Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
روڑ روپے کی امداد مانگی تاکہ عوامی املاک کی مرمت و تعمیر کرائی جاسکے.*
*رام رجیم کے ڈیرا بھکتوں نے ہفتوں تک سڑکوں پر تشدد مچایا.*
*ہفتوں تک عوامی نقل وحمل بند رہی ، سڑکوں کو کھودا گیا، اسٹیشنوں کو تباہ کیا گیا لیکن حکومت اور پولیس والوں کی ہمت نہیں ہوئی کہ مظاہرین کو قانون کی طاقت کا احساس کراتے لیکن یہ پولیس مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی بندوق سے بات کرتی ہے.اس پولیس کی بندوق اور ہمت نہتھے مسلمانوں پر کام کرتی ہے. حالانکہ اُس وقت ہریانہ وراجستھان اسی بی جے پی کی حکومت تھی مگر تب بی جے پی کو اپنا فرض،اور عوامی املاک کی تباہی کا خیال نہیں آیا !!*
لیکن یوپی اور دہلی میں اسی بی جے پی کے اشاروں پر پولیس کا انتہائی ظالمانہ چہرہ سامنے آیا. جس کے لئے تاریخ کبھی نہیں کرے گی.
*تشدد کی وجوہات اور پولیس کی سفاکیت*
آئین کی دفعہ(1)19 کے تحت حکومت کے کسی بھی قانون سے عدم رضامندی کا اظہار ہر بھارتی شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے. اس کا جمہوری طریقہ احتجاجی مظاہرہ بھی ہے. سی اے اے(CAA) مخالف مظاہرین میں عدم اعتماد اس وقت پیدا ہوا جب پولیس نے قریب تمام ہی اضلاع میں دفعہ 144 لگا کر ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی. جس کے باعث عوامی غصہ مزید بڑھ گیا. اس کے علاوہ کچھ اسباب یہ ہیں:
🔹احتجاجی جلوسوں کو جابجا روک کر پولیس اہلکاروں نے نہایت سخت زبانی اور بدکلامی کا مظاہرہ کیا،نتیجتاً مظاہرین اور پولیس میں ٹکراؤ ہوا.
🔸پر امن جلوسوں میں بعض ایسے اجنبی افراد بھی مظاہرین میں داخل ہوئے جنہوں نے تشدد کا آغاز کیا. ایک وائرل ویڈیو میں بی جے پی کے جھنڈے والی گاڑی سے مظاہرین پر پتھراؤ کیا گیا.جس سے مظاہرین بھڑک گئے.
🔸اکثر مقامات پر پولیس نے مظاہرین سے ذرا بھی انسانی لب و لہجہ میں بات نہیں کی بلکہ بدکلامی کرتے ہوئے "مقدمہ کرنے اور ہاتھ پیر توڑ دینے" جیسی غیر دستوری زبان استعمال کی. انہیں وجوہات کی بنا پر بعض مقام پر عوام بھی مشتعل ہوگئی. پولیس چاہتی تو بغیر نقصان پہنچائے بھی مظاہرین کو روک سکتی تھی لیکن نِہتھے اور کمزور مسلمانوں کو دیکھ کر پولیس نے سیدھا لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گولیوں کا استعمال کیا. اب اس بہادر پولیس نے 498 لوگوں کو نامزد کرکے قریب 74 لاکھ روپے کی ریکوری کے نوٹس بھیجے ہیں.
ایک طرف جاٹوں کے تشدد میں 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا لیکن ہریانہ کی بی جے پی حکومت اور بہادر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن مسلمانوں کے سامنے آتے ہی حکومت وپولیس کو قانون قاعدے بھی یاد آگئے اور نہتھے مسلمانوں پر بہادری دکھانے کا جذبہ بھی واپس آگیا.پولیس کی سفاکیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ صرف مظفر نگر میں پولیس نے قریب 30 گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور قریب 50 سی سی ٹی وی(cctv) کیمرے توڑ دئے.
اب پولیس عوامی املاک کی بربادی کے لئے مظاہرین سے ہرجانہ وصول کرنا چاہتی ہے. لیکن جن مکانوں میں پولیس نے توڑ پھوڑ کی ہے ان کا ہرجانہ کون دے گا؟
جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے ہیں ان کے اہل خانہ کی تسلی کون کرے گا؟
آخر cctv کیمرے کس لئے توڑے گئے. کیا کیمروں میں اپنی کرتوتوں کے ریکارڈ ہونے کا ڈر تھا؟ کہانی تو کچھ یونہی دکھائی دے رہی ہے مگر انصاف پسند لوگوں کے لیے وہ ویڈیوز ہی کافی ہیں جو پبلک میں وائرل ہوئے ہیں، بس اب ضرورت یہ ہے کہ قوم مسلم(یا وہ مظلوم جن کے ساتھ یہ ہوا ہے) انکو محفوظ رکھیں اور کورٹ جانے کی تیاری کریں، اگر دوچار پولیس والوں کو ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اشاروں پر چلنے والی پولیس کو آدھا مفلوج کردیا، اگر اتنا نہ ہو تو کم از کم جب تک کیس کی سماعت ہورہی ہے ملازمت سے فارغ کردیے جائیں یہ بھی انکے لئے موت سے کم نہ ہوگا. ان ویڈیوز کو ان تحریکوں تک پہنچائیں جو ان معاملات میں پیش پیش ہیں، امید کا دامن تھامے رہیں کیونکہ
ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا
یہ ہیں فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا
3 جمادی الاول 1441ھ
30 دسمبر 2019 بروز پیر
*رام رجیم کے ڈیرا بھکتوں نے ہفتوں تک سڑکوں پر تشدد مچایا.*
*ہفتوں تک عوامی نقل وحمل بند رہی ، سڑکوں کو کھودا گیا، اسٹیشنوں کو تباہ کیا گیا لیکن حکومت اور پولیس والوں کی ہمت نہیں ہوئی کہ مظاہرین کو قانون کی طاقت کا احساس کراتے لیکن یہ پولیس مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی بندوق سے بات کرتی ہے.اس پولیس کی بندوق اور ہمت نہتھے مسلمانوں پر کام کرتی ہے. حالانکہ اُس وقت ہریانہ وراجستھان اسی بی جے پی کی حکومت تھی مگر تب بی جے پی کو اپنا فرض،اور عوامی املاک کی تباہی کا خیال نہیں آیا !!*
لیکن یوپی اور دہلی میں اسی بی جے پی کے اشاروں پر پولیس کا انتہائی ظالمانہ چہرہ سامنے آیا. جس کے لئے تاریخ کبھی نہیں کرے گی.
*تشدد کی وجوہات اور پولیس کی سفاکیت*
آئین کی دفعہ(1)19 کے تحت حکومت کے کسی بھی قانون سے عدم رضامندی کا اظہار ہر بھارتی شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے. اس کا جمہوری طریقہ احتجاجی مظاہرہ بھی ہے. سی اے اے(CAA) مخالف مظاہرین میں عدم اعتماد اس وقت پیدا ہوا جب پولیس نے قریب تمام ہی اضلاع میں دفعہ 144 لگا کر ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی. جس کے باعث عوامی غصہ مزید بڑھ گیا. اس کے علاوہ کچھ اسباب یہ ہیں:
🔹احتجاجی جلوسوں کو جابجا روک کر پولیس اہلکاروں نے نہایت سخت زبانی اور بدکلامی کا مظاہرہ کیا،نتیجتاً مظاہرین اور پولیس میں ٹکراؤ ہوا.
🔸پر امن جلوسوں میں بعض ایسے اجنبی افراد بھی مظاہرین میں داخل ہوئے جنہوں نے تشدد کا آغاز کیا. ایک وائرل ویڈیو میں بی جے پی کے جھنڈے والی گاڑی سے مظاہرین پر پتھراؤ کیا گیا.جس سے مظاہرین بھڑک گئے.
🔸اکثر مقامات پر پولیس نے مظاہرین سے ذرا بھی انسانی لب و لہجہ میں بات نہیں کی بلکہ بدکلامی کرتے ہوئے "مقدمہ کرنے اور ہاتھ پیر توڑ دینے" جیسی غیر دستوری زبان استعمال کی. انہیں وجوہات کی بنا پر بعض مقام پر عوام بھی مشتعل ہوگئی. پولیس چاہتی تو بغیر نقصان پہنچائے بھی مظاہرین کو روک سکتی تھی لیکن نِہتھے اور کمزور مسلمانوں کو دیکھ کر پولیس نے سیدھا لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گولیوں کا استعمال کیا. اب اس بہادر پولیس نے 498 لوگوں کو نامزد کرکے قریب 74 لاکھ روپے کی ریکوری کے نوٹس بھیجے ہیں.
ایک طرف جاٹوں کے تشدد میں 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا لیکن ہریانہ کی بی جے پی حکومت اور بہادر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن مسلمانوں کے سامنے آتے ہی حکومت وپولیس کو قانون قاعدے بھی یاد آگئے اور نہتھے مسلمانوں پر بہادری دکھانے کا جذبہ بھی واپس آگیا.پولیس کی سفاکیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ صرف مظفر نگر میں پولیس نے قریب 30 گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور قریب 50 سی سی ٹی وی(cctv) کیمرے توڑ دئے.
اب پولیس عوامی املاک کی بربادی کے لئے مظاہرین سے ہرجانہ وصول کرنا چاہتی ہے. لیکن جن مکانوں میں پولیس نے توڑ پھوڑ کی ہے ان کا ہرجانہ کون دے گا؟
جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے ہیں ان کے اہل خانہ کی تسلی کون کرے گا؟
آخر cctv کیمرے کس لئے توڑے گئے. کیا کیمروں میں اپنی کرتوتوں کے ریکارڈ ہونے کا ڈر تھا؟ کہانی تو کچھ یونہی دکھائی دے رہی ہے مگر انصاف پسند لوگوں کے لیے وہ ویڈیوز ہی کافی ہیں جو پبلک میں وائرل ہوئے ہیں، بس اب ضرورت یہ ہے کہ قوم مسلم(یا وہ مظلوم جن کے ساتھ یہ ہوا ہے) انکو محفوظ رکھیں اور کورٹ جانے کی تیاری کریں، اگر دوچار پولیس والوں کو ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اشاروں پر چلنے والی پولیس کو آدھا مفلوج کردیا، اگر اتنا نہ ہو تو کم از کم جب تک کیس کی سماعت ہورہی ہے ملازمت سے فارغ کردیے جائیں یہ بھی انکے لئے موت سے کم نہ ہوگا. ان ویڈیوز کو ان تحریکوں تک پہنچائیں جو ان معاملات میں پیش پیش ہیں، امید کا دامن تھامے رہیں کیونکہ
ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا
یہ ہیں فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا
3 جمادی الاول 1441ھ
30 دسمبر 2019 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
کل تک مسلمان سارے عالم پر حکومت کرتا تھا کیونکہ اس کا ایمان اس بات سے اُسے بے پرواہ کردیتا تھا کہ اس کے بعد دنیا میں اس کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کو ن کرے گا؟؟
کل کا نوجوان آقا کریم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر دشمنوں کے نرغے میں جاکر ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا اور فتح اس کی پیشانی چومتی تھی۔۔۔
آخر کیا وجہ ہے کہ شریعت پر پے درپے حملوں کے باوجود مسلمان نوجوان کا خون جوش نہیں مارتا۔۔۔۔
کیا ہم نے اپنے دلوں سے آقا کی محبت کو معاذ اللہ جدا تو نہیں کردیا؟؟
کیا ہمارا نوجوان دنیاو ی خواہشات کے تابع ہوکر اللہ سے بے خوف تو نہیں ہوگیا؟؟
ایک بار ضرور سماعت کریں مسلمانوں کے داستان شجاعت کی دوسری قسط اور اپنے دوستوں سے بھی شئیر کریں
https://youtu.be/GGPGCPaNyzw
ترسیل:
ادارۂ اصحاب صفہ، مالیگاؤں
کل کا نوجوان آقا کریم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر دشمنوں کے نرغے میں جاکر ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا اور فتح اس کی پیشانی چومتی تھی۔۔۔
آخر کیا وجہ ہے کہ شریعت پر پے درپے حملوں کے باوجود مسلمان نوجوان کا خون جوش نہیں مارتا۔۔۔۔
کیا ہم نے اپنے دلوں سے آقا کی محبت کو معاذ اللہ جدا تو نہیں کردیا؟؟
کیا ہمارا نوجوان دنیاو ی خواہشات کے تابع ہوکر اللہ سے بے خوف تو نہیں ہوگیا؟؟
ایک بار ضرور سماعت کریں مسلمانوں کے داستان شجاعت کی دوسری قسط اور اپنے دوستوں سے بھی شئیر کریں
https://youtu.be/GGPGCPaNyzw
ترسیل:
ادارۂ اصحاب صفہ، مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
🌺🌺🌺دعا🌺🌺🌺
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں،
سلطان نے کہا آگے کہو
جاسوس بولے کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر الفاظوں میں بیان نہیں کرپا رہے
سلطان نے کہا جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو
جاسوس بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ نفس کا جہاد افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے
جنگوں سے کیا ملا، صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول
سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کردیا کہ جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے ،
عالم نے کہا دعا کریں
سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہے
سلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس عالم کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا
اب سلطان نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں
پتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی، جسکا اس نے فائدہ اٹھایا
سلطان نے پایا کہ اسکے جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا، بڑی مشکل سے یہ فتنہ روکا جاسکا
مجھے لگتا ہے یہ سلطان کی خوش فہمی تھی ، فتنہ اس وقت بھی پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے، آخر کیوں لوگ اسلام کو بدھ ازم بنا دینا چاہتے ہیں ۔ جبکہ کھلی حقیقت ہے کہ ظالم کا سامنا کیئے بغیر ظلم کا مداوا ہوجائے یہ ممکن ہی نہیں
🌺🌺
N,R,C, ------ CAA
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں،
سلطان نے کہا آگے کہو
جاسوس بولے کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر الفاظوں میں بیان نہیں کرپا رہے
سلطان نے کہا جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو
جاسوس بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ نفس کا جہاد افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے
جنگوں سے کیا ملا، صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول
سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کردیا کہ جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے ،
عالم نے کہا دعا کریں
سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہے
سلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس عالم کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا
اب سلطان نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں
پتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی، جسکا اس نے فائدہ اٹھایا
سلطان نے پایا کہ اسکے جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا، بڑی مشکل سے یہ فتنہ روکا جاسکا
مجھے لگتا ہے یہ سلطان کی خوش فہمی تھی ، فتنہ اس وقت بھی پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے، آخر کیوں لوگ اسلام کو بدھ ازم بنا دینا چاہتے ہیں ۔ جبکہ کھلی حقیقت ہے کہ ظالم کا سامنا کیئے بغیر ظلم کا مداوا ہوجائے یہ ممکن ہی نہیں
🌺🌺
N,R,C, ------ CAA
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کربلا کا پیغام :
گھر میں نہ بیٹھو بے خوف ہو کر میدان میں آؤ ! حق کے لئے پوری ہمت سے لڑو ! اگر تم ہار بھی گئے - تو جیت تمہاری ہی ہوگی -
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
این آر سی ، سیٹیزن شپ بل ، بابری مسجد ، کشمیر ، تین طلاق ، ماب لنچنگ ، اور ہر طرح کی ظلم وزیادتی پر خاموش رہنے والوں کو آواز لگاتے ہوئے آنسو _
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سچ کی آواز
احتجاج کرنے والوں کا پیغام
ہر ایک ظالم کے نام ..........
--------------------------------------------
📝حضرت مولانا فریدی مصباحی
موبائل نمبر +968 9963 3908
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کر گئیں کیا پاسبانی جامعہ کی بیٹیاں
عزم و ہمت کی نشانی جامعہکیبیٹیاں
تا ابد زندہ رہیں گی یہ مشاہد دیکھنا
لِکھ گئیں ایسی کہانی جامعہکیبیٹیاں
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
گھر میں نہ بیٹھو بے خوف ہو کر میدان میں آؤ ! حق کے لئے پوری ہمت سے لڑو ! اگر تم ہار بھی گئے - تو جیت تمہاری ہی ہوگی -
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
این آر سی ، سیٹیزن شپ بل ، بابری مسجد ، کشمیر ، تین طلاق ، ماب لنچنگ ، اور ہر طرح کی ظلم وزیادتی پر خاموش رہنے والوں کو آواز لگاتے ہوئے آنسو _
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سچ کی آواز
احتجاج کرنے والوں کا پیغام
ہر ایک ظالم کے نام ..........
--------------------------------------------
📝حضرت مولانا فریدی مصباحی
موبائل نمبر +968 9963 3908
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کر گئیں کیا پاسبانی جامعہ کی بیٹیاں
عزم و ہمت کی نشانی جامعہکیبیٹیاں
تا ابد زندہ رہیں گی یہ مشاہد دیکھنا
لِکھ گئیں ایسی کہانی جامعہکیبیٹیاں
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Musalmanon Ki Maujooda
Zillat wa Ruswayi Ka Sabab
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ Huzoor TaajushShariah
Ki 58 Saal Puraani Tahreer
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسلمانوں کی موجودہ
ذِلت و رسوائی کا سبب
اٹھاون ۵۸ سال پُرانی تحریر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
www.MuftiAkhtarRazaKhan.com
Zillat wa Ruswayi Ka Sabab
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ Huzoor TaajushShariah
Ki 58 Saal Puraani Tahreer
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسلمانوں کی موجودہ
ذِلت و رسوائی کا سبب
اٹھاون ۵۸ سال پُرانی تحریر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
www.MuftiAkhtarRazaKhan.com
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
نہر زبیدہ کی تاریخ
ہارون رشید کی بیوی زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا بہت ہی دیندار صاحب علم و فضل خاتون تھیں ان کے محل میں ایک ہزار با ندیاں چو بیس گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتی تھیں۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں پانی کی شدید قلت ہو گئی اور پانی کا ایک مشکیزہ دس درہم سے لیکر ایک دینار تک بک گیا۔ حجا ج اکرام کو بہت تکلیف اٹھانی پڑی ۔ زیبدہ رحمتہ اللہ علیہا کو جب اس کی خبر ہوئی تو ان کو بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے اپنے انجنیروں کو جمع کر کے حکم دیا کہ کسی طرح مکہ مکرمہ کے لیے پانی کا بندوبست کرو اور پانی کے چشمے تلاش کرو چنانچہ انہوں نے کافی تگ و دو سے ایک چشمہ طائف کے راستے میں اور دوسرا چشمہ نعمان وادی میں دریافت کیا۔ لیکن ان کا پانی مکہ مکرمہ تک پہنچانا بڑا جان جوکھوں کا کام تھا راستے میں پہاڑیاں تھیں جن کو کھودنا انتہائی دشوار تھا لیکن اس نیک خاتون نے حکم دیا کہ جتنا بھی خرچ ہو مکہ مکرمہ کے لیے پانی کا بندوبست کیا جائے اور اگر کوئی مزدور پتھر پر ایک کدال مارنے کی ایک اشرفی بھی طلب کرے تو دے دو۔
چنانچہ تین سال کی شب و روز محنت کے بعد 33 ہزار میٹر (۳۳ کلومیٹر لمبی) نہر تیار ہو گئی جس کو ریت سے بچا نے کے لیے اوپر سے ڈھانپا گیا راستے میں کئی جگہ مسافروں کے پانی پینے کے لیے انتظام کیا گیا اور بارش کے زمانے میں بارش کے پانی کو بھی نہر میں ڈالنے کا بندوبست کیا گیا اس میں ایسا مصالحہ استعمال کیا گیا کہ اس کا پانی رِس کر ریتلی زمین میں جذب نہ ہو، نہر کی تیاری پر 70 لاکھ دینار خرچ ہو ئے۔ جب حساب کا پرچہ ملکہ کو پیش کیا گیا تو اس وقت وہ دریائے دجلہ کے کنارے اپنے محل میں بیٹھی تھی اس نے وہ پرچہ لیکر اس کو دیکھے بغیر یہ کہہ کر پانی میں بہا دیا کہ ”حساب کو حساب کے دن کے لیے چھوڑا“ اور کہا جس نے مجھ سے اس حساب میں کچھ لینا ہو لے لے ، نہر کے مکمل ہو نے پر بہت خوشی منائی گئی اور تعمیر کرنے والوں کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ اور نہر کا نام”عین المشاش‘‘ رکھا گیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ عمل ایسا پیارا لگا کہ یہ نہر ’’نہر زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا‘‘ کے نام سے ہی مشہور ہو گئی۔
نہر زبیدہ 1200 برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر آرکیٹکٹ اور انجینیئرحیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایاگیا۔ نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10سال کے عرصے میں مکمل کیا۔
https://t.me/SirfUrduTahrir/2074
ہارون رشید کی بیوی زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا بہت ہی دیندار صاحب علم و فضل خاتون تھیں ان کے محل میں ایک ہزار با ندیاں چو بیس گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتی تھیں۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں پانی کی شدید قلت ہو گئی اور پانی کا ایک مشکیزہ دس درہم سے لیکر ایک دینار تک بک گیا۔ حجا ج اکرام کو بہت تکلیف اٹھانی پڑی ۔ زیبدہ رحمتہ اللہ علیہا کو جب اس کی خبر ہوئی تو ان کو بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے اپنے انجنیروں کو جمع کر کے حکم دیا کہ کسی طرح مکہ مکرمہ کے لیے پانی کا بندوبست کرو اور پانی کے چشمے تلاش کرو چنانچہ انہوں نے کافی تگ و دو سے ایک چشمہ طائف کے راستے میں اور دوسرا چشمہ نعمان وادی میں دریافت کیا۔ لیکن ان کا پانی مکہ مکرمہ تک پہنچانا بڑا جان جوکھوں کا کام تھا راستے میں پہاڑیاں تھیں جن کو کھودنا انتہائی دشوار تھا لیکن اس نیک خاتون نے حکم دیا کہ جتنا بھی خرچ ہو مکہ مکرمہ کے لیے پانی کا بندوبست کیا جائے اور اگر کوئی مزدور پتھر پر ایک کدال مارنے کی ایک اشرفی بھی طلب کرے تو دے دو۔
چنانچہ تین سال کی شب و روز محنت کے بعد 33 ہزار میٹر (۳۳ کلومیٹر لمبی) نہر تیار ہو گئی جس کو ریت سے بچا نے کے لیے اوپر سے ڈھانپا گیا راستے میں کئی جگہ مسافروں کے پانی پینے کے لیے انتظام کیا گیا اور بارش کے زمانے میں بارش کے پانی کو بھی نہر میں ڈالنے کا بندوبست کیا گیا اس میں ایسا مصالحہ استعمال کیا گیا کہ اس کا پانی رِس کر ریتلی زمین میں جذب نہ ہو، نہر کی تیاری پر 70 لاکھ دینار خرچ ہو ئے۔ جب حساب کا پرچہ ملکہ کو پیش کیا گیا تو اس وقت وہ دریائے دجلہ کے کنارے اپنے محل میں بیٹھی تھی اس نے وہ پرچہ لیکر اس کو دیکھے بغیر یہ کہہ کر پانی میں بہا دیا کہ ”حساب کو حساب کے دن کے لیے چھوڑا“ اور کہا جس نے مجھ سے اس حساب میں کچھ لینا ہو لے لے ، نہر کے مکمل ہو نے پر بہت خوشی منائی گئی اور تعمیر کرنے والوں کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ اور نہر کا نام”عین المشاش‘‘ رکھا گیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ عمل ایسا پیارا لگا کہ یہ نہر ’’نہر زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا‘‘ کے نام سے ہی مشہور ہو گئی۔
نہر زبیدہ 1200 برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر آرکیٹکٹ اور انجینیئرحیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایاگیا۔ نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10سال کے عرصے میں مکمل کیا۔
https://t.me/SirfUrduTahrir/2074
Telegram
✍ اُردُو ہندی تحریر 📄
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from محمد سیف 🇵🇸🔻
کیا فوٹوز 📸کے ذریعہ ہماری جانکاری نکالی جا سکتی ہے؟
✍✍ محمد سیف ⛔️
جی ہاں ..........!!! آپ جو اپنی فوٹوز وغیرہ کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرتے ہیں چاہے وہ فیسبک ہوا، چاہے انسٹاگرام، ہو یا پھر وہ کوئی بھی پلیٹفارم ہو صرف اس ایک فوٹو کی مدد سے آپ کی اور ساتھ آپ کے موبائل📱 کی پوری کی پوری جانکاری نکالی جا سکتی ہے۔
ایسا کیسے ممکن ہے؟
ایسا اس لیئے ممکن ہے کی آپ جب فوٹو 📸 کھینچتے ہو چاہے وہ موبائل کیمرے سے کھینچی گئی ہو یا صرف کیمرے سے تو جو فوٹو اس( موبائل/کیمرے) کے ذریعہ وجود میں آتی اس فوٹو کے اندر آپ کی ایسی ایسی جانکاریاں چھپی ہوتی ہیں کی آپ کو اپنی ان جانکاریوں کے بارے میں خود بھی علم نہیں ہوتا۔😳
یہی نہیں بلکی ان جانکاریوں سے یہ بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے کی آپ نے اس فوٹو کو کس جگہ کھینچا ہے اس وقت ٹائم کیا تھا موبائل/کیمرے کی سیٹنگ کیا تھی، آپ کا آئی،پی ایڈریس اور بہت سی خاص خاص جانکاریاں بھی اس فوٹو کے ذریعہ معلوم کی جا سکتی ہیں اور اسکی مدد سے آپ کو ٹریس بھی کیا جا سکتا ہے۔
میں نے اسے دیکھنے کے لیئے ایک صفحہ کی تصویر بھیجی اسکے بعد ایسی ایسی جانکاریاں مجھے ملیں جنسے ابھی تک میں خود واقف نہیں تھا۔ 😅
اب آپ اسے خود اندازہ لگائیں کی ہم کتنے محفوظ ہیں؟؟ بس میری ایک درخواست ہے سوشل سائڈ پر اپنی ذاتی چیزوں کو اپلوڈ کرنے سے پرہیز کریں۔
طالب دعا🤲: محمد سیف
اس فوٹو کی زیارت فرمائیں 👇👇
✍✍ محمد سیف ⛔️
جی ہاں ..........!!! آپ جو اپنی فوٹوز وغیرہ کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرتے ہیں چاہے وہ فیسبک ہوا، چاہے انسٹاگرام، ہو یا پھر وہ کوئی بھی پلیٹفارم ہو صرف اس ایک فوٹو کی مدد سے آپ کی اور ساتھ آپ کے موبائل📱 کی پوری کی پوری جانکاری نکالی جا سکتی ہے۔
ایسا کیسے ممکن ہے؟
ایسا اس لیئے ممکن ہے کی آپ جب فوٹو 📸 کھینچتے ہو چاہے وہ موبائل کیمرے سے کھینچی گئی ہو یا صرف کیمرے سے تو جو فوٹو اس( موبائل/کیمرے) کے ذریعہ وجود میں آتی اس فوٹو کے اندر آپ کی ایسی ایسی جانکاریاں چھپی ہوتی ہیں کی آپ کو اپنی ان جانکاریوں کے بارے میں خود بھی علم نہیں ہوتا۔😳
یہی نہیں بلکی ان جانکاریوں سے یہ بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے کی آپ نے اس فوٹو کو کس جگہ کھینچا ہے اس وقت ٹائم کیا تھا موبائل/کیمرے کی سیٹنگ کیا تھی، آپ کا آئی،پی ایڈریس اور بہت سی خاص خاص جانکاریاں بھی اس فوٹو کے ذریعہ معلوم کی جا سکتی ہیں اور اسکی مدد سے آپ کو ٹریس بھی کیا جا سکتا ہے۔
میں نے اسے دیکھنے کے لیئے ایک صفحہ کی تصویر بھیجی اسکے بعد ایسی ایسی جانکاریاں مجھے ملیں جنسے ابھی تک میں خود واقف نہیں تھا۔ 😅
اب آپ اسے خود اندازہ لگائیں کی ہم کتنے محفوظ ہیں؟؟ بس میری ایک درخواست ہے سوشل سائڈ پر اپنی ذاتی چیزوں کو اپلوڈ کرنے سے پرہیز کریں۔
طالب دعا🤲: محمد سیف
اس فوٹو کی زیارت فرمائیں 👇👇
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری نوری کا وصال: بزم علم و تحقیق کا عظیم نقصان
٢٦؍جنوری ٢٠٢٠ء کی دوپہر دُنیاے علم و تحقیق کی اہم شخصیت صاحبزادہ سید وجاہت رسول تاباںؔ قادری رضوی نوری وصال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سید صاحب قبلہ کئی جہتوں سے ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔ ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی کے صدر نشیں رہے۔ سرپرست رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف، محقق، صاحبِ بصیرت دانشور تھے۔ پابندِ شرع اور پاسبانِ فکرِ رضا تھے۔ علمی معاونت اور اسکالرز کی بروقت رہنمائی کرتے تھے۔
آپ کی ذات سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر علمی و قلمی کام کا سلسلہ عالمی پیمانے پر دراز ہوا۔ مصر و شام، عراق و بلادِ مغرب تک یہ شجرِ تحقیق پھیلتا گیا۔ اردو کے ساتھ ہی عربی و انگریزی میں بھی کتابیں شائع ہوئیں۔ ذکرِ رضا، یادِ رضا، افکارِ رضا کی خوشبو جہان بھر میں پھیل گئی۔گویا دبستاں کھل گیا۔آپ شیدائے اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ کے جدِ امجد مولانا سید ہدایت رسول رامپوری خلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ خود بھی کئی بزرگوں کے خلیفہ تھے۔ بالخصوص حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت و اجازت سے نوازا۔ جس پر نازاں تھے۔ماہ نامہ معارفِ رضا کراچی و سال نامہ معارفِ رضا (عربی/اردو/انگریزی) کے مدیر تھے۔جو علمی و تحقیقی سطح پر متعارف و مقبول مجلے ہیں۔
سید صاحب کی نظر عنایت سے نوری مشن مالیگاؤں کا علمی سفر بھی تیزگام ہوا۔ آپ اشاعتی خدمات کو پسند فرماتے۔ دعائیں دیتے۔ منظوم تہنیت کی سوغاتیں نذر کرتے۔ یوں ایک عظیم بزرگ سے تعلق کی بنیاد پر مالیگاؤں سے علمی کام کی بہاریں دور تک پہنچیں۔ کئی چراغ جل اٹھے۔ پھول کھل اٹھے۔مجھے یاد ہے جب امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف نے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے مرتب خاکہ ’’دائرۂ معارفِ رضا‘‘کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا تو راقم اور مفتی محمد حنیف خان رضوی مصباحی سے مسلسل رابطے میں رہے، جس کی 20؍جلدوں میں صد سالہ عرس اعلیٰ حضرت میں اشاعت عمل میں آئی، بعنوان ’’جہانِ امام احمد رضا‘‘۔ یوں ہی امام احمد رضا نیشنل سیمینار پونے، امام احمد رضا سیمینار میرا روڈ، تاج الشریعہ سیمینار کلیان جیسے اہم مواقع پر تہنیتی پیغامات ارسال کیے۔ عالمی پیمانے پر اعلیٰ حضرت کی نسبت سے کانفرنسوں کا انعقاد کروایا-
سید صاحب علیہ الرحمۃ کے وصال کی خبر نے چمن زارِ سُنیّت میں غم کی لہر دوڑا دی۔ ہزاروں علمی شخصیات وعلماے اہلسنّت نے تعزیت کی۔ دعائے مغفرت کی۔ خدمات کو تہنیت پیش کی۔بارگاہِ سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ میں ایصالِ ثواب کیا گیا۔ نوری مشن کی طرف سے بھی ایصالِ ثواب کا اہتمام ویکلی اجتماعِ نسواں میں ہوگا۔
تعزیت کنندگان میں ان شخصیات کے نام نمایاں ہیں: الحاج سید فرقان علی چشتی(درگاہ اجمیر شریف)، علامہ قمرالزماں خان اعظمی(ورلڈ اسلامک مشن لندن)، مولانا محمد عبدالمبین نعمانی (المجمع الاسلامی مبارک پور)، مفتی سید رضوان احمد شافعی(رفاعی مشن کوکن)، مولانا سید فاروق میاں چشتی مصباحی (دیویٰ شریف)، الحاج محمد سعید نوری(رضا اکیڈمی ممبئی)، ڈاکٹر ٖغلام جابر شمس مصباحی(ممبئی)، مفتی محمد حنیف خان رضوی (امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف)، علامہ محمد ارشد مصباحی(اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل مانچسٹر)،ابوزہرہ رضوی (یوکے)، مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی (اتراکھنڈ)، نیاز احمد مالیگ، محمد میاں مالیگ(یوکے)، محمد اویس (جرمنی)، مولانا غلام مصطفیٰ برکاتی (دارالعلوم انوار رضا نوساری)، ڈاکٹر عبدالعلیم قادری (اندور)، غلام مصطفیٰ نعیمی (دہلی)، مفتی راحت خان قادری (بریلی شریف)، محمد زبیر قادری(مدیر افکار رضا ممبئی)، ڈاکٹر سعید احسن قادری(پونے)
ترسیل: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٦؍جنوری ۲۰۲۰ء
***
٢٦؍جنوری ٢٠٢٠ء کی دوپہر دُنیاے علم و تحقیق کی اہم شخصیت صاحبزادہ سید وجاہت رسول تاباںؔ قادری رضوی نوری وصال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سید صاحب قبلہ کئی جہتوں سے ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔ ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی کے صدر نشیں رہے۔ سرپرست رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف، محقق، صاحبِ بصیرت دانشور تھے۔ پابندِ شرع اور پاسبانِ فکرِ رضا تھے۔ علمی معاونت اور اسکالرز کی بروقت رہنمائی کرتے تھے۔
آپ کی ذات سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر علمی و قلمی کام کا سلسلہ عالمی پیمانے پر دراز ہوا۔ مصر و شام، عراق و بلادِ مغرب تک یہ شجرِ تحقیق پھیلتا گیا۔ اردو کے ساتھ ہی عربی و انگریزی میں بھی کتابیں شائع ہوئیں۔ ذکرِ رضا، یادِ رضا، افکارِ رضا کی خوشبو جہان بھر میں پھیل گئی۔گویا دبستاں کھل گیا۔آپ شیدائے اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ کے جدِ امجد مولانا سید ہدایت رسول رامپوری خلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ خود بھی کئی بزرگوں کے خلیفہ تھے۔ بالخصوص حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت و اجازت سے نوازا۔ جس پر نازاں تھے۔ماہ نامہ معارفِ رضا کراچی و سال نامہ معارفِ رضا (عربی/اردو/انگریزی) کے مدیر تھے۔جو علمی و تحقیقی سطح پر متعارف و مقبول مجلے ہیں۔
سید صاحب کی نظر عنایت سے نوری مشن مالیگاؤں کا علمی سفر بھی تیزگام ہوا۔ آپ اشاعتی خدمات کو پسند فرماتے۔ دعائیں دیتے۔ منظوم تہنیت کی سوغاتیں نذر کرتے۔ یوں ایک عظیم بزرگ سے تعلق کی بنیاد پر مالیگاؤں سے علمی کام کی بہاریں دور تک پہنچیں۔ کئی چراغ جل اٹھے۔ پھول کھل اٹھے۔مجھے یاد ہے جب امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف نے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے مرتب خاکہ ’’دائرۂ معارفِ رضا‘‘کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا تو راقم اور مفتی محمد حنیف خان رضوی مصباحی سے مسلسل رابطے میں رہے، جس کی 20؍جلدوں میں صد سالہ عرس اعلیٰ حضرت میں اشاعت عمل میں آئی، بعنوان ’’جہانِ امام احمد رضا‘‘۔ یوں ہی امام احمد رضا نیشنل سیمینار پونے، امام احمد رضا سیمینار میرا روڈ، تاج الشریعہ سیمینار کلیان جیسے اہم مواقع پر تہنیتی پیغامات ارسال کیے۔ عالمی پیمانے پر اعلیٰ حضرت کی نسبت سے کانفرنسوں کا انعقاد کروایا-
سید صاحب علیہ الرحمۃ کے وصال کی خبر نے چمن زارِ سُنیّت میں غم کی لہر دوڑا دی۔ ہزاروں علمی شخصیات وعلماے اہلسنّت نے تعزیت کی۔ دعائے مغفرت کی۔ خدمات کو تہنیت پیش کی۔بارگاہِ سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ میں ایصالِ ثواب کیا گیا۔ نوری مشن کی طرف سے بھی ایصالِ ثواب کا اہتمام ویکلی اجتماعِ نسواں میں ہوگا۔
تعزیت کنندگان میں ان شخصیات کے نام نمایاں ہیں: الحاج سید فرقان علی چشتی(درگاہ اجمیر شریف)، علامہ قمرالزماں خان اعظمی(ورلڈ اسلامک مشن لندن)، مولانا محمد عبدالمبین نعمانی (المجمع الاسلامی مبارک پور)، مفتی سید رضوان احمد شافعی(رفاعی مشن کوکن)، مولانا سید فاروق میاں چشتی مصباحی (دیویٰ شریف)، الحاج محمد سعید نوری(رضا اکیڈمی ممبئی)، ڈاکٹر ٖغلام جابر شمس مصباحی(ممبئی)، مفتی محمد حنیف خان رضوی (امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف)، علامہ محمد ارشد مصباحی(اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل مانچسٹر)،ابوزہرہ رضوی (یوکے)، مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی (اتراکھنڈ)، نیاز احمد مالیگ، محمد میاں مالیگ(یوکے)، محمد اویس (جرمنی)، مولانا غلام مصطفیٰ برکاتی (دارالعلوم انوار رضا نوساری)، ڈاکٹر عبدالعلیم قادری (اندور)، غلام مصطفیٰ نعیمی (دہلی)، مفتی راحت خان قادری (بریلی شریف)، محمد زبیر قادری(مدیر افکار رضا ممبئی)، ڈاکٹر سعید احسن قادری(پونے)
ترسیل: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٦؍جنوری ۲۰۲۰ء
***
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
بسم اللہ الرحمن الرحیم،نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ النبی الکریم۔۔۔۔آہ!آسمان رضویت کا اک آفتاب غروب ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ خبر وحشت اثر آج دنیائے رضویات پر ایک برق بن کر سامنے آئی کہ آج ٣٠/جمادی اولیٰ ١٤٤١ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٠ء بروز اتوار بوقت دوپہر کراچی کے ایک ہسپتال میں علامہ صاحب زادہ سید وجاہت رسول تاباں قادری رحمۃ اللہ علیہ ہمیں ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے گئے ہیں، اس دار فانی کو چھوڑ گئے ہیں،دنیا سے منہ موڑ گئے ہیں۔۔۔ آہ آہ ہم غربائے اہل سنت ایک بار پھر ایک آفتاب کی تابانی سے محروم ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔ علامہ مولانا صاحب زادہ سید وجاہت رسول تاباں قادری رحمۃ اللہ علیہ کے جد امجد سیف المسلول علامہ مولانا سید ہدایت رسول قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ (١٣٣٢ھ/١٩١٥ء) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (١٣٥٦ھ/١٩٢١ء) کے نامور خلیفہ تھے ۔آپ کے والد ماجد مولانا سید وزارت رسول قادری حامدی رحمۃ اللہ علیہ (١٣٩٦ھ/١٩٧٦ء)،حجتہ الاسلام علامہ مفتی محمد حامد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمتہ اللہ علیہ (١٣٦٢ھ/١٩٤٣ء) کے خلیفہ تھے۔۔آپ کے تایا مولانا امانت رسول قادری عشقی رحمۃ اللہ علیہ نامور عالم دین اور خطیب تھے، آپ کے عم محترم مولانا حافظ قاری عنایت رسول قادری لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ (١٩٦٢ء) ایک باذوق ادیب ،مصنف اور نعت گو شاعر تھے اور لکھنؤ سےماہ نامہ"سنی"نکالتے تھے۔۔ آپ "عمر"تخلص اور ادبی دنیا میں"محمد عمر وارثی"کے نام سے شہرت پائی۔۔۔۔ ۔۔آپ کے صاحب زادے حمایت رسول قیصر وارثی اور بھتیجے سید سراج رسول حیات وارثی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہندوستان کے صف اول کے شعراء میں ہوتا ہے۔۔ مولانا صاحب زادہ سید وجاہت رسول تاباں قادری رحمۃ اللہ علیہ کی عمہ محترمہ حسینہ بیگم حامدیہ رضویہ رحمۃ اللہ علیہا (١٩٧٦ء) ایک ادیبہ ،مضمون نگار اور اصلاحی ڈرامہ نویس تھیں اور ادبی دنیا میں قلمی نام" فوزیہ صبوحی" کے نام سے معروف تھیں۔ اور آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ نظیر النساء بیگم رحمۃ اللہ علیہا (١٩٨٧ء) بھی شعری ذوق کی حامل خاتون تھیں اور حجتہ الاسلام مولانا مفتی محمد حامد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی چہیتی مریدوں تھیں انھیں اپنے پیر و مرشد کی آٹھ دس نعتیں زبانی یاد تھیں جنہیں آپ گھر میں نہایت خوش الحانی سے پڑھتی تھیں۔۔۔۔ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔۔۔۔۔اللہ اللہ کیسا علم و عرفان کا گھرانہ تھا ! جہاں علم وفضل اور عرفان ووجدان ہی ہر شخصیت کی پہچان اور شان تھی۔۔۔۔ اسی علمی و روحانی گلستان سادات کے آنگن میں ٢٧/جمادی الاولی ١٣٥٨ھ/١٦/جولائی ١٩٣٩ء کو بنارس میں ایک ایسا آفتاب طلوع ہوا جنہیں دنیا"سید وجاہت رسول قادری" کے نام سے جانتی ہے۔ آپ نے قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم اپنی والدہ ماجدہ مرحومہ مغفورہ سے گھر پر ہی حاصل کی اور عملاً آپ نے ثابت کر دیا کہ ماں کی گود واقعی دنیا کی پہلی درس گاہ ہے۔۔ پھر سکول میں داخلہ لیا ۔ماسٹر فرید الرحمن مرحوم اور علامہ فضل قدیر ندوی مرحوم نے آپ کے شعری ذوق کو مزید جلا بخشی۔ زمانہ طالبعلمی ہی سے حضرت حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کے دل دادہ ہو گئے ۔١٩٥٧ء میں آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور راج شاہی گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا شعبہ اردو کے پروفیسر شیدائی مرحوم اور پروفیسر کلیم سہسرامی مرحوم نے آپ کے شعری ذوق کو جلا بخشنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور آخر الذکر کی خواہش پر آپ نے"تاباں"تخلص"اختیار فرمایا اور طبع آزمائی فرمائی۔۔۔آپ کا مجموعہ کلام"فروغِ صبحِ تاباں" کے نام سے ١٤٣٧ھ/١٩١٦ءمیں ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹر نیشنل کراچی،پاکستان کے زیر اہتمام شائع ہو کر سامنے آیا۔۔اس پر فقیر کو بھی"تقدیم" لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ١٩٦٣ءمیں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد آپ شکرانے کے لئے سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے تو وہاں مفتی اعظم ہند علامہ مولانا محمد مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ،بیعت کے لئے عرض کیا تو آپ نے فرمایا تہجد کے وقت آنا چناچہ تہجد کے وقت دوبارہ حاضر ہوئے تو شرف بیعت سے بہرہ ور ہوئے۔۔١٩٨٠ء میں آپ بریلی شریف گئے تو پیر و مرشد سے ملاقات و زیارت کی اور روحانی برکات حاصل کیں۔۔۔الحمد للہ۔۔۔ ٤/مارچ ٢٩٦٤میں ایم بی اے کی تعلیم کے لئے کراچی آگئے ایک سال کے بعد تعلیم منقطع کر کے حبیب بینک میں ملازمت اختیار کر لی۔١٩٦٧میں آپ کے والدین کریمین،عمہ اور برادران بھی کراچی آئے اور پھر یہاں ہی کے ہو کر رہ گئے۔کراچی روشنیوں کا شہر ہے یہاں آپ نے مختلف مشاعروں میں بھی حصہ لیا اور خراج تحسین حاصل کیا ۔۔٧/اگست ٢٩٧٠ء کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔آپ کا نکاح پروفیسر عزیز الدین نقوی مرحوم کی دختر نیک اختر محترمہ ڈاکٹر برجیس جہاں کے ساتھ منعقد ہوا نکاح علامہ مولا
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
نا حافظ قاری شاہ احمد نورانی صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ (١٤٢٤ھ/٣٠٠٣ء) نے پڑھایا۔ علامہ محمد حسن حقانی رحمۃ اللہ علیہ بھی مجلس نکاح میں گواہ کی حیثیت سے شریک تھے۔۔۔آپ کی اہلیہ محترمہ بھی علمی،تحقیقی اور ادبی کاموں میں آپ کی معاون ثابت ہوئیں۔ان سے آپ کے دو بیٹے سید محمد سطوت رسول قادری اور سید محمد صولت رسول قادری ہیں۔۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے آمین فدائے اعلیٰ حضرت مولانا سید محمد ریاست علی قادری رحمۃ اللہ علیہ (١٩٩٢ء) نے اپنے احباب کے ساتھ ٢٩٨٠ء میں شہر کراچی میں"ادارہ تحقیقات امام احمد رضا"کا قیام عمل میں لایا،ان احباب میں مولانا سید وجاہت رسول قادری بھی نمایاں طور پر شامل تھے آپ ادارہ کے بانی اراکین میں سے ہیں بعد میں آپ ادارہ کی صدارت پر فائز ہوئے ادارہ کے زیر اہتمام سال نامہ"معارف رضا" کا جب پہلا شمارہ سامنے آیا تو اس میں اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں آپ کی ایک منقبت بھی شامل تھی جس کا مطلع کچھ یوں ہے: تاجدار اہل سنت حضرت احمد رضا:::: ہیں امام اہل سنت حضرت احمد رضا۔۔۔۔۔١٩٨١ء میں آپ نے اپنی والدہ ماجدہ کی معیت میں پہلی بار حج بیت اللہ زیارت دربار گہر بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سعادت سے مشرف ہوئے ۔اس دوران خلیفہ اعلیٰ حضرت حضرت قطب مدینہ علامہ ضیاء الدین احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ (١٤٠١ھ/١٩٨١ء) سے بھی شرف ملاقات حاصل ہوا۔١٩٨٥ء میں آپ نے اپنی اہلیہ محترمہ کے ہمراہ دوسری بار حج بیت اللہ اور زیارت حرمین شریفین کی سعادت حاصل کی۔٢٩٩٢ء میں آپ نے تیسری بار بھی فریضہ حج اور زیارت حرمین شریفین سے آنکھیں ٹھنڈی کیں۔۔١٩٩٦ء میں چوتھی بار بھی حج و زیارت کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔فلحمدللہ علی ذالک۔۔ ان کے علاوہ آپ نے چھے عمرے بھی ادا کئے۔١٩٩٠ء میں آپ نے جو عمرہ ادا کیا وہ اس لحاظ سے یاد گار ہے کہ آپ کو فیض ملت علامہ محمد فیض احمد اویسی رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی معیت بھی حاصل تھی اور عراق کی تمام زیارات مقدسہ پر بھی حاضری کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔۔۔۔ فدائے اعلیٰ حضرت مولانا سید محمد ریاست علی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات حسرت آیات کے بعد آپ نے ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی پاکستان کو آسمان شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی وملی اور سیرت وکردار پر دنیا بھر کے ارباب علم و دانش سے تحقیقی مقالات لکھوائے اور شائع کروائے۔۔سال نامہ"معارف رضا" کے ساتھ ساتھ آپ نے ماہ نامہ"معارف رضا" کی اشاعت بھی نہایت برق رفتاری سے جاری وساری رکھی اور اس کی ادارت بھی آپ نے خود سنبھالی آپ نے نہ صرف دوسرے اہل علم کی توجہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی شان دار خدمات کے بارے میں مبذول کرائی بلکہ آپ خود بھی عملی میدان میں نمایاں رہے اس پر آپ کے بیسیوں مقالات واداریات شاہد وناطق ہیں کراچی میں آپ سندھ کلب کی مسجد میں تیرہ سال تک جمعہ المبارک پڑھاتے رہے اور اپنے خطبات سناتے رہے قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت فرما کر نہایت تحقیقی مقالات پیش کر کے اپنا علمی لوہا منوایا۔ ۔۔٦/ستمبر ١٩٩٩ء آپ مصر کے علمی دورے پر گئے شرف ملت علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے ہم رکاب تھے۔ وہاں شیخ الازہر الدکتور محمد سید طنطاوی مدظلہ سے علمی ملاقاتیں کیں اور وہاں کے دیگر اربابِ بصیرت سے علمی ملاقاتیں کیں جامعہ ازھر میں پہلی بار امام احمد رضا کانفرنس منعقد ہوئی اور تین علماء ازھر کو"امام احمد رضا گولڈ میڈل" دیا گیا اور واپسی پر اس علمی سفر کی روداد دل پذیر "سفر نامہ قاھرہ" کے نام سے لکھی جو پہلے ماہ نامہ"معارف رضا" کراچی میں قسط وار شائع ہوئی بعد ازاں اسے ملک محمد محبوب الرسول قادری رضوی نے مرتب کیا اور ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کے تحت کتابی صورت میں بھی شائع ہو کر سامنے آچکی ہے۔ ٢٠/مئی ٢٠٠١ءکو آپ علمائے کرام کے ایک وفد کے ساتھ بریلی شریف گئے جہاں عرس رضوی کے موقع پر یاد گار اعلیٰ حضرت"دارالعلوم منظر اسلام" کے جشن صد سالہ میں شرکت کی وہاں آپ کی زبر دست پذیرائی ہوئی آپ کو جگہ جگہ شاندار استقبالئے دئیے گئے ارباب علم و فضل سے مفید ملاقاتیں ہوئیں۔۔ اس سفر رضویات کی روداد بھی آپ نے لکھی جو "معارف رضا"میں شائع ہو کر سامنے آئی۔۔۔٢٥/جون ٢٠٠٣ء کو آپ نے غوثیہ کانفرنس چٹا گانگ بنگلہ دیش میں شرکت فرمائی اور وہاں کے علمی و تحقیقی علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں اور اس علمی سفر کو آپ نے"اپنا دیس بنگلہ دیش"کے عنوان سے قلم بند فرما کر "معارف رضا"میں قسط وار شائع فرمایا۔۔بعد ازاں ان قسطوں کو بھی ملک محمد محبوب الرسول قادری رضوی نے نے یکجا کیا جسے ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کے تحت کتابی صورت میں شائع کیا۔۔۔ ۔۔الختصر آپ ساری زندگی کار رضا میں مصروف رہے ۔ آپ کی ساری زندگی جذبۂ حب رسول صلی الل