حضرت خواجہ عبد الخالق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت با سعادت:
آپ ۱۲۷۰ھ میں پیدا ہوئے، قریباً تین سال کے تھے کہ آپ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ شمس العرفاں قدس سرہ نے شہادت پائی۔ اُن کے چہلم پر حضرت حاجی محمد قدس سرہ نے آپ کے سر مبارک پر دستار خلافت باندھ کر سجادہ نشین مقرر کیا۔ اور حضرت شمس العرفان کے مرید ان کامل میں سے خلفائے نامدار امام بخش راہوانی، بلاقی شاہ، عالم شاہ، بیگے شاہ او رنور احمد کی بھی دستار بندی کی اور فرمایا کہ یہ پانچوں وزیر اور عبدالخالق بادشاہ ہے۔ اس گدی کو سنبھالو۔
تحصیل علم:
جب آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو درویش آ پ کو تحصیل علم کے لیے سائیں نیک محمد کے پاس جہانخیلاں میں لے جاتے۔ اور رخصت کے وقت لے آتے۔ کچھ عرصۃ کے بعد آپ کو مولوی پیر محمد صاحب ساکن بنگہ کے سپرد کردیا گیا۔ مولوی صاحب بڑی محبت سے پیش آتے تھے مگر اُن کی والدہ کا سلوک اچھا نہ تھا۔ اس لیے مولوی صاحب نے آپ کو اپنے پیر بھائی محمد بخش سب انسپکٹر پولیس کے حوالہ کردیا۔ آپ ان کی زیر نگرانی بنگہ میں تعلیم پاتے رہے۔ پھر حضرت قطب زماں خواجہ توکل شاہ انبالوی قدس سرہ آپ کو انبالہ لے گئے اور وہاں دینیات پڑھواتے رہے۔ بعد ازاں آپ علم حدیث پڑھنے کے لیے سہارنپور میں مولانا احمد علی صاحب محدث کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا احمد حسن صاحب کانپوری اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی آپ کے ہم سبق تھے۔ اس کے بعد آپ نے دہلی میں مولوی کریم محمد صاحب اور مولوی سعید احمد صاحب سے تکمیل دینیات کی۔
علوم باطنی کا حصول:
علم باطن کی تحصیل کے لیے آپ متعدد جگہ حاضر ہوئے، آخرکار حضرت شیخ احمد صاحب بخاری قادری سے خاندان قادریہ میں بیعت ہوئے۔ حضرت شیخ نے آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا۔ حضرت شیخ کا مزار مبارک رسولپور ضلع بارہ بنکی میں ہے۔ اس کے بعد آپ نے خاندان نقشبندیہ میں حضرت حاجی حافظ محمود صاحب جالندھری سے بیعت کی اور اجازت ارشاد پاکر اپنے وطن میں قیام کیا اور اشاعت طریقہ نقشبند میں سرگرم رہے۔
قوم راجپوت میں بیوگان کا نکاح ثانی جائز نہ سمجھا جاتا تھا۔ جب آپ کی عمر ۳۷ سال کی ہوئی تو آپ نے اس سنت کے احیاء میں نہایت کوشش کی۔ بہت سی تکالیف کا سامنا ہوا، مگر آپ کے پائے ثبات میں تزلزل نہ آیا اور آخر کار کامیاب ہوئے۔
آپ یتیم رہ چکے تھے اور بفحوائے شعر شیخ سعدی علیہ الرحمۃ ؎
مرا باشد از دردِ طفلاں خبر
کہ در خردی از سر برفتم پدر
یتیم خانہ اور مدرسہ کی تعمیر:
