🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-01-1445 ᴴ | 28-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-01-1445 ᴴ | 28-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
استاذ الاساتذہ ، حضرت علامہ مفتی محمد احمد جہانگیر خاں رضوی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

https://t.me/islaamic_Knowledge/55278

فتح پور تال نرجا ضلع اعظم گڑھ یو۔ پی میں ایک قدیم آبادی ہے۔ کہتے ہیں کہ اکبر بادشاہ کے دورِ حکومت میں فتح محمد خاں نے اپنے بھائی عبد الحمید خاں کے ساتھ مل کر ان اطراف کے راجوں شکست فاش دی۔ پھر فتح محمد خاں نے فتح پور آباد کیا۔ اور عبد الحمید خاں نے حمید پور آباد کیا دونوں گاؤں میں دو میل کا فاصلہ ہے۔

تال نرجا ایک قدرتی تالاب ہے جس کےشمالی ساحل پر فتح پور آباد ہے اور مغربی ساحل پر حمید پور آباد ہےاور جنوبی ساحل پر نظام الدین پور وغیرہ کئی آبادیاں ہیں۔

فتح پور خالص بٹھانوں کی آبادی ہے۔ البتہ ان زمیندار پٹھانوں نے مچھلی کا شکار کرنے کے لیے ملاحوں کو آباد کیا اور کچھ تیلی وغیرہ بھی آباد کیے۔

ولادت
اس فتح پر تال نرجا میں شب آشورہ ۱۰؍محرم الحرام ۱۳۵۲ھ میں حضرت علامہ مفتی احمد جہانگیر خاں رضوی اعظمی کی ولادت باسعادت ہوئی۔ محمد نام رکھا گیا اور عرف جہانگیر قرار پایا اور تخلص احمد اختیار فرمایا۔

والد ماجد
مفتی جہانگیر خاں کے والد ماجد کا اسم گرامی فصاحت حسیں خاں ہے جناب فصا حت حسین اشرفی جیلانی قدس سرہٗ کے مرید تھے اور ایسے پابند جماعت تھے کہ پنج وقتہ اذان خود کہتے تھے اگر قتفاق سے کسی دن دوسرے شخص نے اذان کہہ دی تو سخت ناراض ہوتے۔

بچپن کے حالات
جناب فصاحت حسین خاں کی اولاد میں سات بیٹوں اور چار بیٹیوں کے بعد مفتی جہانگیر سب سے چھوٹے فرزند ہیں۔ والد محترم اس قدر محبت و شفقت فرماتے کہ بازار سے جب کوئی میٹھا وغیرہ نیاز وفاتحہ کے لیے لاتے یایوں ہی بچوں کےلیے پھل وغیرہ لاتے تو تین سالکی عمر ہوجانے کے بعد اپنے اسی چھوٹے صاحبزادے کو تقسیم کا حکم فرماتے اور م فتی جہاں گیر خاں کا نام محمد ہونےکی وجہ سے آپ کے سب بھائی بہن بھی پیار ومحبت سے یہی چاہتےکہ مفتی جہانگیر خاں کے ہی مبارک ہاتھوں سے ہم کو یہ تبرک ملے۔ چنانچہ اس ننھی سی عمر میں ایسے عدل وانصاف سے تقسیم فرماتے کہ کسی کا حصہ کم وبیش نہ ہوتا۔ اسی بناء پر سب لوگ آپ کو جہانگیر عادل کےنام سےپکارنے لگے۔

رسم بسم اللہ خوانی
چار برس چار ماہ چار دن کی عمر ہونے پر مجلس بسم اللہ شریف منعقد ہوئی۔ اس کے بعد والد محترم ہمیشہ اپنے ساتھ مسجد لے جاتے۔ مفتی جہانگیر خاں فرماتے ہیں ‘‘والد صاحب کی برکت سے جہانگیر عادل بھی جماعت سے نماز پڑھنے کا پابند ہوگیا’’۔

تعلیم وتربیت ا ور اساتذہ
ابتدائی تعلیم حضرت مولانا حافظ علیم اللہ خاں نقشبندی علیہ الرحمہ سے پائی۔ قرآن کریم ناظرہ پڑھنے کے بعد حفظ بھی انہیں سے شروع کیا۔ لیکن حفظ کی تکمیل مدرسہ انوار العلوم قصبہ جین پور ضلع اعظم گڑھ میں جناب حافظ ریاض الدین اعظمی علیہ الرحمہ کی شفقت و محبت سے ہوئی۔

