خلیفۂ غوث الاعظم حضرت ابو عمرو عثمان قرشی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عثمان ۔ کنیت: ابو عمرو ۔ لقب: قبیلہ کی نسبت سے "قرشی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو عمرو عثمان بن مرزوق بن حمید بن سلامہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان) ـ
وطن: آپ کا وطن مصر ہے ۔
آپ کا شمار مصر کے مشائخِ کبار میں سے ہوتا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے ۔
آپ کا شمار مذہبِ حنابلہ کے جید علماء میں ہوتا تھا ۔ آپ اپنے وقت کے فقیہ العصر اور عظیم محدث و مفسر تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے، اور آپ کے دستِ سراپا فیض پر بیعت ہو کر شرفِ خلافت سے ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عالم، عارف، زاہد، فقیہ، محدث، مفسر، شیخ الکبیر فی دیارِ مصر، فیض یافتہ حضرت غوث الاعظم شیخ ابو عمر عثمان قرشی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ فقہ میں حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ، اور طریقت میں حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے پیر و کار تھے ۔
یعنی حنبلی و قادری تھے ۔ حضرت غوثِ اعظم کے مرید و شاگرد تھے ۔ علمِ ظاہری و باطنی میں کامل و اکمل تھے ۔ صاحبِ کشف و کرامت اور مصر کے مشائخِ عظام سے تھے ۔
ایک سال دریائے نیل میں بے حد طغیانی آ گئی، مصر کے باشندے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور طغیانی کے کم ہو جانے کی درخواست کی ۔
آپ علیہ الرحمہ دریا کے کنارے پر آئے ۔ بیٹھ کر وضو کیا اُسی وقت پانی کم ہونا شروع ہو گیا ۔ اگلے سال پانی کم آیا ۔ مصری آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کی زیادتی کی التماس کی ۔ آپ دریا پر آئے اور اپنے ساتھ اپنا کوزہ لائے ۔ وہاں بیٹھ کر وضو فرمایا ۔ دریا کا پانی بڑھنا شروع ہوا، اور آپ کی دعا کی برکت سے زراعت میں ترقی ہُوئی ۔
مصر میں آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ کو بہت ترقی اور فروغ دیا ۔ کثیر مخلوقِ خدا نے آپ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔ آپ کا مصر کے حکمران طبقے پر بڑا اثر و رسوخ تھا ۔ آپ نے ان سے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ اور ان کو اس پر عمل کی طرف راغب کیا ۔
وصال:
آپ کا وصال 11 محرم الحرام 564ھ، کو ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار قاہرہ مصر میں حضرت امام شافعی کے مزار کے قریب ہے ۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-amar-o-usman-qarshi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عثمان ۔ کنیت: ابو عمرو ۔ لقب: قبیلہ کی نسبت سے "قرشی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو عمرو عثمان بن مرزوق بن حمید بن سلامہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان) ـ
وطن: آپ کا وطن مصر ہے ۔
آپ کا شمار مصر کے مشائخِ کبار میں سے ہوتا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے ۔
آپ کا شمار مذہبِ حنابلہ کے جید علماء میں ہوتا تھا ۔ آپ اپنے وقت کے فقیہ العصر اور عظیم محدث و مفسر تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے، اور آپ کے دستِ سراپا فیض پر بیعت ہو کر شرفِ خلافت سے ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عالم، عارف، زاہد، فقیہ، محدث، مفسر، شیخ الکبیر فی دیارِ مصر، فیض یافتہ حضرت غوث الاعظم شیخ ابو عمر عثمان قرشی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ فقہ میں حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ، اور طریقت میں حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے پیر و کار تھے ۔
