حضرت رمضان علی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ابوالحسان مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری بن حکیم اللہ بخش قریشی ۶؍رمضان المبارک ۱۳۴۰ھ/ ۳؍مئی ۱۹۲۲ء میں بمقام شاہ پور جاجن، تحصیل بٹالہ ضلع گورو اسپور (بھارت) پیدا ہوئے۔
آپ کے نانا حاجی کریم بخش علیہ الرحمۃ نہایت متقی، عابد و زاہد تھے۔
صوم و صلوٰۃ کے پابند اور شب بیدار تہجد گزار تھے۔ تلاوتِ قرآن مجید اور ذکر و فکر آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ قصبہ شاہپور جاجن میں آپ نے پکی مسجد تعمیر کروائی اور اپنی ذاتی رقم سے تمام ضروریاتِ مسجد کا اہتمام کیا۔ مسلمانوں کو نماز کے مسائل سکھا کر نماز پڑھنے کا پابند بنایا۔ بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے کے علاوہ دینیات کی تعلیم بھی دیتے اور حاجت مندوں، یتیموں اور بیواؤں کی حاجت برآری میں کوشاں رہتے۔
تعلیم و تربیت:
مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری نے فارسی میں گلستان، بوستان اور عربی کی تمام کتب درسِ نظامی مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم محلہ کھڈہ کراچی میں پڑھیں۔
۱۹۳۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فارسی کا امتحان ’’منشی‘‘ پاس کیا۔
دورۂ حدیث محدثِ اعظم حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد میں پڑھ کر سندِ حدیث اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
علمِ طب کی ابتدائی کتب مولوی محمد صادق مہتمم مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم کراچی سے پڑھیں اور پھر اپنے والد ماجد سے بقیہ کتبِ طب پڑھنے کے ساتھ عملی تربیت بھی حاصل کی۔ سندِ طب ’’ممتاز الاطباء‘‘ طبیہ کالج طبِ جدید شاہدرہ (لاہور) سے حاصل کی۔
بیعت:
۱۹۳۷ء میں آپ نے حضرت پیر سید جماعت علی شاہ ثانی علیہ الرحمۃ (علی پور سیداں سیالکوٹ) کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ پھر ان کے وصال پر حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ اور پھر پیر طریقت حضرت فضل الٰہی صاحب (چک نمبر ۶۶ ج۔ ب دہاندرہ، فیصل آباد) سے تجدیدِ بیعت کی، موخر الذکر نے آپ کو ۱۹۷۳ء میں خلافت سے نوازتے ہوئے بیعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
دینی و ملی خدمات:
آپ کے شب و روز تبلیغِ دین اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف قلمی جہاد میں گزرتے ہیں۔ اگست ۱۹۳۶ء سے اگست ۱۹۴۲ء تک چھ سال کا عرصہ اپنے آبائی شاہپور جاجن میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور پھر ۱۹۵۶ء سے تاحال جامع مسجد غوثیہ سنجھور و ضلع سانگھر میں امام و خطیب کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قصبہ شاہپور ضلع گورداسپور میں باوجود یکہ سکھوں اور ہندوؤں کا زور تھا۔ آپ نے پرائمری مسلم لیگ قائم کی جس کا نام مصلحتاً ’’انجمن تنویر الاسلام‘‘ رکھا اور نیشنل گارڈ قائم کرکے اس کا نام ’’غلامانِ رسول‘‘ رکھا۔ آپ جمعہ کے خطبات کے علاوہ پبلک جلسوں میں مسلم لیگی امیدواروں کے حق میں تقاریر کرتے رہے، چنانچہ ان سرگرمیوں کی بنا پر سکھوں اور ہندوؤں نے آپ کو ’’فسادی ملا‘‘ کے نام سے پکارا اور آپ کے قتل کے لیے مبلغ پانچ ہزار روپے مقرر کیے۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ جمعہ کے اجتماعات میں ختمِ نبوت کے موضوع پر تقاریر کے ذریعے عوام کو قادیانیوں کی حقیقت اور عزائم سے روشناس کراتے رہے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرکے حکومت کو بھیجتے رہے۔
جب پاکستان میں بعض لوگوں نے سوشلزم کا فتنہ کھڑا کیا، تو آپ نے اسی وقت تقاریر، اخبارات میں بیانات اور پمفلٹوں کے ذریعے سوشلزم کے خلاف اور نظام مصطفےٰ کے قیام کے لیے جدوجہد شروع کردی۔
۹؍اکتوبر ۱۹۶۹ء کو شہر میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں نے سوشلزم کے مقابلے کے لیے جمعیۃ مجاہدینِ اسلام کے نام سے ایک محاذ قائم کیا، جس کی صدارت کے لیے آپ کو منتخب کیا گیا۔ اس سلسلے میں آپ نے مختلف عنوانات سے پمفلٹ چھپواکر نہ صرف عوام میں تقسیم کیے، بلکہ تمام وزراء، ہوم سیکرٹریوں، سپریم کوٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں، وکلاء اور بار کونسلوں کے عہدیداروں، سیاسی لیڈروں اور علماء و مشائخ کے نام ارسال کیے۔ ان پمفلٹوں کے عنوانات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘
(اس پمفلٹ میں براہ راست صدرِ پاکستان کو مخاطب کرکے سوشلسٹ عناصر کی سرکوبی اور نظام مصطفےٰ کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا)
۲۔ جناب میر رسول بخش تالپور سے ایک سوال اور پاکستانی عوام کے لیے لمحۂ فکریہ
۳۔ پاکستان میں اسلام نظام کے قیام کے لیے اسلامی کی علمبردار جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے۔
۴۔ مشائخ و علماء پاکستان کی خدمت میں درد مندانہ اپیل۔ ’’صورِ اسرافیل‘‘
۵۔ حکومتِ پاکستان اور لیڈرانِ ملک سے اہم سوال۔
ابوالحسان مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری بن حکیم اللہ بخش قریشی ۶؍رمضان المبارک ۱۳۴۰ھ/ ۳؍مئی ۱۹۲۲ء میں بمقام شاہ پور جاجن، تحصیل بٹالہ ضلع گورو اسپور (بھارت) پیدا ہوئے۔
آپ کے نانا حاجی کریم بخش علیہ الرحمۃ نہایت متقی، عابد و زاہد تھے۔
صوم و صلوٰۃ کے پابند اور شب بیدار تہجد گزار تھے۔ تلاوتِ قرآن مجید اور ذکر و فکر آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ قصبہ شاہپور جاجن میں آپ نے پکی مسجد تعمیر کروائی اور اپنی ذاتی رقم سے تمام ضروریاتِ مسجد کا اہتمام کیا۔ مسلمانوں کو نماز کے مسائل سکھا کر نماز پڑھنے کا پابند بنایا۔ بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے کے علاوہ دینیات کی تعلیم بھی دیتے اور حاجت مندوں، یتیموں اور بیواؤں کی حاجت برآری میں کوشاں رہتے۔
تعلیم و تربیت:
مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری نے فارسی میں گلستان، بوستان اور عربی کی تمام کتب درسِ نظامی مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم محلہ کھڈہ کراچی میں پڑھیں۔
۱۹۳۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فارسی کا امتحان ’’منشی‘‘ پاس کیا۔
دورۂ حدیث محدثِ اعظم حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد میں پڑھ کر سندِ حدیث اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
علمِ طب کی ابتدائی کتب مولوی محمد صادق مہتمم مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم کراچی سے پڑھیں اور پھر اپنے والد ماجد سے بقیہ کتبِ طب پڑھنے کے ساتھ عملی تربیت بھی حاصل کی۔ سندِ طب ’’ممتاز الاطباء‘‘ طبیہ کالج طبِ جدید شاہدرہ (لاہور) سے حاصل کی۔
بیعت:
۱۹۳۷ء میں آپ نے حضرت پیر سید جماعت علی شاہ ثانی علیہ الرحمۃ (علی پور سیداں سیالکوٹ) کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ پھر ان کے وصال پر حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ اور پھر پیر طریقت حضرت فضل الٰہی صاحب (چک نمبر ۶۶ ج۔ ب دہاندرہ، فیصل آباد) سے تجدیدِ بیعت کی، موخر الذکر نے آپ کو ۱۹۷۳ء میں خلافت سے نوازتے ہوئے بیعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
دینی و ملی خدمات:
آپ کے شب و روز تبلیغِ دین اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف قلمی جہاد میں گزرتے ہیں۔ اگست ۱۹۳۶ء سے اگست ۱۹۴۲ء تک چھ سال کا عرصہ اپنے آبائی شاہپور جاجن میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور پھر ۱۹۵۶ء سے تاحال جامع مسجد غوثیہ سنجھور و ضلع سانگھر میں امام و خطیب کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قصبہ شاہپور ضلع گورداسپور میں باوجود یکہ سکھوں اور ہندوؤں کا زور تھا۔ آپ نے پرائمری مسلم لیگ قائم کی جس کا نام مصلحتاً ’’انجمن تنویر الاسلام‘‘ رکھا اور نیشنل گارڈ قائم کرکے اس کا نام ’’غلامانِ رسول‘‘ رکھا۔ آپ جمعہ کے خطبات کے علاوہ پبلک جلسوں میں مسلم لیگی امیدواروں کے حق میں تقاریر کرتے رہے، چنانچہ ان سرگرمیوں کی بنا پر سکھوں اور ہندوؤں نے آپ کو ’’فسادی ملا‘‘ کے نام سے پکارا اور آپ کے قتل کے لیے مبلغ پانچ ہزار روپے مقرر کیے۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ جمعہ کے اجتماعات میں ختمِ نبوت کے موضوع پر تقاریر کے ذریعے عوام کو قادیانیوں کی حقیقت اور عزائم سے روشناس کراتے رہے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرکے حکومت کو بھیجتے رہے۔
جب پاکستان میں بعض لوگوں نے سوشلزم کا فتنہ کھڑا کیا، تو آپ نے اسی وقت تقاریر، اخبارات میں بیانات اور پمفلٹوں کے ذریعے سوشلزم کے خلاف اور نظام مصطفےٰ کے قیام کے لیے جدوجہد شروع کردی۔
۹؍اکتوبر ۱۹۶۹ء کو شہر میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں نے سوشلزم کے مقابلے کے لیے جمعیۃ مجاہدینِ اسلام کے نام سے ایک محاذ قائم کیا، جس کی صدارت کے لیے آپ کو منتخب کیا گیا۔ اس سلسلے میں آپ نے مختلف عنوانات سے پمفلٹ چھپواکر نہ صرف عوام میں تقسیم کیے، بلکہ تمام وزراء، ہوم سیکرٹریوں، سپریم کوٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں، وکلاء اور بار کونسلوں کے عہدیداروں، سیاسی لیڈروں اور علماء و مشائخ کے نام ارسال کیے۔ ان پمفلٹوں کے عنوانات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘
(اس پمفلٹ میں براہ راست صدرِ پاکستان کو مخاطب کرکے سوشلسٹ عناصر کی سرکوبی اور نظام مصطفےٰ کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا)
۲۔ جناب میر رسول بخش تالپور سے ایک سوال اور پاکستانی عوام کے لیے لمحۂ فکریہ
۳۔ پاکستان میں اسلام نظام کے قیام کے لیے اسلامی کی علمبردار جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے۔
۴۔ مشائخ و علماء پاکستان کی خدمت میں درد مندانہ اپیل۔ ’’صورِ اسرافیل‘‘
۵۔ حکومتِ پاکستان اور لیڈرانِ ملک سے اہم سوال۔
❤1
مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو برسرِ اقتدار آیا، تو آپ نے ایک تحریک چلائی، جس کے ذریعے ملک میں عملاً اسلام کے نفاذ، مشرقی پاکستان میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے بند کردیے، مارشل لاء کے خاتمے اور بھارت سے پاکستانی جنگی قیدیوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا اور ان مطالبات پر مشتمل ایک پرچہ چھپواکر ملک بھر کی اہم شخصیتوں کو بھیجا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔
۷؍مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخابات میں بھٹو حکومت کی زبردست دھاندلی کے خلاف جب ملک میں تحریک چلی تو اس دوران آپ کو قومی اتحاد سنجھورو (سانگھڑ) کا قائم مقام جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا، چنانچہ اس وقت کے وزیرِ بلدیات جام صادق علی کی ہدایت پر پولیس نے آپ کے خلاف فرضی کیس بناکر ڈی پی آر کے تحت گرفتار کرلیا اور پھر جب حکومت اور قومی اتحاد کے مابین مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ طے پایا، تو ۴؍جون ۱۹۷۷ء کو سپیشل ٹریبونل کراچی نے آپ کو رہا کردیا۔ آپ قائدِ اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی مدظلہ کی زیر قیادت جمعیت علماء پاکستان کے منشور کے مطابق ملک میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر کوشاں رہتے ہیں۔
تحریرات:
حضرت مولانا حکیم محمد رمضان کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات کا مالک بنایا ہے، چنانچہ سیاسی میدان میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر جدوجہد کے ساتھ ساتھ آپ مقامِ مصطفےٰ کے تحفظ کی خاطر اپنی زبان اور قلم کو مصروف رکھنا عین ایمان بلکہ جانِ ایمان سمجھتے ہیں ۔ اسی بناء پر آپ نے مسلکِ اہل سنت کی صداقت اور گستاخانِ رسول علیہ السلام کے خود ساختہ اور بغض و عداوت پر مبنی عقائد کے رد میں چند کتب بھی تحریر فرمائیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ تنویر الایمان بوسیلۃ اولیاءالرحمٰن ۲۴۸ صفحات (اولیاء کرام سے توسل کا جواز)
۲۔ تنویرالبرہان ۱۲۲ صفحات (غیر مقلدین کے چند اعتراضات کے مسکت جوابات)
۳۔ مکمل تاریخ وہابیہ ۲۵۶ صفحات (دورِ حاضر کے خوراج وہابیہ کی نقاب کشائی)
۴۔ تنویر المصابیح فی حدود التراویح (بیس تراویح کا ثبوت)
۵۔ معدنِ اخلاق (غیر مطبوعہ) (اخلاقیات پر جامع کتاب) [۱]
[۱۔ مولانا محمد رمضان علی قادری کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش سندھی متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ کے توسط سے حاصل ہوئے]
تعارف علماء اہلسنّت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ramazan-ali-naqshbandi-qadri
۷؍مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخابات میں بھٹو حکومت کی زبردست دھاندلی کے خلاف جب ملک میں تحریک چلی تو اس دوران آپ کو قومی اتحاد سنجھورو (سانگھڑ) کا قائم مقام جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا، چنانچہ اس وقت کے وزیرِ بلدیات جام صادق علی کی ہدایت پر پولیس نے آپ کے خلاف فرضی کیس بناکر ڈی پی آر کے تحت گرفتار کرلیا اور پھر جب حکومت اور قومی اتحاد کے مابین مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ طے پایا، تو ۴؍جون ۱۹۷۷ء کو سپیشل ٹریبونل کراچی نے آپ کو رہا کردیا۔ آپ قائدِ اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی مدظلہ کی زیر قیادت جمعیت علماء پاکستان کے منشور کے مطابق ملک میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر کوشاں رہتے ہیں۔
تحریرات:
حضرت مولانا حکیم محمد رمضان کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات کا مالک بنایا ہے، چنانچہ سیاسی میدان میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر جدوجہد کے ساتھ ساتھ آپ مقامِ مصطفےٰ کے تحفظ کی خاطر اپنی زبان اور قلم کو مصروف رکھنا عین ایمان بلکہ جانِ ایمان سمجھتے ہیں ۔ اسی بناء پر آپ نے مسلکِ اہل سنت کی صداقت اور گستاخانِ رسول علیہ السلام کے خود ساختہ اور بغض و عداوت پر مبنی عقائد کے رد میں چند کتب بھی تحریر فرمائیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ تنویر الایمان بوسیلۃ اولیاءالرحمٰن ۲۴۸ صفحات (اولیاء کرام سے توسل کا جواز)
۲۔ تنویرالبرہان ۱۲۲ صفحات (غیر مقلدین کے چند اعتراضات کے مسکت جوابات)
۳۔ مکمل تاریخ وہابیہ ۲۵۶ صفحات (دورِ حاضر کے خوراج وہابیہ کی نقاب کشائی)
۴۔ تنویر المصابیح فی حدود التراویح (بیس تراویح کا ثبوت)
۵۔ معدنِ اخلاق (غیر مطبوعہ) (اخلاقیات پر جامع کتاب) [۱]
[۱۔ مولانا محمد رمضان علی قادری کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش سندھی متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ کے توسط سے حاصل ہوئے]
تعارف علماء اہلسنّت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ramazan-ali-naqshbandi-qadri
scholars.pk
Hazrat Ramazan Ali Naqshbandi Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت اسماعیل الصابونی نیشا پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کے والد بجند بن احمد قدس سرہ تھے۔
اپنے وقت کے قطب اور صاحب کرامت بزرگ تھے حضرت عثمان صیری رحمۃ اللہ علیہ سے فیضِ صحبت پایا تھا اور حضرت جنید بغدادی کو دیکھا تھا ـ
وصال ۳۶۵ھ میں ہوا ۔
آں ذبیح عشق اسماعیل دیں
وصلش اسماعیل محی الدین بگو
۳۶۵ھ
رفت چوں از دار دنیا در جہاں
واقف حق اہل دل ہم کن بیاں
۳۶۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ismail-al-saboni-nishapuri
آپ کے والد بجند بن احمد قدس سرہ تھے۔
اپنے وقت کے قطب اور صاحب کرامت بزرگ تھے حضرت عثمان صیری رحمۃ اللہ علیہ سے فیضِ صحبت پایا تھا اور حضرت جنید بغدادی کو دیکھا تھا ـ
وصال ۳۶۵ھ میں ہوا ۔
آں ذبیح عشق اسماعیل دیں
وصلش اسماعیل محی الدین بگو
۳۶۵ھ
رفت چوں از دار دنیا در جہاں
واقف حق اہل دل ہم کن بیاں
۳۶۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ismail-al-saboni-nishapuri
scholars.pk
Hazrat Ismail Al-Saboni Nishapuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت میر محمد بن احمد کشمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ حضرت شیخ یعقوب صوفی کے مرید اور خلیفہ تھے آپ کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر بیٹھے ترک و تجرید اور تفرید میں یگانۂ روزگار تھے۔
توکل میں فرد زمانہ تھے۔ سارا سال گرمی اور سردی میں ایک ہی کپڑے میں وقت گزار دیتے والی بکہلی کے کہنے پر آپ کشمیر سے بکہلی تشریف لے گئے اور قیام فرما ہوئے۔
اس جامع کمالات کی وفات صاحب تذکرہ القدمانے چہارم محرم الحرام ۱۰۱۱ھ لکھی ہے۔ مگر تواریخ اعظمیٰ کے مولّف نے ۱۰۱۵ھ لکھی ہے۔
چوں محمد میر شیر دوجہاں
صاحب فضل است تاریخش دگر
۱۰۱۱ھ
رفت از دنیا بفردوس بریں
متقی مہدی محمد میر دین
۱۰۱۵ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-muhammad-kashmiri
آپ حضرت شیخ یعقوب صوفی کے مرید اور خلیفہ تھے آپ کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر بیٹھے ترک و تجرید اور تفرید میں یگانۂ روزگار تھے۔
توکل میں فرد زمانہ تھے۔ سارا سال گرمی اور سردی میں ایک ہی کپڑے میں وقت گزار دیتے والی بکہلی کے کہنے پر آپ کشمیر سے بکہلی تشریف لے گئے اور قیام فرما ہوئے۔
اس جامع کمالات کی وفات صاحب تذکرہ القدمانے چہارم محرم الحرام ۱۰۱۱ھ لکھی ہے۔ مگر تواریخ اعظمیٰ کے مولّف نے ۱۰۱۵ھ لکھی ہے۔
چوں محمد میر شیر دوجہاں
صاحب فضل است تاریخش دگر
۱۰۱۱ھ
رفت از دنیا بفردوس بریں
متقی مہدی محمد میر دین
۱۰۱۵ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-muhammad-kashmiri
scholars.pk
Hazrat Meer Muhammad Kashmiri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
مولانا اخوند درویزہ پشاوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا نام عبد الرشید تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 940ھ/ 1533ء میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
قرآن پاک آپ نے ملا سنجر پابینی سے پڑھا اس کے تمام مروجہ علوم ملا سنجر ،جمال الدین ہندستانی اور دیگر علماء سے حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ نے شیخ سید علی ٖغواص رحمۃ اللہ علیہ کے دست پر بیعت کرکے علومِ باطنی حاصل کئے اور اپنے شیخ ہی سے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
آپ اپنے وقت کے مایہ ناز عالم اور بلند پایہ شیخِ کامل تھے ۔ آپ ہر وقت دینِ متین کی خدمت میں لگے رہتے۔ اہل سنت کی نشر اشاعت ، اِن پر وارد ہونے والے اعتراضات کے جوابات اور بد مذہبوں سے مناظرہ کرنے میں آپ پیش پیش تھے۔صاحبِ کرامت ولی، اور اپنے وقت کے جید عالم تھے ، آپ کے دور کے علماء کو کوئی بھی شرعی مسئلہ درپیش ہوتا وہ آپ کی بارگاہ میں آکر جواب حاصل کرتے۔
وصال:
حضرت اخوند درویزہ نے 4 محرم الحرام 1048ھ بمطابق مئی 1638ء کو پشاور میں وفات پائی۔
مزار:
آپ کا مزار پشاور میں موضع ہزار خانی کے قریب مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
مولانا اخوند درویزہ رحمۃ اللہ علیہ۔حدائق الحنفیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mulla-akhoon-darweza-nagarhari-chishti
اسمِ گرامی:
آپ کا نام عبد الرشید تھا ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت 940ھ/ 1533ء میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
قرآن پاک آپ نے ملا سنجر پابینی سے پڑھا اس کے تمام مروجہ علوم ملا سنجر ،جمال الدین ہندستانی اور دیگر علماء سے حاصل کیا۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ نے شیخ سید علی ٖغواص رحمۃ اللہ علیہ کے دست پر بیعت کرکے علومِ باطنی حاصل کئے اور اپنے شیخ ہی سے خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
آپ اپنے وقت کے مایہ ناز عالم اور بلند پایہ شیخِ کامل تھے ۔ آپ ہر وقت دینِ متین کی خدمت میں لگے رہتے۔ اہل سنت کی نشر اشاعت ، اِن پر وارد ہونے والے اعتراضات کے جوابات اور بد مذہبوں سے مناظرہ کرنے میں آپ پیش پیش تھے۔صاحبِ کرامت ولی، اور اپنے وقت کے جید عالم تھے ، آپ کے دور کے علماء کو کوئی بھی شرعی مسئلہ درپیش ہوتا وہ آپ کی بارگاہ میں آکر جواب حاصل کرتے۔
وصال:
حضرت اخوند درویزہ نے 4 محرم الحرام 1048ھ بمطابق مئی 1638ء کو پشاور میں وفات پائی۔
مزار:
آپ کا مزار پشاور میں موضع ہزار خانی کے قریب مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
مولانا اخوند درویزہ رحمۃ اللہ علیہ۔حدائق الحنفیہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-mulla-akhoon-darweza-nagarhari-chishti
scholars.pk
Hazrat Akhoon Daro Yazd Nagarhari Chishti
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Akhoon Daro Yazd Nagarhari Chishti is one of Islamic (Religious) Scholar.
