🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
*متنازعہ شہریت قانون کے خلاف علما ومشائخ کے اقدامات*
قسط -2

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com

متنازعہ شہریت قانون(caa) کو پاس ہوئے آدھا مہینہ گزر چکا ہے لیکن عوام کا غصہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے.ایمرجینسی کے بعد غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ جب حکومت کے خلاف اتنی شدت سے احتجاج کئے جارہے ہیں. اس سلسلے میں علما ومشائخ کی جانب سے بھی مسلسل اقدامات کئے جارہے ہیں.
🔸تنظیمی سطح پر رضا اکیڈمی ممبئی نے12 دسمبر کو اس قانون کی مخالفت میں صدر جمہوریہ کو مخالفتی مکتوب لکھا.13 دسمبر کو سنی بڑی مسجد مدنپورہ ممبئی کے باہر سنی جمعۃ العلما اور ایم آئی ایم کے ساتھ مل کر مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا. جس میں رضا اکیڈمی کے چیئرمین الحاج سعید نوری،فیاض خان وغیرہ نمایاں تھے.اس کے بعد16 دسمبر کو چیف جسٹس کے نام ایک کھلا خط لکھا اور 19 دسمبر کو حضرت سید معین اشرف میاں کی قیادت میں علما کرام نے بطور احتجاج گرفتاری دی جس میں چیئرمین رضا اکیڈمی بھی شریک تھے. ساتھ ہی ممبئی کے مختلف علاقوں کے ائمہ بھی بڑی تعداد میں موجود رہے.
🔸21 دسمبر کو درگاہ اعلی حضرت پر مسجد رضا کے باہر عوامی مظاہرہ کیا گیا. درگاہ کے سجادہ نشین مولانا احسن رضا قادری نے کہا شہریت قانون کسی طور پر قبول نہیں کیا جائے گا. جب تک حکومت یہ قانون واپس نہیں لیتی احتجاج جاری رہے گا.
🔸اسی تاریخ میں قصبہ ککرالہ ضلع بدایوں میں مولانا رفاقت ثقلینی نعیمی کی قیادت میں احتجاج کیا گیا. جس میں قصبے کے ہزاروں افراد نے شرکت کی.نمایاں افراد میں الحاج ممتاز ثقلینی،مفتی فہیم ثقلینی مفتی انوار ندوی وغیرہ شریک تھے.
🔸21 دسمبر کو مرادآباد میں ہونے والا احتجاج ایک مثالی اور زبردست اجتجاج تھا جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق قریب چھ لاکھ(600000) کا مجمع تھا. تعجب کی بات یہ تھی کہ یہ سارا مجمع بغیر کسی قائد کے جمع ہوا تھا. ایسا نہیں ہے کہ شہر میں کوئی دینی وسیاسی قائد نہیں ہے لیکن سیاسی قائد ڈاکٹر ایس ٹی حسن (ممبر آف پارلیمنٹ مرادآباد) نے احتجاج کی کال پولیس کے دباؤ میں واپس لے لی اور مذہبی قائدین آج کل پر ٹالتے رہے جس کے باعث عوام خود ہی میدان میں اتر آئی اور جامع مسجد پارک میں گھنٹوں تک حکومت کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا. اس احتجاج میں جامعہ نعیمیہ کے طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک تھے.