یعنی حنبلی و قادری تھے ۔ حضرت غوثِ اعظم کے مرید و شاگرد تھے ۔ علمِ ظاہری و باطنی میں کامل و اکمل تھے ۔ صاحبِ کشف و کرامت اور مصر کے مشائخِ عظام سے تھے ۔
ایک سال دریائے نیل میں بے حد طغیانی آ گئی، مصر کے باشندے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور طغیانی کے کم ہو جانے کی درخواست کی ۔
آپ علیہ الرحمہ دریا کے کنارے پر آئے ۔ بیٹھ کر وضو کیا اُسی وقت پانی کم ہونا شروع ہو گیا ۔ اگلے سال پانی کم آیا ۔ مصری آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کی زیادتی کی التماس کی ۔ آپ دریا پر آئے اور اپنے ساتھ اپنا کوزہ لائے ۔ وہاں بیٹھ کر وضو فرمایا ۔ دریا کا پانی بڑھنا شروع ہوا، اور آپ کی دعا کی برکت سے زراعت میں ترقی ہُوئی ۔
مصر میں آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ کو بہت ترقی اور فروغ دیا ۔ کثیر مخلوقِ خدا نے آپ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔ آپ کا مصر کے حکمران طبقے پر بڑا اثر و رسوخ تھا ۔ آپ نے ان سے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ اور ان کو اس پر عمل کی طرف راغب کیا ۔
وصال:
آپ کا وصال 11 محرم الحرام 564ھ، کو ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار قاہرہ مصر میں حضرت امام شافعی کے مزار کے قریب ہے ۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-amar-o-usman-qarshi
scholars.pk
Hazrat Abu Umar-o-Usman Qarshi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ غوث الاعظم حضرت ابو عمرو عثمان قرشی رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: عثمان ۔ کنیت: ابو عمرو ۔ لقب: قبیلہ کی نسبت سے "قرشی" کہلاتے ہیں ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: شیخ ابو عمرو عثمان بن مرزوق بن حمید بن سلامہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان) ـ وطن: آپ کا…
خلیفۂ سرکارِ غوث الاعظم، حضرت ابو
عمرو عثمان قرشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55379
عمرو عثمان قرشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55379
❤2
شیخ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ یحییٰ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ ـ
شیخ محمد بن عبد اللہ یحییٰ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ قروضہ کے رہنے والے ہیں جو سحول کا نواحی گاؤں ہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فقیہ، عالم اور عارف تھے ۔ عبادات و مجاہدات ان پر غالب تھے ۔
انہوں نے اپنے اس گاؤں میں ایک خانقاہ بنوائی ۔ جب معماروں نے پیٹرین باندھیں تو ایک بیٹیر اس کی اونچائی تک نہ پہنچی ۔ یہ لوگ چھوڑ کر بیٹھ گئے ۔ شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’کیوں چھوڑ بیٹھے۔؟‘‘
انہوں نے عرض کیا:
’’وہاں تک نہیں پہنچتی۔‘‘
شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’پھر باندھو! ان شاءاللہ! پہنچ جائے گی۔!‘‘
پھر باندھی تو پہنچ گئی۔
شیخ اور آپ کی جماعت اسی خانقاہ میں اعتکافات اور ذکر و تلاوت کیا کرتے تھے ۔ کسی شخص نے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا:
’’اے امیرالمومنین! حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم (رہنے سہنے میں) کیسے تھے۔؟‘‘
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’جیسے یہ قروضہ والے اور ان کے ساتھی ہیں۔‘‘
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-hamdani
شیخ محمد بن عبد اللہ یحییٰ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ قروضہ کے رہنے والے ہیں جو سحول کا نواحی گاؤں ہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فقیہ، عالم اور عارف تھے ۔ عبادات و مجاہدات ان پر غالب تھے ۔
انہوں نے اپنے اس گاؤں میں ایک خانقاہ بنوائی ۔ جب معماروں نے پیٹرین باندھیں تو ایک بیٹیر اس کی اونچائی تک نہ پہنچی ۔ یہ لوگ چھوڑ کر بیٹھ گئے ۔ شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’کیوں چھوڑ بیٹھے۔؟‘‘
انہوں نے عرض کیا:
’’وہاں تک نہیں پہنچتی۔‘‘
شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’پھر باندھو! ان شاءاللہ! پہنچ جائے گی۔!‘‘
پھر باندھی تو پہنچ گئی۔
شیخ اور آپ کی جماعت اسی خانقاہ میں اعتکافات اور ذکر و تلاوت کیا کرتے تھے ۔ کسی شخص نے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا:
’’اے امیرالمومنین! حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم (رہنے سہنے میں) کیسے تھے۔؟‘‘
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’جیسے یہ قروضہ والے اور ان کے ساتھی ہیں۔‘‘
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-hamdani
scholars.pk
Hazrat Abdullah Hamdani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ شیخ علی انور علوی کاکوری علیہ الرحمہ، مصنف: الدر الیتیم فی ایمان آباء النبی الکریم ﷺ
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی علی انور بن علی اکبر بن حیدر علی تھا۔
تاریخِ ولادت:
شیخ علی انور کاکوروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 10 ربیع الآخر 1299ھ میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
بہت کم عمری میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اس کے بعد اپنے والد کے چچا شیخ تقی علی کے پاس تحصیل علم کرنے لگے اور طویل مدت تک ان کے ساتھ ہی رہے، یہاں تک کہ بہت سے علوم و فنون میں اللہ نے ان کے نام کو اونچا کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ اپنے والد کے مرید و خلیفہ مجاز بنے۔
سیرت و خصائص:
محترم عالم، فقیہ علی انور علوی، حنفی، کاکوروی، متصوف علما ءمیں سے ہیں۔ علم کے میدان میں بہت نامور ہوئے اس لئے ایک عرصۂ دراز تک پڑھاتے اور فائدہ پہنچاتے رہے۔
آپ اپنے والد اور دادا کی مشیخیت کی گدی پر بیٹھے۔ جس طرح آپ کے آباؤ اجداد نے اخلاص کے ساتھ اپنے شیخ کی گدی پر دین کی خدمت کی اسی طرح آپ نے بھی عمدہ انداز میں گدی نشین ہونے کے بعد مخلوق کی رہنمائی کی۔ مریدین کی روحانی، ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے اور صوم و صلاۃ کی پابندی کا بھی سختی کے ساتھ حکم فرماتے۔
آپ بہت زیادہ رحم دل، اور محبت کرنے والے تھے۔ چیزوں میں صفائی رکھنے اور ترتیب سے کام کرنے کو پسند کرتے۔ لوگوں کو بہت محبوب رکھتے، بہت سخی تھےـ
آپ نےکثیر تعداد میں کتابیں تصنیف کرکے امتِ مسلمہ پر احسانِ عظیم کیا۔ آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا اس موضوع کا حق ادا کیا ،ایک موضوع کے جتنے پہلو نکلتے ہر ایک پر کامل طریقے سے گفتگوں فرماتے۔
اگر عوام میں کوئی غلط رسم پیدا ہو جاتی یا کوئی اپنے باطل عقائد کی تشہیر کرتا تو آپ کتاب تحریر فرما کر ان کی نشاندہی کرتے اور ان کا سدِ باب اس طرح کرتے کہ باطل مذاہب والوں کا اس کا جواب نہیں بن پڑتا۔
تصوف کے اسرار و رموز کے متعلق بھی آپ نے لکھا اور جو جاہل پیر اپنے مریدوں کو خلافِ شرع تعلیم دیتے ہیں ان کا رد کیا اور اصل تصوف سے روشناس کیا۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 11 محرم الحرام 1324ھ /بمطابق مارچ 1906ء جمعہ کے دن، ضلع لکھنؤ ، کاکوری، انڈیا میں انتقال فرمایا۔
