور میرے اس کفن کے جبہ کو دوبارہ آنا ممکن نہ ہوگا ۔
میں نے قصد کر لیا کہ اگر باہر آنے کی خواہش غالب ہو تو اس جبہ کو پھاڑ دوںگا تاکہ ستر باقی نہ رہے ۔ اور ھیا نکلے کو مانع ہو ۔ شیخ نے مجھے دیکھا اور کہا اب آ کیونکہ تم نے نیت درست کر لی ۔
جب میں آیا تو خلوت پوری ہو گئی، اور شیخ کی ہمت کی برکت سے فتوحات کے دروازے مجھ پر کھل گئے ۔
وصال:
13 محرم الحرام 599ھ
( نفحاتُ الاُنس )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imaduddin-ammar-yasir-soharwardi
scholars.pk
Hazrat Imaduddin Ammar Yasir Soharwardi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
مجاہد اسلام حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی ۔ لقب: مجاہدِ اسلام ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مجاہد اسلام حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین بن حضرت خواجہ محمد الدین بن حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1304ھ، بمطابق 1886ء کو سیال شریف ضلع سرگودھا (پنجاب، پاکستان ) میں پیدا ہوئے ۔ "منظور حق" (1304ھ) مادۂ تاریخ ہے ۔
ذوقِ علم:
آپ کو بچپن ہی سے علوم دینیہ کا بے حد شوق تھا، قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد ممتاز افاضل سے علم دین کی تعلیم حاصل کی اور والد ماجد کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے ۔
آپ نہ صرف قرآن کریم کے حافظ تھے بلکہ بائبل پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے ۔ مطالعۂ کتب سے اس قدر لگاؤ تھا کہ اکثر و بیشتر شام کا کھانا رات کے دو تین بجے تناول فرماتے، ملک اور بیرون ملک سے کتب دینیہ کا بہت بڑا ذخیرہ منگوا کر کتب خانہ میں خاصی تو سیع کی، آستانۂ عالیہ پر قائم شدہ دار العلوم کو خاطر خواہ ترقی دی ۔
علامۂ زماں مولانا معین الدین اجمیری اور ان کے جلیل القدر شاگرد مولانا محمد حسین اور دیگر اجلہ فضلاء کو آپ ہی کی کشش سیال شریف کھینچ لائی تھی، علم دوستی کی اس سے بہتر اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ آپ نے اپنے فرزند اجمند شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین علیہ الرحمہ کو تحصیل علوم کے لئے اجمیر شریف، مولانا معین الدین اجمیری کی خدمت میں بھیجا تھا ۔ حضرت شیخ الاسلام کا کمال علمی اور علوم دینیہ سے لگاؤ آپ ہی کا مرہونِ منت ہے ۔
سیرت و خصائص:
شیخِ طریقت، رہبرِ شریعت، بطلِ حریت، مجاہدِ اسلام حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا تعلق ان نفوسِ قدسیہ میں سے ہے جن پر ملت اسلامیہ کو فخر ہے ۔ آپ کےدل میں ملت اسلامیہ کا بے پناہ درد اور مکاّر فرنگی سے حد درجہ نفرت کرتے تھے ۔
آپ نے تمام عمر انگریز کو زمین کا خراج نہ دیا، ملت مسلمہ کی اس خیر خواہی اور انگریز دشمن کے تحت آپ نے تحریک " ترک مولات " کی حمایت کی اور تین سال تک فوج اور پولیس میں ملازم مریدین سے نذرانہ قبول نہ کیا ۔
ایک مرتبہ انگریز کمشنر نے حاضر ہو کر 35 مربع اراضی کی لنگر کے لئے پیشکش کی لیکن آپ نے یہ کہہ کر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا کہ: "اگر انگریز اپنی تمام حکومت بھی مجھے دے دے تو بھی میرا ایمان نہیں خرید سکتا، فقیر شاہی خزانہ کا مالک ہے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے" ۔
آپ نے " وادیِ سون سکیسر " (ضلع خوشاب، پنجاب کا ایک خوبصوت پہاڑی سلسلہ) کے پہاڑی علاقے سے وہ پتھر اکھیڑ کر پھینک دیا جس پر ترکوں کے خلاف جنگ میں دادِ شجاعت دینے والے فوجیوں کے نا م کندہ تھے ۔
آپ نے فرمایا: "ہم ان بد بختوں کے نام دیکھنا نہیں چاہتے جنہوں نے عربوں پر گولیاں چلائی تھیں" ۔
آپ نے 1934ء میں دربار رسالت میں منظوم استغاثہ پیش کیا جس کے ایک ایک مصرعہ سع دردو کر ب کا اظہار ہوتا ہے، چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔
آپ کی امت سا دنیا میں نہیں کوئی ذلیل
قوم مسلم وہن کی علت میں ہے اب مبتلا
عقل مسلم کی ہوئی گم، اس کا سر ایسا پھرا
رحم کر ہم پر جو ہے تو رحمۃ للعالمین
اے خدا یا! بخش دے ہم کو ضیاءِ شمس دیں
ایں سزائے آنکہ اوشد بے خبر زامّ الکتاب
اسقنا کأ سا ًشفاء ًمن لدنک یا سحاب
نیک رابد می شمارد،قج راد اند صواب
چہرۂ پر نور تاباں رانمائی بے نقاب
سر خرو باشیم و شاداں پیشِ تو یوم الحساب
وصال:
آپ کا وصال 13 محرم الحرام 1348ھ، بمطابق 22 جون 1929ء کو ہوا ۔ آپ سیال شریف میں اپنے جد امجد حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے پہلو میں محو استراحت ہوئے ۔ شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ آپ کے فرزندِ ارجمند تھے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-ziauddin-sialvi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی ۔ لقب: مجاہدِ اسلام ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مجاہد اسلام حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین بن حضرت خواجہ محمد الدین بن حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1304ھ، بمطابق 1886ء کو سیال شریف ضلع سرگودھا (پنجاب، پاکستان ) میں پیدا ہوئے ۔ "منظور حق" (1304ھ) مادۂ تاریخ ہے ۔
ذوقِ علم:
آپ کو بچپن ہی سے علوم دینیہ کا بے حد شوق تھا، قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد ممتاز افاضل سے علم دین کی تعلیم حاصل کی اور والد ماجد کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے ۔
آپ نہ صرف قرآن کریم کے حافظ تھے بلکہ بائبل پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے ۔ مطالعۂ کتب سے اس قدر لگاؤ تھا کہ اکثر و بیشتر شام کا کھانا رات کے دو تین بجے تناول فرماتے، ملک اور بیرون ملک سے کتب دینیہ کا بہت بڑا ذخیرہ منگوا کر کتب خانہ میں خاصی تو سیع کی، آستانۂ عالیہ پر قائم شدہ دار العلوم کو خاطر خواہ ترقی دی ۔
علامۂ زماں مولانا معین الدین اجمیری اور ان کے جلیل القدر شاگرد مولانا محمد حسین اور دیگر اجلہ فضلاء کو آپ ہی کی کشش سیال شریف کھینچ لائی تھی، علم دوستی کی اس سے بہتر اور کیا مثال ہو سکتی ہے کہ آپ نے اپنے فرزند اجمند شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ محمد قمر الدین علیہ الرحمہ کو تحصیل علوم کے لئے اجمیر شریف، مولانا معین الدین اجمیری کی خدمت میں بھیجا تھا ۔ حضرت شیخ الاسلام کا کمال علمی اور علوم دینیہ سے لگاؤ آپ ہی کا مرہونِ منت ہے ۔
سیرت و خصائص:
شیخِ طریقت، رہبرِ شریعت، بطلِ حریت، مجاہدِ اسلام حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا تعلق ان نفوسِ قدسیہ میں سے ہے جن پر ملت اسلامیہ کو فخر ہے ۔ آپ کےدل میں ملت اسلامیہ کا بے پناہ درد اور مکاّر فرنگی سے حد درجہ نفرت کرتے تھے ۔
آپ نے تمام عمر انگریز کو زمین کا خراج نہ دیا، ملت مسلمہ کی اس خیر خواہی اور انگریز دشمن کے تحت آپ نے تحریک " ترک مولات " کی حمایت کی اور تین سال تک فوج اور پولیس میں ملازم مریدین سے نذرانہ قبول نہ کیا ۔
ایک مرتبہ انگریز کمشنر نے حاضر ہو کر 35 مربع اراضی کی لنگر کے لئے پیشکش کی لیکن آپ نے یہ کہہ کر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا کہ: "اگر انگریز اپنی تمام حکومت بھی مجھے دے دے تو بھی میرا ایمان نہیں خرید سکتا، فقیر شاہی خزانہ کا مالک ہے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے" ۔
آپ نے " وادیِ سون سکیسر " (ضلع خوشاب، پنجاب کا ایک خوبصوت پہاڑی سلسلہ) کے پہاڑی علاقے سے وہ پتھر اکھیڑ کر پھینک دیا جس پر ترکوں کے خلاف جنگ میں دادِ شجاعت دینے والے فوجیوں کے نا م کندہ تھے ۔
آپ نے فرمایا: "ہم ان بد بختوں کے نام دیکھنا نہیں چاہتے جنہوں نے عربوں پر گولیاں چلائی تھیں" ۔
آپ نے 1934ء میں دربار رسالت میں منظوم استغاثہ پیش کیا جس کے ایک ایک مصرعہ سع دردو کر ب کا اظہار ہوتا ہے، چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔
آپ کی امت سا دنیا میں نہیں کوئی ذلیل
قوم مسلم وہن کی علت میں ہے اب مبتلا
عقل مسلم کی ہوئی گم، اس کا سر ایسا پھرا
رحم کر ہم پر جو ہے تو رحمۃ للعالمین
اے خدا یا! بخش دے ہم کو ضیاءِ شمس دیں
ایں سزائے آنکہ اوشد بے خبر زامّ الکتاب
اسقنا کأ سا ًشفاء ًمن لدنک یا سحاب
نیک رابد می شمارد،قج راد اند صواب
چہرۂ پر نور تاباں رانمائی بے نقاب
سر خرو باشیم و شاداں پیشِ تو یوم الحساب
وصال:
آپ کا وصال 13 محرم الحرام 1348ھ، بمطابق 22 جون 1929ء کو ہوا ۔ آپ سیال شریف میں اپنے جد امجد حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کے پہلو میں محو استراحت ہوئے ۔ شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی علیہ الرحمہ آپ کے فرزندِ ارجمند تھے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-muhammad-ziauddin-sialvi
scholars.pk
Hazrat Khawaja Muhammad Ziauddin Sialvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-01-1445 ᴴ | 31-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-01-1445 ᴴ | 01-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-01-1445 ᴴ | 01-08-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-01-1445 ᴴ | 01-08-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1