حافظ ریاض الدین مفتی جہانگیر خاں سے بے انتہا محبت فرماتے تھے۔ نماز کا وقت ہوتا تو خود نماز نہیں پڑھواتے تھے۔ مفتی جہانگیر الامر فوق ادب کے تحت نماز پڑھاتے۔ حفظ کی تکمیل کے دوران ہی حضرت مولانا بدرالدین [1] رضوی (مصنف سوانح اعلیٰ حضرت) دامت برکاتہم القدسیہ سے فارسی کیپہلی اور دوسری پڑھی پھر مولانا خلیل احمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ سے گلستان سعدی بوستاں سعدی، شرح مائتہ عامل اور ہدایۃ النحو تک کتابیں تین سال میں حفظ قرآن کریمکے ساتھ پڑھیں۔ پھر بریلی شریف حاضر ہوکر دارالعلوم مظہر اسلام میں داخلہ لیا لیکن جس اُستاد کے پاس مفتی جہانگیر خاں کے اسباق تھے وہ آپ کے ہم سبق طلبہ سے کہتے کہ ‘‘جو لڑکا جین پور سے آیا ہے۔ اس سےمیری صرفی ونحوی کمزوریاں دورہوجائیں گی’’ جب طلبہنے ان کا یہ مقولہ مفتی جہانگیر خاں سے کہا تو آپ نے ایک ہفتہ کے بعد دارالعلوم مظہر اسلام میں آنا چھوڑدیا۔ اور فوقانیہ کے مدسین کی خدمت کر کے خارج اوقات میں ان کی قیام گاہ پر پڑھنے لگے۔ مفتی جہانگیر خاں فرماتے ہیں کہ:

‘‘افقہ الفقہاء حضرت مولانا مفتی سید افضل حسین رضوی علیہ الرحمۃ سے بہت فیض پایا، نور الایضح پڑھنےکےزمانے میں در مختار، اور عالمگیری وغیرہ سےمسائل استخراج کرائے جب ہی سے فقہی بصیرت شروع ہوئی۔

باقی تعلیم الجامعۃ الاشفیہ مبارکپور میں ہوئی۔ اشرفیہ مبارکپور میں آپ متعلم بھی تھے اور معین المدرسین کی حیثیت سے معلم بھی۔

چنانچہ اسی زمانےمیں مفتی جہانگیر خاں کے فارسی کیپہلی اور دوسری کے اُستاذ حضرت مولانا بدر الدین رضوی نے مفتی جہاں گیر خاں سے شرح جامی اور تجوید و قرأت پڑھی ۔ مفتی جہانگیر خاں فرماتے ہیں کہ وہ مجھے سیدی کہتے جبکہ میں انہیں اُستاذی سے خطاب کرتا۔
1
شرکائے درس حدیث
حضرتمولانا بدر الدین رضوی کے شرکائ دسر دورۂ حدیث شریف نے بھی حضرت مفتی جہانگیر سے شرحج امی پڑھی۔ ان میں مشہور حضرات کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ حضرت مولانا مفتی سید حامد اشرف رضوی اشرفی کچھوچھوی صدر المدرسین دارالعلوم محمدیہ بمبئی

۲۔ حضرت مولانا کاظم علی شیخ الحدیث تدریس الاسلام بستی

۳۔ اسی دوران میں مندرجہ ذیل حضرات مفتی جہانگیر خاں سے کافیہ پڑھتے تھے

۴۔ شہزادۂ شیر بیشہ اہلسنت مناظر اسلام مولانا محمد مشاہد رضا خاں رضوی حشمتی پیلی بھیتی

۵۔ مولانا شمس اللہ حشمتی رضوی صدیقی بستوی

۶۔ حضرت مولانا نذیر پیلی بھیتی

۷۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن بستوی

۸۔ حضرت مولانا سید اظہار اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی

۹۔ حضرت مولانا سید جمیل اشرف اشرفی جیلانی

۱۰۔ مولانا حکیم نعیم الدین رضوی گور کھپوری صدر المدرسین دارالعلوم

مؤخر الذکر تینوں حضرات اس زمانہ میں شرح جامی بحث فعل کسی اُستاد کے پاس پڑھتے تھے۔ وہ اُستاد چھٹی پ گئے ہوئے تھے۔ یا انتظامی امور میں انہماک کی وجہ سے کچھ ایام درس بند کردیا تھا تو یہ تینوں حضرات مفتی جہانگیر خاں کے پاس کافیہ کے درس میں شریک ہوئے اور پھر ایسا تاثر ہواکہ شرح جامی بحت فعل ترک کر کے باقاعدہ کافیہ کے درس میں شریک ہوگئے۔

فراغت
حضرت مفتی جہانگیر خاں نے ۱۳۷۳ھ میں دارالعلوم شاہ عالم احمد آباد گجرات سے فراغت پائی اور سند فراغت سے سر فراز کیے گئے۔

فتویٰ نویسی
فتویٰ نویسی کی ابتداء زمانہ تعلیم میں ہی ہوگئی تھی۔ بریلی شریف کے قیام کےزمانہ میں بحر العلوم حضڑت مفتی سید افضل رضوی اور تاجدارِ اہلسنت اعطم حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان سے اصلاح لیتے۔

تاجدار اہلسنت حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ مفتی جہانگیر خاں کے اس بچپن کے افناء سے بہت خوش ہوتے اور صحت جواب پر دعائیں دیتے۔ مفتی جہانگیر خاں فرماتے ہیں کہ ان دعاؤں کی برکت ہمیشہ پاتا ہوں۔ پھر اشرفیہ مبارکپور میں حضرت حافظ ملت مولانا عبدالعزیز رضوی مراد آبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کے حکم سےفتویٰ نویسی میں بھی آپ کو حصہ ملا۔مفتی جہانگیر خاں معین المدرس کے ساتھ معین المفتی بھی تھے۔

اس کے بعد مفتی جہانگیر خاں دارالعلوم شاہ عالم احمد آباد میں بھی متعلم ہونے کے ساتھ مفتی ومدرس بھی تھے۔

بیعت
۱۳۶۴ھ میں حضرت صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی رضوی علیہ الرحمۃ سےبیعت ہوئے پھر وقتاً فوقتاً علم تصوف اور ہدایات سلوک بھی حضر صدر الشریعہ سے لیتے رہے۔

اجازت وخلافت
۱۳۶۷ھ میں جب حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان کا وصال حق ہوگیا تو ۱۳۷۰ھ میں تاجدار اہلسنت حجور مفتی اعظم قدس سرہٗ کی خدمت میں قلبِ مضطرب کو لیکر حاضر ہوئے اور حصولِ فیض کےلیے طالب ہوئے۔

حضرت مفتی اعطم قدس سرہٗ نےمفتی جہاں گیر خاں کو اجازت وخلافت سے سرفراز فرمایا۔ اور دوسری سند خلافت قلمی ۱۳۷۶ھ میں تاجدار اہلسنت حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ نے مفتی جہانگیر خاں کو عطا فرمائی۔

اساتذہ کرام
مفتی جہانگیر خاں کے مشہور اساتذہ کرام کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ صدر الشریعہ حضرت مفتی محمد امجد علی رضوی اعظمی نور اللہ مرقدہٗ (مصنف بہارشریعت)

۲۔ تاجدار اہلسنت حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ

۳۔ بحر العلوم حضرت مولانا مفتی سید محمد افضل حسین رضوی مونگیری علیہ الرحمہ

۴۔ حافظ ملت حضرت مولانا عبدالعزیز رضوی علیہ الرحمہ بانی جامعہ اشرفیہ مصباح العلوم مبرک پور

۵۔ شیخ العلماء حضرت مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی علیہ الرحمہ

۶۔ حضرت مولانا حافظ عبدالرؤف عزیزی اعظمی علیہ الرحمہ

۷۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ مجددی اعظمی علیہ الرحمہ

۸۔ حضرت مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری علیہ الرحمہ

اشاعت علوم اور درس تدریس
حضرت مفتی جہانگیر کی ذات بابرکت کے ذریعہ اشاعت علوم کا آغاز تو اشرفیہ مبارکپور اور دارالعلوم شاہ عالم گجرات میں زمانۂ طالب علمی میں ہی ہوچکا تھا۔ جیا کہ سطور بالا میں گزر چکا، مگر باقاعدہ مسند نشینی درس انوار العلوم قصبہ جین پور ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی۔

۱۳۷۵ھ کے اواخر میں مفسر اعظم ہند حضرت مولانا الشاہ محمد ابراہیم رضا بریلوی علیہ الرحمۃ نے دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں طلب فرمالیا۔ مفتی جہانگیر خاں از ۱۳۷۵ھ تا ۱۳۸۷ھ تقریباً بارہ سال مرکز اہلسنت منظر اسلام میں نائب صدر مدرس اور نائب مفتی کے منصب پر فائز رہے۔ اس بارہ سال کے عرصہ میں ہزاروں تشنگانِ علوم دینیہ آپ کی ذات بابرکت سے مستفید ہوئے۔

پھر ۱۳۸۸ھ میں دارالعلوم شاہ عالم احمد آباد (گجرات) تشریف لے گئے۔ ۱۳۸۹ء تک خدمت انجام دیتے رہے۔ ۱۳۹۰ھ میں اراکین مدرسہ انوار العلوم جبن پور کی دعوت پر دوبارہ تشریف لے گئے۔ تقریباً دو ۲ سال تک وہاں تدریسی خدمات انجام دیں۔
1
۱۳۹۱ھ اراکین انجمن تعلیم الاسلام اودے پور کی دعوت پر مفتی اہلسنت راجستھان کی حیثیت سے تشریف لے گئے۔ اور ۱۳۹۵ھ تک تقریباً پانچ سال وہاں فتویٰ نویسی کی خدمات انجام دیتے رہے۔ ۱۳۹۷ھ میںمدرسہ تدریس الاسلام ضلع بستی تشریف لے گئے۔ وہاں تقریباً ایک سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ ۱۳۹۸ھ میں ریحان ملت مولانا ریحان رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے دارالعلوم منظر اسلام میں بحیثیت شیخ الحدیث آپ کو بلالیا۔ ۱۳۹۸ھ کے آخر میں حضرت ریحان ملت علیہ الرحمہ سے رخصت لے کر بمبئی کے احباب مفتی اہلسنت بمبئی کی حیثیت سے مرکزی مینارہ مسجد لے گئے مفتی جہانگیر خاں ۱۳۹۹ھ سے ۱۴۰۱ھ تک مینارہ مسجد بمبئی میں رہے۔

