🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-01-1445 ᴴ | 23-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-01-1445 ᴴ | 23-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
یّد نور علی شاہ غازی (نوری بابا) رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (تین ہٹّی، کراچی)
(متوفّٰی:۹۳ھ/۷۱۳ء)
سیّد نور علی شاہ غا زی المعروف نور نشاہ ابنِ سیّد عبد اللہ علیھما الرحمۃ:
آپ بڑےپائے کے ولیِ کا مل اور صاحبِ تصرّف ہیں۔
آپ کے متعلّق کوئی دستاویزی ثبوت تو میسر نہیں آسکا ہے، لیکن آپ کے مزار پر جو کتبہ آویزاں ہے اس سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ آپ بہ حکمِ خلیفہ ولید بن مروان، حضرت محمد بن قاسم فاتحِ سندھ کے لشکر کے ساتھ دمشق سے ۹۲ ھ/۷۱۲ء میں سندھ تشر یف لائے اور راجہ داہر سے جنگ کی اور ایک سال جنگِ دیبل کے بعد ۹۳ ھ/۷۱۳ء میں بہت سے کفّار کو فی النّار کرکے ۵ محرم الحرام بروز جمعہ شہید ہوئے ۔
آپ کے مزار پر صدہا آسیب زدہ آدمی آتے ہیں اور اللہ اُنھیں شفاء عطا فرماتا ہے ۔آپ کا مزار تین ہٹّی کراچی میں مرجعِ خلائق ہے۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ، ص۳۶۶ )
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-noor-ali-shah-ghazi-noori-baba
(متوفّٰی:۹۳ھ/۷۱۳ء)
سیّد نور علی شاہ غا زی المعروف نور نشاہ ابنِ سیّد عبد اللہ علیھما الرحمۃ:
آپ بڑےپائے کے ولیِ کا مل اور صاحبِ تصرّف ہیں۔
آپ کے متعلّق کوئی دستاویزی ثبوت تو میسر نہیں آسکا ہے، لیکن آپ کے مزار پر جو کتبہ آویزاں ہے اس سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ آپ بہ حکمِ خلیفہ ولید بن مروان، حضرت محمد بن قاسم فاتحِ سندھ کے لشکر کے ساتھ دمشق سے ۹۲ ھ/۷۱۲ء میں سندھ تشر یف لائے اور راجہ داہر سے جنگ کی اور ایک سال جنگِ دیبل کے بعد ۹۳ ھ/۷۱۳ء میں بہت سے کفّار کو فی النّار کرکے ۵ محرم الحرام بروز جمعہ شہید ہوئے ۔
آپ کے مزار پر صدہا آسیب زدہ آدمی آتے ہیں اور اللہ اُنھیں شفاء عطا فرماتا ہے ۔آپ کا مزار تین ہٹّی کراچی میں مرجعِ خلائق ہے۔
( تذکرہ اولیاءِ سندھ، ص۳۶۶ )
https://scholars.pk/ur/scholar/syed-noor-ali-shah-ghazi-noori-baba
scholars.pk
Syed Noor Ali Shah Ghazi (Noori Baba)
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Syed Noor Ali Shah Ghazi (Noori Baba) is one of very prominent Islamic (Religious) Personality / Celebrity (Scholar).
❤1👍1
حضرت شیخ حجاج سمرقندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کا اسم گرامی اسحاق بن محمد بن اسماعیل تھا، ابو عبداللہ خلاد، ابراہیم قصار اور ابوبکر وراق رحمۃ اللہ علیہم سے فیض صحبت رکھتے تھے سمر قند کے عالی بزرگان دین میں شمار ہوتے تھے۔
ایک دن آپ ایک مجلس میں وعظ فرما رہے تھے اسی اثنا میں ایک بزرگ آپ کو ملنے آئے مگر آپ کو مصروف پاکر مصلی حوض کے پانی کی سطح پر بچھایا اور نماز پڑھنا شروع کردی، جب آپ مجلس وعظ سے فارغ ہوئے تو اس کی طرف منہ کرکے فرمانے لگے بھائی جو کام تم کرکے مجھے دکھا رہے ہو یہ تو ہمارے بچے بھی کرسکتے ہیں، مردوں کا کام تو یہ ہے کہ اتنے مشاغل اور ہجوم مردم کے درمیان دل اللہ سے وابستہ ہو۔
آپ تین سو بیالیس ۳۴۲ھ میں فوت ہوئے۔
ہادی و مہدیِ زمین و زماں
قاسم عالم است رحلتِ او
۳۴۲ھ
شیخ کون و مکان ابا قاسم
ہم حکیم جہاں ابا قاسم
۳۴۲ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hajjaj-samarqandi
آپ کا اسم گرامی اسحاق بن محمد بن اسماعیل تھا، ابو عبداللہ خلاد، ابراہیم قصار اور ابوبکر وراق رحمۃ اللہ علیہم سے فیض صحبت رکھتے تھے سمر قند کے عالی بزرگان دین میں شمار ہوتے تھے۔
ایک دن آپ ایک مجلس میں وعظ فرما رہے تھے اسی اثنا میں ایک بزرگ آپ کو ملنے آئے مگر آپ کو مصروف پاکر مصلی حوض کے پانی کی سطح پر بچھایا اور نماز پڑھنا شروع کردی، جب آپ مجلس وعظ سے فارغ ہوئے تو اس کی طرف منہ کرکے فرمانے لگے بھائی جو کام تم کرکے مجھے دکھا رہے ہو یہ تو ہمارے بچے بھی کرسکتے ہیں، مردوں کا کام تو یہ ہے کہ اتنے مشاغل اور ہجوم مردم کے درمیان دل اللہ سے وابستہ ہو۔
آپ تین سو بیالیس ۳۴۲ھ میں فوت ہوئے۔
ہادی و مہدیِ زمین و زماں
قاسم عالم است رحلتِ او
۳۴۲ھ
شیخ کون و مکان ابا قاسم
ہم حکیم جہاں ابا قاسم
۳۴۲ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-hajjaj-samarqandi
scholars.pk
Hazrat Sheikh Hajjaj Samarqandi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت ابو اسحاق قادری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت شیخ داؤد چونی وال شیر گڑھی کے بزرگ ترین مرید اور خلیفۂ اعظم تھے۔
جامع علومِ ظاہری و باطنی تھے۔
عرفان و اِتقا میں درجۂ علیا رکھتے تھے۔
حضرت شاہ ابوالمعالی جو شیخ داؤد کے حقیقی برادر زادہ اور مرید و خلیفہ تھے اُن سے بڑی الفت و محبت تھی۔
دونوں حضرات ایک ہی جگہ پر عبادت و ریاضت اور ذکر و فکر میں بیٹھا کرتے تھے۔ جب شیخ داؤد نے شاہ ابوالمعالی کو لاہور جاکر قیام کرنے کا حکم دیا تو آپ بھی اپنے مرشد سے اجازت لے کر لاہور آگئے اور محلہ مغل پیر مزنگ میں سکونت اختیار کرلی۔
تمام عمر ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ اپنی خانقاہ میں علومِ فقہ و حدیث و تفسیر کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے بہرۂ وافر حاصل کیا۔
آپ کے بزرگ قوم مغل غوری سے ہیں۔ ۹۸۵ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی اور اپنی قیام گاہ میں مدفون ہوئے۔ آپ کے تین صاحبزادوں محمد حسین، ملک حسین اور یار حسین کے مزارات بھی آپ کے روضہ کے قریب ہی ایک گنبد کے اندر ہیں۔
شیخ بو اسحاق پیرِ رہنما! ۹۸۵ھ
رحلتش گفتم فقیہ معرفت
شد چو از دنیائے دوں اندر جناں ۹۸۵ھ
ہم ‘‘ابو اسحاق تاجِ عارفاں’’
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-ishaq-qadri-lahori
حضرت شیخ داؤد چونی وال شیر گڑھی کے بزرگ ترین مرید اور خلیفۂ اعظم تھے۔
جامع علومِ ظاہری و باطنی تھے۔
عرفان و اِتقا میں درجۂ علیا رکھتے تھے۔
حضرت شاہ ابوالمعالی جو شیخ داؤد کے حقیقی برادر زادہ اور مرید و خلیفہ تھے اُن سے بڑی الفت و محبت تھی۔
دونوں حضرات ایک ہی جگہ پر عبادت و ریاضت اور ذکر و فکر میں بیٹھا کرتے تھے۔ جب شیخ داؤد نے شاہ ابوالمعالی کو لاہور جاکر قیام کرنے کا حکم دیا تو آپ بھی اپنے مرشد سے اجازت لے کر لاہور آگئے اور محلہ مغل پیر مزنگ میں سکونت اختیار کرلی۔
تمام عمر ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ اپنی خانقاہ میں علومِ فقہ و حدیث و تفسیر کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے بہرۂ وافر حاصل کیا۔
آپ کے بزرگ قوم مغل غوری سے ہیں۔ ۹۸۵ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی اور اپنی قیام گاہ میں مدفون ہوئے۔ آپ کے تین صاحبزادوں محمد حسین، ملک حسین اور یار حسین کے مزارات بھی آپ کے روضہ کے قریب ہی ایک گنبد کے اندر ہیں۔
شیخ بو اسحاق پیرِ رہنما! ۹۸۵ھ
رحلتش گفتم فقیہ معرفت
شد چو از دنیائے دوں اندر جناں ۹۸۵ھ
ہم ‘‘ابو اسحاق تاجِ عارفاں’’
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-abu-ishaq-qadri-lahori
scholars.pk
Hazrat Abu Ishaq Qadri Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
استاد العلماء علامہ مولانا محمد مبین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
استاد العلماء علامہ مولانا محمد مبین بن اوبھا یو، چوٹیاری شریف ضلع سانگھڑ ( سندھ ) میں ایک اندازے کے مطابق ۱۱۰۰ھ تا ۱۱۱۰ ھ تک کسی سال میں تولد ہوئے ہوں گے۔
تعلیم و تربیت:
طالب علمی کے زمانہ میں مشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ عنایت رضوی نصر پوری سے فیض یاب ہوئے۔
اس کے علاوہ ٹھٹھہ میں غالبا استاد الاستاتذہ علامہ مخدوم محمد ضیاء الدین ٹھٹھوی سے علوم عقلیہ و نقلیہ میں تکمیل کے بعد غالبا ۱۱۳۵ھ تا ۱۱۴۰ھ تک کے عرصہ میں اپنے گوٹھ میں مدرسہ کی بنیاد رکھی اور جس کو درسگاہ چوٹیاری کہا جاتا ہے۔
پچاس پچپن سال کا طویل عرصہ خاموشی سے بغیر نام نمود کے مسلسل تدریس سے وابستہ رہے۔
شادی و اولاد:
آپ نے شادی کی۔ بڑے صاحبزادے محمد بروز جمعرات ۲، ربیع الاول ۱۱۴۶ھ کو تولد ہوئے۔ آپ نے خود بیٹے کی تاریخ ولادت اپنے قلم سے یوں رقم فرمائی ہے:
’’یوم الخمیس ثانی ربیع الاول ۱۱۴۶ھ ‘‘
۲۔ صاحبزادہ مولانا عبداللہ
تلامذہ:
آپ کے کثیر تعداد تلامذہ میں سے بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں :
٭ صاحبزادہ مولانا محمد
٭ مخدوم عبد الرحیم گرہوڑی گر ہوڑ شریف تحصیل کھپرو ضلع سانگھڑ
عادات و خصائل:
مولانا محمد مبین صاحب علم و حلم تھے۔ انکساری و عاجزی کی تصویر تھے۔ سادگی اور سنت نبوی سے سر شار تھے۔ فقہ میں مطالعہ وسیع تھا۔ فقہ حنفی کے علاوہ دیگر تین فقہ پر بھی دسترس رکھتے تھے۔
فتاویٰ فقہ حنفیہ پر جاری فرماتے تھے ۔ صرف و نحو پر بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اس مسجد میں نماز نہیں پڑھی جس کو حاکم سندھ نور محمد کلہوڑو کی بیگم نے تعمیر کروائی تھی آپ کے معاصر شیخ الاسلام فقیہ الاعظم مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی قدس سرہ الاقدس نے آپ کے نام ایک مکتوب میں درج ذیل القاب تحریر فرمائے ہیں جس سے آپ کے مقام و مرتبہ کا انداز لگایا جا سکتا ہے:
’’الشیخ الجلیل ، ۔۔۔۔۔۔۔المثیل ، صاحب الفضل الجزیل ، والشرف الاصل والمجد الاثیل ‘‘
وصال:
مولانا علامہ محمد میبن ۵، محرم الحرام ۱۱۹۶ھ؍ ۱۷۸۱ء کو پچاسی یا نوے سال کی عمر میں انتقال کیا۔ چوٹیاری شریف کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ وہیں مزار شریف یاد گار ہے۔ دو فقیروں سے تاریخ وصال نکلتی ہے جو کہ درج ذیل ہیں :
عامل مخلص امین محمد مبین ۱۱۹۶ھ
استقامۃ محمد مبین ۱۱۹۶ھ
[آپ کے حالات زندگی سے متعلق سندھ کی تاریخ خاموش ہے۔ خدا بھلا کرے بین الاقوامی اسکالر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ صاحب کا کہ انہوں نے سب سے پہلے علماء کے حالات کو جمع کرنے کی ضرورت محسوس کی اور عرصہ قبل ۱۹۶۸ء کو انہوں نے چوٹیاری شریف کے متعلق قلم اٹھایا اسی خاندان کے ایک فرد میاں عبد الحکیم سے مدینہ منورہ میں ملاقات کر کے ایک انٹرویو لیا اس کے علاوہ چوٹیاری کے دیگر بزرگوں کی روایات اور ان کے قلمی کتب و بیاض سے بڑی کوشش و کاوش سے حالات و واقعات قلمبند کئے اور پہلی بار مجلہ مہران جامشورو میں ۱۹۸۰ ء کو شائع ہوئے۔ اسی سے یہ مضمون ماخذ و ترجمہ ہے]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-muhammad-mubeen
استاد العلماء علامہ مولانا محمد مبین بن اوبھا یو، چوٹیاری شریف ضلع سانگھڑ ( سندھ ) میں ایک اندازے کے مطابق ۱۱۰۰ھ تا ۱۱۱۰ ھ تک کسی سال میں تولد ہوئے ہوں گے۔
تعلیم و تربیت:
طالب علمی کے زمانہ میں مشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ عنایت رضوی نصر پوری سے فیض یاب ہوئے۔
اس کے علاوہ ٹھٹھہ میں غالبا استاد الاستاتذہ علامہ مخدوم محمد ضیاء الدین ٹھٹھوی سے علوم عقلیہ و نقلیہ میں تکمیل کے بعد غالبا ۱۱۳۵ھ تا ۱۱۴۰ھ تک کے عرصہ میں اپنے گوٹھ میں مدرسہ کی بنیاد رکھی اور جس کو درسگاہ چوٹیاری کہا جاتا ہے۔
پچاس پچپن سال کا طویل عرصہ خاموشی سے بغیر نام نمود کے مسلسل تدریس سے وابستہ رہے۔
شادی و اولاد:
آپ نے شادی کی۔ بڑے صاحبزادے محمد بروز جمعرات ۲، ربیع الاول ۱۱۴۶ھ کو تولد ہوئے۔ آپ نے خود بیٹے کی تاریخ ولادت اپنے قلم سے یوں رقم فرمائی ہے:
’’یوم الخمیس ثانی ربیع الاول ۱۱۴۶ھ ‘‘
۲۔ صاحبزادہ مولانا عبداللہ
تلامذہ:
آپ کے کثیر تعداد تلامذہ میں سے بعض کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں :
٭ صاحبزادہ مولانا محمد
٭ مخدوم عبد الرحیم گرہوڑی گر ہوڑ شریف تحصیل کھپرو ضلع سانگھڑ
عادات و خصائل:
مولانا محمد مبین صاحب علم و حلم تھے۔ انکساری و عاجزی کی تصویر تھے۔ سادگی اور سنت نبوی سے سر شار تھے۔ فقہ میں مطالعہ وسیع تھا۔ فقہ حنفی کے علاوہ دیگر تین فقہ پر بھی دسترس رکھتے تھے۔
فتاویٰ فقہ حنفیہ پر جاری فرماتے تھے ۔ صرف و نحو پر بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اس مسجد میں نماز نہیں پڑھی جس کو حاکم سندھ نور محمد کلہوڑو کی بیگم نے تعمیر کروائی تھی آپ کے معاصر شیخ الاسلام فقیہ الاعظم مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی قدس سرہ الاقدس نے آپ کے نام ایک مکتوب میں درج ذیل القاب تحریر فرمائے ہیں جس سے آپ کے مقام و مرتبہ کا انداز لگایا جا سکتا ہے:
’’الشیخ الجلیل ، ۔۔۔۔۔۔۔المثیل ، صاحب الفضل الجزیل ، والشرف الاصل والمجد الاثیل ‘‘
وصال:
مولانا علامہ محمد میبن ۵، محرم الحرام ۱۱۹۶ھ؍ ۱۷۸۱ء کو پچاسی یا نوے سال کی عمر میں انتقال کیا۔ چوٹیاری شریف کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ وہیں مزار شریف یاد گار ہے۔ دو فقیروں سے تاریخ وصال نکلتی ہے جو کہ درج ذیل ہیں :
عامل مخلص امین محمد مبین ۱۱۹۶ھ
استقامۃ محمد مبین ۱۱۹۶ھ
[آپ کے حالات زندگی سے متعلق سندھ کی تاریخ خاموش ہے۔ خدا بھلا کرے بین الاقوامی اسکالر ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ صاحب کا کہ انہوں نے سب سے پہلے علماء کے حالات کو جمع کرنے کی ضرورت محسوس کی اور عرصہ قبل ۱۹۶۸ء کو انہوں نے چوٹیاری شریف کے متعلق قلم اٹھایا اسی خاندان کے ایک فرد میاں عبد الحکیم سے مدینہ منورہ میں ملاقات کر کے ایک انٹرویو لیا اس کے علاوہ چوٹیاری کے دیگر بزرگوں کی روایات اور ان کے قلمی کتب و بیاض سے بڑی کوشش و کاوش سے حالات و واقعات قلمبند کئے اور پہلی بار مجلہ مہران جامشورو میں ۱۹۸۰ ء کو شائع ہوئے۔ اسی سے یہ مضمون ماخذ و ترجمہ ہے]
( انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ )
https://scholars.pk/ur/scholar/allama-muhammad-mubeen
scholars.pk
Hazrat Allama Muhammad Mubeen
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ احمد میروی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ احمد میروی ۔ والد کا اسمِ گرامی: محمد بر خور دار ۔ خواجہ محمد برخور دار حضرت شاہ سلیمان تونسوی کے مرید تھے اور اکثر و بیشتر آستانہ مرشد پر حاضری دینے جایا کرتے تھے ۔
ایک بار حسب معمول تونسہ شریف سے واپس جارہےتھے کہ منگروٹھ (تونسہ شریف سے5کلومیٹر مغرب کی جانب ایک قصبہ ہے)کے مقام پر انتقال ہو گیا اور وہیں(جامع مسجد بلوچ خاناں میں ) سپرد خاک ہوئے۔آپ کاتعلق"کھوکھراعوان"قبیلےسےہے۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1250ھ،بمطابق 1834ء کو کوہستان بلوچستان کے علاقے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:خواجہ احمد میروی اپنے والد ماجد کی زندگی میں ہی قرآن حکیم اپنے والدسے پڑھ چکےتھے۔ان کی وفات کےبعدآپ کےماموں علی خان نےآپ کی تربیت وکفالت کاذمہ لیا،علی خان بھی خواجہ سلیمان تونسوی کےمریدتھےاس لیےخواجہ میروی کو ان کے آستانہ میں داخل کرا دیا۔آپ 9 سال تک علوم متداولہ کی تحصیل میں مصروف رہے۔وہاں سے فارغ ہوکرملتان تشریف لےگئے،اوروہاں کےعلماءسےاکتسابِ فیض کیا۔لیکن جلدی ہی کلور کوٹ میں مولانا مملوک علی علیہ الرحمہ کےسامنےزانوئےتلمذتہ کیا۔
بیعت وخلافت: حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی،اور خواجہ محمد فاضل شاہ نے بھی خلافت سے نواز تھا۔
سیرت وخصائص: مردحقیقت آگاہ،کشتۂ جودو سخا،سراپا مہرووفاء،عارف کامل،پیرِ طریقت امیرِ شریعت،منظورِ نظر حضرات خواجگانِ چشت اہلِ بہشت حضرت علامہ مولانا خواجہ احمد میروی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کاشمار حضرت خواجہ تونسوی رحمۃاللہ علیہ کے ممتاز خلفاء میں سے ہوتاہے۔آپ نے تمام علوم خواجہ تونسوی علیہ ارحمہ کے دینی ادارے سے حاصل کیے،اور تعلیم کے ساتھ ریاضت پر بھی توجہ خصوصی تھی۔تکمیل ِ علوم کے بعد آپ سیروسیاحت کیلئے نکل گئے اور سات سال تک کشمیر اجمیر ،پاکپتن شریف،لاہور ،ملتان،دہلی، اور کلیر شریف سے ہوتے ہوئے تونسہ شریف آ گئے،اور پھر سیاحت کیلئے تشریف لے گئے،جب پنڈی گھیپ،ضلع اٹک کی ایک بستی "میرا"میں پہنچے تو آپ کی طبیعت کو بہت سکون ملااور یہاں پر دل لگ گیا۔پھر یہاں مستقل قیام پذیر ہوگئے۔آپ نے سب سے پہلے ایک دینی ادارہ قائم کیا،جہاں دوردور سےشائقینِ علم آنے لگے،مسجد اور خانقاہ کی تعمیر سے اس علاقے کو چار چاندلگ گئے،اور دینِ اسلام کی بہاریں ہرطرف نظر آنے لگیں۔یہ تھے اللہ کے ولی جہاں گئے اسلام کورونقیں دیتے گئے لوگوں کو نمازی وغازی بناتے چلے گئے ۔پورے علاقے میں مساجد ومدارس اورمسافروں کیلئے سرائے خانے تعمیر کروائے۔آپ کی ذات سے کثیر مخلوق ِخدا مستفید ہوئی۔آپ ہمیشہ نمازِ پنجگانہ باجماعت اداکرتے تھے۔رسول اللہﷺ کی سنتوں پر زور دیتے تھے،اپنے مخالفین سے کبھی انتقام نہیں لیا۔
تاجدارِ گولڑہ سے خصوصی تعلق: حضرت خواجہ احمد صاحب میروی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت پیر مہر ِعلی رحمۃ اللہ علیہ کےساتھ ارتباط تھا۔ باہم آمدورفت اورخط وکتابت بھی تھی۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کےساتھ اثنائے گفتگو میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کوبڑے پیارےانداز میں"لالو"کہہ کر بلاتے،جو بزبانِ پنجابی بھائی کےمترادف ہے۔ ایک دو مرتبہ گولڑہ تشریف لائے۔(مہرِ منیر:404)
فرنگیوں سے نفرت: آپ حق پرست و حق گو انسان تھے،انگریزی حکومت کے زبردست مخالف تھے۔انگریزاور اس کےحواریوں کو مسلمان واسلام کادشمن سمجھتے تھے،اور ان کی تہذیب کی برملامخالفت کرتےتھے۔
وصال:
آپ کا وصال 5 محرم الحرام 1330ھ، بمطابق 27 دسمبر 1911ءکو ہوا۔آپ کامزار "میراشریف" تحصیل پنڈی گھیپ، (ضلع اٹک، پنجاب، پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مہرِ منیر ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-khawaja-ahmad-meervi-chishti
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ احمد میروی ۔ والد کا اسمِ گرامی: محمد بر خور دار ۔ خواجہ محمد برخور دار حضرت شاہ سلیمان تونسوی کے مرید تھے اور اکثر و بیشتر آستانہ مرشد پر حاضری دینے جایا کرتے تھے ۔
ایک بار حسب معمول تونسہ شریف سے واپس جارہےتھے کہ منگروٹھ (تونسہ شریف سے5کلومیٹر مغرب کی جانب ایک قصبہ ہے)کے مقام پر انتقال ہو گیا اور وہیں(جامع مسجد بلوچ خاناں میں ) سپرد خاک ہوئے۔آپ کاتعلق"کھوکھراعوان"قبیلےسےہے۔
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1250ھ،بمطابق 1834ء کو کوہستان بلوچستان کے علاقے میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:خواجہ احمد میروی اپنے والد ماجد کی زندگی میں ہی قرآن حکیم اپنے والدسے پڑھ چکےتھے۔ان کی وفات کےبعدآپ کےماموں علی خان نےآپ کی تربیت وکفالت کاذمہ لیا،علی خان بھی خواجہ سلیمان تونسوی کےمریدتھےاس لیےخواجہ میروی کو ان کے آستانہ میں داخل کرا دیا۔آپ 9 سال تک علوم متداولہ کی تحصیل میں مصروف رہے۔وہاں سے فارغ ہوکرملتان تشریف لےگئے،اوروہاں کےعلماءسےاکتسابِ فیض کیا۔لیکن جلدی ہی کلور کوٹ میں مولانا مملوک علی علیہ الرحمہ کےسامنےزانوئےتلمذتہ کیا۔
بیعت وخلافت: حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔حضرت خواجہ شاہ اللہ بخش تونسوی،اور خواجہ محمد فاضل شاہ نے بھی خلافت سے نواز تھا۔
سیرت وخصائص: مردحقیقت آگاہ،کشتۂ جودو سخا،سراپا مہرووفاء،عارف کامل،پیرِ طریقت امیرِ شریعت،منظورِ نظر حضرات خواجگانِ چشت اہلِ بہشت حضرت علامہ مولانا خواجہ احمد میروی چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کاشمار حضرت خواجہ تونسوی رحمۃاللہ علیہ کے ممتاز خلفاء میں سے ہوتاہے۔آپ نے تمام علوم خواجہ تونسوی علیہ ارحمہ کے دینی ادارے سے حاصل کیے،اور تعلیم کے ساتھ ریاضت پر بھی توجہ خصوصی تھی۔تکمیل ِ علوم کے بعد آپ سیروسیاحت کیلئے نکل گئے اور سات سال تک کشمیر اجمیر ،پاکپتن شریف،لاہور ،ملتان،دہلی، اور کلیر شریف سے ہوتے ہوئے تونسہ شریف آ گئے،اور پھر سیاحت کیلئے تشریف لے گئے،جب پنڈی گھیپ،ضلع اٹک کی ایک بستی "میرا"میں پہنچے تو آپ کی طبیعت کو بہت سکون ملااور یہاں پر دل لگ گیا۔پھر یہاں مستقل قیام پذیر ہوگئے۔آپ نے سب سے پہلے ایک دینی ادارہ قائم کیا،جہاں دوردور سےشائقینِ علم آنے لگے،مسجد اور خانقاہ کی تعمیر سے اس علاقے کو چار چاندلگ گئے،اور دینِ اسلام کی بہاریں ہرطرف نظر آنے لگیں۔یہ تھے اللہ کے ولی جہاں گئے اسلام کورونقیں دیتے گئے لوگوں کو نمازی وغازی بناتے چلے گئے ۔پورے علاقے میں مساجد ومدارس اورمسافروں کیلئے سرائے خانے تعمیر کروائے۔آپ کی ذات سے کثیر مخلوق ِخدا مستفید ہوئی۔آپ ہمیشہ نمازِ پنجگانہ باجماعت اداکرتے تھے۔رسول اللہﷺ کی سنتوں پر زور دیتے تھے،اپنے مخالفین سے کبھی انتقام نہیں لیا۔
تاجدارِ گولڑہ سے خصوصی تعلق: حضرت خواجہ احمد صاحب میروی رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت پیر مہر ِعلی رحمۃ اللہ علیہ کےساتھ ارتباط تھا۔ باہم آمدورفت اورخط وکتابت بھی تھی۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کےساتھ اثنائے گفتگو میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کوبڑے پیارےانداز میں"لالو"کہہ کر بلاتے،جو بزبانِ پنجابی بھائی کےمترادف ہے۔ ایک دو مرتبہ گولڑہ تشریف لائے۔(مہرِ منیر:404)
فرنگیوں سے نفرت: آپ حق پرست و حق گو انسان تھے،انگریزی حکومت کے زبردست مخالف تھے۔انگریزاور اس کےحواریوں کو مسلمان واسلام کادشمن سمجھتے تھے،اور ان کی تہذیب کی برملامخالفت کرتےتھے۔
وصال:
آپ کا وصال 5 محرم الحرام 1330ھ، بمطابق 27 دسمبر 1911ءکو ہوا۔آپ کامزار "میراشریف" تحصیل پنڈی گھیپ، (ضلع اٹک، پنجاب، پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
مہرِ منیر ۔ انسائیکلو پیڈیا اولیائے کرام ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/peer-e-tariqat-hazrat-khawaja-ahmad-meervi-chishti
scholars.pk
Peer e Tariqat Hazrat Khawaja Ahmad Meervi Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت خواجہ جان محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ہر دور میں اپنے بندوں میں سے جن بندوں کا چناؤ کیا وہ اللہ کے مخصوص انسان بن گئے ہیں ان مخصوص انسانوں کو اللہ نے اپنا خصوصی فیض اور فضل عطا فرمایا اسی فیض کے بدولت وہ لوگوں کی راہنمائی کرتے اور بے راہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں۔ اللہ کے ان نیک اور صالح بندوں میں ہے حضرت جان محمد چشتی تھے۔
خاندانی حالات:
حضرت جان محمد چشتی کے آباؤ اجداد فیروز پور آکر آباد ہوئے تھے، آپ اک تعلق راجپوت قوم سے تھا آپ کے والد ماجد کا نام خواجہ خدا بخش تھا جو زمینداری کا کام کرتے تھے خواجہ خدا بخش رزق حلال کمانے کے حق میں تھے اور اسی رزق حلال کا اثر تھا کہ آپ کا لڑکا ولئ کامل بنا۔
پیدائش:
آپ ۲۱ رمضان المبارک بروز جمعرات ۱۳۲۷ھ بمطابق ۷ اکتوبر ۱۹۰۹ء میں فیروز پور کے شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ آپ کے والدین نے آپ کا نام جان محمد رکھا۔ لیکن بعدازاں سلسلہ چشتیہ میں منسلک ہونے کی وجہ سے چشتی کہلواتے تھے۔
تسلیم و تربیت:
آپ کے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اس لیے آپ کے والدین نے ابتدا ہی سے صالح خطوط پر آپ کی پرورش کی اور تربیت کی طرف خصوصی توجہ دی تاکہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر نیک اور صالح انسان بنے۔ آپ نے میٹرک تک گورنمنٹ ہائی اسکول فیروز پور سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی علاقے کی مسجد کے امام سے قرآن پاک ناظرہ پڑھا۔ آپ بچپن ہی سے نیکی کی طرف مائل تھے۔ والدین کا ماحول مذہبی تھا اس لیے اس ماحول کے زیر اثر آپ ہوش سنبھالنے تک نماز کے پابند ہو گے۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے آپ علی گڑھ گئے اور وہاں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخل ہوگئے چار سال کے عرصہ میں آپ نے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ آپ کے مضامین مین عربی اور فارسی کے مضامین بھی تھے اس لیے آپ عربی اور فارسی بخوبی جانتے تھے۔
فوج میں ملازمت:
تعلیم و تربیت سے فارغ وہنے کے بعد آپ فوج میں بھرتی ہو گئے آپ کی زندگی کا بیشتر حصّہ فوجی ملازمت میں گزرا۔ دوران ملازمت آپ انتہائی فرض شناس اور ایماندار تھے۔ آپ میں وصف تھا کہ آپ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کبھی کوتاہی نہ کی۔
بیعت:
آپ طالب علمی ہی کے زمانے میں تھے کہ آپ راہِ سلوک کے مسافر بنے راہ حق کو پانے کی آپ میں سچی تڑپ تھی آپ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے کہ دنیا میں رہ کر آخرت کی فکر کرنا ازحد ضروری ہے۔ آپ کے علاقہ فیروز پور میں اللہ والے آتے جاتے رہتے تھے۔ لیکن حضرت خواجہ محمد یار تبلیغ کی غرض سے اکثر فیروز پور میں آیا کرتے۔ حضرت خواجہ محمد یار کا تعلق گڑھی شریف بہادلپور سے تھا اور حضرت خواجہ غلام فرید کے خلیفہ تھے۔ ایک دفعہ حضرت محمد یار صاحب فیروز پور میں تشریف لائے آپ بھی علی گڑھ سے اپنے گھر آئے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ ان کے ہاتھ پر بیعت سے مشرف ہوئے۔ حضرت خواجہ محمد یار صاحب کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے تھا بیعت سے قبل آپ شیخ کامل کی تلاش میں متعدد بزرگان دین کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آکر آپ جن کے مرید ہوئے وہ حضرت خواجہ یار محمد تھے۔
خرقہ خلافت:
آپ نے ۲۱ سال اپنے مرشد کی زیر نگرانی سخت مجاہدہ کیا لیکن آپ تارک الدنیا نہ ہوئے آپ نے شریعت کی حدود میں رہ کر منازل سلوک کر عبور کیا آپ کے پیش نظر حصول فیض کے سے زیادہ وقت مرشد کامل کی صحبت میں گزارہ جائے دو سال تک آپ نے نماز مبحکوس ادا کی ، آپ نے اپنی حیاتی میں ذیادہ ترنفی اثبات کا ذکر کیا اور اکثر اوقات شب بیدار رہا کرتے تھے اور ساری رات اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ۔آخر ایک حضرت خواجہ محّمد یا ر صاحب فیروز پور میںں آے ہوئے تھے ایک مجلس کے بعد ۱۹۳۲ھ میں آپ کو خرقہ خلافت سے نوازا اور اس وقت آپ شیخ کی نگاہ ِ باطن کے مطابق روحانیت میں خاص مقام حاصل کر چکے تھے ۔اس کہ بعد آپ اپنےمرشد کی ہدایت کہ مطابق مخلوق خُدا کی روحانی اور اخلاقی تربییت میں مصروف ہوگئے۔
شجرہ طریقت :
آپ کا شجرہ طریقت چند واسطوں سے حضرت بابا فرید گنج شکر سے ملتا ہے۔خواجہ محُمد جان چشتی مرید تھے حضرت خواجہ محُمد یارکےوہ مرید خواجہ معین الدین کے وہ مرید حضرت محُمد بخش کے وہ مرید حضرت خواجہ غلام فرید کے وہ مرید حضرت غلام فخرالدین کے وہ مرید حضرت خواجہ خدا بخش کے وہ مرید حضرت شیخ محمُد عاقل کے وہ مرید خواجہ نور محمد مہاروی کے وہ مرید حضرت مولا نا فخرالدین فخر الجہاں کے وہ مرید حضرت نظام الدین اور رنگ آبادی وہ مرید حضرت حضرت کلیم اللہ کے وہ مرید حضرت یحیحی کے وہ مرید حضرت شیخ احمد کے وہ مرید حضرت حسن محمُد کے وہ مرید حضرت شیخ جمال الدین کے وہ مرید حضرت محمُود کے وہ مرید حضرت علم الدین کے وہ مرید شیخ سراج الدین کے وہ مرید کمال الدین علامہ کے وہ مرید حضرت نصیر الددین چراغ دہلی کے وہ مرید خواجہ نظاماالدین اولیاء کے وہ مرید حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علہیہ کے۔
لاہور میں قیام :
قیام پاکستان پر آپ فیروز پور کو
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ہر دور میں اپنے بندوں میں سے جن بندوں کا چناؤ کیا وہ اللہ کے مخصوص انسان بن گئے ہیں ان مخصوص انسانوں کو اللہ نے اپنا خصوصی فیض اور فضل عطا فرمایا اسی فیض کے بدولت وہ لوگوں کی راہنمائی کرتے اور بے راہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں۔ اللہ کے ان نیک اور صالح بندوں میں ہے حضرت جان محمد چشتی تھے۔
خاندانی حالات:
حضرت جان محمد چشتی کے آباؤ اجداد فیروز پور آکر آباد ہوئے تھے، آپ اک تعلق راجپوت قوم سے تھا آپ کے والد ماجد کا نام خواجہ خدا بخش تھا جو زمینداری کا کام کرتے تھے خواجہ خدا بخش رزق حلال کمانے کے حق میں تھے اور اسی رزق حلال کا اثر تھا کہ آپ کا لڑکا ولئ کامل بنا۔
پیدائش:
آپ ۲۱ رمضان المبارک بروز جمعرات ۱۳۲۷ھ بمطابق ۷ اکتوبر ۱۹۰۹ء میں فیروز پور کے شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ آپ کے والدین نے آپ کا نام جان محمد رکھا۔ لیکن بعدازاں سلسلہ چشتیہ میں منسلک ہونے کی وجہ سے چشتی کہلواتے تھے۔
تسلیم و تربیت:
آپ کے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے اس لیے آپ کے والدین نے ابتدا ہی سے صالح خطوط پر آپ کی پرورش کی اور تربیت کی طرف خصوصی توجہ دی تاکہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر نیک اور صالح انسان بنے۔ آپ نے میٹرک تک گورنمنٹ ہائی اسکول فیروز پور سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ہی علاقے کی مسجد کے امام سے قرآن پاک ناظرہ پڑھا۔ آپ بچپن ہی سے نیکی کی طرف مائل تھے۔ والدین کا ماحول مذہبی تھا اس لیے اس ماحول کے زیر اثر آپ ہوش سنبھالنے تک نماز کے پابند ہو گے۔
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے آپ علی گڑھ گئے اور وہاں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخل ہوگئے چار سال کے عرصہ میں آپ نے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ آپ کے مضامین مین عربی اور فارسی کے مضامین بھی تھے اس لیے آپ عربی اور فارسی بخوبی جانتے تھے۔
فوج میں ملازمت:
تعلیم و تربیت سے فارغ وہنے کے بعد آپ فوج میں بھرتی ہو گئے آپ کی زندگی کا بیشتر حصّہ فوجی ملازمت میں گزرا۔ دوران ملازمت آپ انتہائی فرض شناس اور ایماندار تھے۔ آپ میں وصف تھا کہ آپ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کبھی کوتاہی نہ کی۔
بیعت:
آپ طالب علمی ہی کے زمانے میں تھے کہ آپ راہِ سلوک کے مسافر بنے راہ حق کو پانے کی آپ میں سچی تڑپ تھی آپ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے کہ دنیا میں رہ کر آخرت کی فکر کرنا ازحد ضروری ہے۔ آپ کے علاقہ فیروز پور میں اللہ والے آتے جاتے رہتے تھے۔ لیکن حضرت خواجہ محمد یار تبلیغ کی غرض سے اکثر فیروز پور میں آیا کرتے۔ حضرت خواجہ محمد یار کا تعلق گڑھی شریف بہادلپور سے تھا اور حضرت خواجہ غلام فرید کے خلیفہ تھے۔ ایک دفعہ حضرت محمد یار صاحب فیروز پور میں تشریف لائے آپ بھی علی گڑھ سے اپنے گھر آئے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ ان کے ہاتھ پر بیعت سے مشرف ہوئے۔ حضرت خواجہ محمد یار صاحب کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے تھا بیعت سے قبل آپ شیخ کامل کی تلاش میں متعدد بزرگان دین کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آکر آپ جن کے مرید ہوئے وہ حضرت خواجہ یار محمد تھے۔
خرقہ خلافت:
آپ نے ۲۱ سال اپنے مرشد کی زیر نگرانی سخت مجاہدہ کیا لیکن آپ تارک الدنیا نہ ہوئے آپ نے شریعت کی حدود میں رہ کر منازل سلوک کر عبور کیا آپ کے پیش نظر حصول فیض کے سے زیادہ وقت مرشد کامل کی صحبت میں گزارہ جائے دو سال تک آپ نے نماز مبحکوس ادا کی ، آپ نے اپنی حیاتی میں ذیادہ ترنفی اثبات کا ذکر کیا اور اکثر اوقات شب بیدار رہا کرتے تھے اور ساری رات اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ۔آخر ایک حضرت خواجہ محّمد یا ر صاحب فیروز پور میںں آے ہوئے تھے ایک مجلس کے بعد ۱۹۳۲ھ میں آپ کو خرقہ خلافت سے نوازا اور اس وقت آپ شیخ کی نگاہ ِ باطن کے مطابق روحانیت میں خاص مقام حاصل کر چکے تھے ۔اس کہ بعد آپ اپنےمرشد کی ہدایت کہ مطابق مخلوق خُدا کی روحانی اور اخلاقی تربییت میں مصروف ہوگئے۔
شجرہ طریقت :
آپ کا شجرہ طریقت چند واسطوں سے حضرت بابا فرید گنج شکر سے ملتا ہے۔خواجہ محُمد جان چشتی مرید تھے حضرت خواجہ محُمد یارکےوہ مرید خواجہ معین الدین کے وہ مرید حضرت محُمد بخش کے وہ مرید حضرت خواجہ غلام فرید کے وہ مرید حضرت غلام فخرالدین کے وہ مرید حضرت خواجہ خدا بخش کے وہ مرید حضرت شیخ محمُد عاقل کے وہ مرید خواجہ نور محمد مہاروی کے وہ مرید حضرت مولا نا فخرالدین فخر الجہاں کے وہ مرید حضرت نظام الدین اور رنگ آبادی وہ مرید حضرت حضرت کلیم اللہ کے وہ مرید حضرت یحیحی کے وہ مرید حضرت شیخ احمد کے وہ مرید حضرت حسن محمُد کے وہ مرید حضرت شیخ جمال الدین کے وہ مرید حضرت محمُود کے وہ مرید حضرت علم الدین کے وہ مرید شیخ سراج الدین کے وہ مرید کمال الدین علامہ کے وہ مرید حضرت نصیر الددین چراغ دہلی کے وہ مرید خواجہ نظاماالدین اولیاء کے وہ مرید حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علہیہ کے۔
لاہور میں قیام :
قیام پاکستان پر آپ فیروز پور کو
❤1