حضرت خواجہ احمد میروی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ احمد میروی ۔ والد کا اسمِ گرامی: محمد بر خور دار ۔ خواجہ محمد برخور دار حضرت شاہ سلیمان تونسوی کے مرید تھے اور اکثر و بیشتر آستانہ مرشد پر حاضری دینے جایا کرتے تھے ۔
ایک بار حسب معمول تونسہ شریف سے واپس جارہےتھے کہ منگروٹھ (تونسہ شریف سے5کلومیٹر مغرب کی جانب ایک قصبہ ہے)کے مقام پر انتقال ہو گیا اور وہیں(جامع مسجد بلوچ خاناں میں ) سپرد خاک ہوئے۔آپ کاتعلق"کھوکھراعوان"قبیلےسےہے۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1250ھ،بمطابق 1834ء کو کوہستان بلوچستان کے علاقے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:خواجہ احمد میروی اپنے والد ماجد کی زندگی میں ہی قرآن حکیم اپنے والدسے پڑھ چکےتھے۔ان کی وفات کےبعدآپ کےماموں علی خان نےآپ کی تربیت وکفالت کاذمہ لیا،علی خان بھی خواجہ سلیمان تونسوی کےمریدتھےاس لیےخواجہ میروی کو ان کے آستانہ میں داخل کرا دیا۔آپ 9 سال تک علوم متداولہ کی تحصیل میں مصروف رہے۔وہاں سے فارغ ہوکرملتان تشریف لےگئے،اوروہاں کےعلماءسےاکتسابِ فیض کیا۔لیکن جلدی ہی کلور کوٹ میں مولانا مملوک علی علیہ الرحمہ کےسامنےزانوئےتلمذتہ کیا۔
بیعت وخلافت: حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی،اور خواجہ محمد فاضل شاہ نے بھی خلافت سے نواز تھا۔
سیرت وخصائص: مردحقیقت آگاہ،کشتۂ جودو سخا،سراپا مہرووفاء،عارف کامل،پیرِ طریقت امیرِ شریعت،منظورِ نظر حضرات خواجگانِ چشت اہلِ بہشت حضرت علامہ مولانا خواجہ احمد میروی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کاشمار حضرت خواجہ تونسوی رحمۃاللہ علیہ کے ممتاز خلفاء میں سے ہوتاہے۔آپ نے تمام علوم خواجہ تونسوی علیہ ارحمہ کے دینی ادارے سے حاصل کیے،اور تعلیم کے ساتھ ریاضت پر بھی توجہ خصوصی تھی۔تکمیل ِ علوم کے بعد آپ سیروسیاحت کیلئے نکل گئے اور سات سال تک کشمیر اجمیر ،پاکپتن شریف،لاہور ،ملتان،دہلی، اور کلیر شریف سے ہوتے ہوئے تونسہ شریف آ گئے،اور پھر سیاحت کیلئے تشریف لے گئے،جب پنڈی گھیپ،ضلع اٹک کی ایک بستی "میرا"میں پہنچے تو آپ کی طبیعت کو بہت سکون ملااور یہاں پر دل لگ گیا۔پھر یہاں مستقل قیام پذیر ہوگئے۔آپ نے سب سے پہلے ایک دینی ادارہ قائم کیا،جہاں دوردور سےشائقینِ علم آنے لگے،مسجد اور خانقاہ کی تعمیر سے اس علاقے کو چار چاندلگ گئے،اور دینِ اسلام کی بہاریں ہرطرف نظر آنے لگیں۔یہ تھے اللہ کے ولی جہاں گئے اسلام کورونقیں دیتے گئے لوگوں کو نمازی وغازی بناتے چلے گئے ۔پورے علاقے میں مساجد ومدارس اورمسافروں کیلئے سرائے خانے تعمیر کروائے۔آپ کی ذات سے کثیر مخلوق ِخدا مستفید ہوئی۔آپ ہمیشہ نمازِ پنجگانہ باجماعت اداکرتے تھے۔رسول اللہﷺ کی سنتوں پر زور دیتے تھے،اپنے مخالفین سے کبھی انتقام نہیں لیا۔
تاجدارِ گولڑہ سے خصوصی تعلق: حضرت خواجہ احمد صاحب میروی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت پیر مہر ِعلی رحمۃ اللہ علیہ کےساتھ ارتباط تھا۔ باہم آمدورفت اورخط وکتابت بھی تھی۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کےساتھ اثنائے گفتگو میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کوبڑے پیارےانداز میں"لالو"کہہ کر بلاتے،جو بزبانِ پنجابی بھائی کےمترادف ہے۔ ایک دو مرتبہ گولڑہ تشریف لائے۔(مہرِ منیر:404)
فرنگیوں سے نفرت: آپ حق پرست و حق گو انسان تھے،انگریزی حکومت کے زبردست مخالف تھے۔انگریزاور اس کےحواریوں کو مسلمان واسلام کادشمن سمجھتے تھے،اور ان کی تہذیب کی برملامخالفت کرتےتھے۔
وصال:
آپ کا وصال 5 محرم الحرام 1330ھ، بمطابق 27 دسمبر 1911ءکو ہوا۔آپ کامزار "میراشریف" تحصیل پنڈی گھیپ، (ضلع اٹک، پنجاب، پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مہرِ منیر ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-khawaja-ahmad-meervi-chishti
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ احمد میروی ۔ والد کا اسمِ گرامی: محمد بر خور دار ۔ خواجہ محمد برخور دار حضرت شاہ سلیمان تونسوی کے مرید تھے اور اکثر و بیشتر آستانہ مرشد پر حاضری دینے جایا کرتے تھے ۔
ایک بار حسب معمول تونسہ شریف سے واپس جارہےتھے کہ منگروٹھ (تونسہ شریف سے5کلومیٹر مغرب کی جانب ایک قصبہ ہے)کے مقام پر انتقال ہو گیا اور وہیں(جامع مسجد بلوچ خاناں میں ) سپرد خاک ہوئے۔آپ کاتعلق"کھوکھراعوان"قبیلےسےہے۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1250ھ،بمطابق 1834ء کو کوہستان بلوچستان کے علاقے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:خواجہ احمد میروی اپنے والد ماجد کی زندگی میں ہی قرآن حکیم اپنے والدسے پڑھ چکےتھے۔ان کی وفات کےبعدآپ کےماموں علی خان نےآپ کی تربیت وکفالت کاذمہ لیا،علی خان بھی خواجہ سلیمان تونسوی کےمریدتھےاس لیےخواجہ میروی کو ان کے آستانہ میں داخل کرا دیا۔آپ 9 سال تک علوم متداولہ کی تحصیل میں مصروف رہے۔وہاں سے فارغ ہوکرملتان تشریف لےگئے،اوروہاں کےعلماءسےاکتسابِ فیض کیا۔لیکن جلدی ہی کلور کوٹ میں مولانا مملوک علی علیہ الرحمہ کےسامنےزانوئےتلمذتہ کیا۔
بیعت وخلافت: حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی،اور خواجہ محمد فاضل شاہ نے بھی خلافت سے نواز تھا۔
سیرت وخصائص: مردحقیقت آگاہ،کشتۂ جودو سخا،سراپا مہرووفاء،عارف کامل،پیرِ طریقت امیرِ شریعت،منظورِ نظر حضرات خواجگانِ چشت اہلِ بہشت حضرت علامہ مولانا خواجہ احمد میروی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کاشمار حضرت خواجہ تونسوی رحمۃاللہ علیہ کے ممتاز خلفاء میں سے ہوتاہے۔آپ نے تمام علوم خواجہ تونسوی علیہ ارحمہ کے دینی ادارے سے حاصل کیے،اور تعلیم کے ساتھ ریاضت پر بھی توجہ خصوصی تھی۔تکمیل ِ علوم کے بعد آپ سیروسیاحت کیلئے نکل گئے اور سات سال تک کشمیر اجمیر ،پاکپتن شریف،لاہور ،ملتان،دہلی، اور کلیر شریف سے ہوتے ہوئے تونسہ شریف آ گئے،اور پھر سیاحت کیلئے تشریف لے گئے،جب پنڈی گھیپ،ضلع اٹک کی ایک بستی "میرا"میں پہنچے تو آپ کی طبیعت کو بہت سکون ملااور یہاں پر دل لگ گیا۔پھر یہاں مستقل قیام پذیر ہوگئے۔آپ نے سب سے پہلے ایک دینی ادارہ قائم کیا،جہاں دوردور سےشائقینِ علم آنے لگے،مسجد اور خانقاہ کی تعمیر سے اس علاقے کو چار چاندلگ گئے،اور دینِ اسلام کی بہاریں ہرطرف نظر آنے لگیں۔یہ تھے اللہ کے ولی جہاں گئے اسلام کورونقیں دیتے گئے لوگوں کو نمازی وغازی بناتے چلے گئے ۔پورے علاقے میں مساجد ومدارس اورمسافروں کیلئے سرائے خانے تعمیر کروائے۔آپ کی ذات سے کثیر مخلوق ِخدا مستفید ہوئی۔آپ ہمیشہ نمازِ پنجگانہ باجماعت اداکرتے تھے۔رسول اللہﷺ کی سنتوں پر زور دیتے تھے،اپنے مخالفین سے کبھی انتقام نہیں لیا۔
تاجدارِ گولڑہ سے خصوصی تعلق: حضرت خواجہ احمد صاحب میروی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت پیر مہر ِعلی رحمۃ اللہ علیہ کےساتھ ارتباط تھا۔ باہم آمدورفت اورخط وکتابت بھی تھی۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کےساتھ اثنائے گفتگو میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کوبڑے پیارےانداز میں"لالو"کہہ کر بلاتے،جو بزبانِ پنجابی بھائی کےمترادف ہے۔ ایک دو مرتبہ گولڑہ تشریف لائے۔(مہرِ منیر:404)
فرنگیوں سے نفرت: آپ حق پرست و حق گو انسان تھے،انگریزی حکومت کے زبردست مخالف تھے۔انگریزاور اس کےحواریوں کو مسلمان واسلام کادشمن سمجھتے تھے،اور ان کی تہذیب کی برملامخالفت کرتےتھے۔
وصال:
آپ کا وصال 5 محرم الحرام 1330ھ، بمطابق 27 دسمبر 1911ءکو ہوا۔آپ کامزار "میراشریف" تحصیل پنڈی گھیپ، (ضلع اٹک، پنجاب، پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مہرِ منیر ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-khawaja-ahmad-meervi-chishti
scholars.pk
Peer e Tariqat Hazrat Khawaja Ahmad Meervi Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ جان محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ہر دور میں اپنے بندوں میں سے جن بندوں کا چناؤ کیا وہ اللہ کے مخصوص انسان بن گئے ہیں ان مخصوص انسانوں کو اللہ نے اپنا خصوصی فیض اور فضل عطا فرمایا اسی فیض کے بدولت وہ لوگوں کی راہنمائی کرتے اور بے راہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں۔ اللہ کے ان نیک اور صالح بندوں میں ہے حضرت جان محمد چشتی تھے۔
خاندانی حالات:
حضرت جان محمد چشتی کے آباؤ اجداد فیروز پور آکر آباد ہوئے تھے، آپ اک تعلق راجپوت قوم سے تھا آپ کے والد ماجد کا نام خواجہ خدا بخش تھا جو زمینداری کا کام کرتے تھے خواجہ خدا بخش رزق حلال کمانے کے حق میں تھے اور اسی رزق حلال کا اثر تھا کہ آپ کا لڑکا ولئ کامل بنا۔
پیدائش:
آپ ۲۱ رمضان المبارک بروز جمعرات ۱۳۲۷ھ بمطابق ۷ اکتوبر ۱۹۰۹ء میں فیروز پور کے شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ آپ کے والدین نے آپ کا نام جان محمد رکھا۔ لیکن بعدازاں سلسلہ چشتیہ میں منسلک ہونے کی وجہ سے چشتی کہلواتے تھے۔
تسلیم و تربیت:
آپ کے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اس لیے آپ کے والدین نے ابتدا ہی سے صالح خطوط پر آپ کی پرورش کی اور تربیت کی طرف خصوصی توجہ دی تاکہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر نیک اور صالح انسان بنے۔ آپ نے میٹرک تک گورنمنٹ ہائی اسکول فیروز پور سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی علاقے کی مسجد کے امام سے قرآن پاک ناظرہ پڑھا۔ آپ بچپن ہی سے نیکی کی طرف مائل تھے۔ والدین کا ماحول مذہبی تھا اس لیے اس ماحول کے زیر اثر آپ ہوش سنبھالنے تک نماز کے پابند ہو گے۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے آپ علی گڑھ گئے اور وہاں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخل ہوگئے چار سال کے عرصہ میں آپ نے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ آپ کے مضامین مین عربی اور فارسی کے مضامین بھی تھے اس لیے آپ عربی اور فارسی بخوبی جانتے تھے۔
فوج میں ملازمت:
تعلیم و تربیت سے فارغ وہنے کے بعد آپ فوج میں بھرتی ہو گئے آپ کی زندگی کا بیشتر حصّہ فوجی ملازمت میں گزرا۔ دوران ملازمت آپ انتہائی فرض شناس اور ایماندار تھے۔ آپ میں وصف تھا کہ آپ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کبھی کوتاہی نہ کی۔
بیعت:
آپ طالب علمی ہی کے زمانے میں تھے کہ آپ راہِ سلوک کے مسافر بنے راہ حق کو پانے کی آپ میں سچی تڑپ تھی آپ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے کہ دنیا میں رہ کر آخرت کی فکر کرنا ازحد ضروری ہے۔ آپ کے علاقہ فیروز پور میں اللہ والے آتے جاتے رہتے تھے۔ لیکن حضرت خواجہ محمد یار تبلیغ کی غرض سے اکثر فیروز پور میں آیا کرتے۔ حضرت خواجہ محمد یار کا تعلق گڑھی شریف بہادلپور سے تھا اور حضرت خواجہ غلام فرید کے خلیفہ تھے۔ ایک دفعہ حضرت محمد یار صاحب فیروز پور میں تشریف لائے آپ بھی علی گڑھ سے اپنے گھر آئے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ ان کے ہاتھ پر بیعت سے مشرف ہوئے۔ حضرت خواجہ محمد یار صاحب کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے تھا بیعت سے قبل آپ شیخ کامل کی تلاش میں متعدد بزرگان دین کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آکر آپ جن کے مرید ہوئے وہ حضرت خواجہ یار محمد تھے۔
خرقہ خلافت:
آپ نے ۲۱ سال اپنے مرشد کی زیر نگرانی سخت مجاہدہ کیا لیکن آپ تارک الدنیا نہ ہوئے آپ نے شریعت کی حدود میں رہ کر منازل سلوک کر عبور کیا آپ کے پیش نظر حصول فیض کے سے زیادہ وقت مرشد کامل کی صحبت میں گزارہ جائے دو سال تک آپ نے نماز مبحکوس ادا کی ، آپ نے اپنی حیاتی میں ذیادہ ترنفی اثبات کا ذکر کیا اور اکثر اوقات شب بیدار رہا کرتے تھے اور ساری رات اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ۔آخر ایک حضرت خواجہ محّمد یا ر صاحب فیروز پور میںں آے ہوئے تھے ایک مجلس کے بعد ۱۹۳۲ھ میں آپ کو خرقہ خلافت سے نوازا اور اس وقت آپ شیخ کی نگاہ ِ باطن کے مطابق روحانیت میں خاص مقام حاصل کر چکے تھے ۔اس کہ بعد آپ اپنےمرشد کی ہدایت کہ مطابق مخلوق خُدا کی روحانی اور اخلاقی تربییت میں مصروف ہوگئے۔
شجرہ طریقت :
آپ کا شجرہ طریقت چند واسطوں سے حضرت بابا فرید گنج شکر سے ملتا ہے۔خواجہ محُمد جان چشتی مرید تھے حضرت خواجہ محُمد یارکےوہ مرید خواجہ معین الدین کے وہ مرید حضرت محُمد بخش کے وہ مرید حضرت خواجہ غلام فرید کے وہ مرید حضرت غلام فخرالدین کے وہ مرید حضرت خواجہ خدا بخش کے وہ مرید حضرت شیخ محمُد عاقل کے وہ مرید خواجہ نور محمد مہاروی کے وہ مرید حضرت مولا نا فخرالدین فخر الجہاں کے وہ مرید حضرت نظام الدین اور رنگ آبادی وہ مرید حضرت حضرت کلیم اللہ کے وہ مرید حضرت یحیحی کے وہ مرید حضرت شیخ احمد کے وہ مرید حضرت حسن محمُد کے وہ مرید حضرت شیخ جمال الدین کے وہ مرید حضرت محمُود کے وہ مرید حضرت علم الدین کے وہ مرید شیخ سراج الدین کے وہ مرید کمال الدین علامہ کے وہ مرید حضرت نصیر الددین چراغ دہلی کے وہ مرید خواجہ نظاماالدین اولیاء کے وہ مرید حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علہیہ کے۔
لاہور میں قیام :
قیام پاکستان پر آپ فیروز پور کو
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ہر دور میں اپنے بندوں میں سے جن بندوں کا چناؤ کیا وہ اللہ کے مخصوص انسان بن گئے ہیں ان مخصوص انسانوں کو اللہ نے اپنا خصوصی فیض اور فضل عطا فرمایا اسی فیض کے بدولت وہ لوگوں کی راہنمائی کرتے اور بے راہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں۔ اللہ کے ان نیک اور صالح بندوں میں ہے حضرت جان محمد چشتی تھے۔
خاندانی حالات:
حضرت جان محمد چشتی کے آباؤ اجداد فیروز پور آکر آباد ہوئے تھے، آپ اک تعلق راجپوت قوم سے تھا آپ کے والد ماجد کا نام خواجہ خدا بخش تھا جو زمینداری کا کام کرتے تھے خواجہ خدا بخش رزق حلال کمانے کے حق میں تھے اور اسی رزق حلال کا اثر تھا کہ آپ کا لڑکا ولئ کامل بنا۔
پیدائش:
آپ ۲۱ رمضان المبارک بروز جمعرات ۱۳۲۷ھ بمطابق ۷ اکتوبر ۱۹۰۹ء میں فیروز پور کے شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ آپ کے والدین نے آپ کا نام جان محمد رکھا۔ لیکن بعدازاں سلسلہ چشتیہ میں منسلک ہونے کی وجہ سے چشتی کہلواتے تھے۔
تسلیم و تربیت:
آپ کے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اس لیے آپ کے والدین نے ابتدا ہی سے صالح خطوط پر آپ کی پرورش کی اور تربیت کی طرف خصوصی توجہ دی تاکہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر نیک اور صالح انسان بنے۔ آپ نے میٹرک تک گورنمنٹ ہائی اسکول فیروز پور سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی علاقے کی مسجد کے امام سے قرآن پاک ناظرہ پڑھا۔ آپ بچپن ہی سے نیکی کی طرف مائل تھے۔ والدین کا ماحول مذہبی تھا اس لیے اس ماحول کے زیر اثر آپ ہوش سنبھالنے تک نماز کے پابند ہو گے۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے آپ علی گڑھ گئے اور وہاں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخل ہوگئے چار سال کے عرصہ میں آپ نے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ آپ کے مضامین مین عربی اور فارسی کے مضامین بھی تھے اس لیے آپ عربی اور فارسی بخوبی جانتے تھے۔
فوج میں ملازمت:
تعلیم و تربیت سے فارغ وہنے کے بعد آپ فوج میں بھرتی ہو گئے آپ کی زندگی کا بیشتر حصّہ فوجی ملازمت میں گزرا۔ دوران ملازمت آپ انتہائی فرض شناس اور ایماندار تھے۔ آپ میں وصف تھا کہ آپ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کبھی کوتاہی نہ کی۔
بیعت:
آپ طالب علمی ہی کے زمانے میں تھے کہ آپ راہِ سلوک کے مسافر بنے راہ حق کو پانے کی آپ میں سچی تڑپ تھی آپ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے کہ دنیا میں رہ کر آخرت کی فکر کرنا ازحد ضروری ہے۔ آپ کے علاقہ فیروز پور میں اللہ والے آتے جاتے رہتے تھے۔ لیکن حضرت خواجہ محمد یار تبلیغ کی غرض سے اکثر فیروز پور میں آیا کرتے۔ حضرت خواجہ محمد یار کا تعلق گڑھی شریف بہادلپور سے تھا اور حضرت خواجہ غلام فرید کے خلیفہ تھے۔ ایک دفعہ حضرت محمد یار صاحب فیروز پور میں تشریف لائے آپ بھی علی گڑھ سے اپنے گھر آئے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ ان کے ہاتھ پر بیعت سے مشرف ہوئے۔ حضرت خواجہ محمد یار صاحب کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے تھا بیعت سے قبل آپ شیخ کامل کی تلاش میں متعدد بزرگان دین کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آکر آپ جن کے مرید ہوئے وہ حضرت خواجہ یار محمد تھے۔
خرقہ خلافت:
آپ نے ۲۱ سال اپنے مرشد کی زیر نگرانی سخت مجاہدہ کیا لیکن آپ تارک الدنیا نہ ہوئے آپ نے شریعت کی حدود میں رہ کر منازل سلوک کر عبور کیا آپ کے پیش نظر حصول فیض کے سے زیادہ وقت مرشد کامل کی صحبت میں گزارہ جائے دو سال تک آپ نے نماز مبحکوس ادا کی ، آپ نے اپنی حیاتی میں ذیادہ ترنفی اثبات کا ذکر کیا اور اکثر اوقات شب بیدار رہا کرتے تھے اور ساری رات اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ۔آخر ایک حضرت خواجہ محّمد یا ر صاحب فیروز پور میںں آے ہوئے تھے ایک مجلس کے بعد ۱۹۳۲ھ میں آپ کو خرقہ خلافت سے نوازا اور اس وقت آپ شیخ کی نگاہ ِ باطن کے مطابق روحانیت میں خاص مقام حاصل کر چکے تھے ۔اس کہ بعد آپ اپنےمرشد کی ہدایت کہ مطابق مخلوق خُدا کی روحانی اور اخلاقی تربییت میں مصروف ہوگئے۔
شجرہ طریقت :
آپ کا شجرہ طریقت چند واسطوں سے حضرت بابا فرید گنج شکر سے ملتا ہے۔خواجہ محُمد جان چشتی مرید تھے حضرت خواجہ محُمد یارکےوہ مرید خواجہ معین الدین کے وہ مرید حضرت محُمد بخش کے وہ مرید حضرت خواجہ غلام فرید کے وہ مرید حضرت غلام فخرالدین کے وہ مرید حضرت خواجہ خدا بخش کے وہ مرید حضرت شیخ محمُد عاقل کے وہ مرید خواجہ نور محمد مہاروی کے وہ مرید حضرت مولا نا فخرالدین فخر الجہاں کے وہ مرید حضرت نظام الدین اور رنگ آبادی وہ مرید حضرت حضرت کلیم اللہ کے وہ مرید حضرت یحیحی کے وہ مرید حضرت شیخ احمد کے وہ مرید حضرت حسن محمُد کے وہ مرید حضرت شیخ جمال الدین کے وہ مرید حضرت محمُود کے وہ مرید حضرت علم الدین کے وہ مرید شیخ سراج الدین کے وہ مرید کمال الدین علامہ کے وہ مرید حضرت نصیر الددین چراغ دہلی کے وہ مرید خواجہ نظاماالدین اولیاء کے وہ مرید حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علہیہ کے۔
لاہور میں قیام :
قیام پاکستان پر آپ فیروز پور کو
❤1
خیر باد کہہ کر لاہور آگئے آپ اس سے قبل ۱۹۴۶ھ میں میجر کے عہد ہ سے ریٹائر ہوئے لاہور میں آپ نے دھرم پورہ کی آبادی میں مستقبل مسکونت اختیار کی۔اور آخری دم تک لاہور میں لوگوں کو فیض پہنچایا ۔
درس و تدریس:
آپ نے قیام لاہور کے دوران اپنی قیام گاہ پر مریدین اور مقتعدین کی اخلاقی اور دینی تربعیت کے لیے درس و تدریس کا سلسلہ جاری کیا اور آخر دم تک آپ نے یہ فریصہ نجوبی سر انجام دیا آپ نے تمام عمر مخلوق خُدا کی خدمت کی ۔آپ مریدو ں کی تربیت شری خطوط پر کیا کرتے تھے ۔آپ اپنے مریدوں کو سنت رسول کا پابند کرتے اسلام کی اخلاقی قدروں پر عمل پیرا ہونے کا درس دیتے آپ کے مریدوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ نماز اور روزہ با لکل نہ ترک کریں ۔آپ صاحب حیثیت تھے اور خود ذکوۃ دیتے تھے اور اپنے مریدو کو بھی زکوۃ کی ادایگی کی تلقین کرتے ۔آپ بسا اوقات مریدین کو تصوف کی کتب کا درس دیا کرتے تھے ان اہم کتابوں میں فصوص الحکم فتوحات مکیہ تحفہ مرسلہ کشکول کلیمی لوائح جامی اور عوارف المعارف جیسی عظیم کتب شامل ہوتیں ۔اس درس سے بڑے بڑے علماء فضلاء کثیر تعداد میں فیض یاب ہوتے۔
آپ ہر سال خواجہ اجمیری کا عرس کروایا کرتے تھے اور اس میں شامل ہونے والوں کو بزرگان دین کی زندگیوں کی پیروی کرنے کی ہدایت کرتے اس کے علاوہ آپ ہر ماہ مجلس ذکر کیا کرتے تھے اس کا مقصد بھی لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لانا تھا۔
ذوق سماع:
آپ کو سماع سے خصوصی دلچسپی تھی اور محفل سماع میں صوفیانہ آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے آپ ہر ماہ اپنی قیام گاہ پر محفل سماع کروایا کرتے تھے اکثر اوقات آپ کو محفل سماع میں وجد بھی ہوجاتا۔ آپ کو عارفانہ کلام سننے کا بے حد شوق تھا خاص کر جب آپ مدحت رسول سنتے تو آپ پر عشق کا غلبہ طاری ہوجاتا اور آپ بے خود ہو جاتے۔
بزرگانِ دین کے مقابر پر حاضری:
آپ کو بزرگانِ دین کے مقابر تھا اس لیے آپ عموماً ہر سال باقاعدگی سے حضرت خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن خواجہ نور محمد مہاروی چشتیاں شریف رحمۃ اللہ علیہ اور آستانہ فرید یہ حضرت بابا فرید گنج شکر کے عرسوں میں جایا کرتے تھے۔ اور ہواں ذکر و فکر اور مراقبہ میں فیض پاتے اور بیرون ملک متعدد بزرگانِ دین کے مزارات پر حاضری دی۔
حج:
آپ نے ۱۱ مرتبہ حج کیا اور وہاں زیارت النبی سے لطف اندوز ہوئے آپ جب روضہ رسول پر جاتے تو آپ پر عجیب کیفیت طاری ہوتی آنکھیں رشک بار ہوجاتی ہیں اور نہ دل حضوری سے مالا مال ہوجاتا۔
سیرت:
آپ کے شب و روز کے معمولات سنت نبوی کا نمونہ تھے۔ آپ اخلاق حسنہ اور نیک اوصاف سے مرصع تھے اور شریعت کے سختی سے پابند تھے۔ اور اپنے پاس آنے والوں کو بھی شریعت پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کرتے۔
شادی اور اولاد:
آپ نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں اور آپ کے تین صاجزادے اور دو صاجزادیاں ہیں۔ آپ کے سجادہ نشین اور خلیفہ نور المشائخ زید احمد چشتی نظامی ہیں۔
وصال:
آپ کا وصال پروز جمعرات پانچ محرم ۱۳۷۲ھ بمطابق ۲۵ ستمبر ۱۹۵۲ء پاک پتن شریف میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر علیہ رحمۃ کے مزار اقدس پر محفل سماع میں ہوا جسد مبارک کو عارضی طور پر قصور میں دفن کیا مگر بعد میں ہنجر وال کے قبرستان میں سپردخاک کیا۔
قبر مبارک:
آپ کی قبر مبارک ہنجروال کے قبرستان میں پیر ہنجر کے قریب ہے۔ ہنجروال ملتان روڈ پر لاہور سے سات میل پر واقع ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/khawaja-jaan-muhammad-chishti-ferozpuri
درس و تدریس:
آپ نے قیام لاہور کے دوران اپنی قیام گاہ پر مریدین اور مقتعدین کی اخلاقی اور دینی تربعیت کے لیے درس و تدریس کا سلسلہ جاری کیا اور آخر دم تک آپ نے یہ فریصہ نجوبی سر انجام دیا آپ نے تمام عمر مخلوق خُدا کی خدمت کی ۔آپ مریدو ں کی تربیت شری خطوط پر کیا کرتے تھے ۔آپ اپنے مریدوں کو سنت رسول کا پابند کرتے اسلام کی اخلاقی قدروں پر عمل پیرا ہونے کا درس دیتے آپ کے مریدوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ نماز اور روزہ با لکل نہ ترک کریں ۔آپ صاحب حیثیت تھے اور خود ذکوۃ دیتے تھے اور اپنے مریدو کو بھی زکوۃ کی ادایگی کی تلقین کرتے ۔آپ بسا اوقات مریدین کو تصوف کی کتب کا درس دیا کرتے تھے ان اہم کتابوں میں فصوص الحکم فتوحات مکیہ تحفہ مرسلہ کشکول کلیمی لوائح جامی اور عوارف المعارف جیسی عظیم کتب شامل ہوتیں ۔اس درس سے بڑے بڑے علماء فضلاء کثیر تعداد میں فیض یاب ہوتے۔
آپ ہر سال خواجہ اجمیری کا عرس کروایا کرتے تھے اور اس میں شامل ہونے والوں کو بزرگان دین کی زندگیوں کی پیروی کرنے کی ہدایت کرتے اس کے علاوہ آپ ہر ماہ مجلس ذکر کیا کرتے تھے اس کا مقصد بھی لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لانا تھا۔
ذوق سماع:
آپ کو سماع سے خصوصی دلچسپی تھی اور محفل سماع میں صوفیانہ آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے آپ ہر ماہ اپنی قیام گاہ پر محفل سماع کروایا کرتے تھے اکثر اوقات آپ کو محفل سماع میں وجد بھی ہوجاتا۔ آپ کو عارفانہ کلام سننے کا بے حد شوق تھا خاص کر جب آپ مدحت رسول سنتے تو آپ پر عشق کا غلبہ طاری ہوجاتا اور آپ بے خود ہو جاتے۔
بزرگانِ دین کے مقابر پر حاضری:
آپ کو بزرگانِ دین کے مقابر تھا اس لیے آپ عموماً ہر سال باقاعدگی سے حضرت خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن خواجہ نور محمد مہاروی چشتیاں شریف رحمۃ اللہ علیہ اور آستانہ فرید یہ حضرت بابا فرید گنج شکر کے عرسوں میں جایا کرتے تھے۔ اور ہواں ذکر و فکر اور مراقبہ میں فیض پاتے اور بیرون ملک متعدد بزرگانِ دین کے مزارات پر حاضری دی۔
حج:
آپ نے ۱۱ مرتبہ حج کیا اور وہاں زیارت النبی سے لطف اندوز ہوئے آپ جب روضہ رسول پر جاتے تو آپ پر عجیب کیفیت طاری ہوتی آنکھیں رشک بار ہوجاتی ہیں اور نہ دل حضوری سے مالا مال ہوجاتا۔
سیرت:
آپ کے شب و روز کے معمولات سنت نبوی کا نمونہ تھے۔ آپ اخلاق حسنہ اور نیک اوصاف سے مرصع تھے اور شریعت کے سختی سے پابند تھے۔ اور اپنے پاس آنے والوں کو بھی شریعت پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کرتے۔
شادی اور اولاد:
آپ نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں اور آپ کے تین صاجزادے اور دو صاجزادیاں ہیں۔ آپ کے سجادہ نشین اور خلیفہ نور المشائخ زید احمد چشتی نظامی ہیں۔
وصال:
آپ کا وصال پروز جمعرات پانچ محرم ۱۳۷۲ھ بمطابق ۲۵ ستمبر ۱۹۵۲ء پاک پتن شریف میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر علیہ رحمۃ کے مزار اقدس پر محفل سماع میں ہوا جسد مبارک کو عارضی طور پر قصور میں دفن کیا مگر بعد میں ہنجر وال کے قبرستان میں سپردخاک کیا۔
قبر مبارک:
آپ کی قبر مبارک ہنجروال کے قبرستان میں پیر ہنجر کے قریب ہے۔ ہنجروال ملتان روڈ پر لاہور سے سات میل پر واقع ہے۔
https://scholars.pk/ur/scholar/khawaja-jaan-muhammad-chishti-ferozpuri
scholars.pk
Khawaja Jan Muhammad Chishti Ferozpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2