یتیموں کے حالات سے خوب واقف تھے۔ اس لیے آپ نے کوٹ عبدالخالق میں ۱۳۲۲ھ میں ایک یتیم خانہ کی بنا رکھی۔ اور یتامیٰ و مساکین کی تعلیم کے لیے جون ۱۹۰۵ء مین مدرسہ تعلیم القرآن جاری کیا۔ اور حافظ محمد یعقوب کو مدرس مقرر کیا۔ پہلے دن پانچ یتیم داخل مدرسہ ہوئے۔ بعد ازاں دو سال تک کوئی اور طالب علم داخل نہ ہوا، مخالفین کہنے لگے کہ بچوں کو قرآن پڑھا کر ان کی عمریں ضائع کرنا ہے۔ اس لیے آپ نے ۱۹۰۷ء میں اسی مدرسہ کو پرائمری کے درجہ تک قائم کرکے دینیات کو لازم قرار دیا۔ اور مدرسہ کا انتطام اور روپیہ پیسہ کا حساب کتاب ایک انجمن خالقیہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور انجمن کو باضابطہ رجسٹر کرادیا گیا۔ یہ ابتدائی مدرسہ پرائمری سے مڈل اور مڈل سے انٹرینس تک ترقی کرگیا۔ اور آخر پنجاب یونیورسٹی سے الحاق ہوگیا۔ اس اسکول میں اول سے آخر تک رائج الوقت نصاب کے علاوہ تعلیم دینیات لازم قرار دی گئی ہے۔
وصال مبارک:
اخیر عمر میں آپ بواسیر وغیرہ امراض متعددہ میں مبتلا رہا کرتے تھے۔ بتاریخ ۱۲ محرم الحرام بروز جمعہ ۱۳۵۰ھ مطابق ۵ جون ۱۹۳۱ء آپ نے شہر انبالہ میں ایک مکان کی چھت پر وضو کرکے فجر کی سنتیں پڑھیں ۔ فرضوں کی جماعت ہونے لگی، مولوی رحیم الدین میرٹھی پیش امام تھے ۔ حضرت صاحب، خلیفہ عبد الرزاق، سید دین علی شاہ اور مولوی سراج الدین بنگالی مقتدی تھے ۔
جب دوسری رکعت کے آخری سجدے میں گئے چھت یکایک گر پڑی ۔ حضرت صاحب شہید ہو گئے ۔ اور باقی زخمی ہو گئے ۔ ادائے نماز جنازہ کے بعد نعش مبارک تابوت میں رکھ کر لاری میں کوٹ عبد الخالق میں لائی گئی ۔
اور بتاریخ ۱۹ محرم الحرام ۱۳۵۰ھ بروز یک شنبہ دو بارہ نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو دفن کر دیا گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کی کرامات و ملفوظات و اوراد و شبانہ روزی اور آپ کے خلفاء کے حالات کے لیے سیرت خالقیہ کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-khaliq
ولادت با سعادت:
آپ ۱۲۷۰ھ میں پیدا ہوئے، قریباً تین سال کے تھے کہ آپ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ شمس العرفاں قدس سرہ نے شہادت پائی۔ اُن کے چہلم پر حضرت حاجی محمد قدس سرہ نے آپ کے سر مبارک پر دستار خلافت باندھ کر سجادہ نشین مقرر کیا۔ اور حضرت شمس العرفان کے مرید ان کامل میں سے خلفائے نامدار امام بخش راہوانی، بلاقی شاہ، عالم شاہ، بیگے شاہ او رنور احمد کی بھی دستار بندی کی اور فرمایا کہ یہ پانچوں وزیر اور عبدالخالق بادشاہ ہے۔ اس گدی کو سنبھالو۔
تحصیل علم:
جب آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو درویش آ پ کو تحصیل علم کے لیے سائیں نیک محمد کے پاس جہانخیلاں میں لے جاتے۔ اور رخصت کے وقت لے آتے۔ کچھ عرصۃ کے بعد آپ کو مولوی پیر محمد صاحب ساکن بنگہ کے سپرد کردیا گیا۔ مولوی صاحب بڑی محبت سے پیش آتے تھے مگر اُن کی والدہ کا سلوک اچھا نہ تھا۔ اس لیے مولوی صاحب نے آپ کو اپنے پیر بھائی محمد بخش سب انسپکٹر پولیس کے حوالہ کردیا۔ آپ ان کی زیر نگرانی بنگہ میں تعلیم پاتے رہے۔ پھر حضرت قطب زماں خواجہ توکل شاہ انبالوی قدس سرہ آپ کو انبالہ لے گئے اور وہاں دینیات پڑھواتے رہے۔ بعد ازاں آپ علم حدیث پڑھنے کے لیے سہارنپور میں مولانا احمد علی صاحب محدث کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا احمد حسن صاحب کانپوری اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی آپ کے ہم سبق تھے۔ اس کے بعد آپ نے دہلی میں مولوی کریم محمد صاحب اور مولوی سعید احمد صاحب سے تکمیل دینیات کی۔
علوم باطنی کا حصول:
علم باطن کی تحصیل کے لیے آپ متعدد جگہ حاضر ہوئے، آخرکار حضرت شیخ احمد صاحب بخاری قادری سے خاندان قادریہ میں بیعت ہوئے۔ حضرت شیخ نے آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا۔ حضرت شیخ کا مزار مبارک رسولپور ضلع بارہ بنکی میں ہے۔ اس کے بعد آپ نے خاندان نقشبندیہ میں حضرت حاجی حافظ محمود صاحب جالندھری سے بیعت کی اور اجازت ارشاد پاکر اپنے وطن میں قیام کیا اور اشاعت طریقہ نقشبند میں سرگرم رہے۔
قوم راجپوت میں بیوگان کا نکاح ثانی جائز نہ سمجھا جاتا تھا۔ جب آپ کی عمر ۳۷ سال کی ہوئی تو آپ نے اس سنت کے احیاء میں نہایت کوشش کی۔ بہت سی تکالیف کا سامنا ہوا، مگر آپ کے پائے ثبات میں تزلزل نہ آیا اور آخر کار کامیاب ہوئے۔
آپ یتیم رہ چکے تھے اور بفحوائے شعر شیخ سعدی علیہ الرحمۃ ؎
مرا باشد از دردِ طفلاں خبر
کہ در خردی از سر برفتم پدر
یتیم خانہ اور مدرسہ کی تعمیر:
یتیموں کے حالات سے خوب واقف تھے۔ اس لیے آپ نے کوٹ عبدالخالق میں ۱۳۲۲ھ میں ایک یتیم خانہ کی بنا رکھی۔ اور یتامیٰ و مساکین کی تعلیم کے لیے جون ۱۹۰۵ء مین مدرسہ تعلیم القرآن جاری کیا۔ اور حافظ محمد یعقوب کو مدرس مقرر کیا۔ پہلے دن پانچ یتیم داخل مدرسہ ہوئے۔ بعد ازاں دو سال تک کوئی اور طالب علم داخل نہ ہوا، مخالفین کہنے لگے کہ بچوں کو قرآن پڑھا کر ان کی عمریں ضائع کرنا ہے۔ اس لیے آپ نے ۱۹۰۷ء میں اسی مدرسہ کو پرائمری کے درجہ تک قائم کرکے دینیات کو لازم قرار دیا۔ اور مدرسہ کا انتطام اور روپیہ پیسہ کا حساب کتاب ایک انجمن خالقیہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور انجمن کو باضابطہ رجسٹر کرادیا گیا۔ یہ ابتدائی مدرسہ پرائمری سے مڈل اور مڈل سے انٹرینس تک ترقی کرگیا۔ اور آخر پنجاب یونیورسٹی سے الحاق ہوگیا۔ اس اسکول میں اول سے آخر تک رائج الوقت نصاب کے علاوہ تعلیم دینیات لازم قرار دی گئی ہے۔
وصال مبارک:
اخیر عمر میں آپ بواسیر وغیرہ امراض متعددہ میں مبتلا رہا کرتے تھے۔ بتاریخ ۱۲ محرم الحرام بروز جمعہ ۱۳۵۰ھ مطابق ۵ جون ۱۹۳۱ء آپ نے شہر انبالہ میں ایک مکان کی چھت پر وضو کرکے فجر کی سنتیں پڑھیں ۔ فرضوں کی جماعت ہونے لگی، مولوی رحیم الدین میرٹھی پیش امام تھے ۔ حضرت صاحب، خلیفہ عبد الرزاق، سید دین علی شاہ اور مولوی سراج الدین بنگالی مقتدی تھے ۔
جب دوسری رکعت کے آخری سجدے میں گئے چھت یکایک گر پڑی ۔ حضرت صاحب شہید ہو گئے ۔ اور باقی زخمی ہو گئے ۔ ادائے نماز جنازہ کے بعد نعش مبارک تابوت میں رکھ کر لاری میں کوٹ عبد الخالق میں لائی گئی ۔
اور بتاریخ ۱۹ محرم الحرام ۱۳۵۰ھ بروز یک شنبہ دو بارہ نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو دفن کر دیا گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کی کرامات و ملفوظات و اوراد و شبانہ روزی اور آپ کے خلفاء کے حالات کے لیے سیرت خالقیہ کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-khaliq
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abdul Khaliq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ محمد مظہر بن احمد سعید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
محترم، عالم، صالح، محمد مظہر بن احمد سعید بن ابی سعید، عمری، حنفی، دہلوی، مدینۃ الرسول ﷺ کی طرف ہجرت کرنے والے ـ
ولادت:
آپ کی دہلوی شہر میں ۴ جمادی الاولیٰ ۱۲۴۸ھ میں ولادت ہوئی ـ
تعلیم:
علماء اور مشائخ کی گود میں پرورش پائی مولانا حبیب اللہ کے علاوہ دوسرے علماء وقت سے بھی علم حاصل کیا پھر اپنے والد ہی کی صحبت اپنے لئے لازم کر لی ۔ اور ان سے ان کے دادا کے مکتوبات ربانی، دو مرتبہ انتہائی غور و خوض اور تدبر کے ساتھ پڑھے ۔ اور ان سے علم طریقت حاصل کیا ان سے ہی اجازت لے کر حرمین شریفین کا سفر کیا اور حج و زیارت سے فارغ ہوئے ۔
پھر ہندوستان لوٹ آئے اور اپنے والد کی صحبت میں رہنے لگے ۔ ۱۲۷۴ھ میں دوبارہ اپنےو الد کے ساتھ حجاز کا سفر کیا اور مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کی ۔ پھر اپنے صنو کبیر عبد الرشید (چچا) کے انتقال کے بعد اپنے والد بزرگ کی گدی پر بیٹھے جس سے ان کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی، آپ علماء ربانیین میں سے تھے علم معقول و منقول اور تمام فروع و اصول کے جامع تھے ساتھ ہی معارف اور حقائق حکم کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔
مختصر جملوں میں جامع حالات:
شیخ مراد بن عبداللہ قزانی نے ذیل کے مختصر جملوں میں آپ کے اچھے حالات بیان کئے ہیں ۔ یہ کہتے ہوئے کہ اپنے سالکین کی تربیت میں آپ کا طریقہ ویسا ہی تھا جیسا کہ آپ کے آباد کا تھا اس میں ذرہ برابر نہ کچھ تبدیلی تھی اور نہ تغبیر نہ کسی طرح کی کمی کر کے اور نہ کسی کی زیادتی کر کے ۔ اس راستہ میں آپ بِالکل درمیانہ رو تھے ۔
آپ کی نظر صرف اور صرف اس جملہ پر مبذول تھی سدّدو اور وقاربوا اور ہمیشہ حدیث کے اس جملہ بشروا ولا تنفروا یعنی بشارت تو سناؤ مگر منافرت کی بات نہ کرو ۔
ہر طالب علم کو آپ جو مناسب سمجھتے مناسب وظیفے اور اذکار کا حکم دیتے تھے، یعنی ان میں سے کسی سے کچھ ایسے بھی ہوتے کہ ان کو پانے کام کا پورا پُورا اختیار دے دیا جاتا آپ کی زیادہ تر توجہ علماء اور طلبہ علوم پر ہوتی ۔ دنیا میں جہالت کی زیادتی اور قسم قسم کی دنیا میں بدعتیں پھیلتے ہوئے آپ جو کچھ مشاہدہ فرماتے ان کی طرف طالب علم کو بھی توجہ دلاتے، اور ان لوگوں کو زیادتی ذکر کی تکلیف نہیں دیتے کہ اس کی وجہ سے تحصیل علم اور اس کے ذرائع کو چھوڑنا پڑتا ۔
باب المبقیع پر مدرسہ کا قیام:
مدینہ منورہ میں ایک مدرسہ عالیہ کی بنیاد رکھی تھی جو باب البقیع پر تین منزلہ تھا جس میں ضرورت کی تمام چیزیں مثلاً: کتب خانہ، پڑھانے کی جگہ، ذکر و نصیحت کے لئے دوستوں اور آنے والوں کے لئے مہمان خانہ، آپ کی ایک کتاب المقامات السعد یہ ہے جس میں فارسی زبان میں باب کے حالات اور مقامات کے حالات درج تھے ۔
وصال:
آپ ۱۳۰۱ھ کے ۱۲ محرم کی مبارک رات کو وفات پا گئے ۔ اور اپنے والد کی قبر کے بغل میں جنّت البقیع میں دفن کئے گئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-mazhar-hussain-kandhalvi
محترم، عالم، صالح، محمد مظہر بن احمد سعید بن ابی سعید، عمری، حنفی، دہلوی، مدینۃ الرسول ﷺ کی طرف ہجرت کرنے والے ـ
ولادت:
آپ کی دہلوی شہر میں ۴ جمادی الاولیٰ ۱۲۴۸ھ میں ولادت ہوئی ـ
تعلیم:
علماء اور مشائخ کی گود میں پرورش پائی مولانا حبیب اللہ کے علاوہ دوسرے علماء وقت سے بھی علم حاصل کیا پھر اپنے والد ہی کی صحبت اپنے لئے لازم کر لی ۔ اور ان سے ان کے دادا کے مکتوبات ربانی، دو مرتبہ انتہائی غور و خوض اور تدبر کے ساتھ پڑھے ۔ اور ان سے علم طریقت حاصل کیا ان سے ہی اجازت لے کر حرمین شریفین کا سفر کیا اور حج و زیارت سے فارغ ہوئے ۔
پھر ہندوستان لوٹ آئے اور اپنے والد کی صحبت میں رہنے لگے ۔ ۱۲۷۴ھ میں دوبارہ اپنےو الد کے ساتھ حجاز کا سفر کیا اور مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کی ۔ پھر اپنے صنو کبیر عبد الرشید (چچا) کے انتقال کے بعد اپنے والد بزرگ کی گدی پر بیٹھے جس سے ان کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی، آپ علماء ربانیین میں سے تھے علم معقول و منقول اور تمام فروع و اصول کے جامع تھے ساتھ ہی معارف اور حقائق حکم کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔
مختصر جملوں میں جامع حالات:
شیخ مراد بن عبداللہ قزانی نے ذیل کے مختصر جملوں میں آپ کے اچھے حالات بیان کئے ہیں ۔ یہ کہتے ہوئے کہ اپنے سالکین کی تربیت میں آپ کا طریقہ ویسا ہی تھا جیسا کہ آپ کے آباد کا تھا اس میں ذرہ برابر نہ کچھ تبدیلی تھی اور نہ تغبیر نہ کسی طرح کی کمی کر کے اور نہ کسی کی زیادتی کر کے ۔ اس راستہ میں آپ بِالکل درمیانہ رو تھے ۔
آپ کی نظر صرف اور صرف اس جملہ پر مبذول تھی سدّدو اور وقاربوا اور ہمیشہ حدیث کے اس جملہ بشروا ولا تنفروا یعنی بشارت تو سناؤ مگر منافرت کی بات نہ کرو ۔
ہر طالب علم کو آپ جو مناسب سمجھتے مناسب وظیفے اور اذکار کا حکم دیتے تھے، یعنی ان میں سے کسی سے کچھ ایسے بھی ہوتے کہ ان کو پانے کام کا پورا پُورا اختیار دے دیا جاتا آپ کی زیادہ تر توجہ علماء اور طلبہ علوم پر ہوتی ۔ دنیا میں جہالت کی زیادتی اور قسم قسم کی دنیا میں بدعتیں پھیلتے ہوئے آپ جو کچھ مشاہدہ فرماتے ان کی طرف طالب علم کو بھی توجہ دلاتے، اور ان لوگوں کو زیادتی ذکر کی تکلیف نہیں دیتے کہ اس کی وجہ سے تحصیل علم اور اس کے ذرائع کو چھوڑنا پڑتا ۔
باب المبقیع پر مدرسہ کا قیام:
مدینہ منورہ میں ایک مدرسہ عالیہ کی بنیاد رکھی تھی جو باب البقیع پر تین منزلہ تھا جس میں ضرورت کی تمام چیزیں مثلاً: کتب خانہ، پڑھانے کی جگہ، ذکر و نصیحت کے لئے دوستوں اور آنے والوں کے لئے مہمان خانہ، آپ کی ایک کتاب المقامات السعد یہ ہے جس میں فارسی زبان میں باب کے حالات اور مقامات کے حالات درج تھے ۔
وصال:
آپ ۱۳۰۱ھ کے ۱۲ محرم کی مبارک رات کو وفات پا گئے ۔ اور اپنے والد کی قبر کے بغل میں جنّت البقیع میں دفن کئے گئے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-mazhar-hussain-kandhalvi
scholars.pk
Hazrat Molvi Mazhar Hussain Kandhalvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
والدِ بو علی شاہ قلندر علیہ الرحمہ
شیخ فخر الدین محبوبی علیہ الرحمہ
آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ شرف الدین بو علی شاہ قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم ہیں ـ
آپ کا مکمل اسم گرامی السّید محمد ابو الحسن شاہ فخر الدین فخر عالم، محمد ثانی محبوبی ہے اور فخر الدین محبوبی کے نام سے معروف ہیں ۔
آپ مدینہ منورہ کوچہ ہاشمی سے نجف عراق) پھر (ایران) خسروی، کرمانشاہ، ہمدان، کرمان، ماحان، خراسان ،میمہ (جہاں آپ کے والد محترم حضرت السیّد ابو القاسم یحییٰ کا مقبرہ ہے) سے (افغانستان) ہرات، بلخ (مزار شریف) سے سالنگ راستے سے ہو کر کابل، ولایت لوگر اریوب سے ہوتے ہوئے پارہ چنار، کرم ایجنسی (جس کا پرانا نام طلا و خراسان تھا) کے ایک گاؤں کڑمان (قدیمی نام کرمان) میں ہمراہ دو فرزند حضرت السیّد شاہ انور اور حضرت بو علی شاہ قلندر آباد ہوۓ ۔
اور ہندوستان میں آپ کا فیوض جاری ہوا ـ
( فیضانِ صوفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-fakhruddin-mehboobi
شیخ فخر الدین محبوبی علیہ الرحمہ
آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ شرف الدین بو علی شاہ قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم ہیں ـ
آپ کا مکمل اسم گرامی السّید محمد ابو الحسن شاہ فخر الدین فخر عالم، محمد ثانی محبوبی ہے اور فخر الدین محبوبی کے نام سے معروف ہیں ۔
آپ مدینہ منورہ کوچہ ہاشمی سے نجف عراق) پھر (ایران) خسروی، کرمانشاہ، ہمدان، کرمان، ماحان، خراسان ،میمہ (جہاں آپ کے والد محترم حضرت السیّد ابو القاسم یحییٰ کا مقبرہ ہے) سے (افغانستان) ہرات، بلخ (مزار شریف) سے سالنگ راستے سے ہو کر کابل، ولایت لوگر اریوب سے ہوتے ہوئے پارہ چنار، کرم ایجنسی (جس کا پرانا نام طلا و خراسان تھا) کے ایک گاؤں کڑمان (قدیمی نام کرمان) میں ہمراہ دو فرزند حضرت السیّد شاہ انور اور حضرت بو علی شاہ قلندر آباد ہوۓ ۔
اور ہندوستان میں آپ کا فیوض جاری ہوا ـ
( فیضانِ صوفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-fakhruddin-mehboobi
scholars.pk
Sheikh Fakhruddin Mehboobi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت ابو محمد سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا صبر:
حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے مجوسی پڑوسی کے ساتھ بھی اچھا سلوک کيا تھا کہ اس کے بيت الخلاء ميں حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر کی طرف ايک سوراخ تھا جس سے نجاست گرا کرتی تھی، حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رات کو دن بھر ميں گرنے والی گندگی ايک کونے ميں جمع کر ديا کرتے تھے ـ
جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بيمار ہوئے تو آپ نے اس مجوسی کو بلا کر اسے واقعہ بتايا اور معذرت خواہانہ انداز ميں کہا: "مجھے ڈرہے کہ ميرے ورثاء اس بات کو برداشت نہ کرسکيں گے اور تم سے جھگڑ پڑيں گے ۔
"تو اس مجوسی کو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اتنی بڑی ايذاء پر صبر کرنے پر بڑا تعجب ہوا، اس نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی: "آپ اتنے طويل عرصہ سے ميرے ساتھ ايسا معاملہ کرتے رہے اور ميں ہوں کہ اب تک کفر پر قائم ہوں اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ ميں مسلمان ہو جاؤں ۔
" آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہاتھ بڑھايا اور وہ مسلمان ہو گيا، اس کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بھی وصال ہو گيا ۔
(جہنم میں لے جانے والے اعمال، جلد اول، صفحہ ۸۱۰)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sahl-bin-abdullah-tustari
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا صبر:
حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے مجوسی پڑوسی کے ساتھ بھی اچھا سلوک کيا تھا کہ اس کے بيت الخلاء ميں حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر کی طرف ايک سوراخ تھا جس سے نجاست گرا کرتی تھی، حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رات کو دن بھر ميں گرنے والی گندگی ايک کونے ميں جمع کر ديا کرتے تھے ـ
جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بيمار ہوئے تو آپ نے اس مجوسی کو بلا کر اسے واقعہ بتايا اور معذرت خواہانہ انداز ميں کہا: "مجھے ڈرہے کہ ميرے ورثاء اس بات کو برداشت نہ کرسکيں گے اور تم سے جھگڑ پڑيں گے ۔
"تو اس مجوسی کو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اتنی بڑی ايذاء پر صبر کرنے پر بڑا تعجب ہوا، اس نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی: "آپ اتنے طويل عرصہ سے ميرے ساتھ ايسا معاملہ کرتے رہے اور ميں ہوں کہ اب تک کفر پر قائم ہوں اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ ميں مسلمان ہو جاؤں ۔
" آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہاتھ بڑھايا اور وہ مسلمان ہو گيا، اس کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بھی وصال ہو گيا ۔
(جہنم میں لے جانے والے اعمال، جلد اول، صفحہ ۸۱۰)
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sahl-bin-abdullah-tustari
www.scholars.pk
Hazrat Sahl Bin Abdullah Tustari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
-
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-01-1445 ᴴ | 30-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-01-1445 ᴴ | 31-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2