🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
ذکر سید امام علی لاحق سیالکوٹی قدس سرّہٗ

آپ خلفائے حضرت گنجِ شکر سے تھے ـ

بہت بڑے صاحب تصرف اور صاحب باطن اور متقی تھے، بعد حصول خرقہ خلافت طرف سیالکوٹ کے رخصت ہوئے، وہاں پہنچ کر ہزاروں کو خدا رسیدہ کیاـ

صاحب معارج الولایت لکھتے ہیں، کہ جب آپ بابا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت دو علی اور موجود تھے ایک شخص علی بہاری، دوسرے شیخ علاؤالدین علی احمد صابر ـ

جب آپ پہنچے بابا صاحب نے فرمایا کہ یہ علی بھی انہیں دونوں علی میں لاحق ہوا، اس وجہ سے علی لاحق خطاب ہوا ـ

وصال:
وفات آپ کی ۶۸۶ھ میں ہوئی، مزار سیالکوٹ میں مرجع خلائق ہے۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-imam-ali-sialkoti
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت سید موسیٰ ثانی علیہ الرحمہ

ولادت:
پیدائش 6 محرم الحرام ۲۲۱ھ
کو بمقام مدینہ منوّرہ ہوئی ۔

خلافت:
ربیع الآخر ۲۳۸ھ میں اپنے والدِ مکرّم سے خلافت پائی۔

وصال:
اور مدینہ طیّبہ ماہِ صفر ۲۸۸ھ میں وصال فرمایا۔ اور وہیں مدفون ہوئے۔

( شریفُ التواریخ )

https://scholars.pk/ur/scholar/syed-mosa-sani
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت ابوالقاسم ابراہیم بن محمد بن محمود نصر آبادی رحمۃ اللہ علیہ


منجملہ ائمۂ متقدمین ، صوفیاء کے صف کے بہادر، عارفوں کے احوال کے معبر، حضرت ابو القاسم ابراہیم بن محمد بن محمود نصر آبادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔

جس طرح نیشا پور میں خوارزم بادشاہ تھے اور شاہ پور میں تمویہ بادشاہ گزرے ہیں اسی طرح آپ نیشاپور میں بلند مرتبہ پر فائز تھے۔

فرق یہ تھا کہ وہ دنیا کی عزت رکھتے تھے اور آپ آخرت کی عزت سے مالامال۔ آپ کا کلام انوکھا اور نشانیاں بہت ہیں۔ حضرت شبلی علیہ الرحمتہ کے مرید اور متأخرین اہل خراسان کے استاذ تھے۔ آپ اپنے زمانہ میں ہر فن میں اعلم واورع تھے۔

آپ کا ارشاد ہے:
"انت بین نسبتین نسبۃ الٰی آدم ونسبۃ الٰی الحق فاذا انتسبت الٰی آدم دخلت فی میادین المشھووات ومواضعالآفات والزالات وھی نسبۃ تحقق البشریۃ قال اللہ تعالے انہ کان ظلوما جھو لا واذا نسبت الی الحق دخلت فی مقامات الکشف والبراھین والعصمہ والو لایۃ وھی نسبۃ تحقق العبود دیۃ قال اللہ تعالیٰ و عباد الرحمٰن الذین یمشون علی الارض ھوناً"

"تم دو نسبتوں کے درمیاں ہو۔ ایک نسبت حضرت آدم کی طرف ہے اور دوسری نسبت حق تعالیٰ کی طرف ہے۔ جب تم آدم کی طرف کی منسوب ہوتے ہو تو شہوت کے میدانوں میں اور آفت غلط جگہوں اور مقامات میں داخل ہوجاتے ہو۔ یہی وہ نسبت ہے جس سے تمہارا بشر ہونا ثابت ہے۔ اسی نسبت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "ابن آدم بڑا جفا کار اور ناعاقبت اندیش واقع ہوا ہے ۔ " لیکن جب تم اپنی نسبت حق تعالیٰ سے کرتے ہو تو تم کشف وبراہین اور عصمت و ولایت کے مقامات میں داخل ہوجاتے ہو۔ یہی وہ نسبت ہے جس سے حق تعالیٰ کی بندگی کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی نسبت کے اعتبار سے حق تعالیٰ نے فرمایا: " رحمٰن کے بندے زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔"

پہلی نسبت بشر کی ہے اور دوسری نسبت عبودیت کی۔ نسبت آدم تو قیامت میں منقطع ہوجائے گی ، البتہ! نسبت عبودیت ہمیشہ قائم ودائم رہے گی۔ اس میں تغیر وتبدل جائز نہیں رکھاگیا۔ جب اپنی نسبت کو اپنی طرف یا حضرت آدم علیہ السلام سے جوڑے تو اس کا کمال یہ ہے کہ وہ کہے:

"انی ظلمت نفسی"

"میں نے اپنی جان پر زیادتی کی"

اور جب اپنی نسبت حق تعالیٰ کی طرف کرتا ہے تو وہ بند اسی کا محل بن جاتا ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے:

"یا عبادی لا خوف علیکم الیوم"

"اے میرے بندے آج تم پر کوئی خوف نہیں۔"

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abul-qasim-ibrahim-nasrabadi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1