🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-01-1445 ᴴ | 28-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-01-1445 ᴴ | 28-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-01-1445 ᴴ | 28-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-01-1445 ᴴ | 28-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3
استاذ الاساتذہ ، حضرت علامہ مفتی محمد احمد جہانگیر خاں رضوی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

https://t.me/islaamic_Knowledge/55278

فتح پور تال نرجا ضلع اعظم گڑھ یو۔ پی میں ایک قدیم آبادی ہے۔ کہتے ہیں کہ اکبر بادشاہ کے دورِ حکومت میں فتح محمد خاں نے اپنے بھائی عبد الحمید خاں کے ساتھ مل کر ان اطراف کے راجوں شکست فاش دی۔ پھر فتح محمد خاں نے فتح پور آباد کیا۔ اور عبد الحمید خاں نے حمید پور آباد کیا دونوں گاؤں میں دو میل کا فاصلہ ہے۔

تال نرجا ایک قدرتی تالاب ہے جس کےشمالی ساحل پر فتح پور آباد ہے اور مغربی ساحل پر حمید پور آباد ہےاور جنوبی ساحل پر نظام الدین پور وغیرہ کئی آبادیاں ہیں۔

فتح پور خالص بٹھانوں کی آبادی ہے۔ البتہ ان زمیندار پٹھانوں نے مچھلی کا شکار کرنے کے لیے ملاحوں کو آباد کیا اور کچھ تیلی وغیرہ بھی آباد کیے۔

ولادت
اس فتح پر تال نرجا میں شب آشورہ ۱۰؍محرم الحرام ۱۳۵۲ھ میں حضرت علامہ مفتی احمد جہانگیر خاں رضوی اعظمی کی ولادت باسعادت ہوئی۔ محمد نام رکھا گیا اور عرف جہانگیر قرار پایا اور تخلص احمد اختیار فرمایا۔

والد ماجد
مفتی جہانگیر خاں کے والد ماجد کا اسم گرامی فصاحت حسیں خاں ہے جناب فصا حت حسین اشرفی جیلانی قدس سرہٗ کے مرید تھے اور ایسے پابند جماعت تھے کہ پنج وقتہ اذان خود کہتے تھے اگر قتفاق سے کسی دن دوسرے شخص نے اذان کہہ دی تو سخت ناراض ہوتے۔

بچپن کے حالات
جناب فصاحت حسین خاں کی اولاد میں سات بیٹوں اور چار بیٹیوں کے بعد مفتی جہانگیر سب سے چھوٹے فرزند ہیں۔ والد محترم اس قدر محبت و شفقت فرماتے کہ بازار سے جب کوئی میٹھا وغیرہ نیاز وفاتحہ کے لیے لاتے یایوں ہی بچوں کےلیے پھل وغیرہ لاتے تو تین سالکی عمر ہوجانے کے بعد اپنے اسی چھوٹے صاحبزادے کو تقسیم کا حکم فرماتے اور م فتی جہاں گیر خاں کا نام محمد ہونےکی وجہ سے آپ کے سب بھائی بہن بھی پیار ومحبت سے یہی چاہتےکہ مفتی جہانگیر خاں کے ہی مبارک ہاتھوں سے ہم کو یہ تبرک ملے۔ چنانچہ اس ننھی سی عمر میں ایسے عدل وانصاف سے تقسیم فرماتے کہ کسی کا حصہ کم وبیش نہ ہوتا۔ اسی بناء پر سب لوگ آپ کو جہانگیر عادل کےنام سےپکارنے لگے۔

رسم بسم اللہ خوانی
چار برس چار ماہ چار دن کی عمر ہونے پر مجلس بسم اللہ شریف منعقد ہوئی۔ اس کے بعد والد محترم ہمیشہ اپنے ساتھ مسجد لے جاتے۔ مفتی جہانگیر خاں فرماتے ہیں ‘‘والد صاحب کی برکت سے جہانگیر عادل بھی جماعت سے نماز پڑھنے کا پابند ہوگیا’’۔

تعلیم وتربیت ا ور اساتذہ
ابتدائی تعلیم حضرت مولانا حافظ علیم اللہ خاں نقشبندی علیہ الرحمہ سے پائی۔ قرآن کریم ناظرہ پڑھنے کے بعد حفظ بھی انہیں سے شروع کیا۔ لیکن حفظ کی تکمیل مدرسہ انوار العلوم قصبہ جین پور ضلع اعظم گڑھ میں جناب حافظ ریاض الدین اعظمی علیہ الرحمہ کی شفقت و محبت سے ہوئی۔

حافظ ریاض الدین مفتی جہانگیر خاں سے بے انتہا محبت فرماتے تھے۔ نماز کا وقت ہوتا تو خود نماز نہیں پڑھواتے تھے۔ مفتی جہانگیر الامر فوق ادب کے تحت نماز پڑھاتے۔ حفظ کی تکمیل کے دوران ہی حضرت مولانا بدرالدین [1] رضوی (مصنف سوانح اعلیٰ حضرت) دامت برکاتہم القدسیہ سے فارسی کیپہلی اور دوسری پڑھی پھر مولانا خلیل احمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ سے گلستان سعدی بوستاں سعدی، شرح مائتہ عامل اور ہدایۃ النحو تک کتابیں تین سال میں حفظ قرآن کریمکے ساتھ پڑھیں۔ پھر بریلی شریف حاضر ہوکر دارالعلوم مظہر اسلام میں داخلہ لیا لیکن جس اُستاد کے پاس مفتی جہانگیر خاں کے اسباق تھے وہ آپ کے ہم سبق طلبہ سے کہتے کہ ‘‘جو لڑکا جین پور سے آیا ہے۔ اس سےمیری صرفی ونحوی کمزوریاں دورہوجائیں گی’’ جب طلبہنے ان کا یہ مقولہ مفتی جہانگیر خاں سے کہا تو آپ نے ایک ہفتہ کے بعد دارالعلوم مظہر اسلام میں آنا چھوڑدیا۔ اور فوقانیہ کے مدسین کی خدمت کر کے خارج اوقات میں ان کی قیام گاہ پر پڑھنے لگے۔ مفتی جہانگیر خاں فرماتے ہیں کہ:

‘‘افقہ الفقہاء حضرت مولانا مفتی سید افضل حسین رضوی علیہ الرحمۃ سے بہت فیض پایا، نور الایضح پڑھنےکےزمانے میں در مختار، اور عالمگیری وغیرہ سےمسائل استخراج کرائے جب ہی سے فقہی بصیرت شروع ہوئی۔

باقی تعلیم الجامعۃ الاشفیہ مبارکپور میں ہوئی۔ اشرفیہ مبارکپور میں آپ متعلم بھی تھے اور معین المدرسین کی حیثیت سے معلم بھی۔

چنانچہ اسی زمانےمیں مفتی جہانگیر خاں کے فارسی کیپہلی اور دوسری کے اُستاذ حضرت مولانا بدر الدین رضوی نے مفتی جہاں گیر خاں سے شرح جامی اور تجوید و قرأت پڑھی ۔ مفتی جہانگیر خاں فرماتے ہیں کہ وہ مجھے سیدی کہتے جبکہ میں انہیں اُستاذی سے خطاب کرتا۔
1