🔸اسی تاریخ میں رامپور اور ضلع کی پانچوں تحصیلوں میں پولیس انتظامیہ کی منظوری کے بعد احتجاج کی کال دی گئی تھی.لیکن 20 دسمبر کی رات میں ضلع انتظامیہ نے قاضی شرع رامپور مولانا سید واجد علی عرف فیضان میاں، فرحت احمد جمالی سجادہ نشین حافظ شاہ جمال اللہ، شہر امام مولانا محبوب علی وغیرہ کو بلا کر احتجاجی کال واپس لینے کا دباؤ بنایا،انکار کرنے پر ہلٹرشاہی دکھاتے ہوئے رات ہی کو مذکورہ افراد کو گھروں پر ہی نظر بند کردیا گیا.رات کی سیاہی میں ہی پولیس نے شہر واطراف میں احتجاج ملتوی ہونے کا اعلان کرایا.حالانکہ شہر کی عوام بڑی تعداد میں باہر نکلی اور عیدگاہ میدان کی جانب چل پڑی جہاں پولیس کی سختی سے مجمع میں افراتفری پھیل گئی اور پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے برسائے. جس سے سیکڑوں افراد زخمی ہوئے،اور پولیس کی گولی سے ایک نوجوان شہید بھی ہوا. حالات بگڑتے دیکھ کر پولیس انتظامیہ نظر بند علما کو مظاہرین کے درمیان لائی اور ان کی گزارش پر احتجاجی مظاہرین واپس ہوئے.
🔸21 دسمبر کو پرگنہ سوار، رامپور میں مولانا صابر علی خان اور قاری شبن خان کی قیادت میں عید گاہ میدان میں احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی تھی.لیکن انتظامہ نے 20 دسمبر کی رات میں ہی جگہ بدلنے کی گزارش کی اور یہ احتجاج جامع مسجد کے باہر ہوا. نمایاں افراد میں مولانا فراغ احمد نعیمی، مولانا عبدالرحمٰن نعیمی ،مولانا یوسف نعیمی، مولانا فیضان احمد وغیرہ موجود تھے.
🔸 21 دسمبر کو کھجوری کالونی دہلی میں مولانا صوفی اشفاق نوری میاں جانی(صدر حلقہ تحریک فروغ اسلام) نے کالونی میں احتجاجی ریلی نکالی. ریلی میں ہزاروں افراد شریک تھے. عیدگاہ میدان میں ریلی کا اختتام ہوا.
🔸21 دسمبر کو ہی مرادآباد میں مجلس علمائے ہند کے صدر مفتی عبدالمنان کلیمی نے پریس کانفرنس کرکے حکومت سے قانون واپس لینے کی اپیل کی.
🔸22 دسمبر کو مدرسہ زینت الاسلام گووَنڈی(ممبئ) میں تحریک علمائے اہل سنت کی میٹنگ میں احتجاجی مظاہرین پر پولیسیا تشدد کی پرزور مذمت کی گئی. بزرگ عالم دین مولانا محمود عالم رشیدی نے کہا کہ، "CAA قانون مودی، شاہ کی ہٹلرشاہی کا نتیجہ ہے. جس کی وجہ سے اب تک درجنوں موتیں ہوچکی ہیں."
نمایاں افراد میں مولانا عبدالحنان نعیمی اشرفی، مولانا محمود علی خان، مولانا نظام الدین رضوی، مولانا جہانگیر القادری،قاری رجب علی اور قاری سلیمان رضوی،مولانا عثمان اشرف،مولانا عبدالحفیظ علیمی مانخورد ،وغیرہ شریک تھے.
🔸22 دسمبر کو سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کی درگاہ سے شہریت قانون
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسلمانوں کی داستان شجاعت

اللہ نے مسلمانوں کو جو مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے وہ کسی کو بھی نہیں ملا۔۔۔ یہ مسلمان ہی تھا جو سمندروں پر اپنے گھوڑوں کو دوڑا دیا کرتا تھا۔۔۔۔یہ مسلمان ہی تھا جو دشمنوں کو للکار کر اپنے ہجرت کی خبر دیتا تھا اور اس کے چیلینج سے کفار کانپ جاتے تھے۔۔۔۔ آج مسلمانوں کو کیا ہوگیا ہے؟؟ کیوں اتنے بزدل بن گئے ہیں؟؟ وہ کونسی وجہ ہے جسے دور کرنا آج سخت ضرورت ہے۔۔۔

ضرور سماعت کریں اور اپنے جوش ایمانی کو واپس لانے کی کوشش کریں

https://youtu.be/gZ1HLz4nLQo

ترسیل:
ادارۂ اصحاب صفہ، مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#احتجاجی_تشدد_پر_دوہرا_سلوک_کیوں؟

غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
#روشن مستقبل دہلی
gmnaimi@gmail.com

حقوق انسانی کے عالمی منشور میں حقوق اقلیت(Rights of minorities) میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ،
"سارے انسان وقار اور حقوق میں برابر ہیں."
ہمارے ملک میں بھی دستور ہند کے بنیادی حقوق کے تحت اقلیتوں کے مذہب،زبان اور نسل وتعلیم کی حفاظت برابری کا اعلان کیا گیا ہے. قانون کی رو سے حکومت کسی بھی طرح کا امتیاز نہیں کر سکتی.اسی لئے ملک کے حکمران ہوں یا عہدے داران، دستور(constitution)
پر حلف اور دستور کی حفاظت کا عہد لیتے ہیں.لیکن آزادی کے بعد سے ہی ملک میں نفاذِ قانون پر دوہرا معیار اپنایا گیا. قوانین کا اطلاق اقلیت واکثریت کے پیمانے پر ہوتا رہا. یہاں تک کہ اقلیتیں اور خصوصاً مسلمان ہر میدان میں اسی امتیازی تفریق کا شکار ہوتے رہے نوبت یہاں تک آگئی کہ اب حکومتی اہلکار کھلے عام ظلم وزیادتی پر اتر آئے ہیں.حالیہ وقت میں متنازعہ شہریت قانون سی اے اے (CAA) کے خلاف ملک کی عوام نے بلا تفریق مذہب احتجاج کیا. احتجاجی دائرہ جب مسلم اکثریتی علاقوں میں پہنچا تو کئی احتجاجی مظاہرے پر تشدد ہوگئے. جس میں جان ومال کے ضیاع کے ساتھ عوامی املاک کا بھی نقصان ہوا.
یہ بات بھی نوٹ کئے جانے لائق ہے کہ جن صوبوں میں غیر بی جے پی پارٹیاں بر سرِ اقتدار ہیں وہاں لاکھوں افراد کے مظاہرے بھی پر امن اور تشدد سے پاک رہے لیکن بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں محض سو دو سو افراد کے مظاہرے بھی تشدد کی زد میں آگئے.پر تشدد مظاہروں میں اتر پردیش سرِ فہرست ہے. صوبے کے دارالحکومت لکھنؤ سمیت سنبھل، نہٹور(بجنور) مظفر نگر، رامپور ، امروہہ ، ہاپوڑ ، علی گڑھ ، میرٹھ ، کانپور وغیرہ میں جم کر تشدد ہوا. اسی تشدد کا سہارا لیکر پولیس انتظامیہ نے کھل پر مذہبی تعصب اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس کے باعث قریب 20 افراد شہید ہوگئے. ظلم پر ظلم یہ کہ مسلمانوں پر ہی دنگا وفساد کے مقدمہ دائر کرکے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا. اب انہیں مظلوموں پر عوامی املاک کی بربادی کا الزام لگا کر ہرجانہ وصولی کے نوٹس جاری کئے جارہے ہیں.

*چند بڑے احتجاجی تشدد*

بھارت میں احتجاجی مظاہروں کا پر تشدد ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ہے. بلکہ بھارت کی کچھ قوموں کے احتجاج کا مطلب تشدد اور لوٹ مار ہی ہوتا ہے. لیکن چونکہ اُن سب مظاہرین کا تعلق ہندو قوم سے ہوتا ہے اِس لئے لاکھوں کروڑوں کا نقصان اور پولیس کا جَم کر پِٹنا بھی میٹھی گولی کی طرح ہضم کر لیا جاتا ہے.لیکن اگر مظاہرین مسلمان ہوں تو یہی پِٹی ہوئی پولیس ایک دم سے بہادر ہوجاتی ہے. ایک نظر پچھلے چند سالوں کے احتجاجی مظاہروں پر ڈالتے ہیں تاکہ موجودہ احتجاجی تشدد پر واویلا مچانے والوں کا اصلی چہرہ سامنے آسکے !!
🔸مئی 2015ء میں راجستھان کی گوجر برادری نے رِیزَرویشن کی مانگ کو لیکر احتجاج شروع کیا. ان مظاہرین نے ریلوے ٹریک اور بس اڈوں پر سات دنوں تک قبضہ جمائے رکھا.208 ٹرینیں رد کی گئی 141 ٹرینوں کے روٹ بدلے گئے. جس کے باعث قریب 200 کروڑ کا نقصان ہوا.
🔸فروری 2016ء میں ہریانہ کے جاٹوں نے ریزرویشن کو لیکر احجاج شروع کیا. امیدوں کے مطابق احتجاج تشدد میں بدل گیا.
🔸7 ریلوے اسٹیشنوں کو تباہ کردیا گیا، جس کے باعث 800 ٹرینیں رد کرنا پڑیں.
🔹کئی بس اڈوں اور سرکاری دفتروں میں آگ لگادی گئی. سڑکوں کو کھود کر گڈھے بنا دئے گئے.
🔹1000 سے زیادہ گاڑیاں 500 سے زائد دکانیں نذر آتش کردی گئیں. کئی شاپنگ مالس میں آگ لگائی گئ.
🔸بھارت پاکستان کے مابین چلنے والی سمجھوتا ایکسپریس کو روکا گیا.
🔹سونی پت میں مال گاڑی میں آگ لگائی گئی.
🔸جیند میں سابق وزیر ستیہ ناراین کے ساتھ مارپیٹ کی گئی.
🔹گنور ایس ڈی ایم (SDM) کی گاڑی کو آگ لگائی گئی.
🔸دہلی کو پانی سپلائی کرنے والی منف نہر کو بند کردیا گیا. جسے آرمی نے جاکر کھلوایا.
🔹مسافروں کے ساتھ لوٹ مار اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی تک واقعات ہوئے لیکن حکومت وانتظامیہ کانوں میں تیل ڈالے سوتی رہی.
🔹رام رجیم نامی بابا کو زنا وقتل کیس میں سزا سناتے ہی ڈیرا بھکتوں کے احتجاج میں جم کر بوال ہوا.
🔸آج تک اور ٹائمز ناؤ نیوز چینل کی اوبی وین پھونک دی گئیں.
🔹پنجاب کے مانسا اور ملوٹ ریلوے اسٹیشن پر آگ لگا دی گئی جس کے باعث فیروزپور ڈویژن کی 124 ٹرینیں رد ہوئیں.
🔸فاضلکا اسٹیشن پنجاب میں فیروزپور ڈپو کی بس کو نذر آتش کیا گیا.
🔹سَنگرُور میں بجلی گھر کو ہی آگ لگا دی گئی.
🔸پَنچکُولہ ہریانہ میں 100 سے زیادہ گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی.
*ذرا سوچیں !!*
*ہفتے بھر تک گوجر مظاہرین ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر اودھم مچاتے رہے.*
*9 دنوں تک جاٹ قوم کے فساد و آگ زنی کے واقعات میں قریب 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا. اس احتجاجی تشدد کے نقصان کی بھرپائی کے لئے ہریانہ حکومت نے "نیشنل ڈجاسٹر مینج مینٹ اتھارٹی"(NDMA)سے ایک ہزار ک
روڑ روپے کی امداد مانگی تاکہ عوامی املاک کی مرمت و تعمیر کرائی جاسکے.*
*رام رجیم کے ڈیرا بھکتوں نے ہفتوں تک سڑکوں پر تشدد مچایا.*
*ہفتوں تک عوامی نقل وحمل بند رہی ، سڑکوں کو کھودا گیا، اسٹیشنوں کو تباہ کیا گیا لیکن حکومت اور پولیس والوں کی ہمت نہیں ہوئی کہ مظاہرین کو قانون کی طاقت کا احساس کراتے لیکن یہ پولیس مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی بندوق سے بات کرتی ہے.اس پولیس کی بندوق اور ہمت نہتھے مسلمانوں پر کام کرتی ہے. حالانکہ اُس وقت ہریانہ وراجستھان اسی بی جے پی کی حکومت تھی مگر تب بی جے پی کو اپنا فرض،اور عوامی املاک کی تباہی کا خیال نہیں آیا !!*
لیکن یوپی اور دہلی میں اسی بی جے پی کے اشاروں پر پولیس کا انتہائی ظالمانہ چہرہ سامنے آیا. جس کے لئے تاریخ کبھی نہیں کرے گی.

*تشدد کی وجوہات اور پولیس کی سفاکیت*

آئین کی دفعہ(1)19 کے تحت حکومت کے کسی بھی قانون سے عدم رضامندی کا اظہار ہر بھارتی شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے. اس کا جمہوری طریقہ احتجاجی مظاہرہ بھی ہے. سی اے اے(CAA) مخالف مظاہرین میں عدم اعتماد اس وقت پیدا ہوا جب پولیس نے قریب تمام ہی اضلاع میں دفعہ 144 لگا کر ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی. جس کے باعث عوامی غصہ مزید بڑھ گیا. اس کے علاوہ کچھ اسباب یہ ہیں:
🔹احتجاجی جلوسوں کو جابجا روک کر پولیس اہلکاروں نے نہایت سخت زبانی اور بدکلامی کا مظاہرہ کیا،نتیجتاً مظاہرین اور پولیس میں ٹکراؤ ہوا.
🔸پر امن جلوسوں میں بعض ایسے اجنبی افراد بھی مظاہرین میں داخل ہوئے جنہوں نے تشدد کا آغاز کیا. ایک وائرل ویڈیو میں بی جے پی کے جھنڈے والی گاڑی سے مظاہرین پر پتھراؤ کیا گیا.جس سے مظاہرین بھڑک گئے.
🔸اکثر مقامات پر پولیس نے مظاہرین سے ذرا بھی انسانی لب و لہجہ میں بات نہیں کی بلکہ بدکلامی کرتے ہوئے "مقدمہ کرنے اور ہاتھ پیر توڑ دینے" جیسی غیر دستوری زبان استعمال کی. انہیں وجوہات کی بنا پر بعض مقام پر عوام بھی مشتعل ہوگئی. پولیس چاہتی تو بغیر نقصان پہنچائے بھی مظاہرین کو روک سکتی تھی لیکن نِہتھے اور کمزور مسلمانوں کو دیکھ کر پولیس نے سیدھا لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گولیوں کا استعمال کیا. اب اس بہادر پولیس نے 498 لوگوں کو نامزد کرکے قریب 74 لاکھ روپے کی ریکوری کے نوٹس بھیجے ہیں.
ایک طرف جاٹوں کے تشدد میں 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا لیکن ہریانہ کی بی جے پی حکومت اور بہادر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن مسلمانوں کے سامنے آتے ہی حکومت وپولیس کو قانون قاعدے بھی یاد آگئے اور نہتھے مسلمانوں پر بہادری دکھانے کا جذبہ بھی واپس آگیا.پولیس کی سفاکیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ صرف مظفر نگر میں پولیس نے قریب 30 گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور قریب 50 سی سی ٹی وی(cctv) کیمرے توڑ دئے.
اب پولیس عوامی املاک کی بربادی کے لئے مظاہرین سے ہرجانہ وصول کرنا چاہتی ہے. لیکن جن مکانوں میں پولیس نے توڑ پھوڑ کی ہے ان کا ہرجانہ کون دے گا؟
جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے ہیں ان کے اہل خانہ کی تسلی کون کرے گا؟
آخر cctv کیمرے کس لئے توڑے گئے. کیا کیمروں میں اپنی کرتوتوں کے ریکارڈ ہونے کا ڈر تھا؟ کہانی تو کچھ یونہی دکھائی دے رہی ہے مگر انصاف پسند لوگوں کے لیے وہ ویڈیوز ہی کافی ہیں جو پبلک میں وائرل ہوئے ہیں، بس اب ضرورت یہ ہے کہ قوم مسلم(یا وہ مظلوم جن کے ساتھ یہ ہوا ہے) انکو محفوظ رکھیں اور کورٹ جانے کی تیاری کریں، اگر دوچار پولیس والوں کو ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اشاروں پر چلنے والی پولیس کو آدھا مفلوج کردیا، اگر اتنا نہ ہو تو کم از کم جب تک کیس کی سماعت ہورہی ہے ملازمت سے فارغ کردیے جائیں یہ بھی انکے لئے موت سے کم نہ ہوگا. ان ویڈیوز کو ان تحریکوں تک پہنچائیں جو ان معاملات میں پیش پیش ہیں، امید کا دامن تھامے رہیں کیونکہ
ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا
یہ ہیں فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا

3 جمادی الاول 1441ھ
30 دسمبر 2019 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کل تک مسلمان سارے عالم پر حکومت کرتا تھا کیونکہ اس کا ایمان اس بات سے اُسے بے پرواہ کردیتا تھا کہ اس کے بعد دنیا میں اس کے اہل و عیال کی دیکھ بھال کو ن کرے گا؟؟
کل کا نوجوان آقا کریم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر دشمنوں کے نرغے میں جاکر ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا اور فتح اس کی پیشانی چومتی تھی۔۔۔
آخر کیا وجہ ہے کہ شریعت پر پے درپے حملوں کے باوجود مسلمان نوجوان کا خون جوش نہیں مارتا۔۔۔۔
کیا ہم نے اپنے دلوں سے آقا کی محبت کو معاذ اللہ جدا تو نہیں کردیا؟؟
کیا ہمارا نوجوان دنیاو ی خواہشات کے تابع ہوکر اللہ سے بے خوف تو نہیں ہوگیا؟؟

ایک بار ضرور سماعت کریں مسلمانوں کے داستان شجاعت کی دوسری قسط اور اپنے دوستوں سے بھی شئیر کریں
https://youtu.be/GGPGCPaNyzw

ترسیل:
ادارۂ اصحاب صفہ، مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌺🌺🌺دعا🌺🌺🌺

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں،

سلطان نے کہا آگے کہو

جاسوس بولے کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر الفاظوں میں بیان نہیں کرپا رہے

سلطان نے کہا جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو

جاسوس بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ نفس کا جہاد افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے
جنگوں سے کیا ملا، صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول

سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کردیا کہ جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے ،

عالم نے کہا دعا کریں

سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہے

سلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس عالم کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا
اب سلطان نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں

پتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی، جسکا اس نے فائدہ اٹھایا
سلطان نے پایا کہ اسکے جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا، بڑی مشکل سے یہ فتنہ روکا جاسکا

مجھے لگتا ہے یہ سلطان کی خوش فہمی تھی ، فتنہ اس وقت بھی پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے، آخر کیوں لوگ اسلام کو بدھ ازم بنا دینا چاہتے ہیں ۔ جبکہ کھلی حقیقت ہے کہ ظالم کا سامنا کیئے بغیر ظلم کا مداوا ہوجائے یہ ممکن ہی نہیں
🌺🌺
N,R,C, ------ CAA
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
کربلا کا پیغام :
گھر میں نہ بیٹھو بے خوف ہو کر میدان میں آؤ ! حق کے لئے پوری ہمت سے لڑو ! اگر تم ہار بھی گئے - تو جیت تمہاری ہی ہوگی -
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
این آر سی ، سیٹیزن شپ بل ، بابری مسجد ، کشمیر ، تین طلاق ، ماب لنچنگ ، اور ہر طرح کی ظلم وزیادتی پر خاموش رہنے والوں کو آواز لگاتے ہوئے آنسو _
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سچ کی آواز
احتجاج کرنے والوں کا پیغام
ہر ایک ظالم کے نام ..........
--------------------------------------------
📝حضرت مولانا فریدی مصباحی
موبائل نمبر +968 9963 3908
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کر گئیں کیا پاسبانی جامعہ کی بیٹیاں
عزم و ہمت کی نشانی جامعہ‌کی‌بیٹیاں
تا ابد زندہ رہیں گی یہ مشاہد دیکھنا
لِکھ گئیں ایسی کہانی جامعہ‌کی‌بیٹیاں
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Musalmanon Ki Maujooda
Zillat wa Ruswayi Ka Sabab
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Huzoor TaajushShariah
Ki 58 Saal Puraani Tahreer
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مسلمانوں کی موجودہ
ذِلت و رسوائی کا سبب

اٹھاون ۵۸ سال پُرانی تحریر
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
www.MuftiAkhtarRazaKhan.com
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Urdu Tahrir
نہر زبیدہ کی تاریخ

ہارون رشید کی بیوی زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا بہت ہی دیندار صاحب علم و فضل خاتون تھیں ‎ان کے محل میں ‏ایک ہزار با ندیاں چو بیس گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتی‎ ‎تھیں۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ ‏میں پانی کی شدید قلت ہو گئی اور پانی کا ایک مشکیزہ دس‎ ‎درہم سے لیکر ایک دینار تک بک گیا۔ حجا ج ‏اکرام کو بہت تکلیف اٹھانی پڑی ۔ زیبدہ‎ ‎رحمتہ اللہ علیہا کو جب اس کی خبر ہوئی تو ان کو بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے اپنے‎ ‎انجنیروں کو جمع کر کے حکم دیا کہ کسی طرح مکہ مکرمہ کے لیے پانی کا بندوبست‎ ‎کرو اور پانی کے چشمے تلاش کرو چنانچہ انہوں نے کافی تگ و دو سے ایک چشمہ طائف‌‎ ‎کے ‏راستے میں اور دوسرا چشمہ نعمان وادی میں دریافت کیا۔ لیکن ان کا پانی مکہ مکر‎مہ تک پہنچانا بڑا جا‏ن جوکھوں کا کام تھا راستے میں پہاڑیاں تھیں جن کو کھودنا‎ ‎انتہائی دشوار تھا لیکن اس نیک خاتون ‏نے حکم دیا کہ جتنا بھی خرچ ہو مکہ مکرمہ‌‎ ‎کے لیے پانی کا بندوبست کیا جائے اور اگر کوئی مزدور ‏پتھر پر ایک کدال مارنے کی‎ ‎ایک اشرفی بھی طلب کرے تو دے دو۔‎
چنانچہ تین سال کی شب و روز محنت کے بعد 33‌‎ ‎ہزار میٹر (۳۳ کلومیٹر لمبی) نہر تیار ہو گئی جس کو ‏ریت سے بچا نے کے لیے اوپر سے‎ ‎ڈھانپا گیا راستے میں کئی جگہ مسافروں کے پانی پینے کے لیے ‏انتظام کیا گیا اور بارش‎ ‎کے زمانے میں بارش کے پانی کو بھی نہر میں ڈالنے کا بندوبست کیا گیا اس میں ‏ایسا‎ ‎مصالحہ استعمال کیا گیا کہ اس کا پانی رِس کر ریتلی زمین میں جذب نہ ہو، نہر کی‎ ‎تیاری پر 70 لاکھ ‏دینار خرچ ہو ئے۔ جب حساب کا پرچہ ملکہ کو پیش کیا گیا تو اس وقت‎ ‎وہ دریائے دجلہ کے کنارے اپنے ‏محل میں بیٹھی تھی اس نے وہ پرچہ لیکر اس کو دیکھے‎ ‎بغیر یہ کہہ کر پانی میں بہا دیا کہ ”حساب کو ‏حساب کے دن کے لیے چھوڑا“ اور کہا جس‎ ‎نے مجھ سے اس حساب میں کچھ لینا ہو لے لے ، نہر کے ‏مکمل ہو نے پر بہت خوشی منائی‎ ‎گئی اور تعمیر کرنے والوں کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ ‏اور نہر کا نام‎”‎عین المشاش‘‘ رکھا گیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ عمل ایسا پیارا لگا کہ یہ نہر‎ ‎’’نہر ‏زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا‘‘ کے نام سے ہی مشہور ہو گئی۔

نہر زبیدہ 1200 برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر آرکیٹکٹ اور انجینیئرحیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایاگیا۔ نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10سال کے عرصے میں مکمل کیا۔

https://t.me/SirfUrduTahrir/2074
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM