🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#احتجاجی_تشدد_پر_دوہرا_سلوک_کیوں؟

غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
#روشن مستقبل دہلی
gmnaimi@gmail.com

حقوق انسانی کے عالمی منشور میں حقوق اقلیت(Rights of minorities) میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ،
"سارے انسان وقار اور حقوق میں برابر ہیں."
ہمارے ملک میں بھی دستور ہند کے بنیادی حقوق کے تحت اقلیتوں کے مذہب،زبان اور نسل وتعلیم کی حفاظت برابری کا اعلان کیا گیا ہے. قانون کی رو سے حکومت کسی بھی طرح کا امتیاز نہیں کر سکتی.اسی لئے ملک کے حکمران ہوں یا عہدے داران، دستور(constitution)
پر حلف اور دستور کی حفاظت کا عہد لیتے ہیں.لیکن آزادی کے بعد سے ہی ملک میں نفاذِ قانون پر دوہرا معیار اپنایا گیا. قوانین کا اطلاق اقلیت واکثریت کے پیمانے پر ہوتا رہا. یہاں تک کہ اقلیتیں اور خصوصاً مسلمان ہر میدان میں اسی امتیازی تفریق کا شکار ہوتے رہے نوبت یہاں تک آگئی کہ اب حکومتی اہلکار کھلے عام ظلم وزیادتی پر اتر آئے ہیں.حالیہ وقت میں متنازعہ شہریت قانون سی اے اے (CAA) کے خلاف ملک کی عوام نے بلا تفریق مذہب احتجاج کیا. احتجاجی دائرہ جب مسلم اکثریتی علاقوں میں پہنچا تو کئی احتجاجی مظاہرے پر تشدد ہوگئے. جس میں جان ومال کے ضیاع کے ساتھ عوامی املاک کا بھی نقصان ہوا.
یہ بات بھی نوٹ کئے جانے لائق ہے کہ جن صوبوں میں غیر بی جے پی پارٹیاں بر سرِ اقتدار ہیں وہاں لاکھوں افراد کے مظاہرے بھی پر امن اور تشدد سے پاک رہے لیکن بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں محض سو دو سو افراد کے مظاہرے بھی تشدد کی زد میں آگئے.پر تشدد مظاہروں میں اتر پردیش سرِ فہرست ہے. صوبے کے دارالحکومت لکھنؤ سمیت سنبھل، نہٹور(بجنور) مظفر نگر، رامپور ، امروہہ ، ہاپوڑ ، علی گڑھ ، میرٹھ ، کانپور وغیرہ میں جم کر تشدد ہوا. اسی تشدد کا سہارا لیکر پولیس انتظامیہ نے کھل پر مذہبی تعصب اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس کے باعث قریب 20 افراد شہید ہوگئے. ظلم پر ظلم یہ کہ مسلمانوں پر ہی دنگا وفساد کے مقدمہ دائر کرکے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا. اب انہیں مظلوموں پر عوامی املاک کی بربادی کا الزام لگا کر ہرجانہ وصولی کے نوٹس جاری کئے جارہے ہیں.

*چند بڑے احتجاجی تشدد*

بھارت میں احتجاجی مظاہروں کا پر تشدد ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ہے. بلکہ بھارت کی کچھ قوموں کے احتجاج کا مطلب تشدد اور لوٹ مار ہی ہوتا ہے. لیکن چونکہ اُن سب مظاہرین کا تعلق ہندو قوم سے ہوتا ہے اِس لئے لاکھوں کروڑوں کا نقصان اور پولیس کا جَم کر پِٹنا بھی میٹھی گولی کی طرح ہضم کر لیا جاتا ہے.لیکن اگر مظاہرین مسلمان ہوں تو یہی پِٹی ہوئی پولیس ایک دم سے بہادر ہوجاتی ہے. ایک نظر پچھلے چند سالوں کے احتجاجی مظاہروں پر ڈالتے ہیں تاکہ موجودہ احتجاجی تشدد پر واویلا مچانے والوں کا اصلی چہرہ سامنے آسکے !!
🔸مئی 2015ء میں راجستھان کی گوجر برادری نے رِیزَرویشن کی مانگ کو لیکر احتجاج شروع کیا. ان مظاہرین نے ریلوے ٹریک اور بس اڈوں پر سات دنوں تک قبضہ جمائے رکھا.208 ٹرینیں رد کی گئی 141 ٹرینوں کے روٹ بدلے گئے. جس کے باعث قریب 200 کروڑ کا نقصان ہوا.
🔸فروری 2016ء میں ہریانہ کے جاٹوں نے ریزرویشن کو لیکر احجاج شروع کیا. امیدوں کے مطابق احتجاج تشدد میں بدل گیا.
🔸7 ریلوے اسٹیشنوں کو تباہ کردیا گیا، جس کے باعث 800 ٹرینیں رد کرنا پڑیں.
🔹کئی بس اڈوں اور سرکاری دفتروں میں آگ لگادی گئی. سڑکوں کو کھود کر گڈھے بنا دئے گئے.
🔹1000 سے زیادہ گاڑیاں 500 سے زائد دکانیں نذر آتش کردی گئیں. کئی شاپنگ مالس میں آگ لگائی گئ.
🔸بھارت پاکستان کے مابین چلنے والی سمجھوتا ایکسپریس کو روکا گیا.
🔹سونی پت میں مال گاڑی میں آگ لگائی گئی.
🔸جیند میں سابق وزیر ستیہ ناراین کے ساتھ مارپیٹ کی گئی.
🔹گنور ایس ڈی ایم (SDM) کی گاڑی کو آگ لگائی گئی.
🔸دہلی کو پانی سپلائی کرنے والی منف نہر کو بند کردیا گیا. جسے آرمی نے جاکر کھلوایا.
🔹مسافروں کے ساتھ لوٹ مار اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی تک واقعات ہوئے لیکن حکومت وانتظامیہ کانوں میں تیل ڈالے سوتی رہی.
🔹رام رجیم نامی بابا کو زنا وقتل کیس میں سزا سناتے ہی ڈیرا بھکتوں کے احتجاج میں جم کر بوال ہوا.
🔸آج تک اور ٹائمز ناؤ نیوز چینل کی اوبی وین پھونک دی گئیں.
🔹پنجاب کے مانسا اور ملوٹ ریلوے اسٹیشن پر آگ لگا دی گئی جس کے باعث فیروزپور ڈویژن کی 124 ٹرینیں رد ہوئیں.
🔸فاضلکا اسٹیشن پنجاب میں فیروزپور ڈپو کی بس کو نذر آتش کیا گیا.
🔹سَنگرُور میں بجلی گھر کو ہی آگ لگا دی گئی.
🔸پَنچکُولہ ہریانہ میں 100 سے زیادہ گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی.
*ذرا سوچیں !!*
*ہفتے بھر تک گوجر مظاہرین ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر اودھم مچاتے رہے.*
*9 دنوں تک جاٹ قوم کے فساد و آگ زنی کے واقعات میں قریب 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا. اس احتجاجی تشدد کے نقصان کی بھرپائی کے لئے ہریانہ حکومت نے "نیشنل ڈجاسٹر مینج مینٹ اتھارٹی"(NDMA)سے ایک ہزار ک
روڑ روپے کی امداد مانگی تاکہ عوامی املاک کی مرمت و تعمیر کرائی جاسکے.*
*رام رجیم کے ڈیرا بھکتوں نے ہفتوں تک سڑکوں پر تشدد مچایا.*
*ہفتوں تک عوامی نقل وحمل بند رہی ، سڑکوں کو کھودا گیا، اسٹیشنوں کو تباہ کیا گیا لیکن حکومت اور پولیس والوں کی ہمت نہیں ہوئی کہ مظاہرین کو قانون کی طاقت کا احساس کراتے لیکن یہ پولیس مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی بندوق سے بات کرتی ہے.اس پولیس کی بندوق اور ہمت نہتھے مسلمانوں پر کام کرتی ہے. حالانکہ اُس وقت ہریانہ وراجستھان اسی بی جے پی کی حکومت تھی مگر تب بی جے پی کو اپنا فرض،اور عوامی املاک کی تباہی کا خیال نہیں آیا !!*
لیکن یوپی اور دہلی میں اسی بی جے پی کے اشاروں پر پولیس کا انتہائی ظالمانہ چہرہ سامنے آیا. جس کے لئے تاریخ کبھی نہیں کرے گی.

*تشدد کی وجوہات اور پولیس کی سفاکیت*

آئین کی دفعہ(1)19 کے تحت حکومت کے کسی بھی قانون سے عدم رضامندی کا اظہار ہر بھارتی شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے. اس کا جمہوری طریقہ احتجاجی مظاہرہ بھی ہے. سی اے اے(CAA) مخالف مظاہرین میں عدم اعتماد اس وقت پیدا ہوا جب پولیس نے قریب تمام ہی اضلاع میں دفعہ 144 لگا کر ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی. جس کے باعث عوامی غصہ مزید بڑھ گیا. اس کے علاوہ کچھ اسباب یہ ہیں:
🔹احتجاجی جلوسوں کو جابجا روک کر پولیس اہلکاروں نے نہایت سخت زبانی اور بدکلامی کا مظاہرہ کیا،نتیجتاً مظاہرین اور پولیس میں ٹکراؤ ہوا.
🔸پر امن جلوسوں میں بعض ایسے اجنبی افراد بھی مظاہرین میں داخل ہوئے جنہوں نے تشدد کا آغاز کیا. ایک وائرل ویڈیو میں بی جے پی کے جھنڈے والی گاڑی سے مظاہرین پر پتھراؤ کیا گیا.جس سے مظاہرین بھڑک گئے.
🔸اکثر مقامات پر پولیس نے مظاہرین سے ذرا بھی انسانی لب و لہجہ میں بات نہیں کی بلکہ بدکلامی کرتے ہوئے "مقدمہ کرنے اور ہاتھ پیر توڑ دینے" جیسی غیر دستوری زبان استعمال کی. انہیں وجوہات کی بنا پر بعض مقام پر عوام بھی مشتعل ہوگئی. پولیس چاہتی تو بغیر نقصان پہنچائے بھی مظاہرین کو روک سکتی تھی لیکن نِہتھے اور کمزور مسلمانوں کو دیکھ کر پولیس نے سیدھا لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گولیوں کا استعمال کیا. اب اس بہادر پولیس نے 498 لوگوں کو نامزد کرکے قریب 74 لاکھ روپے کی ریکوری کے نوٹس بھیجے ہیں.
ایک طرف جاٹوں کے تشدد میں 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا لیکن ہریانہ کی بی جے پی حکومت اور بہادر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن مسلمانوں کے سامنے آتے ہی حکومت وپولیس کو قانون قاعدے بھی یاد آگئے اور نہتھے مسلمانوں پر بہادری دکھانے کا جذبہ بھی واپس آگیا.پولیس کی سفاکیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ صرف مظفر نگر میں پولیس نے قریب 30 گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور قریب 50 سی سی ٹی وی(cctv) کیمرے توڑ دئے.
اب پولیس عوامی املاک کی بربادی کے لئے مظاہرین سے ہرجانہ وصول کرنا چاہتی ہے. لیکن جن مکانوں میں پولیس نے توڑ پھوڑ کی ہے ان کا ہرجانہ کون دے گا؟
جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے ہیں ان کے اہل خانہ کی تسلی کون کرے گا؟
آخر cctv کیمرے کس لئے توڑے گئے. کیا کیمروں میں اپنی کرتوتوں کے ریکارڈ ہونے کا ڈر تھا؟ کہانی تو کچھ یونہی دکھائی دے رہی ہے مگر انصاف پسند لوگوں کے لیے وہ ویڈیوز ہی کافی ہیں جو پبلک میں وائرل ہوئے ہیں، بس اب ضرورت یہ ہے کہ قوم مسلم(یا وہ مظلوم جن کے ساتھ یہ ہوا ہے) انکو محفوظ رکھیں اور کورٹ جانے کی تیاری کریں، اگر دوچار پولیس والوں کو ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اشاروں پر چلنے والی پولیس کو آدھا مفلوج کردیا، اگر اتنا نہ ہو تو کم از کم جب تک کیس کی سماعت ہورہی ہے ملازمت سے فارغ کردیے جائیں یہ بھی انکے لئے موت سے کم نہ ہوگا. ان ویڈیوز کو ان تحریکوں تک پہنچائیں جو ان معاملات میں پیش پیش ہیں، امید کا دامن تھامے رہیں کیونکہ
ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا
یہ ہیں فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا

3 جمادی الاول 1441ھ
30 دسمبر 2019 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل تک مسلمان سارے عالم پر حکومت کرتا تھا کیونکہ اس کا ایمان اس بات سے اُسے بے پرواہ کردیتا تھا کہ اس کے بعد دنیا میں اس کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کو ن کرے گا؟؟
کل کا نوجوان آقا کریم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر دشمنوں کے نرغے میں جاکر ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا اور فتح اس کی پیشانی چومتی تھی۔۔۔
آخر کیا وجہ ہے کہ شریعت پر پے درپے حملوں کے باوجود مسلمان نوجوان کا خون جوش نہیں مارتا۔۔۔۔
کیا ہم نے اپنے دلوں سے آقا کی محبت کو معاذ اللہ جدا تو نہیں کردیا؟؟
کیا ہمارا نوجوان دنیاو ی خواہشات کے تابع ہوکر اللہ سے بے خوف تو نہیں ہوگیا؟؟

ایک بار ضرور سماعت کریں مسلمانوں کے داستان شجاعت کی دوسری قسط اور اپنے دوستوں سے بھی شئیر کریں
https://youtu.be/GGPGCPaNyzw

ترسیل:
ادارۂ اصحاب صفہ، مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌺🌺🌺دعا🌺🌺🌺

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں،

سلطان نے کہا آگے کہو

جاسوس بولے کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر الفاظوں میں بیان نہیں کرپا رہے

سلطان نے کہا جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو

جاسوس بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ نفس کا جہاد افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے
جنگوں سے کیا ملا، صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول

سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کردیا کہ جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے ،

عالم نے کہا دعا کریں

سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہے

سلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس عالم کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا
اب سلطان نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں

پتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی، جسکا اس نے فائدہ اٹھایا
سلطان نے پایا کہ اسکے جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا، بڑی مشکل سے یہ فتنہ روکا جاسکا

مجھے لگتا ہے یہ سلطان کی خوش فہمی تھی ، فتنہ اس وقت بھی پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے، آخر کیوں لوگ اسلام کو بدھ ازم بنا دینا چاہتے ہیں ۔ جبکہ کھلی حقیقت ہے کہ ظالم کا سامنا کیئے بغیر ظلم کا مداوا ہوجائے یہ ممکن ہی نہیں
🌺🌺
N,R,C, ------ CAA
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کربلا کا پیغام :
گھر میں نہ بیٹھو بے خوف ہو کر میدان میں آؤ ! حق کے لئے پوری ہمت سے لڑو ! اگر تم ہار بھی گئے - تو جیت تمہاری ہی ہوگی -
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
این آر سی ، سیٹیزن شپ بل ، بابری مسجد ، کشمیر ، تین طلاق ، ماب لنچنگ ، اور ہر طرح کی ظلم وزیادتی پر خاموش رہنے والوں کو آواز لگاتے ہوئے آنسو _
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سچ کی آواز
احتجاج کرنے والوں کا پیغام
ہر ایک ظالم کے نام ..........
--------------------------------------------
📝حضرت مولانا فریدی مصباحی
موبائل نمبر +968 9963 3908
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کر گئیں کیا پاسبانی جامعہ کی بیٹیاں
عزم و ہمت کی نشانی جامعہ‌کی‌بیٹیاں
تا ابد زندہ رہیں گی یہ مشاہد دیکھنا
لِکھ گئیں ایسی کہانی جامعہ‌کی‌بیٹیاں
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Musalmanon Ki Maujooda
Zillat wa Ruswayi Ka Sabab
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Huzoor TaajushShariah
Ki 58 Saal Puraani Tahreer
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسلمانوں کی موجودہ
ذِلت و رسوائی کا سبب

اٹھاون ۵۸ سال پُرانی تحریر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
www.MuftiAkhtarRazaKhan.com
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
نہر زبیدہ کی تاریخ

ہارون رشید کی بیوی زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا بہت ہی دیندار صاحب علم و فضل خاتون تھیں ‎ان کے محل میں ‏ایک ہزار با ندیاں چو بیس گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتی‎ ‎تھیں۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ ‏میں پانی کی شدید قلت ہو گئی اور پانی کا ایک مشکیزہ دس‎ ‎درہم سے لیکر ایک دینار تک بک گیا۔ حجا ج ‏اکرام کو بہت تکلیف اٹھانی پڑی ۔ زیبدہ‎ ‎رحمتہ اللہ علیہا کو جب اس کی خبر ہوئی تو ان کو بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے اپنے‎ ‎انجنیروں کو جمع کر کے حکم دیا کہ کسی طرح مکہ مکرمہ کے لیے پانی کا بندوبست‎ ‎کرو اور پانی کے چشمے تلاش کرو چنانچہ انہوں نے کافی تگ و دو سے ایک چشمہ طائف‌‎ ‎کے ‏راستے میں اور دوسرا چشمہ نعمان وادی میں دریافت کیا۔ لیکن ان کا پانی مکہ مکر‎مہ تک پہنچانا بڑا جا‏ن جوکھوں کا کام تھا راستے میں پہاڑیاں تھیں جن کو کھودنا‎ ‎انتہائی دشوار تھا لیکن اس نیک خاتون ‏نے حکم دیا کہ جتنا بھی خرچ ہو مکہ مکرمہ‌‎ ‎کے لیے پانی کا بندوبست کیا جائے اور اگر کوئی مزدور ‏پتھر پر ایک کدال مارنے کی‎ ‎ایک اشرفی بھی طلب کرے تو دے دو۔‎
چنانچہ تین سال کی شب و روز محنت کے بعد 33‌‎ ‎ہزار میٹر (۳۳ کلومیٹر لمبی) نہر تیار ہو گئی جس کو ‏ریت سے بچا نے کے لیے اوپر سے‎ ‎ڈھانپا گیا راستے میں کئی جگہ مسافروں کے پانی پینے کے لیے ‏انتظام کیا گیا اور بارش‎ ‎کے زمانے میں بارش کے پانی کو بھی نہر میں ڈالنے کا بندوبست کیا گیا اس میں ‏ایسا‎ ‎مصالحہ استعمال کیا گیا کہ اس کا پانی رِس کر ریتلی زمین میں جذب نہ ہو، نہر کی‎ ‎تیاری پر 70 لاکھ ‏دینار خرچ ہو ئے۔ جب حساب کا پرچہ ملکہ کو پیش کیا گیا تو اس وقت‎ ‎وہ دریائے دجلہ کے کنارے اپنے ‏محل میں بیٹھی تھی اس نے وہ پرچہ لیکر اس کو دیکھے‎ ‎بغیر یہ کہہ کر پانی میں بہا دیا کہ ”حساب کو ‏حساب کے دن کے لیے چھوڑا“ اور کہا جس‎ ‎نے مجھ سے اس حساب میں کچھ لینا ہو لے لے ، نہر کے ‏مکمل ہو نے پر بہت خوشی منائی‎ ‎گئی اور تعمیر کرنے والوں کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ ‏اور نہر کا نام‎”‎عین المشاش‘‘ رکھا گیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ عمل ایسا پیارا لگا کہ یہ نہر‎ ‎’’نہر ‏زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا‘‘ کے نام سے ہی مشہور ہو گئی۔

نہر زبیدہ 1200 برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر آرکیٹکٹ اور انجینیئرحیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایاگیا۔ نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10سال کے عرصے میں مکمل کیا۔

https://t.me/SirfUrduTahrir/2074
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کیا فوٹوز 📸کے ذریعہ ہماری جانکاری نکالی جا سکتی ہے؟

محمد سیف ⛔️

جی ہاں ..........!!! آپ جو اپنی فوٹوز وغیرہ کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرتے ہیں چاہے وہ فیسبک ہوا، چاہے انسٹاگرام، ہو یا پھر وہ کوئی بھی پلیٹفارم ہو صرف اس ایک فوٹو کی مدد سے آپ کی اور ساتھ آپ کے موبائل📱 کی پوری کی پوری جانکاری نکالی جا سکتی ہے۔

ایسا کیسے ممکن ہے؟

ایسا اس لیئے ممکن ہے کی آپ جب فوٹو 📸 کھینچتے ہو چاہے وہ موبائل کیمرے سے کھینچی گئی ہو یا صرف کیمرے سے تو جو فوٹو اس( موبائل/کیمرے) کے ذریعہ وجود میں آتی اس فوٹو کے اندر آپ کی ایسی ایسی جانکاریاں چھپی ہوتی ہیں کی آپ کو اپنی ان جانکاریوں کے بارے میں خود بھی علم نہیں ہوتا۔😳
یہی نہیں بلکی ان جانکاریوں سے یہ بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے کی آپ نے اس فوٹو کو کس جگہ کھینچا ہے اس وقت ٹائم کیا تھا موبائل/کیمرے کی سیٹنگ کیا تھی، آپ کا آئی،پی ایڈریس اور بہت سی خاص خاص جانکاریاں بھی اس فوٹو کے ذریعہ معلوم کی جا سکتی ہیں اور اسکی مدد سے آپ کو ٹریس بھی کیا جا سکتا ہے۔

میں نے اسے دیکھنے کے لیئے ایک صفحہ کی تصویر بھیجی اسکے بعد ایسی ایسی جانکاریاں مجھے ملیں جنسے ابھی تک میں خود واقف نہیں تھا۔ 😅

اب آپ اسے خود اندازہ لگائیں کی ہم کتنے محفوظ ہیں؟؟ بس میری ایک درخواست ہے سوشل سائڈ پر اپنی ذاتی چیزوں کو اپلوڈ کرنے سے پرہیز کریں۔

طالب دعا🤲: محمد سیف

اس فوٹو کی زیارت فرمائیں 👇👇
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری نوری کا وصال: بزم علم و تحقیق کا عظیم نقصان

٢٦؍جنوری ٢٠٢٠ء کی دوپہر دُنیاے علم و تحقیق کی اہم شخصیت صاحبزادہ سید وجاہت رسول تاباںؔ قادری رضوی نوری وصال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سید صاحب قبلہ کئی جہتوں سے ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔ ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی کے صدر نشیں رہے۔ سرپرست رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف، محقق، صاحبِ بصیرت دانشور تھے۔ پابندِ شرع اور پاسبانِ فکرِ رضا تھے۔ علمی معاونت اور اسکالرز کی بروقت رہنمائی کرتے تھے۔ 
آپ کی ذات سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ پر علمی و قلمی کام کا سلسلہ عالمی پیمانے پر دراز ہوا۔ مصر و شام، عراق و بلادِ مغرب تک یہ شجرِ تحقیق پھیلتا گیا۔ اردو کے ساتھ ہی عربی و انگریزی میں بھی کتابیں شائع ہوئیں۔ ذکرِ رضا، یادِ رضا، افکارِ رضا کی خوشبو جہان بھر میں پھیل گئی۔گویا دبستاں کھل گیا۔آپ شیدائے اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ کے جدِ امجد مولانا سید ہدایت رسول رامپوری خلیفۂ اعلیٰ حضرت تھے۔ آپ خود بھی کئی بزرگوں کے خلیفہ تھے۔ بالخصوص حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت و اجازت سے نوازا۔ جس پر نازاں تھے۔ماہ نامہ معارفِ رضا کراچی و سال نامہ معارفِ رضا (عربی/اردو/انگریزی) کے مدیر تھے۔جو علمی و تحقیقی سطح پر متعارف و مقبول مجلے ہیں۔
سید صاحب کی نظر عنایت سے نوری مشن مالیگاؤں کا علمی سفر بھی تیزگام ہوا۔ آپ اشاعتی خدمات کو پسند فرماتے۔ دعائیں دیتے۔ منظوم تہنیت کی سوغاتیں نذر کرتے۔ یوں ایک عظیم بزرگ سے تعلق کی بنیاد پر مالیگاؤں سے علمی کام کی بہاریں دور تک پہنچیں۔ کئی چراغ جل اٹھے۔ پھول کھل اٹھے۔مجھے یاد ہے جب امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف نے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کے مرتب خاکہ ’’دائرۂ معارفِ رضا‘‘کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا تو راقم اور مفتی محمد حنیف خان رضوی مصباحی سے مسلسل رابطے میں رہے، جس کی 20؍جلدوں میں صد سالہ عرس اعلیٰ حضرت میں اشاعت عمل میں آئی، بعنوان ’’جہانِ امام احمد رضا‘‘۔ یوں ہی امام احمد رضا نیشنل سیمینار پونے، امام احمد رضا سیمینار میرا روڈ، تاج الشریعہ سیمینار کلیان جیسے اہم مواقع پر تہنیتی پیغامات ارسال کیے۔ عالمی پیمانے پر اعلیٰ حضرت کی نسبت سے کانفرنسوں کا انعقاد کروایا-
سید صاحب علیہ الرحمۃ کے وصال کی خبر نے چمن زارِ سُنیّت میں غم کی لہر دوڑا دی۔ ہزاروں علمی شخصیات وعلماے اہلسنّت نے تعزیت کی۔ دعائے مغفرت کی۔ خدمات کو تہنیت پیش کی۔بارگاہِ سلطان الہند حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ میں ایصالِ ثواب کیا گیا۔ نوری مشن کی طرف سے بھی ایصالِ ثواب کا اہتمام ویکلی اجتماعِ نسواں میں ہوگا۔
تعزیت کنندگان میں ان شخصیات کے نام نمایاں ہیں: الحاج سید فرقان علی چشتی(درگاہ اجمیر شریف)، علامہ قمرالزماں خان اعظمی(ورلڈ اسلامک مشن لندن)، مولانا  محمد عبدالمبین نعمانی (المجمع الاسلامی مبارک پور)، مفتی سید رضوان احمد شافعی(رفاعی مشن کوکن)، مولانا سید فاروق میاں چشتی مصباحی (دیویٰ شریف)، الحاج محمد سعید نوری(رضا اکیڈمی ممبئی)، ڈاکٹر ٖغلام جابر شمس مصباحی(ممبئی)، مفتی محمد حنیف خان رضوی (امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف)، علامہ محمد ارشد مصباحی(اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن انٹرنیشنل مانچسٹر)،ابوزہرہ رضوی (یوکے)، مفتی محمد ذوالفقار خان نعیمی (اتراکھنڈ)، نیاز احمد مالیگ، محمد میاں مالیگ(یوکے)، محمد اویس (جرمنی)، مولانا غلام مصطفیٰ برکاتی (دارالعلوم انوار رضا نوساری)، ڈاکٹر عبدالعلیم قادری (اندور)، غلام مصطفیٰ نعیمی (دہلی)، مفتی راحت خان قادری (بریلی شریف)، محمد زبیر قادری(مدیر افکار رضا ممبئی)، ڈاکٹر سعید احسن قادری(پونے)

ترسیل: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٦؍جنوری ۲۰۲۰ء
***
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Muhammad IBRAHEEM
بسم اللہ الرحمن الرحیم،نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ النبی الکریم۔۔۔۔آہ!آسمان رضویت کا اک آفتاب غروب ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ خبر وحشت اثر آج دنیائے رضویات پر ایک برق بن کر سامنے آئی کہ آج ٣٠/جمادی اولیٰ ١٤٤١ھ/٢٦/جنوری ٢٠٢٠ء بروز اتوار بوقت دوپہر کراچی کے ایک ہسپتال میں علامہ صاحب زادہ سید وجاہت رسول تاباں قادری رحمۃ اللہ علیہ ہمیں ہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے گئے ہیں، اس دار فانی کو چھوڑ گئے ہیں،دنیا سے منہ موڑ گئے ہیں۔۔۔ آہ آہ ہم غربائے اہل سنت ایک بار پھر ایک آفتاب کی تابانی سے محروم ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔ علامہ مولانا صاحب زادہ سید وجاہت رسول تاباں قادری رحمۃ اللہ علیہ کے جد امجد سیف المسلول علامہ مولانا سید ہدایت رسول قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ (١٣٣٢ھ/١٩١٥ء) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (١٣٥٦ھ/١٩٢١ء) کے نامور خلیفہ تھے ۔آپ کے والد ماجد مولانا سید وزارت رسول قادری حامدی رحمۃ اللہ علیہ (١٣٩٦ھ/١٩٧٦ء)،حجتہ الاسلام علامہ مفتی محمد حامد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمتہ اللہ علیہ (١٣٦٢ھ/١٩٤٣ء) کے خلیفہ تھے۔۔آپ کے تایا مولانا امانت رسول قادری عشقی رحمۃ اللہ علیہ نامور عالم دین اور خطیب تھے، آپ کے عم محترم مولانا حافظ قاری عنایت رسول قادری لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ (١٩٦٢ء) ایک باذوق ادیب ،مصنف اور نعت گو شاعر تھے اور لکھنؤ سےماہ نامہ"سنی"نکالتے تھے۔۔ آپ "عمر"تخلص اور ادبی دنیا میں"محمد عمر وارثی"کے نام سے شہرت پائی۔۔۔۔ ۔۔آپ کے صاحب زادے حمایت رسول قیصر وارثی اور بھتیجے سید سراج رسول حیات وارثی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ہندوستان کے صف اول کے شعراء میں ہوتا ہے۔۔ مولانا صاحب زادہ سید وجاہت رسول تاباں قادری رحمۃ اللہ علیہ کی عمہ محترمہ حسینہ بیگم حامدیہ رضویہ رحمۃ اللہ علیہا (١٩٧٦ء) ایک ادیبہ ،مضمون نگار اور اصلاحی ڈرامہ نویس تھیں اور ادبی دنیا میں قلمی نام" فوزیہ صبوحی" کے نام سے معروف تھیں۔ اور آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ نظیر النساء بیگم رحمۃ اللہ علیہا (١٩٨٧ء) بھی شعری ذوق کی حامل خاتون تھیں اور حجتہ الاسلام مولانا مفتی محمد حامد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی چہیتی مریدوں تھیں انھیں اپنے پیر و مرشد کی آٹھ دس نعتیں زبانی یاد تھیں جنہیں آپ گھر میں نہایت خوش الحانی سے پڑھتی تھیں۔۔۔۔ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔۔۔۔۔اللہ اللہ کیسا علم و عرفان کا گھرانہ تھا ! جہاں علم وفضل اور عرفان ووجدان ہی ہر شخصیت کی پہچان اور شان تھی۔۔۔۔ اسی علمی و روحانی گلستان سادات کے آنگن میں ٢٧/جمادی الاولی ١٣٥٨ھ/١٦/جولائی ١٩٣٩ء کو بنارس میں ایک ایسا آفتاب طلوع ہوا جنہیں دنیا"سید وجاہت رسول قادری" کے نام سے جانتی ہے۔ آپ نے قرآن مجید ناظرہ اور اردو کی ابتدائی تعلیم اپنی والدہ ماجدہ مرحومہ مغفورہ سے گھر پر ہی حاصل کی اور عملاً آپ نے ثابت کر دیا کہ ماں کی گود واقعی دنیا کی پہلی درس گاہ ہے۔۔ پھر سکول میں داخلہ لیا ۔ماسٹر فرید الرحمن مرحوم اور علامہ فضل قدیر ندوی مرحوم نے آپ کے شعری ذوق کو مزید جلا بخشی۔ زمانہ طالبعلمی ہی سے حضرت حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کے دل دادہ ہو گئے ۔١٩٥٧ء میں آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور راج شاہی گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا شعبہ اردو کے پروفیسر شیدائی مرحوم اور پروفیسر کلیم سہسرامی مرحوم نے آپ کے شعری ذوق کو جلا بخشنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور آخر الذکر کی خواہش پر آپ نے"تاباں"تخلص"اختیار فرمایا اور طبع آزمائی فرمائی۔۔۔آپ کا مجموعہ کلام"فروغِ صبحِ تاباں" کے نام سے ١٤٣٧ھ/١٩١٦ءمیں ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹر نیشنل کراچی،پاکستان کے زیر اہتمام شائع ہو کر سامنے آیا۔۔اس پر فقیر کو بھی"تقدیم" لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ١٩٦٣ءمیں راج شاہی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد آپ شکرانے کے لئے سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے تو وہاں مفتی اعظم ہند علامہ مولانا محمد مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ،بیعت کے لئے عرض کیا تو آپ نے فرمایا تہجد کے وقت آنا چناچہ تہجد کے وقت دوبارہ حاضر ہوئے تو شرف بیعت سے بہرہ ور ہوئے۔۔١٩٨٠ء میں آپ بریلی شریف گئے تو پیر و مرشد سے ملاقات و زیارت کی اور روحانی برکات حاصل کیں۔۔۔الحمد للہ۔۔۔ ٤/مارچ ٢٩٦٤میں ایم بی اے کی تعلیم کے لئے کراچی آگئے ایک سال کے بعد تعلیم منقطع کر کے حبیب بینک میں ملازمت اختیار کر لی۔١٩٦٧میں آپ کے والدین کریمین،عمہ اور برادران بھی کراچی آئے اور پھر یہاں ہی کے ہو کر رہ گئے۔کراچی روشنیوں کا شہر ہے یہاں آپ نے مختلف مشاعروں میں بھی حصہ لیا اور خراج تحسین حاصل کیا ۔۔٧/اگست ٢٩٧٠ء کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔آپ کا نکاح پروفیسر عزیز الدین نقوی مرحوم کی دختر نیک اختر محترمہ ڈاکٹر برجیس جہاں کے ساتھ منعقد ہوا نکاح علامہ مولا