ماخذ و مراجع: نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-ali-anwar-alvi-kakorwi
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی علی انور بن علی اکبر بن حیدر علی تھا۔
تاریخِ ولادت:
شیخ علی انور کاکوروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 10 ربیع الآخر 1299ھ میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
بہت کم عمری میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اس کے بعد اپنے والد کے چچا شیخ تقی علی کے پاس تحصیل علم کرنے لگے اور طویل مدت تک ان کے ساتھ ہی رہے، یہاں تک کہ بہت سے علوم و فنون میں اللہ نے ان کے نام کو اونچا کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ اپنے والد کے مرید و خلیفہ مجاز بنے۔
سیرت و خصائص:
محترم عالم، فقیہ علی انور علوی، حنفی، کاکوروی، متصوف علما ءمیں سے ہیں۔ علم کے میدان میں بہت نامور ہوئے اس لئے ایک عرصۂ دراز تک پڑھاتے اور فائدہ پہنچاتے رہے۔
آپ اپنے والد اور دادا کی مشیخیت کی گدی پر بیٹھے۔ جس طرح آپ کے آباؤ اجداد نے اخلاص کے ساتھ اپنے شیخ کی گدی پر دین کی خدمت کی اسی طرح آپ نے بھی عمدہ انداز میں گدی نشین ہونے کے بعد مخلوق کی رہنمائی کی۔ مریدین کی روحانی، ذہنی و اخلاقی تربیت فرماتے اور صوم و صلاۃ کی پابندی کا بھی سختی کے ساتھ حکم فرماتے۔
آپ بہت زیادہ رحم دل، اور محبت کرنے والے تھے۔ چیزوں میں صفائی رکھنے اور ترتیب سے کام کرنے کو پسند کرتے۔ لوگوں کو بہت محبوب رکھتے، بہت سخی تھےـ
آپ نےکثیر تعداد میں کتابیں تصنیف کرکے امتِ مسلمہ پر احسانِ عظیم کیا۔ آپ نے جس موضوع پر قلم اٹھایا اس موضوع کا حق ادا کیا ،ایک موضوع کے جتنے پہلو نکلتے ہر ایک پر کامل طریقے سے گفتگوں فرماتے۔
اگر عوام میں کوئی غلط رسم پیدا ہو جاتی یا کوئی اپنے باطل عقائد کی تشہیر کرتا تو آپ کتاب تحریر فرما کر ان کی نشاندہی کرتے اور ان کا سدِ باب اس طرح کرتے کہ باطل مذاہب والوں کا اس کا جواب نہیں بن پڑتا۔
تصوف کے اسرار و رموز کے متعلق بھی آپ نے لکھا اور جو جاہل پیر اپنے مریدوں کو خلافِ شرع تعلیم دیتے ہیں ان کا رد کیا اور اصل تصوف سے روشناس کیا۔
تاریخِ وصال:
آپ نے 11 محرم الحرام 1324ھ /بمطابق مارچ 1906ء جمعہ کے دن، ضلع لکھنؤ ، کاکوری، انڈیا میں انتقال فرمایا۔
ماخذ و مراجع: نزہۃ الخواطر ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-sheikh-ali-anwar-alvi-kakorwi
scholars.pk
Hazrat Allama Sheikh Ali Anwar Alvi Kakorwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت علامہ شیخ علی انور علوی کاکوری علیہ الرحمہ، مصنف: الدر الیتیم فی ایمان آباء النبی الکریم ﷺ اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی علی انور بن علی اکبر بن حیدر علی تھا۔ تاریخِ ولادت: شیخ علی انور کاکوروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 10 ربیع الآخر 1299ھ میں پیدا ہوئے۔…
حضرت علامہ شیخ علی انور علوی کاکوری علیہ الرحمہ، مصنف: الدر الیتیم فی ایمان آباء النبی الکریم ﷺ
https://t.me/islaamic_Knowledge/36811
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55385
https://t.me/islaamic_Knowledge/36811
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55385
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-01-1445 ᴴ | 29-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-01-1445 ᴴ | 30-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1