استاذ العلماءحضرت علامہ مفتی سید مسعودعلی قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب: اسمِ گرامی:سیدمسعودعلی۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے:حضرت علامہ مفتی سید مسعود علی قادری بن حافظ سید احمد علی بن سید قاسم علی بن سید ہاشم علی(رحہم اللہ تعالیٰ)۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1327ھ،بمطابق 1909ء کو ضلع علیگڑھ کے ایک قصبہ"بوڑھا گاؤں"میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم ضلع ایٹہ میں پائی۔1919ء میں مدرسہ لطفیہ جامع مسجد علی گڑھ میں مولانا عبد الرحمن سے عربی کی تعلیم شروع کی1921ء میں نواب ابو بکر خاں کے قائم کردہ مدرسہ عربیہ قادریہ دادوں ضلع علی گڑھ میں داخلہ لیا اور مولانا وجیہ الدین احمد خاں رامپوری،مولانا نعمانی اور قاری محی الدین ایسے فاضل اساتذہ سے اکتساب علم و فضل کیا۔1928ء میں مدرسۂ عالیہ رامپور میں تعلیم حاصل کی، دیگر اساتذہ کے علاوہ مولانا فضل حق رامپوری اور ان کے فرزند گرامی مولانا افضال الحق رامپوری سے شرف تلمذ حاصل کیا۔مفتی صاحب تحصیل علوم کے زمانہ میں محنت، ذہانت،خوش اخلاقی اور خوداداری میں اپنے ساتھیوں میں امتیازی حیثیت رہتے تھے۔
بیعت وخلافت: آپ اپنے استاد محترم مولانا وجیہ الدین احمد خان رامپوری ( متوفی ۱۴۰۷ھ ، بانی جامعہ فرقانیہ رامپور، سابق پرنسپل مدرسہ عالیہ رامپور) کے پیر حضرت پیرمکھن میاں بریلوی رحمتہ اللہ علیہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں مرید اور صاحب مجا ز خلیفہ تھے۔ لیکن آپ نے زندگی میں بہت کم لوگوں کو مرید کیا۔
سیرت وخصائص: عالمِ باعمل،نائبِ مصطفیﷺ،مفتیِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا مفتی سید مسعود علی قادری رحمۃ اللہ علیہ۔مفتی صاحب عالم باعمل متقی و پرہیز گار تھے۔ بے حد ذہین ، محنتی استاد ، ماہر علوم و فنون ، نکتہ دان مفتی ، باخبر فقیہ تھے۔ خوش اخلاق ، خوش پوش ، غیور ، خوددار اور جسمانی طور پر تندرست و توانا نیز بے حد حسین و جمیل اور چہرہ نورانی تھا ۔مفتی صاحب کی زندگی مسلسل جدوجہد اور دینِ متینِ کی خدمت،مسلک حق کی اشاعت وفروغ سے عبارت ہے۔اگر آپ پیر بن کر تعویذات وجھاڑ پھونک کرتے تو یہ آپ کیلئے کوئی مشکل نہ تھا،بلکہ اس میں شہرت ودنیا کی تمام سہولتیں موجود تھیں۔لیکن آپ نے وہ فیصلہ کیا کہ جس میں اسلام کی بقاء ہے،اور وہ ہے درس وتدریس،تصنیف وتالیف،دینی مدارس ومساجد کا قیام۔1932ء کو استاد محترم مولانا وجیہ الدین کے حکم پر آپ مدرسہ نعمانیہ دہلی تشریف لے کر آئے اور یہاں 1934ء تک خدمت تدریس انجام دی ۔ 1934ء تا 1941ء تک مدرسہ عالیہ قادریہ بدایون میں مسند تدریس و افتا ء پر فائز ہوئے ساتھ میں مدرسہ کا انتظام و انصرام بھی فرماتے رہے ۔ 1941ء تا1950ء تک مدرسہ عربیہ دادوں ضلع علی گڑھ میں درس و تدریس وافتاء کے علاوہ مدرسہ کا انتظام و انصرام بھی سنبھالتے رہے۔ 1951ء تا 1970 ء بیس سال مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ کی دعوت پر تدریس و فتویٰ نویسی کے علاوہ نائب مہتمم کی حیثیت سے خدمات جلیلہ تاریخ میں رقم فرماتے رہے۔ 1970ء کو مع اہل وعیال کراچی تشریف لائے اور دارالعلوم امجد یہ میں مسند تدریس وافتاء سنبھالا اور جامع مسجد قصاباں صدر میں خطابت و امامت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔مفتی صاحب نے 45 سال تک جملہ علوم دینیہ کا درس دیا اس طویل عرصے میں بے شمار علماء و فضلاء نے آپ سے کسب فیض کیا۔ مفتی صاحب ابتداہی سے جمعیت علماء پاکستان کے ساتھ وابستہ رہے اور تمام عمر اہل سنت و جماعت کی تنظیم کے لئے سر گرم عمل رہے۔
وصال:
آپ کاوصال 5/محرم ا لحرام 1393ھ،بمطابق 9/فروری 1973کو ہوا۔آپ سخی حسن قبرستان (نارتھ ناظم آباد کراچی)میں آرام فرماہیں ۔
( تذکرہ اکابرِ اہل سنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-syed-masood-ali-qadri
نام ونسب: اسمِ گرامی:سیدمسعودعلی۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے:حضرت علامہ مفتی سید مسعود علی قادری بن حافظ سید احمد علی بن سید قاسم علی بن سید ہاشم علی(رحہم اللہ تعالیٰ)۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1327ھ،بمطابق 1909ء کو ضلع علیگڑھ کے ایک قصبہ"بوڑھا گاؤں"میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم ضلع ایٹہ میں پائی۔1919ء میں مدرسہ لطفیہ جامع مسجد علی گڑھ میں مولانا عبد الرحمن سے عربی کی تعلیم شروع کی1921ء میں نواب ابو بکر خاں کے قائم کردہ مدرسہ عربیہ قادریہ دادوں ضلع علی گڑھ میں داخلہ لیا اور مولانا وجیہ الدین احمد خاں رامپوری،مولانا نعمانی اور قاری محی الدین ایسے فاضل اساتذہ سے اکتساب علم و فضل کیا۔1928ء میں مدرسۂ عالیہ رامپور میں تعلیم حاصل کی، دیگر اساتذہ کے علاوہ مولانا فضل حق رامپوری اور ان کے فرزند گرامی مولانا افضال الحق رامپوری سے شرف تلمذ حاصل کیا۔مفتی صاحب تحصیل علوم کے زمانہ میں محنت، ذہانت،خوش اخلاقی اور خوداداری میں اپنے ساتھیوں میں امتیازی حیثیت رہتے تھے۔
بیعت وخلافت: آپ اپنے استاد محترم مولانا وجیہ الدین احمد خان رامپوری ( متوفی ۱۴۰۷ھ ، بانی جامعہ فرقانیہ رامپور، سابق پرنسپل مدرسہ عالیہ رامپور) کے پیر حضرت پیرمکھن میاں بریلوی رحمتہ اللہ علیہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں مرید اور صاحب مجا ز خلیفہ تھے۔ لیکن آپ نے زندگی میں بہت کم لوگوں کو مرید کیا۔
سیرت وخصائص: عالمِ باعمل،نائبِ مصطفیﷺ،مفتیِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا مفتی سید مسعود علی قادری رحمۃ اللہ علیہ۔مفتی صاحب عالم باعمل متقی و پرہیز گار تھے۔ بے حد ذہین ، محنتی استاد ، ماہر علوم و فنون ، نکتہ دان مفتی ، باخبر فقیہ تھے۔ خوش اخلاق ، خوش پوش ، غیور ، خوددار اور جسمانی طور پر تندرست و توانا نیز بے حد حسین و جمیل اور چہرہ نورانی تھا ۔مفتی صاحب کی زندگی مسلسل جدوجہد اور دینِ متینِ کی خدمت،مسلک حق کی اشاعت وفروغ سے عبارت ہے۔اگر آپ پیر بن کر تعویذات وجھاڑ پھونک کرتے تو یہ آپ کیلئے کوئی مشکل نہ تھا،بلکہ اس میں شہرت ودنیا کی تمام سہولتیں موجود تھیں۔لیکن آپ نے وہ فیصلہ کیا کہ جس میں اسلام کی بقاء ہے،اور وہ ہے درس وتدریس،تصنیف وتالیف،دینی مدارس ومساجد کا قیام۔1932ء کو استاد محترم مولانا وجیہ الدین کے حکم پر آپ مدرسہ نعمانیہ دہلی تشریف لے کر آئے اور یہاں 1934ء تک خدمت تدریس انجام دی ۔ 1934ء تا 1941ء تک مدرسہ عالیہ قادریہ بدایون میں مسند تدریس و افتا ء پر فائز ہوئے ساتھ میں مدرسہ کا انتظام و انصرام بھی فرماتے رہے ۔ 1941ء تا1950ء تک مدرسہ عربیہ دادوں ضلع علی گڑھ میں درس و تدریس وافتاء کے علاوہ مدرسہ کا انتظام و انصرام بھی سنبھالتے رہے۔ 1951ء تا 1970 ء بیس سال مدرسہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں غزالیِ زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ کی دعوت پر تدریس و فتویٰ نویسی کے علاوہ نائب مہتمم کی حیثیت سے خدمات جلیلہ تاریخ میں رقم فرماتے رہے۔ 1970ء کو مع اہل وعیال کراچی تشریف لائے اور دارالعلوم امجد یہ میں مسند تدریس وافتاء سنبھالا اور جامع مسجد قصاباں صدر میں خطابت و امامت کے فرائض انجام دیتے رہے ۔مفتی صاحب نے 45 سال تک جملہ علوم دینیہ کا درس دیا اس طویل عرصے میں بے شمار علماء و فضلاء نے آپ سے کسب فیض کیا۔ مفتی صاحب ابتداہی سے جمعیت علماء پاکستان کے ساتھ وابستہ رہے اور تمام عمر اہل سنت و جماعت کی تنظیم کے لئے سر گرم عمل رہے۔
وصال:
آپ کاوصال 5/محرم ا لحرام 1393ھ،بمطابق 9/فروری 1973کو ہوا۔آپ سخی حسن قبرستان (نارتھ ناظم آباد کراچی)میں آرام فرماہیں ۔
( تذکرہ اکابرِ اہل سنت )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mufti-syed-masood-ali-qadri
scholars.pk
Hazrat Mufti Syed Masood Ali Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
قطب العالم حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مسعود ۔ لقب: فرید ، گنج شکر ، قطب العالم ، زہد الانبیاء ۔
والد کا اسمِ گرامی:
شیخ جمال الدین سلیمان ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت فاروقِ اعظم رضی الله عنه سے جاکر ملتا ہے ۔ " سیر المصنفین " کے مطابق آپ کے والدِ گرامی سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے ۔ (بہارِ چشت ص:87)
تاریخِ ولادت:
آپ کی والادت باسعادت 574ھ ، بمطابق 1179ء کو موضع کوتوال (موجودہ نام کوٹھے والا) ضلع ملتان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔ جب زمانۂ طالب علمی میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی، اور عبادت و ریاضت کی خواہش ظاہر کی تو حضرت نے فرمایا! "علم میں کمال حاصل کرو، بے علم عابد مسخرۂ شیطان ہوتا ہے " ۔ (اکابرینِ چشت ص:83)
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی الله تعالیٰ عنه کے حکم سے خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔ اس کے علاوہ آپ حضرت سلطان الہند اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے فیوض سے بھی مستفید ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ ریاضت، عبادت، معاہدہ، فقر اور ترک و تجرید میں بے نظیر تھے ۔ شہرت پسند نہ فرماتے تھے، آپ کو استغراق بہت پسند تھا، تحمل، بردباری، قناعت، توکل، تقویٰ، ورع، عشق، ذوق و شوق کا مجسمہ تھے ۔
آپ ہمیشہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی کتاب "عوارف المعارف" کا درس دیا کرتے تھے ۔ طبیعت میں لطافت و پاکیزگی کا عنصر غالب تھا۔ رزق حلال کی پابندی پر ہمیشہ زور دیتے ۔ بلکہ رزق حلال کر اسلام کا چھٹا رکن گردانتے تھے ۔
عشق رسول ﷺ اور اتباع سنت رسول پاک علیہ الصلوۃ والسلام میں مکمل طور پر مستغرق رہتے ۔ ہمیشہ صوم و صلوۃ کے پابند رہتے اور مریدین کو اس کی تلقین کرتے اور فرماتے کہ شریعت مطہرہ کی اقتدا کے بغیر روحانی منازل طے نہیں ہو سکتیں ـ
جب کبھی رسالت مآب آقائے نامدار سرور دو عالم ﷺ کا ذکر مبارک آتا تو زار و قطار روتے ۔ ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ کے وصال مبارک کا ذکر سنا ہی تھا کہ ایسی آہ بھری کہ بے ہوشی کا عالم طاری ہو گیا ۔ بڑی دیر کے بعد ہوش آیا کہ جب فخرِ انسانیت نبی بحر و بر ﷺ اس دارِ فانی سے تشریف لے گے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے؟ کہ زندگی کی خواہش بھی کریں ۔ ہمیں غفلت کے پردے کو اٹھا دینا چاہیے ۔ اور زادِ راہ کی فکر کرنی چاہیے ۔
مولانا بدر الدین اسحاق فرماتے ہیں:
میں حضرت کا خادمِ خاص تھا، جو بات کہنا ہوتی مجھ سے فرماتے تھے ۔ میں نے ساری زندگی حضرت کی خدمت میں گزاری، لیکن خلوت و جلوت ، ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں دیکھا ۔ ( سیر الاولیاء ص:65)
وصال:
آپ کا وصال بروز منگل 5 محرم الحرام 664ھ، بمطابق اکتوبر 1265ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پاکپتن میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اکابرینِ چشت ۔ بہارِ چشت ۔ سیرالعارفین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-fareeduddin-ganj-shakar-history
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مسعود ۔ لقب: فرید ، گنج شکر ، قطب العالم ، زہد الانبیاء ۔
والد کا اسمِ گرامی:
شیخ جمال الدین سلیمان ہے ۔
آپ کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت فاروقِ اعظم رضی الله عنه سے جاکر ملتا ہے ۔ " سیر المصنفین " کے مطابق آپ کے والدِ گرامی سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے ۔ (بہارِ چشت ص:87)
تاریخِ ولادت:
آپ کی والادت باسعادت 574ھ ، بمطابق 1179ء کو موضع کوتوال (موجودہ نام کوٹھے والا) ضلع ملتان میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے تمام علوم میں کمال حاصل کیا ۔ جب زمانۂ طالب علمی میں حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ سے ملاقات ہوئی، اور عبادت و ریاضت کی خواہش ظاہر کی تو حضرت نے فرمایا! "علم میں کمال حاصل کرو، بے علم عابد مسخرۂ شیطان ہوتا ہے " ۔ (اکابرینِ چشت ص:83)
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رضی الله تعالیٰ عنه کے حکم سے خلافت سے سرفراز کیے گئے ۔ اس کے علاوہ آپ حضرت سلطان الہند اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے فیوض سے بھی مستفید ہوئے ۔
سیرتِ مبارکہ:
آپ ریاضت، عبادت، معاہدہ، فقر اور ترک و تجرید میں بے نظیر تھے ۔ شہرت پسند نہ فرماتے تھے، آپ کو استغراق بہت پسند تھا، تحمل، بردباری، قناعت، توکل، تقویٰ، ورع، عشق، ذوق و شوق کا مجسمہ تھے ۔
آپ ہمیشہ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی کتاب "عوارف المعارف" کا درس دیا کرتے تھے ۔ طبیعت میں لطافت و پاکیزگی کا عنصر غالب تھا۔ رزق حلال کی پابندی پر ہمیشہ زور دیتے ۔ بلکہ رزق حلال کر اسلام کا چھٹا رکن گردانتے تھے ۔
عشق رسول ﷺ اور اتباع سنت رسول پاک علیہ الصلوۃ والسلام میں مکمل طور پر مستغرق رہتے ۔ ہمیشہ صوم و صلوۃ کے پابند رہتے اور مریدین کو اس کی تلقین کرتے اور فرماتے کہ شریعت مطہرہ کی اقتدا کے بغیر روحانی منازل طے نہیں ہو سکتیں ـ
جب کبھی رسالت مآب آقائے نامدار سرور دو عالم ﷺ کا ذکر مبارک آتا تو زار و قطار روتے ۔ ایک مرتبہ حضور پاک ﷺ کے وصال مبارک کا ذکر سنا ہی تھا کہ ایسی آہ بھری کہ بے ہوشی کا عالم طاری ہو گیا ۔ بڑی دیر کے بعد ہوش آیا کہ جب فخرِ انسانیت نبی بحر و بر ﷺ اس دارِ فانی سے تشریف لے گے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے؟ کہ زندگی کی خواہش بھی کریں ۔ ہمیں غفلت کے پردے کو اٹھا دینا چاہیے ۔ اور زادِ راہ کی فکر کرنی چاہیے ۔
مولانا بدر الدین اسحاق فرماتے ہیں:
میں حضرت کا خادمِ خاص تھا، جو بات کہنا ہوتی مجھ سے فرماتے تھے ۔ میں نے ساری زندگی حضرت کی خدمت میں گزاری، لیکن خلوت و جلوت ، ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں دیکھا ۔ ( سیر الاولیاء ص:65)
وصال:
آپ کا وصال بروز منگل 5 محرم الحرام 664ھ، بمطابق اکتوبر 1265ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پاکپتن میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
اکابرینِ چشت ۔ بہارِ چشت ۔ سیرالعارفین ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-baba-fareeduddin-ganj-shakar-history
scholars.pk
Fariduddin Ganjshakar -Hazrat Data Ganj Bakhsh Ali Hajveri,Shrine of baba farid,
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray…
Ziaetaiba please to share the true Biography of Hazrat Baba Farid Ganj Shakar, Books, History, Quotes and Poetry
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-01-1445 ᴴ | 23-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-01-1445 ᴴ | 24-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اظہار غم کے لئے کپڑے پھاڑنا
بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا
غیر نبی کے ساتھ علیہ السلام لکھنا
علیہ السلام نبی اور فرشتے کے لئے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
اظہار غم کے لئے کپڑے پھاڑنا
بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا
غیر نبی کے ساتھ علیہ السلام لکھنا
علیہ السلام نبی اور فرشتے کے لئے
❤1