🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 42 موضوع اتحاد اور نظم و نسق @islaamic_Knowledge 📝مولانا شاہد علی مصباحی پیشکش روشن مستقبل دہلی
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 43
موضوع نہ سمجھوگے تو مِٹ
جاؤگے اے ہندی مسلمانوں !!
@islaamic_Knowledge
📝مولانا طارق انور مصباحی
پیشکش روشن مستقبل دہلی
خطبہ 43.pdf
574 KB
خطبہ 43.pdf
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*بچے ہیں، غلطی ہوگئی...معاف کردیں !!!*

غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com

راجیہ سبھا سے شہریت ترمیمی بِل (C.A.B) پاس ہوتے ہی ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے. اسی ضمن میں دیوبند میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں طلبائے دارالعلوم دیوبند کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. جو بحیثیت شہری ان کا جمہوری حق تھا اور بحیثیت عالم ان کی قومی ذمہ داری بھی !!
اسی احتجاج کو لیکر سہارنپور کے ڈی ایم آلوک کمار پانڈے نے دارالعلوم پہنچ کر دارالعلوم انتظامیہ کو دھمکایا کہ *"دیوبند میں جو احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے اس کا منفی پیغام بہت دور تک جائے گا اور اس سے مدارس کو ہی نقصان ہوگا. ساتھ ہی اس کی زد میں طلبہ بھی آسکتے ہیں.*
اس دھمکی کا جواب دینے کی بجائے انتظامیہ معذرت پر اتر آئی.قومی ہمدردی میں کئے گئے احتجاج سے ناگواری جتاتے ہوئے مظاہرے کی مذمت کی. *طلبہ کی سرزنش کرتے ہوئے جامعہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا:*
*"طلبہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے ہماری عزت،ہمارا امن اور ہماری حفاظت خطرے میں پڑ جائے. کیوں کہ یہ بہت بڑی حماقت ہوگی."*
مہتمم صاحب نے ایک طرف اپنے طلبہ کی حوصلہ شکنی کی اور دوسری جانب حکومتی انتظامیہ کی خوشامد کرتے ہوئے کہا:
*"بچے ہیں اور بچوں سے غلطی ہوجاتی ہے. اس لئے تمام ذمہ داران مدارس آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان بچوں کو معاف کردیا جائے اور ان کے خلاف کسی طرح کی کوئی کاروائی نہ کی جائے."*
(روزنامہ انقلاب ص 4 بریلی ایڈیشن مؤرخہ 13 دسمبر 2019)
کیا عجیب نظارہ ہے کہ جس دیوبند نے سو سال سے زائد عرصہ اپنے طلبہ سے پڑھائی کی جگہ احتجاج وہڑتال کا خوگر بنایا، تعلیم بند کرکے سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے اٹھوا کر سڑکوں پر نعرے بازیاں کرائیں آج وہی دارالعلوم احتجاج کرنے پر طلبہ کی مذمت کر رہا ہے !!
ایک ہی جیسے طرز عمل پر دارالعلوم کا دوہرا رویہ بعض لوگوں کے لئے سمجھ سے باہر ہے. مگر تاریخ پر نگاہ رکھنے والے خوب جانتے ہیں. جب تک طلبہ کو سیاسی پارٹیوں اور ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا تو ہڑتالی طلبہ محبوب نظر بنے رہے لیکن اس بار طلبہ نے قومی ہمدردی میں احتجاج کردیا تو انتظامیہ کی نگاہیں ٹیڑھی ہوگئیں کیوں کہ یہ احتجاج اپنے کچھ لوگوں کے سیاسی مفاد کے خلاف ہے.
*ایک نظر ماضی پر*
ایک زمانہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ وطلبہ ہڑتال کرنے، کرانے میں ایکس پرٹ تھے...ہڑتالی شہرت کا عالم یہ تھا کہ دیگر افراد کو اس عادت ہڑتالیہ کے خلاف اداریے لکھنا پڑتے تھے...1349ھ میں تاج العلما مفتی محمد عمر نعیمی نے علمائے دیوبند کے ہڑتالی مزاج کے بارے میں لکھا تھا:
*"آج کل جمیعۃ العلما نام رکھنے والی جماعت جو یقیناً وہابیہ کا ایک گروہ ہے کانگریس کی اتباع میں ہڑتالیں کیا کرتا ہے.* "(مقالات تاج العلما ص 118)
آگے تاج العلما لکھتے ہیں:
*"حضور سید عالم ﷺ کی ذکر ولادت کی محفل تو اِن صاحبوں کے لئے بدعت ہے مگر گاندھی اور اس کی قوم تمام اختراعات واجب العمل ہیں. بزرگوں کے عرس کو تو یہ شرک جانتے ہیں مگر کانگریس کے حکم سے ہڑتالیں کرانا فرض سمجھتے ہیں اور اپنے دینی مدارس ان تحریکات کے سلسلے میں بند رکھتے ہیں."* (ایضاً)
ممکن ہے مذکورہ حوالہ کو فریق مخالف قبول نہ کرے تو ایک شہادت گھر کی لے لیتے ہیں مولانا مظہر سہیل قاسمی، مولانا اظہر شاہ ابن مولانا انظر شاہ کشمیری کے حوالے سے لکھتے ہیں:
*"اور پھر جن کے نتیجے میں دارالعلوم کے اندر سے باہر تک جو ایک مذموم تغیر ہوا.اس کے اساتذہ طلبہ، ملازمین اور متعلقین سے لیکر درو دیوار اور سقف و بام تک کی طبیعتوں میں کانگریسیت کا جو ایک بے پناہ جذبہ جڑ پکڑ گیا.اور اس کی تعلیم وتدریس، اہتمام و انتظام میں جو نمایاں اور افسوس ناک انحطاط پیدا ہوا اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں... کانگریس کی اگست والی تحریک کے موقع پر اس دشمن دیں جماعت(کانگریس) کے اشارے پر دارالعلوم کے طلبہ نے جو ہنگامے کئے اور جس بے دردی سے اپنے مادرِ علمی کو تباہ کرنے کا بیڑا اٹھایا...*(آئینہ دارالعلوم دیوبند ص 3تا 7/بحوالہ دارالعلوم کا حال ماضی کے آئینے میں ص 9)
گھر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم کی اساتذہ، طلبہ، ملازمین سے لیکر وہاں کے درو دیوار تک میں کانگریسیت حلول کر گئی تھی جس کے باعث طلبہ ہنگامے کرتے پھرتے تھے. مذکورہ اقتباس چونکہ گھر کے آدمی کا ہے اس لئے مضمون نگار نے دبی زبان اور نوک قلم دبا کر لکھا ہے، تاج العلما "طلبہ دارالعلوم کے مبینہ ہنگاموں" کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
*"مدرسہ کا نام تو اسلامی مدرسہ ہے مگر طالب علم بجائے پڑھنے لکھنے کے بازاروں میں پیکٹنگ کرتے پھر رہے ہیں. جو کام آوارہ گرد کرتے ہیں وہ مولوی صورت طالب علموں کے سپرد کیا جاتا ہے... جھنڈے اٹھوائے جاتے ہیں ،جے پکروائی جاتی ہے... گاندھی مہاراج کی جے اور وَندے ماترم کے نعروں سے کانگریسی مولوی صاحبان بہت خوش ہوتے ہیں."*(مقالات تاج العلما ص 119)
جو بات تاج ا
لعلما نے تحریر کی ہے اسی کو ذرا زبان دبا کر مولانا قیصر شاہ ابن انظر شاہ کشمیری یوں لکھتے ہیں :
*"کانگریسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبران شوریٰ نے تہذیب واخلاق اور دین ودیانت سے گری ہوئی جو حرکتیں،جو پروپیگنڈے ،جو سازشیں اور جو ہنگامے کئے،ہم دلی حسرت وافسوس کے ساتھ ان کے متعلق یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ ہرگز ان کے شایان شان نہ تھے.* (آئینہ دارالعلوم ص 3تا 7)
آخر وہ کون سے کارنامے تھے جنہیں خود ایک فاضل دیوبند "تہذیب و اخلاق اور دین دیانت سے گری ہوئی حرکتیں" قرار دینے پر مجبور ہوگیا.
*حکومتی انتظامیہ سے چند سوال*
حکومتی انتظامیہ کے متعصبانہ رویے پر دارالعلوم کو خوشامد کی بجائے کچھ سوال کرنا تھے.
🔹 کسی بھی غیر دستوری قانون کی مخالفت جمہوری حق ہے تو اس پر اعتراض اور مقدمہ کی دھمکی کیوں؟
🔹 طلبہ کا پر امن احتجاج پر دھمکانے والے افسران جاٹوں،گوجروں کے پرتشدد احتجاج پر کہاں غائب ہوجاتے ہیں ؟
🔹 جو لوگ حکومتی اداروں میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ،بسوں میں آگ لگاتے ہیں ،پولیس پر حملہ کرتے ہیں ، ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا ؟
لیکن ان واجبی سوال کی بجائے مہتمم دیوبند انتظامیہ کی خوشامد کرتے رہے کہ بچوں پر مقدمہ نہ کیا جائے. لیکن منت سماجت کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا. مہتمم جامعہ سے معذرت خواہانہ بیان اخبار میں جاری کرانے کے اگلے ہی دن 250 طلبہ پر مقدمہ قائم کردیا گیا.
عزت خوشامد سے نہیں خودداری سے آتی ہے اور خودداری مفاد پرستوں کے مقدر میں کہاں؟ یہ تو غیرت مندوں کی میراث ہے.

16 ربیع الثانی 1441ھ
14 دسمبر 2019 بروز ہفتہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا…
*آئینِ ہند کی حفاظت کی خاطر مسلسل بیدار رہیں*

غلام مصطفیٰ رضوی*

    آزادی کی شب خاک و خوں سے گزر کر نمودار ہوتی ہے…۱۹٤۷ء میں بھارت آزاد ہوا…اُس تحریکِ آزادی کی بنیاد اکابرِ ہند بالخصوص علامہ فضل حق خیرآبادی، علامہ کفایت علی کافیؔ مرادآبادی، علامہ صدرالدین خاں آزردہؔ دہلوی، علامہ ڈاکٹر وزیر احمد خاں اکبرآبادی، علامہ رضا علی خاں بریلوی نے ۱۸۵۷ء میں رکھی…قربانیاں دیں…جان نچھاور کی…مظالم سہے… زنداں کی اسیری گوارا کی…انڈمان کی قیدِ تنہائی سے گزرے…کالا پانی کی سزا ہوئی… انگریزی استبداد کے خلاف آواز بلند کی…ڈَٹے رہے…صف در صف انگریز کو للکارا…کارواں بڑھتا رہا…

    آزادی کی شمع جلتی رہی…پروانے نثار ہوتے رہے…زمینی کاوش جاری رہی…عملاً اور تحریراً بھی مجاہدین محاذ پر جمے رہے…ہندستان کی زمیں اس کی گواہ ہے…پھر! میر جعفر و میر صادق خریدے گئے…جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے سیم و زر لُٹائے گئے…مشرکین نے الگ کوششیں کیں؛ کہ مسلمانوں کو کم زور کیا جائے…’’سوراج‘‘ کے قیام کے لیے مشرکین نے مراسمِ اسلامی کو نشانہ بنایا…دو، دو محاذ تھے…عزم و یقیں کی تاریخ رقم کی گئی…

*صبحِ آزادی اور فرقہ پرستی:*
    ۱۹٤۷ء میں ملک آزاد ہوا…ایک ملک بٹوارے کے نتیجے میں وجود پایا… وارثانِ لال قلعہ و تاج محل نے ہندستان سے ہجرت گوارہ نہ کی…یہ خواجہ غریب نواز کا دیس ہے…خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا دیس ہے…حضرت محبوبِ الٰہی وسرکار مخدومِ سمناں کا دیس ہے…یہیں طوطیِ ہند حضرت امیر خسرو نے نغمۂ روح سے؛ باطن سرشار کیا…یہاں کی فضائیں حسانُ الہند علامہ آزادؔ بلگرامی کی عربی و فارسی نعتوں سے گونج رہی ہیں… بلبلِ باغِ جناں اعلیٰ حضرت نے نغمۂ نعت گنگنایا…

یہی کہتی ہے بلبلِ باغِ جناں کہ رضاؔ کی طرح کوئی سحر بیاں
نہیں ہند میں واصفِ شاہِ ہدیٰ، مجھے شوخیِ طبع رضاؔ کی قسم

