🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ عبد الحکیم کنڈوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مقامِ ولادت:
استاد العلماء مولانا عبدالحکیم کنڈوی گوٹھ کنڈو ؍ کنڈی ؍ کنڈا (تحصیل بھاگ ناری ضلع کچھی صوبہ بلوچستان) میں تولد ہوئے ۔

حضرت علامہ نور محمد شہداد کوٹی سے خاندانی رشتہ داری تھی اور ایک ہی علاقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔

تعلیم و تربیت:
حافظ نور محمد بھاگ ناڑی کے پاس قرآن پاک حفظ کی سعادت حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم کافیہ تک ریاست قلات کے شہر میر پور کے مشہور عالم دین قاضی محمد ابراہیم امیر پوری سے حاصل کی ، اس کے بعد قاضی صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد کو سندھ کے جلیل القدر عالم علامہ مخدوم محمد آریجوی قد س سرہ ( گوٹھ خیر محمد آریجہ ضلع لاڑکانہ ) کے پاس حصول علم کے لئے بھجوایا ۔ مولانا عبدالحلیم ، جب آریجہ میں مخدوم صاحب کی خدمت میں پہنچے تو مخدوم صاحب نے آپ سے کافیہ میں سے ’’غیر منصرف الضرورۃ ‘‘ کے متعلق دریافت کیا ۔ آپ نے ایسی تقریر کی جس پر مخدوم صاحب مولانا عبدالحلیم سے بہت خوش ہوئے ، یہاں تک کہ خوشی میں آنسو رخساروں تک آگئے اور فرمایا : ’’میں بوڑھاہو چکا ہوں اب پڑھانے کی ہمت نہیں رہی ہے ، ورنہ تم کو میں خود پڑھاتا، میں تمہیں اپنے خاص شاگرد سیدمحمد عاقل شاہ ہالانی والے ( تحصیل کنڈیارو ) کے نام خط لکھ کر دیتا ہوں آپ انہیں کے پاس جا کر تعلیم حاصل کریں۔

مولانا کچھ روز وہیں ٹھہر گئے خط لے کر ہالانی جانے والے تھے کہ حضرت مخدوم محمد آریجوی کا انتقال ہو گیا۔ اس عظیم علمی سانحہ پر تمام علماء کرام اپنے عظیم محسن و استاد محترم کے جنازہ میں شرکت کے لئے آریجہ پہنچ گئے ، ان میں سے ایک استاد العلماء علامہ سید محمد عاقل شاہ لکیاری بھی تھے ۔ مولانا عبدالحلیم نے مخدوم صاحب کا خط یہیں آریجا میں پیش کیا اور پورا واقعہ سنایا۔ علامہ صاحب جب ہالانی کو واپس ہوئے تو استاد محترم کی وصیت کے مطابق عبد الحلیم کو ساتھ لے گئے ۔ مولانا عبدالحلیم نے درس نظامی کی تکمیل ہالانی میں کی وہیں دستار فضیلت سے مشرف ہوئے۔

بیعت:
آپ عارف کامل حضرت میاں محمد کامل کٹباری قدس سرہ (درگاہ کٹبار شریف ، بلوچستان) سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔

(عمدہ الاثار فی تذکار اخبار الکتبار مفتی محمد قاسم یاسینی ۔ مشاہیر سندھ ص ۱۰۲۔ تذکرہ صوفیائے بلوچستان ص۲۵۲)

درس و تدریس:
بعد فراغت آبائی گوٹھ کنڈو میں مدرسہ قائم فرما کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور ’’ریاست قلات ‘‘ کی طرف سے قاضی بھی مقرر ہوئے ۔ ساری زندگی درس و تدریس میں بسر فرمائی۔

عرصہ دراز کے بعد وہیں سے اپنے شاگرد خاص خلیفہ علامہ محمد یعقوب ہمایونی کے ہمراہ ہمایون شریف ( ضلع جیکب آباد ) میں آکر قیام کیا اور وہیں ولامہ ہمایونی نے مدرسہ قائم فرمایا ، جہاں استاد و شاگرد دنوں درس و تدریس کے ذریعے روشنی کے چراغ جلاتے رہے، علم کے پیاسوں کو سیراب فرماتے رہے۔

تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی جماعت کثیر ہے ، ان میں سے دو نام ایسے ہیں جن کے وجود مسعود سے سندھ بھر کے دینی مدارس میں آج تک روشنی کے چراغ جل رہے ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ تا قیام روشن رہیں گے۔

۱۔ بدرالعلماء حضرت علامہ مولانا خلیفہ محمد یعقوب ہمایونی قدس سرہ
۲۔ صدر العلماء حضرت علامہ مولانا نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ

وصال:
حضرت صدر الافاضل علامہ مولانا عبد الحکیم کو علم پھیلانے کا خاص جذبہ تھا جس کے سبب شب و روز درس و تدریس سے وابستہ رہے اور اس شوق و جذبہ سے اتنی فرصت ہی نہیں ملی کہ وہ شادی کر سکیں ، اس لئے ساری زندگی مجرد رہے ۔ علم کے بحر بے پایاں نے سندھ میں شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ یاد گار چھوڑ کر ۹ محرم الحرام ۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء کو انتقال کیا۔

اس وقت شمال و جنوب سندھ کے جو عربی مدارس چل رہے ہیں وہ علامہ عبد الحلیم کے تعلیمی فیض کا نتیجہ ہیں ۔ اس اجرو ثواب سے ان کی روح کو تسکین ملتی رہے گی۔

آخری آرام گاہ روہڑی (ضلع سکھر) میں مختار کار کے دفتر کے نزد ایک پہاڑ پر ہے اور مقامی لوگ ’’پکھے والے پیر ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

(ماخوذ تیرہویں صدی کے مشاہیر سندھ ص ۴۰ مطبوعہ ۱۹۶۷ء حیدر آباد)

( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abdul-hakeem-kundwi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت خواجہ گل محمد احمد پوری چشتی رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ گل محمد احمد پوری چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب چند واسطوں کے ساتھ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔

تاریخ و مقامِ ولادت:
خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1169 ھ میں بمقام اوچ شریف، صوبہ پنجاب،پاکستان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
دینی علم آپ نے دیگر علماء کے علاوہ صاحبِ تحفہ غوثیہ حضرت غوث بخش رحمۃ اللہ علیہ سے بھی حاصل کیا۔

خلافت و بیعت:
حضرت خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ علیہ خواجہ قاضی محمد عاقل رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ مجاز تھے۔

سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ بہاولپور میں چشتیہ، نظامیہ، فخریہ سلسلے کے بڑے جلیل القدر بزرگ گزرے ہیں ۔ اولیائے کرام میں شامل ہونے کی وجہ سے آپ کو شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔علمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔آپ نے خانقاہ قائم کرکے لوگوں کا جسمانی و روحانی علاج کرنے لگے۔ اور دینی درسہ کے قیام کے بعد عوام میں حصولِ علم کا شعور بیدار کیا اور کئی لوگ آپ کے مدرسے میں داخل ہوکر علمائے ربانیین میں سے ہوئے۔ آپ نے اسلام اور اہلِ اسلام کی خدمت کرنے میں کوئی کمی،کوئی قصر نہیں چھوڑی۔ آپ کے آستانے میں لنگر کابھی اہتمام کیا جاتا جس سے ہر آنے والا مستفیض ہوتا۔ آپ کے مجلس میں بیٹھنے والا دنیا کے تمام تفکرات سے خالی ہوجاتا، دنیا سے منہ موڑکر آخرت کی طرف توجہ دیتا، دنیا کو معمولی تصور کرکے اس کے تمام خواہشات سے بےرغبت ہوکر آخرت کی ابدی خواہشات و نعمتوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا۔

وصال:
آپ کا وصال 9 محرم الحرام 1243ھ / بمطابق اگست 1827ء میں ہوا ۔ مزار شریف احمد پور شرقیہ میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاکستان ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-gul-muhammad-ahmad-puri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
حضرت میر محمد یوسف قادری

آپ خواجہ نازک کے خلف الصدق تھے، ظاہری اور باطنی کمالات سے مرصع تھے، اپنے والد بزرگوار کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر جلوہ فرما ہوئے، کچھ عرصہ تک مخلوق خدا کی ہدایت میں مصروف رہے، جذب و استغراق اور مدہوشی ہر وقت غالب رہتی، ایک وقت آیا کہ مکمل طور پر مجذوب حق ہوگئے آپ نہم ماہ محرم الحرام ۱۰۲۷ھ میں فوت ہوئے۔

چوں محمدعلی ولی عالی
سالِ تاریخ رحلتش سرور

شد بجنت بفضل ربانی
شد ندا تاج شاہ نورانی
۱۰۲۷ھ

وصال:
9 محرم الحرام 1027ھ ـ

( حدائق الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/meer-muhammad-yousuf-qadri
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
محمد بن عبد الستار بن محمد کردری عمادی ۔ کنیت: ابو الوجد ۔ لقب: شمس الائمہ تھا ۔

تایخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 18 ذو القعدہ559 ھ میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
شمس الائمہ کردری رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ ادب پہلے ناصر الدین مطرزی صاحب پڑھا۔شمس الائمہ بکر بن محمد زرنجری سے فقہ پڑھا،حدیث کوسنااور دیگر اساتذہ سے مختلف علوم فنون حاصل کئے۔حسن بن منصور قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ علی بن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہما سے بھی آپ نے علم حاصل کیا۔

سیرت و خصائص:
شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام محقق، فاضلِ مدقق، فقیہ و محدث،عارفِ مذاہب، محیی اصول فقہ تھے۔ آپ نے اس طرح اخلاص و سنجیدگی سے علم حاصل کیا کہ آپ متعدد و علوم میں فائق ہوئے اور اپنے اقران پر غالب آئے اور اہل زمان نے آپ کے فضل و تقدم کا اقرار کیا حتی کہ آپ کے حق میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ نے بعد" زید دبوسی" کے علمِ اصول و فروع کو زندہ کیا۔

درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں جن سے عالم اسلام فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کی ترویج و اشاعت آپ کا خاص مطمعِ نظر تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ بدمذہنوں کا رد لسانی وتحریری طور پر فرماکر لوگوں کو بدمذہبوں کے پاس جانے سے روکتے اور عوام کے عقائدِ حقہ کو بچانے کی بہت جد وجہد فرماتے۔سرج الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکار تھے۔

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر اگر کوئی اعتراض کرتا تو بھر پور طریقے سے جوابی کروائی فرماتے اور یہ ثابت کرتے کہ جو مذہب امام اعظم علیہ الرحمہ نے اختیار فرمایا ہے وہ عین قرآن وحدیث کے مطابق ہے ۔

وصال:
آپ نے 9 محرم الحرام 642 ھ بمطابق جون 1244ء میں بخارا میں جمعہ کے روز وفات پائی ۔

ماخذ و مراجع:
سیر اعلام النبلاء ۔ حدائق الحنفیہ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shams-ul-ayima-muhammad-bin-abdul-sattar
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
تلمیذ امام قاضی خان، فقیہ مشرق، شمس الائمہ، حضرت ابو الوحدہ امام محمد بن عبد الستار بن محمد کردری عمادی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی ولادت 18 ذو القعدہ 559ھ براتقین، مضافات کردر شہر، نزد جرجانیہ، خوارزم میں ہوئی۔ آپ استاذ الائمہ، محی اصول فقہ، مجدد علم اصول و فروع اور فقیہ مشرق ہیں۔ امام قاضی خان حسن بن منصور اور صاحب ہدایہ علی بن ابو بکر مرغینانی آپ کے اساتذہ میں سے ہیں۔ اعلی حضرت امام اہلسنت کو 17 واسطوں سے آپ سے سند حدیث و فقہ حاصل ہے۔ 9 محرم الحرام 642ھ بروز جمعہ وصال فرمایا، مزار مبارک بخارا، ازبکستان میں امام ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب حارثی محدث بخاری کے ساتھ ہے۔ (سیر اعلام النبلاء، الفوائد البھیہ، حدائق الحنفیہ، فتاوی رضویہ)

Student of Imam Qadi Khan, Jurist of East, Shams al-Aimmah, Abu al-Wahdah Imam Muhmmad bin Abdul Sattar bin Muhammad Kardari Imadi Hanafi (Alayhir Rahmah) was born on 18 Dhu al-Qa’dah 559 AH in Barataqin, Suburbs of Kardar city, near Jurjaniyah, Khwarezm. He was a teacher of great Imams, reviver of the principles of jurisprudence and the sciences of its fundamentals and branches, and the jurist of the east. Imam Qadi Khan Hasan bin Mansoor and the author of al-Hidayah Ali bin Abi Bakr Marginani are among his teachers. AlaHazrat recieved the Ijazah of Hadith and Fiqh from him through 17 connections. He passed away on Friday, 9th Muharram 642 AH. His blessed resting place is in Bukhara, Uzbekistan next to Imam Abu Muhammad Abdullah bin Muhammad bin Yaqub al-Harthi, the Muhaddith of Bukhara. [Siyar A’laam an-Nubala, Al-Fawaid al-Bahiyyah, Hadaiq al-Hanafiyyah, Fatawa Ridawiyyah]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0ayULXqbxwnuYVeE24ZhTUC39PVUnoyZp57kCe57hUVTtT2AFU4SskF88vaboJCn8l&id=100050689590519
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
مولانا محمد رضا خاں صاحب کے صاحب زادے انوار رضا خاں ۶ جمادی الاولیٰ ۱۳۵۰ھ میں تولّد ہوئے؛ مگر ابھی زندگی کی دو بہاریں بھی ٹھیک سے نہ دیکھ پائے تھے کہ قاصدِ اجل آ پہنچا، اور ۹؍محرم الحرام ۱۳۵۲ھ کو راہیِ ملکِ بقا ہو گئے، اپنے پر دادا مولانا نقی علی خاں کے پائنتی میں مدفون ہیں۔

https://scholars.pk/ur/scholar/anwar-raza-khan

https://t.me/islaamic_Knowledge/36693

#یوم_ولادت_ماہ_جمادی_الاولی
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55207
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
سید علی ۔ کنیت: ابو الحسن ۔ لقب: داتا گنج بخش ، مخدوم الامم ۔

سلسلۂ نسب:
حضرت مخدوم علی بن عثمان بن سید علی بن عبد الرحمن بن شاہ شجاع بن ابوالحسن علی بن حسین اصغر بن سید زید بن حضرت امام حسن رضی اللہ عنہم بن علی کرم اللہ وجہہ الکریم ۔

تاریخِ ولادت:
حضرت داتا صاحب کا سالِ ولادت کسی قدیم کتب میں درج نہیں ہے۔ مؤلفین و مؤرخین نے ظن و تخمین سے 400ھ / 401ھ لکھا ہے ۔ اس کو یقینی نہیں کہا جا سکتا۔ (مقدمہ کشف المحجوب:11)

مقامِ ولادت:
حضرت کا وطن اصلی افغانستان کا شہر غزنی ہے۔ "جلابی، ہجویری" اس لئے کہلاتے ہیں کہ یہ دونوں محلے"غزنی "کے ہیں ۔ آپ کے والدین کی قبریں غزنی میں ہیں۔ آپ کے خاندان کے تمام افراد صاحب زہدو تقویٰ تھے ۔ (ایضاً)

تحصیلِ علم:
حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ علومِ ظاہری وباطنی کے بحرِ ذخار تھے۔ آپ نے صرف "خراسان" میں تین سو علماء و مشائخ سے استفادہ کیا۔ حضرت شیخ ابو القاسم گرگانی علیہ الرحمہ اور حضرت شیخ ابو القاسم قشیری علیہ الرحمہ ، اور ان کے علاوہ حضرت خضر علیہ السلام سے بھی خوب استفادہ کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ سلسلہ عالیہ جنیدیہ میں حضرت شیخ ابو الفضل محمد بن حسن الختلی علیہ الرحمہ (م460ھ) کے مرید و خلیفہ تھے۔ آپ کا شجرۂ طریقت دس واسطوں سے امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتا ہے ۔

سیرتِ مبارکہ:
شیخ العالم، عارف باللہ، قدوۂ اہلِ طریقت، کاشفِ اسرارِ حقیقت، مخدوم الامم حضرت سید ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللہ علیہ۔ اس نائب رسول مقبول ﷺ نے قیامِ لاہور کے دوران ہزارہا بُت پرست کفّار کو کلمہ توحید پڑھا کر اُن کے سینوں کو نورِ اسلام سے منوّر کیا، اور سینکڑوں خداؤں کو پوجنے والوں کو صرف ایک خدا کے حضور سجدہ ریز ہونے پر مائل کیا ،اور لا تعداد گم گشتگان بادیہ ضلالت کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا، اور کتنے ہی خوش نصیبوں کو اپنی نظرِ کیمیا اثر کی بدولت ولایت کے بلند پایہ مراتب پر فائز کیا۔

سلطان الہند خواجہ غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ الله تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:

؏: گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا
۔۔۔۔ ناقصاں را پیرِ کامل کاملاں را راہنما

یہ درست ہے کہ سلطان محمود کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یہاں، مسلمان ایک "حاکم قوم" کی حیثیت سے  رہنے لگے تھے اور یہاں کے کفّار مسلم عوام سے بظاہر مرعوب ضرور تھے، لیکن ان کے قلوب مسلمان فاتحین کے ساتھ نہیں تھے ،اور وہ ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ مگر یہاں تشریف لانے والے صوفیائے کرام بالخصوص حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ کے ورودِ مسعود کے بعد یہاں کی مقامی آبادی میں سے لا تعداد لوگ ان کی تبلیغ کے سبب حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔

چنانچہ یہاں کے باشندوں میں سے ایک کثیر گروہ کی دلی ہمدردیاں مسلم فاتحین کے ساتھ ہو گئیں۔ نظریہ و طنیت، خاک میں مل گیا اور دو قومی نظریۂ کی بنیادیں رکھ دی گئیں، اور بعد میں آنے والے صوفیہ کرام کی مساعیِ جمیلہ سے اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں روز  بروز اضافہ ہوتا گیا جس سے مسلمانوں کی حکومت استحکام پکڑتی گئی۔ فاتحین نے کفار کو تیر و سنان سے زیر کیا تو نائبینِ مصطفیٰ ﷺ نے انہیں تیرِ نظر سے خدائے واحد کا مطیع و منقاد بنایا۔

علّامہ اقبال علیہ الرحمہ نے حضرت داتا صاحب قدس سرہ کی عظیم الشان دینی خدمات اور روحانی عظمت کو چند شعروں میں جو خراجِ  عقیدت پیش کیا ہے، وہ ان ہی کا حصّہ ہے، ذیل میں ان کے وجد آفریں اشعار ملاحظہ ہوں

؂ سید ہجویر مخدومِ اُمم بندہای کوہسار آساں گسیخت عہد فاروق ازجمالش تازہ شد پاسبانِ عزّت ام الکتاب خاکِ پنجاب از دمِ او زندہ گشت عاشق وہم قاصدِ طیار عشق مرقد پیرِ سنجر راحرم در زمینِ ہند تخمِ سجدہ ریخت حق زحرف او بلند آوازہ شد از نگاہش خانہ باطل خراب صبح ما ازمہر تا بندہ گشت ز جبینش آشکار اسرار عشق

حضرت شیخ مجدد الف ثانی سرہندی قدس سرہٗ نے لاہور کو جو قطب ارشاد کا درجہ دیا ہے، اصل میں یہ اُسی قطب الاقطاب (علی ہجویری) کو خراجِ تحسین ادا کیا ہے۔ حضرت شیخ مجدد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فقیر کے نزدیک یہ شہر لاہور تمام ہندوستان کے شہروں میں قطب ارشاد کی طرح ہے، اس شہر کی خیر و برکت تمام بلادِ ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ "(مکتوبات، دفتر اول،)

وصال:
آپ کا وصال 465ھ، بمطابق 1072ء کو ہوا۔

مزارِ مبارک:
آپ کا مزار پر انوار لاہور میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
مقدمہ کشف المحجوب ۔ خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-data-ganj-bakhsh-ali-hajveri
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1