🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مفتی دار العلوم عطائے رسول مکرانہ راجستھان

ولادت:
حضرت مولانا قاری انوار الحق مصطفوی رضوی۷؍محرم الحرام ۱۹۵۵ء بروز دوشنبہ بوقت صحبح صادق ونکا بریلی شریف میں پیدا ہوئے، حسنِ اتفاق یہ کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا حسب معمول روزہ تھا۔ عرصہ دراز سےاہل خاندان کی تمنا برآنے پر محلے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ حضرت شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ (جو شیشی گڑھ بریلی میں رہتے تھے اور غالباً یہیں ان کا مزار بھی ہے) اپنے علاقے کےمشہور بزرگ تھے، انہوں نے آکر قاری انوار الحق کے والد مبارک باد پیش کی۔

تسمیہ خوانی:
مولاقاری انوارالحق رضوی کی عمر جب چار سال، چار ماہ کی ہوئی تو والد بزرگوار نے اپنے محلے کی مسجد المعروف رضا مسجد محلہ ٹانڈہ ونکا میں حافظ عبدالباری ونکوی سےرسمِ بسم اللہ خوانی کرائی۔

تعلیم و تربیت:
مولانا عبدالکریم عرف بابو جید نکوی سے گھر پر قاری انوار الحق نےقرآن پاک، اور اُردو پانچویں درجے تک مع حساب وغیرہ کی تعلیم پائی۔ قرآن کریم اور مذہبیات کی مزید تعلیم کے لیے بریلی شریف کے تعلیم یافتہ مولوی ماسٹر بشیر احمد انصاری کی خدمت میں رہ کر دینیات وغیرہ کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۹۶۶ء میں مدرسہ اہلِ سنت ریاض الاسلام بستی ونکا ضلع بریلی میں داخلہ لیا، اور حصول علم میں مشغول ہوگئے۔

۱۹۷۰ء میں الحاج صوفی ظہور الاسلام ونکوی (تلمیذ محمد اجمل شاہ سنبھلی) کیمعیت میں کچھ ایام موضع بلاری ضلع مراد آباد میں قیام کر کے مدرسہ اہلِ سنت الجامعۃ الاسلامیہ متصل مسجد رستم خاں محلہ نواب خیل قصبہ سرائے ترین سنبھل تشریف لے گئے اور مکدوم ملت مفتی عبد السلام رضوی علیہ الرحمۃ کےزیر سیایہ رہ کر آمد نامہ سےلے کر بخاری شریف تک جملہ کتب درسِ نظامیہ کی تکمیل کی، بحکم بزرگاں یک درگیر و محکم بگیر کے تحت قاری انوار الحق نے ایک ہی جگہ رہکر تعلیم سے فراغت پائی۔ مفتی عبد السلام رضوی سنبھلی کےحکم سےتعلیم کے دوران قصبہ حیات نگر سنبھل میں امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

سند فراغت:
۱۹۷۷ء میں مفتی عبد السلام رضوی نے سندِ فراغت مع جبہ ودستار عطا فرمائی، بعدہٗ برکت کےلیے دارالعلوم مظہر اسلام مسجد بی بی جی بریلی میں داخل ہوکر دوبارہ دورۂ حدیث شریف کیا۔ بخاری شریف کے اختتام پر حضور مفتئ اعظم قد س سرہٗ سے بخاری کی آخری حدیث پڑھ کر شرفِ تلمذ حاصل کیا، اور آپ دستار سے نوازے گئے۔

اساتذۂ کرام:
۱۔ حضرت مولانا احسان علی رضوی مظفر پوری علیہ الرحمۃ
۲۔ حضرت مفتی عبد السلام رضوی سنبھلی علیہ الرحمۃ
۳۔ حضرت مولانا سید محمد عارف رضوی نانپاروی شیخ الحدیث منظر اسلام بریلی
۴۔ حضرت مولانا مفتی محمد اعظم رضوی ٹانڈوی شیخ الحدیث مظہر اسلام بریلی
۵۔ مولانا قاری خلیل احمد سنبھلی
۶۔ حضرت مولانا ضمیر حسن سنبھلی
۷۔ حضرت مولانا ہاشم بہاری

خدمات دینیہ:
مولانا قاری انوار الحق بریلی تعلیم کے دوران محلہ جسولی بڑی مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دیتے، وہیں سے آپ ن ے بحکم مفتئ راجستھان مولانا اشفاق حسین نعیمی دار العلوم اسحاقیہ میں درس وتدریس کی خدمت انجام دی۔ دار العلوم اسحاقیہ سے اراکین مدرسہ ضیاء الاسلام راجستھان کے اصرار پر آپ وہاں تشریف لے گئے، اور وہاں پر درس وخطابت کے فرائض سر انجام دیئے۔ قاری انوار الحق تقریباً تین سال تک یہ کام بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔

پھر قاری انوار الحق پالی راوڑ راجستھان سےمنتقل ہوکر دارالعلوم غریب نواز قصبہ شاہیوا ضلع بھیل داڑہ میں بحیثیت صدرمدرس خدمت کےلیے تشریف لے گئے۔ جامعہ مقصودیہ رِچھابہیڑی ضلع بریلی کے اراکین کے اصرار پر اور والدین محترمین کی خواہش پر جامعہ مقصودیہ رِچھا تشریف لائےاور یہان پر چھ سال مستقل طور پر قیام پذیر رہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ جامع مسجدکی خطابت بھی آپ کے ذمے تھی۔

حج و زیارت:
۱۹۵۴ھ؍۲۳ سال کی عمر میں قاری انوار الحق شعبان المعظم میں بحری جہاز سےزیارت حرمین کے لیے تشریف لے گئے، اور بمبئی میں شب براءت کرتے ہوئے آغازِ رمضان المبارک میں مکہ معظمہ پہنچ کر ستر ۷۰ عمرے کیے، اور آخری عشرہ میں مدینہ منورہ پہنچ کر عید الفطر وغیرہ کی برکتیں حاصل کیں، اور چالیس دن مدینہ منورہ میں قیام رہا۔ مندرجہ ذیل علماء ومشائخ کی زیارت کا شرف بھی حجاز مقدس میں حاصل ہوا۔

۱۔ قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد المدنی رضوی خلیفہ امام احمد رضا بریلوی
۲۔ حضرت مولانا قاری مصلح الدین صدیقی رضوی کراچی [1]
۳۔ حضرت مفتی محمد خلیل خاں برکاتی رضوی احسن البرکات حیدر آ﷜باد
۴۔ حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی پاکستان ـ
تبلیغی سرگرمیاں:
حضرت مولانا قاری انوار الحق نے حسبِ ضرورت موضع راٹھ گرگیہ میں ایک مدرسہ بنام جامعہ غوثیہ شمس العلوم، موضع بھیکم پور میں مدرسہ مصطفائی وکیل العلوم، موضع گنہ ہو میں مدرسہ عزیزی العلوم، موضع بجریا جاگیر میں جامعہ حنفیہ فیضان العلوم، قصبہ میر گنج میں جامعہ مصطفویہ، موضع جعفر پور شیشی گڑھ میں جامعہ حنفیہ غوثیہ، ریلوے اسٹیشن رچھابہیڑی ضلع بریلی الجامعۃ القادریہ جیسے ادارے قائم فرمائے اور ان کی ترقی اور تبلیغی سرگرمیوں میں ایک اہم رول ادا کیا۔

حضرت مولانا نعیم اللہ خاں رضوی بستوی کے حکم پر قاری انوار الحق وادی کشمیر میں دینِ حق کی ضیا پاشیوں کے لیے منتخب ہوئے۔ دارالعلوم غوچیہ بارہ مولا میں ستمبر ۱۹۸۷ء سے ۱۹۸۸ء تک درس دیتے رہے، اور شعبۂ دارالافتاء میں مفتی بھی رہے۔ احباب بڈگام کی خواہش پر قصبہ سومانگ اور کرالپور میں رہ کر ضلع اسلام آباد، سرینگر وغیرہ میں سیکڑوں مقامات کا دورہ کیا۔ کشمیر کے بھولے بھالےمسلمانوں کو رافضیت، وہابیت وغیرہ کی گمراہیت سے متنفر کردیا۔ قاری انوار الحق نے مذہب اہلِ سنت کی تبلیغ وترویج میں ہمہ تن کوشش کر کے کامیابی سے ہمکنار ہوئے، اور امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کا پُر زور تعارف بھی کرایا۔

قاری انوار الحق کی تحریک پر عظیم الشان جلسۂ سیرۃ النبی (منعقدہ ۱۸؍ ۱۹؍ ۲۰؍اگست ۱۹۸۹ء) کا انعقاد ہوا جس میں علماء ومشائخ اہل سنت نے بکثرت شرکت کی، آپ نے اس وقت دارالعلوم عطائے رسول مکرانہ راجستھان میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی ہے اور اس کی تعلیمی و تعمیری ترقی میں مصروف ہیں اور نہایت زور شور کے ساتھ درسی تحریری دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

عقدِ مسنون:
مولانا قاری انوار الحق کی شادی ۱۹۷۸ء کے آخر میں بنجریا جاگیر پوسٹ دو ھ نزا ضلع بریلی سے جناب ظہور احمد عرف بڑے کی دختر سے ہوئی۔

بیعت و خلافت:
۱۹۷۵ء میں مفتی شاہ محمد عبد السلام رضوی کی معیت میں بریلی پہنچے اور مفتئ اعظم کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل ہوا، اور دوسرے موقع پر حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی نے اجازت وخلافت سے سر فراز فرمایا۔

تصانیف:
مولانا قاری انوار الحق کئی خوبیوں کے مالک ہیں۔ ان میں ایک تحریری بیداری ہے آپ کی تصنیفات اور تالیفات تقریباً چالیس کے ریب ہیں۔ مندرجہ ذیل کتابیں طبع ہوچکی ہیں:

۱۔ انوار القرآن فی محاسن کنز الایمان
۲۔ انوار بخشش (نعتیہ دیوان)
۳۔ انوار الشہداء
۴۔ انوار التقریر مع مراسم کشمیر
۵۔ انوار التجوید
۶۔ انوار الاسلام
۷۔ انوارِ مخدوم ملت
۸۔ انوار الفقہ
۹۔ انوار الطب

تلامذہ:
۱۔ مولانا توفیق احمد رضوی شیش گڑھ
۲۔ مولانا فضیل احمد رضوی جعفر پوری بریلی
۳۔ مولانا جعفر علی سمروان
۴۔ مولانا یٰسین رضا دنکوی
۵۔ مولانا ارشاد احمد بہیڑوی
۶۔ مولانا امیر الحسن کشمیری حال مقیم مدینہ منورہ
۷۔ مولانا عتیق احمد جام بہیڑوی
۸۔ مولانا محمد ناظم دم کھودوں
۹۔ مولانا محمد سلطان بیگون شریف مدھیہ پردیش
۱۰۔ حافظ عرفان احمد دنکوی
۱۱۔ مولوی محمد فیضان رضا ونکوی

قم مُسلم کو خوفِ خدا چاہیے
قہر رب سے ہمیشہ دُرا چاہیے

حشر میں مصطفیٰ کی لقا چاہیے
قصرِ جنت نہ اُن سے جدا چاہیے

زیر سایہ رہوں مصطفیٰ آپ کے
آپ کا قرب روزِ جزا چاہیے

رب نے مومن کے چہرے پہ سہرادیا
مردِ مُسلم کو داڑھی رکھا چاہیے

رحمت حق ہے پردہ نبی نے کہا
عورتوں کو بھی شرم و حیا چاہیے

منھ دکھاتی ہیں کیوں پھرتی بازار ہیں
چہرہ گھونگھٹ کے اندر چھپا چاہیے

گانے، باجے، تماشے پہ ہو مست کیوں
قبر کی منزلوں کا پتہ چاہیے

فلم وفیسن، شراب و جوا چھوڑدو
کام جنت کے تم کو کیا چاہیے

راستے بچے ہونے کےبند نہ کرو
حکم رب میں نہ ایسی خطا چاہیے

اُن کو دے گا خدا رزق تم کو دیا
ذاتِ رزّاق پر آسرا چاہیے

مسلک اعلیٰ حضرت سلامت رہے
نجدیت کو گڑھے میں گرا چاہیے

رضوی انوارؔ حق ہوں غلام آپ کا
مجھ کو دیدار شاہِ ہدیٰ چاہیے

[1] ۔قاری صاحب نے پہلا حج ۱۹۵۴ھ میں کیا چونکہ اری انوار الحق صاحب کی ملاقات مجاز مقدس میں قاری صاحب علیہ الرحمۃ سے ہوئی تو یہ وہی سن ہوگا۔

https://scholars.pk/ur/scholar/qari-anwar-ul-haq-mustafwi-barelvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت حاجی محمد ہاشم گیلانی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ جلیل القدر قادری مشائخ سے ہیں۔

والد کا نام سیّد صوفی علی بن بدر الدین تھا۔

سلسلۂ نسب سیّد محمد غوث حلبی اوچی گیلانی تک منتہی ہوتا ہے۔

صاحب علم و فضل و کمال تھے۔

بارہ برس تک ملک عرب و عجم و شام کی سیاحت کی تھی۔ اِس دورانِ سیاحت میں حلب جا کر اپنے جدِ بزرگوار شمس الدین حلبی کے مزار کی زیارت سے بھی مشرف ہُوئے اور دیگر بہت سے مشائخ کی صحبت سے اخذِ فیض کیا۔

پھر لاہور آکر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف ہوگئے۔

مرجع خلائق تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کی ذاتِ اقدس سے اکتسابِ فیض کیا۔

ایک سو بیس برس کی عمر میں ۱۰۸۷ھ میں بعہدِ اورنگ زیب عالمگیر وفات پائی۔

مزار صاحبِ تحقیقاتِ چشتی کی تحقیق کے مطابق تکیہ املی والا بیرون لوہاری دروازہ لاہور واقع ہے۔

شد چو در خلدِ معلّٰی از جہاں
سالِ ترحیلش بہ سرور شدعیاں

سیّد ہاشم ولئیِ مقتدا
ماہتابِ ہاشمی قطبِ صفا
۱۰۸۷ھ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-muhammad-hashim-gilani-lahori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
آپ کا نام عبد الغفور تھا ۔

تاریخِ ولادت:
مولانا اخوند عبد الغفور صاحب 1184ھ/1770ء میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم:
آپ کو ابتداء ہی سے دینی تعلیم کا اشتیاق تھا چنانچہ ابتدائی کتب اپنے علاقہ کے علماء سے پڑھیں، بعد ازاں پشاور کے مشہور زمانہ فاضل حضرت مولانا حافظ محمد عظیم پشاری رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر تقریباً چار برس میں تمام کتبِ متداولہ کی تحصیل و تکمیل کی سند فراغت حاصل کی ۔

بیعت و خلافت:
شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد شیعب حمۃ اللہ علیہ ساکن تورڈھیری کے دست اقدس پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔ اور سلاسل اربعہ میں ماذون و مجاز ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

صاحبِ تقویٰ، عبادت گزار، عالمِ باعمل اور عوام الناس کو رشد و ہدایت کا درس دینے والے تھے، جگہ جگہ تشریف لے جا کر اتباعِ شرعیت و سنت کی تلقین کرنے لگے، بیوہ عورتوں کا نکاح ثانی کراتے شریعت مطہرہ کے مطابق فیصلے کرتے ـ

غیر شرعی رسوم اور عقائدِ باطلہ کا سختی سے سد باب کرتے، گویا آپ کی ذات سے ایک بستانِ شریعت قائم تھا جس نے معاشرے میں زبردست انقلاب برپا کر دیا ۔

آپ کے لنگر سے ہزاروں ضرورت مند مستفید ہوتے جو خدمت دین کے جذبہ سے سر شار ہو جاتے ۔ حضرت شیخ الاسلام اخوند نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا اور مریدین و متعلقین میں شوق شہادت کی روح پھونک دی، مجاہدین سر بکف میدان میں نکل آئے اور نہایت بے جگری سے انگریزی افواج کا مقابلہ کیا ۔

معاملہ دست بدست لڑائی تک پہنچا اور فرنگیوں کو پسپا ہونا پڑا، یہ معر کہ جہاد امبیلہ کے نام سے مشہور ہے ۔

آپ ابتداءً سید احمد بریلوی اور مولوی اسمٰعیل دہلوی کے ساتھ مل کر جہاد و دیگر امور سر انجام دینے لگے لیکن بعد میں آپ کو ان کے عقائدِ باطلہ کے متعلق علم ہوا تو آپ ان سے الگ ہوگئے پھر ان کے عقائدِ باطلہ کے خلاف آپ نے اور آپ کے مریدین و متعلقین نے کتابیں لکھیں ۔

وصال:
آپ 7 محرم الحرام 1295ھ بمطابق جنوری 1877ء میں اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔ آپ کا مزار پر انوار سید و شریف میں مرجعِ انام ہے ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-abdul-ghafoor-akhoon
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت پیر امانت علی چشتی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:
پیر طریقت حضرت مولانا ابو حقائق پیر سید امانت علی شاہ نظامی ابن حضرت پیر سید برکت علی شاہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہما ۔

سلسلۂ نسب:
آپ کا سلسلۂ نسب 35 واسطوں سے حضرت امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے ۔

تاریخ ومقامِ ولادت:
آپ 2 صفر المظفر 1322ھ / بمطابق اپریل 1901ء بروز پیر، موضع گلہوٹی سیداں، ڈاک خانہ کوٹ عیسٰی خاں، تحصیل زیرہ، ضلع فیروز پور (انڈیا) میں پیدا ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ نے اپنے تایا زاد بھائی حضرت پیر سیدنا در علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک پر سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئے ۔ مرشد کامل نے آپ کو خلافت و اجازت سے بھی سر فراز فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
حضرت پیر امانت علی چشتی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زاہد، عابد یادِ الٰہی میں مستغرق رہنے والے تھے۔ مشکل عقائد کو سہل انداز میں بیان فرماکر لوگوں کے ذہنوں میں ان مسائل وعقائد کو نقش فرمادیتے۔ مثنوی شریف پر نا قابل یقین حد تک عبور تھا، جب آپ مثنوی شریف کے اشعار اپنے مخصوص انداز میں پڑھتے تو سامعین کیف و مستی سے سر شار ہو جاتے ۔آپ کی تقریر اسرارِ تصوف کی آئینہ دار ہوتی تھی۔ پیر سید امانت علی شاہ عابد شب زندہ بزرگ تھے،نماز تہجد باقاعد گی سے ادا کرتے اور شریعت مطہرہ کی پیروی کو ہر وقت پیش نظر رکھتے،سخت سے سخت تکلیف کی حالت میں کبھی نماز قضانہ ہونے دیتے ۔

ہر جمعرات حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری دیتے اور ایک عرصہ تک ہر نو چندی جمعرات کو حضرت فرید الدین گنجِ شکر رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ عالیہ پر حاضری دیتے رہے۔ بزرگان سلسلہ اور مشائخ کے عرس برے اہتمام سے مناتے۔

وصال:
7محرم الحرام 1391 ھ / بمطابق مارچ 1971ء بروز جمعہ پیر سید امانت علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے ۔ نماز جنازہ آپ کے چھوٹے بھائی حضرت پیر سید کرامت علی شال چشتی نظامی مد ظلہ نے پڑھائی ۔مزار آستانہ بیت الامان گنج مغل پورہ، لاہور میں ہے، مزار شریف پر خوبصورت گنبد تعمیر ہو چکا ہے ۔

ماخذ و مراجع: تذکرہ اکابرِ اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-peer-syed-amanat-ali-chishti-lahori
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت علامہ ومولانا شاہ آفاق دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

[ مرشد گرامی شاہ افغان اور شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی ]

نام و نسب:
آپ کا نام آفاق بن احسان اللہ بن شیخ محمد اظہر رحمہم اللہ ہے ۔ آپ کا نسب چھ واسطوں سے حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ علیہ الرحمہ کی ولادت 1160 ھ میں ہوئی ۔

بیعت و خلافت:
مولانا شاہ آفاق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے خواجہ ضیاء اللہ مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست بیعت کی اور خرقہ خلافت بھی انہیں سے حاصل کیا۔تمام ظاہری وباطنی علوم بھی اپنے پیرومرشد سے حاصل کیے ۔

سیرت و خصائص:
حضرت شاہ آفاق رحمۃ اللہ علیہ متقی، پر ہیزگار، عبادت گزار اور صاحبِ علم وعمل تھے۔درس تدریس، وعظ ونصیحت کی وجہ سے آپ کو خوب قبولِ عام ملا اور شہرہ آفاق ہوئے ۔

دور دراز علاقوں سے لوگ آپ کے پاس دینی وشرعی رہنمائی حاصل کرنے آتے تھے۔آپ نہ صرف مرجع العوام تھے بلکہ خواص کے بھی مرجع تھے ۔ عوام و خواص آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کے آستانے کی دہلیز پر جو کوئی منگتا آتا وہ خالی ہاتھ لوٹ کے نہ جاتا ـ

آپ جس طرح شرعی مسائل کا حل فرماتے اسی طرح اگر آپ کے پاس مصیبت زدہ آتا آپ اس کی مصیبت کو دور فرماکر اسے راحت پہنچاتے ۔

وصال:
آپ کی وفات 7محرم 1251ھ / بمطابق مئی 1835ء میں ہوئی ۔

مزارتِ اولیاء کو منہدم کرنے والے کی سزا:
آپ کا مزار شریف سبزی منڈی قریب مغل پورہ دہلی میں تھا، مگر اوقاف کے صدر مولوی حفظ الرحمٰن ناظم جمیعۃ علمائے ہند کی غفلت و لا پَر واہی کی وجہ سے منہدم کر دیا گیا اور لکڑیاں ڈال دی گئیں ۔

ایک معتبر راوی کی زبانی معلوم ہوا کہ جس شخص نے یہ حرکت کی تھی اس کے بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے اور اسی حال میں وہ شقی، دشمنِ اولیاء مر گیا ۔ اللّٰھُمَّ احْفِظْنَا مِنْ اِھَا نَتہِ الْاَنْبِیَا ءِ وَالْاَوْلیَاءِ (اٰمین) ـ

ماخذ و مراجع: تذکرہ علماء اہلسنت

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-muhammad-afaq-dehlvi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی
مبلغ اسلام حضرت علامہ مختار احمد
صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
احمد مختار صدّیقی بن شاہ عبد الحکیم جؔوش و حکیمؔ بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد ۔(الیٰ آخرہ ) رحمۃ اللہ تعالٰی علیھم۔ والدِ ماجدنے ’’احمد مختار‘‘ اور دادی صاحبہ نے ’’امام الدین‘‘ نام رکھا ۔

ولادت:
بروز پیر، ۷؍محرّم الحرام ۱۲۹۴ھ ، بمطابق ۲۲؍جنوری ۱۸۷۷ءکو صوبۂ اُتر پردیش کے مردم خیز شہر میرٹھ (انڈیا) کے محلّۂ مشائخاں، اندر کوٹ میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
حضرت احمد مختار صدّیقی پانچ سال کی عمر میں مکتب میں داخل ہوئے اور قرآنِ مجید وہیں ختم کیا؛ اردو، فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی اور درسِ نظامی کی تکمیل مدرسۂ اسلامی، اندر کوٹ، میرٹھ میں علامہ ناظر حسن صاحب سے ۱۳۱۰ھ میں کی۱۹۰۳ء میں علمِ حدیث کے لیے شیخ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبد الحق صدّیقی الٰہ آبادی (متوفّٰی ۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۵ء) کی خدمت میں مکۂ مکرمہ اور ۱۳۲۲ھ/۱۹۰۴ء میں شیخ سیّد محمد امین رضوان کی خدمت میں مدینۂ منوّرہ حاضر ہو کر ۱۳۲۳ھ میں علمِ حدیث کی تکمیل کی۔ بریلی میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے اور گنج مراد آباد میں مولانا احمد میاں صاحب خلفِ اکبر حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی (۱۲۰۸ھ تا ۱۳۱۳ھ) سے بھی فیوضِ علمی حاصل کیے ۔

آپ علومِ جدیدہ سے بھی بہرہ ور ہوئے، آپ کو انگریزی میں بھی دسترس حاصل تھی۔

بیعت و خلافت:
آپ کے والد ماجد کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۲۳۳ھ تا ۱۳۱۷ھ) سے سلسلۂ چشتیہ میں بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا اور سلسلہ ہائے قادریہ غوثیہ و نقشبندیہ غوثیہ میں آپ حضرت سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی(۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء تا ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) کے خلیفۂ مُجاز تھے۔

حضرت احمد مختار نے اپنے والدِ ماجد سے بیعت ہو کر، مذکورہ تینوں سلاسل میں خلافت حاصل کی ۔

بعد ازاں، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سلسلۂ قادریہ برکاتیہ رضویّہ میں تاجِ خلافت پہنا اور قطب المشائخ حضرت مولانا ابو احمد سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی کچھوچھوی عرف اشرفی میاں علیہ الرحمہ (۱۲۶۶ھ تا ۱۳۵۵ھ) سے سلسلۂ اشرفیہ میں شرفِ خلافت سے مشرف ہوئے۔ حضرت حاجی سیّد وارث علی شاہ سرکارِ دیوہ شریف (۱۲۳۲ھ تا ۱۳۲۳ھ/۹۰۵اء) اور حضرت شیخ سیّد محمد امین رضوان مدنی وغیرہم اکابر صوفیا سے بھی فیوضِ روحانی حاصل کیے ۔

وصال:
حضرت علامہ شاہ احمد مختار صدّیقی میرٹھی علم و عمل سے بھر پور زندگی گزار کر، بروز پیر، بعدِ مغرب، ۱۲ (بارہ) جمادی الاولیٰ ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۰ (دس) جولائی ۱۹۳۸ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔آپکا مزار انتقال دَمَّن (پرتگیز)، انڈیا میں ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-ahmed-mukhtar-meerthi
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: محمد ۔ لقب: مہدی ۔ کنیت: ابو القاسم ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین حضرت مولا علی ۔ (رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک 258 ھ میں ہوئی۔

خلافت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ و جانشین مقرر ہوئے۔

سیرت و خصائص:
حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے ۔ عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت و طریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے، کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیر معمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اور اس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ یہ بچہ غیر معمولی ہو کر بہت بلند مقام و مرتبہ پائے گا ۔ اور ہوا ایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح و بلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے ۔ آپ کا کلام و بیان، وعظ و نصیحت لوگوں کی زندگی میں انقلاب تو پیدا کر ہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہو جاتا ۔ اسلام کی نشر و اشاعت ، دین کی خدمت اور عوام کی ذہنی و اخلاقی و روحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔

اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماں ﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دو عالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اور عیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی، جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیدا ہو چکے اور ان کی وفات بھی ہو چکی ہے ۔ لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے ۔ (ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)

وصال:
آپ کا وصال 7 محرم الحرام 326/بمطابق نومبر 937 ء میں ہوا ۔

ماخذ و مراجع: خزینۃ الاصفیاء ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-abul-qasim-muhammad-mehdi
1