🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی
مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد
صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا ۔

ولادت:
بروز پیر، ۷؍محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲؍جنوری ۱۸۷۷ءکو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء) کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے ۔

آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔

بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی(۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔

حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی ۔

بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف (۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے ۔

وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حضرت مولا علی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔

خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔

سیرت و خصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے ۔ عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے، کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیر معمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اور اس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہو کر بہت بلند مقام و مرتبہ پائے گا ۔ اور ہوا ایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح و بلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے ۔ آپ کا کلام و بیان، وعظ و نصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب تو پیدا کر ہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہو جاتا ۔ اسلام کی نشر و اشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی و اخلاقی و روحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔

اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماں ﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی، جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیدا ہو چکے اور ان کی وفات بھی ہو چکی ہے ۔ لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)

وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
مبارک بن علی ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: قاضی القضاۃ، مصلح الدین، قبیلہ بنی مخزوم کی نسبت سے "مخزومی" کہلاتے ہیں ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو سعید مبارک مخزومی بن علی بن حسین بن بندار البغدادی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ

مولد و موطن:
آپ کی ولادت باسعادت 446ھ، کو محلہ "مخرّم" بغداد معلی (عراق) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے سید یونس رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ صمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل سرخسی رحمۃ اللہ کی صحبت سے فیضِ کامل اورعلمِ نافع پایا ۔

آپ حنبلی المذہب اور فقیہ العصر تھے، اور جماعتِ حنابلہ کے اصول و فروع میں شیخ و امام تسلیم کیے جاتے تھے ۔ آپ بغداد کے "قاضی القضاۃ " (چیف جسٹس) کے منصب پر فائز تھے ۔

بیعت و خلافت:
آپ شیخ ابوالحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوخلیفۂ اعظم تھے ۔ ان کے علاوہ آپ نے سید یونس رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ صمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل سرخسی رحمۃ اللہ سے بھی فیض یاب ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
سراج العالمین، فخر السّالکین، قطب الاقطاب، مظہر رب الارباب، محافظِ قواعد الاسلام، مبیّن الحلال و الحرام، سلطان الاولیاء، بُرھان الاتقیاء، قدوۂ عارفاں، قبلۂ سالکاں، پیرِ طریقت، واقفِ حقیقت، جامع علوم ظاہر و باطن حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخ ابو الحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ نے اٹھارہ سال اپنے شیخ کی خدمت میں رہ کر ریاضتِ شاقہ کیں اور کامل و اکمل ہوکر خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔

آپ نے مدرسہ "باب الازج بغداد " کی بنیاد رکھی، اور علومِ شرعیہ کی تعلیم و تدریس شروع کی، اکثر فضلائے زمانہ آپ کے تلامذہ میں سے تھے ۔

آپ نے اپنی زندگی میں ہی یہ مدرسہ حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا ۔ آپ ہر وقت اشاعتِ علم میں مشغول رہتے تھے ۔ اس وقت دینی درسگاہوں میں ہی طلباء کو ظاہری تعلیم کے ساتھ باطنی علوم کی دولت حاصل ہوتی تھی ۔ اساتذہ تعلیم کے ساتھ تربیت و تزکیۂ نفس پر بھی خاص توجہ دیتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کا طالب علم جب فارغ التحصیل ہو کر (صرف) ایک عالم نہ ہوتا بلکہ اللہ کا ولیِ کامل بھی ہوتا تھا ۔

آپ کو حضرت خضر علیہ السلام کی مصاحبت حاصل تھی، اُن سے بہت فوائد علوم ظاہری و باطنی اخذ کیے ۔ آپ نے اپنے مریدِ کامل، حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ فرمایا: " اے عبد القادر ! وہ زمانہ بہت قریب ہے کہ جب تمہارا آستانہ مرجعِ خلائق ہوگا، اور تم دینِ محمدی کے زندہ کرنے والے اور لوگوں کو فیضِ عام عطاء کرنے والے بن جاؤگے" ۔ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کے خلیفۂ اعظم ہیں ۔ (تذکرہ قادریہ، ص:97) ـ

وصال:
آپ کا وصال بروز اتوار، 7 محرم الحرام 513ھ، مطابق 20 اپریل 1119ء کو ہوئی ۔ آپ کا مزار پر انوار بغداد شریف " باب الازج " میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ تذکرۂ قادریہ ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abu-saeed-makhzoomi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام احمد بن محمد غزالی علیہ‌الرحمہ
یومِ وصال 07 محرم الحرام 0517

حضرت شیخ ابو الفتاح امام احمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام یافعی اپنی تصنیف

" مرآۃ الجنان میں فرماتے ہیں "

کہ الشیخ ، الامام العالم ، العلامۃ عمدۃ الفہامۃ، شیخ الحقیقۃ والطریقۃ، شیخ شہاب الدین، ابو الفتاح احمد ، بن محمد ،بن محمد، طوسی غزالی حجۃ الاسلام امام محمد غزالی صاحبِ "احیاء العلوم" کے برادرِ اصغر تھے ۔

اپنے وقت کے عظیم محدث فقہ شافعی کے مشہور فقیہ تھے ۔ ایک عرصہ تک مدرسہ نظامیہ بغداد میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ پھر تصوف کا غلبہ ہوا تو سب چھوڑ چھاڑ کر اپنے بڑے بھائی کی تحریک میں شامل ہو گئے۔

ان کے وصال کے بعد ان کے مشن کو کامیابی سے چلاتے رہے ۔ وعظ و نصیحت تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا آپکے وعظ میں بیحد تأثیر تھی۔ آپکے وعظ کی برکت سے ہزاروں لوگ راہِ راست پر آئے۔ آپ فصیح اللسان اور صاحبِ کرامت تھے ۔

تصنیفات:
آپ نے امت مسلمہ کو مفید کتب سے نوازا ہے، ان میں سے چند کتب یہ ہیں!    

الذخيرة في علم البصيرة» فيالتصوف.     «لباب الإحياء» اختصر فيه كتاب «إحياء علوم الدين»، وقد نسبه آخرون إلى أخيه أبي حامد. «سوانح العشاق» بالفارسية، ذكر المستشر قفستنفلد وجود نسخة مخطوطة في المكتبة الأهلية بباريس. وذكر صاحب الذريعة أنه «الفه لتلميذه ومريده عين القضاة الهمداني «بوارق الإلماع في الرد على من يحرِّم السماع»، طُبع في الهند ،سنة ١٣١٧ هـ «تفسير سورة يوسف و قصة يوسف عليه السلام» وذكرهبر وكلمان بإسم «سر العالمين في تفسير سورة يوسف». طُبع في بومباي سنة ١٨٩٤ م بإسم «بحر المحبة في اسرار المودة في تفسير سورة يوسف» وفي دهلي سنة ١٩٠٠ م بإسم «أحسن القصص»، كما طبع بطهران سنة ١٣١٢ هـ «التجريد في كلمة التوحيد»، طُبع مؤخرا بتحقيق أحمد مجاهد «كتاب الحق والحقيقة».     «مدخل السلوك إلى منازل الملوك».     «لطائف الفكر وجوامع الدرر»، والكتابين الأخيرين ذكرهماالبغدادي۔ وذكر صاحب الأعلام أن «صاعد بن فارس اللباني» دوّن مجالس وعظه في بغداد فبلغت ٨٣ مجلساً كتبها صاعد في مجلدين۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fataah-imam-ahmad-bin-muhammad-ghazali
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 pinned «❶ फ़ैज़़ाने मौला अ़ली मुश्किल कुशा https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/4123 ❷ करामाते शेरे ख़ुदा Hindi https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3677 ❸ કરામાતે શેરે ખ઼ુદા Gujarati https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3328 ❹ Karamate Shere Khuda Eng https://t.me/…»
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-01-1445 ᴴ | 25-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-01-1445 ᴴ | 26-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1