Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 📚تحقیقات📚
📚 صحابہ و اہلبیت پاک رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و مناقب اور دفاع پر مشتمل علماء اہلسنت کی 300 سے زائد کتب کی PDF
🌹ان لائن مطالعہ
اور
ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 https://www.ataunnabi.com/search?q=Sahaba&m=1
یہ پوسٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ فرمائیں
جزاک اللہ خیرا
🌹ان لائن مطالعہ
اور
ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 https://www.ataunnabi.com/search?q=Sahaba&m=1
یہ پوسٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ فرمائیں
جزاک اللہ خیرا
Forwarded from 📚تحقیقات📚
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Our Beloved Prophet ﷺ was born on the 12th of Rabiul Awwal
Allah blessed this universe with grace by sending Our Beloved Prophet ﷺ in the month of Rabi-ul-Awwal on the twelfth of this month and we have so many evidences regarding this.
Although there are some uncertainties over the date of birth of our Beloved Prophet ﷺ but according to the most of the Islamic Scholars, It is 12th of Rabi-ul-Awwal.
Just below, Some references are from various books that prove the date of birth of our Beloved Prophet ﷺ is 12th of Rabi-ul-Awwal.
(1) سیرت ابن اسحاق بہ حوالہ الوفا، ص87
(2) سیرت ابن ہشام، ج1، ص107
(3) تاریخ الامم والملوک المعروف بہ تاریخ طبری، ج2، ص125
(4) اعلام النبوۃ، ص192
(5) المستدرک للحاکم، ج2، ص603
(6) عیون الاثر، ج1، ص33
(7) تاریخ ابن خلدون، ج2، ص394
(8) سیرت ابن خلدون، ص81
(9) المورد الروی للقاری، ص96
(10) محمد رسول اللہ، ج1، ص102
(11) حجۃ اللہ علی العالمین، ج1، ص231
(12) ماثبت بالسنۃ، ص31
(13) نور الابصار، ص13
(14) النعمۃ الکبری، ص20
(15) تاریخ اسلامی، ص35
(16) معارج النبوۃ، ج1، ص37
(17) مدارج النبوۃ، ج2، ص18
(18) سیرت حلبیہ، ج1، ص93
(19) المواہب اللدنیۃ، ج1، ص132
(20) بلوغ الامانی، ج2، ص189
(21) تاریخ الخمیس، ص196
(22) البدایہ والنھایہ، ج2، ص260
(23) بیان المیلاد النبوی، ص50
(24) فتح الباری، ج8، ص130
(25) فقیھہ السنۃ، ص60
(26) کتاب اللطائف، ص230
(27) سرور القلوب، ص11
(28) فتاوی رضویہ، ج26، ص411
(29) اسلامی زندگی، ص106
(30) فتاوی نعیمیہ، ص46
(31) تبرکات صدر الافاضل، ص199
(32) رسائل کاظمی، ص2
(33) سیرت رسول عربی، ص43
(34) ذکر الحَسین، ص116
(35) فتاوی مہریہ، ص110
(36) جنتی زیور، ص473
(37) دین مصطفی، ص84
(38) محمد نور، ص56
(39) کتاب فارسی، ص80
(40) انوار شریعت، ص9
(41) الخطیب، ص121
(42) تواریخ حبیب الہ، ص13
(43) جمال رسول، ص11
(44) رسالہ میلاد نمبر، ص24
(45) پیش لفظ تصفیہ مابین سنی و شیعہ
(46) فیصلہ ہفت مسئلہ، ص4
Continue...
Abde Mustafa
Allah blessed this universe with grace by sending Our Beloved Prophet ﷺ in the month of Rabi-ul-Awwal on the twelfth of this month and we have so many evidences regarding this.
Although there are some uncertainties over the date of birth of our Beloved Prophet ﷺ but according to the most of the Islamic Scholars, It is 12th of Rabi-ul-Awwal.
Just below, Some references are from various books that prove the date of birth of our Beloved Prophet ﷺ is 12th of Rabi-ul-Awwal.
(1) سیرت ابن اسحاق بہ حوالہ الوفا، ص87
(2) سیرت ابن ہشام، ج1، ص107
(3) تاریخ الامم والملوک المعروف بہ تاریخ طبری، ج2، ص125
(4) اعلام النبوۃ، ص192
(5) المستدرک للحاکم، ج2، ص603
(6) عیون الاثر، ج1، ص33
(7) تاریخ ابن خلدون، ج2، ص394
(8) سیرت ابن خلدون، ص81
(9) المورد الروی للقاری، ص96
(10) محمد رسول اللہ، ج1، ص102
(11) حجۃ اللہ علی العالمین، ج1، ص231
(12) ماثبت بالسنۃ، ص31
(13) نور الابصار، ص13
(14) النعمۃ الکبری، ص20
(15) تاریخ اسلامی، ص35
(16) معارج النبوۃ، ج1، ص37
(17) مدارج النبوۃ، ج2، ص18
(18) سیرت حلبیہ، ج1، ص93
(19) المواہب اللدنیۃ، ج1، ص132
(20) بلوغ الامانی، ج2، ص189
(21) تاریخ الخمیس، ص196
(22) البدایہ والنھایہ، ج2، ص260
(23) بیان المیلاد النبوی، ص50
(24) فتح الباری، ج8، ص130
(25) فقیھہ السنۃ، ص60
(26) کتاب اللطائف، ص230
(27) سرور القلوب، ص11
(28) فتاوی رضویہ، ج26، ص411
(29) اسلامی زندگی، ص106
(30) فتاوی نعیمیہ، ص46
(31) تبرکات صدر الافاضل، ص199
(32) رسائل کاظمی، ص2
(33) سیرت رسول عربی، ص43
(34) ذکر الحَسین، ص116
(35) فتاوی مہریہ، ص110
(36) جنتی زیور، ص473
(37) دین مصطفی، ص84
(38) محمد نور، ص56
(39) کتاب فارسی، ص80
(40) انوار شریعت، ص9
(41) الخطیب، ص121
(42) تواریخ حبیب الہ، ص13
(43) جمال رسول، ص11
(44) رسالہ میلاد نمبر، ص24
(45) پیش لفظ تصفیہ مابین سنی و شیعہ
(46) فیصلہ ہفت مسئلہ، ص4
Continue...
Abde Mustafa
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Our Beloved Prophet ﷺ was born on the 12th of Rabiul Awwal
دیوبندیوں، وہابیوں اور شیعوں کی کتب سے ثبوت:
(47) میلاد النبی از اشرف علی تھانوی، ص90
(48) سیرت خاتم الانبیا، ص19، 20
(49) ہادی عالم، ص43
(50) ہفت روزہ، مارچ1977، ص7، 18
(51) قصص النبیین، ج5، ص27
(52) نفحۃ العرب، ص141
(53) خاتون پاکستان رسول نمبر، ص36
(54) رحمت عالم، ص13
(55) ماہنامہ محفل لاہور، مارچ1981، ص65
(56) خاتون پاکستان رسول نمبر، ص839
(57) الشمامۃ العنبریہ، ص8
(58) رسول اکرم ﷺ، ص21، 22
(59) اکرام محمدی، ص270
(60) سیرۃ الرسول، محمد بن عبد الوہاب
(61) سید الکونین، ص60
(62) حیاۃ القلوب، ج2، ص112
کتب عامہ اور تاریخ ولادت:
(63) سید الوری، ج1، ص88
(64) سیرت احمد مجتبی، ج1، ص5، 147، 149
(65) تاریخ مکۃ المکرمہ، ج1، ص211
(66) الامین ﷺ، ص191
(67) محمد سید لولاک، ص118
(68) ہمارے پیغمبر، ص219
(69) ہمارے رسول پاک، ص43
(70) کتاب شان محمد، ص234
(71) محمد رسول اللہ، ص30
(72) شواہد النبوۃ، ص52
(73) معلومات عامہ، ص61
(74) نور کامل، ص36
(75) اسلامی تہذیب و تمدن، ص347
(76) ماہنامہ ترجمان اویس، ص71
(77) ماہنامہ نور الحبیب، اکتوبر1989، ص41
(78) سیرت کوئز، ص18
(79) موضع القرآن، ص33
(80) کیلنڈر از علامہ اکرم رضوی
(81) جان جاناں، ص117
(82) علموا اولادکم محبت رسول اللہ، ص99
(83) خاتم النبیین، ص118
(84) حیات محمد ﷺ، ص26
(85) ماہنامہ جام عرفان، اکتوبر1984
(86) ہفت روزہ الفقیہ، میلاد نمبر1932، ص140
(87) نورانی شمع ترجمہ قرآن مجید، ص13
(88) تاریخ اسلام از محمود الحسن، ص31
(89) تاریخ ملت، ص34
(90) رسالت مآب، ص9
(91) خاتم المرسلین، ص78
(92) تفسیر ضیاء القرآن، ج5، ص665
(93) حاشیہ الروض الانف، ج1، ص107
(94) ضیاے حرم، عید میلاد النبی نمبر، ص184
(95) سیرت سرور عالم، ص93
(96) خطبات الاحمدیہ، ص12
(97) اسلام کی پہلی عید، ص33
(98) فضیلت کی راتیں، ص27
(99) اشرف السیر، ص146
(100) سیرت رسول اکرم، ص7
(101) ماہنامہ التزکیہ، جولائی2002، ص11
(102) جواز الاختفال، ص12
(103) برکات میلاد شریف، ص3
(104) ہمارے حضور، 17
(105) زریں فرمودات، ص401
(106) بھاگوات پران، باب2، شلوک18 بہ حوالہ جان جاناں
(107) الدر المنتظم، ص89
(108) انوار شریعت، ص9
(109) قومی دائجسٹ، خصوصی نمبر1989، ص50
(110) الخطیب، ص121
(111) فقہ السیرۃ، ص60
(112) نشر الطیب از تھانوی، ص22
(113) حیات رسول، ص92
(114) محبوب کے حسن و جمال کا منظر، ص11
(115) عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت، ص1
کتب نصاب، انگریزی کتب اور بارہویں تاریخ:
(116) خالد دینیات براے جماعت سوم
(117) دینیات براے جماعت پنجم، ص55
(118) الکتاب العربی براے جماعت ہفتم، ص16
(119) اردو کی ساتویں کتاب، ص17
(120) اردو کی آٹھویں کتاب، ص3
(121) اردو کی آٹھویں کتاب، ص18
(122) اسلامیات نہم و دہم، ص88
(123) مطالعہ پاکستان نہم و دہم، ص119
(124) اسلامیات لازمی بی اے
(125) معیار اسلامیات لازمی بی اے
(126) اردو، دائرہ معارف اسلامیہ، 12، 19
(127) مقالہ سیرت محمد رسول اللہ ﷺ، ص12
(128) انگلش کی آٹھویں، ص1، پنجاب تیکسٹ بک بورڈ
(129) انگلش کی دسویں، ص5
(130) سیرت رسول اللہ، آکسفورڈ یونیورسٹی لندن، ص69
(131) دی لائف آف محمد، ص23
(132) محمد دی فائنل میسنجر، ص50
(133) پروس پیکٹس، 2010، ص162
(ملخصاً: بارہ ربیع الاول ایک جامع تحقیق)
Abde Mustafa
دیوبندیوں، وہابیوں اور شیعوں کی کتب سے ثبوت:
(47) میلاد النبی از اشرف علی تھانوی، ص90
(48) سیرت خاتم الانبیا، ص19، 20
(49) ہادی عالم، ص43
(50) ہفت روزہ، مارچ1977، ص7، 18
(51) قصص النبیین، ج5، ص27
(52) نفحۃ العرب، ص141
(53) خاتون پاکستان رسول نمبر، ص36
(54) رحمت عالم، ص13
(55) ماہنامہ محفل لاہور، مارچ1981، ص65
(56) خاتون پاکستان رسول نمبر، ص839
(57) الشمامۃ العنبریہ، ص8
(58) رسول اکرم ﷺ، ص21، 22
(59) اکرام محمدی، ص270
(60) سیرۃ الرسول، محمد بن عبد الوہاب
(61) سید الکونین، ص60
(62) حیاۃ القلوب، ج2، ص112
کتب عامہ اور تاریخ ولادت:
(63) سید الوری، ج1، ص88
(64) سیرت احمد مجتبی، ج1، ص5، 147، 149
(65) تاریخ مکۃ المکرمہ، ج1، ص211
(66) الامین ﷺ، ص191
(67) محمد سید لولاک، ص118
(68) ہمارے پیغمبر، ص219
(69) ہمارے رسول پاک، ص43
(70) کتاب شان محمد، ص234
(71) محمد رسول اللہ، ص30
(72) شواہد النبوۃ، ص52
(73) معلومات عامہ، ص61
(74) نور کامل، ص36
(75) اسلامی تہذیب و تمدن، ص347
(76) ماہنامہ ترجمان اویس، ص71
(77) ماہنامہ نور الحبیب، اکتوبر1989، ص41
(78) سیرت کوئز، ص18
(79) موضع القرآن، ص33
(80) کیلنڈر از علامہ اکرم رضوی
(81) جان جاناں، ص117
(82) علموا اولادکم محبت رسول اللہ، ص99
(83) خاتم النبیین، ص118
(84) حیات محمد ﷺ، ص26
(85) ماہنامہ جام عرفان، اکتوبر1984
(86) ہفت روزہ الفقیہ، میلاد نمبر1932، ص140
(87) نورانی شمع ترجمہ قرآن مجید، ص13
(88) تاریخ اسلام از محمود الحسن، ص31
(89) تاریخ ملت، ص34
(90) رسالت مآب، ص9
(91) خاتم المرسلین، ص78
(92) تفسیر ضیاء القرآن، ج5، ص665
(93) حاشیہ الروض الانف، ج1، ص107
(94) ضیاے حرم، عید میلاد النبی نمبر، ص184
(95) سیرت سرور عالم، ص93
(96) خطبات الاحمدیہ، ص12
(97) اسلام کی پہلی عید، ص33
(98) فضیلت کی راتیں، ص27
(99) اشرف السیر، ص146
(100) سیرت رسول اکرم، ص7
(101) ماہنامہ التزکیہ، جولائی2002، ص11
(102) جواز الاختفال، ص12
(103) برکات میلاد شریف، ص3
(104) ہمارے حضور، 17
(105) زریں فرمودات، ص401
(106) بھاگوات پران، باب2، شلوک18 بہ حوالہ جان جاناں
(107) الدر المنتظم، ص89
(108) انوار شریعت، ص9
(109) قومی دائجسٹ، خصوصی نمبر1989، ص50
(110) الخطیب، ص121
(111) فقہ السیرۃ، ص60
(112) نشر الطیب از تھانوی، ص22
(113) حیات رسول، ص92
(114) محبوب کے حسن و جمال کا منظر، ص11
(115) عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت، ص1
کتب نصاب، انگریزی کتب اور بارہویں تاریخ:
(116) خالد دینیات براے جماعت سوم
(117) دینیات براے جماعت پنجم، ص55
(118) الکتاب العربی براے جماعت ہفتم، ص16
(119) اردو کی ساتویں کتاب، ص17
(120) اردو کی آٹھویں کتاب، ص3
(121) اردو کی آٹھویں کتاب، ص18
(122) اسلامیات نہم و دہم، ص88
(123) مطالعہ پاکستان نہم و دہم، ص119
(124) اسلامیات لازمی بی اے
(125) معیار اسلامیات لازمی بی اے
(126) اردو، دائرہ معارف اسلامیہ، 12، 19
(127) مقالہ سیرت محمد رسول اللہ ﷺ، ص12
(128) انگلش کی آٹھویں، ص1، پنجاب تیکسٹ بک بورڈ
(129) انگلش کی دسویں، ص5
(130) سیرت رسول اللہ، آکسفورڈ یونیورسٹی لندن، ص69
(131) دی لائف آف محمد، ص23
(132) محمد دی فائنل میسنجر، ص50
(133) پروس پیکٹس، 2010، ص162
(ملخصاً: بارہ ربیع الاول ایک جامع تحقیق)
Abde Mustafa
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خطبات جمعہ CAB + NRC ہے یا کالے پانی کی سزا ؟ 📖
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 42
موضوع اتحاد اور نظم و نسق
@islaamic_Knowledge
📝مولانا شاہد علی مصباحی
پیشکش روشن مستقبل دہلی
موضوع اتحاد اور نظم و نسق
@islaamic_Knowledge
📝مولانا شاہد علی مصباحی
پیشکش روشن مستقبل دہلی
Forwarded from 🌹🎤 خطباتِ جمعہ🎙️🌹
Khutba No. 42.pdf
1.5 MB
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 42 موضوع اتحاد اور نظم و نسق @islaamic_Knowledge 📝مولانا شاہد علی مصباحی پیشکش روشن مستقبل دہلی
خطبات جمعہ خطبہ نمبر 43
موضوع نہ سمجھوگے تو مِٹ
جاؤگے اے ہندی مسلمانوں !!
@islaamic_Knowledge
📝مولانا طارق انور مصباحی
پیشکش روشن مستقبل دہلی
موضوع نہ سمجھوگے تو مِٹ
جاؤگے اے ہندی مسلمانوں !!
@islaamic_Knowledge
📝مولانا طارق انور مصباحی
پیشکش روشن مستقبل دہلی
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
*بچے ہیں، غلطی ہوگئی...معاف کردیں !!!*
غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com
راجیہ سبھا سے شہریت ترمیمی بِل (C.A.B) پاس ہوتے ہی ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے. اسی ضمن میں دیوبند میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں طلبائے دارالعلوم دیوبند کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. جو بحیثیت شہری ان کا جمہوری حق تھا اور بحیثیت عالم ان کی قومی ذمہ داری بھی !!
اسی احتجاج کو لیکر سہارنپور کے ڈی ایم آلوک کمار پانڈے نے دارالعلوم پہنچ کر دارالعلوم انتظامیہ کو دھمکایا کہ *"دیوبند میں جو احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے اس کا منفی پیغام بہت دور تک جائے گا اور اس سے مدارس کو ہی نقصان ہوگا. ساتھ ہی اس کی زد میں طلبہ بھی آسکتے ہیں.*
اس دھمکی کا جواب دینے کی بجائے انتظامیہ معذرت پر اتر آئی.قومی ہمدردی میں کئے گئے احتجاج سے ناگواری جتاتے ہوئے مظاہرے کی مذمت کی. *طلبہ کی سرزنش کرتے ہوئے جامعہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا:*
*"طلبہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے ہماری عزت،ہمارا امن اور ہماری حفاظت خطرے میں پڑ جائے. کیوں کہ یہ بہت بڑی حماقت ہوگی."*
مہتمم صاحب نے ایک طرف اپنے طلبہ کی حوصلہ شکنی کی اور دوسری جانب حکومتی انتظامیہ کی خوشامد کرتے ہوئے کہا:
*"بچے ہیں اور بچوں سے غلطی ہوجاتی ہے. اس لئے تمام ذمہ داران مدارس آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان بچوں کو معاف کردیا جائے اور ان کے خلاف کسی طرح کی کوئی کاروائی نہ کی جائے."*
(روزنامہ انقلاب ص 4 بریلی ایڈیشن مؤرخہ 13 دسمبر 2019)
کیا عجیب نظارہ ہے کہ جس دیوبند نے سو سال سے زائد عرصہ اپنے طلبہ سے پڑھائی کی جگہ احتجاج وہڑتال کا خوگر بنایا، تعلیم بند کرکے سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے اٹھوا کر سڑکوں پر نعرے بازیاں کرائیں آج وہی دارالعلوم احتجاج کرنے پر طلبہ کی مذمت کر رہا ہے !!
ایک ہی جیسے طرز عمل پر دارالعلوم کا دوہرا رویہ بعض لوگوں کے لئے سمجھ سے باہر ہے. مگر تاریخ پر نگاہ رکھنے والے خوب جانتے ہیں. جب تک طلبہ کو سیاسی پارٹیوں اور ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا تو ہڑتالی طلبہ محبوب نظر بنے رہے لیکن اس بار طلبہ نے قومی ہمدردی میں احتجاج کردیا تو انتظامیہ کی نگاہیں ٹیڑھی ہوگئیں کیوں کہ یہ احتجاج اپنے کچھ لوگوں کے سیاسی مفاد کے خلاف ہے.
*ایک نظر ماضی پر*
ایک زمانہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ وطلبہ ہڑتال کرنے، کرانے میں ایکس پرٹ تھے...ہڑتالی شہرت کا عالم یہ تھا کہ دیگر افراد کو اس عادت ہڑتالیہ کے خلاف اداریے لکھنا پڑتے تھے...1349ھ میں تاج العلما مفتی محمد عمر نعیمی نے علمائے دیوبند کے ہڑتالی مزاج کے بارے میں لکھا تھا:
*"آج کل جمیعۃ العلما نام رکھنے والی جماعت جو یقیناً وہابیہ کا ایک گروہ ہے کانگریس کی اتباع میں ہڑتالیں کیا کرتا ہے.* "(مقالات تاج العلما ص 118)
آگے تاج العلما لکھتے ہیں:
*"حضور سید عالم ﷺ کی ذکر ولادت کی محفل تو اِن صاحبوں کے لئے بدعت ہے مگر گاندھی اور اس کی قوم تمام اختراعات واجب العمل ہیں. بزرگوں کے عرس کو تو یہ شرک جانتے ہیں مگر کانگریس کے حکم سے ہڑتالیں کرانا فرض سمجھتے ہیں اور اپنے دینی مدارس ان تحریکات کے سلسلے میں بند رکھتے ہیں."* (ایضاً)
ممکن ہے مذکورہ حوالہ کو فریق مخالف قبول نہ کرے تو ایک شہادت گھر کی لے لیتے ہیں مولانا مظہر سہیل قاسمی، مولانا اظہر شاہ ابن مولانا انظر شاہ کشمیری کے حوالے سے لکھتے ہیں:
*"اور پھر جن کے نتیجے میں دارالعلوم کے اندر سے باہر تک جو ایک مذموم تغیر ہوا.اس کے اساتذہ طلبہ، ملازمین اور متعلقین سے لیکر درو دیوار اور سقف و بام تک کی طبیعتوں میں کانگریسیت کا جو ایک بے پناہ جذبہ جڑ پکڑ گیا.اور اس کی تعلیم وتدریس، اہتمام و انتظام میں جو نمایاں اور افسوس ناک انحطاط پیدا ہوا اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں... کانگریس کی اگست والی تحریک کے موقع پر اس دشمن دیں جماعت(کانگریس) کے اشارے پر دارالعلوم کے طلبہ نے جو ہنگامے کئے اور جس بے دردی سے اپنے مادرِ علمی کو تباہ کرنے کا بیڑا اٹھایا...*(آئینہ دارالعلوم دیوبند ص 3تا 7/بحوالہ دارالعلوم کا حال ماضی کے آئینے میں ص 9)
گھر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم کی اساتذہ، طلبہ، ملازمین سے لیکر وہاں کے درو دیوار تک میں کانگریسیت حلول کر گئی تھی جس کے باعث طلبہ ہنگامے کرتے پھرتے تھے. مذکورہ اقتباس چونکہ گھر کے آدمی کا ہے اس لئے مضمون نگار نے دبی زبان اور نوک قلم دبا کر لکھا ہے، تاج العلما "طلبہ دارالعلوم کے مبینہ ہنگاموں" کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
*"مدرسہ کا نام تو اسلامی مدرسہ ہے مگر طالب علم بجائے پڑھنے لکھنے کے بازاروں میں پیکٹنگ کرتے پھر رہے ہیں. جو کام آوارہ گرد کرتے ہیں وہ مولوی صورت طالب علموں کے سپرد کیا جاتا ہے... جھنڈے اٹھوائے جاتے ہیں ،جے پکروائی جاتی ہے... گاندھی مہاراج کی جے اور وَندے ماترم کے نعروں سے کانگریسی مولوی صاحبان بہت خوش ہوتے ہیں."*(مقالات تاج العلما ص 119)
جو بات تاج ا
غلام مصطفےٰ نعیمی
ایڈیٹر سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com
راجیہ سبھا سے شہریت ترمیمی بِل (C.A.B) پاس ہوتے ہی ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے. اسی ضمن میں دیوبند میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں طلبائے دارالعلوم دیوبند کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی. جو بحیثیت شہری ان کا جمہوری حق تھا اور بحیثیت عالم ان کی قومی ذمہ داری بھی !!
اسی احتجاج کو لیکر سہارنپور کے ڈی ایم آلوک کمار پانڈے نے دارالعلوم پہنچ کر دارالعلوم انتظامیہ کو دھمکایا کہ *"دیوبند میں جو احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے اس کا منفی پیغام بہت دور تک جائے گا اور اس سے مدارس کو ہی نقصان ہوگا. ساتھ ہی اس کی زد میں طلبہ بھی آسکتے ہیں.*
اس دھمکی کا جواب دینے کی بجائے انتظامیہ معذرت پر اتر آئی.قومی ہمدردی میں کئے گئے احتجاج سے ناگواری جتاتے ہوئے مظاہرے کی مذمت کی. *طلبہ کی سرزنش کرتے ہوئے جامعہ کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا:*
*"طلبہ ایسا کوئی کام نہ کریں جس سے ہماری عزت،ہمارا امن اور ہماری حفاظت خطرے میں پڑ جائے. کیوں کہ یہ بہت بڑی حماقت ہوگی."*
مہتمم صاحب نے ایک طرف اپنے طلبہ کی حوصلہ شکنی کی اور دوسری جانب حکومتی انتظامیہ کی خوشامد کرتے ہوئے کہا:
*"بچے ہیں اور بچوں سے غلطی ہوجاتی ہے. اس لئے تمام ذمہ داران مدارس آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ان بچوں کو معاف کردیا جائے اور ان کے خلاف کسی طرح کی کوئی کاروائی نہ کی جائے."*
(روزنامہ انقلاب ص 4 بریلی ایڈیشن مؤرخہ 13 دسمبر 2019)
کیا عجیب نظارہ ہے کہ جس دیوبند نے سو سال سے زائد عرصہ اپنے طلبہ سے پڑھائی کی جگہ احتجاج وہڑتال کا خوگر بنایا، تعلیم بند کرکے سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے اٹھوا کر سڑکوں پر نعرے بازیاں کرائیں آج وہی دارالعلوم احتجاج کرنے پر طلبہ کی مذمت کر رہا ہے !!
ایک ہی جیسے طرز عمل پر دارالعلوم کا دوہرا رویہ بعض لوگوں کے لئے سمجھ سے باہر ہے. مگر تاریخ پر نگاہ رکھنے والے خوب جانتے ہیں. جب تک طلبہ کو سیاسی پارٹیوں اور ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا تو ہڑتالی طلبہ محبوب نظر بنے رہے لیکن اس بار طلبہ نے قومی ہمدردی میں احتجاج کردیا تو انتظامیہ کی نگاہیں ٹیڑھی ہوگئیں کیوں کہ یہ احتجاج اپنے کچھ لوگوں کے سیاسی مفاد کے خلاف ہے.
*ایک نظر ماضی پر*
ایک زمانہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ وطلبہ ہڑتال کرنے، کرانے میں ایکس پرٹ تھے...ہڑتالی شہرت کا عالم یہ تھا کہ دیگر افراد کو اس عادت ہڑتالیہ کے خلاف اداریے لکھنا پڑتے تھے...1349ھ میں تاج العلما مفتی محمد عمر نعیمی نے علمائے دیوبند کے ہڑتالی مزاج کے بارے میں لکھا تھا:
*"آج کل جمیعۃ العلما نام رکھنے والی جماعت جو یقیناً وہابیہ کا ایک گروہ ہے کانگریس کی اتباع میں ہڑتالیں کیا کرتا ہے.* "(مقالات تاج العلما ص 118)
آگے تاج العلما لکھتے ہیں:
*"حضور سید عالم ﷺ کی ذکر ولادت کی محفل تو اِن صاحبوں کے لئے بدعت ہے مگر گاندھی اور اس کی قوم تمام اختراعات واجب العمل ہیں. بزرگوں کے عرس کو تو یہ شرک جانتے ہیں مگر کانگریس کے حکم سے ہڑتالیں کرانا فرض سمجھتے ہیں اور اپنے دینی مدارس ان تحریکات کے سلسلے میں بند رکھتے ہیں."* (ایضاً)
ممکن ہے مذکورہ حوالہ کو فریق مخالف قبول نہ کرے تو ایک شہادت گھر کی لے لیتے ہیں مولانا مظہر سہیل قاسمی، مولانا اظہر شاہ ابن مولانا انظر شاہ کشمیری کے حوالے سے لکھتے ہیں:
*"اور پھر جن کے نتیجے میں دارالعلوم کے اندر سے باہر تک جو ایک مذموم تغیر ہوا.اس کے اساتذہ طلبہ، ملازمین اور متعلقین سے لیکر درو دیوار اور سقف و بام تک کی طبیعتوں میں کانگریسیت کا جو ایک بے پناہ جذبہ جڑ پکڑ گیا.اور اس کی تعلیم وتدریس، اہتمام و انتظام میں جو نمایاں اور افسوس ناک انحطاط پیدا ہوا اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں... کانگریس کی اگست والی تحریک کے موقع پر اس دشمن دیں جماعت(کانگریس) کے اشارے پر دارالعلوم کے طلبہ نے جو ہنگامے کئے اور جس بے دردی سے اپنے مادرِ علمی کو تباہ کرنے کا بیڑا اٹھایا...*(آئینہ دارالعلوم دیوبند ص 3تا 7/بحوالہ دارالعلوم کا حال ماضی کے آئینے میں ص 9)
گھر کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم کی اساتذہ، طلبہ، ملازمین سے لیکر وہاں کے درو دیوار تک میں کانگریسیت حلول کر گئی تھی جس کے باعث طلبہ ہنگامے کرتے پھرتے تھے. مذکورہ اقتباس چونکہ گھر کے آدمی کا ہے اس لئے مضمون نگار نے دبی زبان اور نوک قلم دبا کر لکھا ہے، تاج العلما "طلبہ دارالعلوم کے مبینہ ہنگاموں" کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
*"مدرسہ کا نام تو اسلامی مدرسہ ہے مگر طالب علم بجائے پڑھنے لکھنے کے بازاروں میں پیکٹنگ کرتے پھر رہے ہیں. جو کام آوارہ گرد کرتے ہیں وہ مولوی صورت طالب علموں کے سپرد کیا جاتا ہے... جھنڈے اٹھوائے جاتے ہیں ،جے پکروائی جاتی ہے... گاندھی مہاراج کی جے اور وَندے ماترم کے نعروں سے کانگریسی مولوی صاحبان بہت خوش ہوتے ہیں."*(مقالات تاج العلما ص 119)
جو بات تاج ا
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
لعلما نے تحریر کی ہے اسی کو ذرا زبان دبا کر مولانا قیصر شاہ ابن انظر شاہ کشمیری یوں لکھتے ہیں :
*"کانگریسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبران شوریٰ نے تہذیب واخلاق اور دین ودیانت سے گری ہوئی جو حرکتیں،جو پروپیگنڈے ،جو سازشیں اور جو ہنگامے کئے،ہم دلی حسرت وافسوس کے ساتھ ان کے متعلق یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ ہرگز ان کے شایان شان نہ تھے.* (آئینہ دارالعلوم ص 3تا 7)
آخر وہ کون سے کارنامے تھے جنہیں خود ایک فاضل دیوبند "تہذیب و اخلاق اور دین دیانت سے گری ہوئی حرکتیں" قرار دینے پر مجبور ہوگیا.
*حکومتی انتظامیہ سے چند سوال*
حکومتی انتظامیہ کے متعصبانہ رویے پر دارالعلوم کو خوشامد کی بجائے کچھ سوال کرنا تھے.
🔹 کسی بھی غیر دستوری قانون کی مخالفت جمہوری حق ہے تو اس پر اعتراض اور مقدمہ کی دھمکی کیوں؟
🔹 طلبہ کا پر امن احتجاج پر دھمکانے والے افسران جاٹوں،گوجروں کے پرتشدد احتجاج پر کہاں غائب ہوجاتے ہیں ؟
🔹 جو لوگ حکومتی اداروں میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ،بسوں میں آگ لگاتے ہیں ،پولیس پر حملہ کرتے ہیں ، ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا ؟
لیکن ان واجبی سوال کی بجائے مہتمم دیوبند انتظامیہ کی خوشامد کرتے رہے کہ بچوں پر مقدمہ نہ کیا جائے. لیکن منت سماجت کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا. مہتمم جامعہ سے معذرت خواہانہ بیان اخبار میں جاری کرانے کے اگلے ہی دن 250 طلبہ پر مقدمہ قائم کردیا گیا.
عزت خوشامد سے نہیں خودداری سے آتی ہے اور خودداری مفاد پرستوں کے مقدر میں کہاں؟ یہ تو غیرت مندوں کی میراث ہے.
16 ربیع الثانی 1441ھ
14 دسمبر 2019 بروز ہفتہ
*"کانگریسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبران شوریٰ نے تہذیب واخلاق اور دین ودیانت سے گری ہوئی جو حرکتیں،جو پروپیگنڈے ،جو سازشیں اور جو ہنگامے کئے،ہم دلی حسرت وافسوس کے ساتھ ان کے متعلق یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ ہرگز ان کے شایان شان نہ تھے.* (آئینہ دارالعلوم ص 3تا 7)
آخر وہ کون سے کارنامے تھے جنہیں خود ایک فاضل دیوبند "تہذیب و اخلاق اور دین دیانت سے گری ہوئی حرکتیں" قرار دینے پر مجبور ہوگیا.
*حکومتی انتظامیہ سے چند سوال*
حکومتی انتظامیہ کے متعصبانہ رویے پر دارالعلوم کو خوشامد کی بجائے کچھ سوال کرنا تھے.
🔹 کسی بھی غیر دستوری قانون کی مخالفت جمہوری حق ہے تو اس پر اعتراض اور مقدمہ کی دھمکی کیوں؟
🔹 طلبہ کا پر امن احتجاج پر دھمکانے والے افسران جاٹوں،گوجروں کے پرتشدد احتجاج پر کہاں غائب ہوجاتے ہیں ؟
🔹 جو لوگ حکومتی اداروں میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ،بسوں میں آگ لگاتے ہیں ،پولیس پر حملہ کرتے ہیں ، ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا ؟
لیکن ان واجبی سوال کی بجائے مہتمم دیوبند انتظامیہ کی خوشامد کرتے رہے کہ بچوں پر مقدمہ نہ کیا جائے. لیکن منت سماجت کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا. مہتمم جامعہ سے معذرت خواہانہ بیان اخبار میں جاری کرانے کے اگلے ہی دن 250 طلبہ پر مقدمہ قائم کردیا گیا.
عزت خوشامد سے نہیں خودداری سے آتی ہے اور خودداری مفاد پرستوں کے مقدر میں کہاں؟ یہ تو غیرت مندوں کی میراث ہے.
16 ربیع الثانی 1441ھ
14 دسمبر 2019 بروز ہفتہ
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا…
*آئینِ ہند کی حفاظت کی خاطر مسلسل بیدار رہیں*
غلام مصطفیٰ رضوی*
آزادی کی شب خاک و خوں سے گزر کر نمودار ہوتی ہے…۱۹٤۷ء میں بھارت آزاد ہوا…اُس تحریکِ آزادی کی بنیاد اکابرِ ہند بالخصوص علامہ فضل حق خیرآبادی، علامہ کفایت علی کافیؔ مرادآبادی، علامہ صدرالدین خاں آزردہؔ دہلوی، علامہ ڈاکٹر وزیر احمد خاں اکبرآبادی، علامہ رضا علی خاں بریلوی نے ۱۸۵۷ء میں رکھی…قربانیاں دیں…جان نچھاور کی…مظالم سہے… زنداں کی اسیری گوارا کی…انڈمان کی قیدِ تنہائی سے گزرے…کالا پانی کی سزا ہوئی… انگریزی استبداد کے خلاف آواز بلند کی…ڈَٹے رہے…صف در صف انگریز کو للکارا…کارواں بڑھتا رہا…
آزادی کی شمع جلتی رہی…پروانے نثار ہوتے رہے…زمینی کاوش جاری رہی…عملاً اور تحریراً بھی مجاہدین محاذ پر جمے رہے…ہندستان کی زمیں اس کی گواہ ہے…پھر! میر جعفر و میر صادق خریدے گئے…جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے سیم و زر لُٹائے گئے…مشرکین نے الگ کوششیں کیں؛ کہ مسلمانوں کو کم زور کیا جائے…’’سوراج‘‘ کے قیام کے لیے مشرکین نے مراسمِ اسلامی کو نشانہ بنایا…دو، دو محاذ تھے…عزم و یقیں کی تاریخ رقم کی گئی…
*صبحِ آزادی اور فرقہ پرستی:*
۱۹٤۷ء میں ملک آزاد ہوا…ایک ملک بٹوارے کے نتیجے میں وجود پایا… وارثانِ لال قلعہ و تاج محل نے ہندستان سے ہجرت گوارہ نہ کی…یہ خواجہ غریب نواز کا دیس ہے…خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا دیس ہے…حضرت محبوبِ الٰہی وسرکار مخدومِ سمناں کا دیس ہے…یہیں طوطیِ ہند حضرت امیر خسرو نے نغمۂ روح سے؛ باطن سرشار کیا…یہاں کی فضائیں حسانُ الہند علامہ آزادؔ بلگرامی کی عربی و فارسی نعتوں سے گونج رہی ہیں… بلبلِ باغِ جناں اعلیٰ حضرت نے نغمۂ نعت گنگنایا…
یہی کہتی ہے بلبلِ باغِ جناں کہ رضاؔ کی طرح کوئی سحر بیاں
نہیں ہند میں واصفِ شاہِ ہدیٰ، مجھے شوخیِ طبع رضاؔ کی قسم
ہند میں صوفیاے کرام نے خانقاہیں سجائیں…مسجدیں بنائیں…علما نے مسندِ تدریس لگائی…ملک کوسجایا، سنوارا، نکھارا…محبتوں کا درس دیا…خوشبوؤں سے بسایا…یہاں صدیوں مسلم حکومت رہی…انصاف کا بول بالا رہا…اخوت کی سوغاتیں تقسیم ہوئیں…اَب حالات بدل گئے… نفرتوں کی آندھیاں چلائی جا رہی ہیں…فرقہ پرستی کے بیج بوئے جا رہے ہیں…دستورِ ہند میں نقب لگائی جا رہی ہے…ہندستانیوں کے شہری حقوق اور آزادی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے…ملک کے قانون کی دھجیاں صاحبانِ اقتدار بکھیر رہے ہیں…دستور کی دفعات ۱۴؍۱۵؍۲۱؍ کی مخالفت میں قانون پاس کیے جا رہے ہیں…ان کی نفرتوں کی آندھیاں پورے ملک کو خاکستر کرنے پر تُلی ہوئی ہیں…
*انصاف کا خون:*
ہندستان کی آزادی کے بعد سے مسلسل مسلمانوں پر یورش رہی ہے…مسلم معاشرت، تمدن، تہذیب و ثقافت پر حملہ رہا ہے…مذہبی آزادی کو کچلنے کی کوششیں رہی ہیں…فسادات میں نسل کشی کی گئی…عصمتوں کو لوٹا گیا…ماب لنچنگ کے ذریعے بے گناہوں کو قتل کیا گیا…شریعتِ اسلامی کے مغائر قانون بنائے گئے…ہندستانی مسلمانوں کو اذیتیں دی گئیں…زخم دیے گئے…’’بابری مسجد‘‘دن دہاڑے شہید کر دی گئی…سپریم کورٹ میں معاملہ گیا…مسلمانوں نے اُمید رکھی کہ شہید کرنے والے ’’فسادیوں‘‘ پرکارروائی کی جائے گی…انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے…لیکن معاملہ اُلٹا ہوگیا…اکثریت کو اہمیت دی گئی…انصاف کو تج دیا گیا…اور زمین اُٹھا کر مندر کے لیے دے دی گئی…جمہوری ملک میں منصفانہ اُصول بالاے طاق رکھ دیے گئے…کیا یہی انصاف ہے؟…اگر عدلیہ بھی دیانت و انصاف کی بنیادیں کھو دے تو پھر جمہوریت کا تحفظ کیسے ہوگا؟
حال کا المیہ یہ ہے کہ: اقتدار کی منزل سے جب بھاجپا دوبارہ سرفراز ہوئی؛ فوراً بابری مسجد کا فیصلہ مسجد کے خلاف ظاہر کیا گیا…آسام میں این آر سی جو پہلے سے نافذ تھی؛ جس کا تعلق شہریت (Citizenship) سے تھا… جو وہاں کے سیاسی و سرحدی حالات کے نتیجے میں رونما ہوا…اب اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کا اعلان ہے…شہریت سے متعلق کاغذات نہ پیش کر پانے والے بھارتیوں کو گھس پیٹھ قرار دینے کا عندیہ دیا گیا…پھر زَد میں آنے والے غیر مسلموں کو شہریت دینے کے لیے CAAلایا گیا…جس میں صرف مسلمانوں کو ہی باہر رکھا جائے گا…یہ مذہب کی بنیاد پر تعصب و فرقہ پرستی ہے… جو دستورِ ہند کی روح کے منافی بھی ہے…اوّل تو جن کے اَجداد نے ہندستان آزاد کرایا؛ ان سے شہریت کا ثبوت مانگنا بھارتیوں کی توہین ہے…پھر کاغذات کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر انھیں وِدیسی قرار دینا ظلم و دہشت گردی ہے… ملک کی سیکولر شبیہ خراب کرنے والی حکومت مسلسل تشدد پر آمادہ ہے…بھارتی قانون کے منافی بل کو قانونی شکل دے کر مسلمانوں اور اقلیتی طبقوں سے انتقام کا یہ آغاز ہے…
*جاگتے رہیں:*
اب وقت ہے جاگنے کا…بیدار ہولینے کا…ہمیں آئینِ ہند نے پُرامن احتجاج کا حق دیا ہے…اب پورے ملک میں انصاف پسند عوام میدان میں اُتر چکی ہے…عوام نہتی ہے…پُرامن ہے… قانون کی حفاظت کے لیے مسلسل آواز بلند کر ر
*آئینِ ہند کی حفاظت کی خاطر مسلسل بیدار رہیں*
غلام مصطفیٰ رضوی*
آزادی کی شب خاک و خوں سے گزر کر نمودار ہوتی ہے…۱۹٤۷ء میں بھارت آزاد ہوا…اُس تحریکِ آزادی کی بنیاد اکابرِ ہند بالخصوص علامہ فضل حق خیرآبادی، علامہ کفایت علی کافیؔ مرادآبادی، علامہ صدرالدین خاں آزردہؔ دہلوی، علامہ ڈاکٹر وزیر احمد خاں اکبرآبادی، علامہ رضا علی خاں بریلوی نے ۱۸۵۷ء میں رکھی…قربانیاں دیں…جان نچھاور کی…مظالم سہے… زنداں کی اسیری گوارا کی…انڈمان کی قیدِ تنہائی سے گزرے…کالا پانی کی سزا ہوئی… انگریزی استبداد کے خلاف آواز بلند کی…ڈَٹے رہے…صف در صف انگریز کو للکارا…کارواں بڑھتا رہا…
آزادی کی شمع جلتی رہی…پروانے نثار ہوتے رہے…زمینی کاوش جاری رہی…عملاً اور تحریراً بھی مجاہدین محاذ پر جمے رہے…ہندستان کی زمیں اس کی گواہ ہے…پھر! میر جعفر و میر صادق خریدے گئے…جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے سیم و زر لُٹائے گئے…مشرکین نے الگ کوششیں کیں؛ کہ مسلمانوں کو کم زور کیا جائے…’’سوراج‘‘ کے قیام کے لیے مشرکین نے مراسمِ اسلامی کو نشانہ بنایا…دو، دو محاذ تھے…عزم و یقیں کی تاریخ رقم کی گئی…
*صبحِ آزادی اور فرقہ پرستی:*
۱۹٤۷ء میں ملک آزاد ہوا…ایک ملک بٹوارے کے نتیجے میں وجود پایا… وارثانِ لال قلعہ و تاج محل نے ہندستان سے ہجرت گوارہ نہ کی…یہ خواجہ غریب نواز کا دیس ہے…خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کا دیس ہے…حضرت محبوبِ الٰہی وسرکار مخدومِ سمناں کا دیس ہے…یہیں طوطیِ ہند حضرت امیر خسرو نے نغمۂ روح سے؛ باطن سرشار کیا…یہاں کی فضائیں حسانُ الہند علامہ آزادؔ بلگرامی کی عربی و فارسی نعتوں سے گونج رہی ہیں… بلبلِ باغِ جناں اعلیٰ حضرت نے نغمۂ نعت گنگنایا…
یہی کہتی ہے بلبلِ باغِ جناں کہ رضاؔ کی طرح کوئی سحر بیاں
نہیں ہند میں واصفِ شاہِ ہدیٰ، مجھے شوخیِ طبع رضاؔ کی قسم
ہند میں صوفیاے کرام نے خانقاہیں سجائیں…مسجدیں بنائیں…علما نے مسندِ تدریس لگائی…ملک کوسجایا، سنوارا، نکھارا…محبتوں کا درس دیا…خوشبوؤں سے بسایا…یہاں صدیوں مسلم حکومت رہی…انصاف کا بول بالا رہا…اخوت کی سوغاتیں تقسیم ہوئیں…اَب حالات بدل گئے… نفرتوں کی آندھیاں چلائی جا رہی ہیں…فرقہ پرستی کے بیج بوئے جا رہے ہیں…دستورِ ہند میں نقب لگائی جا رہی ہے…ہندستانیوں کے شہری حقوق اور آزادی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے…ملک کے قانون کی دھجیاں صاحبانِ اقتدار بکھیر رہے ہیں…دستور کی دفعات ۱۴؍۱۵؍۲۱؍ کی مخالفت میں قانون پاس کیے جا رہے ہیں…ان کی نفرتوں کی آندھیاں پورے ملک کو خاکستر کرنے پر تُلی ہوئی ہیں…
*انصاف کا خون:*
ہندستان کی آزادی کے بعد سے مسلسل مسلمانوں پر یورش رہی ہے…مسلم معاشرت، تمدن، تہذیب و ثقافت پر حملہ رہا ہے…مذہبی آزادی کو کچلنے کی کوششیں رہی ہیں…فسادات میں نسل کشی کی گئی…عصمتوں کو لوٹا گیا…ماب لنچنگ کے ذریعے بے گناہوں کو قتل کیا گیا…شریعتِ اسلامی کے مغائر قانون بنائے گئے…ہندستانی مسلمانوں کو اذیتیں دی گئیں…زخم دیے گئے…’’بابری مسجد‘‘دن دہاڑے شہید کر دی گئی…سپریم کورٹ میں معاملہ گیا…مسلمانوں نے اُمید رکھی کہ شہید کرنے والے ’’فسادیوں‘‘ پرکارروائی کی جائے گی…انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے…لیکن معاملہ اُلٹا ہوگیا…اکثریت کو اہمیت دی گئی…انصاف کو تج دیا گیا…اور زمین اُٹھا کر مندر کے لیے دے دی گئی…جمہوری ملک میں منصفانہ اُصول بالاے طاق رکھ دیے گئے…کیا یہی انصاف ہے؟…اگر عدلیہ بھی دیانت و انصاف کی بنیادیں کھو دے تو پھر جمہوریت کا تحفظ کیسے ہوگا؟
حال کا المیہ یہ ہے کہ: اقتدار کی منزل سے جب بھاجپا دوبارہ سرفراز ہوئی؛ فوراً بابری مسجد کا فیصلہ مسجد کے خلاف ظاہر کیا گیا…آسام میں این آر سی جو پہلے سے نافذ تھی؛ جس کا تعلق شہریت (Citizenship) سے تھا… جو وہاں کے سیاسی و سرحدی حالات کے نتیجے میں رونما ہوا…اب اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کا اعلان ہے…شہریت سے متعلق کاغذات نہ پیش کر پانے والے بھارتیوں کو گھس پیٹھ قرار دینے کا عندیہ دیا گیا…پھر زَد میں آنے والے غیر مسلموں کو شہریت دینے کے لیے CAAلایا گیا…جس میں صرف مسلمانوں کو ہی باہر رکھا جائے گا…یہ مذہب کی بنیاد پر تعصب و فرقہ پرستی ہے… جو دستورِ ہند کی روح کے منافی بھی ہے…اوّل تو جن کے اَجداد نے ہندستان آزاد کرایا؛ ان سے شہریت کا ثبوت مانگنا بھارتیوں کی توہین ہے…پھر کاغذات کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر انھیں وِدیسی قرار دینا ظلم و دہشت گردی ہے… ملک کی سیکولر شبیہ خراب کرنے والی حکومت مسلسل تشدد پر آمادہ ہے…بھارتی قانون کے منافی بل کو قانونی شکل دے کر مسلمانوں اور اقلیتی طبقوں سے انتقام کا یہ آغاز ہے…
*جاگتے رہیں:*
اب وقت ہے جاگنے کا…بیدار ہولینے کا…ہمیں آئینِ ہند نے پُرامن احتجاج کا حق دیا ہے…اب پورے ملک میں انصاف پسند عوام میدان میں اُتر چکی ہے…عوام نہتی ہے…پُرامن ہے… قانون کی حفاظت کے لیے مسلسل آواز بلند کر ر
Forwarded from چینل تحریک اصلاح عقائد
ہی ہے…تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں کے طلبہ اور باشعور ہندوستانی جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہے ہیں…مودی حکومت جھکنے تیار نہیں…ان کا منصوبہ بھارت کو ’’ہندوراشٹر‘‘ بنانے کا ہے…منواسمرتی کا ہے…اسی لیے آئین کے سیکولر مزاج کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے…ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہوئے اس قانون کو بدلا جا رہا ہے؛ جس سے بھارتیوں کا اَمن و انصاف برقرار ہے … دستورِ ہند سے کھلواڑ کر رہے ہیں…مظاہرین پر تشدد کیا جا رہا ہے…طاقت سے جمہوری آواز نہیں روکی جا سکتی…جب غبار چھٹے گا…لہو کی سرخی سے صبحِ تابندہ نمودار ہوگی…بھارتیوں کی جدوجہد رنگ لائے گی…انصاف کا سویرا طلوع ہوگا…لیکن اس کے لیے قربانیوں کی کئی شاموں سے گزرنا ہوگا…احتجاج جاری رکھنا ہوگا…
ابھی یہ مشاہدہ ہو رہا ہے کہ…مودی حکومت کو میر جعفر و میر صادق کی تلاش ہے…ماضی میں بھی بِکنے والے بِکتے رہے…مسلمان زندہ رہے…حال میں بھی لگتا ہے کہ مولوی و بے شرع صوفی خریدے جائیں گے…اور جنٹل مین بھی…جو قوم کی کشتی غرق کرنے پر تُلے ہوں گے…اِس لیے یقیں محکم اور عمل پیہم کی راہ سے رُو گرداں نہ ہوں…عزائم بلند رکھیں…مشیت کی مدد آئے گی…عمل کی شاہراہ اگر آراستہ ہو گی تو خدائی مدد کے توشے ضرور نازل ہوں گے…ظلم کی شام چھٹے گی…اُمید کے اُجالے ظاہر ہوں گے…لیکن! اس کے لیے ہمیں قائدینِ انقلابِ آزادیِ ہند اور اسلافِ کرام بالخصوص علامہ فضلِ حق چشتی خیرآبادی کے نقوشِ قدم پر چلنا ہوگا…ممکن ہے کہ ہر طرح کی قربانیاں دینی پڑے… نئی آزادی کی تگ و دَو کرنی ہوگی…آئینِ ہند کی حفاظت کی خاطر مسلسل بیدار رہیں…شاہراہِ ایمان پر استقامت کے ساتھ چلیں…راہ اگر طویل ہو جائے تو مایوس ہرگز نہ ہوں…منافقین و مشرکین کے ایجنٹوں سے باخبر رہیں…تا کہ بھارت کا حسن پھر لوٹ آئے…لُٹیرے انجام کو پہنچیں…
آج بھی ہو جو براہیم سے ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
٭ ٭ ٭
*[نوری مشن مالیگاؤں]
٢٢؍ دسمبر ۲۰۱۹ء
ابھی یہ مشاہدہ ہو رہا ہے کہ…مودی حکومت کو میر جعفر و میر صادق کی تلاش ہے…ماضی میں بھی بِکنے والے بِکتے رہے…مسلمان زندہ رہے…حال میں بھی لگتا ہے کہ مولوی و بے شرع صوفی خریدے جائیں گے…اور جنٹل مین بھی…جو قوم کی کشتی غرق کرنے پر تُلے ہوں گے…اِس لیے یقیں محکم اور عمل پیہم کی راہ سے رُو گرداں نہ ہوں…عزائم بلند رکھیں…مشیت کی مدد آئے گی…عمل کی شاہراہ اگر آراستہ ہو گی تو خدائی مدد کے توشے ضرور نازل ہوں گے…ظلم کی شام چھٹے گی…اُمید کے اُجالے ظاہر ہوں گے…لیکن! اس کے لیے ہمیں قائدینِ انقلابِ آزادیِ ہند اور اسلافِ کرام بالخصوص علامہ فضلِ حق چشتی خیرآبادی کے نقوشِ قدم پر چلنا ہوگا…ممکن ہے کہ ہر طرح کی قربانیاں دینی پڑے… نئی آزادی کی تگ و دَو کرنی ہوگی…آئینِ ہند کی حفاظت کی خاطر مسلسل بیدار رہیں…شاہراہِ ایمان پر استقامت کے ساتھ چلیں…راہ اگر طویل ہو جائے تو مایوس ہرگز نہ ہوں…منافقین و مشرکین کے ایجنٹوں سے باخبر رہیں…تا کہ بھارت کا حسن پھر لوٹ آئے…لُٹیرے انجام کو پہنچیں…
آج بھی ہو جو براہیم سے ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
٭ ٭ ٭
*[نوری مشن مالیگاؤں]
٢٢؍ دسمبر ۲۰۱۹ء