🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-01-1445 ᴴ | 22-07-2023 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃا للہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: سید محمد۔لقب: بہاء الدین ،نقشبند۔والد کا اسم گرامی:سید محمد۔مکمل نام اس طرح ہے: خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4/محرم الحرام 718ھ مطابق 7/مارچ 1318ء کو’’قصر عارفاں‘‘جوبخارا کے مضافات میں واقع ہے،میں ہوئی۔
قبل از ولادت بشارت:
پیدائش سے پہلے حضرت بابا محمد سماسی نے آپ کے تولد مبارک کی بشارت دی تھی۔ تولد سے تیسرے روز آپ کے جد امجد آپ کو حضرت بابا قدس سرہ کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت بابا نے آپ کو فرزندی میں قبول فرمایا اور اپنے خلیفہ سید امیر کلال سے آپ کی تربیت کے بارے میں عہد لیا ۔بچپن ہی سے ولایت کے آثار اور کرامت و ہدایت کے انوار آپ کی پیشانی سے ظاہر و آشکارا تھے۔
تحصیلِ علم:
بچپن سےہی آپ کی پیشانی سے آثارِ ولایت ظاہر تھے۔نہایت ہی ذہین وفطین تھے۔ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھر پر ہوئی۔پھر حضرت خواجہ محمد سماسی کے عہد کےمطابق آپ کی مکمل تعلیم وتربیت ان کے خلیفہ حضرت سید امیر کلال کےہاں ہوئی۔ابتداءً علوم ِ ظاہریہ کی تکمیل کروائی۔جب اس میں کامل ہوگئے تو پھر باطنی علوم کی منازل طےکروائیں۔اسی طرح بچپن میں ہی کاملین میں شمار ہونےلگا تھا۔حضرت امیر کلال کےعلاوہ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانینےبھی آپ کی تربیت فرمائی۔یہ تربیت اویسی طریقے پرہوئی تھی۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ شمس الدین حضرت سید امیر کلال سے بیعت ہوئے،اور خرقۂ اجازت حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخر الامت، بانیِ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔ آپ کاشماراکابر اولیاء کرام،اور احبار ِ امت میں ہوتا ہے۔آپ امام طریقت اور اپنے وقت کےعظیم مصلح تھے۔آپ کی پُر اثر اور باکمال شخصیت کی بدولت ،کمال ِ ظاہری وکمال ِ باطنی ،اور سلسلہ عالیہ کی ہمہ جہت ترقی اور روحانی تربیت کےمنفرد انداز نےسلسلہخواجگان کو آپ کے نام سے منسوب کردیا اور وہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کےنام سے آفاق میں موسوم ہوا۔
تعلق باللہ، سنتِ رسول اللہ، محبتِ صحابہ واہلبیت واولیاء، تزکیۂ نفس،اور بالخصوص اتباعِ شریعت ،معرفتِ الہی اور مشاہدۂِ حق کےساتھ ساتھ معاشرتی واجتماعی اصلاح،خدمتِ خلق،قیامِ عدل کی کوششیں اور لوگوں کو ظلم وجور سےبچانے کی مساعی اس سلسلہ کےمزاج میں شروع سےہی موجودتھی،آپ نے اس مزاج میں اور پختگی پیدا کی۔ چنانچہ آنے والے ادوار میں اس منہج پر چل کر معاشرتی وعوامی مسائل کی طرف گہری دل چسپی لی اور جہاں تک ہوسکا حکمرانوں سے بہبود وفلاحِ خلائق اور کتاب وسنت کی ترویج کا کام لیا۔یہی وجہ ہے کہ مخلوق خدا جوق در جوق ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکر کافر دولتِ ایمان اور فساق وفجار دولتِ تقویٰ سےمالا مال ہوتےتھے۔ان نفوس قدسیہ کی بدولت اسلام کو عروج حاصل ہوا۔اسلام ان گدڑی نشینوں کی سادہ اور پر اثر تبلیغ سےتمام بر اعظموں میں خوب پھیلا۔اُس وقت آپ کےمعاصرین میں حضرت شاہِ ہمداں کشمیر کےعارضی نظاروں سے ہٹاکر حسن حقیقی کی طرف بلارہےتھے، اور حضرت مخدوم جہانیاں ہند اور سندھ میں ہندوؤں کو مئے وحدت پلارہے تھے۔اسی طرح وسط ایشیاء میں حضرت خواجہ نقشبند معرفت کا صور پھونک کرنئی زندگی عطاء کررہےتھے۔لوگ ان کی روح پر آواز پر لبیک کہتے ہوئے جامِ وحدت سے مخمور ہوکر حقیقی منعم کی بارگاہ کےمقبول بنتے گئے۔
روحانی مقام:
آپ نے فرمایا کہ منازل و مقامات کے طے کرنے میں حضرت حسین بن منصور حلاج کی صفت و مرتبہ میرے وجود میں ظاہر ہوئی۔ نزدیک تھا کہ وہ آواز جوان سے ظہور میں آئی تھی مجھ سے بھی ظاہر ہوجاتی ۔ بخارا میں ایک سولی تھی۔ مگر دونوں دفعہ میں اپنے آپ کو اس سولی کےنیچے لے گیا اور کہا کہ تیری جگہ یہی سولی ہے۔ عنایت الٰہی سے میں اس مقام سے عبور کر گیا۔فرمایا کہ اویس قرنی کی روحانیت کا اثر علائق ظاہری و باطنی سے تجرد کلی اور انقطاع تمام ہے اور امام محمد علی حکیم ترمذی کی روحانیت کا اثر بے صفتی محض ہے۔پھر فرمایا کہ میں نے سلطان بایزید اور شیخ جنید اور شیخ شبلی اور منصور حلاج کے مقامات کی سیر کی۔ جہاں وہ پہنچے تھے میں بھی وہاں پہنچا یہاں تک کہ صفاتِ انبیاء کی سیر میں ایسی بارگاہ میں پہنچا کہ جس سے بڑی کوئی بارگاہ نہ تھی۔ میں نے جان لیا کہ یہ بارگاہِ محمدی ہے علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ سلطان العارفین جب اس بارگاہ تک پہنچے تھے تو انہوں نے چاہا کہ سیر کرنے میں آنحضرتﷺ کی مماثلت کریں۔ اس لیے ان کی پیشانی پر دست رد مارا گیا۔ مگر میں نے ایسی گستاخی نہ کی بلکہ سر نیاز و تعظیم آپ کے آستانہ عزت و احترام پر رکھا۔
نظرِ عنایت کی برکت:
حضرت علاء الحق والدین قدس سرہ فرماتے تھے کہ ہمارے مرشد حضرت خواجہ کی نظر عنایت کی برکت سے طالبوں کا یہ حال تھا کہ قدم اول میں سب سعادت مراقبہ سے مشرف ہوجاتے تھے۔
نام و نسب:
اسم گرامی: سید محمد۔لقب: بہاء الدین ،نقشبند۔والد کا اسم گرامی:سید محمد۔مکمل نام اس طرح ہے: خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔آپ کا خاندانی تعلق ساداتِ کرام سے ہے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 4/محرم الحرام 718ھ مطابق 7/مارچ 1318ء کو’’قصر عارفاں‘‘جوبخارا کے مضافات میں واقع ہے،میں ہوئی۔
قبل از ولادت بشارت:
پیدائش سے پہلے حضرت بابا محمد سماسی نے آپ کے تولد مبارک کی بشارت دی تھی۔ تولد سے تیسرے روز آپ کے جد امجد آپ کو حضرت بابا قدس سرہ کی خدمت میں لے گئے۔ حضرت بابا نے آپ کو فرزندی میں قبول فرمایا اور اپنے خلیفہ سید امیر کلال سے آپ کی تربیت کے بارے میں عہد لیا ۔بچپن ہی سے ولایت کے آثار اور کرامت و ہدایت کے انوار آپ کی پیشانی سے ظاہر و آشکارا تھے۔
تحصیلِ علم:
بچپن سےہی آپ کی پیشانی سے آثارِ ولایت ظاہر تھے۔نہایت ہی ذہین وفطین تھے۔ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھر پر ہوئی۔پھر حضرت خواجہ محمد سماسی کے عہد کےمطابق آپ کی مکمل تعلیم وتربیت ان کے خلیفہ حضرت سید امیر کلال کےہاں ہوئی۔ابتداءً علوم ِ ظاہریہ کی تکمیل کروائی۔جب اس میں کامل ہوگئے تو پھر باطنی علوم کی منازل طےکروائیں۔اسی طرح بچپن میں ہی کاملین میں شمار ہونےلگا تھا۔حضرت امیر کلال کےعلاوہ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانینےبھی آپ کی تربیت فرمائی۔یہ تربیت اویسی طریقے پرہوئی تھی۔
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ شمس الدین حضرت سید امیر کلال سے بیعت ہوئے،اور خرقۂ اجازت حاصل کیا۔
سیرت و خصائص:
قطب الاقطاب، فخر الامت، بانیِ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، خواجۂ خواجگان خواجہ سید محمد بہاء الدین نقشبند۔ آپ کاشماراکابر اولیاء کرام،اور احبار ِ امت میں ہوتا ہے۔آپ امام طریقت اور اپنے وقت کےعظیم مصلح تھے۔آپ کی پُر اثر اور باکمال شخصیت کی بدولت ،کمال ِ ظاہری وکمال ِ باطنی ،اور سلسلہ عالیہ کی ہمہ جہت ترقی اور روحانی تربیت کےمنفرد انداز نےسلسلہخواجگان کو آپ کے نام سے منسوب کردیا اور وہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کےنام سے آفاق میں موسوم ہوا۔
تعلق باللہ، سنتِ رسول اللہ، محبتِ صحابہ واہلبیت واولیاء، تزکیۂ نفس،اور بالخصوص اتباعِ شریعت ،معرفتِ الہی اور مشاہدۂِ حق کےساتھ ساتھ معاشرتی واجتماعی اصلاح،خدمتِ خلق،قیامِ عدل کی کوششیں اور لوگوں کو ظلم وجور سےبچانے کی مساعی اس سلسلہ کےمزاج میں شروع سےہی موجودتھی،آپ نے اس مزاج میں اور پختگی پیدا کی۔ چنانچہ آنے والے ادوار میں اس منہج پر چل کر معاشرتی وعوامی مسائل کی طرف گہری دل چسپی لی اور جہاں تک ہوسکا حکمرانوں سے بہبود وفلاحِ خلائق اور کتاب وسنت کی ترویج کا کام لیا۔یہی وجہ ہے کہ مخلوق خدا جوق در جوق ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوکر کافر دولتِ ایمان اور فساق وفجار دولتِ تقویٰ سےمالا مال ہوتےتھے۔ان نفوس قدسیہ کی بدولت اسلام کو عروج حاصل ہوا۔اسلام ان گدڑی نشینوں کی سادہ اور پر اثر تبلیغ سےتمام بر اعظموں میں خوب پھیلا۔اُس وقت آپ کےمعاصرین میں حضرت شاہِ ہمداں کشمیر کےعارضی نظاروں سے ہٹاکر حسن حقیقی کی طرف بلارہےتھے، اور حضرت مخدوم جہانیاں ہند اور سندھ میں ہندوؤں کو مئے وحدت پلارہے تھے۔اسی طرح وسط ایشیاء میں حضرت خواجہ نقشبند معرفت کا صور پھونک کرنئی زندگی عطاء کررہےتھے۔لوگ ان کی روح پر آواز پر لبیک کہتے ہوئے جامِ وحدت سے مخمور ہوکر حقیقی منعم کی بارگاہ کےمقبول بنتے گئے۔
روحانی مقام:
آپ نے فرمایا کہ منازل و مقامات کے طے کرنے میں حضرت حسین بن منصور حلاج کی صفت و مرتبہ میرے وجود میں ظاہر ہوئی۔ نزدیک تھا کہ وہ آواز جوان سے ظہور میں آئی تھی مجھ سے بھی ظاہر ہوجاتی ۔ بخارا میں ایک سولی تھی۔ مگر دونوں دفعہ میں اپنے آپ کو اس سولی کےنیچے لے گیا اور کہا کہ تیری جگہ یہی سولی ہے۔ عنایت الٰہی سے میں اس مقام سے عبور کر گیا۔فرمایا کہ اویس قرنی کی روحانیت کا اثر علائق ظاہری و باطنی سے تجرد کلی اور انقطاع تمام ہے اور امام محمد علی حکیم ترمذی کی روحانیت کا اثر بے صفتی محض ہے۔پھر فرمایا کہ میں نے سلطان بایزید اور شیخ جنید اور شیخ شبلی اور منصور حلاج کے مقامات کی سیر کی۔ جہاں وہ پہنچے تھے میں بھی وہاں پہنچا یہاں تک کہ صفاتِ انبیاء کی سیر میں ایسی بارگاہ میں پہنچا کہ جس سے بڑی کوئی بارگاہ نہ تھی۔ میں نے جان لیا کہ یہ بارگاہِ محمدی ہے علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ سلطان العارفین جب اس بارگاہ تک پہنچے تھے تو انہوں نے چاہا کہ سیر کرنے میں آنحضرتﷺ کی مماثلت کریں۔ اس لیے ان کی پیشانی پر دست رد مارا گیا۔ مگر میں نے ایسی گستاخی نہ کی بلکہ سر نیاز و تعظیم آپ کے آستانہ عزت و احترام پر رکھا۔
نظرِ عنایت کی برکت:
حضرت علاء الحق والدین قدس سرہ فرماتے تھے کہ ہمارے مرشد حضرت خواجہ کی نظر عنایت کی برکت سے طالبوں کا یہ حال تھا کہ قدم اول میں سب سعادت مراقبہ سے مشرف ہوجاتے تھے۔
❤1
جب نظر عنایت زیادہ ہوتی تو درجہ عدم کو پہنچ جاتے۔ جب اس سے بھی زیادہ نظر عنایت ہوتی تو مقام فناء کو پہنچ جاتے اور فانی ازخود باقی بحق ہوجاتے۔ اس حال میں حضرت خواجہ یوں فرمایا کرتے کہ ہم تو دولتِ وصال کے واسطہ ہیں۔ اربابِ تکمیل و ایصال کا طریقہ یہ ہے کہ بچوں کو طریقت کے گہوارے میں لٹاتے ہیں اور تربیت کے پستان سے دودھ پلاتے ہیں۔ یہاں تک کہ حد فصال کو پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان سے دودھ چھڑاتے ہیں اور بارگاہِ احدیت کا مَحرم بناتے ہیں۔ تاکہ حضرت عزت جل احسانہ سے بلا واسطہ فیض حاصل کرسکیں۔
فقر و ایثار: حضرت خواجہ فقیر تھے اور ہمیشہ فقر کی تائید کیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ہم نے جو کچھ پایا ہے محبت فقر سے پایا ہے۔ آپ کے دولت خانہ موسم سرما میں خاشاک مسجد ہوا کرتا اور گرما میں پرانا بوریا۔ ہر چیز بالخصوص طعام میں حلال کی رعایت اور شبہات سے اجتناب میں نہایت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ اپنی مجلس میں ہمیشہ اس حدیث نبوی کو بیان فرمایا کرتے تھے:ان العبادۃ عشرۃ اجزاء تسعۃ منھا طلب الحلال و جزء واحد منھا سائر العبادات۔۔عبادت دس جزء ہیں۔
جن میں سے نو طلب حلال ہیں اور ان میں سے ایک باقی عبادات ہیں۔باوجود کمال فقر کے آپ میں ایثار اعلیٰ درجہ کا تھا۔ جو شخص آپ کی خدمت میں ہدیہ لاتا۔ اتباعِ سنت کے طور پر آپ اسی قدر زیادہ اس کے ساتھ احسان کرتے۔ اگر کوئی دوست یا مہمان آپ کے درِ دولت پر آتا۔ جب شام ہوتی کھانا جس میں کچھ تکلف ہوتا لاتے اور اس کے آگے رکھتے۔ اور ایک طرف چراغ رکھ دیتے تاکہ وہ کھانا کھالے۔ اگر وہ سو جاتا اور ہوا سرد ہوتی تو خواہ گھر میں فقط ایک کپڑا ہوتا اس کو مہمان پر ڈال دیتے۔ آپ کا گذارہ زراعت سے تھا۔ ہر سال کچھ جو اور کچھ ماش بوتے۔ بیج۔ زمین اور بیلوں سے کام لینے میں بڑی احتیاط کیا کرتے۔ اکابر و علماء جو حاضر خدمت ہوتے آپ کا طعام بطور تبرک کھایا کرتے۔ شہر میں آپ کا کوئی مکان نہ تھا۔
کرایے کےمکان میں رہتےتھے۔ آپ کے ہاں کوئی خادم یا خادمہ نہ تھی۔ جب وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا۔ بندگی با خواجگی راست نمے آید۔
ملفوظاتِ عالیہ:
آپ کےتمام ملفوظاتِ عالیہ آب زر سے تحریرکرنے کےقابل ہیں۔ان میں سےچند تحریرکیے جاتے ہیں۔
1۔ہمارا طریقہ نوادر سے ہے اور محکم دست آویز ہے۔ سنت مصطفےٰ ﷺ کے دامن کو پکڑنا اور آپ کے صحابہ کرام کے آثار کی پیروی کرنا ہے۔ اس راہ میں ہمیں بفضلِ الٰہی لایا گیا ہے۔ اول سے آخر تک ہم نے یہی فضلِ الٰہی مشاہدہ کیا ہے نہ کہ اپنا عمل۔ اس طریقہ میں تھوڑے سے عمل سے بہت فتوح حاصل ہوتی ہیں۔ مگر سنت کی متابعت کی رعایت بڑا کام ہے۔2۔ جس شخص نے اللہ کو پہچان لیا اُس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں رہتی۔ حضرت خواجہ علاؤ الدین فرماتے تھے کہ اس کلمہ قدسیہ سے حضرت خواجہ کی مراد یہ ہے کہ عارف پر اشیاء کا ظاہر ہونا اس کی توجہ پر موقوف ہے۔3۔ حدیث میں ہے: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ یعنی کسب کرنے والا اللہ کا حبیب ہے۔ اس حدیث میں کسب ِرضا کی طرف اشارہ ہے نہ کہ کسب ِدنیا کی طرف۔4۔جو شخص اپنے آپ کو بکلیت خود حضرت حق تعالیٰ و تقدس کے سپرد کردے۔ اس کا غیر حق جل وعلا سے التجا کرنا شرک ہے۔ یہ شرک عام لوگوں کے لیے معاف ہے۔ مگر خواص کے لیے معاف نہیں۔5۔
تو شمع کی طرح بن۔ تو شمع کی طرح نہ بن۔ شمع کی طرح بن بایں معنیٰ کہ تو دوسرے کو روشنی پہنچائے۔ اور شمع کی طرح نہ بن بایں معنیٰ کہ تو اپنےآپ کو تاریکی میں رکھے۔6۔جس شخص نے کسی روزہمارا جوتا بھی سیدھا کیا ہے ہم اس کی شفاعت کریں گے۔
7۔درویش کو چاہیے کہ جو کچھ کہے حال سے کہے۔ مشائخ طریقت کا قول ہے کہ جو شخص ایسے حال سے کلام کرتا ہے جو اس میں نہیں حق تعالیٰ کبھی اس کو اس حال کی سعادت نہ بخشے گا۔8۔حضرت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کی برکت سے مسخِ صورت اس امت سے مرتفع ہے مگر مسخِ باطن باقی ہے۔9۔اولیا کو اسرار پر آگاہی ہے اور آگاہی دی جاتی ہے لیکن وہ بغیر اجازت ان کو ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اسے چھپاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ شور مچاتا ہے۔ ’’اسرار کا چھپانا ابرار کا کام ہے‘‘۔ 10۔لوگوں نے حضرت خواجہ قدس سرہ سے کرامت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہماری کرامت ظاہر ہے کہ باوجود اتنے گناہوں کے ہم روئے زمین پر چل سکتے ہیں۔
تاریخِ وصال:
خواجہ علاؤ الدین عطار کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ کے انتقال کے وقت ہم سورہ یٰسین پڑھ رہے تھے۔ جب سورت نصف ہوئی تو انوار ظاہر ہونے لگے۔پھر ہم کلمہ پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ کا سانس منقطع ہوگیا۔ حضرت کی عمر شریف پورے تہتر سال کی تھی۔ اور چوہترویں سال میں پیر کی رات 3/ ربیع الاول 791ھ میں وفات پائی۔ مزار مبارک’’ قصر ِعارفاں‘‘ مضافات بخارا، ازبکستان میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-bahauddin-muhammad-naqshband-bukhari
فقر و ایثار: حضرت خواجہ فقیر تھے اور ہمیشہ فقر کی تائید کیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ہم نے جو کچھ پایا ہے محبت فقر سے پایا ہے۔ آپ کے دولت خانہ موسم سرما میں خاشاک مسجد ہوا کرتا اور گرما میں پرانا بوریا۔ ہر چیز بالخصوص طعام میں حلال کی رعایت اور شبہات سے اجتناب میں نہایت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ اپنی مجلس میں ہمیشہ اس حدیث نبوی کو بیان فرمایا کرتے تھے:ان العبادۃ عشرۃ اجزاء تسعۃ منھا طلب الحلال و جزء واحد منھا سائر العبادات۔۔عبادت دس جزء ہیں۔
جن میں سے نو طلب حلال ہیں اور ان میں سے ایک باقی عبادات ہیں۔باوجود کمال فقر کے آپ میں ایثار اعلیٰ درجہ کا تھا۔ جو شخص آپ کی خدمت میں ہدیہ لاتا۔ اتباعِ سنت کے طور پر آپ اسی قدر زیادہ اس کے ساتھ احسان کرتے۔ اگر کوئی دوست یا مہمان آپ کے درِ دولت پر آتا۔ جب شام ہوتی کھانا جس میں کچھ تکلف ہوتا لاتے اور اس کے آگے رکھتے۔ اور ایک طرف چراغ رکھ دیتے تاکہ وہ کھانا کھالے۔ اگر وہ سو جاتا اور ہوا سرد ہوتی تو خواہ گھر میں فقط ایک کپڑا ہوتا اس کو مہمان پر ڈال دیتے۔ آپ کا گذارہ زراعت سے تھا۔ ہر سال کچھ جو اور کچھ ماش بوتے۔ بیج۔ زمین اور بیلوں سے کام لینے میں بڑی احتیاط کیا کرتے۔ اکابر و علماء جو حاضر خدمت ہوتے آپ کا طعام بطور تبرک کھایا کرتے۔ شہر میں آپ کا کوئی مکان نہ تھا۔
کرایے کےمکان میں رہتےتھے۔ آپ کے ہاں کوئی خادم یا خادمہ نہ تھی۔ جب وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا۔ بندگی با خواجگی راست نمے آید۔
ملفوظاتِ عالیہ:
آپ کےتمام ملفوظاتِ عالیہ آب زر سے تحریرکرنے کےقابل ہیں۔ان میں سےچند تحریرکیے جاتے ہیں۔
1۔ہمارا طریقہ نوادر سے ہے اور محکم دست آویز ہے۔ سنت مصطفےٰ ﷺ کے دامن کو پکڑنا اور آپ کے صحابہ کرام کے آثار کی پیروی کرنا ہے۔ اس راہ میں ہمیں بفضلِ الٰہی لایا گیا ہے۔ اول سے آخر تک ہم نے یہی فضلِ الٰہی مشاہدہ کیا ہے نہ کہ اپنا عمل۔ اس طریقہ میں تھوڑے سے عمل سے بہت فتوح حاصل ہوتی ہیں۔ مگر سنت کی متابعت کی رعایت بڑا کام ہے۔2۔ جس شخص نے اللہ کو پہچان لیا اُس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں رہتی۔ حضرت خواجہ علاؤ الدین فرماتے تھے کہ اس کلمہ قدسیہ سے حضرت خواجہ کی مراد یہ ہے کہ عارف پر اشیاء کا ظاہر ہونا اس کی توجہ پر موقوف ہے۔3۔ حدیث میں ہے: ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘ یعنی کسب کرنے والا اللہ کا حبیب ہے۔ اس حدیث میں کسب ِرضا کی طرف اشارہ ہے نہ کہ کسب ِدنیا کی طرف۔4۔جو شخص اپنے آپ کو بکلیت خود حضرت حق تعالیٰ و تقدس کے سپرد کردے۔ اس کا غیر حق جل وعلا سے التجا کرنا شرک ہے۔ یہ شرک عام لوگوں کے لیے معاف ہے۔ مگر خواص کے لیے معاف نہیں۔5۔
تو شمع کی طرح بن۔ تو شمع کی طرح نہ بن۔ شمع کی طرح بن بایں معنیٰ کہ تو دوسرے کو روشنی پہنچائے۔ اور شمع کی طرح نہ بن بایں معنیٰ کہ تو اپنےآپ کو تاریکی میں رکھے۔6۔جس شخص نے کسی روزہمارا جوتا بھی سیدھا کیا ہے ہم اس کی شفاعت کریں گے۔
7۔درویش کو چاہیے کہ جو کچھ کہے حال سے کہے۔ مشائخ طریقت کا قول ہے کہ جو شخص ایسے حال سے کلام کرتا ہے جو اس میں نہیں حق تعالیٰ کبھی اس کو اس حال کی سعادت نہ بخشے گا۔8۔حضرت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کی برکت سے مسخِ صورت اس امت سے مرتفع ہے مگر مسخِ باطن باقی ہے۔9۔اولیا کو اسرار پر آگاہی ہے اور آگاہی دی جاتی ہے لیکن وہ بغیر اجازت ان کو ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ جس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اسے چھپاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ شور مچاتا ہے۔ ’’اسرار کا چھپانا ابرار کا کام ہے‘‘۔ 10۔لوگوں نے حضرت خواجہ قدس سرہ سے کرامت طلب کی۔ آپ نے فرمایا کہ ہماری کرامت ظاہر ہے کہ باوجود اتنے گناہوں کے ہم روئے زمین پر چل سکتے ہیں۔
تاریخِ وصال:
خواجہ علاؤ الدین عطار کا بیان ہے کہ حضرت خواجہ کے انتقال کے وقت ہم سورہ یٰسین پڑھ رہے تھے۔ جب سورت نصف ہوئی تو انوار ظاہر ہونے لگے۔پھر ہم کلمہ پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت خواجہ کا سانس منقطع ہوگیا۔ حضرت کی عمر شریف پورے تہتر سال کی تھی۔ اور چوہترویں سال میں پیر کی رات 3/ ربیع الاول 791ھ میں وفات پائی۔ مزار مبارک’’ قصر ِعارفاں‘‘ مضافات بخارا، ازبکستان میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ مشائخِ نقشبندیہ ۔ تاریخ مشائخِ نقشبند ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-bahauddin-muhammad-naqshband-bukhari
www.scholars.pk
Hazrat Khawaja Bahauddin Muhammad Naqshband Bukhari
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت رمضان علی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
ابوالحسان مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری بن حکیم اللہ بخش قریشی ۶؍رمضان المبارک ۱۳۴۰ھ/ ۳؍مئی ۱۹۲۲ء میں بمقام شاہ پور جاجن، تحصیل بٹالہ ضلع گورو اسپور (بھارت) پیدا ہوئے۔
آپ کے نانا حاجی کریم بخش علیہ الرحمۃ نہایت متقی، عابد و زاہد تھے۔
صوم و صلوٰۃ کے پابند اور شب بیدار تہجد گزار تھے۔ تلاوتِ قرآن مجید اور ذکر و فکر آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ قصبہ شاہپور جاجن میں آپ نے پکی مسجد تعمیر کروائی اور اپنی ذاتی رقم سے تمام ضروریاتِ مسجد کا اہتمام کیا۔ مسلمانوں کو نماز کے مسائل سکھا کر نماز پڑھنے کا پابند بنایا۔ بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے کے علاوہ دینیات کی تعلیم بھی دیتے اور حاجت مندوں، یتیموں اور بیواؤں کی حاجت برآری میں کوشاں رہتے۔
تعلیم و تربیت:
مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری نے فارسی میں گلستان، بوستان اور عربی کی تمام کتب درسِ نظامی مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم محلہ کھڈہ کراچی میں پڑھیں۔
۱۹۳۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فارسی کا امتحان ’’منشی‘‘ پاس کیا۔
دورۂ حدیث محدثِ اعظم حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد میں پڑھ کر سندِ حدیث اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
علمِ طب کی ابتدائی کتب مولوی محمد صادق مہتمم مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم کراچی سے پڑھیں اور پھر اپنے والد ماجد سے بقیہ کتبِ طب پڑھنے کے ساتھ عملی تربیت بھی حاصل کی۔ سندِ طب ’’ممتاز الاطباء‘‘ طبیہ کالج طبِ جدید شاہدرہ (لاہور) سے حاصل کی۔
بیعت:
۱۹۳۷ء میں آپ نے حضرت پیر سید جماعت علی شاہ ثانی علیہ الرحمۃ (علی پور سیداں سیالکوٹ) کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ پھر ان کے وصال پر حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ اور پھر پیر طریقت حضرت فضل الٰہی صاحب (چک نمبر ۶۶ ج۔ ب دہاندرہ، فیصل آباد) سے تجدیدِ بیعت کی، موخر الذکر نے آپ کو ۱۹۷۳ء میں خلافت سے نوازتے ہوئے بیعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
دینی و ملی خدمات:
آپ کے شب و روز تبلیغِ دین اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف قلمی جہاد میں گزرتے ہیں۔ اگست ۱۹۳۶ء سے اگست ۱۹۴۲ء تک چھ سال کا عرصہ اپنے آبائی شاہپور جاجن میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور پھر ۱۹۵۶ء سے تاحال جامع مسجد غوثیہ سنجھور و ضلع سانگھر میں امام و خطیب کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قصبہ شاہپور ضلع گورداسپور میں باوجود یکہ سکھوں اور ہندوؤں کا زور تھا۔ آپ نے پرائمری مسلم لیگ قائم کی جس کا نام مصلحتاً ’’انجمن تنویر الاسلام‘‘ رکھا اور نیشنل گارڈ قائم کرکے اس کا نام ’’غلامانِ رسول‘‘ رکھا۔ آپ جمعہ کے خطبات کے علاوہ پبلک جلسوں میں مسلم لیگی امیدواروں کے حق میں تقاریر کرتے رہے، چنانچہ ان سرگرمیوں کی بنا پر سکھوں اور ہندوؤں نے آپ کو ’’فسادی ملا‘‘ کے نام سے پکارا اور آپ کے قتل کے لیے مبلغ پانچ ہزار روپے مقرر کیے۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ جمعہ کے اجتماعات میں ختمِ نبوت کے موضوع پر تقاریر کے ذریعے عوام کو قادیانیوں کی حقیقت اور عزائم سے روشناس کراتے رہے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرکے حکومت کو بھیجتے رہے۔
جب پاکستان میں بعض لوگوں نے سوشلزم کا فتنہ کھڑا کیا، تو آپ نے اسی وقت تقاریر، اخبارات میں بیانات اور پمفلٹوں کے ذریعے سوشلزم کے خلاف اور نظام مصطفےٰ کے قیام کے لیے جدوجہد شروع کردی۔
۹؍اکتوبر ۱۹۶۹ء کو شہر میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں نے سوشلزم کے مقابلے کے لیے جمعیۃ مجاہدینِ اسلام کے نام سے ایک محاذ قائم کیا، جس کی صدارت کے لیے آپ کو منتخب کیا گیا۔ اس سلسلے میں آپ نے مختلف عنوانات سے پمفلٹ چھپواکر نہ صرف عوام میں تقسیم کیے، بلکہ تمام وزراء، ہوم سیکرٹریوں، سپریم کوٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں، وکلاء اور بار کونسلوں کے عہدیداروں، سیاسی لیڈروں اور علماء و مشائخ کے نام ارسال کیے۔ ان پمفلٹوں کے عنوانات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘
(اس پمفلٹ میں براہ راست صدرِ پاکستان کو مخاطب کرکے سوشلسٹ عناصر کی سرکوبی اور نظام مصطفےٰ کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا)
۲۔ جناب میر رسول بخش تالپور سے ایک سوال اور پاکستانی عوام کے لیے لمحۂ فکریہ
۳۔ پاکستان میں اسلام نظام کے قیام کے لیے اسلامی کی علمبردار جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے۔
۴۔ مشائخ و علماء پاکستان کی خدمت میں درد مندانہ اپیل۔ ’’صورِ اسرافیل‘‘
۵۔ حکومتِ پاکستان اور لیڈرانِ ملک سے اہم سوال۔
ابوالحسان مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری بن حکیم اللہ بخش قریشی ۶؍رمضان المبارک ۱۳۴۰ھ/ ۳؍مئی ۱۹۲۲ء میں بمقام شاہ پور جاجن، تحصیل بٹالہ ضلع گورو اسپور (بھارت) پیدا ہوئے۔
آپ کے نانا حاجی کریم بخش علیہ الرحمۃ نہایت متقی، عابد و زاہد تھے۔
صوم و صلوٰۃ کے پابند اور شب بیدار تہجد گزار تھے۔ تلاوتِ قرآن مجید اور ذکر و فکر آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ قصبہ شاہپور جاجن میں آپ نے پکی مسجد تعمیر کروائی اور اپنی ذاتی رقم سے تمام ضروریاتِ مسجد کا اہتمام کیا۔ مسلمانوں کو نماز کے مسائل سکھا کر نماز پڑھنے کا پابند بنایا۔ بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک پڑھانے کے علاوہ دینیات کی تعلیم بھی دیتے اور حاجت مندوں، یتیموں اور بیواؤں کی حاجت برآری میں کوشاں رہتے۔
تعلیم و تربیت:
مولانا حکیم محمد رمضان علی قادری نے فارسی میں گلستان، بوستان اور عربی کی تمام کتب درسِ نظامی مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم محلہ کھڈہ کراچی میں پڑھیں۔
۱۹۳۶ء میں پنجاب یونیورسٹی سے فارسی کا امتحان ’’منشی‘‘ پاس کیا۔
دورۂ حدیث محدثِ اعظم حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ سے جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد میں پڑھ کر سندِ حدیث اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔
علمِ طب کی ابتدائی کتب مولوی محمد صادق مہتمم مدرسہ عربیہ مظہرالعلوم کراچی سے پڑھیں اور پھر اپنے والد ماجد سے بقیہ کتبِ طب پڑھنے کے ساتھ عملی تربیت بھی حاصل کی۔ سندِ طب ’’ممتاز الاطباء‘‘ طبیہ کالج طبِ جدید شاہدرہ (لاہور) سے حاصل کی۔
بیعت:
۱۹۳۷ء میں آپ نے حضرت پیر سید جماعت علی شاہ ثانی علیہ الرحمۃ (علی پور سیداں سیالکوٹ) کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ پھر ان کے وصال پر حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد صاحب رحمہ اللہ اور پھر پیر طریقت حضرت فضل الٰہی صاحب (چک نمبر ۶۶ ج۔ ب دہاندرہ، فیصل آباد) سے تجدیدِ بیعت کی، موخر الذکر نے آپ کو ۱۹۷۳ء میں خلافت سے نوازتے ہوئے بیعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
دینی و ملی خدمات:
آپ کے شب و روز تبلیغِ دین اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف قلمی جہاد میں گزرتے ہیں۔ اگست ۱۹۳۶ء سے اگست ۱۹۴۲ء تک چھ سال کا عرصہ اپنے آبائی شاہپور جاجن میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور پھر ۱۹۵۶ء سے تاحال جامع مسجد غوثیہ سنجھور و ضلع سانگھر میں امام و خطیب کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قصبہ شاہپور ضلع گورداسپور میں باوجود یکہ سکھوں اور ہندوؤں کا زور تھا۔ آپ نے پرائمری مسلم لیگ قائم کی جس کا نام مصلحتاً ’’انجمن تنویر الاسلام‘‘ رکھا اور نیشنل گارڈ قائم کرکے اس کا نام ’’غلامانِ رسول‘‘ رکھا۔ آپ جمعہ کے خطبات کے علاوہ پبلک جلسوں میں مسلم لیگی امیدواروں کے حق میں تقاریر کرتے رہے، چنانچہ ان سرگرمیوں کی بنا پر سکھوں اور ہندوؤں نے آپ کو ’’فسادی ملا‘‘ کے نام سے پکارا اور آپ کے قتل کے لیے مبلغ پانچ ہزار روپے مقرر کیے۔
تحریکِ ختم نبوت میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔ جمعہ کے اجتماعات میں ختمِ نبوت کے موضوع پر تقاریر کے ذریعے عوام کو قادیانیوں کی حقیقت اور عزائم سے روشناس کراتے رہے اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قراردادیں پاس کرکے حکومت کو بھیجتے رہے۔
جب پاکستان میں بعض لوگوں نے سوشلزم کا فتنہ کھڑا کیا، تو آپ نے اسی وقت تقاریر، اخبارات میں بیانات اور پمفلٹوں کے ذریعے سوشلزم کے خلاف اور نظام مصطفےٰ کے قیام کے لیے جدوجہد شروع کردی۔
۹؍اکتوبر ۱۹۶۹ء کو شہر میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں نے سوشلزم کے مقابلے کے لیے جمعیۃ مجاہدینِ اسلام کے نام سے ایک محاذ قائم کیا، جس کی صدارت کے لیے آپ کو منتخب کیا گیا۔ اس سلسلے میں آپ نے مختلف عنوانات سے پمفلٹ چھپواکر نہ صرف عوام میں تقسیم کیے، بلکہ تمام وزراء، ہوم سیکرٹریوں، سپریم کوٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں، وکلاء اور بار کونسلوں کے عہدیداروں، سیاسی لیڈروں اور علماء و مشائخ کے نام ارسال کیے۔ ان پمفلٹوں کے عنوانات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘
(اس پمفلٹ میں براہ راست صدرِ پاکستان کو مخاطب کرکے سوشلسٹ عناصر کی سرکوبی اور نظام مصطفےٰ کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا)
۲۔ جناب میر رسول بخش تالپور سے ایک سوال اور پاکستانی عوام کے لیے لمحۂ فکریہ
۳۔ پاکستان میں اسلام نظام کے قیام کے لیے اسلامی کی علمبردار جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے۔
۴۔ مشائخ و علماء پاکستان کی خدمت میں درد مندانہ اپیل۔ ’’صورِ اسرافیل‘‘
۵۔ حکومتِ پاکستان اور لیڈرانِ ملک سے اہم سوال۔
❤1
مشرقی پاکستان کے سقوط کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو برسرِ اقتدار آیا، تو آپ نے ایک تحریک چلائی، جس کے ذریعے ملک میں عملاً اسلام کے نفاذ، مشرقی پاکستان میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے بند کردیے، مارشل لاء کے خاتمے اور بھارت سے پاکستانی جنگی قیدیوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا اور ان مطالبات پر مشتمل ایک پرچہ چھپواکر ملک بھر کی اہم شخصیتوں کو بھیجا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔
۷؍مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخابات میں بھٹو حکومت کی زبردست دھاندلی کے خلاف جب ملک میں تحریک چلی تو اس دوران آپ کو قومی اتحاد سنجھورو (سانگھڑ) کا قائم مقام جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا، چنانچہ اس وقت کے وزیرِ بلدیات جام صادق علی کی ہدایت پر پولیس نے آپ کے خلاف فرضی کیس بناکر ڈی پی آر کے تحت گرفتار کرلیا اور پھر جب حکومت اور قومی اتحاد کے مابین مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ طے پایا، تو ۴؍جون ۱۹۷۷ء کو سپیشل ٹریبونل کراچی نے آپ کو رہا کردیا۔ آپ قائدِ اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی مدظلہ کی زیر قیادت جمعیت علماء پاکستان کے منشور کے مطابق ملک میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر کوشاں رہتے ہیں۔
تحریرات:
حضرت مولانا حکیم محمد رمضان کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات کا مالک بنایا ہے، چنانچہ سیاسی میدان میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر جدوجہد کے ساتھ ساتھ آپ مقامِ مصطفےٰ کے تحفظ کی خاطر اپنی زبان اور قلم کو مصروف رکھنا عین ایمان بلکہ جانِ ایمان سمجھتے ہیں ۔ اسی بناء پر آپ نے مسلکِ اہل سنت کی صداقت اور گستاخانِ رسول علیہ السلام کے خود ساختہ اور بغض و عداوت پر مبنی عقائد کے رد میں چند کتب بھی تحریر فرمائیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ تنویر الایمان بوسیلۃ اولیاءالرحمٰن ۲۴۸ صفحات (اولیاء کرام سے توسل کا جواز)
۲۔ تنویرالبرہان ۱۲۲ صفحات (غیر مقلدین کے چند اعتراضات کے مسکت جوابات)
۳۔ مکمل تاریخ وہابیہ ۲۵۶ صفحات (دورِ حاضر کے خوراج وہابیہ کی نقاب کشائی)
۴۔ تنویر المصابیح فی حدود التراویح (بیس تراویح کا ثبوت)
۵۔ معدنِ اخلاق (غیر مطبوعہ) (اخلاقیات پر جامع کتاب) [۱]
[۱۔ مولانا محمد رمضان علی قادری کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش سندھی متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ کے توسط سے حاصل ہوئے]
تعارف علماء اہلسنّت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ramazan-ali-naqshbandi-qadri
۷؍مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخابات میں بھٹو حکومت کی زبردست دھاندلی کے خلاف جب ملک میں تحریک چلی تو اس دوران آپ کو قومی اتحاد سنجھورو (سانگھڑ) کا قائم مقام جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا، چنانچہ اس وقت کے وزیرِ بلدیات جام صادق علی کی ہدایت پر پولیس نے آپ کے خلاف فرضی کیس بناکر ڈی پی آر کے تحت گرفتار کرلیا اور پھر جب حکومت اور قومی اتحاد کے مابین مذاکرات میں قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ طے پایا، تو ۴؍جون ۱۹۷۷ء کو سپیشل ٹریبونل کراچی نے آپ کو رہا کردیا۔ آپ قائدِ اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی مدظلہ کی زیر قیادت جمعیت علماء پاکستان کے منشور کے مطابق ملک میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر کوشاں رہتے ہیں۔
تحریرات:
حضرت مولانا حکیم محمد رمضان کو اللہ تعالیٰ نے گوناگوں صفات کا مالک بنایا ہے، چنانچہ سیاسی میدان میں نظامِ مصطفےٰ کے نفاذ کی خاطر جدوجہد کے ساتھ ساتھ آپ مقامِ مصطفےٰ کے تحفظ کی خاطر اپنی زبان اور قلم کو مصروف رکھنا عین ایمان بلکہ جانِ ایمان سمجھتے ہیں ۔ اسی بناء پر آپ نے مسلکِ اہل سنت کی صداقت اور گستاخانِ رسول علیہ السلام کے خود ساختہ اور بغض و عداوت پر مبنی عقائد کے رد میں چند کتب بھی تحریر فرمائیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ تنویر الایمان بوسیلۃ اولیاءالرحمٰن ۲۴۸ صفحات (اولیاء کرام سے توسل کا جواز)
۲۔ تنویرالبرہان ۱۲۲ صفحات (غیر مقلدین کے چند اعتراضات کے مسکت جوابات)
۳۔ مکمل تاریخ وہابیہ ۲۵۶ صفحات (دورِ حاضر کے خوراج وہابیہ کی نقاب کشائی)
۴۔ تنویر المصابیح فی حدود التراویح (بیس تراویح کا ثبوت)
۵۔ معدنِ اخلاق (غیر مطبوعہ) (اخلاقیات پر جامع کتاب) [۱]
[۱۔ مولانا محمد رمضان علی قادری کے یہ تمام کوائف مولانا مولا بخش سندھی متعلم جامعہ نظامیہ رضویہ کے توسط سے حاصل ہوئے]
تعارف علماء اہلسنّت
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ramazan-ali-naqshbandi-qadri
scholars.pk
Hazrat Ramazan Ali Naqshbandi Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1
حضرت اسماعیل الصابونی نیشا پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کے والد بجند بن احمد قدس سرہ تھے۔
اپنے وقت کے قطب اور صاحب کرامت بزرگ تھے حضرت عثمان صیری رحمۃ اللہ علیہ سے فیضِ صحبت پایا تھا اور حضرت جنید بغدادی کو دیکھا تھا ـ
وصال ۳۶۵ھ میں ہوا ۔
آں ذبیح عشق اسماعیل دیں
وصلش اسماعیل محی الدین بگو
۳۶۵ھ
رفت چوں از دار دنیا در جہاں
واقف حق اہل دل ہم کن بیاں
۳۶۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ismail-al-saboni-nishapuri
آپ کے والد بجند بن احمد قدس سرہ تھے۔
اپنے وقت کے قطب اور صاحب کرامت بزرگ تھے حضرت عثمان صیری رحمۃ اللہ علیہ سے فیضِ صحبت پایا تھا اور حضرت جنید بغدادی کو دیکھا تھا ـ
وصال ۳۶۵ھ میں ہوا ۔
آں ذبیح عشق اسماعیل دیں
وصلش اسماعیل محی الدین بگو
۳۶۵ھ
رفت چوں از دار دنیا در جہاں
واقف حق اہل دل ہم کن بیاں
۳۶۵ھ
( خزینۃ الاصفیاء )
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ismail-al-saboni-nishapuri
scholars.pk
Hazrat Ismail Al-Saboni Nishapuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1