    ہند میں صوفیاے کرام نے خانقاہیں سجائیں…مسجدیں بنائیں…علما نے مسندِ تدریس لگائی…ملک کوسجایا، سنوارا، نکھارا…محبتوں کا درس دیا…خوشبوؤں سے بسایا…یہاں صدیوں مسلم حکومت رہی…انصاف کا بول بالا رہا…اخوت کی سوغاتیں تقسیم ہوئیں…اَب حالات بدل گئے… نفرتوں کی آندھیاں چلائی جا رہی ہیں…فرقہ پرستی کے بیج بوئے جا رہے ہیں…دستورِ ہند میں نقب لگائی جا رہی ہے…ہندستانیوں کے شہری حقوق اور آزادی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے…ملک کے قانون کی دھجیاں صاحبانِ اقتدار بکھیر رہے ہیں…دستور کی دفعات ۱۴؍۱۵؍۲۱؍ کی مخالفت میں قانون پاس کیے جا رہے ہیں…ان کی نفرتوں کی آندھیاں پورے ملک کو خاکستر کرنے پر تُلی ہوئی ہیں…

*انصاف کا خون:*
    ہندستان کی آزادی کے بعد سے مسلسل مسلمانوں پر یورش رہی ہے…مسلم معاشرت، تمدن، تہذیب و ثقافت پر حملہ رہا ہے…مذہبی آزادی کو کچلنے کی کوششیں رہی ہیں…فسادات میں نسل کشی کی گئی…عصمتوں کو لوٹا گیا…ماب لنچنگ کے ذریعے بے گناہوں کو قتل کیا گیا…شریعتِ اسلامی کے مغائر قانون بنائے گئے…ہندستانی مسلمانوں کو اذیتیں دی گئیں…زخم دیے گئے…’’بابری مسجد‘‘دن دہاڑے شہید کر دی گئی…سپریم کورٹ میں معاملہ گیا…مسلمانوں نے اُمید رکھی کہ شہید کرنے والے ’’فسادیوں‘‘ پرکارروائی کی جائے گی…انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے…لیکن معاملہ اُلٹا ہوگیا…اکثریت کو اہمیت دی گئی…انصاف کو تج دیا گیا…اور زمین اُٹھا کر مندر کے لیے دے دی گئی…جمہوری ملک میں منصفانہ اُصول بالاے طاق رکھ دیے گئے…کیا یہی انصاف ہے؟…اگر عدلیہ بھی دیانت و انصاف کی بنیادیں کھو دے تو پھر جمہوریت کا تحفظ کیسے ہوگا؟

    حال کا المیہ یہ ہے کہ: اقتدار کی منزل سے جب بھاجپا دوبارہ سرفراز ہوئی؛ فوراً بابری مسجد کا فیصلہ مسجد کے خلاف ظاہر کیا گیا…آسام میں این آر سی جو پہلے سے نافذ تھی؛ جس کا تعلق شہریت (Citizenship) سے تھا… جو وہاں کے سیاسی و سرحدی حالات کے نتیجے میں رونما ہوا…اب اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کا اعلان ہے…شہریت سے متعلق کاغذات نہ پیش کر پانے والے بھارتیوں کو گھس پیٹھ قرار دینے کا عندیہ دیا گیا…پھر زَد میں آنے والے غیر مسلموں کو شہریت دینے کے لیے CAAلایا گیا…جس میں صرف مسلمانوں کو ہی باہر رکھا جائے گا…یہ مذہب کی بنیاد پر تعصب و فرقہ پرستی ہے… جو دستورِ ہند کی روح کے منافی بھی ہے…اوّل تو جن کے اَجداد نے ہندستان آزاد کرایا؛ ان سے شہریت کا ثبوت مانگنا بھارتیوں کی توہین ہے…پھر کاغذات کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر انھیں وِدیسی قرار دینا ظلم و دہشت گردی ہے… ملک کی سیکولر شبیہ خراب کرنے والی حکومت مسلسل تشدد پر آمادہ ہے…بھارتی قانون کے منافی بل کو قانونی شکل دے کر مسلمانوں اور اقلیتی طبقوں سے انتقام کا یہ آغاز ہے…

*جاگتے رہیں:*
    اب وقت ہے جاگنے کا…بیدار ہولینے کا…ہمیں آئینِ ہند نے پُرامن احتجاج کا حق دیا ہے…اب پورے ملک میں انصاف پسند عوام میدان میں اُتر چکی ہے…عوام نہتی ہے…پُرامن ہے… قانون کی حفاظت کے لیے مسلسل آواز بلند کر ر
ہی ہے…تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں کے طلبہ اور باشعور ہندوستانی جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں…مودی حکومت جھکنے تیار نہیں…ان کا منصوبہ بھارت کو ’’ہندوراشٹر‘‘ بنانے کا ہے…منواسمرتی کا ہے…اسی لیے آئین کے سیکولر مزاج کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے…ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے اس قانون کو بدلا جا رہا ہے؛ جس سے بھارتیوں کا اَمن و انصاف برقرار ہے … دستورِ ہند سے کھلواڑ کر رہے ہیں…مظاہرین پر تشدد کیا جا رہا ہے…طاقت سے جمہوری آواز نہیں روکی جا سکتی…جب غبار چھٹے گا…لہو کی سرخی سے صبحِ تابندہ نمودار ہوگی…بھارتیوں کی جدوجہد رنگ لائے گی…انصاف کا سویرا طلوع ہوگا…لیکن اس کے لیے قربانیوں کی کئی شاموں سے گزرنا ہوگا…احتجاج جاری رکھنا ہوگا…

    ابھی یہ مشاہدہ ہو رہا ہے کہ…مودی حکومت کو میر جعفر و میر صادق کی تلاش ہے…ماضی میں بھی بِکنے والے بِکتے رہے…مسلمان زندہ رہے…حال میں بھی لگتا ہے کہ مولوی و بے شرع صوفی خریدے جائیں گے…اور جنٹل مین بھی…جو قوم کی کشتی غرق کرنے پر تُلے ہوں گے…اِس لیے یقیں محکم اور عمل پیہم کی راہ سے رُو گرداں نہ ہوں…عزائم بلند رکھیں…مشیت کی مدد آئے گی…عمل کی شاہراہ اگر آراستہ ہو گی تو خدائی مدد کے توشے ضرور نازل ہوں گے…ظلم کی شام چھٹے گی…اُمید کے اُجالے ظاہر ہوں گے…لیکن! اس کے لیے ہمیں قائدینِ انقلابِ آزادیِ ہند اور اسلافِ کرام بالخصوص علامہ فضلِ حق چشتی خیرآبادی کے نقوشِ قدم پر چلنا ہوگا…ممکن ہے کہ ہر طرح کی قربانیاں دینی پڑے… نئی آزادی کی تگ و دَو کرنی ہوگی…آئینِ ہند کی حفاظت کی خاطر مسلسل بیدار رہیں…شاہراہِ ایمان پر استقامت کے ساتھ چلیں…راہ اگر طویل ہو جائے تو مایوس ہرگز نہ ہوں…منافقین و مشرکین کے ایجنٹوں سے باخبر رہیں…تا کہ بھارت کا حسن پھر لوٹ آئے…لُٹیرے انجام کو پہنچیں…

آج بھی ہو جو براہیم سے ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
٭ ٭ ٭ 
*[نوری مشن مالیگاؤں]
٢٢؍ دسمبر ۲۰۱۹ء
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#متنازعہ_شہریت_قانون_کے_خلاف_علماو_مشائخ_کے
#اقدامات

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیراعلیٰ سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com

متنازعہ شہریت قانون کے خلاف سب سے پہلے ملک کے دو مشہور شہروں سے صدائے احتجاج بلند ہوئی۔یہ شہر تھے بریلی اور دیوبند !!
دیوبند میں دارالعلوم کے طلبا نے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرہ سے لوگوں میں مِلّی جذبہ بیدار ہوا،لیکن اس جذبے پر اس وقت اوس پڑ گئی جب سہارنپور ڈی ایم پولیس فورس لیکر دارالعلوم پہنچے اور مہتمم صاحب مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب کو دھمکایا۔ مہتمم صاحب نے ڈی ایم سے معذرت کرتے ہوئے طلبہ کی سرزنش کی اور ڈی ایم سے کہا:
*"بچے ہیں اور بچوں سے غلطی ہوجاتی ہے ۔اس لیے ہم تمام ذمہ داران آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان بچوں کو معاف کردیا جائے اور ان کے خلاف کسی طرح کی کوئی کاروائی نہ کی جائے۔"*(روزنامہ انقلاب 13؍دسمبر 2019ء )
دیوبند کے مظاہرے سے طلبہ میں جو جذبہ بیدار ہوا،وہ مہتمم صاحب کی ڈانٹ اور پولیس کی ایک ہی دھمکی میں سرد پڑگیا ۔حالانکہ پولیس انتظامیہ نے اس کے باوجود 250 طلبہ پر قانون شکنی کا مقدمہ درج کرکے اپنی اصلیت دکھانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔حالانکہ یہ وہی دارالعلوم ہے جہاں کے طلبہ پچھلی ایک صدی سے ایک مخصوص پارٹی اورمخصوص خاندان کے مفاد کے لیے احتجاج ومظاہرہ کرتے رہے ہیں لیکن قوم کے لیے کئے گئے مظاہرہ پر مہتمم صاحب کی برافروختگی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔تاریخ پر نگاہ رکھنے والے افراد اس رویے کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔
دوسری جانب اس معاملے پر بریلی سے سب سے پہلی آواز خلیفہ تاج الشریعہ مولانا راحت خان قادری (مہتمم دارالعلوم فیضان تاج الشریعہ بریلی) نے اٹھائی۔ جس کی پاداش میں انہیں جمعرات کی رات میں ہی انتظامیہ نے گرفتار کر لیا۔انتظامیہ کا دباؤ تھا کہ وہ اس احتجاجی مظاہرہ کی کال واپس لے لیں اور رہا ہوجائیں لیکن مولانا راحت صاحب نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا اور گرفتاری کو ترجیح دی۔اگلے دن جمعہ تھا۔موسم جمعرات کی رات سے ہی کافی خراب ہوچکا تھا۔پوری رات موسلادھار بارش ہوئی اگلے دن صبح میں بھی جم کر پانی برسا لیکن دسمبر کی سردیوں کا برستا پانی بھی مسلمانان بریلی کے جذبوں کو سرد نہیں کر پایا اور مسلمان سخت سردی اور بارش کی بوچھاروں کے درمیان بھی احتجاج کے لیے گھروں سے نکلے اوراپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔جمعہ کی ہی شب مظاہرین کے احتجاج اور علامہ عسجد رضا قادری کے دخل کے بعد مولانا راحت کو تھانے سے ہی رہا کر دیا گیا۔اسی دن مولانا توقیر رضا نے بھی احتجاج کی کال دی تھی۔احتجاج کے بعد بریلی انتظامیہ نےمولانا توقیر رضا ،مولانا عامر عارفین ،مولانا راشد مرکزی ،مولانا نسیم منظری سمیت 50 لوگوں پردفعہ 144کی خلاف ورزی کا مقدمہ لگا دیا۔
15دسمبر کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کےطلبہ نے اس قانون کے خلاف احتجاج کیا۔اسی رات پولیس نے یونیورسٹی کیمپس میں غیرقانونی طریقے سے گھس کر لائب ریری میں پڑھ رہے طلبہ وطالبات پر انتہائی بے رحمانہ تشدد کیا۔لڑکیوں کے نقاب کھینچے گئے،لڑکوں کے ہاتھ پیر توڑدئے گئے،آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور پورے کیمپس میں جم کر توڑ پھوڑ مچائی۔اس پولیسیا حملے میں درجنوں طلبہ زخمی ہوئے ایک طالب علم کی ایک آنکھ بھی ضائع ہوگئی۔ہمارے دوست مولانا عبد الباری برکاتی بھی اس تشدد میں زخمی ہوئے۔ پولیسیا تشدد کے درمیان جامعہ کی جانباز طالبات عائشہ اور لدیدہ نے پولیس اہلکاروں کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ان کی اس بے مثال بہادری نے احتجاجی مہم کو جوش وجذبے سے بھر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا،اور JNU.DU.AMU سِوِل سوسائٹی ،تاریخ دان،فلمی اداکار،انصاف پسند صحافی، این جی او،ورکرز بھی احتجاجی مُہم میں شامل ہوتے گئے۔ چند اہم ناموں میں حقوق انسانی ایکٹوسٹ ہرش مندر، یوگیندر یادو، صحافی رویش کمار، مشہور تاریخ دان رام چندر گُہا شامل ہیں۔اس درمیان بعض علما و لکھاری حضرات نے مشائخ کی خاموشی پر سخت تنقیدیں کیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے مشائخ کے خلاف تحریروں کا ایک سیلاب آگیا۔حالانکہ بعض مشائخ نے بھی اس قانون کی مخالفت میں درج ذیل اقدامات کئے:
🔹جانشین تاج الشریعہ علامہ عسجد رضا قادری کا حکومت کی مذمت اور CAAکی مخالفت میں اخباری بیان شائع ہوا۔
🔹رفیق ملت سید نجیب میاں (مارہرہ) نے اس قانون کی مخالفت میں میمورنڈم دیا۔
🔹سید اشرف میاں(صدر مشائخ بورڈ) نے شِوپال یادو کے ساتھ لکھنؤ احتجاج میں شرکت کی۔
🔹20؍دسمبر کو نبیرہ اعلیٰ حضرت مولانا توقیر رضا نے بریلی کے اسلامیہ میدان میں احتجاج کی کال دی،اس کال پر پورا بریلی شہر سڑکوں پر نکل آیا اور قریب دو لاکھ سے زائد مسلمانوں نے جمع ہوکر اس قانون کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا۔اس موقع پر مولانا توقیر رضا نے حکومت کو للکارتے ہوئے کہا:
*"وزیراعظم ،ہٹلر کا انجام بھول گئے ہیں،اس کے پاس بھی بڑی طاقت تھی لیکن وہ بھی نہیں بچ سکا تھا۔یہ تحریک صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کو بچانے کے
لیے شروع کی گئی ہے اور ہم کسی قیمت پر ملک کادستور نہیں بدلنے دیں گے۔"*
🔹اسی تاریخ میں ناگپور میں مفتی اعظم مہاراشٹر حضرت مفتی مجیب اشرف رضوی کی قیادت میں ایک بڑا احتجاج ہوا۔اس جلوس میں بڑی تعداد میں کئی سیاسی پارٹیوں کے ممبران اسمبلی نے بھی شرکت کی۔اختتام جلوس پر مفتی صاحب کے وفد نے وزیر اعلیٰ سے بھی ملاقات کی اور اس قانون پر صوبے میں پابندی کا مطالبہ کیا،جس پر انہوں نے مہاراشٹر میں اس قانون پر پابندی لگانے کا وعدہ کیا۔
🔹20؍دسمبر کو ہی دہلی میں مولانا افتخار حسین رضوی کی قیادت میں "اعلیٰ حضرت یوتھ برگیڈ" کی جانب سے سیلم پور میں احتجاج درج کیا ۔فقیر نعیمی نے احتجاجی میمورنڈم لکھ کر صدر جمہوریہ کو ارسال کیا۔اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ پر چل رہے دھرنے میں بھی علما کی بڑی تعداد شریک احتجاج ہے۔
اس کے علاوہ ملک کے مختلف مدارس کے طلبہ،علما،ائمہ نے ذرا تاخیر سے ہی سہی لیکن اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کئے ہیں ۔جن میں جامعہ اشرفیہ مبارکپور،دارالعلوم ندوہ لکھنؤ،جامعہ نعیمیہ مرادآباد وغیرہ نمایاں ہیں۔یوپی میں سنبھل،مرادآباد،رامپور،کانپور، مظفر نگر،بجنور،لکھنؤ،علی گڑھ، وغیرہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج درج ہوئے۔حالانکہ یوپی میں پولیس کی زیادتی کی وجہ سے اب تک 15افراد شہید ہوچکے ہیں اور سیکڑوں افراد زخمی ہیں۔ملک کے دیگر صوبوں بہار،بنگال،ایم پی، راجستھان، آسام،وغیرہ سے بھی بڑے احتجاج کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

*پولیس کا تشدد*

احتجاجی منظرنامہ کا سب سے خراب پہلو بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں پولیسیا تشدد ہے۔یوپی،بہار اور دہلی میں پولیس نے مظاہرین پر سخت تشدد اور بے حد زدو کوب کیا ہے۔گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ مچائی اور ستم بالائے ستم یہ کہ مسلمانوں پر ہی فساد برپا کرنے کا الزام لگا کر مقدمے درج کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر ملک کی مین اسٹریم میڈیا حسب امید مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی میں مصروف ہے۔ایسے وقت میں جبکہ پولیسیا تشدد سنگین ہوتا جارہا ہے ذمہ داران کو کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہیے:
🔸ہراحتجاجی جلسہ وجلوس میں ٹرینڈ رضاکار ضرور بنائیں، تاکہ وہ مجمع کوکنٹرول کرسکیں اور بوقت ضرورت ذمہ داران کے احکام کی تعمیل کراسکیں۔
🔸جلوس وغیرہ میں بچوں کو لے جانے سے پرہیز کریں ۔
🔸اجنبی اور مشکوک افراد پرنظر رکھیں اور فوراً ہی اس کی اطلاع رضاکاران اور ذمہ داران کو دیں۔
🔸راستوں سے گزرتے وقت آس پاس کے لوگوں سے اچھا سلوک وبرتاؤکریں تاکہ وہ آپ کے تئیں نرم رہیں۔
🔸احتجاج ایک قانون کے خلاف ہے ،اس لیے کسی بھی عوامی املاک کو کسی طور پرنقصان نہ پہنچائیں۔
🔸پولیس صرف احکام کی تابع ہوتی ہے،اس لیے پولیس سے براہ راست تصادم سے بچیں۔
🔸اکسانے،چِڑھانے والے نعروں سے پرہیز کریں یہ آپ کے مقصد کے خلاف ہیں۔
🔸کچھ رضاکاران کو جلسہ وجلوس کی ویڈیوریکارڈنگ پر مامور کریں تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔
🔸جوش پر ہوش کو غالب رکھیں،طویل احتجاج کے لیے ماحول کا پرامن ہونا ضروری ہے۔

مؤرخہ25؍ربیع الثانی 1441ھ
23؍دسمبر 2019ء بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*متنازعہ شہریت قانون کے خلاف علما ومشائخ کے اقدامات*
قسط -2

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com

متنازعہ شہریت قانون(caa) کو پاس ہوئے آدھا مہینہ گزر چکا ہے لیکن عوام کا غصہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے.ایمرجینسی کے بعد غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ جب حکومت کے خلاف اتنی شدت سے احتجاج کئے جارہے ہیں. اس سلسلے میں علما ومشائخ کی جانب سے بھی مسلسل اقدامات کئے جارہے ہیں.
🔸تنظیمی سطح پر رضا اکیڈمی ممبئی نے12 دسمبر کو اس قانون کی مخالفت میں صدر جمہوریہ کو مخالفتی مکتوب لکھا.13 دسمبر کو سنی بڑی مسجد مدنپورہ ممبئی کے باہر سنی جمعۃ العلما اور ایم آئی ایم کے ساتھ مل کر مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا. جس میں رضا اکیڈمی کے چیئرمین الحاج سعید نوری،فیاض خان وغیرہ نمایاں تھے.اس کے بعد16 دسمبر کو چیف جسٹس کے نام ایک کھلا خط لکھا اور 19 دسمبر کو حضرت سید معین اشرف میاں کی قیادت میں علما کرام نے بطور احتجاج گرفتاری دی جس میں چیئرمین رضا اکیڈمی بھی شریک تھے. ساتھ ہی ممبئی کے مختلف علاقوں کے ائمہ بھی بڑی تعداد میں موجود رہے.
🔸21 دسمبر کو درگاہ اعلی حضرت پر مسجد رضا کے باہر عوامی مظاہرہ کیا گیا. درگاہ کے سجادہ نشین مولانا احسن رضا قادری نے کہا شہریت قانون کسی طور پر قبول نہیں کیا جائے گا. جب تک حکومت یہ قانون واپس نہیں لیتی احتجاج جاری رہے گا.
🔸اسی تاریخ میں قصبہ ککرالہ ضلع بدایوں میں مولانا رفاقت ثقلینی نعیمی کی قیادت میں احتجاج کیا گیا. جس میں قصبے کے ہزاروں افراد نے شرکت کی.نمایاں افراد میں الحاج ممتاز ثقلینی،مفتی فہیم ثقلینی مفتی انوار ندوی وغیرہ شریک تھے.
🔸21 دسمبر کو مرادآباد میں ہونے والا احتجاج ایک مثالی اور زبردست اجتجاج تھا جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق قریب چھ لاکھ(600000) کا مجمع تھا. تعجب کی بات یہ تھی کہ یہ سارا مجمع بغیر کسی قائد کے جمع ہوا تھا. ایسا نہیں ہے کہ شہر میں کوئی دینی وسیاسی قائد نہیں ہے لیکن سیاسی قائد ڈاکٹر ایس ٹی حسن (ممبر آف پارلیمنٹ مرادآباد) نے احتجاج کی کال پولیس کے دباؤ میں واپس لے لی اور مذہبی قائدین آج کل پر ٹالتے رہے جس کے باعث عوام خود ہی میدان میں اتر آئی اور جامع مسجد پارک میں گھنٹوں تک حکومت کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا. اس احتجاج میں جامعہ نعیمیہ کے طلبہ بھی بڑی تعداد میں شریک تھے.
🔸اسی تاریخ میں رامپور اور ضلع کی پانچوں تحصیلوں میں پولیس انتظامیہ کی منظوری کے بعد احتجاج کی کال دی گئی تھی.لیکن 20 دسمبر کی رات میں ضلع انتظامیہ نے قاضی شرع رامپور مولانا سید واجد علی عرف فیضان میاں، فرحت احمد جمالی سجادہ نشین حافظ شاہ جمال اللہ، شہر امام مولانا محبوب علی وغیرہ کو بلا کر احتجاجی کال واپس لینے کا دباؤ بنایا،انکار کرنے پر ہلٹرشاہی دکھاتے ہوئے رات ہی کو مذکورہ افراد کو گھروں پر ہی نظر بند کردیا گیا.رات کی سیاہی میں ہی پولیس نے شہر واطراف میں احتجاج ملتوی ہونے کا اعلان کرایا.حالانکہ شہر کی عوام بڑی تعداد میں باہر نکلی اور عیدگاہ میدان کی جانب چل پڑی جہاں پولیس کی سختی سے مجمع میں افراتفری پھیل گئی اور پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے برسائے. جس سے سیکڑوں افراد زخمی ہوئے،اور پولیس کی گولی سے ایک نوجوان شہید بھی ہوا. حالات بگڑتے دیکھ کر پولیس انتظامیہ نظر بند علما کو مظاہرین کے درمیان لائی اور ان کی گزارش پر احتجاجی مظاہرین واپس ہوئے.
🔸21 دسمبر کو پرگنہ سوار، رامپور میں مولانا صابر علی خان اور قاری شبن خان کی قیادت میں عید گاہ میدان میں احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی تھی.لیکن انتظامہ نے 20 دسمبر کی رات میں ہی جگہ بدلنے کی گزارش کی اور یہ احتجاج جامع مسجد کے باہر ہوا. نمایاں افراد میں مولانا فراغ احمد نعیمی، مولانا عبدالرحمٰن نعیمی ،مولانا یوسف نعیمی، مولانا فیضان احمد وغیرہ موجود تھے.
🔸 21 دسمبر کو کھجوری کالونی دہلی میں مولانا صوفی اشفاق نوری میاں جانی(صدر حلقہ تحریک فروغ اسلام) نے کالونی میں احتجاجی ریلی نکالی. ریلی میں ہزاروں افراد شریک تھے. عیدگاہ میدان میں ریلی کا اختتام ہوا.
🔸21 دسمبر کو ہی مرادآباد میں مجلس علمائے ہند کے صدر مفتی عبدالمنان کلیمی نے پریس کانفرنس کرکے حکومت سے قانون واپس لینے کی اپیل کی.
🔸22 دسمبر کو مدرسہ زینت الاسلام گووَنڈی(ممبئ) میں تحریک علمائے اہل سنت کی میٹنگ میں احتجاجی مظاہرین پر پولیسیا تشدد کی پرزور مذمت کی گئی. بزرگ عالم دین مولانا محمود عالم رشیدی نے کہا کہ، "CAA قانون مودی، شاہ کی ہٹلرشاہی کا نتیجہ ہے. جس کی وجہ سے اب تک درجنوں موتیں ہوچکی ہیں."
نمایاں افراد میں مولانا عبدالحنان نعیمی اشرفی، مولانا محمود علی خان، مولانا نظام الدین رضوی، مولانا جہانگیر القادری،قاری رجب علی اور قاری سلیمان رضوی،مولانا عثمان اشرف،مولانا عبدالحفیظ علیمی مانخورد ،وغیرہ شریک تھے.
🔸22 دسمبر کو سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کی درگاہ سے شہریت قانون
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
مسلمانوں کی داستان شجاعت

اللہ نے مسلمانوں کو جو مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے وہ کسی کو بھی نہیں ملا۔۔۔ یہ مسلمان ہی تھا جو سمندروں پر اپنے گھوڑوں کو دوڑا دیا کرتا تھا۔۔۔۔یہ مسلمان ہی تھا جو دشمنوں کو للکار کر اپنے ہجرت کی خبر دیتا تھا اور اس کے چیلینج سے کفار کانپ جاتے تھے۔۔۔۔ آج مسلمانوں کو کیا ہوگیا ہے؟؟ کیوں اتنے بزدل بن گئے ہیں؟؟ وہ کونسی وجہ ہے جسے دور کرنا آج سخت ضرورت ہے۔۔۔

ضرور سماعت کریں اور اپنے جوش ایمانی کو واپس لانے کی کوشش کریں

https://youtu.be/gZ1HLz4nLQo

ترسیل:
ادارۂ اصحاب صفہ، مالیگاؤں
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#احتجاجی_تشدد_پر_دوہرا_سلوک_کیوں؟

غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
#روشن مستقبل دہلی
gmnaimi@gmail.com

حقوق انسانی کے عالمی منشور میں حقوق اقلیت(Rights of minorities) میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ،
"سارے انسان وقار اور حقوق میں برابر ہیں."
ہمارے ملک میں بھی دستور ہند کے بنیادی حقوق کے تحت اقلیتوں کے مذہب،زبان اور نسل وتعلیم کی حفاظت برابری کا اعلان کیا گیا ہے. قانون کی رو سے حکومت کسی بھی طرح کا امتیاز نہیں کر سکتی.اسی لئے ملک کے حکمران ہوں یا عہدے داران، دستور(constitution)
پر حلف اور دستور کی حفاظت کا عہد لیتے ہیں.لیکن آزادی کے بعد سے ہی ملک میں نفاذِ قانون پر دوہرا معیار اپنایا گیا. قوانین کا اطلاق اقلیت واکثریت کے پیمانے پر ہوتا رہا. یہاں تک کہ اقلیتیں اور خصوصاً مسلمان ہر میدان میں اسی امتیازی تفریق کا شکار ہوتے رہے نوبت یہاں تک آگئی کہ اب حکومتی اہلکار کھلے عام ظلم وزیادتی پر اتر آئے ہیں.حالیہ وقت میں متنازعہ شہریت قانون سی اے اے (CAA) کے خلاف ملک کی عوام نے بلا تفریق مذہب احتجاج کیا. احتجاجی دائرہ جب مسلم اکثریتی علاقوں میں پہنچا تو کئی احتجاجی مظاہرے پر تشدد ہوگئے. جس میں جان ومال کے ضیاع کے ساتھ عوامی املاک کا بھی نقصان ہوا.
یہ بات بھی نوٹ کئے جانے لائق ہے کہ جن صوبوں میں غیر بی جے پی پارٹیاں بر سرِ اقتدار ہیں وہاں لاکھوں افراد کے مظاہرے بھی پر امن اور تشدد سے پاک رہے لیکن بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں محض سو دو سو افراد کے مظاہرے بھی تشدد کی زد میں آگئے.پر تشدد مظاہروں میں اتر پردیش سرِ فہرست ہے. صوبے کے دارالحکومت لکھنؤ سمیت سنبھل، نہٹور(بجنور) مظفر نگر، رامپور ، امروہہ ، ہاپوڑ ، علی گڑھ ، میرٹھ ، کانپور وغیرہ میں جم کر تشدد ہوا. اسی تشدد کا سہارا لیکر پولیس انتظامیہ نے کھل پر مذہبی تعصب اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظاہرین پر گولیاں چلائیں جس کے باعث قریب 20 افراد شہید ہوگئے. ظلم پر ظلم یہ کہ مسلمانوں پر ہی دنگا وفساد کے مقدمہ دائر کرکے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا. اب انہیں مظلوموں پر عوامی املاک کی بربادی کا الزام لگا کر ہرجانہ وصولی کے نوٹس جاری کئے جارہے ہیں.

*چند بڑے احتجاجی تشدد*

بھارت میں احتجاجی مظاہروں کا پر تشدد ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ہے. بلکہ بھارت کی کچھ قوموں کے احتجاج کا مطلب تشدد اور لوٹ مار ہی ہوتا ہے. لیکن چونکہ اُن سب مظاہرین کا تعلق ہندو قوم سے ہوتا ہے اِس لئے لاکھوں کروڑوں کا نقصان اور پولیس کا جَم کر پِٹنا بھی میٹھی گولی کی طرح ہضم کر لیا جاتا ہے.لیکن اگر مظاہرین مسلمان ہوں تو یہی پِٹی ہوئی پولیس ایک دم سے بہادر ہوجاتی ہے. ایک نظر پچھلے چند سالوں کے احتجاجی مظاہروں پر ڈالتے ہیں تاکہ موجودہ احتجاجی تشدد پر واویلا مچانے والوں کا اصلی چہرہ سامنے آسکے !!
🔸مئی 2015ء میں راجستھان کی گوجر برادری نے رِیزَرویشن کی مانگ کو لیکر احتجاج شروع کیا. ان مظاہرین نے ریلوے ٹریک اور بس اڈوں پر سات دنوں تک قبضہ جمائے رکھا.208 ٹرینیں رد کی گئی 141 ٹرینوں کے روٹ بدلے گئے. جس کے باعث قریب 200 کروڑ کا نقصان ہوا.
🔸فروری 2016ء میں ہریانہ کے جاٹوں نے ریزرویشن کو لیکر احجاج شروع کیا. امیدوں کے مطابق احتجاج تشدد میں بدل گیا.
🔸7 ریلوے اسٹیشنوں کو تباہ کردیا گیا، جس کے باعث 800 ٹرینیں رد کرنا پڑیں.
🔹کئی بس اڈوں اور سرکاری دفتروں میں آگ لگادی گئی. سڑکوں کو کھود کر گڈھے بنا دئے گئے.
🔹1000 سے زیادہ گاڑیاں 500 سے زائد دکانیں نذر آتش کردی گئیں. کئی شاپنگ مالس میں آگ لگائی گئ.
🔸بھارت پاکستان کے مابین چلنے والی سمجھوتا ایکسپریس کو روکا گیا.
🔹سونی پت میں مال گاڑی میں آگ لگائی گئی.
🔸جیند میں سابق وزیر ستیہ ناراین کے ساتھ مارپیٹ کی گئی.
🔹گنور ایس ڈی ایم (SDM) کی گاڑی کو آگ لگائی گئی.
🔸دہلی کو پانی سپلائی کرنے والی منف نہر کو بند کردیا گیا. جسے آرمی نے جاکر کھلوایا.
🔹مسافروں کے ساتھ لوٹ مار اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی تک واقعات ہوئے لیکن حکومت وانتظامیہ کانوں میں تیل ڈالے سوتی رہی.
🔹رام رجیم نامی بابا کو زنا وقتل کیس میں سزا سناتے ہی ڈیرا بھکتوں کے احتجاج میں جم کر بوال ہوا.
🔸آج تک اور ٹائمز ناؤ نیوز چینل کی اوبی وین پھونک دی گئیں.
🔹پنجاب کے مانسا اور ملوٹ ریلوے اسٹیشن پر آگ لگا دی گئی جس کے باعث فیروزپور ڈویژن کی 124 ٹرینیں رد ہوئیں.
🔸فاضلکا اسٹیشن پنجاب میں فیروزپور ڈپو کی بس کو نذر آتش کیا گیا.
🔹سَنگرُور میں بجلی گھر کو ہی آگ لگا دی گئی.
🔸پَنچکُولہ ہریانہ میں 100 سے زیادہ گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی.
*ذرا سوچیں !!*
*ہفتے بھر تک گوجر مظاہرین ریلوے اسٹیشن اور بس اڈوں پر اودھم مچاتے رہے.*
*9 دنوں تک جاٹ قوم کے فساد و آگ زنی کے واقعات میں قریب 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا. اس احتجاجی تشدد کے نقصان کی بھرپائی کے لئے ہریانہ حکومت نے "نیشنل ڈجاسٹر مینج مینٹ اتھارٹی"(NDMA)سے ایک ہزار ک
روڑ روپے کی امداد مانگی تاکہ عوامی املاک کی مرمت و تعمیر کرائی جاسکے.*
*رام رجیم کے ڈیرا بھکتوں نے ہفتوں تک سڑکوں پر تشدد مچایا.*
*ہفتوں تک عوامی نقل وحمل بند رہی ، سڑکوں کو کھودا گیا، اسٹیشنوں کو تباہ کیا گیا لیکن حکومت اور پولیس والوں کی ہمت نہیں ہوئی کہ مظاہرین کو قانون کی طاقت کا احساس کراتے لیکن یہ پولیس مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی بندوق سے بات کرتی ہے.اس پولیس کی بندوق اور ہمت نہتھے مسلمانوں پر کام کرتی ہے. حالانکہ اُس وقت ہریانہ وراجستھان اسی بی جے پی کی حکومت تھی مگر تب بی جے پی کو اپنا فرض،اور عوامی املاک کی تباہی کا خیال نہیں آیا !!*
لیکن یوپی اور دہلی میں اسی بی جے پی کے اشاروں پر پولیس کا انتہائی ظالمانہ چہرہ سامنے آیا. جس کے لئے تاریخ کبھی نہیں کرے گی.

*تشدد کی وجوہات اور پولیس کی سفاکیت*

آئین کی دفعہ(1)19 کے تحت حکومت کے کسی بھی قانون سے عدم رضامندی کا اظہار ہر بھارتی شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے. اس کا جمہوری طریقہ احتجاجی مظاہرہ بھی ہے. سی اے اے(CAA) مخالف مظاہرین میں عدم اعتماد اس وقت پیدا ہوا جب پولیس نے قریب تمام ہی اضلاع میں دفعہ 144 لگا کر ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی. جس کے باعث عوامی غصہ مزید بڑھ گیا. اس کے علاوہ کچھ اسباب یہ ہیں:
🔹احتجاجی جلوسوں کو جابجا روک کر پولیس اہلکاروں نے نہایت سخت زبانی اور بدکلامی کا مظاہرہ کیا،نتیجتاً مظاہرین اور پولیس میں ٹکراؤ ہوا.
🔸پر امن جلوسوں میں بعض ایسے اجنبی افراد بھی مظاہرین میں داخل ہوئے جنہوں نے تشدد کا آغاز کیا. ایک وائرل ویڈیو میں بی جے پی کے جھنڈے والی گاڑی سے مظاہرین پر پتھراؤ کیا گیا.جس سے مظاہرین بھڑک گئے.
🔸اکثر مقامات پر پولیس نے مظاہرین سے ذرا بھی انسانی لب و لہجہ میں بات نہیں کی بلکہ بدکلامی کرتے ہوئے "مقدمہ کرنے اور ہاتھ پیر توڑ دینے" جیسی غیر دستوری زبان استعمال کی. انہیں وجوہات کی بنا پر بعض مقام پر عوام بھی مشتعل ہوگئی. پولیس چاہتی تو بغیر نقصان پہنچائے بھی مظاہرین کو روک سکتی تھی لیکن نِہتھے اور کمزور مسلمانوں کو دیکھ کر پولیس نے سیدھا لاٹھی چارج، آنسو گیس اور گولیوں کا استعمال کیا. اب اس بہادر پولیس نے 498 لوگوں کو نامزد کرکے قریب 74 لاکھ روپے کی ریکوری کے نوٹس بھیجے ہیں.
ایک طرف جاٹوں کے تشدد میں 34 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا لیکن ہریانہ کی بی جے پی حکومت اور بہادر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن مسلمانوں کے سامنے آتے ہی حکومت وپولیس کو قانون قاعدے بھی یاد آگئے اور نہتھے مسلمانوں پر بہادری دکھانے کا جذبہ بھی واپس آگیا.پولیس کی سفاکیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ صرف مظفر نگر میں پولیس نے قریب 30 گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور قریب 50 سی سی ٹی وی(cctv) کیمرے توڑ دئے.
اب پولیس عوامی املاک کی بربادی کے لئے مظاہرین سے ہرجانہ وصول کرنا چاہتی ہے. لیکن جن مکانوں میں پولیس نے توڑ پھوڑ کی ہے ان کا ہرجانہ کون دے گا؟
جو لوگ پولیس کی گولیوں سے مارے گئے ہیں ان کے اہل خانہ کی تسلی کون کرے گا؟
آخر cctv کیمرے کس لئے توڑے گئے. کیا کیمروں میں اپنی کرتوتوں کے ریکارڈ ہونے کا ڈر تھا؟ کہانی تو کچھ یونہی دکھائی دے رہی ہے مگر انصاف پسند لوگوں کے لیے وہ ویڈیوز ہی کافی ہیں جو پبلک میں وائرل ہوئے ہیں، بس اب ضرورت یہ ہے کہ قوم مسلم(یا وہ مظلوم جن کے ساتھ یہ ہوا ہے) انکو محفوظ رکھیں اور کورٹ جانے کی تیاری کریں، اگر دوچار پولیس والوں کو ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اشاروں پر چلنے والی پولیس کو آدھا مفلوج کردیا، اگر اتنا نہ ہو تو کم از کم جب تک کیس کی سماعت ہورہی ہے ملازمت سے فارغ کردیے جائیں یہ بھی انکے لئے موت سے کم نہ ہوگا. ان ویڈیوز کو ان تحریکوں تک پہنچائیں جو ان معاملات میں پیش پیش ہیں، امید کا دامن تھامے رہیں کیونکہ
ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا
یہ ہیں فرعون تو موسی بھی ضرور آئے گا

3 جمادی الاول 1441ھ
30 دسمبر 2019 بروز پیر
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM