امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا نام عبد الغفور تھا ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا اخوند عبد الغفور صاحب 1184ھ/1770ء میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کو ابتداء ہی سے دینی تعلیم کا اشتیاق تھا چنانچہ ابتدائی کتب اپنے علاقہ کے علماء سے پڑھیں، بعد ازاں پشاور کے مشہور زمانہ فاضل حضرت مولانا حافظ محمد عظیم پشاری رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر تقریباً چار برس میں تمام کتبِ متداولہ کی تحصیل و تکمیل کی سند فراغت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد شیعب حمۃ اللہ علیہ ساکن تورڈھیری کے دست اقدس پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔ اور سلاسل اربعہ میں ماذون و مجاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
صاحبِ تقویٰ، عبادت گزار، عالمِ باعمل اور عوام الناس کو رشد و ہدایت کا درس دینے والے تھے، جگہ جگہ تشریف لے جا کر اتباعِ شرعیت و سنت کی تلقین کرنے لگے، بیوہ عورتوں کا نکاح ثانی کراتے شریعت مطہرہ کے مطابق فیصلے کرتے ـ
غیر شرعی رسوم اور عقائدِ باطلہ کا سختی سے سد باب کرتے، گویا آپ کی ذات سے ایک بستانِ شریعت قائم تھا جس نے معاشرے میں زبردست انقلاب برپا کر دیا ۔
آپ کے لنگر سے ہزاروں ضرورت مند مستفید ہوتے جو خدمت دین کے جذبہ سے سر شار ہو جاتے ۔ حضرت شیخ الاسلام اخوند نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور مریدین و متعلقین میں شوق شہادت کی روح پھونک دی، مجاہدین سر بکف میدان میں نکل آئے اور نہایت بے جگری سے انگریزی افواج کا مقابلہ کیا ۔
معاملہ دست بدست لڑائی تک پہنچا اور فرنگیوں کو پسپا ہونا پڑا، یہ معر کہ جہاد امبیلہ کے نام سے مشہور ہے ۔
آپ ابتداءً سید احمد بریلوی اور مولوی اسمٰعیل دہلوی کے ساتھ مل کر جہاد و دیگر امور سر انجام دینے لگے لیکن بعد میں آپ کو ان کے عقائدِ باطلہ کے متعلق علم ہوا تو آپ ان سے الگ ہوگئے پھر ان کے عقائدِ باطلہ کے خلاف آپ نے اور آپ کے مریدین و متعلقین نے کتابیں لکھیں ۔
وصال:
آپ 7 محرم الحرام 1295ھ بمطابق جنوری 1877ء میں اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔ آپ کا مزار پر انوار سید و شریف میں مرجعِ انام ہے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghafoor-akhoon
اسمِ گرامی:
آپ کا نام عبد الغفور تھا ۔
تاریخِ ولادت:
مولانا اخوند عبد الغفور صاحب 1184ھ/1770ء میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کو ابتداء ہی سے دینی تعلیم کا اشتیاق تھا چنانچہ ابتدائی کتب اپنے علاقہ کے علماء سے پڑھیں، بعد ازاں پشاور کے مشہور زمانہ فاضل حضرت مولانا حافظ محمد عظیم پشاری رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر تقریباً چار برس میں تمام کتبِ متداولہ کی تحصیل و تکمیل کی سند فراغت حاصل کی ۔
بیعت و خلافت:
شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد شیعب حمۃ اللہ علیہ ساکن تورڈھیری کے دست اقدس پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔ اور سلاسل اربعہ میں ماذون و مجاز ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
صاحبِ تقویٰ، عبادت گزار، عالمِ باعمل اور عوام الناس کو رشد و ہدایت کا درس دینے والے تھے، جگہ جگہ تشریف لے جا کر اتباعِ شرعیت و سنت کی تلقین کرنے لگے، بیوہ عورتوں کا نکاح ثانی کراتے شریعت مطہرہ کے مطابق فیصلے کرتے ـ
غیر شرعی رسوم اور عقائدِ باطلہ کا سختی سے سد باب کرتے، گویا آپ کی ذات سے ایک بستانِ شریعت قائم تھا جس نے معاشرے میں زبردست انقلاب برپا کر دیا ۔
آپ کے لنگر سے ہزاروں ضرورت مند مستفید ہوتے جو خدمت دین کے جذبہ سے سر شار ہو جاتے ۔ حضرت شیخ الاسلام اخوند نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور مریدین و متعلقین میں شوق شہادت کی روح پھونک دی، مجاہدین سر بکف میدان میں نکل آئے اور نہایت بے جگری سے انگریزی افواج کا مقابلہ کیا ۔
معاملہ دست بدست لڑائی تک پہنچا اور فرنگیوں کو پسپا ہونا پڑا، یہ معر کہ جہاد امبیلہ کے نام سے مشہور ہے ۔
آپ ابتداءً سید احمد بریلوی اور مولوی اسمٰعیل دہلوی کے ساتھ مل کر جہاد و دیگر امور سر انجام دینے لگے لیکن بعد میں آپ کو ان کے عقائدِ باطلہ کے متعلق علم ہوا تو آپ ان سے الگ ہوگئے پھر ان کے عقائدِ باطلہ کے خلاف آپ نے اور آپ کے مریدین و متعلقین نے کتابیں لکھیں ۔
وصال:
آپ 7 محرم الحرام 1295ھ بمطابق جنوری 1877ء میں اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔ آپ کا مزار پر انوار سید و شریف میں مرجعِ انام ہے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghafoor-akhoon
scholars.pk
Hazrat Molana Abdul Ghafoor Akhoon
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت پیر امانت علی چشتی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
پیر طریقت حضرت مولانا ابو حقائق پیر سید امانت علی شاہ نظامی ابن حضرت پیر سید برکت علی شاہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہما ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب 35 واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے ۔
تاریخ ومقامِ ولادت:
آپ 2 صفر المظفر 1322ھ / بمطابق اپریل 1901ء بروز پیر، موضع گلہوٹی سیداں، ڈاک خانہ کوٹ عیسٰی خاں، تحصیل زیرہ، ضلع فیروز پور (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے تایا زاد بھائی حضرت پیر سیدنا در علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئے ۔ مرشد کامل نے آپ کو خلافت و اجازت سے بھی سر فراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت پیر امانت علی چشتی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زاہد، عابد یادِ الٰہی میں مستغرق رہنے والے تھے۔ مشکل عقائد کو سہل انداز میں بیان فرماکر لوگوں کے ذہنوں میں ان مسائل وعقائد کو نقش فرمادیتے۔ مثنوی شریف پر نا قابل یقین حد تک عبور تھا، جب آپ مثنوی شریف کے اشعار اپنے مخصوص انداز میں پڑھتے تو سامعین کیف و مستی سے سر شار ہو جاتے ۔آپ کی تقریر اسرارِ تصوف کی آئینہ دار ہوتی تھی۔ پیر سید امانت علی شاہ عابد شب زندہ بزرگ تھے،نماز تہجد باقاعد گی سے ادا کرتے اور شریعت مطہرہ کی پیروی کو ہر وقت پیش نظر رکھتے،سخت سے سخت تکلیف کی حالت میں کبھی نماز قضانہ ہونے دیتے ۔
ہر جمعرات حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری دیتے اور ایک عرصہ تک ہر نو چندی جمعرات کو حضرت فرید الدین گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ عالیہ پر حاضری دیتے رہے۔ بزرگان سلسلہ اور مشائخ کے عرس برے اہتمام سے مناتے۔
وصال:
7محرم الحرام 1391 ھ / بمطابق مارچ 1971ء بروز جمعہ پیر سید امانت علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے ۔ نماز جنازہ آپ کے چھوٹے بھائی حضرت پیر سید کرامت علی شال چشتی نظامی مد ظلہ نے پڑھائی ۔مزار آستانہ بیت الامان گنج مغل پورہ، لاہور میں ہے، مزار شریف پر خوبصورت گنبد تعمیر ہو چکا ہے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-amanat-ali-chishti-lahori
اسمِ گرامی:
پیر طریقت حضرت مولانا ابو حقائق پیر سید امانت علی شاہ نظامی ابن حضرت پیر سید برکت علی شاہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہما ۔
سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب 35 واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے ۔
تاریخ ومقامِ ولادت:
آپ 2 صفر المظفر 1322ھ / بمطابق اپریل 1901ء بروز پیر، موضع گلہوٹی سیداں، ڈاک خانہ کوٹ عیسٰی خاں، تحصیل زیرہ، ضلع فیروز پور (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے تایا زاد بھائی حضرت پیر سیدنا در علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئے ۔ مرشد کامل نے آپ کو خلافت و اجازت سے بھی سر فراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
حضرت پیر امانت علی چشتی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زاہد، عابد یادِ الٰہی میں مستغرق رہنے والے تھے۔ مشکل عقائد کو سہل انداز میں بیان فرماکر لوگوں کے ذہنوں میں ان مسائل وعقائد کو نقش فرمادیتے۔ مثنوی شریف پر نا قابل یقین حد تک عبور تھا، جب آپ مثنوی شریف کے اشعار اپنے مخصوص انداز میں پڑھتے تو سامعین کیف و مستی سے سر شار ہو جاتے ۔آپ کی تقریر اسرارِ تصوف کی آئینہ دار ہوتی تھی۔ پیر سید امانت علی شاہ عابد شب زندہ بزرگ تھے،نماز تہجد باقاعد گی سے ادا کرتے اور شریعت مطہرہ کی پیروی کو ہر وقت پیش نظر رکھتے،سخت سے سخت تکلیف کی حالت میں کبھی نماز قضانہ ہونے دیتے ۔
ہر جمعرات حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری دیتے اور ایک عرصہ تک ہر نو چندی جمعرات کو حضرت فرید الدین گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ عالیہ پر حاضری دیتے رہے۔ بزرگان سلسلہ اور مشائخ کے عرس برے اہتمام سے مناتے۔
وصال:
7محرم الحرام 1391 ھ / بمطابق مارچ 1971ء بروز جمعہ پیر سید امانت علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے ۔ نماز جنازہ آپ کے چھوٹے بھائی حضرت پیر سید کرامت علی شال چشتی نظامی مد ظلہ نے پڑھائی ۔مزار آستانہ بیت الامان گنج مغل پورہ، لاہور میں ہے، مزار شریف پر خوبصورت گنبد تعمیر ہو چکا ہے ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-amanat-ali-chishti-lahori
scholars.pk
Hazrat Peer Syed Amanat Ali Chishti Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت علامہ ومولانا شاہ آفاق دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
[ مرشد گرامی شاہ افغان اور شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی ]
نام و نسب:
آپ کا نام آفاق بن احسان اللہ بن شیخ محمد اظہر رحمہم اللہ ہے ۔ آپ کا نسب چھ واسطوں سے حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 1160 ھ میں ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
مولانا شاہ آفاق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خواجہ ضیاء اللہ مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست بیعت کی اور خرقہ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا۔تمام ظاہری وباطنی علوم بھی اپنے پیرومرشد سے حاصل کیے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت شاہ آفاق رحمۃ اللہ علیہ متقی، پر ہیزگار، عبادت گزار اور صاحبِ علم وعمل تھے۔درس تدریس، وعظ ونصیحت کی وجہ سے آپ کو خوب قبولِ عام ملا اور شہرہ آفاق ہوئے ۔
دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کے پاس دینی وشرعی رہنمائی حاصل کرنے آتے تھے۔آپ نہ صرف مرجع العوام تھے بلکہ خواص کے بھی مرجع تھے ۔ عوام و خواص آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کے آستانے کی دہلیز پر جو کوئی منگتا آتا وہ خالی ہاتھ لوٹ کے نہ جاتا ـ
آپ جس طرح شرعی مسائل کا حل فرماتے اسی طرح اگر آپ کے پاس مصیبت زدہ آتا آپ اس کی مصیبت کو دور فرماکر اسے راحت پہنچاتے ۔
وصال:
آپ کی وفات 7محرم 1251ھ / بمطابق مئی 1835ء میں ہوئی ۔
مزارتِ اولیاء کو منہدم کرنے والے کی سزا:
آپ کا مزار شریف سبزی منڈی قریب مغل پورہ دہلی میں تھا، مگر اوقاف کے صدر مولوی حفظ الرحمٰن ناظم جمیعۃ علمائے ہند کی غفلت و لا پَر واہی کی وجہ سے منہدم کر دیا گیا اور لکڑیاں ڈال دی گئیں ۔
ایک معتبر راوی کی زبانی معلوم ہوا کہ جس شخص نے یہ حرکت کی تھی اس کے بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے اور اسی حال میں وہ شقی، دشمنِ اولیاء مر گیا ۔ اللّٰھُمَّ احْفِظْنَا مِنْ اِھَا نَتہِ الْاَنْبِیَا ءِ وَالْاَوْلیَاءِ (اٰمین) ـ
ماخذ و مراجع: تذکرہ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-muhammad-afaq-dehlvi
[ مرشد گرامی شاہ افغان اور شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی ]
نام و نسب:
آپ کا نام آفاق بن احسان اللہ بن شیخ محمد اظہر رحمہم اللہ ہے ۔ آپ کا نسب چھ واسطوں سے حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 1160 ھ میں ہوئی ۔
بیعت و خلافت:
مولانا شاہ آفاق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خواجہ ضیاء اللہ مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست بیعت کی اور خرقہ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا۔تمام ظاہری وباطنی علوم بھی اپنے پیرومرشد سے حاصل کیے ۔
سیرت و خصائص:
حضرت شاہ آفاق رحمۃ اللہ علیہ متقی، پر ہیزگار، عبادت گزار اور صاحبِ علم وعمل تھے۔درس تدریس، وعظ ونصیحت کی وجہ سے آپ کو خوب قبولِ عام ملا اور شہرہ آفاق ہوئے ۔
دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کے پاس دینی وشرعی رہنمائی حاصل کرنے آتے تھے۔آپ نہ صرف مرجع العوام تھے بلکہ خواص کے بھی مرجع تھے ۔ عوام و خواص آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کے آستانے کی دہلیز پر جو کوئی منگتا آتا وہ خالی ہاتھ لوٹ کے نہ جاتا ـ
آپ جس طرح شرعی مسائل کا حل فرماتے اسی طرح اگر آپ کے پاس مصیبت زدہ آتا آپ اس کی مصیبت کو دور فرماکر اسے راحت پہنچاتے ۔
وصال:
آپ کی وفات 7محرم 1251ھ / بمطابق مئی 1835ء میں ہوئی ۔
مزارتِ اولیاء کو منہدم کرنے والے کی سزا:
آپ کا مزار شریف سبزی منڈی قریب مغل پورہ دہلی میں تھا، مگر اوقاف کے صدر مولوی حفظ الرحمٰن ناظم جمیعۃ علمائے ہند کی غفلت و لا پَر واہی کی وجہ سے منہدم کر دیا گیا اور لکڑیاں ڈال دی گئیں ۔
ایک معتبر راوی کی زبانی معلوم ہوا کہ جس شخص نے یہ حرکت کی تھی اس کے بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے اور اسی حال میں وہ شقی، دشمنِ اولیاء مر گیا ۔ اللّٰھُمَّ احْفِظْنَا مِنْ اِھَا نَتہِ الْاَنْبِیَا ءِ وَالْاَوْلیَاءِ (اٰمین) ـ
ماخذ و مراجع: تذکرہ علماء اہلسنت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-muhammad-afaq-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Shah Muhammad Afaq Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت علامہ ومولانا شاہ آفاق دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ [ مرشد گرامی شاہ افغان اور شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی ] نام و نسب: آپ کا نام آفاق بن احسان اللہ بن شیخ محمد اظہر رحمہم اللہ ہے ۔ آپ کا نسب چھ واسطوں سے حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا…
ْ حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی
مرشد گرامی شاہ افغان اور
شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55048
مرشد گرامی شاہ افغان اور
شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55048
❤1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی
مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد
صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا ۔
ولادت:
بروز پیر، ۷؍محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲؍جنوری ۱۸۷۷ءکو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء) کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے ۔
آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔
بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی(۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔
حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی ۔
بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف (۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے ۔
وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد
صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا ۔
ولادت:
بروز پیر، ۷؍محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲؍جنوری ۱۸۷۷ءکو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء) کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے ۔
آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔
بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی(۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔
حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی ۔
بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف (۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے ۔
وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام و نسب: احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘…
#یوم_ولادت_ماہ_محرم_الحرام
#یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاولی
https://t.me/islaamic_Knowledge/41515
https://t.me/islaamic_Knowledge/55051
#یوم_وصال_ماہ_جمادی_الاولی
https://t.me/islaamic_Knowledge/41515
https://t.me/islaamic_Knowledge/55051
❤1
امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حضرت مولا علی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔
خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔
سیرت و خصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے ۔ عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے، کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیر معمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اور اس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہو کر بہت بلند مقام و مرتبہ پائے گا ۔ اور ہوا ایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح و بلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے ۔ آپ کا کلام و بیان، وعظ و نصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب تو پیدا کر ہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہو جاتا ۔ اسلام کی نشر و اشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی و اخلاقی و روحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔
اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماں ﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی، جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیدا ہو چکے اور ان کی وفات بھی ہو چکی ہے ۔ لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)
وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حضرت مولا علی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔
خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔
سیرت و خصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے ۔ عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے، کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیر معمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اور اس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہو کر بہت بلند مقام و مرتبہ پائے گا ۔ اور ہوا ایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح و بلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے ۔ آپ کا کلام و بیان، وعظ و نصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب تو پیدا کر ہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہو جاتا ۔ اسلام کی نشر و اشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی و اخلاقی و روحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔
اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماں ﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی، جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیدا ہو چکے اور ان کی وفات بھی ہو چکی ہے ۔ لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)
وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
scholars.pk
Hazrat Imam Abul Qasim Muhammad Mehdi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نام و نسب: اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام…
#یوم_ولادت_ماہ_رمضان_المبارک
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/48167
https://t.me/islaamic_Knowledge/55054
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/48167
https://t.me/islaamic_Knowledge/55054
❤1
حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مبارک بن علی ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: قاضی القضاۃ، مصلح الدین، قبیلہ بنی مخزوم کی نسبت سے "مخزومی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو سعید مبارک مخزومی بن علی بن حسین بن بندار البغدادی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
مولد و موطن:
آپ کی ولادت باسعادت 446ھ، کو محلہ "مخرّم" بغداد معلی (عراق) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے سید یونس رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ صمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل سرخسی رحمۃ اللہ کی صحبت سے فیضِ کامل اورعلمِ نافع پایا ۔
آپ حنبلی المذہب اور فقیہ العصر تھے، اور جماعتِ حنابلہ کے اصول و فروع میں شیخ و امام تسلیم کیے جاتے تھے ۔ آپ بغداد کے "قاضی القضاۃ " (چیف جسٹس) کے منصب پر فائز تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ ابوالحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوخلیفۂ اعظم تھے ۔ ان کے علاوہ آپ نے سید یونس رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ صمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل سرخسی رحمۃ اللہ سے بھی فیض یاب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سراج العالمین، فخر السّالکین، قطب الاقطاب، مظہر رب الارباب، محافظِ قواعد الاسلام، مبیّن الحلال و الحرام، سلطان الاولیاء، بُرھان الاتقیاء، قدوۂ عارفاں، قبلۂ سالکاں، پیرِ طریقت، واقفِ حقیقت، جامع علوم ظاہر و باطن حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخ ابو الحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ نے اٹھارہ سال اپنے شیخ کی خدمت میں رہ کر ریاضتِ شاقہ کیں اور کامل و اکمل ہوکر خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔
آپ نے مدرسہ "باب الازج بغداد " کی بنیاد رکھی، اور علومِ شرعیہ کی تعلیم و تدریس شروع کی، اکثر فضلائے زمانہ آپ کے تلامذہ میں سے تھے ۔
آپ نے اپنی زندگی میں ہی یہ مدرسہ حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا ۔ آپ ہر وقت اشاعتِ علم میں مشغول رہتے تھے ۔ اس وقت دینی درسگاہوں میں ہی طلباء کو ظاہری تعلیم کے ساتھ باطنی علوم کی دولت حاصل ہوتی تھی ۔ اساتذہ تعلیم کے ساتھ تربیت و تزکیۂ نفس پر بھی خاص توجہ دیتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کا طالب علم جب فارغ التحصیل ہو کر (صرف) ایک عالم نہ ہوتا بلکہ اللہ کا ولیِ کامل بھی ہوتا تھا ۔
آپ کو حضرت خضر علیہ السلام کی مصاحبت حاصل تھی، اُن سے بہت فوائد علوم ظاہری و باطنی اخذ کیے ۔ آپ نے اپنے مریدِ کامل، حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ فرمایا: " اے عبد القادر ! وہ زمانہ بہت قریب ہے کہ جب تمہارا آستانہ مرجعِ خلائق ہوگا، اور تم دینِ محمدی کے زندہ کرنے والے اور لوگوں کو فیضِ عام عطاء کرنے والے بن جاؤگے" ۔ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کے خلیفۂ اعظم ہیں ۔ (تذکرہ قادریہ، ص:97) ـ
وصال:
آپ کا وصال بروز اتوار، 7 محرم الحرام 513ھ، مطابق 20 اپریل 1119ء کو ہوئی ۔ آپ کا مزار پر انوار بغداد شریف " باب الازج " میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ تذکرۂ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abu-saeed-makhzoomi
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مبارک بن علی ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: قاضی القضاۃ، مصلح الدین، قبیلہ بنی مخزوم کی نسبت سے "مخزومی" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ ابو سعید مبارک مخزومی بن علی بن حسین بن بندار البغدادی ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ـ
مولد و موطن:
آپ کی ولادت باسعادت 446ھ، کو محلہ "مخرّم" بغداد معلی (عراق) میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے سید یونس رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ صمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل سرخسی رحمۃ اللہ کی صحبت سے فیضِ کامل اورعلمِ نافع پایا ۔
آپ حنبلی المذہب اور فقیہ العصر تھے، اور جماعتِ حنابلہ کے اصول و فروع میں شیخ و امام تسلیم کیے جاتے تھے ۔ آپ بغداد کے "قاضی القضاۃ " (چیف جسٹس) کے منصب پر فائز تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ شیخ ابوالحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوخلیفۂ اعظم تھے ۔ ان کے علاوہ آپ نے سید یونس رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ صمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل سرخسی رحمۃ اللہ سے بھی فیض یاب ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
سراج العالمین، فخر السّالکین، قطب الاقطاب، مظہر رب الارباب، محافظِ قواعد الاسلام، مبیّن الحلال و الحرام، سلطان الاولیاء، بُرھان الاتقیاء، قدوۂ عارفاں، قبلۂ سالکاں، پیرِ طریقت، واقفِ حقیقت، جامع علوم ظاہر و باطن حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخ ابو الحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے ۔ آپ نے اٹھارہ سال اپنے شیخ کی خدمت میں رہ کر ریاضتِ شاقہ کیں اور کامل و اکمل ہوکر خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔
آپ نے مدرسہ "باب الازج بغداد " کی بنیاد رکھی، اور علومِ شرعیہ کی تعلیم و تدریس شروع کی، اکثر فضلائے زمانہ آپ کے تلامذہ میں سے تھے ۔
آپ نے اپنی زندگی میں ہی یہ مدرسہ حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا ۔ آپ ہر وقت اشاعتِ علم میں مشغول رہتے تھے ۔ اس وقت دینی درسگاہوں میں ہی طلباء کو ظاہری تعلیم کے ساتھ باطنی علوم کی دولت حاصل ہوتی تھی ۔ اساتذہ تعلیم کے ساتھ تربیت و تزکیۂ نفس پر بھی خاص توجہ دیتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کا طالب علم جب فارغ التحصیل ہو کر (صرف) ایک عالم نہ ہوتا بلکہ اللہ کا ولیِ کامل بھی ہوتا تھا ۔
آپ کو حضرت خضر علیہ السلام کی مصاحبت حاصل تھی، اُن سے بہت فوائد علوم ظاہری و باطنی اخذ کیے ۔ آپ نے اپنے مریدِ کامل، حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ فرمایا: " اے عبد القادر ! وہ زمانہ بہت قریب ہے کہ جب تمہارا آستانہ مرجعِ خلائق ہوگا، اور تم دینِ محمدی کے زندہ کرنے والے اور لوگوں کو فیضِ عام عطاء کرنے والے بن جاؤگے" ۔ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کے خلیفۂ اعظم ہیں ۔ (تذکرہ قادریہ، ص:97) ـ
وصال:
آپ کا وصال بروز اتوار، 7 محرم الحرام 513ھ، مطابق 20 اپریل 1119ء کو ہوئی ۔ آپ کا مزار پر انوار بغداد شریف " باب الازج " میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ۔ تذکرۂ قادریہ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abu-saeed-makhzoomi
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی نام و نسب: اسمِ گرامی: مبارک بن علی ۔ کنیت: ابو سعید ۔ لقب: قاضی القضاۃ، مصلح الدین، قبیلہ بنی مخزوم کی نسبت سے "مخزومی" کہلاتے ہیں ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: شیخ ابو سعید مبارک مخزومی بن علی بن حسین بن بندار البغدادی ۔ (علیہم…
حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ
کے خلیفۂ اعظم ہیں۔ (تذکرہ قادریہ97)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55057
کے خلیفۂ اعظم ہیں۔ (تذکرہ قادریہ97)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#یوم_وصال_ماہ_محرم_الحرام
https://t.me/islaamic_Knowledge/55057
❤1
امام احمد بن محمد غزالی علیہالرحمہ
یومِ وصال 07 محرم الحرام 0517
حضرت شیخ ابو الفتاح امام احمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام یافعی اپنی تصنیف
" مرآۃ الجنان میں فرماتے ہیں "
کہ الشیخ ، الامام العالم ، العلامۃ عمدۃ الفہامۃ، شیخ الحقیقۃ والطریقۃ، شیخ شہاب الدین، ابو الفتاح احمد ، بن محمد ،بن محمد، طوسی غزالی حجۃ الاسلام امام محمد غزالی صاحبِ "احیاء العلوم" کے برادرِ اصغر تھے ۔
اپنے وقت کے عظیم محدث فقہ شافعی کے مشہور فقیہ تھے ۔ ایک عرصہ تک مدرسہ نظامیہ بغداد میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ پھر تصوف کا غلبہ ہوا تو سب چھوڑ چھاڑ کر اپنے بڑے بھائی کی تحریک میں شامل ہو گئے۔
ان کے وصال کے بعد ان کے مشن کو کامیابی سے چلاتے رہے ۔ وعظ و نصیحت تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا آپکے وعظ میں بیحد تأثیر تھی۔ آپکے وعظ کی برکت سے ہزاروں لوگ راہِ راست پر آئے۔ آپ فصیح اللسان اور صاحبِ کرامت تھے ۔
تصنیفات:
آپ نے امت مسلمہ کو مفید کتب سے نوازا ہے، ان میں سے چند کتب یہ ہیں!
الذخيرة في علم البصيرة» فيالتصوف. «لباب الإحياء» اختصر فيه كتاب «إحياء علوم الدين»، وقد نسبه آخرون إلى أخيه أبي حامد. «سوانح العشاق» بالفارسية، ذكر المستشر قفستنفلد وجود نسخة مخطوطة في المكتبة الأهلية بباريس. وذكر صاحب الذريعة أنه «الفه لتلميذه ومريده عين القضاة الهمداني «بوارق الإلماع في الرد على من يحرِّم السماع»، طُبع في الهند ،سنة ١٣١٧ هـ «تفسير سورة يوسف و قصة يوسف عليه السلام» وذكرهبر وكلمان بإسم «سر العالمين في تفسير سورة يوسف». طُبع في بومباي سنة ١٨٩٤ م بإسم «بحر المحبة في اسرار المودة في تفسير سورة يوسف» وفي دهلي سنة ١٩٠٠ م بإسم «أحسن القصص»، كما طبع بطهران سنة ١٣١٢ هـ «التجريد في كلمة التوحيد»، طُبع مؤخرا بتحقيق أحمد مجاهد «كتاب الحق والحقيقة». «مدخل السلوك إلى منازل الملوك». «لطائف الفكر وجوامع الدرر»، والكتابين الأخيرين ذكرهماالبغدادي۔ وذكر صاحب الأعلام أن «صاعد بن فارس اللباني» دوّن مجالس وعظه في بغداد فبلغت ٨٣ مجلساً كتبها صاعد في مجلدين۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fataah-imam-ahmad-bin-muhammad-ghazali
یومِ وصال 07 محرم الحرام 0517
حضرت شیخ ابو الفتاح امام احمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام یافعی اپنی تصنیف
" مرآۃ الجنان میں فرماتے ہیں "
کہ الشیخ ، الامام العالم ، العلامۃ عمدۃ الفہامۃ، شیخ الحقیقۃ والطریقۃ، شیخ شہاب الدین، ابو الفتاح احمد ، بن محمد ،بن محمد، طوسی غزالی حجۃ الاسلام امام محمد غزالی صاحبِ "احیاء العلوم" کے برادرِ اصغر تھے ۔
اپنے وقت کے عظیم محدث فقہ شافعی کے مشہور فقیہ تھے ۔ ایک عرصہ تک مدرسہ نظامیہ بغداد میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ پھر تصوف کا غلبہ ہوا تو سب چھوڑ چھاڑ کر اپنے بڑے بھائی کی تحریک میں شامل ہو گئے۔
ان کے وصال کے بعد ان کے مشن کو کامیابی سے چلاتے رہے ۔ وعظ و نصیحت تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا آپکے وعظ میں بیحد تأثیر تھی۔ آپکے وعظ کی برکت سے ہزاروں لوگ راہِ راست پر آئے۔ آپ فصیح اللسان اور صاحبِ کرامت تھے ۔
تصنیفات:
آپ نے امت مسلمہ کو مفید کتب سے نوازا ہے، ان میں سے چند کتب یہ ہیں!
الذخيرة في علم البصيرة» فيالتصوف. «لباب الإحياء» اختصر فيه كتاب «إحياء علوم الدين»، وقد نسبه آخرون إلى أخيه أبي حامد. «سوانح العشاق» بالفارسية، ذكر المستشر قفستنفلد وجود نسخة مخطوطة في المكتبة الأهلية بباريس. وذكر صاحب الذريعة أنه «الفه لتلميذه ومريده عين القضاة الهمداني «بوارق الإلماع في الرد على من يحرِّم السماع»، طُبع في الهند ،سنة ١٣١٧ هـ «تفسير سورة يوسف و قصة يوسف عليه السلام» وذكرهبر وكلمان بإسم «سر العالمين في تفسير سورة يوسف». طُبع في بومباي سنة ١٨٩٤ م بإسم «بحر المحبة في اسرار المودة في تفسير سورة يوسف» وفي دهلي سنة ١٩٠٠ م بإسم «أحسن القصص»، كما طبع بطهران سنة ١٣١٢ هـ «التجريد في كلمة التوحيد»، طُبع مؤخرا بتحقيق أحمد مجاهد «كتاب الحق والحقيقة». «مدخل السلوك إلى منازل الملوك». «لطائف الفكر وجوامع الدرر»، والكتابين الأخيرين ذكرهماالبغدادي۔ وذكر صاحب الأعلام أن «صاعد بن فارس اللباني» دوّن مجالس وعظه في بغداد فبلغت ٨٣ مجلساً كتبها صاعد في مجلدين۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-abul-fataah-imam-ahmad-bin-muhammad-ghazali
❤1