🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-01-1445 ᴴ | 27-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ تین فنون کی کتابیں بے سند ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ـ ❶ کتب سیرت ـ ❷ کتب تاریخ ـ ❸ کتب تفسیر ـ ( اعلام بہ لزوم و التزام، ص:۲۳،۲۲) ـ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ #تین_فنون_کی_کتابیں_بے_سند_ہیں کتب سیرت، کتب تاریخ، کتب تفسیر یہ ہر ایک…
08-01-1445 ᴴ | 27-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
زبدۃ السالکین الحاج میاں محمد حسین قادری نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
زبدۃ الاصفیاء حضرت الحاج میں محمد حسین قادری نقشبندی ابن کرم الٰہی رحمہا اللہ تعالیٰ) ۹ محرم الحرام، ۲۰ نومبر بروز سہ شنبہ (۱۳۰۰ھ؍۱۸۸۲ئ) موضع جھگیاں ناگردہ مضافات لاہور میں پیدا ہوئے، والد ماجد نے ہوش سنبھالنے پر تعمیر سیرت پر پوری توجہ دی، ایک دن میاں محمد حسین کپاس کا پھول توڑ لائے، والد گرامی کو پتہ چلا تو خوب تواضع کی اور زمین دار کے پاس جا کر فرمایا اس بچے نے تمہارے کھیت سے ایک پھور توڑ لیا ہے، اب تمہاری مرضی ہے چاہو تو قیمت لے لو اور چا ہو تو معاف کر دو ۔ میں صاحب فرمایا کرتے تھے مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد مجھ سے کوئی اسی حرکت سرزد ہوئی ہو قرآن مجید والد ماجد سے پڑھا اور قصبہ ڈھولن وال میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی ۔
ابتدائی تعلیم کے بعد حضرت پیر عبد الغفار شاہ قدس سرہ ’’حامی اشاعت درود شریف‘‘امام مسجد تکیہ سادھواںکے حلقۂ درس میں شامل ہوئے اور فارسی کی مروجہ کتب گلستاں،بوستاں وغیرہ پڑھیں،اس کے بعد حضرت مولانا حافظ فتح محمد بانی جامعہ فتحیہ اچھرہ (لاہور) کی خدمت میں حاضر ہو کر تین سال تک کسب فیض کیا اور مالا بد منہ مفتاح الصلوٰۃ، اخلاق جلالی اور زیلخا جامی وغیرہ کتابیں پڑھیں، ان کے زہد و اتقاء اور اتباع شریعت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کے ست اقدس پر بیعت ہوئے۔ طلب علم کے ساتھ ساتھ مجاہدات میں مصروف رہے اور سلوک و عرفان کی منزلیں طے کیں ۔ میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ کو اپنے مرشد کامل سے والہانہ محبت تھی، ان کے ارشادات کو تمام عمر حرز جاں بنائے رکھا۔
ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا مفتی عبد العزیز خطیب جنازہ گاہ مرتگ (لاہور) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قدوری، منتیہ المصلی، کنز الدقائق، شرح وقایہ اور تفسیر حسینی وغیرہ کتب پر عبور حاصل کیا، مولانا نور الدین ابن مولانا غلام قادر شائق (رحمہا اللہ تعالیٰ) اونچی مسجد پاپڑ منڈی (اندرون شاہ عالم مارکیٹ) سے فن خوشنویسی حاسل کیا اور اس فن لطیف میں صاحب کمال ہوئے ۔
حضرت میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ قریباً بیس سال تک اچھرہ میں مختلف بھٹوں پر منشی گیری کرتے رہے پھر ملازمت کو چھوڑکر علوم دینیہ کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔یہ مشغلہ آخر تک جاری رہا۔آپ کو اولیاء کرام سے بے پناہ عقیدت تھی، دوردراز کا سفر طے کر کے ان کی زیارت سے مشرف ہوتے۔کتب دینیہ میں سے کتب تصوف سے خاص لگائو رکھتے تھے، لباس اور خوراک میں سادگی پسند تھے ۔ ہر کام میں سنت مبارکہ کی پیروی کو پیش نظر رکھتے، غیر مشروع اور قبیح رسوم سے سخت متنفر تھے اور ان کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کوشش فرماتے، صبح سے شام تک ذکر و فکر میں مصرور رہتے، جسمانی اور روحانی امراض کے مریض آپ کی توجہ، دعا اور دم سے بفضلہ تعالیٰ شفایاب ہو جاتے۔ ۱۹۴۷ء میں حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے، واپسی پر پیٹ کا تکلیف کا عارضہ لاحق ہوا جو آخر تک دورنہ ہوا۔
حضرت میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۶ جمادی الاخریٰ ، ۲۸ دسمبر (۱۳۷۸؍۱۹۵۸ئ) رات کو ساڑھے بارہ بجے راہئی دار آخرت ہوئے ۔ موضع جھگیاں ناگرہ ڈاک خانہ ڈھولن وال، ملتان روڈ (لاہور) کی مسجد میں آپ کی آخری آرام گاہ بنی ۔ ہرسال ۱۶ جمادی الاخریٰ کو آپ کا عرس منایا جاتا ہے جس میں وعظ نصیحت کے علاوہ ایصل ثواب کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔
مولانا پیر غلام دستگیر نامی نے تاریخ وفات کہی ہے ؎
تھے نام محمد سے حسین ایک جو موسوم
دل جن کا تھا اللہ کے اذکار سے مشحون
مسجد ہی میں مشغول عبادت رہے تا عمر
جاں دے کے ہوئے گوشۂ مسجد میں وہ مدفون
نامی نے کہ سر انکار یہ تاریخ
’’حاجی ہوئے مغفور‘‘ سنو عالم مخزون ۱۔۱۳۷۸ھ [1]
حضرت میاں صاحب سے تین فرزند یادگار ہیں:
۱۔ جناب حکیم محمد اکرم صاحب۔
۲۔ جناب الحاج محمد اعظم خوشنویس۔
۳۔ ہمارے کرم فرما،صاحب علم و ادب محمد عالم مختار حق مدظلہٗ
حضرت میاں صاحب کے صاحبزادگان نے نقوش جمیل کے نام سے اپنے والد گرامی کے مختصر حالات شائع کردئے ہیں۔
[1] محمد عالم مختار حق: نقوش جمیل، مطبوعہ ۱۹۵۹ء
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-alhaj-mian-muhammad-hussain-qadri-naqshbandi
زبدۃ الاصفیاء حضرت الحاج میں محمد حسین قادری نقشبندی ابن کرم الٰہی رحمہا اللہ تعالیٰ) ۹ محرم الحرام، ۲۰ نومبر بروز سہ شنبہ (۱۳۰۰ھ؍۱۸۸۲ئ) موضع جھگیاں ناگردہ مضافات لاہور میں پیدا ہوئے، والد ماجد نے ہوش سنبھالنے پر تعمیر سیرت پر پوری توجہ دی، ایک دن میاں محمد حسین کپاس کا پھول توڑ لائے، والد گرامی کو پتہ چلا تو خوب تواضع کی اور زمین دار کے پاس جا کر فرمایا اس بچے نے تمہارے کھیت سے ایک پھور توڑ لیا ہے، اب تمہاری مرضی ہے چاہو تو قیمت لے لو اور چا ہو تو معاف کر دو ۔ میں صاحب فرمایا کرتے تھے مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد مجھ سے کوئی اسی حرکت سرزد ہوئی ہو قرآن مجید والد ماجد سے پڑھا اور قصبہ ڈھولن وال میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی ۔
ابتدائی تعلیم کے بعد حضرت پیر عبد الغفار شاہ قدس سرہ ’’حامی اشاعت درود شریف‘‘امام مسجد تکیہ سادھواںکے حلقۂ درس میں شامل ہوئے اور فارسی کی مروجہ کتب گلستاں،بوستاں وغیرہ پڑھیں،اس کے بعد حضرت مولانا حافظ فتح محمد بانی جامعہ فتحیہ اچھرہ (لاہور) کی خدمت میں حاضر ہو کر تین سال تک کسب فیض کیا اور مالا بد منہ مفتاح الصلوٰۃ، اخلاق جلالی اور زیلخا جامی وغیرہ کتابیں پڑھیں، ان کے زہد و اتقاء اور اتباع شریعت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کے ست اقدس پر بیعت ہوئے۔ طلب علم کے ساتھ ساتھ مجاہدات میں مصروف رہے اور سلوک و عرفان کی منزلیں طے کیں ۔ میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ کو اپنے مرشد کامل سے والہانہ محبت تھی، ان کے ارشادات کو تمام عمر حرز جاں بنائے رکھا۔
ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا مفتی عبد العزیز خطیب جنازہ گاہ مرتگ (لاہور) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قدوری، منتیہ المصلی، کنز الدقائق، شرح وقایہ اور تفسیر حسینی وغیرہ کتب پر عبور حاصل کیا، مولانا نور الدین ابن مولانا غلام قادر شائق (رحمہا اللہ تعالیٰ) اونچی مسجد پاپڑ منڈی (اندرون شاہ عالم مارکیٹ) سے فن خوشنویسی حاسل کیا اور اس فن لطیف میں صاحب کمال ہوئے ۔
حضرت میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ قریباً بیس سال تک اچھرہ میں مختلف بھٹوں پر منشی گیری کرتے رہے پھر ملازمت کو چھوڑکر علوم دینیہ کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔یہ مشغلہ آخر تک جاری رہا۔آپ کو اولیاء کرام سے بے پناہ عقیدت تھی، دوردراز کا سفر طے کر کے ان کی زیارت سے مشرف ہوتے۔کتب دینیہ میں سے کتب تصوف سے خاص لگائو رکھتے تھے، لباس اور خوراک میں سادگی پسند تھے ۔ ہر کام میں سنت مبارکہ کی پیروی کو پیش نظر رکھتے، غیر مشروع اور قبیح رسوم سے سخت متنفر تھے اور ان کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کوشش فرماتے، صبح سے شام تک ذکر و فکر میں مصرور رہتے، جسمانی اور روحانی امراض کے مریض آپ کی توجہ، دعا اور دم سے بفضلہ تعالیٰ شفایاب ہو جاتے۔ ۱۹۴۷ء میں حرمین شریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے، واپسی پر پیٹ کا تکلیف کا عارضہ لاحق ہوا جو آخر تک دورنہ ہوا۔
حضرت میاں محمد حسین رحمہ اللہ تعالیٰ ۱۶ جمادی الاخریٰ ، ۲۸ دسمبر (۱۳۷۸؍۱۹۵۸ئ) رات کو ساڑھے بارہ بجے راہئی دار آخرت ہوئے ۔ موضع جھگیاں ناگرہ ڈاک خانہ ڈھولن وال، ملتان روڈ (لاہور) کی مسجد میں آپ کی آخری آرام گاہ بنی ۔ ہرسال ۱۶ جمادی الاخریٰ کو آپ کا عرس منایا جاتا ہے جس میں وعظ نصیحت کے علاوہ ایصل ثواب کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔
مولانا پیر غلام دستگیر نامی نے تاریخ وفات کہی ہے ؎
تھے نام محمد سے حسین ایک جو موسوم
دل جن کا تھا اللہ کے اذکار سے مشحون
مسجد ہی میں مشغول عبادت رہے تا عمر
جاں دے کے ہوئے گوشۂ مسجد میں وہ مدفون
نامی نے کہ سر انکار یہ تاریخ
’’حاجی ہوئے مغفور‘‘ سنو عالم مخزون ۱۔۱۳۷۸ھ [1]
حضرت میاں صاحب سے تین فرزند یادگار ہیں:
۱۔ جناب حکیم محمد اکرم صاحب۔
۲۔ جناب الحاج محمد اعظم خوشنویس۔
۳۔ ہمارے کرم فرما،صاحب علم و ادب محمد عالم مختار حق مدظلہٗ
حضرت میاں صاحب کے صاحبزادگان نے نقوش جمیل کے نام سے اپنے والد گرامی کے مختصر حالات شائع کردئے ہیں۔
[1] محمد عالم مختار حق: نقوش جمیل، مطبوعہ ۱۹۵۹ء
( تذکرہ اکابرِ اہلسنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-alhaj-mian-muhammad-hussain-qadri-naqshbandi
scholars.pk
Hazrat Alhaj Mian Muhammad Hussain Qadri Naqshbandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت مولانا شاہ قیام الحق امیر الدین حیدری قدس سرہٗ
عارف کامل، عالم متجر، حضرت نور الحق شاہ حیدر بخش قدس سرہٗ المتوفی ۲۵ شوال ۱۲۲۴ھ کے چھوٹے صاحبزادے ـ
تعلیم:
درسیات اپنے چچا حضرت مولانا شاہ حبیب الدین اور اساتذۂ جون پور سے پڑھی، ذھین و ذکی اور اخاذ بلیع تھے ـ
بیعت:
والد ماجد سے مرید تھے ـ
خصائص:
آپ سے کرامتوں کا بہت ظہور ہوا، آپ کی توجۂ عالی سے بہت سے طالبین حق واصل الی اللہ ہو کر درجہ کمال کو پہونچے ـ
تزکیۂ و تصضیۂ باطن کے ساتھ علم حدیث و تصوف کا خصوصی درس بھی دیتے تھے ۔
وصال:
۹ محرم ۱۲۶۵ھ میں واصل بحق ہو کر غریق بحر رحمت و انوار الہیہ ہوئے ۔ ( تاریخ جون پور ) ـ
وصال:
9 محرم الحرام 1265ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-qayam-ul-haq-ameeruddin-hyderi
عارف کامل، عالم متجر، حضرت نور الحق شاہ حیدر بخش قدس سرہٗ المتوفی ۲۵ شوال ۱۲۲۴ھ کے چھوٹے صاحبزادے ـ
تعلیم:
درسیات اپنے چچا حضرت مولانا شاہ حبیب الدین اور اساتذۂ جون پور سے پڑھی، ذھین و ذکی اور اخاذ بلیع تھے ـ
بیعت:
والد ماجد سے مرید تھے ـ
خصائص:
آپ سے کرامتوں کا بہت ظہور ہوا، آپ کی توجۂ عالی سے بہت سے طالبین حق واصل الی اللہ ہو کر درجہ کمال کو پہونچے ـ
تزکیۂ و تصضیۂ باطن کے ساتھ علم حدیث و تصوف کا خصوصی درس بھی دیتے تھے ۔
وصال:
۹ محرم ۱۲۶۵ھ میں واصل بحق ہو کر غریق بحر رحمت و انوار الہیہ ہوئے ۔ ( تاریخ جون پور ) ـ
وصال:
9 محرم الحرام 1265ھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-qayam-ul-haq-ameeruddin-hyderi
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Qayam-ul-Haq Ameeruddin Hyderi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت علامہ عبد الحکیم کنڈوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مقامِ ولادت:
استاد العلماء مولانا عبدالحکیم کنڈوی گوٹھ کنڈو ؍ کنڈی ؍ کنڈا (تحصیل بھاگ ناری ضلع کچھی صوبہ بلوچستان) میں تولد ہوئے ۔
حضرت علامہ نور محمد شہداد کوٹی سے خاندانی رشتہ داری تھی اور ایک ہی علاقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
حافظ نور محمد بھاگ ناڑی کے پاس قرآن پاک حفظ کی سعادت حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم کافیہ تک ریاست قلات کے شہر میر پور کے مشہور عالم دین قاضی محمد ابراہیم امیر پوری سے حاصل کی ، اس کے بعد قاضی صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد کو سندھ کے جلیل القدر عالم علامہ مخدوم محمد آریجوی قد س سرہ ( گوٹھ خیر محمد آریجہ ضلع لاڑکانہ ) کے پاس حصول علم کے لئے بھجوایا ۔ مولانا عبدالحلیم ، جب آریجہ میں مخدوم صاحب کی خدمت میں پہنچے تو مخدوم صاحب نے آپ سے کافیہ میں سے ’’غیر منصرف الضرورۃ ‘‘ کے متعلق دریافت کیا ۔ آپ نے ایسی تقریر کی جس پر مخدوم صاحب مولانا عبدالحلیم سے بہت خوش ہوئے ، یہاں تک کہ خوشی میں آنسو رخساروں تک آگئے اور فرمایا : ’’میں بوڑھاہو چکا ہوں اب پڑھانے کی ہمت نہیں رہی ہے ، ورنہ تم کو میں خود پڑھاتا، میں تمہیں اپنے خاص شاگرد سیدمحمد عاقل شاہ ہالانی والے ( تحصیل کنڈیارو ) کے نام خط لکھ کر دیتا ہوں آپ انہیں کے پاس جا کر تعلیم حاصل کریں۔
مولانا کچھ روز وہیں ٹھہر گئے خط لے کر ہالانی جانے والے تھے کہ حضرت مخدوم محمد آریجوی کا انتقال ہو گیا۔ اس عظیم علمی سانحہ پر تمام علماء کرام اپنے عظیم محسن و استاد محترم کے جنازہ میں شرکت کے لئے آریجہ پہنچ گئے ، ان میں سے ایک استاد العلماء علامہ سید محمد عاقل شاہ لکیاری بھی تھے ۔ مولانا عبدالحلیم نے مخدوم صاحب کا خط یہیں آریجا میں پیش کیا اور پورا واقعہ سنایا۔ علامہ صاحب جب ہالانی کو واپس ہوئے تو استاد محترم کی وصیت کے مطابق عبد الحلیم کو ساتھ لے گئے ۔ مولانا عبدالحلیم نے درس نظامی کی تکمیل ہالانی میں کی وہیں دستار فضیلت سے مشرف ہوئے۔
بیعت:
آپ عارف کامل حضرت میاں محمد کامل کٹباری قدس سرہ (درگاہ کٹبار شریف ، بلوچستان) سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔
(عمدہ الاثار فی تذکار اخبار الکتبار مفتی محمد قاسم یاسینی ۔ مشاہیر سندھ ص ۱۰۲۔ تذکرہ صوفیائے بلوچستان ص۲۵۲)
درس و تدریس:
بعد فراغت آبائی گوٹھ کنڈو میں مدرسہ قائم فرما کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور ’’ریاست قلات ‘‘ کی طرف سے قاضی بھی مقرر ہوئے ۔ ساری زندگی درس و تدریس میں بسر فرمائی۔
عرصہ دراز کے بعد وہیں سے اپنے شاگرد خاص خلیفہ علامہ محمد یعقوب ہمایونی کے ہمراہ ہمایون شریف ( ضلع جیکب آباد ) میں آکر قیام کیا اور وہیں ولامہ ہمایونی نے مدرسہ قائم فرمایا ، جہاں استاد و شاگرد دنوں درس و تدریس کے ذریعے روشنی کے چراغ جلاتے رہے، علم کے پیاسوں کو سیراب فرماتے رہے۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی جماعت کثیر ہے ، ان میں سے دو نام ایسے ہیں جن کے وجود مسعود سے سندھ بھر کے دینی مدارس میں آج تک روشنی کے چراغ جل رہے ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ تا قیام روشن رہیں گے۔
۱۔ بدرالعلماء حضرت علامہ مولانا خلیفہ محمد یعقوب ہمایونی قدس سرہ
۲۔ صدر العلماء حضرت علامہ مولانا نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ
وصال:
حضرت صدر الافاضل علامہ مولانا عبد الحکیم کو علم پھیلانے کا خاص جذبہ تھا جس کے سبب شب و روز درس و تدریس سے وابستہ رہے اور اس شوق و جذبہ سے اتنی فرصت ہی نہیں ملی کہ وہ شادی کر سکیں ، اس لئے ساری زندگی مجرد رہے ۔ علم کے بحر بے پایاں نے سندھ میں شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ یاد گار چھوڑ کر ۹ محرم الحرام ۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء کو انتقال کیا۔
اس وقت شمال و جنوب سندھ کے جو عربی مدارس چل رہے ہیں وہ علامہ عبد الحلیم کے تعلیمی فیض کا نتیجہ ہیں ۔ اس اجرو ثواب سے ان کی روح کو تسکین ملتی رہے گی۔
آخری آرام گاہ روہڑی (ضلع سکھر) میں مختار کار کے دفتر کے نزد ایک پہاڑ پر ہے اور مقامی لوگ ’’پکھے والے پیر ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
(ماخوذ تیرہویں صدی کے مشاہیر سندھ ص ۴۰ مطبوعہ ۱۹۶۷ء حیدر آباد)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abdul-hakeem-kundwi
مقامِ ولادت:
استاد العلماء مولانا عبدالحکیم کنڈوی گوٹھ کنڈو ؍ کنڈی ؍ کنڈا (تحصیل بھاگ ناری ضلع کچھی صوبہ بلوچستان) میں تولد ہوئے ۔
حضرت علامہ نور محمد شہداد کوٹی سے خاندانی رشتہ داری تھی اور ایک ہی علاقہ سے تعلق رکھتے تھے ۔
تعلیم و تربیت:
حافظ نور محمد بھاگ ناڑی کے پاس قرآن پاک حفظ کی سعادت حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم کافیہ تک ریاست قلات کے شہر میر پور کے مشہور عالم دین قاضی محمد ابراہیم امیر پوری سے حاصل کی ، اس کے بعد قاضی صاحب نے اپنے ہونہار شاگرد کو سندھ کے جلیل القدر عالم علامہ مخدوم محمد آریجوی قد س سرہ ( گوٹھ خیر محمد آریجہ ضلع لاڑکانہ ) کے پاس حصول علم کے لئے بھجوایا ۔ مولانا عبدالحلیم ، جب آریجہ میں مخدوم صاحب کی خدمت میں پہنچے تو مخدوم صاحب نے آپ سے کافیہ میں سے ’’غیر منصرف الضرورۃ ‘‘ کے متعلق دریافت کیا ۔ آپ نے ایسی تقریر کی جس پر مخدوم صاحب مولانا عبدالحلیم سے بہت خوش ہوئے ، یہاں تک کہ خوشی میں آنسو رخساروں تک آگئے اور فرمایا : ’’میں بوڑھاہو چکا ہوں اب پڑھانے کی ہمت نہیں رہی ہے ، ورنہ تم کو میں خود پڑھاتا، میں تمہیں اپنے خاص شاگرد سیدمحمد عاقل شاہ ہالانی والے ( تحصیل کنڈیارو ) کے نام خط لکھ کر دیتا ہوں آپ انہیں کے پاس جا کر تعلیم حاصل کریں۔
مولانا کچھ روز وہیں ٹھہر گئے خط لے کر ہالانی جانے والے تھے کہ حضرت مخدوم محمد آریجوی کا انتقال ہو گیا۔ اس عظیم علمی سانحہ پر تمام علماء کرام اپنے عظیم محسن و استاد محترم کے جنازہ میں شرکت کے لئے آریجہ پہنچ گئے ، ان میں سے ایک استاد العلماء علامہ سید محمد عاقل شاہ لکیاری بھی تھے ۔ مولانا عبدالحلیم نے مخدوم صاحب کا خط یہیں آریجا میں پیش کیا اور پورا واقعہ سنایا۔ علامہ صاحب جب ہالانی کو واپس ہوئے تو استاد محترم کی وصیت کے مطابق عبد الحلیم کو ساتھ لے گئے ۔ مولانا عبدالحلیم نے درس نظامی کی تکمیل ہالانی میں کی وہیں دستار فضیلت سے مشرف ہوئے۔
بیعت:
آپ عارف کامل حضرت میاں محمد کامل کٹباری قدس سرہ (درگاہ کٹبار شریف ، بلوچستان) سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔
(عمدہ الاثار فی تذکار اخبار الکتبار مفتی محمد قاسم یاسینی ۔ مشاہیر سندھ ص ۱۰۲۔ تذکرہ صوفیائے بلوچستان ص۲۵۲)
درس و تدریس:
بعد فراغت آبائی گوٹھ کنڈو میں مدرسہ قائم فرما کر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور ’’ریاست قلات ‘‘ کی طرف سے قاضی بھی مقرر ہوئے ۔ ساری زندگی درس و تدریس میں بسر فرمائی۔
عرصہ دراز کے بعد وہیں سے اپنے شاگرد خاص خلیفہ علامہ محمد یعقوب ہمایونی کے ہمراہ ہمایون شریف ( ضلع جیکب آباد ) میں آکر قیام کیا اور وہیں ولامہ ہمایونی نے مدرسہ قائم فرمایا ، جہاں استاد و شاگرد دنوں درس و تدریس کے ذریعے روشنی کے چراغ جلاتے رہے، علم کے پیاسوں کو سیراب فرماتے رہے۔
تلامذہ:
آپ کے تلامذہ کی جماعت کثیر ہے ، ان میں سے دو نام ایسے ہیں جن کے وجود مسعود سے سندھ بھر کے دینی مدارس میں آج تک روشنی کے چراغ جل رہے ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ تا قیام روشن رہیں گے۔
۱۔ بدرالعلماء حضرت علامہ مولانا خلیفہ محمد یعقوب ہمایونی قدس سرہ
۲۔ صدر العلماء حضرت علامہ مولانا نور محمد شہداد کوٹی قدس سرہ
وصال:
حضرت صدر الافاضل علامہ مولانا عبد الحکیم کو علم پھیلانے کا خاص جذبہ تھا جس کے سبب شب و روز درس و تدریس سے وابستہ رہے اور اس شوق و جذبہ سے اتنی فرصت ہی نہیں ملی کہ وہ شادی کر سکیں ، اس لئے ساری زندگی مجرد رہے ۔ علم کے بحر بے پایاں نے سندھ میں شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ یاد گار چھوڑ کر ۹ محرم الحرام ۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء کو انتقال کیا۔
اس وقت شمال و جنوب سندھ کے جو عربی مدارس چل رہے ہیں وہ علامہ عبد الحلیم کے تعلیمی فیض کا نتیجہ ہیں ۔ اس اجرو ثواب سے ان کی روح کو تسکین ملتی رہے گی۔
آخری آرام گاہ روہڑی (ضلع سکھر) میں مختار کار کے دفتر کے نزد ایک پہاڑ پر ہے اور مقامی لوگ ’’پکھے والے پیر ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
(ماخوذ تیرہویں صدی کے مشاہیر سندھ ص ۴۰ مطبوعہ ۱۹۶۷ء حیدر آباد)
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-abdul-hakeem-kundwi
scholars.pk
Hazrat Allama Abdul Hakeem Kundwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت علامہ عبد الحکیم کنڈوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مقامِ ولادت: استاد العلماء مولانا عبدالحکیم کنڈوی گوٹھ کنڈو ؍ کنڈی ؍ کنڈا (تحصیل بھاگ ناری ضلع کچھی صوبہ بلوچستان) میں تولد ہوئے ۔ حضرت علامہ نور محمد شہداد کوٹی سے خاندانی رشتہ داری تھی اور ایک ہی علاقہ…
اس وقت شمال و جنوب سندھ کے جو عربی مدارس چل رہے ہیں وہ علامہ عبد الحکیم کے تعلیمی فیض کا نتیجہ ہیں ۔ اس اجرو ثواب سے ان کی روح کو تسکین ملتی رہے گی۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55192
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55192
❤1
حضرت خواجہ گل محمد احمد پوری چشتی رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ گل محمد احمد پوری چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب چند واسطوں کے ساتھ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1169 ھ میں بمقام اوچ شریف، صوبہ پنجاب،پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
دینی علم آپ نے دیگر علماء کے علاوہ صاحبِ تحفہ غوثیہ حضرت غوث بخش رحمۃ اللہ علیہ سے بھی حاصل کیا۔
خلافت و بیعت:
حضرت خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ علیہ خواجہ قاضی محمد عاقل رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ مجاز تھے۔
سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ بہاولپور میں چشتیہ، نظامیہ، فخریہ سلسلے کے بڑے جلیل القدر بزرگ گزرے ہیں ۔ اولیائے کرام میں شامل ہونے کی وجہ سے آپ کو شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔علمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔آپ نے خانقاہ قائم کرکے لوگوں کا جسمانی و روحانی علاج کرنے لگے۔ اور دینی درسہ کے قیام کے بعد عوام میں حصولِ علم کا شعور بیدار کیا اور کئی لوگ آپ کے مدرسے میں داخل ہوکر علمائے ربانیین میں سے ہوئے۔ آپ نے اسلام اور اہلِ اسلام کی خدمت کرنے میں کوئی کمی،کوئی قصر نہیں چھوڑی۔ آپ کے آستانے میں لنگر کابھی اہتمام کیا جاتا جس سے ہر آنے والا مستفیض ہوتا۔ آپ کے مجلس میں بیٹھنے والا دنیا کے تمام تفکرات سے خالی ہوجاتا، دنیا سے منہ موڑکر آخرت کی طرف توجہ دیتا، دنیا کو معمولی تصور کرکے اس کے تمام خواہشات سے بےرغبت ہوکر آخرت کی ابدی خواہشات و نعمتوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا۔
وصال:
آپ کا وصال 9 محرم الحرام 1243ھ / بمطابق اگست 1827ء میں ہوا ۔ مزار شریف احمد پور شرقیہ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاکستان ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-gul-muhammad-ahmad-puri
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ گل محمد احمد پوری چشتی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ علیہ الرحمہ کا سلسلہ نسب چند واسطوں کے ساتھ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1169 ھ میں بمقام اوچ شریف، صوبہ پنجاب،پاکستان میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
دینی علم آپ نے دیگر علماء کے علاوہ صاحبِ تحفہ غوثیہ حضرت غوث بخش رحمۃ اللہ علیہ سے بھی حاصل کیا۔
خلافت و بیعت:
حضرت خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ علیہ خواجہ قاضی محمد عاقل رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ مجاز تھے۔
سیرت و خصائص:
حضرت خواجہ گل محمد رحمۃ اللہ بہاولپور میں چشتیہ، نظامیہ، فخریہ سلسلے کے بڑے جلیل القدر بزرگ گزرے ہیں ۔ اولیائے کرام میں شامل ہونے کی وجہ سے آپ کو شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔علمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔آپ نے خانقاہ قائم کرکے لوگوں کا جسمانی و روحانی علاج کرنے لگے۔ اور دینی درسہ کے قیام کے بعد عوام میں حصولِ علم کا شعور بیدار کیا اور کئی لوگ آپ کے مدرسے میں داخل ہوکر علمائے ربانیین میں سے ہوئے۔ آپ نے اسلام اور اہلِ اسلام کی خدمت کرنے میں کوئی کمی،کوئی قصر نہیں چھوڑی۔ آپ کے آستانے میں لنگر کابھی اہتمام کیا جاتا جس سے ہر آنے والا مستفیض ہوتا۔ آپ کے مجلس میں بیٹھنے والا دنیا کے تمام تفکرات سے خالی ہوجاتا، دنیا سے منہ موڑکر آخرت کی طرف توجہ دیتا، دنیا کو معمولی تصور کرکے اس کے تمام خواہشات سے بےرغبت ہوکر آخرت کی ابدی خواہشات و نعمتوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتا۔
وصال:
آپ کا وصال 9 محرم الحرام 1243ھ / بمطابق اگست 1827ء میں ہوا ۔ مزار شریف احمد پور شرقیہ میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاکستان ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-gul-muhammad-ahmad-puri
scholars.pk
Hazrat Khawaja Gul Muhammad Ahmadpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت میر محمد یوسف قادری
آپ خواجہ نازک کے خلف الصدق تھے، ظاہری اور باطنی کمالات سے مرصع تھے، اپنے والد بزرگوار کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر جلوہ فرما ہوئے، کچھ عرصہ تک مخلوق خدا کی ہدایت میں مصروف رہے، جذب و استغراق اور مدہوشی ہر وقت غالب رہتی، ایک وقت آیا کہ مکمل طور پر مجذوب حق ہوگئے آپ نہم ماہ محرم الحرام ۱۰۲۷ھ میں فوت ہوئے۔
چوں محمدعلی ولی عالی
سالِ تاریخ رحلتش سرور
شد بجنت بفضل ربانی
شد ندا تاج شاہ نورانی
۱۰۲۷ھ
وصال:
9 محرم الحرام 1027ھ ـ
( حدائق الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/meer-muhammad-yousuf-qadri
آپ خواجہ نازک کے خلف الصدق تھے، ظاہری اور باطنی کمالات سے مرصع تھے، اپنے والد بزرگوار کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر جلوہ فرما ہوئے، کچھ عرصہ تک مخلوق خدا کی ہدایت میں مصروف رہے، جذب و استغراق اور مدہوشی ہر وقت غالب رہتی، ایک وقت آیا کہ مکمل طور پر مجذوب حق ہوگئے آپ نہم ماہ محرم الحرام ۱۰۲۷ھ میں فوت ہوئے۔
چوں محمدعلی ولی عالی
سالِ تاریخ رحلتش سرور
شد بجنت بفضل ربانی
شد ندا تاج شاہ نورانی
۱۰۲۷ھ
وصال:
9 محرم الحرام 1027ھ ـ
( حدائق الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/meer-muhammad-yousuf-qadri
scholars.pk
Meer Muhammad Yousuf Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This Web Page have good information about Islam and contains brief introduction of a great Islamic Celebrity / Personality (Religious Scholar).
❤1
حضرت شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
محمد بن عبد الستار بن محمد کردری عمادی ۔ کنیت: ابو الوجد ۔ لقب: شمس الائمہ تھا ۔
تایخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 18 ذو القعدہ559 ھ میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
شمس الائمہ کردری رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ ادب پہلے ناصر الدین مطرزی صاحب پڑھا۔شمس الائمہ بکر بن محمد زرنجری سے فقہ پڑھا،حدیث کوسنااور دیگر اساتذہ سے مختلف علوم فنون حاصل کئے۔حسن بن منصور قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ علی بن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہما سے بھی آپ نے علم حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام محقق، فاضلِ مدقق، فقیہ و محدث،عارفِ مذاہب، محیی اصول فقہ تھے۔ آپ نے اس طرح اخلاص و سنجیدگی سے علم حاصل کیا کہ آپ متعدد و علوم میں فائق ہوئے اور اپنے اقران پر غالب آئے اور اہل زمان نے آپ کے فضل و تقدم کا اقرار کیا حتی کہ آپ کے حق میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ نے بعد" زید دبوسی" کے علمِ اصول و فروع کو زندہ کیا۔
درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں جن سے عالم اسلام فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کی ترویج و اشاعت آپ کا خاص مطمعِ نظر تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ بدمذہنوں کا رد لسانی وتحریری طور پر فرماکر لوگوں کو بدمذہبوں کے پاس جانے سے روکتے اور عوام کے عقائدِ حقہ کو بچانے کی بہت جد وجہد فرماتے۔سرج الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکار تھے۔
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر اگر کوئی اعتراض کرتا تو بھر پور طریقے سے جوابی کروائی فرماتے اور یہ ثابت کرتے کہ جو مذہب امام اعظم علیہ الرحمہ نے اختیار فرمایا ہے وہ عین قرآن وحدیث کے مطابق ہے ۔
وصال:
آپ نے 9 محرم الحرام 642 ھ بمطابق جون 1244ء میں بخارا میں جمعہ کے روز وفات پائی ۔
ماخذ و مراجع:
سیر اعلام النبلاء ۔ حدائق الحنفیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shams-ul-ayima-muhammad-bin-abdul-sattar
اسمِ گرامی:
محمد بن عبد الستار بن محمد کردری عمادی ۔ کنیت: ابو الوجد ۔ لقب: شمس الائمہ تھا ۔
تایخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ 18 ذو القعدہ559 ھ میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
شمس الائمہ کردری رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ ادب پہلے ناصر الدین مطرزی صاحب پڑھا۔شمس الائمہ بکر بن محمد زرنجری سے فقہ پڑھا،حدیث کوسنااور دیگر اساتذہ سے مختلف علوم فنون حاصل کئے۔حسن بن منصور قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ علی بن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہما سے بھی آپ نے علم حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام محقق، فاضلِ مدقق، فقیہ و محدث،عارفِ مذاہب، محیی اصول فقہ تھے۔ آپ نے اس طرح اخلاص و سنجیدگی سے علم حاصل کیا کہ آپ متعدد و علوم میں فائق ہوئے اور اپنے اقران پر غالب آئے اور اہل زمان نے آپ کے فضل و تقدم کا اقرار کیا حتی کہ آپ کے حق میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ نے بعد" زید دبوسی" کے علمِ اصول و فروع کو زندہ کیا۔
درس و تدریس کے ساتھ ساتھ آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں جن سے عالم اسلام فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کی ترویج و اشاعت آپ کا خاص مطمعِ نظر تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ بدمذہنوں کا رد لسانی وتحریری طور پر فرماکر لوگوں کو بدمذہبوں کے پاس جانے سے روکتے اور عوام کے عقائدِ حقہ کو بچانے کی بہت جد وجہد فرماتے۔سرج الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکار تھے۔
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر اگر کوئی اعتراض کرتا تو بھر پور طریقے سے جوابی کروائی فرماتے اور یہ ثابت کرتے کہ جو مذہب امام اعظم علیہ الرحمہ نے اختیار فرمایا ہے وہ عین قرآن وحدیث کے مطابق ہے ۔
وصال:
آپ نے 9 محرم الحرام 642 ھ بمطابق جون 1244ء میں بخارا میں جمعہ کے روز وفات پائی ۔
ماخذ و مراجع:
سیر اعلام النبلاء ۔ حدائق الحنفیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shams-ul-ayima-muhammad-bin-abdul-sattar
scholars.pk
Hazrat Shams-ul-Aima Muhammad Bin Abdul Sattar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1