🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
10-01-1445 ᴴ | 29-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
10-01-1445 ᴴ | 29-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حضرت ابو بکر محمد رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسم گرامی محمد بن زکریا تھا، صوفیہ کبار کے طائفہ میں شمار ہوتے ہیں آپ اپنے وقت کے مجتہد تھے، اللہ کا خوف ان کے رگ و پے میں تھا، اور اس خوف میں روتے رہتے تھے، آپ کے دور میں مشائخ وقت میں سے اتنا رونے والا کوئی شخص نہ تھا جو مرید دیکھتا تو آپ کی بے قراری بے صبری، تڑپ اور گریہ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔
نفحات الانس میں لکھا ہے آپ ایک دفعہ مکہ مکرمہ گئے دو درہم فتوحات میں سے ملے ، مکہ کے باہر آپ نے دو پتھروں کے درمیان وہ دو دینار رکھ دیے ان پر نشانی لگادی مکہ شریف میں آپ حضرت ابوعمر حاجی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک مسئلہ دریافت کیا آپ نے فرمایا پہلے جاکر وہ دو درہم پتھروں سے نکال لاؤ اور اپنے کپڑے سلاؤ پھر مسئلہ پوچھنا حضرت ابوبکر واپس آگئے درہم نکالے اور خرچ کرکے آپ کی خدمت میں آئے، روحانی تربیت حاصل کی، اور مقام اعلیٰ کو پہنچا۔
اہل تذکرہ نے اس جامع الکمالات کی وفات ۳۱۰ لکھی ہے۔
چوشد از دنیا بفردوس بریں
وصل او بوبکر محبوب حبیب
۳۱۰
حضرت بوبکر رازی اہل بیت
ہست ہم صوفی کامل پاکباز
۳۱۰
یوم وصال:
11 محرم الحرام 310ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-bakr-muhammad-razi
اسم گرامی محمد بن زکریا تھا، صوفیہ کبار کے طائفہ میں شمار ہوتے ہیں آپ اپنے وقت کے مجتہد تھے، اللہ کا خوف ان کے رگ و پے میں تھا، اور اس خوف میں روتے رہتے تھے، آپ کے دور میں مشائخ وقت میں سے اتنا رونے والا کوئی شخص نہ تھا جو مرید دیکھتا تو آپ کی بے قراری بے صبری، تڑپ اور گریہ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔
نفحات الانس میں لکھا ہے آپ ایک دفعہ مکہ مکرمہ گئے دو درہم فتوحات میں سے ملے ، مکہ کے باہر آپ نے دو پتھروں کے درمیان وہ دو دینار رکھ دیے ان پر نشانی لگادی مکہ شریف میں آپ حضرت ابوعمر حاجی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک مسئلہ دریافت کیا آپ نے فرمایا پہلے جاکر وہ دو درہم پتھروں سے نکال لاؤ اور اپنے کپڑے سلاؤ پھر مسئلہ پوچھنا حضرت ابوبکر واپس آگئے درہم نکالے اور خرچ کرکے آپ کی خدمت میں آئے، روحانی تربیت حاصل کی، اور مقام اعلیٰ کو پہنچا۔
اہل تذکرہ نے اس جامع الکمالات کی وفات ۳۱۰ لکھی ہے۔
چوشد از دنیا بفردوس بریں
وصل او بوبکر محبوب حبیب
۳۱۰
حضرت بوبکر رازی اہل بیت
ہست ہم صوفی کامل پاکباز
۳۱۰
یوم وصال:
11 محرم الحرام 310ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-bakr-muhammad-razi
scholars.pk
Hazrat Abu Bakr Muhammad Razi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
حضرت شیخ بنان جمال مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ واسط کے رہنے والے تھے اور مصر میں زندگی بسر کی، حضرت ابراہیم خواص کی مجلس میں بیٹھتے تھے۔ شیخ ابوالحسن نوری کے پیروں میں سے تھے، ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے، علوم تصوف فقہ، اصول، حدیث و تفسیر میں عبور تھا کرامت اور خوارق میں بڑے بلند مقام پر فائز تھے۔
ایک دفعہ حاکم مصر آپ پر ناراض ہوگیا آپ کو شیر کے آگے پھینک دیا گیا شیر نے آپ کو سونگھا اور آپ کے پاؤں چاٹنے لگا، آپ کو وہاں سے نکالا گیا لوگوں نے پوچھا کہ جب آپ کو شیر کے آگے ڈالا گیا آپ کی کیا کیفیت تھی ، آپ نے فرمایا اس سے بہتر میرے لیے لمحہ زندگی اور کوئی نہیں تھا مجھے یہ خوشی تھی اس دکھ بھری دنیا سے رخصت ہوکر اپنے رب کریم کی بارگاہ میں حاضر ہو رہا ہوں لیکن کیا کرتا شیر کو بھی اس بات کی اجازت نہ تھی کہ مجھے تکلیف پہنچائے۔
آپ ۳۱۶ھ میں فوت ہوئے۔
شیر عالم جناب شیخ نبان
چو سرور سال وصلش از خروجست
معلیٰ پیر محبوب الٰہی
بگفتا پیر محبوب الٰہی
۳۱۶
یوم وصال:
۱۱ محرم الحرام 316ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-banan-jamal-misri
آپ واسط کے رہنے والے تھے اور مصر میں زندگی بسر کی، حضرت ابراہیم خواص کی مجلس میں بیٹھتے تھے۔ شیخ ابوالحسن نوری کے پیروں میں سے تھے، ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے، علوم تصوف فقہ، اصول، حدیث و تفسیر میں عبور تھا کرامت اور خوارق میں بڑے بلند مقام پر فائز تھے۔
ایک دفعہ حاکم مصر آپ پر ناراض ہوگیا آپ کو شیر کے آگے پھینک دیا گیا شیر نے آپ کو سونگھا اور آپ کے پاؤں چاٹنے لگا، آپ کو وہاں سے نکالا گیا لوگوں نے پوچھا کہ جب آپ کو شیر کے آگے ڈالا گیا آپ کی کیا کیفیت تھی ، آپ نے فرمایا اس سے بہتر میرے لیے لمحہ زندگی اور کوئی نہیں تھا مجھے یہ خوشی تھی اس دکھ بھری دنیا سے رخصت ہوکر اپنے رب کریم کی بارگاہ میں حاضر ہو رہا ہوں لیکن کیا کرتا شیر کو بھی اس بات کی اجازت نہ تھی کہ مجھے تکلیف پہنچائے۔
آپ ۳۱۶ھ میں فوت ہوئے۔
شیر عالم جناب شیخ نبان
چو سرور سال وصلش از خروجست
معلیٰ پیر محبوب الٰہی
بگفتا پیر محبوب الٰہی
۳۱۶
یوم وصال:
۱۱ محرم الحرام 316ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-banan-jamal-misri
scholars.pk
Hazrat Sheikh Banan Jamal Misri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت شیخ حسین خوارزمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ طریقت میں حضرت محمد اعظم جامی کے مرید تھے۔ وہ شاہ علی بیدئی اور وہ شیخ رشید الدین مجداسفرائی اور وہ شیخ عبداللہ برا شابادی اور وہ شیخ اسحاق ختلانی اور وہ شیخ علی ہمدانی کے مرید تھے۔
آپ متاخرین بزرگان دین میں سے صاحب کرامت و خوارق تھے آپ کے پیر مخدوم حاجی اعظم کا وصال ۹۳۷ھ میں ہوا۔ اور شیخ حسین خوارزمی کا وصال ۹۵۸ھ میں ہوا تھا۔
پیر اعظم حاجی بیت الحرام
گفت تاریخ وصال اوخرد
قطب عالم بود برہاں الولی
ہادی مخدوم سلطان الولی
۹۳۷ھ
تاریخ وفات حسین خوارزمی قدس سرہ
حسین ولی خوار زم رہنمائے جہاں
بس رحلتِ اوخواں عزیز خوار زمی
۹۵۸ھ
مرید حضرت مخدوم بود اہل کمال
حسین قطب بہشتی ہست نیز سال وصال
۹۵۸ھ
یوم وصال:
11 محرم الحرام 956ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hussain-khuwarzami
آپ طریقت میں حضرت محمد اعظم جامی کے مرید تھے۔ وہ شاہ علی بیدئی اور وہ شیخ رشید الدین مجداسفرائی اور وہ شیخ عبداللہ برا شابادی اور وہ شیخ اسحاق ختلانی اور وہ شیخ علی ہمدانی کے مرید تھے۔
آپ متاخرین بزرگان دین میں سے صاحب کرامت و خوارق تھے آپ کے پیر مخدوم حاجی اعظم کا وصال ۹۳۷ھ میں ہوا۔ اور شیخ حسین خوارزمی کا وصال ۹۵۸ھ میں ہوا تھا۔
پیر اعظم حاجی بیت الحرام
گفت تاریخ وصال اوخرد
قطب عالم بود برہاں الولی
ہادی مخدوم سلطان الولی
۹۳۷ھ
تاریخ وفات حسین خوارزمی قدس سرہ
حسین ولی خوار زم رہنمائے جہاں
بس رحلتِ اوخواں عزیز خوار زمی
۹۵۸ھ
مرید حضرت مخدوم بود اہل کمال
حسین قطب بہشتی ہست نیز سال وصال
۹۵۸ھ
یوم وصال:
11 محرم الحرام 956ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hussain-khuwarzami
scholars.pk
Hazrat Sheikh Hussain Khuwarzami
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خلیفۂ غوث الاعظم حضرت ابو عمرو عثمان قرشی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عثمان ۔ کنیت: ابو عمرو ۔ لقب: قبیلہ کی نسبت سے "قرشی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو عمرو عثمان بن مرزوق بن حمید بن سلامہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان) ـ
وطن: آپ کا وطن مصر ہے ۔
آپ کا شمار مصر کے مشائخِ کبار میں سے ہوتا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے ۔
آپ کا شمار مذہبِ حنابلہ کے جید علماء میں ہوتا تھا ۔ آپ اپنے وقت کے فقیہ العصر اور عظیم محدث و مفسر تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے، اور آپ کے دستِ سراپا فیض پر بیعت ہو کر شرفِ خلافت سے ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عالم، عارف، زاہد، فقیہ، محدث، مفسر، شیخ الکبیر فی دیارِ مصر، فیض یافتہ حضرت غوث الاعظم شیخ ابو عمر عثمان قرشی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ فقہ میں حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ، اور طریقت میں حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے پیر و کار تھے ۔
یعنی حنبلی و قادری تھے ۔ حضرت غوثِ اعظم کے مرید و شاگرد تھے ۔ علمِ ظاہری و باطنی میں کامل و اکمل تھے ۔ صاحبِ کشف و کرامت اور مصر کے مشائخِ عظام سے تھے ۔
ایک سال دریائے نیل میں بے حد طغیانی آ گئی، مصر کے باشندے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور طغیانی کے کم ہو جانے کی درخواست کی ۔
آپ علیہ الرحمہ دریا کے کنارے پر آئے ۔ بیٹھ کر وضو کیا اُسی وقت پانی کم ہونا شروع ہو گیا ۔ اگلے سال پانی کم آیا ۔ مصری آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کی زیادتی کی التماس کی ۔ آپ دریا پر آئے اور اپنے ساتھ اپنا کوزہ لائے ۔ وہاں بیٹھ کر وضو فرمایا ۔ دریا کا پانی بڑھنا شروع ہوا، اور آپ کی دعا کی برکت سے زراعت میں ترقی ہُوئی ۔
مصر میں آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ کو بہت ترقی اور فروغ دیا ۔ کثیر مخلوقِ خدا نے آپ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔ آپ کا مصر کے حکمران طبقے پر بڑا اثر و رسوخ تھا ۔ آپ نے ان سے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ اور ان کو اس پر عمل کی طرف راغب کیا ۔
وصال:
آپ کا وصال 11 محرم الحرام 564ھ، کو ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار قاہرہ مصر میں حضرت امام شافعی کے مزار کے قریب ہے ۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-amar-o-usman-qarshi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: عثمان ۔ کنیت: ابو عمرو ۔ لقب: قبیلہ کی نسبت سے "قرشی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو عمرو عثمان بن مرزوق بن حمید بن سلامہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان) ـ
وطن: آپ کا وطن مصر ہے ۔
آپ کا شمار مصر کے مشائخِ کبار میں سے ہوتا ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے ۔
آپ کا شمار مذہبِ حنابلہ کے جید علماء میں ہوتا تھا ۔ آپ اپنے وقت کے فقیہ العصر اور عظیم محدث و مفسر تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے، اور آپ کے دستِ سراپا فیض پر بیعت ہو کر شرفِ خلافت سے ممتاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
عالم، عارف، زاہد، فقیہ، محدث، مفسر، شیخ الکبیر فی دیارِ مصر، فیض یافتہ حضرت غوث الاعظم شیخ ابو عمر عثمان قرشی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ فقہ میں حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ، اور طریقت میں حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے پیر و کار تھے ۔
یعنی حنبلی و قادری تھے ۔ حضرت غوثِ اعظم کے مرید و شاگرد تھے ۔ علمِ ظاہری و باطنی میں کامل و اکمل تھے ۔ صاحبِ کشف و کرامت اور مصر کے مشائخِ عظام سے تھے ۔
ایک سال دریائے نیل میں بے حد طغیانی آ گئی، مصر کے باشندے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور طغیانی کے کم ہو جانے کی درخواست کی ۔
آپ علیہ الرحمہ دریا کے کنارے پر آئے ۔ بیٹھ کر وضو کیا اُسی وقت پانی کم ہونا شروع ہو گیا ۔ اگلے سال پانی کم آیا ۔ مصری آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پانی کی زیادتی کی التماس کی ۔ آپ دریا پر آئے اور اپنے ساتھ اپنا کوزہ لائے ۔ وہاں بیٹھ کر وضو فرمایا ۔ دریا کا پانی بڑھنا شروع ہوا، اور آپ کی دعا کی برکت سے زراعت میں ترقی ہُوئی ۔
مصر میں آپ نے سلسلہ عالیہ قادریہ کو بہت ترقی اور فروغ دیا ۔ کثیر مخلوقِ خدا نے آپ سے علمی و روحانی استفادہ کیا ۔ آپ کا مصر کے حکمران طبقے پر بڑا اثر و رسوخ تھا ۔ آپ نے ان سے شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ اور ان کو اس پر عمل کی طرف راغب کیا ۔
وصال:
آپ کا وصال 11 محرم الحرام 564ھ، کو ہوا ۔
مزار مبارک:
آپ کا مزار قاہرہ مصر میں حضرت امام شافعی کے مزار کے قریب ہے ۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-amar-o-usman-qarshi
scholars.pk
Hazrat Abu Umar-o-Usman Qarshi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ غوث الاعظم حضرت ابو عمرو عثمان قرشی رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: عثمان ۔ کنیت: ابو عمرو ۔ لقب: قبیلہ کی نسبت سے "قرشی" کہلاتے ہیں ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: شیخ ابو عمرو عثمان بن مرزوق بن حمید بن سلامہ ۔ (علیہم الرحمہ والرضوان) ـ وطن: آپ کا…
خلیفۂ سرکارِ غوث الاعظم، حضرت ابو
عمرو عثمان قرشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55379
عمرو عثمان قرشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55379
❤2
شیخ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ یحییٰ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ ـ
شیخ محمد بن عبد اللہ یحییٰ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ قروضہ کے رہنے والے ہیں جو سحول کا نواحی گاؤں ہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فقیہ، عالم اور عارف تھے ۔ عبادات و مجاہدات ان پر غالب تھے ۔
انہوں نے اپنے اس گاؤں میں ایک خانقاہ بنوائی ۔ جب معماروں نے پیٹرین باندھیں تو ایک بیٹیر اس کی اونچائی تک نہ پہنچی ۔ یہ لوگ چھوڑ کر بیٹھ گئے ۔ شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’کیوں چھوڑ بیٹھے۔؟‘‘
انہوں نے عرض کیا:
’’وہاں تک نہیں پہنچتی۔‘‘
شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’پھر باندھو! ان شاءاللہ! پہنچ جائے گی۔!‘‘
پھر باندھی تو پہنچ گئی۔
شیخ اور آپ کی جماعت اسی خانقاہ میں اعتکافات اور ذکر و تلاوت کیا کرتے تھے ۔ کسی شخص نے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا:
’’اے امیرالمومنین! حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم (رہنے سہنے میں) کیسے تھے۔؟‘‘
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’جیسے یہ قروضہ والے اور ان کے ساتھی ہیں۔‘‘
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-hamdani
شیخ محمد بن عبد اللہ یحییٰ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ قروضہ کے رہنے والے ہیں جو سحول کا نواحی گاؤں ہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ فقیہ، عالم اور عارف تھے ۔ عبادات و مجاہدات ان پر غالب تھے ۔
انہوں نے اپنے اس گاؤں میں ایک خانقاہ بنوائی ۔ جب معماروں نے پیٹرین باندھیں تو ایک بیٹیر اس کی اونچائی تک نہ پہنچی ۔ یہ لوگ چھوڑ کر بیٹھ گئے ۔ شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’کیوں چھوڑ بیٹھے۔؟‘‘
انہوں نے عرض کیا:
’’وہاں تک نہیں پہنچتی۔‘‘
شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’پھر باندھو! ان شاءاللہ! پہنچ جائے گی۔!‘‘
پھر باندھی تو پہنچ گئی۔
شیخ اور آپ کی جماعت اسی خانقاہ میں اعتکافات اور ذکر و تلاوت کیا کرتے تھے ۔ کسی شخص نے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا:
’’اے امیرالمومنین! حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم (رہنے سہنے میں) کیسے تھے۔؟‘‘
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’جیسے یہ قروضہ والے اور ان کے ساتھی ہیں۔‘‘
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abdullah-hamdani
scholars.pk
Hazrat Abdullah Hamdani
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1