چند تلامذہ
حضرت مفتی جہانگیر خاں کے تلامذہ کی فہرست بہت طویل ہے۔ مگر ان میں سےمشہورو معروف تلامذہ کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ ریحان ملت مولانا محمد ریحان رضا خاں بریلوی علیہ الرحمہ سابق مہتمم منظر اسلام بریلی شریف۔

۲۔ جانشین مفتی اعظم علامہ مفتی الشاہ محمد اختر رضا خاں ازہری قادری بریلوی مدظلہٗ

۳۔ محدث کبیر مولانا ضیاء المصطفیٰ امجدی رضوی شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور اعطم گڑھ

۴۔ مولانا زین الدین۔ شیخ الحدیث برہانپور

۵۔ مولانا مفتی غلام مجتبیٰ اشرفی صدر المدرسین جامعہ دیوان شاہ بھیمڑی

۶۔ مولانا منظر امام صدر لمدرسین جامعہ رضویہ سہسوان (بہار)

۷۔ مولانا عبدالحکیم مفتی جامعہ امجدیہ ناگپور

۸۔ مولانا غلام رسول صدر المدرسین بحر العلوم کھٹیہار (بہار)

۹۔ حضرت مولانا سید محمد عارف رضوی نانپاروی شیخ الحدیث دارالعلوم منظر اسلام بریلی

۱۰۔ حضرت علامہ مفتی سید شاہد علی رضوی شیخ الحدیث الجامعۃ الاسلامیہ رام پور

۱۱۔ مولانا قاری نحف علی قادری رضوی نائب شیخ الحدیث الجامعۃ الاسلامیہ رام پور

۱۲۔ مولانا محمد فاروق رضا رضوی، ناظم تعلیمات الجامعۃ الاسلامیہ رام پور

۱۳۔ مولانا عبد الجبار اعظمی امام العسکر کشمیر

خلفاء
حضرت مفتی جہانگیر خاں صاحب قبلہ مدظلہٗ العالی کے خلفاء میں مندرجہ ذیل اسماء گرامی قابل ذکر ہیں:

۱۔ مولانا عبدالودود صاحب گورکھپوری

۲۔ جناب سید نذر محمد جہانگیری

۳۔ حافظ عبدالکریم امام مسجدمیواہ فروش اودیپور

زیارت حرمین
حضرت مفتی جہانگیر خاں کی ۱۴۰۰ھ میں بمبئی ہی سے زیارت حج کے لیے بفضلہٖ تعالیٰ منظوری آگئی۔ از، ۱۴؍شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ تا ۲۵؍ذی الحجہ ۱۴۰۰ھ کا وقت سفر حج وزیارت حرمین شریفین میں گزار کے تین ماہ چار دن مدینہ منورہ میں قیام کیا اور روضۂ رسول مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کا شرف حاصل ہوا اور دربار گوہر بارسے بیشمار قلبی روحانی مسرتوں سے شادکامو سرفراز ہوئے۔

قطب مدینہ کی خدمت میں حاضری
مدینہ منورہ قطب مدینہ حضرت مولانا ضیاءالدین احمد مدنی رضوی (خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ) سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ مولانا ضیاء الدین احمد مدنی رضوی قدس سرہٗ نے اجازت وخلافت سے سر فراز فرماکر سند خلافت عطا فرمائی۔

مفتی جہانگیری خاں فرماتے ہیں:
‘‘ایک شب میں نے قطب مدینہ سے عرض کیا کہ حضور دعاء فرمائیں کہ میری موت مدینہ منورہ میں ہوا۔ اور جنت البقیع میں مدفون ہوجاؤں تو جلال آگیا۔ اور ارشاد فرمایا۔ نہیں تم جاؤ پھر جاؤ پھر آؤ، دس مرتبہ فرماکر کہا پھر مرو۔ ابھی تم سے ہندوستان میں بہت کام لینا ہے۔

تصنیفات وتراجم
حضرت مفتی جہانگیر خاں کی زندگی کا پہلا بڑ احصہ تدریس وتقریر اور افتاء سے متعلق رہا۔ اس لیے تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ نہ ہوسکے۔ کاش کوئی ادارہ تصنیف و تالیف مفتی جہانگیر خاں کی طرف متوجہ ہوتا کہ اخیر عمر شریف میں کچھ تصنیف کا کام ہوسکے۔ اب تک جو کام ہوا ہے اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

۱۔ ترجمہ، انباء الاذکیاء، فی حیات الانبیاء (مطبوعہ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف)

۲۔ خطبات جہانگیر (مطبوعہ قادری اکیڈمی شتر کانہ رام پور)

۳۔ نسیم الوردہ ترجمہ قصیدۂ بردہ (مطبوعہ مکتبہ المصطفیٰ بریلی شریف)

۴۔ ترجمہ المعتقد المنتقد، (غیرمطبوعہ)

۵۔ حق پر ہم ہیں روحق پر کون ہے؟ (غیر مطبوعہ)

۶۔ ترجمہ سورۂ فاتحہ (غیر مطبوعہ)

۷۔ اصول حدیث (عربی) (مطبوعہ رضا اکیڈمی رام پور)

۸۔ ترجمہ نور العین فی مشہد الحسین، تالیف امام ابو اسحاق اصفرائنی (مسودہ)

۹۔ ترجمہ قرۃ العین فی اخذثار الحسین، (مسودہ) [2]

زیارت حرمین شریفین کے مبارک موقع پر روضۃ الجنۃ میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سرہانے مبارک کی جانب بیٹھ کر ایک عالم فہم ترجمہ قران کریم اور ترجمہ خلاصۃ الوفاء شروع کیا۔ سورۂ فاتحہ کا ترجمہ وہیں بیٹھ کر مکمل کیا۔ یہ ابھی تک نا مکمل ہیں۔ رب کریم بوسیلۂ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان کاموں کی تکمیل کے اسباب مہیّا فرمائے۔ آمین۔

عقد مسنون
حضرت مفتی جہانگیر کا عقد مسنون ۱۳۷۲ھ میں دوران تعلیم ہوا۔
1
ایک اہم مناظرہ
یہ مناظرہ واکانیر میں ہوا تھا۔ جسکی کیفیت مسفر اعظم ہند مولانا محمد ابراہیم رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کی اورات میں نکلنے والا رسالہ ماہنامہ اعلیٰ حضرت (بریلی) میں درج ہے دھواھذا۔

‘‘جناب عبدالغفار چولا کا خط آیا کہ واکانیر میں مناظرہ ہے۔ ۲۳؍ مارچ ۱۹۶۳ء کو ملے ہوچکا ہے۔ وقت کم ہونے کے سبب مولوی برکت اللہ مبلغ منظر اسلام کو اور مفتی جہانگیر خاں کو جام نگرہ کاٹھیا واڑ بھیجا گیا۔ اگر چہ انہوں نے کوئی صرفہ آمد ورفت پیشگی نہیں روانہ کیا تھا۔ پھر بھی دارالعلوم منظر اسلام کی طرف سےیہ دونوں مبلغ مناظر ایسے طویل سفر پر دور دراز روانہ کیےگئے۔ بہر حال مناظرہ ہوا اگر چہ ہونا بہت دور کی بات تھی۔ کیونکہ لوگوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ مناظرہ بالکل مت کرو۔ صرف دھمکی دو۔ مگر انہوں نے سمجھا کہ شیر بیشۂ اہلسنت مناظر اعظم ہند مولانا مفتی حشمت علی خاں رضوی علیہ الرحمہ مرحوم ہوگئے۔ اور نبیرۂ اعلیٰ حضرت مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ کے آخری ایام ہیں (اس وقت آپ کی زبان بند ہوگئی تھی) مناظرہ کرے گا کون اس لیے گوریلا کیڑے کی طرح میدان میں آکودے۔ جب جہانگیر خاں نے مناظرہ شروع کیا ۔ ایک ایک تقریر کے بعد ہی میدان سے اس طرح بھاگے کہ ان کو میدان کی کوئی ضرورت نہیں کہ میدانہوگیا۔ اور میدان میں میدان نہیں بلکہ اپنے گھر پہنچ کر میدان (رفع حاجت) کرلیں گے۔ بلکہ راستہ میں ہوگیا ہوگا تو تعجب نہیں۔

ایک دیوبندی دوشیزہ نے کہا ہوگا۔ کہ بُرا ہوا اس مفتی جہانگیر خاں بریلوی نگوڑے کا کہ اپنا مولوی اس طرح بھاگا کہ ۔۔ ۔ خطا ہوگیا۔ میدان میں لکیریں بن گئیں۔ جیسے آتے کی بوری تو بات یہہے کہ شیخن جدی نے شیخ نجدی کو خوب پمپ کی اتھا۔ مفتی جہانگیر خاں نے اس کا منہ بند کیا اور اذان نعت میں اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدٌرَّسُوْلَاللہ اور قُرَّۃُ عینی بکَ یَا رَسُوْلَ اللہ کا نعرۂ مستانہ مارا تو انصرف الشیطان ۲۳۶ میلا لہٗ ضراطُ اس مناظرہ کا چرچا کاٹھیاواڑا میں بہت ہوا۔ جس کا یہ انجام ہوا کہ جابجا فتح کےجلسےہوئے [3]

نمونۂ کلام
حضرت مفی جہانگیر خان شعروشاعری سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ عرس رضوی کے مشاعروں میں اکثر شرکت فرماتے ہیں اور اپنا کلام بھی سُناتے ہیں۔ تخلص احمد فرماتے ہیں۔ چند اشعار درج ذیل۔

یارسول دلِ ناشاد ہے
آپ سے فریاد فریاد ہے

نفس نے برباد کر ڈالا
آہ کتنا ظالم و جلاّاد ہے

ہائے کیسے لوگ ظالم ہوگئے
ان کا تو بے دادگو یاداد ہے

آج کا صوفی ہے بندہ نفس کا
گویا وہ فرعون ہے شداد ہے

اس کی نفسیات اگر مانی نہیں
بس وہیں ویراں مرید آباد ہے

کہتا ہے روزے نمازے چیز کیا
وہ تو پہنچا سیدے خلد آباد ہے

ہاں وہ پہنچا ہے مگر سمجھے کہاں
نار دوزخ بھی تو خلد آباد ہے

آج لیڈر قوم کا ہے خوشنما
قول اس کا باد آباد ہے

قوم کیسی ہے وطن کیا چیز ہے
مل گئی کرسی جہاں آباد ہے

نیچری ، و رافضی ، چکڑالوی
سب کا مقصد ایک کُرف آباد ہے

دیوبندی بد عتوں کو کیا کہوں
گھر ہی کا پاؤ ڈر کیا کھاد ہے

یوں ہی تبلیغی جو اسکی شاخ ہے
ان کی اسلامی جماعت نام کی

بوریا ہے کیمیا وی کھاد ہے
مسلموں کو کر رہی برباد ہے

نفس کے لائق مسائل چھاپ کر
بو الہوس مسلم کو کر کے شاد ہے

خشخشی داڑھی کو جائز کردیا
اور سینما کو کیا آباد ہے

ساری گمراہی کے گُرگے مل گئے
اہل سنت کو کیا برباد ہے

یارسول اللہ دہائی آپ کی
ساری دنا طالب امداد ہے

ایک تمنا رہ گئی ہے الغیاث
دل کی اس سے ہی آباد ہے

موت آئے آپ کے قدموں تلے
سب کہیں احمدؔ کا دل اب شاد ہے [4]

[1] ۔ حضرت مولانا بدرالدین صاحب اس زمانے میں شرح وقایہ یا قدوری وغیرہ پڑھاتے تھے ۔

نوٹ:
حضرت مولانا حافظ علیم اللہ خاں صاحب حضرت مولانا شاہ محمد فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی علیہ الرحمہ کےمرید وخلیفہ اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کے شیدائی تھے ۱۲، رضوی غفرلہٗ

[2] ۔جہانگیر خاں، مفتی : نسیم الداوہ ترجمہ قصیدہ بردہ ص۲

[3] ۔ماہنامہ اعلیٰ حضرت (بریلی) ص ۳۳، ۳۴، ۳۵ ملحضاً بابت مئی ۱۹۶۳ء

(نوٹ) حوالہ جات کے علاوہمعلومات حیات جہانگیر از )علامہ مولانا سید شاہد علی رضوی رامپوری) سے ماخوذ ہیں،۱۲غفرلہٗ

[4] ۔مکتوب گرامی مولانا مفتی محمد جہانگیر خاں رجوی فتح پوری بنام اُستاد گرامی مولانا سید شاہد علی رضوی محدث رام پوری ۱۲، رضوی غفرلہٗ

https://t.me/islaamic_Knowledge/55278
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
یوم وصال 10 محرم الحرام 0060
یوم پیدائش 04 شعبان المعظم 0004

نواسۂ رسول، سید الشہدا، حضرت سیدنا ابو عبد اللہ امام حسین بن علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ  عنہما

نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ القاب: ولی، زکی، طیب، مبارک، ریحانۃ الرسول ﷺ ، سبط الرسول ﷺ ۔ شہید، سید، التابع المرضات اللہ ۔

سلسلہ نسب:
امام حسین بن امیر المؤمنین علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم۔

والدہ کی طرف سے امام حسین بن سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت پانچ شعبان المعظم /4 ھ، بمطابق 8/ جنوری 626ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

سیرتِ مبارکہ:
علم و عمل، زہد و تقوٰے، جود و سخا، شجاعت و قوت، اخلاق و مروّت، صبر و شکر، حلم و حیا وغیرہ صفات کمال میں بوجہ اکمل اور مہمان نوازی، غرباء پروری اعانتِ مظلوم، صلۂ رحم، محبتِ فقراء و مساکین میں شہرہ آفاق تھے ۔ پچیس حج پا پیادہ کیے، دن رات میں تین ہزار رکعت پڑھا کرتے تھے، اور کثرت سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے تھے۔ آپ اتنے با جمال تھے کہ جب تاریکی میں بیٹھتے تو آپ کی پیشانی اور رخساروں کی روشنی سے راستے منور ہو جاتے تھے۔ آپ سینہ سے لے کر پاؤں تک مشابہ بہ جسم رسول پاک ﷺ تھے ۔ (خزینۃ الاصفیاء:73)

فضائل و مناقب:
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"حسین منی  وانا من الحسین احب اللہ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط" ۔

ترجمہ:
حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص کو محبوب رکھتا ہے، جو حسین سے محبت رکھے، حسین (میری) اولاد میں سے ایک فرزند ارجمند ہے۔ (جامع ترمذی: 3774)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہم انی احبہ فاحبہ یعنی الحسین"۔
اے اللہ میں اس حسین سے محبت کرتاہوں ،تو بھی حسین سے محبت فرما۔ (مسند امام احمد بن حنبل: ج،5:105)

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hussain-bin-ali-al-murtaza
1
کون حسین:
سید الشہداء، راکب دوشِ مصطفٰی ﷺ، شہسوارِ کرب و بلا، شہزادہ گلگوں قبا، نواسہ امام الانبیاء، نورِ جانِ خیر النساء۔ پرتو شجاعت مرتضیٰ برادر حسنِ مجتبٰی امام عالی مقام حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ۔

آپ بلا شبہ سرخیل عابداں ہیں، اور ایسے عبادت گزار اور شب زندہ دار تھے۔ جو انتہائی بے کسی کے عالم میں بھی شبِ عاشورہ اپنے خیمہ میں خدائے لا یزال کی عبادت میں اس طرح گزاردی کہ دل میں خیال سو دو زیاں نہ تھا۔

حسین وہ عابد باکمال ہے جو اپنے جسم پر تیروں، تلواروں اور نیزوں کے ان گنت زخم کھانے کے باوجود بارگاہِ ایزد ی میں تپتی ہوئی ریت پر اپنی جبین کو سجدے میں رکھ کر نہایت پر سکوں دکھائی دے رہا تھا۔

ابن زہراء وہ محسن اسلام و انسانیت ہے جو بے سرو سامانی کے عالم میں کئی دن کی بھوک اور پیاس کے باوجود ہزاروں دشمنوں کے مقابلے میں تن تنہا ڈٹ گیا۔ اور تیروں کی بارش، تلواروں کے طوفانی وار اور نیزوں کی چمکتی ہوئی ہزاروں نوکیں، جس کے پائے استقامت میں لغزش نہ لاسکیں۔

نواسۂ رسول ﷺ، وہ قاری قرآن ہے، جس نے کوفے کے ستم کیش بازاروں میں، جفا کاروں کے جھر مٹ میں، اسلام کی شان و شوکت اور عظمت و وقار کا علم بلند کرتے ہوئے، جاں نثاروں کی طمانیت کی خاطر قرآن کی بڑائی اور آبرو کےلیے خون سے وضو کئے ہوئے، قرآن مجید کی اس طرح تلاوت فرمائی کہ مذہب کے چہرے پر نکھار آ گیا، شیطانوں کے دل بجھ گئے، بے ایمانوں کی دنیا اجڑ گئی، دنیاوی سلطانوں کے منصوبے خاک میں مل گئے۔۔۔۔

سر ترا نیزے پہ، جاری لب پہ قرآں واہ حسین
رو پڑے نوری یہ اندازِ تلاوت دیکھ کر

حسینیت و یزیدیت:
حضرت امام عالی مقام کی شہادت کا پہلا پیغام عملی جد و جہد کا پیغام ہے۔ محبت حسین رضی اللہ عنہ کو فقط رسمی نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اپنے عمل و حال و قال میں شامل کر لیا جائے اور اپنی زندگی کا مقصد بنایا جائے، یعنی معلوم کیا جائے کہ یزیدی کردار کیا ہے اور حسینی کردار کیا ہے۔یزید نے کھلم کھلا اسلام کا انکار نہیں کیا تھا اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی تھی، مسجدیں بھی مسمار نہیں کی تھیں۔ وہ بھی اسلام کا نام لیتا تھا۔یزیدی کردار یہ ہے کہ مسلمان بھی ہو اور اسلام سے دھوکہ بھی کرے۔ نام اسلام کا لے اورعمل کافروں والاہو۔ اسلام اور مسلمانوں سے دھوکہ و فریب یزیدیت کا نام ہے۔ یزید ہر دور میں میں ہوتا ہے۔ صرف چہرے بدلتے ہیں، کردار ایک ہی ہوتا ہے۔

حقیقت ِابدی ہے مقام شبیری بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی پہلے حسینی کردار کی تجلی اپنے اندر پیدا کرو، سیرت حسین کو اپنے سینے پہ سجالو، پھر اس قوت حسینی سے یزیدی کردار کی مخالفت اور اس کا مقابلہ کرو۔ یزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کردو۔ اس کے لیے اگرچہ تمہیں مال، جان، اور اپنی اولاد کی قربانی ہی کیوں دینا پڑے۔ یزیدیت کامقدرشکست ہے،اس کیلئے صرف جذبۂ صادق چاہیے۔

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تاریخِ شہادت:
بروز جمعۃ المبارک، 10 محرم الحرام 60ھ، بعض مؤرخین نے 61ھ بھی لکھی ہے، بمطابق اکتوبر/679ء کو مقامِ کربلا پر سجدے کی حالت میں جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کا مزار پرانوار "کربلا" عراق میں ہے۔

(آپ کے ساتھ بہتر 72 دوسرے جاں نثار بھی شہید ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ آپ کے بھائی، بھتیجے، اور دوسرے عزیز بھی تھے جو بھوکے پیاسے اور بے سروسامانی میں آپ کے ساتھ ہی شہید ہوئے۔)

ماخذ و مراجع:
تاریخ الخلفاء ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔ آل رسول ﷺ ۔ مسندِ امام احمد ۔ جامع ترمذی ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-hussain-bin-ali-al-murtaza
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
سبط رسول اللہ ﷺ، ریحانۃ الرسول ﷺ، سلطان کربلا، سید الشہداء، امام عالی مقام، حضرت ابو عبد اللہ سیدنا امام حسین بن علی المرتضی رضی اللہ عنہما کی ولادت باسعادت 5 شعبان المعظم 4ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ حضور پرنور سید عالم نور ﷺ نے آپ کا نام ’’حسین‘‘ رکھا اور آپ کو اپنا بیٹا فرمایا۔ آپ نواسۂ رسول، نور عین فاطمہ بتول، جگر گوشۂ علی المرتضی اور پیکر صبر و رضا تھے۔ آپ عبادت، زہد، سخاوت، شجاعت، شرم و حیا اور اخلاق کے اعلی درجے پر فائز تھے۔ کثرت سے نمازیں پڑھتے یہاں تک کہ دن اور رات میں ہزار رکعت نوافل ادا فرمايا كرتے، روزے رکھتے، حج کرتے، صدقہ و خیرات کرتے اور تمام بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہتے۔ مروی ہے کہ آپ نے 25 حج پیدل کیے۔ آپ نے راہ حق میں سب کچھ لٹا دیا لیکن باطل کے سامنے سر نہ جھکایا اور 10 محرم الحرام 61ھ کو کربلائے معلی، کوفہ، عراق میں جام شہادت نوش فرمایا۔ بوقت شہادت عمر مبارک 56 سال پانچ ماہ پانچ دن تھى۔ یقیناً یہ آپ کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام زندہ ہے۔ (اسد الغابة، معجم الصحابة، تاریخ دمشق، سیر اعلام النبلاء)

Sultan of Karbala, Leader of Martyrs, Exalted Imam, Abu Abdullah Sayyiduna Imam Husayn bin Ali al-Murtada (RadiyaAllahu Anhuma) was born on 5 Sha’ban 4 AH in Madinah Munawwarah. The beloved Prophet ﷺ named him ‘‘Husayn’’ and called him his son. He was the grandson of the beloved Prophet, Coolness of the eyes of Sayyidah Fatimah Batool and Mawla Ali al-Murtada, and an epitome of patience and contentment. He possessed a great degree of devotion, asceticism, generosity, courage, modesty, and morality. He would offer prayers frequently to the extent that he would perform a thousand rak’ats of Nawafil in a day and night; observe fasts, give alms, and be at the forefront of all good deeds. It is narrated that he performed Hajj 25 times on foot. He laid down everything in the path of truth but did not bow before falsehood, and was martyred on 10th Muharram, 61 AH, in Karbala, Kufa, Iraq. He was 56 years, 5 months, and 5 days old at his martyrdom. It is indeed the result of his sacrifices that Islam is alive today. [Usd al-Ghaabah, Mu’jam as-Sahabah, Tarikh Dimashq, Siyar A’laam an-Nubala]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid024Bzh2SBXSKjQJeDyF5qMffzTd6yECnRSR7qBfGM2Z4MeUi7hY6FwpQT7dripTyNul&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍31
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍31