🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت سید زین العابدین قادری جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و لقب:
آپ کا اصل نام احمد بخش تھا لیکن مشہور زین العابدین کے نام سے ہوئے ہیں ۔

آپ حضور غوث اعظم کی اولاد امجاد سے ہیں ۔ آپ کے والد گرامی کا نام عبد القادر المعروف حاجی شاہ ہے ۔

ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت درگاہ نورائی شریف (حیدر آباد) سندھ ۱۳۳۲ھ ۲۳ شوال المکرم پیر کی شب میں ہوئی ہے ۔ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد کے پاس ایک فقیر آیا تھا اور یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ اے حاجی شاہ آپ کو ایک فرزند عطا ہوگا پیدا ہوتے ہی اس کے سامنے دو دانت ہوں گے اور اس کا نام زین العابدین رکھنا ۔ آپ کی ولادت ہوئی اس فقیر کی پیش گوئی کے مطابق دو سامنے والے دانت موجود تھے لیکن زین العابدین نام رکھنا آپ کے والد بھول گئے ۔

پھر وہ فقیر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کو میری دعاء سے جو لڑکا ہوا ہے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ آپ کے والد نے فرمایا کہ نام تو ان کا ہم نے احمد بخش رکھا ہے لیکن انہیں زین العابدین کے نام سے ہی پکاریں گے ۔

چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری اپنے وقت کے اہل دل عشاق ، صاحب شریعت و طریقت اور باکمال بزرگوں میں سے تھے ۔

بارہ سال کی عمر تک تو مجذوبانہ کیفیت رہی پھر اس میں کچھ افاقہ ہوا تو آپ ہی نے صرف سندھی کی پہلی تک، قرآن شریف اور فارسی گلستان تک تعلیم حاصل کی دو سال تک طبیعت قدرے سالم رہی پھر وہی مجذوبانہ کفییت رہی جو ۲۲ سال کی عمر تک رہی حکماء اور اطباء آپ کے مرض کی صحیح تشخیص نہ کر سکے ـ

پھر آپ کے والد محترم سیدہ ‘‘ اوٹے شریف ’’ والی کی خدمت میں لے گئے، کیوں کہ سیدہ خاتون اپنے وقت کی ولیہ کاملہ تھیں، جب سیدہ نے آپ کو دیکھا تو فرمایا کہ ‘‘ اے زین العابدین کیا حال ہیں؟ ’’آپ نے اس کا جواب سندھی شعر میں دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘ اے امی اگر روتا ہوں تو لوگ اسے کھیل سمجھتے ہیں اگر ہنستا ہوں تو دل جلتا ہے میری آنکھوں کو تو اس وقت آرام ملے جب وہ اپنے محبوب کو دیکھیں گے ’’ ـ

حضرت سیدہ خاتون نے بھی اس شعر کا جواب سندھی شعر میں ہی دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘دکھی اور پہاڑ نے جو آپس میں باتیں کی ہیں اچھا ہوا کہ کسی نے یہ باتیں سنی نہیں ورنہ دنیا مصیبت میں گرفتار ہو جاتی ’’ ـ

اس کے بعد آپ حضرت زین العابدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد سے فرمانے لگیں کہ ان کو عشق الہٰی کی بیماری ہے میرے پاس چھوڑ جائیے ان شاء اللہ صحیح ہو جائےگا ـ

حضرت زین العابدین حضرت سیدہ خاتون کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور خاتون نے آپ کو سلسلۂ قادریہ میں داخل فرمایا کہ خلافت سے نوازا ۔

بعد میں آپ کی طبیعت بِالکل صحیح ہو گئی ۔ آپ کی شادی کے وقت ولی کامل حضرت سید میاں عبد الرسول رفاعی کے چھوٹے صاحبزادہ میاں گدا محی الدین کی صاحبزادی سے ہوئی ۔

حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری علیہ الرحمۃ اپنی مرشدہ کے انتقال کے بعد بغداد شریف تشریف لے گئے اور حضرت سید محمد سالم الجیلانی قدس سرہ سے دوبارہ بیعت ہو گئے حضرت نے آپ کو خلعت خلافت سے نوازا ۔ حضرت محمد سالم علیہ الرحمۃ کے وصال فرمانے کے بعد پھر آپ مدینہ منورہ کے مشہور بزرگ حضرت سید احمد بن مختار تارک سلطنت المغرب کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے حضرت موصوف نے بھی اپنی کرم نوازیوں سے آپ کو نوازا اور خرقہ خلافت عطا فرمایا ۔

حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ جہاں آپ شریعت و طریقت کے میدان کے شہسوار تھے وہاں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول اور عدیم النظیر شاعر بھی تھے آخری عمر میں تو یہ حالت تھی کہ کلام گفتگو، تقریر مقفی اور مسجع پر مشتمل ہوا کرتی تھی، آپ نے تقریباً چودہ زبانوں میں شعر پر طبع آزمائی فرمائی ۔

مشرک زبانوں پر مشتمل ایک شعر درج ذیل ہے۔

سندھی
دم دم وانھیان در تنھنجی تی پلھو پائی پالٹھار

سرائیکی
مولی مینوں جلد ملا دیں سائیں مدینہ دی سرکار

انگریزی
نیوز ڈؤنٹ گو یئز

پشتو
استرگادں تہ اؤگر

بلوچی
گندگاں شمشم نیز نظر۔ ھگ شون ایں اسرار

عربی
اھدنا الصراط المستقیم

فارسی
مارا بدہ راہ کریم

اردو
بخش کرو جنت نعیم

سرائیکی
ترت ملاویں تھدں یار

فارسی اردو
دستگیر دس مرا ضعیف زنیل کا ذرا: من چہ گویم دلبرا

پنجابی سندھی
آوے پنڈ پھٹ کل اختیار

اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا شبہ شرح صدر عطا فرمایا تھا جب آپ گفتگو فرماتے کسی بڑے سے بڑے عالم، دانشور، وکیل اور مدبر کو مجال دم زدن نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کے برادرِ اکبر حضرت سید علامہ و مولانا محمد بخش شاہ آپ کو بھٹائی ثانی کہا کرتے تھے ۔
1
آپ کی محفل میں ہر وقت مولود خوانی اور نعت خوانی ہوا کرتی تھی ۔ ہر وقت حضور اکرم ﷺ کے عشق و محبت میں ڈوبے ہوا کرتے تھے جب بھی حضور ﷺ کا نام نامی اسم گرامی سنتے تو آنکھوں  سے آنسوؤں کا سیل رواں جاری ہو جاتا تھا ۔

آپ کے کلام کے مجموعہ تقریباً ہزار گیارہ سو کے قریب ہیں جن میں چند زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں اور اباقی غیر مطبوعہ ہیں ۔

مطبوعات میں سے:
۱: قصہ حضرت یوسف علیہ السلام و زلیخا ۔ سندھی ۔
۲: شہادت کربلا ۔ سندھی
۳: مداحون شریف ۔ سندھی
۴: شان مجاہد سفر ناموں ۔ سندھی
۵: بیاض جیلانی ۔ سندھی
۶: خطبات جمعہ و عیدین سندھی قابل ذکر ہیں ۔


حضرت کی عقیدت وارادت کا حلقہ بہت وسیع ہے ملک اور ملک سے باہر آپ کے مریدین و متولین موجود ہیں ۔ آپ نے ۸ حج ادا فرمائے اور ایک حج خشکی کے ذریعہ عراق و بغداد کربلا اور شاہ نجف اشرف ہوتے ہوئے مدینہ شریف گئے ۔

آپ ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ کا خاص شاندار اہتمام فرماتے تھے جس میں علماء کرام حضور ﷺ کا میلاد شریف بیان کرتے تھے اور ہر ماہ گیارہویں کابھی اہتمام فرماتے تھے جس کو اب تک آپ کے جانشین بڑے فرزند حضرت حافظ محمد عارف شاہ جیلانی اور چھوٹے پیر حضرت غلام جیلانی شاہ جیلانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

وصال:
اتنی بے شمار خوبیوں کا حامل اللہ کا ولی، عاشق رسول ﷺ میدان فصاحت و بلاغت اور سخن کے شہسوار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء ۶۳ سال کی عمر میں واصل بحق ہو گئے ۔

مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار نورائی پھلیلی نہر کے کنار ے ضلع حیدر آباد میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔ ہر سال آپ کا یوم وصال ۲۱ محرم کو بڑے شان و شوکت سے منایا جاتا ہے ۔

( تذکرہ اولیاءِ سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-zain-ul-abideen-qadri-jilani
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ عبد الخالق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

ولادت با سعادت:
آپ ۱۲۷۰ھ میں پیدا ہوئے، قریباً تین سال کے تھے کہ آپ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ شمس العرفاں قدس سرہ نے شہادت پائی۔ اُن کے چہلم پر حضرت حاجی محمد قدس سرہ نے آپ کے سر مبارک پر دستار خلافت باندھ کر سجادہ نشین مقرر کیا۔ اور حضرت شمس العرفان کے مرید ان کامل میں سے خلفائے نامدار امام بخش راہوانی، بلاقی شاہ، عالم شاہ، بیگے شاہ او رنور احمد کی بھی دستار بندی کی اور فرمایا کہ یہ پانچوں وزیر اور عبدالخالق بادشاہ ہے۔ اس گدی کو سنبھالو۔

تحصیل علم:
جب آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو درویش آ پ کو تحصیل علم کے لیے سائیں نیک محمد کے پاس جہانخیلاں میں لے جاتے۔ اور رخصت کے وقت لے آتے۔ کچھ عرصۃ کے بعد آپ کو مولوی پیر محمد صاحب ساکن بنگہ کے سپرد کردیا گیا۔ مولوی صاحب بڑی محبت سے پیش آتے تھے مگر اُن کی والدہ کا سلوک اچھا نہ تھا۔ اس لیے مولوی صاحب نے آپ کو اپنے پیر بھائی محمد بخش سب انسپکٹر پولیس کے حوالہ کردیا۔ آپ ان کی زیر نگرانی بنگہ میں تعلیم پاتے رہے۔ پھر حضرت قطب زماں خواجہ توکل شاہ انبالوی قدس سرہ آپ کو انبالہ لے گئے اور وہاں دینیات پڑھواتے رہے۔ بعد ازاں آپ علم حدیث پڑھنے کے لیے سہارنپور میں مولانا احمد علی صاحب محدث کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا احمد حسن صاحب کانپوری اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی آپ کے ہم سبق تھے۔ اس کے بعد آپ نے دہلی میں مولوی کریم محمد صاحب اور مولوی سعید احمد صاحب سے تکمیل دینیات کی۔

علوم باطنی کا حصول:
علم باطن کی تحصیل کے لیے آپ متعدد جگہ حاضر ہوئے، آخرکار حضرت شیخ احمد صاحب بخاری قادری سے خاندان قادریہ میں بیعت ہوئے۔ حضرت شیخ نے آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا۔ حضرت شیخ کا مزار مبارک رسولپور ضلع بارہ بنکی میں ہے۔ اس کے بعد آپ نے خاندان نقشبندیہ میں حضرت حاجی حافظ محمود صاحب جالندھری سے بیعت کی اور اجازت ارشاد پاکر اپنے وطن میں قیام کیا اور اشاعت طریقہ نقشبند میں سرگرم رہے۔

قوم راجپوت میں بیوگان کا نکاح ثانی جائز نہ سمجھا جاتا تھا۔ جب آپ کی عمر ۳۷ سال کی ہوئی تو آپ نے اس سنت کے احیاء میں نہایت کوشش کی۔ بہت سی تکالیف کا سامنا ہوا، مگر آپ کے پائے ثبات میں تزلزل نہ آیا اور آخر کار کامیاب ہوئے۔

آپ یتیم رہ چکے تھے اور بفحوائے شعر شیخ سعدی علیہ الرحمۃ ؎

مرا باشد از دردِ طفلاں خبر
کہ در خردی از سر برفتم پدر

یتیم خانہ اور مدرسہ کی تعمیر:
یتیموں کے حالات سے خوب واقف تھے۔ اس لیے آپ نے کوٹ عبدالخالق میں ۱۳۲۲ھ میں ایک یتیم خانہ کی بنا رکھی۔ اور یتامیٰ و مساکین کی تعلیم کے لیے جون ۱۹۰۵ء مین مدرسہ تعلیم القرآن جاری کیا۔ اور حافظ محمد یعقوب کو مدرس مقرر کیا۔ پہلے دن پانچ یتیم داخل مدرسہ ہوئے۔ بعد ازاں دو سال تک کوئی اور طالب علم داخل نہ ہوا، مخالفین کہنے لگے کہ بچوں کو قرآن پڑھا کر ان کی عمریں ضائع کرنا ہے۔ اس لیے آپ نے ۱۹۰۷ء میں اسی مدرسہ کو پرائمری کے درجہ تک قائم کرکے دینیات کو لازم قرار دیا۔ اور مدرسہ کا انتطام اور روپیہ پیسہ کا حساب کتاب ایک انجمن خالقیہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور انجمن کو باضابطہ رجسٹر کرادیا گیا۔ یہ ابتدائی مدرسہ پرائمری سے مڈل اور مڈل سے انٹرینس تک ترقی کرگیا۔ اور آخر پنجاب یونیورسٹی سے الحاق ہوگیا۔ اس اسکول میں اول سے آخر تک رائج الوقت نصاب کے علاوہ تعلیم دینیات لازم قرار دی گئی ہے۔

وصال مبارک:
اخیر عمر میں آپ بواسیر وغیرہ امراض متعددہ میں مبتلا رہا کرتے تھے۔ بتاریخ ۱۲ محرم الحرام بروز جمعہ ۱۳۵۰ھ مطابق ۵ جون ۱۹۳۱ء آپ نے شہر انبالہ میں ایک مکان کی چھت پر وضو کرکے فجر کی سنتیں پڑھیں ۔ فرضوں کی جماعت ہونے لگی، مولوی رحیم الدین میرٹھی پیش امام تھے ۔ حضرت صاحب، خلیفہ عبد الرزاق، سید دین علی شاہ اور مولوی سراج الدین بنگالی مقتدی تھے ۔

جب دوسری رکعت کے آخری سجدے میں گئے چھت یکایک گر پڑی ۔ حضرت صاحب شہید ہو گئے ۔ اور باقی زخمی ہو گئے ۔ ادائے نماز جنازہ کے بعد نعش مبارک تابوت میں رکھ کر لاری میں کوٹ عبد الخالق میں لائی گئی ۔

اور بتاریخ ۱۹ محرم الحرام ۱۳۵۰ھ بروز یک شنبہ دو بارہ نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو دفن کر دیا گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

آپ کی کرامات و ملفوظات و اوراد و شبانہ روزی اور آپ کے خلفاء کے حالات کے لیے سیرت خالقیہ کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔

( مشائخ نقشبند )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-khaliq
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت شیخ محمد مظہر بن احمد سعید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

محترم، عالم، صالح، محمد مظہر بن احمد سعید بن ابی سعید، عمری، حنفی، دہلوی، مدینۃ الرسول ﷺ کی طرف ہجرت کرنے والے ـ

ولادت:
آپ کی دہلوی شہر میں ۴ جمادی الاولیٰ ۱۲۴۸ھ میں ولادت ہوئی ـ

تعلیم:
علماء اور مشائخ کی گود میں پرورش پائی مولانا حبیب اللہ کے علاوہ دوسرے علماء وقت سے بھی علم حاصل کیا پھر اپنے والد ہی کی صحبت اپنے لئے لازم کر لی ۔ اور ان سے ان کے دادا کے مکتوبات ربانی، دو مرتبہ انتہائی غور و خوض اور تدبر کے ساتھ پڑھے ۔ اور ان سے علم طریقت حاصل کیا ان سے ہی اجازت لے کر حرمین شریفین کا سفر کیا اور حج و زیارت سے فارغ ہوئے ۔

پھر ہندوستان لوٹ آئے اور اپنے والد کی صحبت میں رہنے لگے ۔ ۱۲۷۴ھ میں دوبارہ اپنےو الد کے ساتھ حجاز کا سفر کیا اور مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کی ۔ پھر اپنے صنو کبیر عبد الرشید (چچا) کے انتقال کے بعد اپنے والد بزرگ کی گدی پر بیٹھے جس سے ان کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی، آپ علماء ربانیین میں سے تھے علم معقول و منقول اور تمام فروع و اصول کے جامع تھے ساتھ ہی معارف اور حقائق حکم کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔

مختصر جملوں میں جامع حالات:
شیخ مراد بن عبداللہ قزانی نے ذیل کے مختصر جملوں میں آپ کے اچھے حالات بیان کئے ہیں ۔ یہ کہتے ہوئے کہ اپنے سالکین کی تربیت میں آپ کا طریقہ ویسا ہی تھا جیسا کہ آپ کے آباد کا تھا اس میں ذرہ برابر نہ کچھ تبدیلی تھی اور نہ تغبیر نہ کسی طرح کی کمی کر کے اور نہ کسی کی زیادتی کر کے ۔ اس راستہ میں آپ بِالکل درمیانہ رو تھے ۔

آپ کی نظر صرف اور صرف اس جملہ پر مبذول تھی سدّدو اور وقاربوا اور ہمیشہ حدیث کے اس جملہ بشروا ولا تنفروا یعنی بشارت تو سناؤ مگر منافرت کی بات نہ کرو ۔

ہر طالب علم کو آپ جو مناسب سمجھتے مناسب وظیفے اور اذکار کا حکم دیتے تھے، یعنی ان میں سے کسی سے کچھ ایسے بھی ہوتے کہ ان کو پانے کام کا پورا پُورا اختیار دے دیا جاتا آپ کی زیادہ تر توجہ علماء اور طلبہ علوم پر ہوتی ۔ دنیا میں جہالت کی زیادتی اور قسم قسم کی دنیا میں بدعتیں پھیلتے ہوئے آپ جو کچھ مشاہدہ فرماتے ان کی طرف طالب علم کو بھی توجہ دلاتے، اور ان لوگوں کو زیادتی ذکر کی تکلیف نہیں دیتے کہ اس کی وجہ سے تحصیل علم اور اس کے ذرائع کو چھوڑنا پڑتا ۔

باب المبقیع پر مدرسہ کا قیام:
مدینہ منورہ میں ایک مدرسہ عالیہ کی بنیاد رکھی تھی جو باب البقیع پر تین منزلہ تھا جس میں ضرورت کی تمام چیزیں مثلاً: کتب خانہ، پڑھانے کی جگہ، ذکر و نصیحت کے لئے دوستوں اور آنے والوں کے لئے مہمان خانہ، آپ کی ایک کتاب المقامات السعد یہ ہے جس میں فارسی زبان میں باب کے حالات اور مقامات کے حالات درج تھے ۔

وصال:
آپ ۱۳۰۱ھ کے ۱۲ محرم کی مبارک رات کو وفات پا گئے ۔ اور اپنے والد کی قبر کے بغل میں جنّت البقیع میں دفن کئے گئے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molvi-mazhar-hussain-kandhalvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
والدِ بو علی شاہ قلندر علیہ الرحمہ
شیخ فخر الدین محبوبی علیہ الرحمہ

آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت شیخ شرف الدین بو علی شاہ قلندر رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم ہیں ـ

آپ کا مکمل اسم گرامی السّید محمد ابو الحسن شاہ فخر الدین فخر عالم، محمد ثانی محبوبی ہے اور فخر الدین محبوبی کے نام سے معروف ہیں ۔

آپ مدینہ منورہ کوچہ ہاشمی سے نجف عراق) پھر (ایران) خسروی، کرمانشاہ، ہمدان، کرمان، ماحان، خراسان ،میمہ (جہاں آپ کے والد محترم حضرت السیّد ابو القاسم یحییٰ کا مقبرہ ہے) سے (افغانستان) ہرات، بلخ (مزار شریف) سے سالنگ راستے سے ہو کر کابل، ولایت لوگر اریوب سے ہوتے ہوئے پارہ چنار، کرم ایجنسی (جس کا پرانا نام طلا و خراسان تھا) کے ایک گاؤں کڑمان (قدیمی نام کرمان) میں ہمراہ دو فرزند حضرت السیّد شاہ انور اور حضرت بو علی شاہ قلندر آباد ہوۓ ۔

اور ہندوستان میں آپ کا فیوض جاری ہوا ـ

( فیضانِ صوفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-fakhruddin-mehboobi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت ابو محمد سہل بن عبد اللہ تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا صبر:
حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے مجوسی پڑوسی کے ساتھ بھی اچھا سلوک کيا تھا کہ اس کے بيت الخلاء ميں حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر کی طرف ايک سوراخ تھا جس سے نجاست گرا کرتی تھی، حضرت سہل تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رات کو دن بھر ميں گرنے والی گندگی ايک کونے ميں جمع کر ديا کرتے تھے ـ

جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بيمار ہوئے تو آپ نے اس مجوسی کو بلا کر اسے واقعہ بتايا اور معذرت خواہانہ انداز ميں کہا: "مجھے ڈرہے کہ ميرے ورثاء اس بات کو برداشت نہ کرسکيں گے اور تم سے جھگڑ پڑيں گے ۔

"تو اس مجوسی کو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اتنی بڑی ايذاء پر صبر کرنے پر بڑا تعجب ہوا، اس نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی: "آپ اتنے طويل عرصہ سے ميرے ساتھ ايسا معاملہ کرتے رہے اور ميں ہوں کہ اب تک کفر پر قائم ہوں اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ ميں مسلمان ہو جاؤں ۔

" آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ہاتھ بڑھايا اور وہ مسلمان ہو گيا، اس کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بھی وصال ہو گيا ۔

(جہنم میں لے جانے والے اعمال، جلد اول، صفحہ ۸۱۰)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sahl-bin-abdullah-tustari
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-01-1445 ᴴ | 30-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
12-01-1445 ᴴ | 31-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2