🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-01-1445 ᴴ | 30-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-01-1445 ᴴ | 30-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مناقبِ حسین 💐❤️🌹منقبتِ حسین
مناقبِ امامِ حسین منقبتِ امامِ حسین
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0BKzZaGrPnVbo9HoMnXfAuuKRoRfcNVXbt774qNsFENGJuwR6d8Re16Non6Mo43n3l&id=100004579304922&mibextid=ZbWKwL
186 منقبتیں | شان اِمام حسین
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَکَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مناقبِ حسین 💐❤️🌹منقبتِ حسین
مناقبِ امامِ حسین منقبتِ امامِ حسین
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0BKzZaGrPnVbo9HoMnXfAuuKRoRfcNVXbt774qNsFENGJuwR6d8Re16Non6Mo43n3l&id=100004579304922&mibextid=ZbWKwL
186 منقبتیں | شان اِمام حسین
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَکَ وَ تَـعَـالیٰ عَـنۡـهٗ
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
حضرت مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت:
مولانا محمد عبد اللہ بن احمد یار (رحمہما اللہ تعالیٰ ) ۱۲، محرم ، ۱۵ ستمبر (۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ئ) کو لنگر انہ چک ۲۳۷، نزد محمدی شریف، ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
محمدی شریف مین قرآن پاک پڑھنے کے بعد ابتدائی کتابیں پرھیں ، بعد ازاں بھیرہ ضلع سرگودھا میں مولانا سعید الرحمن ہزاروی سے علمی استفادہ کیا ، پھر موضع قفری (ضلع سرگودھا) میں مولانا خدا بخش سے درس نظامی کی آخری کتابیں حمد اللہ شرح لم ، مسلم الثبوت اور توضیح تلویح وغیرہ پڑھیں پھر کچھ عرصہ محمدی شریف جا کر پڑھتے رہے ـ
درسِ حدیث کے لئے مرکز علم و عرفان بریلی شریف گئے اور حضرت شیخ الحدیث مولانا ابو الفضل سردار احمد قدس سرہ العزیز سے اکتساب فیض کیا ۔
سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ العالی کے مرید تھے ۔
تکمیلِ علوم کے بعد مدرسہ ضیاء شمس الاسلام ، سیال شریف (ضلع سرگودھا) میں مدرس مقرر ہوئے ۔ اسی دوران جب استاذ الاساتذہ مولانا عطا محمد بندالوی دامت الطافہ سیال شریف تشریف لائے تو مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی تبرکا ان کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے اور میبذی و غیرہ کتب پڑھیں ۔
غالباً ۱۹۵۷ء میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قدس سرہ کے بلانے پر مولانا صاحبزادہ قاضی محمد فضل رسول مدظلہ کی تعلیم کے لئے جامعہ رضویہ لائل پور تشریف لے گئے، ان دنوں راقم الحروف کو بھی آپ سے صرف کی بعض کتابیں پڑھنے کا موقع ملا، لیکن چند ماہ بعد ہی حضرت شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ العالی بہ نفس نفیس لائل پور تشریف لائے اور مولانا کو اپنے ساتھ سیال شریف لے گئے ۔ بعد ازاں ایک سال جامعہ حنفیہ قصور اور دو تین سال شمس العلوم مظفریہ رضویہ، واں بھچراں میں مدرس رہے ۔ اس کے علاوہ آستانۂ عالیہ سیال شریف ہی قیام رہا [1] اور زندگی کے آخری دِنوں تک درس و تدریس میں مصروف رہے ۔
مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی رحمہ اللہ تعالیٰ کوش اخلاق ، مِلن سار اور پر خلوص انسان تھے ۔ دن رات طلباء کو پڑھانے اور محنت کرانے میں لگے رہتے ۔
۱۹۷۳ء میں آپ کا نوجوان صاحبزادہ فوت ہو گیا ، یہ صدمہ جان لیوا ثابت ہوا اور آپ ۲۵، ذی الحجہ، ۱۹ جنوری (۱۳۹۳ھ/۱۹۷۴ئ) کو دار فانی سے رحلت فرما گئے ـ [2]
[1] غلام علی ، مولانا : الیواقیت المہریہ ، ص ۱۳۔
[2] مکتوب گرامی مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ مدرس ضیاء شمس الاسلام ، سیال شریف بنام راقم الحروف۔
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-abdullah-jhangvi
ولادت:
مولانا محمد عبد اللہ بن احمد یار (رحمہما اللہ تعالیٰ ) ۱۲، محرم ، ۱۵ ستمبر (۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ئ) کو لنگر انہ چک ۲۳۷، نزد محمدی شریف، ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم:
محمدی شریف مین قرآن پاک پڑھنے کے بعد ابتدائی کتابیں پرھیں ، بعد ازاں بھیرہ ضلع سرگودھا میں مولانا سعید الرحمن ہزاروی سے علمی استفادہ کیا ، پھر موضع قفری (ضلع سرگودھا) میں مولانا خدا بخش سے درس نظامی کی آخری کتابیں حمد اللہ شرح لم ، مسلم الثبوت اور توضیح تلویح وغیرہ پڑھیں پھر کچھ عرصہ محمدی شریف جا کر پڑھتے رہے ـ
درسِ حدیث کے لئے مرکز علم و عرفان بریلی شریف گئے اور حضرت شیخ الحدیث مولانا ابو الفضل سردار احمد قدس سرہ العزیز سے اکتساب فیض کیا ۔
سلسلۂ عالیہ چشتیہ میں شیخ الاسلام حضرت خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ العالی کے مرید تھے ۔
تکمیلِ علوم کے بعد مدرسہ ضیاء شمس الاسلام ، سیال شریف (ضلع سرگودھا) میں مدرس مقرر ہوئے ۔ اسی دوران جب استاذ الاساتذہ مولانا عطا محمد بندالوی دامت الطافہ سیال شریف تشریف لائے تو مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی تبرکا ان کے حلقۂ درس میں شریک ہوئے اور میبذی و غیرہ کتب پڑھیں ۔
غالباً ۱۹۵۷ء میں حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قدس سرہ کے بلانے پر مولانا صاحبزادہ قاضی محمد فضل رسول مدظلہ کی تعلیم کے لئے جامعہ رضویہ لائل پور تشریف لے گئے، ان دنوں راقم الحروف کو بھی آپ سے صرف کی بعض کتابیں پڑھنے کا موقع ملا، لیکن چند ماہ بعد ہی حضرت شیخ الاسلام خواجہ محمد قمر الدین سیالوی مدظلہ العالی بہ نفس نفیس لائل پور تشریف لائے اور مولانا کو اپنے ساتھ سیال شریف لے گئے ۔ بعد ازاں ایک سال جامعہ حنفیہ قصور اور دو تین سال شمس العلوم مظفریہ رضویہ، واں بھچراں میں مدرس رہے ۔ اس کے علاوہ آستانۂ عالیہ سیال شریف ہی قیام رہا [1] اور زندگی کے آخری دِنوں تک درس و تدریس میں مصروف رہے ۔
مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی رحمہ اللہ تعالیٰ کوش اخلاق ، مِلن سار اور پر خلوص انسان تھے ۔ دن رات طلباء کو پڑھانے اور محنت کرانے میں لگے رہتے ۔
۱۹۷۳ء میں آپ کا نوجوان صاحبزادہ فوت ہو گیا ، یہ صدمہ جان لیوا ثابت ہوا اور آپ ۲۵، ذی الحجہ، ۱۹ جنوری (۱۳۹۳ھ/۱۹۷۴ئ) کو دار فانی سے رحلت فرما گئے ـ [2]
[1] غلام علی ، مولانا : الیواقیت المہریہ ، ص ۱۳۔
[2] مکتوب گرامی مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ مدرس ضیاء شمس الاسلام ، سیال شریف بنام راقم الحروف۔
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-muhammad-abdullah-jhangvi
scholars.pk
Hazrat Molana Muhammad Abdullah Jhangvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت مولانا محمد عبد اللہ جھنگوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادت: مولانا محمد عبد اللہ بن احمد یار (رحمہما اللہ تعالیٰ ) ۱۲، محرم ، ۱۵ ستمبر (۱۳۴۰ھ/ ۱۹۲۱ئ) کو لنگر انہ چک ۲۳۷، نزد محمدی شریف، ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے ۔ تعلیم: محمدی شریف مین قرآن پاک پڑھنے کے…
#یوم_ولادت_ماہ_محرم_الحرام
#یوم_وصال_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/54162
https://t.me/islaamic_Knowledge/55443
#یوم_وصال_ماہ_ذو_الحجہ 🌹
https://t.me/islaamic_Knowledge/54162
https://t.me/islaamic_Knowledge/55443
❤1
مولانا مفتی در محمد سکندری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی درمحمد سکندری ۔ والد کا اسمِ گرامی: محمد ابراہیم لنجی ۔ (مرحوم) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ گوٹھ "و روائی" نزد اسلام کوٹ ضلع تھر پارکر (سندھ) میں محمد ابراہیم لنجی کے گھر 1939ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گوٹھ و روائی میں سندھی میں تین جماعت تک پاس کی کہ ان کا مقدر جاگ اٹھا کہ ان کے برادر اکبر محمد بچل لنجی نے اسکو ل سے نکال کر مدرسہ بحرالعلوم کنری میمن(ضلع عمر کوٹ) میں 1951ء کو داخل کرا دیا ۔
مفتی در محمد نہایت ذکی اور محنتی تھے، قرآن شریف فارسی اور عربی متوسط درجہ تک تعلیم مدرسہ بحر العلوم کنری میمن میں حاصل کی ۔ اس وقت مدرسہ میں درج ذیل علماء اساتذہ مقرر تھے ۔
مولانا عبد الغفور چانڈیو ۔ مولانا دوست محمد میمن ، مولانا حاجی عبید الحق میمن اور مولانا غلام رسول چھجڑو (دادوی) وغیرہ ان سے مفتی در محمد نے استفادہ کیا ۔
آپ نے فارسی اور عربی کی اکثر کتابیں مولانا غلام رسول کے پاس پڑھیں ۔ جب مولانا غلام رسول چھٹی پر چلے جاتے تو آپ فارغ نہیں بیٹھتے بلکہ کنری میمن سے کنری شہر پیدل جاکر مولانا محمد سلیمان رونجھو (لسبیلہ والے) کے پاس روزانہ بلا ناغہ اسباق پڑھتے تھے ۔
مفتی در محمد کو تعلیم حاصل کرنے کی تڑپ تھی ۔ جس کے تحت نہ فاقہ کی فکر ، نہ سفر کی صعوبتوں سے غرض، فکر ہے تو ایک ہی فکر لاحق ہے کہ کہیں سبق نہ چھوٹ جائے ، ناغہ نہ ہو جائے ـ وقت کی قدر کا یہ عالم تھا کہ استاد محترم کی عدم موجودگی میں دوسرے استاد کی خدمات حاصل کر لیتے وقت ضائع نہیں کرتے ، علم کے تالاب کی تلاش میں ایسے رہتے جیسے پیاسا پانی کی تلاش میں ہوتاہے ۔
مفتی درمحمدکنری میمن میں مسلسل چھ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1957ء کو سندھ کی نامور دینی درسگاہ جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلہ حاصل کیا ۔ اور در ج ذیل اساتذہ کرام سے استفادہ کیا ۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی محمد صاحب داد خان جمالی شیخ الحدیث علامہ حسین امام اختر پٹھان ۔ شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان بریلوی، حضرت مولانا فقیر محمد صالح مہر مہتمم جامعہ راشدیہ، حضرت مولانا محمد علی زہری، مولانا کریم بخش دایو نقشبندی ، مولانا عبد الصمد میتلو وغیرہ ۔ مفتی محمد صاحبداد خان جمالی سے فتویٰ نویسی میں کمال حاصل کیا ۔ 1961ء میں مفتی در محمد جامعہ راشدیہ سے فارغ التحصیل ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عالمِ باعمل ، مفتیِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا در محمد سکندری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی زندگی مسلسل جد و جہد میں گزری ہے ۔ تمام عمر درس و رتدریس اور تصنیف کی صورت میں دینِ متین کی خدمت میں مصروفِ عمل رہے ۔ آپ ایک کامیاب مدرس تھے، سیکڑوں علماء پیدا کئے جو کہ آج بھی صحرائے تھر میں اسلام و سنیت کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ زندگی سادہ اور تکلفات سے بالکل دور تھی، حسن اخلاق کے پیکر ، مہمان نواز اور سادات کرام کا دل و جان سے احترام کرتے تھے ۔
تقریر بہت کم کیا کرتے تھے ۔ ہر ملنے والے کو عقائد اہل سنت پر کار بند رہنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور اپنے پیر بھائیوں کو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کرتے کہ امام العارفین پیر سائیں روضے دہنی کے مسلک پر مضبوط رہا کریں اور ملفوظات شریف کا روزانہ مطالعہ کیا کریں ۔
وصال:
حضرت مولانا مفتی در محمد سکندری نے بروز بدھ 12 محرم الحرام 1422ھ مطابق7 اپریل 2001ء کو 62 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
مزار شریف:
آپ کی آخری آرام گاہ آبائی قبرستان گوٹھ و روائی ضلع تھر پار کر سندھ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ، ص:254 ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-dur-muhammad-sikandari
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی درمحمد سکندری ۔ والد کا اسمِ گرامی: محمد ابراہیم لنجی ۔ (مرحوم) ـ
تاریخِ ولادت:
آپ گوٹھ "و روائی" نزد اسلام کوٹ ضلع تھر پارکر (سندھ) میں محمد ابراہیم لنجی کے گھر 1939ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گوٹھ و روائی میں سندھی میں تین جماعت تک پاس کی کہ ان کا مقدر جاگ اٹھا کہ ان کے برادر اکبر محمد بچل لنجی نے اسکو ل سے نکال کر مدرسہ بحرالعلوم کنری میمن(ضلع عمر کوٹ) میں 1951ء کو داخل کرا دیا ۔
مفتی در محمد نہایت ذکی اور محنتی تھے، قرآن شریف فارسی اور عربی متوسط درجہ تک تعلیم مدرسہ بحر العلوم کنری میمن میں حاصل کی ۔ اس وقت مدرسہ میں درج ذیل علماء اساتذہ مقرر تھے ۔
مولانا عبد الغفور چانڈیو ۔ مولانا دوست محمد میمن ، مولانا حاجی عبید الحق میمن اور مولانا غلام رسول چھجڑو (دادوی) وغیرہ ان سے مفتی در محمد نے استفادہ کیا ۔
آپ نے فارسی اور عربی کی اکثر کتابیں مولانا غلام رسول کے پاس پڑھیں ۔ جب مولانا غلام رسول چھٹی پر چلے جاتے تو آپ فارغ نہیں بیٹھتے بلکہ کنری میمن سے کنری شہر پیدل جاکر مولانا محمد سلیمان رونجھو (لسبیلہ والے) کے پاس روزانہ بلا ناغہ اسباق پڑھتے تھے ۔
مفتی در محمد کو تعلیم حاصل کرنے کی تڑپ تھی ۔ جس کے تحت نہ فاقہ کی فکر ، نہ سفر کی صعوبتوں سے غرض، فکر ہے تو ایک ہی فکر لاحق ہے کہ کہیں سبق نہ چھوٹ جائے ، ناغہ نہ ہو جائے ـ وقت کی قدر کا یہ عالم تھا کہ استاد محترم کی عدم موجودگی میں دوسرے استاد کی خدمات حاصل کر لیتے وقت ضائع نہیں کرتے ، علم کے تالاب کی تلاش میں ایسے رہتے جیسے پیاسا پانی کی تلاش میں ہوتاہے ۔
مفتی درمحمدکنری میمن میں مسلسل چھ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1957ء کو سندھ کی نامور دینی درسگاہ جامعہ راشدیہ درگاہ شریف پیر جو گوٹھ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے داخلہ حاصل کیا ۔ اور در ج ذیل اساتذہ کرام سے استفادہ کیا ۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی محمد صاحب داد خان جمالی شیخ الحدیث علامہ حسین امام اختر پٹھان ۔ شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان بریلوی، حضرت مولانا فقیر محمد صالح مہر مہتمم جامعہ راشدیہ، حضرت مولانا محمد علی زہری، مولانا کریم بخش دایو نقشبندی ، مولانا عبد الصمد میتلو وغیرہ ۔ مفتی محمد صاحبداد خان جمالی سے فتویٰ نویسی میں کمال حاصل کیا ۔ 1961ء میں مفتی در محمد جامعہ راشدیہ سے فارغ التحصیل ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عالمِ باعمل ، مفتیِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا در محمد سکندری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کی زندگی مسلسل جد و جہد میں گزری ہے ۔ تمام عمر درس و رتدریس اور تصنیف کی صورت میں دینِ متین کی خدمت میں مصروفِ عمل رہے ۔ آپ ایک کامیاب مدرس تھے، سیکڑوں علماء پیدا کئے جو کہ آج بھی صحرائے تھر میں اسلام و سنیت کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ زندگی سادہ اور تکلفات سے بالکل دور تھی، حسن اخلاق کے پیکر ، مہمان نواز اور سادات کرام کا دل و جان سے احترام کرتے تھے ۔
تقریر بہت کم کیا کرتے تھے ۔ ہر ملنے والے کو عقائد اہل سنت پر کار بند رہنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور اپنے پیر بھائیوں کو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کرتے کہ امام العارفین پیر سائیں روضے دہنی کے مسلک پر مضبوط رہا کریں اور ملفوظات شریف کا روزانہ مطالعہ کیا کریں ۔
وصال:
حضرت مولانا مفتی در محمد سکندری نے بروز بدھ 12 محرم الحرام 1422ھ مطابق7 اپریل 2001ء کو 62 سال کی عمر میں انتقال کیا ۔
مزار شریف:
آپ کی آخری آرام گاہ آبائی قبرستان گوٹھ و روائی ضلع تھر پار کر سندھ میں ہے ۔
ماخذ و مراجع:
انوار علمائے اہلسنت سندھ، ص:254 ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-mufti-dur-muhammad-sikandari
scholars.pk
Hazrat Allama Mufti Dur Muhammad Sikandari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت سید زین العابدین قادری جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و لقب:
آپ کا اصل نام احمد بخش تھا لیکن مشہور زین العابدین کے نام سے ہوئے ہیں ۔
آپ حضور غوث اعظم کی اولاد امجاد سے ہیں ۔ آپ کے والد گرامی کا نام عبد القادر المعروف حاجی شاہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت درگاہ نورائی شریف (حیدر آباد) سندھ ۱۳۳۲ھ ۲۳ شوال المکرم پیر کی شب میں ہوئی ہے ۔ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد کے پاس ایک فقیر آیا تھا اور یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ اے حاجی شاہ آپ کو ایک فرزند عطا ہوگا پیدا ہوتے ہی اس کے سامنے دو دانت ہوں گے اور اس کا نام زین العابدین رکھنا ۔ آپ کی ولادت ہوئی اس فقیر کی پیش گوئی کے مطابق دو سامنے والے دانت موجود تھے لیکن زین العابدین نام رکھنا آپ کے والد بھول گئے ۔
پھر وہ فقیر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کو میری دعاء سے جو لڑکا ہوا ہے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ آپ کے والد نے فرمایا کہ نام تو ان کا ہم نے احمد بخش رکھا ہے لیکن انہیں زین العابدین کے نام سے ہی پکاریں گے ۔
چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری اپنے وقت کے اہل دل عشاق ، صاحب شریعت و طریقت اور باکمال بزرگوں میں سے تھے ۔
بارہ سال کی عمر تک تو مجذوبانہ کیفیت رہی پھر اس میں کچھ افاقہ ہوا تو آپ ہی نے صرف سندھی کی پہلی تک، قرآن شریف اور فارسی گلستان تک تعلیم حاصل کی دو سال تک طبیعت قدرے سالم رہی پھر وہی مجذوبانہ کفییت رہی جو ۲۲ سال کی عمر تک رہی حکماء اور اطباء آپ کے مرض کی صحیح تشخیص نہ کر سکے ـ
پھر آپ کے والد محترم سیدہ ‘‘ اوٹے شریف ’’ والی کی خدمت میں لے گئے، کیوں کہ سیدہ خاتون اپنے وقت کی ولیہ کاملہ تھیں، جب سیدہ نے آپ کو دیکھا تو فرمایا کہ ‘‘ اے زین العابدین کیا حال ہیں؟ ’’آپ نے اس کا جواب سندھی شعر میں دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘ اے امی اگر روتا ہوں تو لوگ اسے کھیل سمجھتے ہیں اگر ہنستا ہوں تو دل جلتا ہے میری آنکھوں کو تو اس وقت آرام ملے جب وہ اپنے محبوب کو دیکھیں گے ’’ ـ
حضرت سیدہ خاتون نے بھی اس شعر کا جواب سندھی شعر میں ہی دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘دکھی اور پہاڑ نے جو آپس میں باتیں کی ہیں اچھا ہوا کہ کسی نے یہ باتیں سنی نہیں ورنہ دنیا مصیبت میں گرفتار ہو جاتی ’’ ـ
اس کے بعد آپ حضرت زین العابدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد سے فرمانے لگیں کہ ان کو عشق الہٰی کی بیماری ہے میرے پاس چھوڑ جائیے ان شاء اللہ صحیح ہو جائےگا ـ
حضرت زین العابدین حضرت سیدہ خاتون کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور خاتون نے آپ کو سلسلۂ قادریہ میں داخل فرمایا کہ خلافت سے نوازا ۔
بعد میں آپ کی طبیعت بِالکل صحیح ہو گئی ۔ آپ کی شادی کے وقت ولی کامل حضرت سید میاں عبد الرسول رفاعی کے چھوٹے صاحبزادہ میاں گدا محی الدین کی صاحبزادی سے ہوئی ۔
حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری علیہ الرحمۃ اپنی مرشدہ کے انتقال کے بعد بغداد شریف تشریف لے گئے اور حضرت سید محمد سالم الجیلانی قدس سرہ سے دوبارہ بیعت ہو گئے حضرت نے آپ کو خلعت خلافت سے نوازا ۔ حضرت محمد سالم علیہ الرحمۃ کے وصال فرمانے کے بعد پھر آپ مدینہ منورہ کے مشہور بزرگ حضرت سید احمد بن مختار تارک سلطنت المغرب کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے حضرت موصوف نے بھی اپنی کرم نوازیوں سے آپ کو نوازا اور خرقہ خلافت عطا فرمایا ۔
حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ جہاں آپ شریعت و طریقت کے میدان کے شہسوار تھے وہاں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول اور عدیم النظیر شاعر بھی تھے آخری عمر میں تو یہ حالت تھی کہ کلام گفتگو، تقریر مقفی اور مسجع پر مشتمل ہوا کرتی تھی، آپ نے تقریباً چودہ زبانوں میں شعر پر طبع آزمائی فرمائی ۔
مشرک زبانوں پر مشتمل ایک شعر درج ذیل ہے۔
سندھی
دم دم وانھیان در تنھنجی تی پلھو پائی پالٹھار
سرائیکی
مولی مینوں جلد ملا دیں سائیں مدینہ دی سرکار
انگریزی
نیوز ڈؤنٹ گو یئز
پشتو
استرگادں تہ اؤگر
بلوچی
گندگاں شمشم نیز نظر۔ ھگ شون ایں اسرار
عربی
اھدنا الصراط المستقیم
فارسی
مارا بدہ راہ کریم
اردو
بخش کرو جنت نعیم
سرائیکی
ترت ملاویں تھدں یار
فارسی اردو
دستگیر دس مرا ضعیف زنیل کا ذرا: من چہ گویم دلبرا
پنجابی سندھی
آوے پنڈ پھٹ کل اختیار
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا شبہ شرح صدر عطا فرمایا تھا جب آپ گفتگو فرماتے کسی بڑے سے بڑے عالم، دانشور، وکیل اور مدبر کو مجال دم زدن نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کے برادرِ اکبر حضرت سید علامہ و مولانا محمد بخش شاہ آپ کو بھٹائی ثانی کہا کرتے تھے ۔
نام و لقب:
آپ کا اصل نام احمد بخش تھا لیکن مشہور زین العابدین کے نام سے ہوئے ہیں ۔
آپ حضور غوث اعظم کی اولاد امجاد سے ہیں ۔ آپ کے والد گرامی کا نام عبد القادر المعروف حاجی شاہ ہے ۔
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت درگاہ نورائی شریف (حیدر آباد) سندھ ۱۳۳۲ھ ۲۳ شوال المکرم پیر کی شب میں ہوئی ہے ۔ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے والد کے پاس ایک فقیر آیا تھا اور یہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ اے حاجی شاہ آپ کو ایک فرزند عطا ہوگا پیدا ہوتے ہی اس کے سامنے دو دانت ہوں گے اور اس کا نام زین العابدین رکھنا ۔ آپ کی ولادت ہوئی اس فقیر کی پیش گوئی کے مطابق دو سامنے والے دانت موجود تھے لیکن زین العابدین نام رکھنا آپ کے والد بھول گئے ۔
پھر وہ فقیر آیا اور دریافت کیا کہ آپ کو میری دعاء سے جو لڑکا ہوا ہے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ آپ کے والد نے فرمایا کہ نام تو ان کا ہم نے احمد بخش رکھا ہے لیکن انہیں زین العابدین کے نام سے ہی پکاریں گے ۔
چنانچہ آپ اسی نام سے مشہور ہو گئے ۔ حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری اپنے وقت کے اہل دل عشاق ، صاحب شریعت و طریقت اور باکمال بزرگوں میں سے تھے ۔
بارہ سال کی عمر تک تو مجذوبانہ کیفیت رہی پھر اس میں کچھ افاقہ ہوا تو آپ ہی نے صرف سندھی کی پہلی تک، قرآن شریف اور فارسی گلستان تک تعلیم حاصل کی دو سال تک طبیعت قدرے سالم رہی پھر وہی مجذوبانہ کفییت رہی جو ۲۲ سال کی عمر تک رہی حکماء اور اطباء آپ کے مرض کی صحیح تشخیص نہ کر سکے ـ
پھر آپ کے والد محترم سیدہ ‘‘ اوٹے شریف ’’ والی کی خدمت میں لے گئے، کیوں کہ سیدہ خاتون اپنے وقت کی ولیہ کاملہ تھیں، جب سیدہ نے آپ کو دیکھا تو فرمایا کہ ‘‘ اے زین العابدین کیا حال ہیں؟ ’’آپ نے اس کا جواب سندھی شعر میں دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘ اے امی اگر روتا ہوں تو لوگ اسے کھیل سمجھتے ہیں اگر ہنستا ہوں تو دل جلتا ہے میری آنکھوں کو تو اس وقت آرام ملے جب وہ اپنے محبوب کو دیکھیں گے ’’ ـ
حضرت سیدہ خاتون نے بھی اس شعر کا جواب سندھی شعر میں ہی دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ‘‘دکھی اور پہاڑ نے جو آپس میں باتیں کی ہیں اچھا ہوا کہ کسی نے یہ باتیں سنی نہیں ورنہ دنیا مصیبت میں گرفتار ہو جاتی ’’ ـ
اس کے بعد آپ حضرت زین العابدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد سے فرمانے لگیں کہ ان کو عشق الہٰی کی بیماری ہے میرے پاس چھوڑ جائیے ان شاء اللہ صحیح ہو جائےگا ـ
حضرت زین العابدین حضرت سیدہ خاتون کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور خاتون نے آپ کو سلسلۂ قادریہ میں داخل فرمایا کہ خلافت سے نوازا ۔
بعد میں آپ کی طبیعت بِالکل صحیح ہو گئی ۔ آپ کی شادی کے وقت ولی کامل حضرت سید میاں عبد الرسول رفاعی کے چھوٹے صاحبزادہ میاں گدا محی الدین کی صاحبزادی سے ہوئی ۔
حضرت سید زین العابدین جیلانی قادری علیہ الرحمۃ اپنی مرشدہ کے انتقال کے بعد بغداد شریف تشریف لے گئے اور حضرت سید محمد سالم الجیلانی قدس سرہ سے دوبارہ بیعت ہو گئے حضرت نے آپ کو خلعت خلافت سے نوازا ۔ حضرت محمد سالم علیہ الرحمۃ کے وصال فرمانے کے بعد پھر آپ مدینہ منورہ کے مشہور بزرگ حضرت سید احمد بن مختار تارک سلطنت المغرب کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے حضرت موصوف نے بھی اپنی کرم نوازیوں سے آپ کو نوازا اور خرقہ خلافت عطا فرمایا ۔
حضرت سید زین العابدین شاہ جیلانی علیہ الرحمہ جہاں آپ شریعت و طریقت کے میدان کے شہسوار تھے وہاں آپ ایک بہت بڑے عاشق رسول اور عدیم النظیر شاعر بھی تھے آخری عمر میں تو یہ حالت تھی کہ کلام گفتگو، تقریر مقفی اور مسجع پر مشتمل ہوا کرتی تھی، آپ نے تقریباً چودہ زبانوں میں شعر پر طبع آزمائی فرمائی ۔
مشرک زبانوں پر مشتمل ایک شعر درج ذیل ہے۔
سندھی
دم دم وانھیان در تنھنجی تی پلھو پائی پالٹھار
سرائیکی
مولی مینوں جلد ملا دیں سائیں مدینہ دی سرکار
انگریزی
نیوز ڈؤنٹ گو یئز
پشتو
استرگادں تہ اؤگر
بلوچی
گندگاں شمشم نیز نظر۔ ھگ شون ایں اسرار
عربی
اھدنا الصراط المستقیم
فارسی
مارا بدہ راہ کریم
اردو
بخش کرو جنت نعیم
سرائیکی
ترت ملاویں تھدں یار
فارسی اردو
دستگیر دس مرا ضعیف زنیل کا ذرا: من چہ گویم دلبرا
پنجابی سندھی
آوے پنڈ پھٹ کل اختیار
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا شبہ شرح صدر عطا فرمایا تھا جب آپ گفتگو فرماتے کسی بڑے سے بڑے عالم، دانشور، وکیل اور مدبر کو مجال دم زدن نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کے برادرِ اکبر حضرت سید علامہ و مولانا محمد بخش شاہ آپ کو بھٹائی ثانی کہا کرتے تھے ۔
❤1
آپ کی محفل میں ہر وقت مولود خوانی اور نعت خوانی ہوا کرتی تھی ۔ ہر وقت حضور اکرم ﷺ کے عشق و محبت میں ڈوبے ہوا کرتے تھے جب بھی حضور ﷺ کا نام نامی اسم گرامی سنتے تو آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں جاری ہو جاتا تھا ۔
آپ کے کلام کے مجموعہ تقریباً ہزار گیارہ سو کے قریب ہیں جن میں چند زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں اور اباقی غیر مطبوعہ ہیں ۔
مطبوعات میں سے:
۱: قصہ حضرت یوسف علیہ السلام و زلیخا ۔ سندھی ۔
۲: شہادت کربلا ۔ سندھی
۳: مداحون شریف ۔ سندھی
۴: شان مجاہد سفر ناموں ۔ سندھی
۵: بیاض جیلانی ۔ سندھی
۶: خطبات جمعہ و عیدین سندھی قابل ذکر ہیں ۔
حضرت کی عقیدت وارادت کا حلقہ بہت وسیع ہے ملک اور ملک سے باہر آپ کے مریدین و متولین موجود ہیں ۔ آپ نے ۸ حج ادا فرمائے اور ایک حج خشکی کے ذریعہ عراق و بغداد کربلا اور شاہ نجف اشرف ہوتے ہوئے مدینہ شریف گئے ۔
آپ ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ کا خاص شاندار اہتمام فرماتے تھے جس میں علماء کرام حضور ﷺ کا میلاد شریف بیان کرتے تھے اور ہر ماہ گیارہویں کابھی اہتمام فرماتے تھے جس کو اب تک آپ کے جانشین بڑے فرزند حضرت حافظ محمد عارف شاہ جیلانی اور چھوٹے پیر حضرت غلام جیلانی شاہ جیلانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
وصال:
اتنی بے شمار خوبیوں کا حامل اللہ کا ولی، عاشق رسول ﷺ میدان فصاحت و بلاغت اور سخن کے شہسوار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء ۶۳ سال کی عمر میں واصل بحق ہو گئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار نورائی پھلیلی نہر کے کنار ے ضلع حیدر آباد میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔ ہر سال آپ کا یوم وصال ۲۱ محرم کو بڑے شان و شوکت سے منایا جاتا ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-zain-ul-abideen-qadri-jilani
آپ کے کلام کے مجموعہ تقریباً ہزار گیارہ سو کے قریب ہیں جن میں چند زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ہیں اور اباقی غیر مطبوعہ ہیں ۔
مطبوعات میں سے:
۱: قصہ حضرت یوسف علیہ السلام و زلیخا ۔ سندھی ۔
۲: شہادت کربلا ۔ سندھی
۳: مداحون شریف ۔ سندھی
۴: شان مجاہد سفر ناموں ۔ سندھی
۵: بیاض جیلانی ۔ سندھی
۶: خطبات جمعہ و عیدین سندھی قابل ذکر ہیں ۔
حضرت کی عقیدت وارادت کا حلقہ بہت وسیع ہے ملک اور ملک سے باہر آپ کے مریدین و متولین موجود ہیں ۔ آپ نے ۸ حج ادا فرمائے اور ایک حج خشکی کے ذریعہ عراق و بغداد کربلا اور شاہ نجف اشرف ہوتے ہوئے مدینہ شریف گئے ۔
آپ ہر سال ۱۲ ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ کا خاص شاندار اہتمام فرماتے تھے جس میں علماء کرام حضور ﷺ کا میلاد شریف بیان کرتے تھے اور ہر ماہ گیارہویں کابھی اہتمام فرماتے تھے جس کو اب تک آپ کے جانشین بڑے فرزند حضرت حافظ محمد عارف شاہ جیلانی اور چھوٹے پیر حضرت غلام جیلانی شاہ جیلانی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
وصال:
اتنی بے شمار خوبیوں کا حامل اللہ کا ولی، عاشق رسول ﷺ میدان فصاحت و بلاغت اور سخن کے شہسوار ۱۲ محرم الحرام ۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ء ۶۳ سال کی عمر میں واصل بحق ہو گئے ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار پر انوار نورائی پھلیلی نہر کے کنار ے ضلع حیدر آباد میں زیارت گاہ خلائق ہے ۔ ہر سال آپ کا یوم وصال ۲۱ محرم کو بڑے شان و شوکت سے منایا جاتا ہے ۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-zain-ul-abideen-qadri-jilani
scholars.pk
Hazrat Zain ul Abideen Syed Qadri Jilani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ عبد الخالق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ولادت با سعادت:
آپ ۱۲۷۰ھ میں پیدا ہوئے، قریباً تین سال کے تھے کہ آپ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ شمس العرفاں قدس سرہ نے شہادت پائی۔ اُن کے چہلم پر حضرت حاجی محمد قدس سرہ نے آپ کے سر مبارک پر دستار خلافت باندھ کر سجادہ نشین مقرر کیا۔ اور حضرت شمس العرفان کے مرید ان کامل میں سے خلفائے نامدار امام بخش راہوانی، بلاقی شاہ، عالم شاہ، بیگے شاہ او رنور احمد کی بھی دستار بندی کی اور فرمایا کہ یہ پانچوں وزیر اور عبدالخالق بادشاہ ہے۔ اس گدی کو سنبھالو۔
تحصیل علم:
جب آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو درویش آ پ کو تحصیل علم کے لیے سائیں نیک محمد کے پاس جہانخیلاں میں لے جاتے۔ اور رخصت کے وقت لے آتے۔ کچھ عرصۃ کے بعد آپ کو مولوی پیر محمد صاحب ساکن بنگہ کے سپرد کردیا گیا۔ مولوی صاحب بڑی محبت سے پیش آتے تھے مگر اُن کی والدہ کا سلوک اچھا نہ تھا۔ اس لیے مولوی صاحب نے آپ کو اپنے پیر بھائی محمد بخش سب انسپکٹر پولیس کے حوالہ کردیا۔ آپ ان کی زیر نگرانی بنگہ میں تعلیم پاتے رہے۔ پھر حضرت قطب زماں خواجہ توکل شاہ انبالوی قدس سرہ آپ کو انبالہ لے گئے اور وہاں دینیات پڑھواتے رہے۔ بعد ازاں آپ علم حدیث پڑھنے کے لیے سہارنپور میں مولانا احمد علی صاحب محدث کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا احمد حسن صاحب کانپوری اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی آپ کے ہم سبق تھے۔ اس کے بعد آپ نے دہلی میں مولوی کریم محمد صاحب اور مولوی سعید احمد صاحب سے تکمیل دینیات کی۔
علوم باطنی کا حصول:
علم باطن کی تحصیل کے لیے آپ متعدد جگہ حاضر ہوئے، آخرکار حضرت شیخ احمد صاحب بخاری قادری سے خاندان قادریہ میں بیعت ہوئے۔ حضرت شیخ نے آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا۔ حضرت شیخ کا مزار مبارک رسولپور ضلع بارہ بنکی میں ہے۔ اس کے بعد آپ نے خاندان نقشبندیہ میں حضرت حاجی حافظ محمود صاحب جالندھری سے بیعت کی اور اجازت ارشاد پاکر اپنے وطن میں قیام کیا اور اشاعت طریقہ نقشبند میں سرگرم رہے۔
قوم راجپوت میں بیوگان کا نکاح ثانی جائز نہ سمجھا جاتا تھا۔ جب آپ کی عمر ۳۷ سال کی ہوئی تو آپ نے اس سنت کے احیاء میں نہایت کوشش کی۔ بہت سی تکالیف کا سامنا ہوا، مگر آپ کے پائے ثبات میں تزلزل نہ آیا اور آخر کار کامیاب ہوئے۔
آپ یتیم رہ چکے تھے اور بفحوائے شعر شیخ سعدی علیہ الرحمۃ ؎
مرا باشد از دردِ طفلاں خبر
کہ در خردی از سر برفتم پدر
یتیم خانہ اور مدرسہ کی تعمیر:
یتیموں کے حالات سے خوب واقف تھے۔ اس لیے آپ نے کوٹ عبدالخالق میں ۱۳۲۲ھ میں ایک یتیم خانہ کی بنا رکھی۔ اور یتامیٰ و مساکین کی تعلیم کے لیے جون ۱۹۰۵ء مین مدرسہ تعلیم القرآن جاری کیا۔ اور حافظ محمد یعقوب کو مدرس مقرر کیا۔ پہلے دن پانچ یتیم داخل مدرسہ ہوئے۔ بعد ازاں دو سال تک کوئی اور طالب علم داخل نہ ہوا، مخالفین کہنے لگے کہ بچوں کو قرآن پڑھا کر ان کی عمریں ضائع کرنا ہے۔ اس لیے آپ نے ۱۹۰۷ء میں اسی مدرسہ کو پرائمری کے درجہ تک قائم کرکے دینیات کو لازم قرار دیا۔ اور مدرسہ کا انتطام اور روپیہ پیسہ کا حساب کتاب ایک انجمن خالقیہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور انجمن کو باضابطہ رجسٹر کرادیا گیا۔ یہ ابتدائی مدرسہ پرائمری سے مڈل اور مڈل سے انٹرینس تک ترقی کرگیا۔ اور آخر پنجاب یونیورسٹی سے الحاق ہوگیا۔ اس اسکول میں اول سے آخر تک رائج الوقت نصاب کے علاوہ تعلیم دینیات لازم قرار دی گئی ہے۔
وصال مبارک:
اخیر عمر میں آپ بواسیر وغیرہ امراض متعددہ میں مبتلا رہا کرتے تھے۔ بتاریخ ۱۲ محرم الحرام بروز جمعہ ۱۳۵۰ھ مطابق ۵ جون ۱۹۳۱ء آپ نے شہر انبالہ میں ایک مکان کی چھت پر وضو کرکے فجر کی سنتیں پڑھیں ۔ فرضوں کی جماعت ہونے لگی، مولوی رحیم الدین میرٹھی پیش امام تھے ۔ حضرت صاحب، خلیفہ عبد الرزاق، سید دین علی شاہ اور مولوی سراج الدین بنگالی مقتدی تھے ۔
جب دوسری رکعت کے آخری سجدے میں گئے چھت یکایک گر پڑی ۔ حضرت صاحب شہید ہو گئے ۔ اور باقی زخمی ہو گئے ۔ ادائے نماز جنازہ کے بعد نعش مبارک تابوت میں رکھ کر لاری میں کوٹ عبد الخالق میں لائی گئی ۔
اور بتاریخ ۱۹ محرم الحرام ۱۳۵۰ھ بروز یک شنبہ دو بارہ نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو دفن کر دیا گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کی کرامات و ملفوظات و اوراد و شبانہ روزی اور آپ کے خلفاء کے حالات کے لیے سیرت خالقیہ کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-khaliq
ولادت با سعادت:
آپ ۱۲۷۰ھ میں پیدا ہوئے، قریباً تین سال کے تھے کہ آپ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ شمس العرفاں قدس سرہ نے شہادت پائی۔ اُن کے چہلم پر حضرت حاجی محمد قدس سرہ نے آپ کے سر مبارک پر دستار خلافت باندھ کر سجادہ نشین مقرر کیا۔ اور حضرت شمس العرفان کے مرید ان کامل میں سے خلفائے نامدار امام بخش راہوانی، بلاقی شاہ، عالم شاہ، بیگے شاہ او رنور احمد کی بھی دستار بندی کی اور فرمایا کہ یہ پانچوں وزیر اور عبدالخالق بادشاہ ہے۔ اس گدی کو سنبھالو۔
تحصیل علم:
جب آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو درویش آ پ کو تحصیل علم کے لیے سائیں نیک محمد کے پاس جہانخیلاں میں لے جاتے۔ اور رخصت کے وقت لے آتے۔ کچھ عرصۃ کے بعد آپ کو مولوی پیر محمد صاحب ساکن بنگہ کے سپرد کردیا گیا۔ مولوی صاحب بڑی محبت سے پیش آتے تھے مگر اُن کی والدہ کا سلوک اچھا نہ تھا۔ اس لیے مولوی صاحب نے آپ کو اپنے پیر بھائی محمد بخش سب انسپکٹر پولیس کے حوالہ کردیا۔ آپ ان کی زیر نگرانی بنگہ میں تعلیم پاتے رہے۔ پھر حضرت قطب زماں خواجہ توکل شاہ انبالوی قدس سرہ آپ کو انبالہ لے گئے اور وہاں دینیات پڑھواتے رہے۔ بعد ازاں آپ علم حدیث پڑھنے کے لیے سہارنپور میں مولانا احمد علی صاحب محدث کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا احمد حسن صاحب کانپوری اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی آپ کے ہم سبق تھے۔ اس کے بعد آپ نے دہلی میں مولوی کریم محمد صاحب اور مولوی سعید احمد صاحب سے تکمیل دینیات کی۔
علوم باطنی کا حصول:
علم باطن کی تحصیل کے لیے آپ متعدد جگہ حاضر ہوئے، آخرکار حضرت شیخ احمد صاحب بخاری قادری سے خاندان قادریہ میں بیعت ہوئے۔ حضرت شیخ نے آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا۔ حضرت شیخ کا مزار مبارک رسولپور ضلع بارہ بنکی میں ہے۔ اس کے بعد آپ نے خاندان نقشبندیہ میں حضرت حاجی حافظ محمود صاحب جالندھری سے بیعت کی اور اجازت ارشاد پاکر اپنے وطن میں قیام کیا اور اشاعت طریقہ نقشبند میں سرگرم رہے۔
قوم راجپوت میں بیوگان کا نکاح ثانی جائز نہ سمجھا جاتا تھا۔ جب آپ کی عمر ۳۷ سال کی ہوئی تو آپ نے اس سنت کے احیاء میں نہایت کوشش کی۔ بہت سی تکالیف کا سامنا ہوا، مگر آپ کے پائے ثبات میں تزلزل نہ آیا اور آخر کار کامیاب ہوئے۔
آپ یتیم رہ چکے تھے اور بفحوائے شعر شیخ سعدی علیہ الرحمۃ ؎
مرا باشد از دردِ طفلاں خبر
کہ در خردی از سر برفتم پدر
یتیم خانہ اور مدرسہ کی تعمیر:
یتیموں کے حالات سے خوب واقف تھے۔ اس لیے آپ نے کوٹ عبدالخالق میں ۱۳۲۲ھ میں ایک یتیم خانہ کی بنا رکھی۔ اور یتامیٰ و مساکین کی تعلیم کے لیے جون ۱۹۰۵ء مین مدرسہ تعلیم القرآن جاری کیا۔ اور حافظ محمد یعقوب کو مدرس مقرر کیا۔ پہلے دن پانچ یتیم داخل مدرسہ ہوئے۔ بعد ازاں دو سال تک کوئی اور طالب علم داخل نہ ہوا، مخالفین کہنے لگے کہ بچوں کو قرآن پڑھا کر ان کی عمریں ضائع کرنا ہے۔ اس لیے آپ نے ۱۹۰۷ء میں اسی مدرسہ کو پرائمری کے درجہ تک قائم کرکے دینیات کو لازم قرار دیا۔ اور مدرسہ کا انتطام اور روپیہ پیسہ کا حساب کتاب ایک انجمن خالقیہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور انجمن کو باضابطہ رجسٹر کرادیا گیا۔ یہ ابتدائی مدرسہ پرائمری سے مڈل اور مڈل سے انٹرینس تک ترقی کرگیا۔ اور آخر پنجاب یونیورسٹی سے الحاق ہوگیا۔ اس اسکول میں اول سے آخر تک رائج الوقت نصاب کے علاوہ تعلیم دینیات لازم قرار دی گئی ہے۔
وصال مبارک:
اخیر عمر میں آپ بواسیر وغیرہ امراض متعددہ میں مبتلا رہا کرتے تھے۔ بتاریخ ۱۲ محرم الحرام بروز جمعہ ۱۳۵۰ھ مطابق ۵ جون ۱۹۳۱ء آپ نے شہر انبالہ میں ایک مکان کی چھت پر وضو کرکے فجر کی سنتیں پڑھیں ۔ فرضوں کی جماعت ہونے لگی، مولوی رحیم الدین میرٹھی پیش امام تھے ۔ حضرت صاحب، خلیفہ عبد الرزاق، سید دین علی شاہ اور مولوی سراج الدین بنگالی مقتدی تھے ۔
جب دوسری رکعت کے آخری سجدے میں گئے چھت یکایک گر پڑی ۔ حضرت صاحب شہید ہو گئے ۔ اور باقی زخمی ہو گئے ۔ ادائے نماز جنازہ کے بعد نعش مبارک تابوت میں رکھ کر لاری میں کوٹ عبد الخالق میں لائی گئی ۔
اور بتاریخ ۱۹ محرم الحرام ۱۳۵۰ھ بروز یک شنبہ دو بارہ نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو دفن کر دیا گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کی کرامات و ملفوظات و اوراد و شبانہ روزی اور آپ کے خلفاء کے حالات کے لیے سیرت خالقیہ کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔
( مشائخ نقشبند )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-abdul-khaliq
scholars.pk
Hazrat Khawaja Abdul Khaliq
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1