❤1
حضرت سید حمید لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
سادات کرام اور مشائخ عظام سے تعلق رکھتے تھے۔ جامع شرافت و نجابت تھے۔
ظاہری علوم میں ممتاز عالم دین ساری زندگی ارشاد و ہدایت میں گذاری۔ چہارم محرم الحرام ۱۰۹۰ھ واصل بحق ہوئے۔
اور اپنے آبائی قبرستان میں آسودۂِ خاک ہوئے آپ کے بیٹے آپ کی جگہ مسند ارشاد پر بیٹھے مگر وہ بھی ۱۰۷۷ھ میں انتقال فرما گئے۔
وفات سیّد حمید:
چوں جناب حمید حامدِ حق
اعظم اولیا ست تاریخش
۱۰۹۰ھ
زین جہاں فنا بخلد رسید
ہم نجوان صدر دین سخی حمید
۱۰۹۰ھ
تاریخ وفات سید عبد القادر گیلانی:
چوں جناب عبدالقادر شیخ پیر
وارث عشق ست تاریخ دگر
۱۰۷۷ھ
گشت راہی ازجہاں سوئے جنان
عبد قادر متقی معصوم خواں
۱۰۷۷ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hameed-lahori
سادات کرام اور مشائخ عظام سے تعلق رکھتے تھے۔ جامع شرافت و نجابت تھے۔
ظاہری علوم میں ممتاز عالم دین ساری زندگی ارشاد و ہدایت میں گذاری۔ چہارم محرم الحرام ۱۰۹۰ھ واصل بحق ہوئے۔
اور اپنے آبائی قبرستان میں آسودۂِ خاک ہوئے آپ کے بیٹے آپ کی جگہ مسند ارشاد پر بیٹھے مگر وہ بھی ۱۰۷۷ھ میں انتقال فرما گئے۔
وفات سیّد حمید:
چوں جناب حمید حامدِ حق
اعظم اولیا ست تاریخش
۱۰۹۰ھ
زین جہاں فنا بخلد رسید
ہم نجوان صدر دین سخی حمید
۱۰۹۰ھ
تاریخ وفات سید عبد القادر گیلانی:
چوں جناب عبدالقادر شیخ پیر
وارث عشق ست تاریخ دگر
۱۰۷۷ھ
گشت راہی ازجہاں سوئے جنان
عبد قادر متقی معصوم خواں
۱۰۷۷ھ
( خذینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-hameed-lahori
scholars.pk
Hazrat Syed Hameed Lahori
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Syed Hameed Lahori is one of great Islamic (Religious) Scholar.
❤1
آپ شیخ سجاول شیربن شیخ چنن شاہ صاحب رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کے چھوٹے بیٹے تھے ۔
بیعت:
ارادت وبیعت آپ کی اپنے حقیقی چچا شیخ حیات حسین المعروف سائیں حیاتیانوالہ صاحب رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔
آپ مدت العمر جنگلات کے محکمہ میں گاڈرہے۔
اولاد:
آپ کی شادی پیر محمد شاہ بن شیخ گوہر شاہ صاحب سلیمانی رنملوی کی لڑکی سے ہوئی۔ان کے بطن سے تین بیٹے ہیں۔
ا۔صاحبزادہ عابد حسین۔
۲۔صاحبزادہ عارف حسین۔
۳۔صاحبزادہ افضل حسین۔
تینوں اس وقت ۱۳۷۵ھ میں موجود ہیں۔رسول نگرمیں سکونت رکھتے ہیں۔
تاریخ وفات:
سائیں ولایت حسین کی وفات بروز پنج شنبہ ۔چوتھی محرم ۱۳۶۴ھ میں ہوئی۔ قبر رسول نگر میں ہے۔
مادہ تاریخ ہے "غنچہ معصومین"۔
( شریف التواریخ جلد نمبر ۲ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-saeen-wilayat-husain-rasool-nagri
بیعت:
ارادت وبیعت آپ کی اپنے حقیقی چچا شیخ حیات حسین المعروف سائیں حیاتیانوالہ صاحب رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔
آپ مدت العمر جنگلات کے محکمہ میں گاڈرہے۔
اولاد:
آپ کی شادی پیر محمد شاہ بن شیخ گوہر شاہ صاحب سلیمانی رنملوی کی لڑکی سے ہوئی۔ان کے بطن سے تین بیٹے ہیں۔
ا۔صاحبزادہ عابد حسین۔
۲۔صاحبزادہ عارف حسین۔
۳۔صاحبزادہ افضل حسین۔
تینوں اس وقت ۱۳۷۵ھ میں موجود ہیں۔رسول نگرمیں سکونت رکھتے ہیں۔
تاریخ وفات:
سائیں ولایت حسین کی وفات بروز پنج شنبہ ۔چوتھی محرم ۱۳۶۴ھ میں ہوئی۔ قبر رسول نگر میں ہے۔
مادہ تاریخ ہے "غنچہ معصومین"۔
( شریف التواریخ جلد نمبر ۲ )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-saeen-wilayat-husain-rasool-nagri
scholars.pk
Home
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
خواجہ حسن بصری علیہ الرحمہ
یوم وصال 04 محرم الحرام 111ھ
یوم پیدائش 0021
نام و نسب:
آپ کا نام مبارک حسن، کنیت: ابو محمد، ابو علی، ابو سعید، ابو نصر۔
آپ کے والد بزرگوار کا نام:
حسبِ روایت طبقات حسامیہ یسار تھا، اور وہ موالی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے تھے۔ اور بقولِ صاحب سیر الاقطاب والد ماجد کا نام موسیٰ راعی بن خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھا،
والدہ ماجدہ کا نام:
آپ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی خیرہ رضی اللہ عنہا تھا، اور وہ خادمہ حضرت امّ المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہ کی تھیں۔
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت مدینہ طیبہ میں بعہدِ خلافت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 21ھ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حضور میں لائیں ۔ حضرت عمر آپ کو خرما چبا کر تحنیک لگائی، اور آپ کو نہایت خوش رو و خوب صورت دیکھ کر فرمایا ! سمّوہ حسنًا فانّہٗ احسن الوجہ یعنی یہ خوب صورت ہے اس کا نام حسن رکھو، پس آپ کا نام حسن رکھا گیا۔ ( خزینۃ الاصفیا جلد اوٓل۔ تحفۃ الابرار )
تربیت:
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ص ۲۷۱ )
تحصیلِ علوم:
آپ تفسیر و حدیث میں امام تسلیم کیے جاتے ہیں، اگر کتب تفسیر میں مطلق حسن بولا جائے تو اُس سے آپ یعنی امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مراد ہوتے ہیں، اور علم حدیث میں آپ کا یہ رتبہ ہے کہ آپ کی مراسیل بھی حجت ہیں۔
مرتبۂ تابعیت:
آپ نے ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے، جن میں ستر (۷۰) اصحاب بدری تھے، علم ظاہر آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہ کی صحبت سے حاصل ہوا، آپ اکابر تابعین سے تھے۔
خدمتِ قرآن:
صحابہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو قرآن مجید لکھا گیا تھا اُس میں صورتوں کے نام پاروں کے نشانات، اور نقطے وغیرہ کچھ نہ تھے، حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اس میں نقطے بنائے، اعراب دئیے، خمس و عشر وغیرہ بنائے، پاروں اور سورتوں کے نام لکھے۔ (کتاب الاسلام ص ۲۸۳ )
بیعت و خلافت:
آپ امام المشارق و المغارب ابو الحسن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے، اور خرقہ ولایت پایا۔ حضرت شاہِ ولایت رضی اللہ عنہ نے آپ کو وہ خرقہ خاص جو ان کو رسول اکرم ﷺ سے عطا ہوا مرحمت فرمایا، اور نعمت ظاہری و باطنی و اسرار مخفیہ الٰہیہ سے مشرف فرما کر خلافت کبریٰ سے نوازا۔ [۱۔ سیر الاولیا۔ سیر الاقطاب ص ۱۱]
اگرچہ آپ نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی صحبتوں سے فیض اٹھایا ہے، لیکن خصوصًا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ، اور حضرت محمد حنفیہ رضی اللہ عنہ سے بھی فیضِ کامل پایا۔
خلفائے عظام:
صاحب ارشاد الطالبین نے لکھا ہے کہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے تین سو ساٹھ مرید تھے جو کہ علوم ظاہر و باطن میں آپ کا پر تو تھے۔
وصال:
بقولِ صاحبِ سیر الاقطاب و سفینۃ الاولیا بتاریخ 4 محرم الحرام111ھ ( 8-اپریل 729ء) بروز جمعتہ المبارک کو ہوا۔ آپ کا مزار پُر انوار بصرہ (عراق) سے نو میل مغرب کی طرف مقام زبیر پر واقع ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syeduna-khawaja-hasan-basri
یوم وصال 04 محرم الحرام 111ھ
یوم پیدائش 0021
نام و نسب:
آپ کا نام مبارک حسن، کنیت: ابو محمد، ابو علی، ابو سعید، ابو نصر۔
آپ کے والد بزرگوار کا نام:
حسبِ روایت طبقات حسامیہ یسار تھا، اور وہ موالی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے تھے۔ اور بقولِ صاحب سیر الاقطاب والد ماجد کا نام موسیٰ راعی بن خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھا،
والدہ ماجدہ کا نام:
آپ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی خیرہ رضی اللہ عنہا تھا، اور وہ خادمہ حضرت امّ المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہ کی تھیں۔
ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت مدینہ طیبہ میں بعہدِ خلافت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 21ھ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حضور میں لائیں ۔ حضرت عمر آپ کو خرما چبا کر تحنیک لگائی، اور آپ کو نہایت خوش رو و خوب صورت دیکھ کر فرمایا ! سمّوہ حسنًا فانّہٗ احسن الوجہ یعنی یہ خوب صورت ہے اس کا نام حسن رکھو، پس آپ کا نام حسن رکھا گیا۔ ( خزینۃ الاصفیا جلد اوٓل۔ تحفۃ الابرار )
تربیت:
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ص ۲۷۱ )
تحصیلِ علوم:
آپ تفسیر و حدیث میں امام تسلیم کیے جاتے ہیں، اگر کتب تفسیر میں مطلق حسن بولا جائے تو اُس سے آپ یعنی امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مراد ہوتے ہیں، اور علم حدیث میں آپ کا یہ رتبہ ہے کہ آپ کی مراسیل بھی حجت ہیں۔
مرتبۂ تابعیت:
آپ نے ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے، جن میں ستر (۷۰) اصحاب بدری تھے، علم ظاہر آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہ کی صحبت سے حاصل ہوا، آپ اکابر تابعین سے تھے۔
خدمتِ قرآن:
صحابہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو قرآن مجید لکھا گیا تھا اُس میں صورتوں کے نام پاروں کے نشانات، اور نقطے وغیرہ کچھ نہ تھے، حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اس میں نقطے بنائے، اعراب دئیے، خمس و عشر وغیرہ بنائے، پاروں اور سورتوں کے نام لکھے۔ (کتاب الاسلام ص ۲۸۳ )
بیعت و خلافت:
آپ امام المشارق و المغارب ابو الحسن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بیعت سے مشرف ہوئے، اور خرقہ ولایت پایا۔ حضرت شاہِ ولایت رضی اللہ عنہ نے آپ کو وہ خرقہ خاص جو ان کو رسول اکرم ﷺ سے عطا ہوا مرحمت فرمایا، اور نعمت ظاہری و باطنی و اسرار مخفیہ الٰہیہ سے مشرف فرما کر خلافت کبریٰ سے نوازا۔ [۱۔ سیر الاولیا۔ سیر الاقطاب ص ۱۱]
اگرچہ آپ نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی صحبتوں سے فیض اٹھایا ہے، لیکن خصوصًا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ، اور حضرت محمد حنفیہ رضی اللہ عنہ سے بھی فیضِ کامل پایا۔
خلفائے عظام:
صاحب ارشاد الطالبین نے لکھا ہے کہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے تین سو ساٹھ مرید تھے جو کہ علوم ظاہر و باطن میں آپ کا پر تو تھے۔
وصال:
بقولِ صاحبِ سیر الاقطاب و سفینۃ الاولیا بتاریخ 4 محرم الحرام111ھ ( 8-اپریل 729ء) بروز جمعتہ المبارک کو ہوا۔ آپ کا مزار پُر انوار بصرہ (عراق) سے نو میل مغرب کی طرف مقام زبیر پر واقع ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syeduna-khawaja-hasan-basri
❤1